Awaaz Ishq By Isra Rao NovelR50465 Awaaz Ishq (Episode - 22)
No Download Link
Rate this Novel
Awaaz Ishq (Episode - 22)
Awaaz Ishq By Isra Rao
وہ بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے کوئی بک پڑھنے میں مصروف تھی کہ دروازے پر دستک ہوئی۔۔۔
“یس۔۔۔” اس نے بک سے نظر ہٹائی۔۔
“ہائے حریم۔۔۔” حمدان نے اندر داخل ہوتے ہی مسکرا کر کہا۔۔۔
“آپ؟” وہ چونکی۔۔۔
بک بیڈ پر رکھ اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔
“ہاں کیوں۔۔۔میں نہیں آسکتا؟”
وہ پاس پڑی چیئر پر بیٹھتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔
وہ حیرانی سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔بنا کوئی جواب دیے۔۔۔
اسے صبح کی بے عزتی یاد آئی۔۔۔
“میں یہ کہنے آیا تھا کہ کل ہم چل رہے ہیں۔۔۔میں تمہیں ایک میوزک ڈائریکٹر سے ملوا دوں گا”
وہ بیڈ پر پڑی بک اٹھا کر دیکھنے لگا۔۔۔
“نہیں۔۔۔مجھے نہیں ملنا۔۔۔نا ہی مجھے سنگنگ کرنی ہے۔۔۔”
وہ نظر جھکائے بولنے لگی۔۔۔
“صبح والی بات سے ناراض ہو؟”
حمدان نے اسے دیکھا۔۔۔
“نن۔۔۔نہیں۔۔۔آپ نے کچھ غلط نہیں کہا تھا۔۔۔میں آپ لوگوں کے مطابق نہیں چل سکتی کبھی۔۔۔ہمارے لائف اسٹائل میں فرق ہے”
حریم نے سنجیدگی سے کہا۔۔۔
مگر نظر اس نے ابھی نہیں ملائی تھی۔۔
“دیکھو۔۔۔” وہ کچھ کہنے لگا ہی تھا کہ سامنے ٹیبل پر پڑے ڈریسز پر اس کی نظر پڑی۔۔۔
ایسا لگ رہا تھا ان ڈریسز کو چھوا بھی نہیں گیا۔۔۔
جب کہ ان سب مہنگے ترین ڈریسز کو تو اس کی وارڈروب میں ہونا چاہیے تھا۔۔۔
“یہ ڈریسز میں نہیں پہن سکتی۔۔۔” حریم نے اسے ڈریسز کو دیکھتے پایا تو صفائی دی۔۔۔
“کیوں۔۔۔؟” اس کا موڈ پھر سے خراب ہوا۔۔۔
“مجھے پسند نہیں۔۔۔” حریم نے معصومیت سے کہا۔۔۔
اس کی بات سن حمدان ٹھیک ٹھاک تپا۔۔۔
اسے حیرانی تھی کہ اتنے مہنگے اور خوبصورت ڈریسز اسے پسند نہیں تھے۔۔۔
“جو ڈریس میں نے چوز کیا تھا۔۔۔اس میں کیا برائی تھی؟”
وہ غصے کو پرے دھکیلتا۔۔۔نرم لہجے میں پوچھنے لگا۔۔۔
“وہ۔۔۔سلیو لیس تھا۔۔۔میں نہیں پہنتی ایسے ڈریس۔۔”
حریم نے جلدی سے جواب دیا۔۔۔
حمدان نے ایک نظر اسے دیکھا پھر چپ چاپ روم سے باہر نکل گیا۔۔۔
(وہ۔۔۔سلیو لیس تھا۔۔۔میں نہیں پہنتی ایسے ڈریس۔۔)
وہ فون ہاتھ میں لیے بیٹھا تھا کہ جملے نے سوچ کو بھٹکایا۔۔۔
اس کا معصوم چہرہ بار بار نظروں کے سامنے آنے لگا۔۔۔
اس کی جھکی نظر آنکھوں میں لہرا رہی تھی۔۔۔
تبھی اس کا فون زور زور سے بجنے لگا۔۔۔
اس کی سوچوں کا تسلسل ٹوٹ گیا۔۔۔
اس نے اسکرین کو دیکھا۔۔۔عنایہ کا نمبر جھلملا رہا تھا۔۔۔
اس کے ماتھے پر شکن نمو دار ہوئی۔۔۔
اس نے فون کو سوئچ آف کیا اور سونے کے لیے لیٹ گیا۔۔۔
وہ اپنے موڈ کو خراب کرنا نہیں چاہتا تھا۔۔۔
“عنایہ اور حریم میں کتنا فرق ہے۔۔۔عنایہ غیر لڑکوں کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے بہت آرام سے گھومتی ہے۔۔۔اور حریم شرمیلی۔۔۔ پاکیزہ۔۔”
وہ چھت کو گھرتے ہوئےجانے کیوں دونوں میں مقابلہ کرنے لگا۔۔۔
“لیکن میں یہ سب کیوں سوچ رہا ہوں۔۔۔”
وہ گہرہ سانس خارج کر خیالات کو جھٹکتا۔۔۔آنکھیں موند گیا۔۔۔
وہ ڈرائیونگ کر رہا تھا۔۔۔حریم چپ چاپ بیٹھی کبھی باہر دیکھتی۔۔۔کبھی ترچھی نظروں سے اسے…
تھوڑی دیر میں وہ لوگ سٹوڈیو پہنچ گئے تھے۔۔۔
حریم کا کانفیڈینس اب جواب دینے لگا تھا۔۔۔
جانے کیوں۔۔اسے گھبراہٹ ہو رہی تھی۔۔۔
اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ یہاں سے بھاگ جائے۔۔۔
اس نے ایک نظر ساتھ چلتے حمدان پر ڈالی۔۔۔جو بے تاثر چہرہ لیے۔۔۔اپنی روب دار چال میں چلتا جا رہا تھا۔۔۔
تبھی سامنے سے آتے ایک نوجوان پر نظر پڑتے ہی اس کے لبوں پر مسکراہٹ آگئی۔۔۔
“ہے۔۔۔حمدان۔۔۔ہاؤ آر یو۔۔۔؟”
وہ شخص خوش دلی سے گلے ملا۔۔۔
حریم چپ چاپ پیچھے کھڑی انہیں دیکھ رہی تھی۔۔۔
وہ دونوں ہنس ہنس کر ایک دوسرے سے باتیں کر رہے تھے۔۔۔جیسے دونوں میں بہت دوستی ہو۔۔۔
“ریکارڈنگ کب سے شروع کرے گا۔۔۔دیکھ تیرے آسرے میں یہ گانا ادھورا ہے۔۔۔۔سوچ رہا ہوں۔۔۔فرحت مصطفی کو سنگر رکھوں۔۔۔”
انہوں نے مشورہ مانگا۔۔۔
“اسامہ۔۔میں چاہتا ہوں تو اسے کاسٹ کرے۔۔۔”
حمدان نے پاس کھڑی حریم کی طرف اشارہ کیا۔۔۔
“یہ کون ہے؟” اسامہ نے جانچتی نظروں سے دیکھا۔۔۔
“حریم۔۔۔۔شی ہیز این امیزنگ وائس۔۔۔”
حمدان نے تعارف کروایا۔۔۔
“اوہ۔۔۔ فریش ہے؟” وہ حریم کو دیکھنے لگا۔۔۔
“ظاہر ہے تبھی لایا ہوں یہاں۔۔۔۔” حمدان نے جواب دیا۔۔۔
“آر یو کریزی؟ تو چاہتا ہے میں اتنے بڑے سونگ کے لیے فریشر کو کاسٹ کروں۔۔۔”
اسامہ ہنسنے لگا۔۔۔
حریم خاموشی سے وہاں کھڑی یہاں وہاں دیکھ رہی تھی۔۔۔
اس کا دل کر رہا تھا کہ وہ حمدان کو کہے یہاں سے چلے بس۔۔۔
مگر وہ کچھ کہتی اس سے پہلے ہی حمدان پر اس کی نظر پڑی جو اسامہ کو مائل کرنے پر تلا تھا۔۔۔
“تو ایک بار اسے سن کر دیکھ۔۔۔پھر تو جیسا کہے گا وہی ہوگا۔۔۔ایم ڈیم شور۔۔۔تو بھی اس کی وائس کو سراہے گا۔۔۔
بس ایک بار میرے کہنے پر”
حمدان نے منت کی۔۔۔
اور اسامہ اسے انکار نہیں کر پایا۔۔۔
“اوکے۔۔۔تو اتنا کہ رہا ہے تو سن لیتا ہوں۔۔۔کم۔۔۔”
اسامہ نے مسکرا کر حریم کی طرف دیکھا۔۔۔اور انہیں ساتھ آنے کا اشارہ کیا۔۔۔
“حریم کہاں ہے آج دکھ نہیں رہی۔۔۔”
یزدان نے فائقہ کی طرف دیکھا۔۔۔
وہ جب بھی آفس سے آتا تھا۔۔۔وہ اس کی کافی اپنے ہاتھوں سے بنا کر اسے پلاتی تھی۔۔۔
وہ جانتی تھی۔۔۔یزدان کو کافی بہت پسند ہے۔۔۔
مگر آج اس کے لیے کافی فائقہ لے کر آئی۔۔۔
“فائقہ کے ہاتھ میں مگ دیکھ وہ پوچھ بیٹھا۔۔۔
جب سے حریم آئی تھی۔۔۔وہ بہت سی زمہ داریوں سے سبق دوش ہوگئی تھی۔۔۔
“وہ۔۔حمدان کے ساتھ گئی ہے۔۔۔” فائقہ برابر میں بیٹھتے ہوئے کہنے لگی۔۔۔
“کہاں؟” وہ حیرانی سے پوچھنے لگا۔۔۔
“کسی میوزک ڈائریکٹر سے ملوانے لے گیا ہے اسے”
فائقہ نے پاس پڑا اخبار اٹھا کر اس کی جانب بڑھایا۔۔۔
“میوزک ڈائریکٹر۔۔۔کیوں؟”
اس نے اخبار تھامتے ہوئے سوال کیا
“ڈیڈ اور حمدان۔۔۔دونوں چاہتے ہیں۔۔۔کہ وہ سنگنگ کرے۔۔۔وہ اچھا گاتی ہے۔۔۔شاید اسے بھی انٹرسٹ ہے سنگنگ میں۔۔۔”
فائقہ نے تفصیل دی۔۔۔
اور یزدان لمحہ بھر کچھ سوچتا رہا۔۔۔
پھر اخبار پڑھنے میں مصروف ہوگیا۔۔۔
“اچھا تو گاتی ہیں آپ۔۔۔آواز بھی اچھی ہے۔۔۔مگر ریکارڈنگ کے لیے پرفیکش ضروری ہوتی ہے۔۔۔سو۔۔مس حریم آپ کو پریکٹس کی بہت ضرورت ہے۔۔۔”
آواز سننے کے بعد اسامہ حریم سے مخاطب ہوا۔۔
حریم نے سمجھتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا۔۔۔
“وہ سب ہوجائے گا تم فکر مت کرو۔۔۔تم بس یہ بتاؤ۔۔۔کہ کاسٹ کر رہے ہو یا نہیں۔۔۔؟”
حمدان نے دو ٹوک بات کی۔۔۔
اس کی بات سن اسامہ قہقہہ لگا کر ہنس دیا۔۔۔
“اب تو ریکویسٹ کر رہا ہے تو ہاں تو کرنی ہوگی۔۔۔”
اسامہ کی بات سن حمدان کے لب مسکرا اٹھے۔۔۔
حریم نے چونک کر ان دونوں کو دیکھا۔۔۔
“تھینک یو۔۔۔”
حریم نے ڈرائیونگ کرتے حمدان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔
“فار واٹ؟” اس نے حیرانی سے پوچھا۔۔۔۔
“آپ میرے لیے اتنا کچھ کر رہے ہیں۔۔”
حریم نے نظر جھکائی۔۔۔
“میں نے تو کچھ نہیں کیا۔۔۔کیا تو تمہاری آواز نے ہے۔۔۔
پہلے مجھ پر۔۔۔اب اسامہ پر جادو۔۔۔اور بہت جلد ساری دنیا پر یہ جادو چھا جائے گا”
حمدان نے خوش ہوکر کہا۔۔۔
اور اس کی بات پر حریم ہنس دی۔۔۔
حمدان بنا پلکیں جھپکائے اسے ہنستا دیکھ رہا تھا۔۔۔
“تمہارے معصوم چہرے پر ہنسی بہت کھلتی ہے۔۔۔”
حمدان نے اسے دیکھتے ہوئے دل ہی دل میں کہا۔۔۔
پھر نظریں مہارت سے چراتا سامنے دیکھنے لگا۔۔
اسے اپنی فیلنگز پر کنٹرول کرنا بخوبی آتا تھا۔۔۔
“کہاں گم ہو۔۔۔”
سامنے سے آتی حریم کو دیکھ یزدان اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
“آپ کب آئے؟” حریم نے پاس جاکر پوچھا۔۔۔
“آج تم نے انہیں کافی نہیں دی۔۔۔تو انہیں تمہاری یاد آگئی”
فائقہ نے ہنستے ہوئے بتایا۔۔۔
“اچھا کافی کی کمی محسوس ہوئی تھی میری نہیں۔۔۔”
حریم نے شرارت سے پوچھا۔۔۔
اس کی بات سن یزدان قہقہہ لگا کر ہنس دیا۔۔۔
تبھی سامنے سے آتا حمدان انہیں یوں ہنستا دیکھ چونکا۔۔۔
حریم اور یزدان کھلکھلا کر ہنس رہے تھے۔۔۔
حمدان ایک بری نظر ان پر ڈالتا سیڑھیاں چڑھتا تیزی سے اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔۔۔
“انہیں کیا ہوا؟” حریم نے اس کے بگڑتے موڈ کر دیکھ فائقہ کی طرف دیکھا۔۔۔
“اسے چھوڑو تم بتاؤ۔۔۔کامیاب ہوئی یا نہیں۔۔۔”
فائقہ نے پوچھا۔۔۔
وہ خوش دلی سے جواب دیتی پاس بیٹھ گئی۔۔۔
بہت کم ٹائم میں وہ ان کے دل میں گھر کر گئی تھی۔۔۔
وہ لوگ بھی اس سے اٹیچ ہوگئے تھے۔۔۔
ساتھ اگر جانور کو رکھا جائے تو اس سے بھی محبت ہوجاتی ہے۔۔۔اور حریم تو جبکہ تھی ہی اتنی معصوم ہر کسی کو اپنا گرویدہ کر لے۔۔۔
“بھائی آپ ایک بات بتائیں۔۔۔”
حریم نے یزدان کو طرف دیکھا۔۔۔
“کیا؟” یزدان نے فون میں گم جواب دیا۔۔۔
“آپ کھانا کیوں نہیں کھاتے سب کے ساتھ۔۔۔نا لنچ کرتے ہیں ساتھ نا ڈنر۔۔۔”
حریم مے منہ بنایا۔۔۔
“ٹائم نہیں ملتا نا”
وہ اسی طرح موبائل میں گم تھے۔۔۔
“ٹائم نکالنا پڑتا ہے۔۔۔کم سے کم آپ ناشتہ تو کرسکتے ہیں ساتھ۔۔۔”
حریم نے سمجھایا۔۔۔
پاس بیٹھی فائقہ اس کی باتیں سن مسکرا دی۔۔۔
“دیکھتے ہیں۔۔۔” یزدان نے بات ختم کی۔۔
“دیکھتے نہیں کل پکا آپ ہم سب کے ساتھ ناشتہ کریں گے”
حریم نے ضد کی۔۔۔
اور یزدان نے خاموشی سے گردن ہلائی۔۔۔
“گڈ مارننگ ڈیڈ” حمدان کہتا کرسی کھسکا کر بیٹھ گیا۔۔۔
“گڈ مارننگ۔۔۔کیسا رہا کل کا دن” حامد صاحب نے حریم اور حمدان کی طرف دیکھا۔۔۔
“اسامہ کو بھی آواز بہت پسند آئی۔۔۔بس تھوڑی پریکٹس کی ضرورت ہے”
حمدان نے چائے کپ میں ڈالتے ہوئے کہا
تبھی فائقہ اور یزدان آگئے۔۔۔یزدان کرسی کھینچ بیٹھنے لگا ہی تھا۔۔کہ اس کی نظر سامنے بیٹھے حمدان پر پڑی۔۔۔
“گڈ مارننگ ڈیڈ” وہ اگنور کرتا بیٹھ گیا۔۔۔
حمدان تلخ نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔
حمدان کو وہاں بیٹھنا محال لگنے لگا۔۔۔
“ارے واہ آج تو سب کے سب موجود ہیں ٹیبل پر۔۔۔” حامد صاحب خوش ہوئے۔۔
“یہ سب حریم کی وجہ سے ہوا ہے ڈیڈ…” فائقہ نے ہنس کر کہا۔۔۔
حمدان نے حریم کی طرف دیکھا۔۔۔جو مسکرا رہی تھی۔۔۔
“حریم کی بات کو میں منع کر ہی نہیں سکتا۔۔۔” یزدان نے حریم کر مسکرا دیکھا۔۔۔
“ایکسکیوز می۔۔۔” حمدان کہ کر اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔اور بنا کسی سے کوئی بات کیے۔۔۔باہر کی جانب بڑھ گیا۔۔۔
سب اس کے رویے کی وجہ جانتے تھے۔۔۔سوائے حریم کے۔۔۔
