Awaaz Ishq By Isra Rao NovelR50465 Awaaz Ishq (Episode - 2)
No Download Link
Rate this Novel
Awaaz Ishq (Episode - 2)
Awaaz Ishq By Isra Rao
“سکینہ بی۔۔۔۔سکینہ بی۔۔۔پلیز ایک کپ کافی لا دیں”
وہ گھٹنے پر ٹانگ جمائے۔۔صوفے سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا۔۔۔
“ایک تو اس گھر میں کوئی سنتا نہیں میری۔۔۔” اس نے بے ساختہ دھیمے لہجے میں بڑبڑاتے ہوئے کہا۔۔۔
“او بگڑے دل شہزادے کم عمر کی دلہن لا دوں گا۔۔۔
باپ ہوں منڈے تیرا تجھے گھوڑی پر چڑھوا دوں گا۔۔۔”
اسے اپنے پیچھے سے کسی کے گنگنانے کی آواز آئی۔۔۔
اور یک دم ہی اس کے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔۔۔
“شادی ہے بربادی یہ نعرے میں لگوادوں گا۔۔۔
نہیں چڑھوں گا گھوڑی میں سولی پر چڑھ جاؤں گا۔۔۔”
اس نے اپنی سریلی آواز میں گنگناتے ہوئے جواب دیا۔۔۔
“ڈیڈ آپ اسے کتنی بار بھی سمجھالیں اس کا جواب نا ہی ہوگا” تبھی فائقہ بھابھی کی آواز پر چونک کر دونوں پلٹ کر دیکھا۔۔۔جو کافی کا کپ تھامے چلی آرہی تھی۔۔۔
“لیکن کیا کریں کوشش کرتے ہیں کہ شاید یہ شادی کے لیے راضی ہوجائے”
حامد صاحب نے صوفے پر بیٹھتے ہوئے کہا۔۔۔
“آپ سب میری شادی کے پیچھے کیوں پڑ گئے ہو۔۔۔”
وہ کپ تھامتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔
“کیوں کہ اب تمہاری شادی کی عمر ہوگئی ہے۔۔۔”
فائقہ بھابھی نے مسکرا کر کہا۔۔۔
“بلکل ہوگئی ہے مگر یہ پتا نہیں کب سمجھے گا۔۔۔۔خیر میرا ہاسپٹل جانے کا ٹائم ہوگیا۔۔۔۔شام میں ملتے ہیں۔۔۔”
حامد صاحب کہتے اٹھ کھڑے ہوئے۔۔۔
“بائے ڈیڈ سی یو۔۔۔۔۔” اس نے پیچھے سے ہنستے ہوئے تیز آواز میں کہا۔۔
“شٹ اپ۔۔۔” وہ کہتے ساتھ ہی باہر نکل گئے۔۔۔
اور اس کا زور دار قہقہہ گونجا۔۔۔
“کیوں تنگ کرتے ہو تم ڈیڈ کو۔۔مان کیوں نہیں جاتے شادی کے لیے۔۔۔؟” فائقہ بھابھی نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے سوال کیا۔۔۔
“کرلوں گا۔۔۔” اس نے کافی کا سپ لیتے ہوئے کہا۔۔۔
“کب؟” انہوں نے پھر پوچھا۔۔۔
“جب کوئی آپ کے جیسی مل جائے گی۔۔۔۔” وہ تھوڑا جھک کر شرارت سے کہنے لگا۔۔۔۔
“حمدان۔۔۔” وہ سنجیدگی سے دیکھنے لگی۔۔۔
“میرا پریکٹس کا ٹائم ہوگیا بھابھی۔۔۔۔ٹیک کیئر”
وہ ہنستا ہوا کہتا سیڑھیاں چڑھنے لگا۔۔۔۔
“ابھی تو یہ پہلی منزل ہے۔۔۔تم تو ابھی سے گھبرا گئے۔۔”
وہ بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے گنگنا رہی تھی۔۔۔۔
“کیا ہر وقت گنگناتی رہتی ہے۔۔۔” تحریم آپی بوں کو فولڈ کرتی اسے ٹوکنے لگی۔۔۔
“ارے پتا ہے آپی حمدان شاہ کا نیا البم آیا ہے۔۔۔۔کیا آواز ہے اس کی بس سنتے ہی جاؤ”
وہ خوشی سے کہنے لگی۔۔۔
“تو اور تیرا وہ سنگر حمدان شاہ۔۔۔۔کبھی آواز کی دنیا سے بھی نکل آ۔۔۔پڑھنے کی عمر ہے تیری۔۔۔۔”
تحریم آپی نے پاس بیٹھتے ہوئے کہا۔۔۔
“وہ تو میں پڑھ ہی رہی ہوں۔۔لیکن جو بھی کہو آپی مجھے اس کی آواز سے عشق ہے” وہ پر سکون لہجے میں مسکراتے ہوئے کہنے لگی۔۔۔
“سو جا۔۔۔۔آواز سے عشق” وہ اس کی بازو پر ایک زور دار تھپڑ دھرتے ہوئے گویا ہوئی۔۔۔اور اسے اس جذبے سے نکال باہر لائی جس میں ابھی ابھی وہ کھو سی گئی تھی۔۔۔
“گائز نیا ٹیچر آیا ہے۔۔۔سنا ہے بڑا ہی اسٹرکٹ ٹائپ ہے۔۔۔”
طیبہ چلتے ہوئے بتاتی جارہی تھی۔۔
“کیا؟ کون ہے؟” حنید چونکا۔۔۔۔
“مجھے کیا پتا۔۔۔سر صابر شریف نام ہے ان کا”
طیبہ نے جواب دیا۔۔۔
“عمر۔۔۔ذرا گوگل پر سرچ کر کون ہے یہ؟”
حنید نے ہنسی روکتے ہوئے کہا۔۔۔
“ہاں گوگل میرا باپ ہے ساری معلومات دے گا۔۔۔لے بچے بتا دے حنید صاحب کو”
عمر نے چڑ کر کہا۔۔۔
حنید اور طیبہ ہنستے ہوئے تالی مارنے لگے۔۔۔
“اچھا چلو نا یار باسکٹ بال کھیلتے ہیں۔۔۔۔کلاس تو روز ہی اٹینڈ کرتے ہیں۔۔۔” حنید نے عمر کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔
“ابے نیا سرآیا ہے۔۔۔ ابھی لیکچر دیا تم لوگوں کو۔۔۔پہلی کلاس ہے آج اس کی۔۔ایسی کوئی حرکت مت کرو۔۔۔نظروں میں آگئے نا سارا سال خوار کرے گا۔۔۔”
طیبہ نے سمجھاتے ہوئے کہا۔۔۔
“ایک تو یہ ڈرتی بہت ہے۔۔۔۔” حنید نے منہ بنا کر کہا۔۔۔
“جو ڈر گیا سمجھو مر گیا۔۔۔” عمر نے اترا کر کہا۔۔۔ اور دونوں ہنسنے لگے۔۔۔
“اگلی کلاس سر صابر کی ہے۔۔۔سنا ہے بہت سخت مزاج ہے”
ماریہ نے کہا۔۔۔
“ہاں۔۔۔” حریم نے مختصر کہا۔۔۔
“تمہیں ڈر نہیں لگ رہا؟” ماریہ نے اس کے چہرے کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔
“نہیں۔۔ڈر کیسا؟” حریم نے مسکرا کر پوچھا۔۔۔
“وہ سخت ہیں نا۔۔.” ماریہ نے بیچارگی سے جواب دیا
“ہاں مگر۔۔۔۔” اس سے پے کہ وہ بات پوری کرتی اس کے پاؤں میں بال آکر گری۔۔۔۔
اس نے اپنے قدموں کی جانب دیکھا جہاں ایک بڑی سے بال پڑی تھی۔۔۔
“ہے۔۔۔ بال پاس کرو۔۔۔۔” دور کھڑے شخص کو دیکھتے ہی وہ پہنچان گئی تھی۔۔۔
“یہ تو وہی لڑکا ہے نا۔۔۔لگتا ہے یہ لوگ پڑھنے نہیں آتے۔۔۔”
ماریہ نے دھیمی آواز میں کہا۔۔۔
“ہممم۔۔۔چلو یہاں سے۔۔کلاس کا ٹائم ہونے والا ہے” حریم نے بال کو مکمل طور پر نظر انداز کیا اور آگے بڑھ گئی۔۔۔
“یہ تو وہی لڑکی ہے۔۔۔شکل سے تو بڑی سیدھی نظر آتی ہے۔۔۔مگر دیکھو کیسے بال پھلانگ کر چلی گئی۔۔۔۔مانا حنید کی بات کو نہیں سنتا لیکن اسے تو سننی چاہیے تھی۔۔۔اب سب تو بے عزتی نا کریں بے چارے کی۔۔۔”
عمر نے مزاق اڑاتے ہوئے کہا۔۔۔
جبکہ وہ ماتھے پر شکن لیے حریم کو ہی گھور رہا تھا۔۔۔
اور وہ اس کی نظروں کی تاب نا لاتے ہوئے۔۔۔چلتی جارہی تھی۔۔۔
تب ہی وہ سامنے آکر کھڑا ہوگیا۔۔۔
اور ان دونوں کے قدم وہیں رک گئے۔۔۔
“یہ کیا بدتمیزی ہے۔۔۔راستے سے ہٹو”
ماریہ نے کہا۔۔۔
“تم جا سکتی ہو” حنید نے بازو پھیلا کر ماریہ کو جانے کا اشارہ کیا۔۔۔
حریم نے نظر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا۔۔۔جو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔
“دیکھو بے بی اس دن جو میں نے مزاق کیا تھا۔۔۔وہ کوئی اتنا بھی بڑا نہیں تھا جو تم اشو بنا کر دل میں غصہ لیے بیٹھی ہو۔۔۔”
حنید نے سنجیدگی سے کہا۔۔۔
حریم خاموش کھڑی رہی۔۔۔
“پھر بھی اگر تمہیں لگتا ہے۔۔۔خیر میں سوری بول دیتا ہوں۔۔۔سوری۔۔سوری۔۔سوری۔۔۔اوکے۔۔۔ناؤ ہیپی۔۔۔”
حنید نے مسکرا کر معزرت کی۔۔۔
حریم چند لمحے اسے دیکھتی رہی۔۔۔پھر ماریہ کا ہاتھ پکڑ آگے بڑھ گئی۔۔۔
اور وہ مسکراہٹ لبوں پر سجائے انہیں جاتا دیکھنے لگا۔۔۔
