258.6K
30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Awaaz Ishq (Episode - 12)

Awaaz Ishq By Isra Rao

“حنید ہم یہاں کیوں آئے ہیں؟”

وہ ناسمجھی سے پوچھنے لگی

“کورٹ میرج کرنے” وہ ٹھنڈے لہجے میں بولا

“کیا؟ نن۔۔نہیں حنید۔۔میں۔۔ہم یہ کیسے کرسکتے ہیں؟”

وہ پریشان ہوئی

“کیوں نہیں کرسکتے؟ تم نے ہی کہا تھا نا کہ تمہیں مجھ پر میری محبت پر بھروسہ نہیں۔۔۔۔تو یہ کورٹ میرج کرنے کے بعد تو تمہیں مجھ پر بھروسہ ہوجائے گا کہ میں تمہیں کبھی دھوکہ نہیں دوں گا”

وہ تاسف سے کہنے لگا

“حنید۔۔۔میں یہ نہیں کرسکتی۔۔۔ہم۔۔ گھر والوں کی مرضی کے بنا اتنا بڑا قدم کیسے اٹھا سکتے ہیں۔۔۔”

وہ حیرانی اور پریشانی کے ملے جلے اثرات دکھا رہی تھی

“تمہارے گھر میں صرف تحریم آپی ہیں۔۔۔اور مجھے نہیں لگتا کہ وہ تمہاری خوشی کے خلاف کھڑی ہوں گی۔۔۔اور رہی بات میرے گھر کی تو وہ میرا مسئلہ ہے۔۔۔میں خود ہینڈل کرلوں گا سب”

وہ اسے تسلی دینے لگا۔۔۔

“مگر حنید۔۔” اس سے پہلے وہ کچھ کہتی حنید نے آگے بڑھ کر اس کے ہاتھوں کو اپنے مظبوط ہاتھوں میں پکڑا۔۔۔

“اگر مگر کچھ نہیں۔۔۔حریم میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں ۔۔میں تمہیں خود سے دور نہیں کرسکتا۔۔۔تم ناراض ہوتی ہو تو مجھے میری سانسیں رکتی محسوس ہوتی ہیں۔۔۔تم میری زندگی ہو۔۔۔میرا سب کچھ۔۔۔اور اس بات کا ثبوت میں تم سے شادی کر کے دے رہا ہوں۔۔۔”

وہ اس کے قریب کھڑا اس کی آنکھوں میں دیکھ کہ رہا تھا۔۔

وہ خاموشی سے اس کی آنکھوں میں اپنے لیے محبت دیکھ رہی تھی۔۔۔

“۔۔یہ شادی بس ہماری تسلی کے لیے ہے۔۔۔تاکہ ہم دونوں کے بیچ کبھی شک یا وہم دراڑ نا ڈالے۔۔۔حریم تم مجھ سے کتنا پیار کرتی ہو۔۔۔تمہیں بھی اس بات کا ثبوت دینا ہوگا۔۔۔”

وہ سوالیا نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔۔۔

وہ خاموش تھی۔۔۔

“تم ہمیشہ میرا ساتھ دو گی نا حریم؟” اس نے پھر سوال کیا۔۔۔

وہ جواب کا منتظر اس کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا۔۔

حریم نے مسکرا کر اثبات میں سر ہلایا۔۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“حمدان” وہ سیڑھیاں چڑھ رہا تھا کہ پیچھے سے آنے والی آواز پر رکا۔۔۔

“جی ڈیڈ۔۔۔” وہ پلٹا۔۔۔اور نیچے ان کے قریب آیا۔۔۔

“کیا پرابلم ہے تم دونوں کو۔۔۔کیوں گھر کا ماحول ڈسٹرب کیا ہوا ہے۔۔۔”

وہ گمبھیر لہجے میں کہنے لگے۔۔۔

“ڈیڈ۔۔۔پرابلم مجھے نہیں انہیں ہے۔۔۔وہ بھابھی کے ساتھ مس بیہیو کر رہے تھے۔۔۔۔”

وہ بات مکمل کرتا اس سے پہلے ہی حامد صاحب نے اس کی بات کاٹی

“وہ ان دونوں۔۔۔کا آپس کا مسئلہ ہے۔۔۔تمہیں بیچ میں آنے کی ضرورت نہیں تھی۔۔۔”

وہ تلخ لہجے میں کہنے لگے۔۔۔

“ڈیڈا۔۔۔آپ مجھے کہ رہے ہیں۔۔۔وہ جو کریں انہیں کوئی کچھ نہیں کہتا۔۔۔اور آپس کے مسئلہ ہے تو طریقے سے سولو کریں۔۔۔آپ نے دیکھا نہیں وہ کس طرح بات کر رہے تھے۔۔۔۔”

وہ تفصیل دینے لگا۔۔۔

“حمدان غصہ کو کنٹرول کرنا سیکھو۔۔۔اور وہ تمہارا بڑا بھائی ہے۔۔۔”

حامد صاحب نے سمجھانا چاہا

“بڑے بھائی کو بھی طریقہ ہونا چاہیے نا ڈیڈ چھوٹوں سے بات کرنے کا۔۔۔اور میں اپنے ساتھ کی گئی بد تمیزی کو نظر انداز کر بھی دیتا مگر بھابھی کے ساتھ جو انہوں نے کیا وہ ٹھیک نہیں تھا ڈیڈ۔۔۔”

وہ سرخ آنکھوں سے کہنے لگا

“کم تو تم نے بھی نہیں کیا حمدان۔۔۔” سامنے سے آتی فائقہ بھابھی حمدان سے مخاطب تھی۔۔۔

“بھابھی۔۔۔آپ بھی۔۔” وہ دکھ بھرے لہجے میں کہنے لگا

“ہاں کیوں کہ تم غلط ہو حمدان۔۔۔وہ میرے ساتھ جو بھی کریں۔۔۔تمہارا کام نہیں تھا۔۔۔۔نا ہی میں تمہیں اس چیز کی اجازت دیتی ہوں کہ تم۔۔ ہم دونوں کے درمیان کچھ بھی کہو۔۔۔”

فائقہ نے سخت لہجے میں کہا۔۔۔

“ہممم۔۔۔اوکے۔۔۔۔” وہ دکھ بھرے لہجے کو چھپاتے بس اثبات میں گردن ہلاتا۔۔۔تیزی سے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔۔۔

پیچھے کھڑا یزدان اس بحث کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“اب تو کوئی شک نہیں میری محبت پر؟”

وہ ڈرائیونگ کرتے پاس بیٹھی حریم کو دیکھ رہا تھا

“نہیں۔۔۔” وہ نفی میں سر ہلاتی مسکرا دی۔۔۔

“تم مسکراتی ہوئی بہت خوبصورت لگتی ہو۔۔۔۔مسز حنید۔۔۔”

وہ شرارت سے اس کے قریب ہوتے کہنے لگا۔۔۔

“حنید۔۔۔مجھے ڈر لگ رہا ہے” وہ گھبراہٹ کو چھپا نہ سکی۔۔۔

“کیوں۔۔۔ڈر کیسا؟” وہ حیران ہوا

“اگر آپی کو پتا لگ گیا تو۔۔۔انہیں کتنا برا لگے گا”

وہ پریشانی سے کہنے لگی

“کچھ نہیں ہوتا میں ہوں نا… پڑھائی مکمل ہونے کے بعد ہم اپنے اپنے گھر بتائیں۔۔۔فلحال کچھ مت بتانا۔۔۔سمجھ گئی۔۔۔”

وہ پوچھنے لگا۔۔۔

“ہاں۔۔۔” وہ جبرًا مسکرا دی۔۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

رات گہری تھی مگر اسے رہ رہ کر فائقہ بھابھی کی باتوں پر غصہ آرہا تھا۔۔۔

ان کے کہے جانے والے الفاظوں نے اسے بہت دکھ پہنچایا تھا۔۔۔

وہ اٹھا گاڑی کی چابی اٹھائی۔۔۔اور باہر نکل گیا۔۔۔

رات کے دو بج رہے تھے۔۔۔مگر وہ وقت کی پرواہ کیے بنا۔۔گاڑی سڑک پر دوڑا رہا تھا۔۔۔

تبھی ایک ریسٹورنٹ سے باہر نکلتی عنایہ پر اس کی نظر پڑی۔۔۔

وہ گاڑی روک اسےدیکھنے لگا۔۔۔۔

وہ بلو جنس پر سلیو لیس ٹی شرٹ پہنے۔۔۔ایک ہاتھ میں پرس تھامے۔۔۔اور دوسرا ہاتھ اس کھڑے شخص کے بازوں میں ڈالے۔۔۔ہنستی ہوئی آرہی تھی۔۔۔

اس کی اس طرح بے تکلفی دیکھ حمدان کو اندر تک سلگھا گئی تھی۔۔۔وہ سرخ آنکھیں لیے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔

وہ اسٹیئرنگ پر زور سے ہاتھ مارتا۔۔۔گاڑی کا دروازہ کھول باہر نکلا۔۔۔

اس سے پہلے کہ وہ ان تک پہنچتا۔۔۔وہ دونوں گاڑی میں بیٹھ نکل چکے تھے۔۔۔