Tu Bewafa Na Tha by Sandal readelle50033 Last Episode
Rate this Novel
Last Episode
دو سال بعد. ……..
مزمل میں تم سے بہت محبت کرتی ہوں. … مزمل پلیز ..پلیز. ..مت چھوڑ کر جاو. … میں نہیں جی پاوں گی. … مزملللللل. ….. رکوووو. … رکووو پلیزززز. . وہ چلا رہی تھی. … کوئی ناگہانی طاقت اسے اپنی طرف کھینچ رہی تھی. … وائیٹ لانگ فراک پہنے. .. بال بکھرے ہوئے. .. ایک ہاتھ اس کی طرف کئے. … وہ مزمل کو روکنا چاہ رہی تھی. …. مزمل نے آگے بڑھنا چاہا. ..مگر. … وہ ایک قدم میں آگے نا بڑه سکا. … جیسے پاوں میں زنجیریں ڈالی گئی ہوں. ….
وہ اسے پکارتی ہوئی دور ہو رہی تھی. … پھر اچانک ہر جگہ دھواں پھیل گیا. ….وہ غائب ہوگئی. …
دیااا …..وہ چلا رہا تھا مگر وہاں کوئی نا تھا. …..
دیاااااا. … وہ ایک دم چیخ کر اٹھا تھا. … کمرے میں نائٹ بلب روشن تھا. … اے سی لگے ہونے کے باوجود وہ پسینے میں شرابور تھا. .. آگے بڑھ کر اس نے بٹن ان کیا. …
کیا ہوا مزمل آپ پهر اتنی رات کو آٹھ گئے. ….
حبہ کو اس کے ساتھ سوئی ہوئی تھی. … اس کے چلانے پر آٹهتی. .پریشانی سے بولی. ….
سوری تمہیں ڈسٹرب کردیا پهر سے. … بیڈ کراوں سے ٹیک لگاتا ہوا بولا. ..
. پهر خواب میں آئی. … اپنا سر اس کے کندھے پر رکھتی بولی تی پهی. …
ہممممم پهر آئی. .. وہی خواب جو دو سالوں میں کئی دفعہ آچکی ہے. … مزمل نے بھی تھکے ہوئے لہجے میں کہا تھا. .
نجانے اس نے مجھے معاف کیا بھی ہوگا کہ نہیں ….حبہ کو خاموش دیکھ کر وہ دوبارہ بولا تھا لہجے میں بے بسی واضع تھی. …
مزمل جہاں محبت وہ وہاں ناراضگی نہیں ہوتی. … صرف اوپر اوپر سے ناراض ہوا جاتا ہے. .. اور اگر اس نے معاف نہیں کیا تو اپکو گولی سے بچایا کیوں. .. کیوں آپکی جگہ مر گئی. … وہ اپسے محبت کرتی تھی. … وہ خفا نہیں تھی. .. دهکی ہوئی ہوگی صرف. .. سو دفعہ بولی بات اس نے دوبارہ دہرائی. ….
پهر بھی مجھے بہت گلٹی فیل ہوتا ہے. .. میں نے اس کی فیلنگز کے ساتھ کھیلا. .. وہ اب بھی مطمئن نہیں تھا. …
اپنے اس کی فیلنگز کے ساتھ نہیں کھیلا. … آپ نے اس سے محبت کرتے تھے نا. .. وہ تو قسمت میں ملنا لکھا تھا ہی نہیں. .. تو کیسے ملتے آپ. …اب آپ پریشان نہ ہوں. …. حبہ نے ایک دفعہ پھر اسے مطمئن کرنا چاہ. .. اور وہ کامیاب ہوگئی تھی. … مزمل آگے ہوتا اس کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گیا تھا. …
وہ مسکرائی تھی. … ایک ہاتھ مزمل نے اپنے ہاتھ میں لے کر سینے پر رکھا تھا دوسرا وہ اس کے بالوں میں چلا رہی تھی. ….
آپ اتنی محبت کرتے تھے اسے. … کافی لمحے خاموشی کے نزر ہوگئے. .تب ہی حبہ نے خاموشی توڑی تھی. … دل کی بات زبان پر لے آئی تھی. …
وہ پہلی محبت تھی میری. .. محبت تھوڑی زیادہ تر نہیں ہوتی. … محبت بس محبت ہوتی ہے. … مجھے بھی ہوگئی اس سے. … مگر تم سے مجھے عشق ہے. …. عشق محبت سے آگے کی منزل ہے. … اس سے آگے کچھ ممکن نہیں ہوتا….. وہ پہلی محبت اور تم آخری ہو. ..تمہارے بعد بس تم. … کچھ اور نہیں. ….. پہلے کچھ دیر اسے خاموشی سے دیکھنے کے بعد محبت سے گویا ہوا تھا. …
حبہ سرشاری سے مسکرا دی تھی. …..
…یہ. ..یہ. .کیا کررہے ہیں مزمل. …. مزمل اک دم آٹھ کر اسے لٹاتا اس پر جھکا تھا. ….. سب اتنی جلدی ہوا حبہ کو سمجھ ہی نہیں آئی تھی کہ اس کے ساتھ ہوا کیا تھا. ….
پیار کررہا ہوں. … مزمل نے اپنا چہرہ اس کے بالوں میں چھپاتے خمار آلود آواز میں کہا. ..
مزملللل. … پ پلیزز. .. سو جائیں نا. …. حیا سے اس سے بولنے بھی نہیں ہورہا تھا. … دل الگ کانوں میں رهڑک رہا تھا جیسے ابھی باہر نکلے گا. …
صبح تو ہونے والی ہے. … اب سو کر کیا کرنا. …. اپنا ناک اس کی گردن پر سہلاتا گویا ہوا. ….
مزمل. ..وہ. …. ابھی وہ اور کوئی بہانہ بناتی جب مزمل نے اپنے ہونٹ اس کے ہونٹوں میں الجھا کر اسے خاموش کروا دیا تھا. …. کافی دیر بعد جب لگا کہ وہ اور برداشت نہیں کرستی. .. وہ اس کے ہونٹوں کو آزادی بخش دی تھی. ….وہ گہرے گہرے سانس لے کر خود کو نارمل کررہی تھی. ….
آگے وہ کر مزمل نے بٹن بند کر دیا. … کمرہ اندھیرے میں گم ہوگیا تھا. … مزمل نے کمفرٹر اس کے اور خود کے اوپر کرتے. .. اسے اپنی محبت کا یقین دلا رہا تھا. …. حبہ نے بھی خود کو اس کے سپرد کر دیا تھا. ….
♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥
ان دو سالوں میں بہت کچھ. ..بلکہ سب کچھ بدل گیا تھا. … امریکہ سے پاکستان شفٹ ہونے کے. . تین مہینے بعد ثاقب صاحب لوگ بھی پاکستان اگئے تھے. …. پھر دو مہینے بعد مایا اور احمر کی دھوم دھام سے شادی کی تھی. ….مگر مہوش مایا کی شادی سے پہلے مزمل کی شادی کرنا چاہتی تھی کیونکہ وہ بڑا تھا. … اور انہیں آریان کی چھوٹی بہن کی آنکھوں میں مزمل کے لیے پسندیدگی دیکھ چکی تھی. …. تب ہی انہوں نے مزمل سے بات کی تھی. … یہ سنتے ہی وہ سکتے میں چلا گیا تھا. …. دیا کی محبت آج بھی اس کے دل میں ویسی ہی تھی. ..، وہ لاکھ چاہنے کے باوجود بھی اسے بھلا نہیں سکتا تھا. …. وہ اس کی پہلی نظر کی پہلی محبت تھی. … جو اس کی آئی موت مر گئی تھی. … جو اس سے خفا ہی چلی گئی تھی. …. جو اب بھی خوابوں میں اسے بلاتی تھی پکاڑتی تھی. …مگر وہ خوابوں میں بھی اسے کبھی پا نا سکا تھا. .. نہ اس سے بات کرسکا. …. بس روتے ہوئے اسے روتا چلاتا دیکھتا رہتا تھا. … ایسے میں وہ بالکل بھی شادی نہیں کرنا چاہتا تھا. .. حبہ کو اس نے دیکھا ہوا تھا. .. جو اب ماہا مایا کی اچھی دوست بن گئی تھی. … مگر وہ کسی کے بارے میں سوچنا نہیں چاہتا تھا. … وہ کچھ عرصہ دیا کی یادوں کے ساتھ گزارنا چاہتا تھا. … مگر مہوش کے اموشنل بلیک میل کر کے اسے منا ہی لیا تھا. … وہ شادی سے پہلے ہی حبہ سے مل کر اسے سب سچ بتا چکا تھا. …. وہ جھوٹ سے ایک نیا رشتہ نہیں شروع کرنآ چاہتا تھا. ..پھر مزمل حبہ. .. مایا احمر کی شادی ایک ساتھ ہی ہوگئی تھی شروع شروع میں تو وہ حبہ سے فاصلے پر رہتا تھا. … مگر پھر اس کی معصومیت اور خوبصورتی نے اسے اپنا آسیر بنا لیا تھا. …. دیا کو بهلا تو نہ سکا مگر .. زندگی میں آگے بڑھ گیا تھا. ….
بزنس انہوں نے اپنا پاکستان میں شفٹ کردیا تھا. ….ماہا سب بھول کر ایک نئی زندگی شروع کرچکی تھی. …. دل میں کہیں فارس کی محبت آج بھی تھی. … ہوتی بھی کیوں نہ وہ اس کی پہلی محبت تھی. … جو نصیب میں نہیں تھی. ….. وہ زیادہ وقت آفس کو دیتی تھی. …. ان دو سالوں میں آریان سے اس کی دوستی گہری ہوگئی تھی. … آریان کئی بار اس سے اپنی محبت کا اقرار کر چکا تھا. … کئی بار اسے شادی کی پیشکش کرچکا تھا. .. مگر وہ ہر بار اسے خاموش کروا دیتی تھی. ..مگر اس نے بھی ہار نہیں مانی تھی. … وہ جانتا تھا کہ فارس سے محبت کرتی تھی. ….. مگر وہ یہ بھی جانتا تاکہ فارس کو وہ کبھی اپنا ہمسفر نہیں بنا سکتی تھی. …. چاہ کر بھی وہ اپنے باپ کے قاتل کے بیٹے سے شادی نہیں کرسکتی تھی. …
تهک ہار کر آریان نے مایا سے بات کی تھی کہ وہ ماہا کو پسند کرتا ہے مگر وہ مان نہیں رہی. …..پھر مایا کے ایک سال سمجھانے کے بعد وہ مان گئی تھی. … اور اب ان کی شادی تھی. ….. وہ خوش تو نہیں تھی مگر مطمئن تھی. … اپنی محبت تو کامیاب نہیں ہوسکی تھی. … اسی لیے آریان کا ساتھ دے کر اس کی محبت مکمل کرنا چاہتی تھی. …. وہ نہیں جانتی تھی کہ وہ فارس کی محبت کبھی دل سے نکال پائے گی کہ نہیں. … مگر وہ کوشش کرنا چاہتی تھی. …. وہ آریان سے بیوفائی نہیں کرنا چاہتی تھی. … اس نے فارس کو یاد کرنا چھوڑ دیا تھا. … مگر پھر بھی اسے دیکھ کر کچھ پل وہ ضرور ساکن ہوجاتی تھی. … اسے دیکھ کر آج ایک پل اس کا دل زور سے دھڑکتا تھا. …. دل بھی مجبوراً اسے چاہتا تھا. ……
فارس بھی پاکستان شفٹ ہوگیا تھا. …مزمل کے کہنے پر. … وہ وہاں بلکل اکیلا ہوگیا تھا تب ہی مزمل نے اسے پاکستان آجائے کا کہا تھا. … تب ہی وہ اپنے دادا دادی کے ساتھ پاکستان شفٹ ہوگیا تھا. … ان کا گھر ڈیفنس میں آگے پیچھے تھا. … وہ آج بی ادھر ہی کھڑا تھا جہان آج سے دو سال پہلے تھا. … عینا نے اسے کئی بار پرپوز کیا تھا لڑکی ہوکر. …مگر وہ ہمیشہ ٹال اجاتا. …. ماہا سے اس نے پھر کبھی محبت کا اظہار نہیں کیا تھا. .. وہ سب دوست بن کر اس سے ملتا تھا. ….مگر جب سے اسے ماہا کی شادی کا پتا چلا تھا. … وہ ایک دفعہ پھر ٹوٹا تھا. .. جانتا تو تھا کہ وہ اس کی نہیں تھی. .. مگر اسے کسی اور کا ہوتا دیکھنا بھی تو بہت مشکل تھا. …
ر مایا نے ہی ازمیر سے کہا تھا کہ وہ سحر سے شادی کر لے. … کیونکہ وہ سحر کی آنکھوں میں ازمیر کے لیے پسندیدگی دیکھی تھی. ..کئی دفعہ اس نے سحر سے پوچھنا چاہا مگر وہ سہی جواب نہیں دیتی تھی. …پھر بھی اس نے ازمیر کو راضی کر لیا. … وہ کیسے نا مانتا … اس کی محبت نے پہلی دفعہ اس سے کچھ مانگا تھا. .. پھر چاہے وہ اس کے لیے مشکل تھا. … مگر وہ مان گیا تھا. مایا اور احمر کی شادی کے کچھ عرصہ بعد ہی ان کا نکاح بھی ہوگیا تھا. .. سحر اور ازمیر دونوں زیادہ ہلا گلا نہیں کرنا چاہتے تھے. …اسی لیے چھوٹا سا فنکشن ہی رکھا تھا. … .. سحر عینا اور حرا کے ساتھ احمر لوگوں کے ساتھ ہی پاکستان آگئی تھی. … مگر ازمیر پاکستان نہیں رہنا چاہتا تھا. .. تب ہی شادی کے بعد وہ ترکی چلی گئی تھی. … اور اب ان کا دو مہینے کا بیٹا مومن تھا. … اور اب ایک دفعہ پھر وہ سب پاکستان سلطان ویلا میں موجود تھے. ..ماہا اور آریان کی شادی کے لئے. ….
♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥
احمررررر ….. وہ چلائی تھی. … پچھلے ایک گھنٹے سے وہ بیٹهی انتظار میں تھی کہ کب ازمیر باہر آئے اور وہ شاور لے مگر شاید وہ اندر آج کر سو گیا تھا. … وہ جانتی تھی کہ وہ صرف اسے چڑا رہا تھا. ….کافی دیر تو موبائل دیکھتی رہی پھر ماہا کے کمرے سے بهی واپس آگئی مگر وہ ابھی تک واش روم میں تھا. .. وہ یہ بھی جانتی تھی کہ وہ رات کا بدلہ لے رہا تھا. .. رات کو ماہا کی مہندی تھی. … دو بجے تک سب اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے تھے. … احمر نے اسے جلدی روم میں آنے کا کہا تھا. .مگر وہ جان کر رات کو ماہا.. عینا سحر کے ساتھ ان کے روم میں رہی تھی. … سوئے تو وہ تھے نہیں پوری پوری ترت باتیں ہی کرتے رہے. … فارس اور ازمیر بھی کچھ دیر ان کے ساتھ رہے مگر پھر چلے گئے. …
او اب احمر پچھلے ایک گھنٹے سے اس سے بدلہ لے رہا تھا. …
احمر. .. آتے ہو کہ میں دوسری کی سے دروازہ کهولوں. … اب کی بار اس نے روش روم کے دروازے کے پاس جاتے ہوئے کہا. …. جا تو وہ دوسرے کسی روم میں بھی تھی. ..مگر پورا گھر مہمانوں سے بهڑا تھا. .. جو لوگ دور سے آئے تھے. .انہیں گھر ہی رکھا تھا. .. اب وہ کپڑے لیتے دوسرے واش روم میں تو جا نہیں سکتی تھی. …
آجاو نا تو. .. میں نے خوشی سے پاگل ہی ہوجاوں گا. … وہ اندر سے ہی ہانکا تھا. .. وہ کب سے واش روم کے دروازے کے پاس کھڑا اس کا صبر آزما رہا تھا. …
اوکے. .. اب میں خود نہیں کہوں گی. .. اب بڑے بابا ہی تم سے بات کریں گے. .بلکہ تمہیں اپنے روم کا واش روم بھی استعمال کرنے کی پرمیشن دیں گے. .. اب کی بار اس نے آخری پتا پھینکا تھا. …
جاووو. … جاووو تم اندر. .. بلکہ ادھر ہی رہو. .. احمر نے ایک دم باہر نکلتے اسے واش روم کی طرف کرتے جلے ہوئے لہجے میں کہا. … ثاقب صاحب والی بات پر وہ تپ ہی گیا تھا. … جب نا وہ اسے انہی کی دھمکی دیتی. ..، ایک زرا جو اس کے قریب ہوتا وہ فوراً بڑے بابا کو یاد کرلیں تی. ….. بے چارہ اب تک منہ ہی دیکھ رہا تا. …
پہلے تو وہ اسے حیرت سے دیکھتی رہی. …جس نے کتنے مزے سے اسے دھکا دیا تھا. … پھر زور سے دروازہ مارتے بند کیا تھا. …
احمر منہ بناتا مڑا تھا. … سامنے بیڈ پر پڑا اس کا بلیک سلیو لیس لانگ فراک. . نیچے بلیک ہی پنسل ہیل دیکھ کر اسکا اور دل خراب ہوا تھا. .. اسے زندگی میں دو چیزیں اپنی رقیب لگتی تی. … ایک ازمیر. … جو بچارہ اب ایک بیٹے کا باپ بھی تھا. … ، مگر نجانے کیوں احمر کو وہ آج بھی اتنا ہی زہر لگتا تھا. جتنا پہلے. … دوسرا. .. بلیک کلر. .. جسے مایا کو عشق تھا. .. وہ اب سب رنگ پہنتی تھی مگر بلیک سب سے زیادہ. … اور اب ماہا کی بارات پر بھی بلیک ہی پہن ری تھی. … رات کو مہندی پر بھی بلیک ساڑھی ہی پہنی تھی. … اور اب احمر کا دل کررہا تھا کہ وہ اس کے واڈروب بعد سارے بلیک ڈرس غائب کریں. ….
مگر پھر کچھ سوچ کر وہ ایک دم مسکرایا تھا. .. کمرے میں دروازہ پہلے خود ہی تھوڑا زور سے دروازہ ناک کیا تاکہ وہ سن لے. ..پھر جی کہنے. ..دروازہ کھول لیا. .. اس سے پہلے الماری سے ایک شاپر نکالنا نہیں بهولا تھا. ..
جی موم. ….مایا. ..وہ بھی شاور لے رہی ہے. …… اچھا. …. چلیں مجھے دیں دیں میں اسے دے دوں گا. …ارے. ..موم آپ اتنے پیار سے دے رہی ہیں اور ضرور پہنے گی اور. … اوکے. … خود ہی قدرے اونچی آواز میں بولتا دروازہ بند کر چکا تھا. .. تب ہی مایا باتھ ڈرس پینے باہر آئی تھی. …
یہ کیا ہے. .. اور کس سے بات کررہے تھے. .. مایا نے ٹول سے گیلے بال خوشک کرتے ہوئے کہا. …
وہ جو اسے یوں دیکھ کر کسی اور ہی جہان میں پہنچا ہوا تھا. .. مایا کی آواز پر ہوش میں آیا تھا. … سرد آہ بھرتا وہ اس کی طرف آیا تھا. ..
یہ ڈیس دیا ہے موم نے کہا ہے کہ مایا کو بولنا کہ آج یہی پہلے. .. شاپر بیڈ پر رکھتے ہوئے اپنے لائے ڈرس کا کہا. ..
مگر میں نے تو ڈرس دیکھ لیا ہے. ..وہی پہننا تھا مجھے. … شاپر سے ڈرس نکالتی حیرانگی سے بولی ابھی ماہا کے روم میں داخل ملی تی تب تو انہوں نے ایسا کچھ نہیں کہا تھا. …
روئل بلو لانگ سلیو لیس فراک.. بازو اور گلے پر قیمتی موتیوں سے کام ہوا تھا. … ساتھ چوڑی دار پاجامہ. … تھا. … کافی خوبصورت سا تھا. … ڈرس دیکھتی وہ احمر کی طرف مڑی تھی. .. جو بظاہر لاپروا بنا کهنگی کررہا تھا. … مگر دھیان سارا اسی کی طرف تھا. …..
ارے. … اتنا بھی کیا ڈرنا. … کہہ دیتے میں لایا ہوں پہن لینا. … فراک ہاتھ میں ہی پکڑے اس کے پیچھے جا کر کھڑا ہوتی. .. پیچھے سے ہی اس کے گلے میں بانہیں ڈال کر ہنسی ضبط کرتے ہوئے کہا. … .
احمر تو خوشگوار حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا. .. وہ شادی کے بعد آج پہلی بار اس کے قریب آئی تھی. …
ہمم …میں لایا ہوں. ..اور تمہیں اس میں دیکھنا بھی چاہتا ہوں. … ہوش میں آتے اس کے ہاتھ پکڑتے اسے اپنے سامنے کرتے بوجھل آواز میں کہا تھا. …
تو پہلے بھی تو کہہ. …. وہ بولتے بولتے اچانک چپ ہوگئی تھی. .. احمر کی بےباک نظریں اپنے ہونٹوں پر جمی دیکھ گئ تھی. … اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا تھا کہ آئی ہی کیوں تھی. … اس سے اسے پیچھے کرتے آگے بڑھنے کی کوشش کی تھی. .مگر تب تک احمر اس کی کمر پر اپنی ہاتھوں سے گرفت مضبوط کر چکا تھا. …..
بندہ بشر ہوں یار. … کتنا تڑپاوں گی اور. … بس کرو نا اب. … اس کے ہونٹ اپنے انگوٹھے سے سہلاتا مخمور لہجے میں بولا تھا. … وہ دونوں اس وقت ایک دوسرے کے بہت قریب تھے. ….
احمررررر. … مایا کو وہ ہوش میں نہیں لگا تھا. ….
پلیزززز کب تک دور رہو گی. … انگوٹھا اب بھی اس کے نازک ہونٹوں پر پهر رہا تھا. ..
لیٹ ہورہیں ہیں. … پلیزز احمر سب ویٹٹٹٹٹ. …. ابھی پوری بات کی ہی نہیں تھی کہ احمر نے جھک کر اس کی بولتی بند کر دی تھی. .. دل الگ ہی زاویے پر دھڑک رہا تھا. …اس کے عمل میں ایک شدت تھی. … جیسے وہ آج بھی اپنی سالوں کی پیاس بجھا لے گا. ..
احمر. ..پیچھے. ..ہٹو. .. کافی دیر بعد ہونٹوں کو بخشتا … اپنے دہکتے ہونٹ اس کی گیلی شفاف گردن پر رکھ گیا تھا. … وہ آج سچ میں ہی ہوش میں نہیں لگ رہا تھا. .. مایا نے اسے دور کرنا چاہا مگر وہ کافی دیر بعد. .اپنی مرضی سے ہی. پیچھے ہٹا تھا. …
بس مایا. .. اب اور نہیں. ..اور دور نہیں رہ سکتا. …. آج میں کوئی بہانہ نہیں سنو گا. .. ہلکا سا اس کے کان کے پاس جهکتا جذبات سے بوجھل آواز میں خرگوشی کرتا. .. کان کی لو کو ہلکا سا اپنے ہونٹوں سے چھوتا. .. باہر نکل گیا. … وہ اب تک آنکھیں بند کر کے اس کی خوشبو محسوس کررہی تھی. … چہرہ لال ہورہا تھا. … دل مانوں باہر نکلنا چاہ رہا تھا. … شادی کے بعد پہلی بار اس نے احمر کا اتنا شدت بڑها انداز دیکھا تھا. …
♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥
ماہا ریڈ لہنگے میں. ..برائیڈل میک اپ کیے انتہائی خوبصورت لگ رہی تھی. .. وائیٹ کاٹن کا سوٹ پہنے اوپر بلیک جیکٹ پہن. … آریان کی خوبرو لگ رہا تھا. … وہ دونوں سٹیج پر بیٹھے ہوئے تھے. ….
مایا ایک. طرف سحر کے ساتھ کھڑی تھی. … پرپل ہاف بلائوزر ساڑھی..پہنے. .. پرپل ہی ہائی ہیل. … نفاست سے کیا میک اپ کیے وہ کافی اچھی لگ رہی تھی. ..
فارس. .. احمر …. مزمل ..ازمیر تینوں نے ایک جیسے ڈنر سوٹ پہنے ہوئے تھے. .. صرف کر الگ تھا. … فارس کا وائیٹ. .. جو اتفاق سے ہی عینا کے وائیٹ لانگ فراک سے میچ ہوگیا تھا. …. احمر نے. مایا کے ساتھ میچ کا رائل بلو ہی پہنا تھا. .. مزمل بھائی بلیک اور. .. ازمیر نے گرے کلر کا پہنا ہوا تھا. .. گود میں مومن کو اٹھائے وہ مزمل نپے بات کررہا تھا. ….
کیسی ہو. … عینا جو ابھی حبہ سے بات کررہی تھی حبہ کو مہوش نے بلایا وہ ادھر گئی تو. . وہ اب اسی کو دیکھ رہی تھی. … آسمانی رنگ کا گیر دار فراک پہنے. ..ہلکے پھلکے میک اپ میں وہ انتہائی خوبصورت لگ رہی تھی. .. وہ ابھی اسے ہی مسکرا کر دیکھ رہی تھی جب فارس نے اس کے سامنے آتے اسے گہری نظر سے دیکھتے ہوئے پوچھا. …
اچانک اس کے سامنے آجائے اور پهر اس کی نظروں سے وہ کنفیوز ہوئی تھی. …
م. .میں ٹھیک. … بالوں کی لٹ کو کان کے پیچھے کرتے ہوئے کہا تھا. …
ہممممم گڈ. …مجھ سے نہیں پوچھو گئ. … اس کی اڑری ہوئ رنگت کو دیکھتے تھوڑا شوخ ہوتے کہا. ..
کیسے ہیں. .. بروقت پوچھا تھا. ..
اچھا ہوں. … تمہیں تو ویسے بھی لگتا ہوں. … اسے وہاں سے کھسکنے کے چکر میں دیکھ چکا تھا. …
مجھے …. مجھے سحر بلا رہی ہے. .. میں آتی ہوں. …. وہ بس ابی یہاں سے غائب ہونآ چاہتی تھی. .. اسے آج فارس بدلا بدلا سا لگا تھا. …
ہممممم. .. اچھا. … ویسے اچھی لگ رہی ہو. … اس کے چہرے پر نظریں جمائے ہوئے کہا. ..
ارے کیا سین ان ہے. . ابھی عینا کچھ کہتی ہی کہ. تب ہی حبہ کی آواز پر دونوں مڑے تھے. ….
کچھ نہیں. …. بس ایسے ہی. … فارس سے پہلے ہی عینا بول پڑی موباادہ ہو کہیں کچھ بول ہی نہ دے. …
اچهااا. … حبہ نے ہنستے ہوئے کہا. ….
کچھ ہی دیر میں رخصتی کا شور اٹھا تھا. …..مزمل نے قرآن کے سائے میں اسے رخصت کیا تھا. … ایک بہن ہے گھر میں ہی تھی. .. دوسری کو دور کرتے ہوئے وہ کافی اداس تھا. …. ماہا آریان کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ گئی تھی. … ان کے ساتھ ہی. کی گاڑیاں نکلی تھی. ….
فارس نے بے اختیار اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرا تھا. … اس کا ہاتھ گیلا ہوا تھا. .. اسے پتا چلا ہی نہیں تھا. .کب. .کیسے. .. اس کی آنکھیں برس گئی تھی. … کچھ دیر ان آنسو کو دیکھنے کے بعد اس نے ٹشو سے صاف کر دیئے تھے. … وہ مان چکا تھا. .. قسمت میں ان کا ملنا لکھا ہی نہیں تھا. … نجانے دل ان سے کیوں ملتا ہے جن سے لکیریں نہیں ملتی. … آنسو صاف کرتے وہ سب سے ملتا باہر آگیا. … اور اب وہ اتنی محبت گهو کر کسی اور کی محبت مکمل کرنا چاہتا تھا. …..
♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥
افف توبہ میری تو بس اب. … ماہا نے بیڈ سے اٹھتے ہوئے کہا. …
وہ آریان کے کمرے میں بیٹھتی ہوئی تھی. . ابھی ہی مایا اور حبہ آٹھ کر گئ تھی ساتھ اور بھی کئی لڑکیاں تھی جو آریان کی کزنز تهی. .. اب ان کے اٹھتتے ہی ماہا اٹهی تهی. .. اتنا بھاری ڈرس اس نےپہلی پہنا تھا. …. تب ہی جلدی تهک گئی. …
ڈریسنگ کے سامنے جا کر پہلے ڈپٹہ اتار کر سٹانڈ پر رکھا … ابھی چوریاں اتار ہی ہی ہی کہ دروازہ کھلا اور بند ہوا …. ایک نظر پیچھے مڑ کر دیکھا تھا آریان کھڑا اسے ہی دیکھ رہا تھا. ….جانتا تھا کہ وہ روایتی بیویوں کی طرح کبھی اس کا انتظار نہیں کررہی ہو گی. ….
کیوں اتار رہی ہو، میں نے تو ابھی سہی سے دیکھا بهی نہیں. .. اس کے سامنے آتے اس کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا. ..
پلیزززز آریان اب تو اتارنے دوبہت تهک گئی ہوں میں. .. وہ سچ میں ہی تهک گئی تهی تو…
اچھا چلو میں اتارتا ہوں. .. کہنے ساتھ ہی اس کا ایک ایک کر کے سارا زیور اتار دیا. .. پهر پاکٹ سے ایک ڈبیا نکال کر اس میں سے ایک نفیس سا پینڈٹ آس گے گردن کی زینت بنایا تھا. .
خوبصورت ہے. .. اسے چھوتے وہ محبت سے بولی
اب زیادہ لگ رہا ہے. … خیر جاو تم جا کر چینج کر لو. .ل. اسے محبت سے سینے سے لگائے ماتھے پر محبت کی پہلی شدت بری مہر ثبت کرتے پیچھے ہوئے کہا. ….
اوکے مسکرا کر واڈروب سے اپنی نائیٹی لیتی واش روم چلی گئی تھی. …..
بیس منٹ بعد فرش فرش سی باہر آئی تهی. . لال سلک کی نائیٹی پہنے. .. بالوں کو جوڑے میں مقیم کیئے وہ اب ڈریسنگ کے سامنے کھڑی لوشن لگا رہی تھی. ..
آریان چینج کر کے ٹی شرٹ ٹرائوزر پہنے بیڈ پر لیٹا اسی کا انتظار کررہا تھا. .. وہ اس کی یک ایک حرکت نوٹ کررہا تھا. .. اسے اپنے کمرے میں اپنی بیوی کے روپ میں دیکھ کر وہ بہت خوش تھا. … دل سجدہ کرنے کو چاہ رہا تھا. … مگر وہ یہ بھی جانتا تھا کہ وہ اب بھی فارس کے لیے فیلنگز رکھتی تهی. .. یہ بات اس کا دل دکھاتی تهی. …مگر وہ جانتا تھا کہ ایک دن آئے گا جب وہ فارس کو مکمل بهلا دے گی. .. اس سے محبت کرے گی صرف اس سے. …
ماہا آکر اس کےساته ہی بیڈ پر لیٹ گئی تھی. … اس کو بیڈ کی طرف آتا دیکھ کر وہ ہوش میں آیا تھا. ….
یہ. .کیا کررہے ہو آریان. … آریان کے آگے بڑھ کر اس کے قریب ہوتا اس کا سر اپنے کندھے پر رکھ دیا تھا. .. ایک سکون پورے وجود میں پھیلا تھا. .. وہی ماہا کے دل کی دھڑکن اتھل پهتل ہوئی تھی. ….
تم نے ایک دفعہ پوچھا تھا. .کہ بچپن میں ہی میں بہت شرارتی ہوا کرتا تھا اب اتنا سنجیدہ کیوں ہوگیا. … اس پر اپنا گھیرا تنگ کرتا بولا تھا. …
ماہا. …مجھے تم لوگوں کی جدائی نے ایسا بنا دیا تھا. …
بارہ سال میں تم لوگوں کے ساتھ رہا تھا. .. ہر وقت … ہر الٹا کام ہم مل کر کرتے تھے. … ر وقت ساتھ رہتے. .، پهر اچانک تم لوگ کہیں چلے گئے. … میں بہت رویا تھا. .. بہت بیمار رہا، …. بہت یاد کرتا تھا تم تینوں کو. … میرا تو تم تینوں کے علاوہ کوئی دوست بهی نہی تھا. … پهر جب تم لوگ واپس نہیں آئے تو میں ایسا ہوگیا. .. کسی کو دوست نہیں بنایا پهر. … تم تینوں پر دوستی ختم کردی…مجھے یقین تھا کہ تم لوگ ملو گے مجھے ایک دن. … اس سب میں مجھے تم سب سے زیادہ یاد آتی تهی. … تمہارا بات بات پر خفا ہوانا. . ضد کرنا. .. سب بہت یاد آتا تھا. … بہت روتا تھا. .. پهر جب تھوڑا بڑا ہوا تو میں نے خود ہی اپنے اس جذبے کو محبت کا نام دے دیا تھا. …مجھے لگا کہ اب تمہارا ملا میرے لیے ضروری ہوگیا ہے. .. میں خدا سے تمہیں مانگتا تھا. … یہ سوچ سوچ کر میں مرتا تھا کہ کہیں تم کسی اور کی نہ ہوجاوں. .. کہیں کسی اور سے محبت نہ کر بیٹھو. .. یہ سوچ کر ڈرتا تھا کہ جب میں تمہارے سامنے آو تو تم مجھے پہچان نا پاو. ..پهر مجھے تم ملی. .امریکہ میں. .. میں تمہیں پہلی نظر میں ہی پہچان گیا تھا. .. مگر تم نے نہیں پہچانا. ..مجھے دکھ ہوا تھا. …مگر یہ سوچ کر کہ تم تب ٹینس تهی. .. خود کو تسلی دی. .. جان سے میں گیا تھا تمہیں پهر بهی تسلی کے لیے میں نے تمہارا سارا ڈیٹا نکلوایا. . تب کوئی شک بچا ہی نہیں تھا. …پهر تمہیں دیکھ کر تمہارے لیے محبت اور بڑه گئ. .. … وہ گهو ئے گهو ئے لہجے میں بولتا جا رہا تھا. .. ماہا اس کے سینے پر سر رکهے اسے سن رہی تھی. ..
میں نا ملتی. ..تو کسی سے محبت نا کرتے یا آگے بڑھ جاتے. ..؟؟ اسے خاموش دیکھ کر دل میں آتا سوال زبان پر لے آئی تھی. …
آریان بولنا چاہتا تھا کہ. ..کیا فارس نہیں ملا تو وہ اسکا روگ لگا بیٹهی. .. فارس جو اسسے انتہا کی محبت کرتا ہے. .کیا وہ اپنی زندگی اس کی یادوں میں گزار دے گا. .. بولنا چاہتا تھا کہ. . ازمیر نے مایا نے محبت ہوتے ہوئے کیوں سحر سے شادی کر لی اس کے کہنے پر. .. اس پر اپنی زندگی ختم کیوں نا کردی. … بولنا چاہتا تھا کہ مزمل اپنی محبت کو اپنی بانہوں میں مرتا دیکھ کر مر کیوں نہیں گیا. … کیوں آگے بڑھ گیا. .. جب اپنی محبت تو اپنی وجہ سے مرتا دیکھا تو اب خوش کیوں رہ رہا ہے. … مگر وہ بولا نہیں. . وہ اب پرانی باتیں یاد نہیں کرنا چاہتا تھا. ..
ماہا ہماری زندگی صدف ہماری نہیں ہوتی. .. ہم سے جڑے لوگوں کی بهی ہوتی ہے. ….اور ہم خود مر کر. ..خود کے جذبات مار کر. .خوشیاں جلا کر. .. خوابوں کو دل میں ہی دفن کر کے اپنوں کے لیے زندہ رہتے ہیں. … نام کے زندہ. .. مجھے پہلے ہی یقین ہے کہ تم مجھے مل جاو گی. .. اگر نا بهی ملتی تو. ..میں تمہیں دل میں ہی دفنا کر ..خود کو مار کر. ..زندہ رہتا. .. اپنی موم کے لیے. . ڈیڈ کے لیے. . حبہ کے لیے. . ان کے لیے ایک مجھے خوش دیکھنا چاہتے ہیں. .. تم سے میری محبت ختم نا ہوتی. ..مگر وہ محبت محبت بهی نا رہتی. … ماہا ہر بچھڑنے والا بیوفا نہیں ہوتا. .. کسی کسی کو مجبوریاں بهی لے ڈوبتی ہے. …کوئی اپنوں کے لیے اپنا چھوڑ جاتا ہے. .. کوئی وفا کرتے ہوئے بی بیوفا کہلاتا ہے. .. مجبور کو مجبور کی مجبوریاں مجبور کردیتی ہیں. .. اور وہ مجبور پهر بیوفا کہلاتا ہے. .. تمہیں زیادہ سمجھانا نہیں پڑے گا ماہا آریان. . تمہارے سامنے پیش کئی زندہ لاشیں. . زندہ مثال ہیں. … چهت کو گھورتا. .. وہ سچ گوئی سے بولا تھا. …
جواب میں ماہا کچھ نہیں بولی تهی. … خاموش ہوکر سکون سے آنکھیں موند گئی تھی. ..مگر صرف کچھ سیکنڈ ہی آنکھیں بند کرتے ہیں فارس کو خوبرو چہرہ اس کے سامنے آیا شکوہ کرتی ہوئی ہوئی آنکھیں. .. دل میں ایک ٹیس اٹهی تهی. … آریان کے گرد مضبوطی سے بازو باندھ دیئے. … سکون سے آریان نے بهی آنکھیں موند لیں ..وہ ابھی ماہا پر. .کوئی مزہ داری نہیں ڈالنا چاہتا تھا. . تب تک اس بلکل نہیں جب تک اس کے دل میں فارس تھا. ….
جہاں کئی محبت کی کہانیاں پوری ہوئی تهی. … وہیں کئی کے حصے میں سمجھوتا لکھا گیا تھا. .. کوئی بہت خوش تھا تو کوئی. … دوسروں کو خوش رکھے کے لیے جھوٹا مسکرا رہا تھا. .. کوئی محبت کو پا کر سرشار تھا. ..تو کوئی خوابوں کو خاکسر کیئے. ..پرانی محبت کو دل میں دفن کییے. .. اپنی محبت کا گلہ گهونٹے. .. کسی دوسرے کی محبت مکمل کر گیا تھا. … خود کو ادھورا چهوڑے. ..
کتاب زندگی کا ایک اور باب ختم ہوا
شباب ختم ہوا، ایک عذاب ختم ہوا. ..
ختم شد
