62.3K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 16

مزمل اسے معافی مانگنے گیا بھی تھا. ..مگر قسمت میں شاید تب نہیں تھا. .. مگر اب ….. اب تو شاید کبھی نہیں. … اس کے ہاتھ سے دیا کا لاکٹ نیچے گرا تھا. …..جو کب سے اس نے مٹهی میں بند کیا ہوا تھا. …. آنکھوں کے سامنے سارا منظر دھندلا سا تھا. ..کچھ واضح نہیں تھا. …بلکل اس کی زندگی کی طرح. ….
وہاں پر چھائے سکوت کو ایک دل خراش چینخ نے توڑا. ….. جانی پہچانی … بہت اپنی آواز. ..
آہہہہہہہہہہہ….. سب کی نگاہیں ایک ساتھ. …. آواز کی سمت اٹهی. …اور پلٹنا بھول گئی. …. آج ہی کی رات ایک اور قیامت لے آئی. ….. مزمل سب سے پہلے ہوش میں آیا. …. سیڑھیوں کی جانب باگا. … پهر. ..احمر. ..ساتھ ہی ازمیر بھی. …. فارس جان لبوں پر آئی ہوئی تھی. …. بے یقینی …حیرت سے سامنے خون میں لت پت پرہی ہیر کو دیکھ رہا تھا. ….
ماہا. …. مزمل سے اس کے سامنے نیچے بیٹھتے اس کا سر گود میں رکھا. … … وہ. …. مزمل. … میں. …ن نے. …موم. ….. وہ کچھ بولنا چاہ رہی تھی. .مگر درد کی بهڑتی شدت سے بہوش ہو گئی. …سر سے بہت خون بہہ رہا تھا. … چہرہ خون سے رنگ رہا تھا. ….. تب تک. .. ڈاکٹر نرس … واڈ بوائے اس کے پاس جمع ہوگئے. ….
سب نے مل کر اس کے خون سے رنگے وجود کو سٹریچر پر ڈالا تھا. …پھر اسے ایمرجنسی میں لے گئے. …. مزمل کی آنکھوں سے اب آنسو. .. لگاتار بہہ رہے تھے. … پہلے وہ مجبور تھا ….دیا کے لیے کس حق سے روتا اب ماہا کے بہانے سارا دکھ نکال رہا تھا. ….
دیکھا جو آج خود کو تو سکتے میں آگیا. ..
کتنا دلیر شخص تها جو بکهر گیا. …
نجانے ماہا نے کیا دیکھ لیا جو اتنا ڈری ہوئی لگ رہی تھی. … وہ سوچ بھی نہ سکا. …..فارس فرش پر بیٹھا. ….. ٹائیلز کو گھور رہا تھا. …. جیسے سب سے ضروری ہوہی ہو. ……. ازمیر بظاہر تو مزمل کو حوصلہ دے رہا تھا…..مگر دماغ کسی گہری سوچ میں گم تھا. … اس نے مایا کو خود باہر جاتا دیکھا تها. … اور اس کے کپڑے بھی تو الگ تھے اس لڑکی سے. ….دس منٹ ہی گزرے تھے اتنا جلدی وہ چینج کر کے اوپر تو نہیں پہنچ سکتی تھی. … پهر. … کون تھی. …. کیا ہو رہا تھا. … … کیا ہوگیا تھا. … کچھ دیر پہلے تو سب ٹھیک تھا. …. اور اب سب کیا ہوگیا تھا. … احمر کچھ سوچتا. ..باہر باگا تها. ….
تو جانتا نہیں مگر. ..میرا ساتھ چھوڑ کر. .
تو نے اپنے ساتھ بھی اچھا نہیں کیا. …
رات کے 2 بج رہے تھے. ….. ا، امریکہ کے شہر میسسپی میں ایک شاندار ہوٹل کے ایک کمرے میں وہ. …. کسی کال گرل کے ساتھ مصروف تها. … کافی نازبینا حالت میں. …… ایک ہوس مٹا رہا تھا. .. دوسرا پیسے کے لیے. …. امریکہ جیسے آزاد ملک میں. ….. کئی لوگوں کا کمانے کا وسیلہ جسم فروشی تها. … اور وہ باخوبی انجام دیتے تھے. …..
وہ ابھی نشے میں تها. .. جب فون روز زور سے بجا. …. اس کے چہرے کے نقش بگڑے تھے. …. شاید آنہییں پسند نہیں آیا تھا. …. ابھی فون کا بجنا تب ہی اس عورت سے ہٹ کر موبائل اٹھا کر کال کاٹ دی. …. دیکھنے کی زحمت نہیں کی کی کس کی تھی. …. موبائل رکھ کر دوبارہ اپنی سابقہ حالت میں چلا گیا. …..
مگر دوسرا بھی ڈهیٹ تها جب ہی بار بار کال کررہا تھا. ……
انہوں نے بے زاریت سے موبائل اٹھا کر دیکھا تها. ….. انہیں شدید جھٹکا …. ٹائم دیکھا تو دو بج رہے. ……انہیں پریشانی ہوئی تھی کیونکہ کال فارس کی تھی. … اور وہ نارملی کبھی انہیں کال نہیں کرتا تھا. …. جب بھی کرتا کوئی دھماکا ہی کرتا تها. … وہ عورت اٹه کر اب صدیق خان سے چمٹ گئی تھی شاید اسے کچھ دیر کی دوری بھی پسند نہیں آئی تھی. ….
ک کیا. ……م م مگر کیسے. …. ا اور ..م میرا. ..بچہ. …. دیا. … وہ کچھ بول بھی نہیں سک رہے تھے. ….. عین توقع دمهاکا ہی ہوا تھا. …. . ….، وہ سکتے میں تھے. ..کیا بولتے. … کال کٹ گئی تھی. … وہ ایک دم ہوش میں آئے اس عورت کے جھٹکے سے دور کیا اپنے کپڑے پہن کر واش روم گئے. …. کچھ دیر میں ہی واپس آ ئے اور باہر نکل گئے. …. کال کر کے انہوں نے کچھ دیر کی ارجنٹ فلائیٹ بک کروا لی تھی. … پیچھے لڑکی بے زاری سے دوبارہ لیٹ گئی اس کی رات کو خراب ہوگئی تھی. …. مگر پیسے پہلے ہی مل گئے تھے تب ہی کچھ کر نہ سکی. … اپنے باپ کی عمر کے مرد کے ساتھ. …. اسے کوی شرم نہیں آئی. …. اس کے لیے یہ کوئی بات تھی ہی نہیں. ……….
کدھر ہیں. ..؟؟؟ مایا نے ہاسپٹل کے لان میں موجود بینچ پر بیٹھتے ہوئے سحر سے کہا جو کھڑی تھی. … …
سیف ہیں. .. ڈونٹ وری. … مختصر جواب دے کر وہ بھی خاموش ہوگئی. ….
ہمممممم. … مایا نے گہرا سانس کهنچتے ہوئے کہا. … اچانک اس کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا. …… چھٹی حس. .. کچھ غلط ہونے کا اعلان کررہی تھی. …. مگر وہ خاموشی سے نظرانداز کررہی تھی. …..
واپس کب بهجنا ہے…. سحر نے کچھ سوچتے ہوئے پوچا. ….
تین دن بعد. …. مختصر جواب دیا تھا. …. سٹاپ چہرہ. ….
ہمممممم چلوو. … یہ ماہا کدھر ہے 3 بجے کی فلائیٹ ہے اسکی لیٹ ہوجائے گی. … سحر ادھر ادھر دیکھتی بولی تھی. …
ماہییی. …… مایا کوئی جواب دیتی تب ہی احمر تقریباً بھاگتا ہوا ان کے پاس آیا. …. چہرے کا رنگ فقت تها. …
کیا ہوا ہے احمر اس ایوری تهنگ اوکے. …. مایا نے کھڑے ہوتے پوچھا. …. دل اور زوروں سے دھڑک رہا تھا. ….
نوووو. .. ماہی. … کچھ بھی نہیں ہے ٹھیک. …. تم جاؤ بس. .. سحر تم اسے لے کر جاو ….جب تک میرے یا مزمل کی کال نہ آئے گھر سے باہر نہ نکلنا. …. احمر نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے کہا. ..
مگر کیوں. …. میں ابھی ادھر ہی ہوں. ….مایا نے ضدی لہجے میں کہا. …
یار ماہی سیڑھیوں سے گر گئی ہے آئی سی یو میں ہے. ….، اندر فارس اور ازمیر بھی ہیں انہوں نے اسے دیکھا گرتے وہ دونوں اسے ہیر سمجھ رہے ہیں. … اب جاو. .. احمر کے جارہا تها. … مایا حیرت. ..و غم سے اسے دیکھ رہی تھی. ….. ابھی کچھ دیر پہلے ہی ماہا سے ملی تھی. …..
ک کیسے گری. .. اور کیسی ہے. … اسے اپنی ہی آواز کہیں دور سے آتی محسوس ہوئی تھی. .. سحر بھی ہونقوں کی طرح احمر کو دیکھ رہی تھی. ….
ابھی تک کچھ نہیں کہا ڈاکٹر نے. …. تم لوگ دعا کرو. …. وہ ٹھیک ہوجائے گی. … کنڈیشن میں کیریکٹل ہے. …. سر پر لگی ہے اور خون بھی بہہ گیا. .. احمر کچھ چھپانا نہیں چاہتا تھا تب ہی سچ بتایا. ….
اووووو گاڈڈڈڈ. …یہ کیسےے. … مایا کی آنکھیں شدت سے لال ہو رہی تھی …. آواز روند گئی تھی. …کیا بولتی وہ. ..کچھ تها ہی کب. …. ساری زندگی. … تو تکلیف ہی ملی تھی. … اس نے کہا گلہ کرنا بھی چھوڑ دیا تھا. ….. مگر پهر بھی اس کا دل آج شدت سے. .. خدا سے گلہ کررہا تھا. …. اسے نہیں پتا تھا. .. کب اسے سحر نے لاکر گاڑی میں بیٹھایا تها. ..کب گاڑی چلی. …. اسے شدت سے. … ماہا کا ضدی چہرہ. .. انداز یاد آرہا تها. ……
پیچھے احمر گہری سانس لیتا اندر کی طرف بڑھ گیا. …..
بیشک بچوں کی طرح ڈانٹ لے کوئی. ..
مگر شرط یہ ہے میرا درد بانٹ لے کوئی. ..
آگلی صبح روشن ہوگئی تھی. …مگر مزمل ازمیر. .. احمر ابھی تک ہاسپٹل میں تھے. … جبکہ فارس صدیق خان کے ساتھ مل کر ڈیڈ باڈیز لے گیا تھا. ….صدیق خان تو …. سوچ سوچ کر پاگل ہورہے تھے کس نے انہیں تیزاب پھینک کر جلایا تها. …. اس سے پہلے. .. گولیوں سے بھی مارا گیا تھا. …. چہرہ کسی کا بھی پہچاننے نہیں ہورہا تھا. ….. مگر ڈی ان اے نے پروف کردیا تها. …. فارس کو تو. ..چپ ہی لگ گئی تھی. …. اس سے کئی گھنٹوں سے منہ نہیں ہلایا تها. … نہ کچھ بولا نہ کھایا پیا. ….. وہ ایک ہی باپ سوچ رہا تھا. … کہ. …. اس سب کا زمیدار کون ہے. …. وہ خود. … صدیق خان. … یا. ….یا پھر اس کا عشق. .. اس کی محبت جو خود. ..موت اور زندگی کی جنگ میں تھی. …کون وجہ بنا اس کی ماں اور جان سے پیاری بہن کی. …. مگر جواب دینے والا کوئی تها ہی نہیں. ….. ہیر کا سوچتے اس کا دل کانپ رہا تھا. … اگر وہ ہوئی توکیا وہ اسے سزا سے سکے گا. ……؟؟؟…. یا صدیق خان بھی ہوا تو کیا اپنے باپ کو سزا دے سکے گا …؟ … یقیناً نہیں. …. نہیں دے سکتا. .. ایک طرف. ..باپ. … بیشک جیسا بھی تها. … تها تو پاپ ہی. …. دوسری طرف ہیر. …. اس کا عشق. …. وقت نے اسے کہاں لا کر مارا تها. ….. سر اس کا درد سے پھٹ رہا تها. …. صدیق خان پولیس کے ساتھ تھے. … یہ بات تو واضح ہوگئی تھی. …. قتل لڑکی نے ہی کیا تها. …. اور فارس اس کی نیلی آنکھوں سے پہچان چکا تها. …. مگر. …ابھی ثبوت نہیں تها. … تو خاموش تها. … ثبوت مل بھی جاتا تو کیا کر لیتا. …….
صدائیں دیتے ہوئے. .. خاک اڑاتے ہوئے
میں اپنے آپ سے گزرا ہوں تجھ تک آتے ہوئے
پھر اس کے بعد زمانے نے روند دیا مجھے
میں گر پڑا تھا کسی اور کو اٹھاتے ہوئے.
پھر کہانی ختم ہوئی اور ایسی ختم ہوئی
لوگ رونے لگے تالیاں بجاتے ہوئے
اگر ملے بھی تو ملتا ہے رستے میں. . فارس
کہیں سے آتے ہوئے ت کہیں جاتے ہوئے
دیا اور فوزیہ بیگم کو دفنا دیا گیا تها. ….تب سے وہ لائونچ میں صوفے پر پڑا تھا. ….
اور اگر مجھے زرہ بھی موقع ملا تو میں تمہاری فیملی کو ہی ختم کردوں. ….. ہیر کی آواز اس کے کانوں میں گونجتی تھی. ….کرب سے آنکھیں میچ لی تھی. … کئی آنسو ٹوٹ کر گرے تھے. … ..
نہیں ہیر. … اگر یہ تم نے کیا تو تمہیں اس کی سزا ملے گی. … اس نے ازیت سے سوچا تها. …
مگررر اگر تمہیں کچھ ہوگیا تو. … اگر میں تم سے مل کر نہ سکا تو. …. اس کا دل کامپا تها. …. وہ یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا. ….. مگر وہ اپنی ماں اور دیا کے قاتل کو بھی نہیں چھوڑنا چاہتا تها. …. اس کا دماغ شل ہورہا تها. …. جیسے ابھی پهٹ جائے گا. …. دل زور زور سے دھڑک رہا تھا. ….. جیسے ابھی باہر آجائے گا. ….کہیں دور دل دعائیں کررہا تها. … اس سب میں ہیر کا کوئی ہاتھ نہ ہو. … وہ اس کا وہم وہ. ….. دل دعائیں کررہا تها. … اس کی محبت اس سے نہ چهنے. … اس کا عشق اتنا کم ضرف نہ ہو. ….. اس کا سکون بے سکونی میں نہ بدلے. …خیر وہ پہلے بھی اسے ٹهکڑا چکی تھی. … چھوڑ گئی تھی. … مگر. …مگر ایک امید تھی. … ایک بهرم تها …. وہ نہیں چاہتا تھا. .. وہ ٹوٹ جائے. …. اس نے سوچ لیا تھا. … وہ اب اپنے باپ سے پوچھے گا. …ب سب جو اس سے چھپا تها. …. جو ہیر نے کہا تھا. .. کیا وہ سچ تها. ….
اس نے باپ کو ڈھونڈتے نظریں گمائی تھی مگر وہ نہی تها. ….
غم کا مجھے ہے سامنا، تم کیوں چلے گئے؟
تم نے تھا ہاتھ تھامنا، تم کیوں چلے گئے؟
سمجھانا پڑ رہا ہے ان آنکھوں کو اب مجھے
چھپ چھپ کے کس کو دیکھنا، تم کیوں چلے گئے؟
میں نے تو دے دیا تھا ناں، جیون تمہارے ہاتھ
تم خود کبھی یہ سوچنا، تم کیوں چلے گئے؟
تم خوش رہو، جہاں بھی رہو اور رہو بلند
کیا اور اس پہ سوچنا، تم کیوں چلے گئے
کرنا نہیں ہے پوچھ کے بیزار اب تمہیں
تم سے نہیں یہ پوچھنا، تم کیوں چلے گئے؟
میری اذیتوں کا تمہیں بھی پتا چلے
تم بھی کسی سے پوچھنا، “تم کیوں چلے گئے؟”
اے کاش اس کو چھوڑ کے جائے نہ کوئی زین
اس کو پڑے نہ بولنا، “تم کیوں چلے گئے
مایا تم ٹینشن نہ لو سب ٹھیک ہوجائے گا. …سحر نے مایا کے کہا تو جو رات سے کافی پریشان تھی. …. ایک تو ماہا کو ہوش نہیں آرا تھا. .. دوسرا آج رات کو ہی ثاقب صاحب اور خدیجہ بیگم واپس ارہے تھے انہیں پتا چل گیا تھا. …. چھپانے کی کوشش کی کی تھی مگر پتا نہیں کس نے بتا دیا تھا. … وہ کافی غصہ اور پریشان تھے. …. مسحر مایا کے ساتھ ہی تی رات سے. … اب صبح ہوئی تھی مگر وہ اب بھی رات والے حولیے میں تھی. ….
یار ….. اچھا چلو آو ناشتہ کرو پھر تم ہاسپٹل جانا مجھے آج آفس جان ہے …. کل بڑے بابا بھی آجائیں گے مجھے اس سے پہلے کچھ کام ہیں. … ان کے جانے کے بعد تو ہم نے بہت سے تبدیلیاں کی تھی …. اب وہ سب ٹھیک کرنا ہے. …. اوپر سے ماہا کی ٹینشن. … مجھے تو سمجھ نہیں آرمی کہ وہ کس کو دیکھ کر آتنا ڈر گئی تھی. … سیکنڈ فلور پر جو ڈاکٹر تھے وہ بھی کچھ نہیں جانتے. … ان کا بھی یہی کہنا ہے وہ چیخی تھی اور پھر الٹے قدم واپس باگی اس سے پہلے کوئی پکڑتا. … وہ گر گئی. … اب وہ ہوش میں آئے تو ہی کچھ پتا چلے. …. مایا کافی پریشان تھی ساتھ ہی حیران کہ ماہا نے کبھی ایسی کوئی حرکت نہیں کی. … اتنی بچپنا حرکت. .. اور ایسا دیکھ بھی کیا لیا. … جس کے بعد اسے یہ بھی نہیں یاد رہا کہ نیچے. .. فارس ازمیر ہیں اور مایا بھی ہے. … وہ پھر کیوں نیچے کی طرف باگ رہی تھی. ….. مگر جواب ماہا کے پا تھا جو ابھی تک ہوش میں نہیں آئی تھی. …. ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ. .. سر پر گہری چوٹ لگی تھی. .. اور خون بھی کافی بہہ گیا تھا. …. 24 گھنٹے میں ہوش آنا لازمی تھا. .. اور 9 گھنٹے گزر گئے تھے. … ازمیر احمر. .. اور مزمل رات سے ادھر ہی تھے. … احمر نے ازمیر کو بهجننا چاہا مگر وہ منع کر چکا تھا. … اس کے دماغ میں کئی سوال تھے جن کا جواب یا پھر ہیر دے سکتی تھی یا سحر. … ایک بہوش تھی. … اور دوسری غائب. … وہ حیران تھا. … سحر کی دوستی تھی ہیر سے پھر کدھر تھی وہ. …. ..
ماہی سب تو ٹھیک ہے، مگر اگر ازمیر بھی آفس آگیا یا اسنے یا فارس نے تمہیں دیکھ لیا تو. … وہ دونوں جانتے ہیں. … ہیر ہاسٹلائیز ہے. … بہوش ہے. .. تمہیں ایسے دیکھ لیا. تو مسئلہ ہوسکتا ہے. …. تم ایسا کرو جو بی کام ہے مجھے بتاؤ میں کر دوں گی. …. یا احمر کو بول دوں گی … ویسے بھی ہاسپٹل جا ت رہی ہوں. ….. وہ دونوں چلتی ہوئی ڈائینگ ٹیبل تک آگئی تھی. … سحر کو مایا نے اپنے. .. نئے کپڑے دیئے تھے. …. بلو جینز. … ریڈ شرٹ. …. بلو اوور کوٹ. .. بلو ہی سینکر شوز پہنے. .. بالوں کو جهوڑے میں بهندے. … کو صبح سے تیار تھی. .. ہاسپٹل جانے کے لیے. .. اس نے منع کیا تھا کہ وہ ہوٹل جا کر کر لے گی چینج. ..مگر مایا کی ضد پر وہ ادھر ہی فریش ہوگئی تھی. …. مایا ریڈ لانگ نائٹ گائون پہنے بالوں کو کیچر میں بهندے اب ناشہ کرنے بیٹھ گئی تھی. ….
نہیں فارس کو تو ابھی اتنا ہوش ہی نہیں ہوگا. … موم اور بہن کی جھوٹی موت انجوائے کررہا ہو گا. …. اور ازمیر وہ بھی آج تو آفس نہیں آئے گا. … آ بھی گیا تو تم ادھر ہو گی نہ مجھے ٹیکس کردیا. …میں الرٹ ہوجاوں گی. .. ویسے مجھے سمجھ نہیں آئی. .. ازمیر واپس کیوں آیا. ..؟؟؟ اس کی کمپنی کے ساتھ خود دو مہینے کا کانٹرلٹ سائین کیا تھا. .. وہ تو دو دن پہلے ہی پورا ہوگیا. … اس کا سیکرٹری تھا. .. اس نے ہینڈل کردیا. … پتا نہیں اب کیوں آیا. … اور ٹینشن نہ لو میں ماسک وغیرہ پہن لوں گی …. مسئلہ نہیں ہوگا. …. اور پھر اسلم ملک اور صدیق خان کو بھی دیکھنا ہے. ….. آج ایک اور پتا پهنکتے ہیں دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے پھر. …. مایا نے ناشتہ کرتے ساتھ ساتھ اسے بھی جواب دیا تھا. …
ہممم چلو سہی ہے. .جیسے مرضی تمہاری. …. تهورا خیال کرنا. … تم ماسک چھوڑو. … سی سی ٹی فوٹیج میں تم نظر آئی ہو. … ابھی کیس کافی گرم ہے. … کوئی بھی پہچان سکتا ہے. … میں تو کہتی ہوں. .یہ تم نے بیوقوفی کی ہے. … زرا سا بھی ثبوت نہیں چھوڑنا چاہیے تھا. …. تم کیوں تم نے جان کے کیا. … سحر اورنج جوس کا گلاس لبوں سے لگا کر چیئر مین لیٹ لگا کر بیٹھ گئی تھی. …. ساتھ ہی اس سے اس کی بیوقوفی پر سوال کیا. …
یار دکھو میں چاہتی ہوں کہ اسے اتنا پتا چل جائے یہ سب کوئی لڑکی کررہی ہے. .. اور اب تک اس نے دیکھ لیا ہوگا. … فکر نہ کرو وہ مسئلہ نہیں کرے گا. … بلکہ اب تم جاؤ ..ماہا کا بھی بتاؤ. .. احمر ت فون نہیں اٹھا رہا. .. اور ناشتہ لے کر جانا احمر زیادہ باہر کا نہیں کھاتا. ….. مایا نے چائے پیتے ساتھ ساتھ اس بتایا تھا. .جو اب تھوڑی مطمئن تھی. ….
ہمم اوکے ٹیک کیئر. …. سحر نے اٹھتے ہوئے کہا. … پھر وہاں سے اٹھ کر باہر نکل گئی. ….پیچھے مایا اب بھی ناشتہ ہی کررہی تھی. …
وہ بے وجہ ہی سڑک پر چل رہا تها. ….. کافی ٹائم ہوگیا تها وہ صبح ہی گھر سے نکل آیا تها. …. گھر سے اسے اپنی چہیتی بیٹی نظر ارہی تھی. ..ابھی تک اسے یقین نہیں آرا تها. …کہ دیا اور فوزیہ بیگم مر چکی تھی. … ابھی تک دیا نے کچھ دیکھا بھی نہیں تھا پھر کیسے. …. فارس بھی ایک لفظ ان سے نہیں بولا تها. … ان کا دل کررہا تها اونچا اونچا چیخ کر روئے. …. دل درد سے کامپ رہا تها. … مگر وہ ایک مرد تها. ..پھر کیسے روتا. …… ضبط سے آنکھیں لال ہوئی تھی. ….. وہ اب کافی ویرانی جگہ پر آئے تھے. …. آبادی سے ہٹ کر یہ جگہ تھی. … کہیں اکا دکا گاڑیاں ہی گزر رہی تھی. ……. وہ خاموشی سے چل رہے تھے. … وہ بے دھیانی میں چل رہا تها جب اسے اپنے سر کے پیچھے کچھ محسوس ہوئی. … وہ جلدی سے پلٹے تھے. …… سامنے کھڑی لڑکی ان کے پر پسٹل لے کر کھڑی تھی. …..ان کے پسینے چھوٹے تھے. … ادھر ادھر دیکھا تها اسے احساس ہوا تها وہ بہت دور آئے تھے اب مصیبت میں پھنس گئے تھے. …
ک کون ہو. …تم اسکا جائزہ لیتے روسی زبان میں کہا تھا. ….
وائیٹ شرٹ. .وائیٹ جینز. … بلیک لیدر کی جیکٹ. .. بلیک ہی سینکر شوز پینے. … چہرے پر بلیک ہی ماسک پہنے. …. وائیٹ کیپ. … بالوں کو ہائی پونی میں بهندے. .. وہ نڈر سی اس کے سامنے کھڑی تھی. ….. گاگلز ناک کی نوک پر رکھی ہوئی تھی. …جس کی وجہ سے پورے چہرے پر صرف برائوں آنکھیں ہی نظر اہی تھی. …
میں نے پوچھا. ..کون ہو. ..کیا چاہتی ہو. …. دیکھو لڑکی. .. تمہیں پیسے چائیں تو میں دے دوں گا بس چھوڑو مجھے. …. صدیق خان نے اسے ڈرانے کے ساتھ ساتھ. اسے پیسوں کی آفر بھی کی تھی. .. ان کے خیال سے وہ لڑکی پیسوں کے لیے ہی کررہی تھی. …. اور امریکہ میں یہ ایک عام سی بات تھی. ..وہ ہنوز خاموش تھی. …. صرف منہ ہل رہا تھا. .. شاید وہی ببل کها رہی تھی. ..جبھی. ..
دیکھو. .لڑکی. ….تم مجھے جانتی…… وہ ابھی کچھ بولتا کہ مقابل نے اسے ٹوک دیا. ….
صدیق خان. …. ہاں نا …….!؟ …جتنا جانتی ہوں میں تمہیں میں وہی کافی ہے. اس سے زیادہ تم جیسے شخص کو جاننا چاہتی بھی نہیں. … …. اور کون ہوں ….؟ تو وہ چھوڑو تم. …. میں نے کسی کے لئے کام کرتی ہوں. …. تمہیں کسی سے ملوانا ہے. …. اور پیسوں کی آفر ہی کرتے رہا تم جیسےلوگ. … ایک پیسہ ہی ہے وہ بھی حرام کا. ..، ہر الیگل کام کرتے ہو. …. بہت جلد بھگتنے والے ہو. …. عینا نے تمسخر اڑانے والے انداز میں کہا تها. … صدیق خان کا رنگ فقت ہوا تها. … عینا نے اپنا پسٹل اس کے کهندے پر رکھ کر پش کیا تها وہ خود ڈر کر پیچھے ہوا تها. ..کسی سے زور سے ٹکرایا تھا. …پیچھے مڑ کر دیکھا تو. … 7، 8 لوگ تھے… جن میں 5 تو کالے حبشی تھے. …. وہ سہی معنوں میں ڈرے تھے. …وہ آئے گی اسے تو محسوس ہی نہیں تھا. ….
لے جاو. ..عینا نے انہیں. روسی دبان میں کہا تها. .. ان میں سے ایک نے ایک دوائی اس کے بازو میں آبجیکٹ کی تی ساتھ ہی اسے گھسیٹے گاڑی میں پٹخ کر گاڑی بگا کر لے گئے. ..2 گاڑیاں چلی گئی تھی اب تھوڑی دور. .. بلیک مرساڈیڈ کھڑی تھی. … عینا اس کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑی ہوگئی تھی. …. کافی دیر پسٹل دیکھی رہی پهر کیپ اور ماسک اتار کر گاڑی میں پھیکا تها. … جود ادھر ہی کھڑی ہوگئی تھی. … رات کو 4 بجے ہی اسے سحر کا کال آئی تھی اور ارجنٹ آنے کا کہا تھا. … ٹکٹ وہ بک کروا چکی تھی. … ادھر آکر وہ سحر سے تو نہیں مل سکی تھی. .. ہاں البتہ اسے سحر کے خاص بندے. ..راہل نے سب سجها دیا تها. …پهر سحر سے بات بھی ہوگئی تھی. … تو اس نے سحر کے کہنے پر ہی صدیق خان کو کڈنیپ کیا تها. ……وہ اب بھی کھڑی سامنے دیکھ رہی. …. ہوا سے پونی ہل رہی تھی. … وہ ایک مکمل پرکشش لڑکی تھی. … کوئی بھی اس کی تمنا کرسکتے تها. ….
صدائیں دیتے ہوئے. .. خاک اڑاتے ہوئے
میں اپنے آپ سے گزرا ہوں تجھ تک آتے ہوئے
پھر اس کے بعد زمانے نے روند دیا مجھے
میں گر پڑا تھا کسی اور کو اٹھاتے ہوئے.
پھر کہانی ختم ہوئی اور ایسی ختم ہوئی
لوگ رونے لگے تالیاں بجاتے ہوئے
اگر ملے بھی تو ملتا ہے رستے میں. . فارس
کہیں سے آتے ہوئے ت کہیں جاتے ہوئے
بلیک سپورٹ بائیک سلطان آنڈسٹری کے سامنے آکر رکی تھی. …. بلیک جینز. .ہڈی. … بلیک سینکر چہرے پر ماسک لگائے وہ اندر داخل ہوئی. ….. گاڑی وہ اپنی یوز کر نہیں سکتی تھی …ازمیر یا فارس میں سے کوئی بھی دیکھ سکتا تھا. ..تب ہی اپنی سپورٹس بائیک پر آئی تھی. …. شمس ادھر ہی اس کا ویٹ کررہا تها. .. وہ اس کے پاس گئی تھی. … اسے ضروری باتیں بتا دیں اندر اپنے آفس میں چلی گئی تھی. …. پهر ادھر سے اپنے کام کی ساری چیزیں اٹھا دی تھی. … ازمیر کی کمپنی کے ساتھ. کانٹرلٹ کامیاب ہوا تھا. … اتنا ثاقب صاحب کو بتا دیا تها. …اب ادھر سے ہیر سلطان کو ختم کرنا تها. …. باہر شمس نے سب سے بتا دیا تها کہ ان دو مہینوں میں جوبلی ہوا وہ ثاقب صاحب کو کسی نے نہیں بتانا. .. ورنہ نوکری سے نکال دیا جائے گا. …. سب خاموشی ہوگئے. … انہیں کیا لینا دینا تها. … ان کے معاملات سے. .. انہیں نوکری چائیے تھی بس. ….
تھوڑی دیر بعد ہی مایا مطمئن سی باہر آگئی تھی. …. بنا کسی کی طرف دیکھے وہ جیسے آئی تھی ویسے ہی غائب ہوگئی. …… پیچھے شمس ضروری میٹنگ دیکھ رہا تھا. … اور تو تها کوئی نہیں. …… وہی پهسا تها. ….
غم کا مجھے ہے سامنا، تم کیوں چلے گئے؟
تم نے تھا ہاتھ تھامنا، تم کیوں چلے گئے؟
سمجھانا پڑ رہا ہے ان آنکھوں کو اب مجھے
چھپ چھپ کے کس کو دیکھنا، تم کیوں چلے گئے؟
میں نے تو دے دیا تھا ناں، جیون تمہارے ہاتھ
تم خود کبھی یہ سوچنا، تم کیوں چلے گئے؟
تم خوش رہو، جہاں بھی رہو اور رہو بلند
کیا اور اس پہ سوچنا، تم کیوں چلے گئے
کرنا نہیں ہے پوچھ کے بیزار اب تمہیں
تم سے نہیں یہ پوچھنا، تم کیوں چلے گئے؟
میری اذیتوں کا تمہیں بھی پتا چلے
تم بھی کسی سے پوچھنا، “تم کیوں چلے گئے؟”
اے کاش اس کو چھوڑ کے جائے نہ کوئی زین
اس کو پڑے نہ بولنا، “تم کیوں چلے گئے