62.3K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 04

مایا آفس سے آکر کمرے میں بند ہوگئی تھی، جب سے آئی تھی بیڈ پر سیدھی لیٹی چهت کو گهوڑ رہی تھی ، آج اس فائل میں دیا کی فوٹو دیکھ کر وہ بھی شوک ہوگئی تھی،…… وہ جانتی تھی کہ مزمل دیا کو پسند کرتا ہے،……. اصل میں مایا نے ماہا اور مزمل پر نظر رکهوائی ہوئی تھی……، ماہا کا تو کوئی غیر ضروری کام اسے کوئی نہیں ملا ……لیکن پچھلے کئی دنوں سے مزمل کے بارے میں اسے بہت سے خبریں مل رہی تھی جس میں وہ ایک لڑکی کے ساتھ نظر آرا تھا ….. ……لیکن مایا نے کچھ نہیں کہا وہ جانتی تھی کہ مزمل کبھی کچھ غلط نہیں کرے گا ،…… اس لیے اس نے زیادہ توجہ نہیں دی، اور اب انہیں پتا چلا کہ دیا تو صدیق سلمان خان کی بیٹی ہے، وہ بہت بے بس ہو گئی تھی …… وہ یہ سب چھوڑ بھی نہیں سکتی تھی. ….. اس نے کافی دفعہ کوشش کی کہ وہ بھی اور لوگوں کی طرف ایک نارمل زندگی گزارے. ….. پرسکون زندگی. …… نفرت. ….. دھوکے. …. بدلے….. سے ہٹ کر، لیکن پھر ماضی ہر بات پر حاوی ہو جاتا تھا ، وہ اب بھی چیخ چیخ کر رونا چاہتی تھی .مگر آنسو آ ہی نہیں رہے تھے. . اسے نہیں یاد تھا کہ وہ آخری دفعہ ہنسی اور روئی کب تھی ، وہ جتنا خود کو مضبوط دیکهانے کی کوشش کرتی تھی وہ اندر سے اتنی خوفزدہ تھی ، وہ ڈرتی تھی، مزمل ، ماہا کو لے کر … اسے ڈر تھا کہ ، مہوش اور شہریار کی طرف یہ دونوں بھی اس سے جدا نہ ہو جائیں،
ٹهک ٹهک ٹهک، ،
دروازے پر ہونے والی دستک نے اسے واپس حقیقت میں لا کر پٹخا تھا،
آجاو ،، کہہ کر وہ سہی ہو کر بیٹھ گئی تھی، تب ہی خدیجہ بیگم اندر داخل ہوئی اور آکر مایا کے بیڈ پر ہی بیٹھ گئی،
کیا ہوا آپ کو ، ماہا اور مزمل بھی کافی پریشان لگ رہے تھے ، لنچ بھی نہیں کیا آپ تینوں نے، کوئی پریشانی ہے تو مجھے بتا بتاو بیٹا ایسے خاموش رہنے سے تو کچھ نہیں ہو گا ،
مایا نے اپنا سر ان کی گود میں رکھ دیا تھا وہ اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے کہہ رہی تھی، ،
نہیں ، ماما بس ٹھیک ہے ، بس آج میٹنگ سہی نہیں ہوئی تو تب ہی اور ہم نے لنچ باہر ہی کر لیا تھا، اس لیئے ہی ،
مایا نے ان کو اپنی طرف سے مطمئن کرنا چاہا، ،
تو بیٹا آپ نے کپڑے کیوں نہیں بدلے، ، وہ اب بھی مطمئن نہیں ہوئی تھی، مایا نے صبح والے، بلیک شرٹ، جینز، پہنے بال کھلے بکهرے ہوئے تھے…
وہ ماما میں آکر سو گئی تھی تب ہی ،، اس نے ایک دفعہ پھر جھوٹ کا سہارا لیا،
چلو بیٹا آجاو فریش ہو کر سب کے ساتھ چائے پیو، ، وہ کہہ کر اٹھ گئی تھی، مایا بھی فریش ہونے چلی گئی
اے عشق ادھر آ تجھے عشق سکهائوں…
در یار میں تجھے بیٹها کر بعیت کروائوں…
■■■
دس دن پہلے. …
ہاں بڈی. کیا ہو رہا ہے،
مزمل نے ہارس کے کهندے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا تھا
تو کدھر تھا ہاں، نہ تو ابھی بھی نہ آتا ، تو نے آکر تو احساس کر دیا ہے ہم پر نہ ،
ہارس تو پهٹ ہی گیا تھا، آخر کیوں نہ پٹهتا مزمل کو دو گھنٹے پہلے آنے کا کہا تھا، اور یہ صاحب دو گھنٹے لیٹ تھے،…
چل چھوڑ نہ کام آگیا تھا ایک تو دماغ سے نکل گیا،
مزمل نے اس کو ریلیکس کرنا چاہا، ،
اچھا چل جا تو ، بلکہ ایک کام کر اوپر میرے روم میں جا میرا موبائل رہ گیا ہے تو وہ لا دے مہمان آرے ہیں تو میں نہیں جا سکتا ،، اس نے مزمل کو کمرہ بتا کر کہا، تو مزمل کو چاروناچار جانا ہی پڑا،
ہارس مزمل کا بہت اچھا دوست تھا، اس نے ابھی ہی بزنس شروع کیا تھا جس میں اسے کافی کامیابی ملی، اس کے ماں باپ 5 سال پہلے روڈ ایکسیڈنٹ میں فوت ہو گئے تھے، اس کی ایک ہی بہن تھی ، ہانیہ ، جس سے وہ بہت پیار کرتا تھا، ….
مزمل دوسری منزل پر پہنچ تو گیا تھا لیکن وہ کمرہ بھول گیا، پھر جو کمرہ یاد آیا اسی کی طرف بڑھ گیا…..، دروازہ کھول کر اندر گیا ادھر ادھر دیکھ رہا تھا کہ تب ہی کلک کی آواز کے ساتھ دروازہ کھولنے کی آواز آئی ، اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو دیکھتا ہی رہ گیا…..
، وہاں کوئی لڑکی تھی خون خوار نظروں سے اسے ہی گھور رہی تھی. ..
ٹی پینک سلیو لیس گھٹنوں سے کافی نیچے تک جاتا پلین فراک پہنے.. پاوں میں سلور پینسل ہیل پہنے. … .. بهورے لمبے بالوں کو کھلا چھوڑے..پارٹی میک اپ کئے. .. غیر معمولی نقوش. … سرخ و سفید رنگت. ..گرے آنکھیں. .وہ کافی خوبصورت لگ رہی تھی. ….
کون ہو تم اور یہاں میرے دوست کے کمرے میں کیا کررہی ہو، مزمل نے خود کو نارمل کرتے مشکوک نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا تھا. .
مجھے چھوڑو تم بتاؤ تم یہاں کیا کررہے ہو. .دیا بهی اسکے سامنے آتی اسکی کے انداز میں بولی تھی. .دونوں ہاتھ سینے پر باندھے ایک دوسرے کو مشکوک نظروں سے دیکھ رہے تھے. ..
یہ میرے دوست کا روم ہے …میری مرضی جو بهی کروں. .دو قدم آگے ہوتے وہ اسکی گرے آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا تھا. .
اچهاا. ..اپنے سمجھنے کے انداز میں سر ہلایا. ….مگر تمہاری اطلاع کے لئے عرض ہے کہ یہ روم میرا ہے. .تمہارے کسی دوست کا نہیں ہے. ..سو اچھا ہوگا تم شکل گم کرو یہاں سے. . بےزار لہجے میں کہتے اسنے مزمل کے کندھے پر ہاتھ رکھتے اسے پیچھے کو دھکا دیا تھا. ..
مزمل نے وہی ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے قریب کیا. …کہ ایک دوسرے کے سانسوں کی تپش وہ اپنے چہرے پر محسوس کر سکتے تھے. …
..لہجہ درست کرو اتنا لڑکی. … مجھے ایسے لہجوں کی عادت نہیں ہے. .نا مجھ سے برداشت ہوتے ہیں. …اسکے چہرے کے قریب ہلکا سا جھکتے وہی سرسراتے لہجے میں بولا تھا. ..
وہ اسے پیچھے کرنے کی کوشش کرتی ہلکان ہورہی تھی. … ایک پل کو تو اسے بھی لگا تھا مزمل کے لہجے سے. …
اور مجھے ایسی چهچهوڑی حرکتیں کرتے لوگ نہیں برداشت ہیں. .سو برائے مہربانی دفعہ ہوجائیں پیچھے. ..وہ اسکی نیلی آنکھوں میں دیکھتی ایک ایک لفظ چبا کر بولی تھی. ….
ایک بار کی سمجھ نہیں آتی کیا. … اسکے بازو پر گرفت سخت کرتے اسکا لہجہ بھی کافی سخت ہوا تھا. ..
تم دور ہٹو سب سمجھ آجائے گی مجھے. ، دیا نے بےزاری سے کہا. …
ہممم ..ہنکار بھرتا وہ پیچھے ہوا. ..مگر نیلی آنکھیں اسکی خوبصورت چہرے پر جمی ہوئی تھیں. …
وہ ہے دروازہ. …. اور تم شاید ہارس بھائی کے روم میں جانا چاہ رہے تھے. .. ساتھ والا روم انکا ہے. ..اسکو یوں ہی کھڑا دیکھتے وہ جهنجهلاتے ہوئے بولی. .
اس شخص کی بولتی گہری نظریں اسے نروس کررہی تھی. ….
ایک بھرپور نظر اسکے خوبصورت سراپے پر ڈالتا وہ لمبے لمبے ڈانگ بھرتا باہر نکل گیا تھا. .
اور پھر پورے فنکشن میں وہ دیا کو ہی دیکھتا رہا، وہ دیکھنا نہیں چاہ رہا تھا مگر صرف اسی کو دیکھ پا رہا تھا. ..
اور پھر کچھ دنوں میں وہ اسے بھول نہیں پا رہا تھا. ..جبھی اسکے پیچھے کلب گیا تھا. ….اور اب سب ختم سا ہورہا تھا. ..
اوووو بھئی کدھر ہے. .. وہ اپنی سوچوں میں گم تھا کہ احمر نے اس کے پاس بیٹھتے ہوئے کہا..
آہاں …..کچھ نہیں بس، ، مزمل نے ٹالنا چاہا،
مجھ سے کچھ نہیں چھپا سکتا چل بتا، ، احمر نے اس کو دیکھتے ہوئے کہا،
وقار اور صدیق کی فیملیز کا پتا چل گیا ہے، اس نے کہا ہی تھا کہ احمر کے چہرے سے کئی رنگ گزرے تھے، ،
کدھر ہے ، اسے اپنی ہی آواز کہیں دور سے آتی محسوس ہوئی …ان کی فیملیز کا پتا چلنا. .مطلب ایک ان دیکھی جنگ کی شروعات. ..اور وہ مایا. .. بلکہ کسی کو بھی تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا تھا. .
جواب میں مزمل نے اسے کچھ کچھ بتا دیا…
صرف یہی بات ہے، احمر نے اسے غور سے دیکھتے ہوئے کہا، دل تو اس کا بھی کامپ رہا تھا، کہیں دل میں کوئی قیمتی دور جاتی محسوس ہوئی..کهو دینے کا ڈر. ایک ایسے شخص کو جسے کبھی پایا ہی نہیں. ..وہ ڈر تو کبھی دل سے گیا ہی نہیں. .
بدلے میں مزمل نے اسے اپنا دیا کے لیے سارے احساسات و ملاقات. .سب بتا دیا تھا. ..وہ جانتا تھا وہ احمر سے کچھ نہیں چھپا سکتا. .اور نا وہ چھپانا چاہتا تھا. .
. ، احمر کا تو منہ کھلا کا کھلا ہی رہ گیا……ابھی کچھ بولتا کہ تب ہی ملازمہ انہیں بلانے آگئی کہ ، صاحب جی بلا رہے ہیں، ،
ابھی چل بعد میں سوچتے ہیں اس بارے میں،پریشانی سے پیشانی مسلتے دوسرے ہاتھ سے اسے پکڑ کر اٹھایا تھا. .اور وہ دونوں باہر آگئے
تهک جاتے ہیں لوگ اکثر تیرے عین پر آکر…
عین ، شین سے آگے تیرے قل میں سماوں.
■■
دیا کے لاسٹ سمسٹر کے پیپرز شروع ہوگئے تھے، وہ آج کل بلکل پڑھائی پر دهیاں دے رہی تھی، اس سب میں وہ مزمل کو تو واقع بھول گئی تھی، یا شاید اس کے پاس کسی کو یاد کرنے کا ٹائم ہی نہیں تھا،
تو دوسری طرف فارس کا بھی کام تقریباً ختم ہوگیا تھا، بس اب ورکرز کی ضرورت تھی وہ بھی مل رہے تھے ، وہ پوری طرح اپنے کام میں مگن تھا، یہ جانے بغیر کہ ان کی زندگی میں تو ابھی ایک بہت بڑے طوفان نے آنا تھا جو سب کچھ برباد کر دینے والا تھا،
اے عشق تیرا عشق ہوں آ سنگ تو میرے…
سینے سے لگا کر تجھے سر مست بنائوں.
■■
اور ادھر ازمیر بھی سلطانز کے ساتھ میٹنگ کی تیاری میں مصروف تھا، اسے یہ ڈیل سائن کروانی تھی پہلے ، پھر اس نے سوچا تھا کہ وہ دھوکے سے سلطانز کا سارا بزنس اپنے نام کر لے گا کیونکہ ان کا بزنس کئی ملکوں میں پھیلا ہوا تھا، لیکن فلحال تو اسے یہ کنٹریکٹ چائیے تهآ جس کی وجہ سے وہ آج کل کافی محنت کررہا تھا…اور پرسو کی فلائٹ سے وہ نیویارک جارہا تھا. …ایک نئے سفر کی طرف.
تو جھوم اٹھے دیکھ کر دیوانگی میری…….
آ وجد کی حالت میں تجھے رقص دکهائوں. …..!