62.3K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 12

سن میری ڈارلنگ. .. جان میری جان من. ..میرا بسپن کا پیار بھول نہیں جانا رےے. ..کیسا میرا پیار ہے جان تمہیں کیا ہے. ….بسپن کا پیار بھول نہیں جانا رے. …. احمر مایا کو ڈھونڈتا اس کے کمرے میں آیا تھا … مایا کمرے سے منسوب بیکلونی میں کھڑی تھی.
.. جب احمر کی آواز سے اس کی طرف مڑی. …. چہرے پر مسکراہٹ تھی. …. ڈمپل اسے اور پرکشش بنا رہا تھا. … پنک شرٹ اور وائیٹ ٹرائوزر پہنے بالوں کو جهوڑے میں باندھے کھڑی تھی. .
. تو جان من سنا میں نے کیا کہا. ..یا دوبارہ مجھے تهکنا پڑہے گا. …. احمر نے اس کے دائیں بائیں گریل پر ہاتھ رکھتے ہوئے اس کے قریب کھڑے ہوتے کہا. …
وہ تو سمجھ گئی یہ بتاؤ یہ کیا ہے. … مایا نے اس کا آپنے اتنے قریب کھڑے ہونے کے بارے میں پوچھا.
.. یہ. …ہمم یہ تو کچههه نہیں ہے. …احمر نے مسکین شکل بنا کر اس کے کچھ اور قریب ہوتے کہا. ….
. نہیں میرے خیال سے یہ بہت کچھ ہے. …. اور نہیں ہونا چاہیے. …. مایا اس کے کشادہ سینے پر ہاتھ رکھتی اسے پیهے دهکیلتی بولی مگر وہ ایک انچ نہ ہلا تھا
. …. یار ماہی. .. وہ کیا ہے نہ میں سوچ رہا تھا کے موم ڈیڈ آجائیں تو میں ان سے بات کرتا ہوں کہ نکاح کریں میرا تم سے یار. … اب اور کتنا برداشت کروں. … اور دوری نہیں ہوتی نہ برداشت. …احمر نے اس کے تاثرات دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے کہا. .
.. نہیں احمر ابھی بلکل بھی نہیں. … میں اس سب کے لئے نہیں تیار. …. کچھ عرصہ تو بلکل نہیں. …. مایا نے بھی سنجیدگی سے کہا. …
نہیں ماہی اب اور نہیں. …… اب تو میں ڈیڈ سے نکاح کی بات کروں گا اور نکاح بھی. …. میں تمہیں لے کر کوئی رسک نہیں لینا چاہتا. …
احمر میری بات سمجھو …میں ابھی تیار. …..
کس وجہ سے نہیں ہو تم تیار جان سکتا ہوں. …. بلکہ کہیں اس کی وجہ وہ باسٹر ازمیر تو نہیں ہے. …. آگر ایسا کچھ ہے تو میری جان سوچنا بھی مت. …. میں دنیا تو چھوڑ سکتا ہوں مگر تمہیں نہیں. … تم سے میں بچپن سے عشق کرتا ہوں. … اس کی دو دن کی محبت کے لئے تم مجھ سے دستبردار نہیں ہوسکتی. … اگر ایسا کچھ ہوا تو. … پہلے اس کمینے کو. …پھر تمہیں. …. اور پھر خود کو ختم کرلوں گا اسے میری دھمکی بلکل نہ سمجھا. …. میری جان تم صرف میری ہو …اپنی بھی نہیں. ….. احمر نے اس کے چہرے کے پاس اپنا چہرہ کرتے ہوئے کیا. .
.وہ بہت قریب کھڑے تھے اتنا کے ایک دوسرے کی دھڑکیں سن سکتے تھے. .
. تم. …یہ سوچ. ..بھی کیسے سکتے. …ہو احمر. ..ت تم مجھ پر شک کررہے. .. مایا کی دهمیی پرشکوہ آواز سے اسے اندازہ ہوگیا تھا وہ کتنا غلط بول چکا ہے. .
سوریییییی …سوری ماہی. …. میں کیا کروں یار. …مجھ سے نہیں برداشت ہوتا ہے کہ تمہیں کوئی اور بھی سوچے ..جیسے میں سوچتا ہوں. …. اس ازمیر کی تم پر اٹھتی نظریں دیکھی ہیں میں نے. …. یار. ….. دیکھو 12 سال میں میں تمہیں نہیں بدل سکا. … اور اس نے تمہیں 12 دنوں میں بدل دیا. … تم ہنستی نہیں تھی. . اب ہنستی ہو. … ہر کسی سے بات کرتی ہو. .. اور تو اور یہ رنگ پہننے بئی شروع کردیئے. … اچھا کیا یار بہت اچھا …میں خوش ہوں. ..مگر جب سوچتا ہوں تمہیں ازمیر نے بدلا. .. تو تمہارا یہ بدلائو مجھے زہر لگتا ہے. ….. سوری یار پلیززز سوری میں تمہیں ہرٹ بلکل نہیں کرنا چاہتا تھا. … احمر نے مایا کو خود میں سختی سے میچتے ہوئے کہا.
…..وہ کافی دیر اسی طرح کھڑے رہے. …. اندھیرا بڑھتا جا رہا تھا. …
کچھ نہ تھا میرے پاس کهونے کو. .
تم سے ملا ہوں تو ڈر گیا ہوں. …
■■■■■
ماضی
ادا مطلب، نگاہ مطلب،
زبان مطلب، بیان مطلب،
بنا مطلب کہاں جاؤں
جہاں جاؤں وہاں مطلب
مزمل نا ان دونوں کو پیچھے بیٹھے کا کہا تھا اور خود چهپ کر دیکھ رہا تھا وہ جا کر اپنی ماں باپ کو بچانا چاہتا تھا لیکن وہ جانتا تھا کہ وہ اکیلا کچھ نہیں کر سکتا اس کے ساتھ اس کی بہنیں بھی تھی وہ ان کو لے کر کوئی رزک نہیں لے سکتا تھا ،
آاااا پورا منشن چیخوں سے گونج اٹھا تھا ، آس آدمی نے اس کی ماں کو سامنے صوفے پر رهکا دیا تھا اور اس کے کپڑے نوچ رہا تھا اور پھر اس کے اوپر جھک گیا تھا
شہریار نے اپنی آنکھیں بند کر دی تھی وہ اپنی بیوی کے ساتھ زیادتی ہوتی کیسے دیکھ سکتے تھے ، اس کی ماں کی چیخیں گونج رہی تھی ، مہوش اب شاید ہلکی ہلکی سانسیں لے رہی تھی،
جب گھر میں دو بچے بھاگتے ہوئے داخل ہوئے تھے، ماا مااا ، بھاگتے ہوئے اندر آئے تھے سامنے کا منظر دیکھ کر کانپ گئے تھے وہ بھاگنے ہی والے تھے کہ ایک آدمی نے آگے بڑھ کر ان کو پکڑ لیا تھا
، ہا ہا ہا تو یہ ہیں بچے تمہارے بچے ، ایک آدمی نے بچے کو پکڑتے ہوئے کہا تھا. مہوش پر جھکا شخص بھی اب اٹھ گیا تھا
، یہ یہ نہیں ہیں ہمارے بچے پلیز انہیں چھوڑ دو ،
شہریار اک دم ہوش میں آیا تھا ، وہ ان معصوم بچوں کو مرنے نہیں دینا چاہتا تھا
، ہا ہا ہا بیشک جھوٹ بول لو ان دونوں کو مرنا ہوگا وہ دونوں بچے ڑر سے رو رہے تھے ،
تب ہی گولیوں کی بوچھاڑ کر دی تھی اس آدمی نے معصوم بچوں پر وہ دونوں تڑپتے ہوئے زمین پر گر گئے تھے
، شہریار نے کرب سے آنکھیں بیچ لی تھی مزمل چہا کر بھی نہیں بچا سکتا تھا اسے یاد تھا جب اس کے باپ نے اسے کہا تھا کہ کچھ بھی وہ جائے اپنی بہنوں کو اکیلے نہیں چهورنا اور وعدہ لیا تھا کہ ان میں اور ماہا مایا میں سے کسی ایک کو بچانا پڑے تو وہ اپنی بہنوں کو بچائے گا،
وہ ادھر ہی خاموش ہو کر اپنے ماں باپ کو مرتے دیکھ رہا تھا. . مزمل صوفے سے کافی آگے بڑھ گیا تھا اتنا کہ وہاں ہونے والی گفتگو کو با آسانی سن سکتا تھا ،
اہہ دیکھو نہ مہوش کیا حال بنا دیا میں نے تمہارا تم نے مجھے نہ کیا تھا نہ اس – کے لیے کتنی محبت تھی مجھے تم سے لیکن تم نے مجھے درکار دیا محبت کو اسی دن مر گئی تھی جس دن تم نے اس — سے شادی کر لی پھر تم میری ضد بن گئی تھی مجھے بس تمہیں حاصل کرنا تھا آور دیکھو میں نے تمہیں آج حاصل کر لیا اور، اسلم نے مہوش کو دیکھتے ہوئے کہا
، وہ خباثت سے ہنس رہا تھا ، اب دیکھو میں نے تم دونوں کی محبت کی نشانی بھی ختم کر دی ہے ، اس نے زمین پر بے جان بچوں کے وجود کو دیکھتے ہوئے کہا تھا،
وہ دونوں بچے فضا اور فارس تھے جو ان کے منشن سے تهورا دور رہتے تھے ان کا منشن آبادی سے زرا ہٹ کر تها ، تو وہ دونوں کبھی کبھی کھیلتے کھیلتے ادھر آجاتے تھے ان کے مال باپ کو نہیں پتا تھا وہ آج بھی کھیلنے آگئے تھے لیکن بدقسمتی سے موت کے ہاتھ لگ گئے وہ لوگ سمجھ رہے تھے کہ انہوں نے ان کے ان کے بچوں کو مار دیا ہے
، میں تو بہت پہلے آنا چاہتا تھا، لیکن پھر کام آگیا اک تو مجھے جاپان جانا پڑا اور تو اور میں نے شادی کر لی ہے میری بیگم بھی خوبصورت ہے لیکن تم سے کم دو اک بیٹا ہے میرا بالکل تمہارے بچوں جتنا ہیں،
بس 13 سال بعد آیا ہوں پرسوں ہی آیا تھا تمہارے اک اک لمحہ کی خبر تھی اور دیکھو آج تم سے ملنے آگیا تو اندازہ لگا لو کتنی محبت ہے مجھے تم سے ، وہ مکرو مسکراہٹ کے ساتھ بول رہا تھا ، مہوش کی سانسیں تهم رہی تھی ،
وہ گہرے گہرے سانس لے رہی تھی ، شہریار نے آنکھیں نہیں کھولی تھی، مزمل آنکھوں میں آنسو لیئے اپنے ماں باپ کو دیکھ رہا تھا اس کا بس نہیں چل رہا تھا وہ ان لوگوں کو اپنے ہاتھوں سے ختم کر دے ،
چلو ختم کر دو اس — کو بھی ، وہ آدمی آٹھا تھا اور اپنے ساتھی کو حکم دیا تھا ، گولیوں کی آواز اک دفعہ پھر سنائی دی تھی ، مزمل نے آنکھیں بند کر دی تھی ، وہ لوگ اب پیچھے مڑ رہے تھے مزمل اک دم نیچے ہوا تھا ، وہ دونوں ہوئے باہر نکل گئے تھے ، مزمل نے پیچھے مڑ کر دیکھا تھا، جس کا ڈر تھا وہی ہوا تھا ، مایا اور ماہا دونوں اس کے پیچھے کھڑی تھی نیلی آنکھیں رونے کی وجہ سے لال ہو رہی تھی ، ان لوگوں کی گاڑی کی آواز آئی تھی وہ لوگ شاید جا چکے تھے ، مزمل نے آگے بڑھ کر اپنی دونوں بہنوں کو گلے لگایا تھا
بھیا ممی .. ماہا کی آواز آئی تھی وہ تینوں بھاگتے ہوئے لائونچ میں گئے تھے شہریار اور مہوش آخری سانسیں لے رہے تھے
ممی مزمل نے آگے بڑھ کر ماں کے اوپر چادر ڈالی تھی ، ماہا اور مایا روتے ہوئے شہریار کو بلارہے تھے پورا منشن ان دونوں کی چیخوں سے گونج اٹھا تھا ،
مزمل ادہ آئوبب ب بیٹا شہریار نے مزمل کو بلایا تھا ،
مزمل ماں کو دیکھتا ہوا شہریار کی طرف آیا تھا ماہا باگ کر اپنی ماں کی طرف آئی تھی وہ نہیں جانتی تھی اس کی ماں کے ساتھ ان لوگوں نے کیا کیا ہے ، وہ بس رو رو کے مہوش کو بلارہی تھی ، وہ تکلیف سے بول بھی نہیں سکتی تھی ، بس روئے جا رہی تھی اور اپنے بچوں کو دیکھ رہی تھی جن کو دونوں نے مل کر شہزادہ، شہزادی کی طرف پالا تھا،
بیٹا یہ کاڑ لو اور اس نمبر پر کال کر کے انکل کو بتائو ، اور ، بیٹا میری بیٹیوں کا خخخ خییال ر رکھنا اورر ماہا میری مایا کو جان سے زیاد چاہنا. ان کا سانس اکهڑ رہا تھا کا بہت خیال رکھنا اور ، ووو . میرا بھائی ہے ، اسس کو کہنا کہ تم لوگوں کو یہاں سے دورر لللےے ججائے ، اورر مایا وعدہ کرہ ماہا کا تم دونوں بہت ب بہت خیال رکھنا
، ڈیڈی آپ کو کچھ نہیں ہو گا وہ انکل آرے ہیں، بس آپ کو اور ممی کو ہسپتال لے جائیں گے ، پھر آپ ٹھیک ہو جائیں گے ، مزمل نے کال کر کے بلا لیا تھا اور پھر اپنے باپ کے پاس آکر بتایا وہ اور مایا دونوں کے ساتھ زمین پر بیٹھے ہوئے تھے اور ماہا مہوش جگانے کی کوشش کر رہی تھی،
جب باہر سے گاڑیوں کی آواز سنائی دی تھی، شہریار نے ان تینوں کو اندر بهجا تھا مزمل ان دونوں کا ہاتھ پکڑ کر لے گیا تھا، اپنے کمرے کی کھڑکی سے باہر جھانک رہے تھے تینوں، جب شہریار سے کچھ سال بڑا شخص اندر تقریباً بھاگتا ہوا آیا تھا اس کے ساتھ اک عورت بھی تھی جو شاید اس کی بیوی تھی وہ شخص شہریار کو دو لوگوں کی مدد سے باہر لے کر جا رہا تھا ، وہ عورت بھی ایک اور عورت کے ساتھ مہوش کو اٹھا کر لے جا رہی تھی، کچھ لوگوں نے ان دونوں بچوں کو بھی اٹھا کر لے گئے تھے، مزمل کے گلے لگے ماہا رو رہی تھی ، جبکہ مایا اپنے موبائل پر کوئی video دیکھ رہی تھی ساتھ ساتھ رو بھی رہی تھی اب گھر میں ان تینوں کے علاوہ کوئی بھی نہیں تھا،
مزملل ممجے بہت بھوک لگی ہے، ماہا نے اپنی شڑٹ سے ناک صاف کر کے کہا تھا ، اوو اچھا تم دونوں باہر نہیں آنا میں کھانے کے لیے کچھ لاتا ہوں ، وہ وہ اٹھتے ہوئے کہتا باہر نکل گیا تھا
، تھوڑی دیر میں ان تینوں نے کھانا کھایا تھا ، اب وہ تینوں کمرے میں بیٹھے ہوئے تھے جب باہر کسی کی آوازیں سنائی دی تھی
، مزمل دونوں کو لے کر کمرے میں پردے کے پیچھے چھپ گیا تھا، جب دروازہ کھلا تھا اور وہی شخص اور عورت اندر داخل ہونے تھے ،
اس عورت نے آکر ان تینوں کو پردے کے پیچھے سے نکال کر لا کر بیڈ پر اپنے ساتھ بیٹھایا تھا وہ شخص سامنے صوفے پر بیٹھ گیا تھا،
ااا انکل ہمارے ڈیڈی اور ممی کیسی ہیں اور کدھر ہیں ووہ آپ کے ساتھ کیوں نہیں آئیں، ان دونوں کو خاموش بیٹھا دیکھ کر مایا نے ہمت جمع کر کے پوچھ لیا تھا
، ویسے تو مایا ، مزمل اور ماہا دونوں سے زیادہ سمجھدار تھی وہ ڑرتی کسی سے بھی نہیں تھی ، ڑدتا تو مزمل بھی نہیں تھا، وہ بس ان دونوں کی وجہ سے خاموش تھا وہ اب ان دونوں کو زرا کچھ نہیں ہونے دینا چاہیا تھا، ان دونوں کی نسبت ماہا تھوڑی مختلف تھی وہ ڈرتی تو نہیں تھی ، بہت خاموش طبیعت کی مالک تھی، مہوش اور شہریار کے ساتھ ساتھ مزمل اور ماہا کی بھی بہت لاڑلی تھی ، شہریار اور مہوش کی شادی کے ایک سال بعد مزمل پیدا ہوا تھا ، پھر دو سال بعد ماہا اور مایا پیدا ہوئی تھی دونوں بہت خوبصورت تھی بالکل اک جیسی تھی بلیو آنکھوں سفیر چہرہ ، ماہا کے دونوں گالوں پر ڈمپل پرتا تھا جبکہ مایا کے صرف لفٹ گال پر پرتا تھا، مزمل بھی بہت خوبصورت تھا آنکھیں اس کی بھی بلیو تھی ، آنکھوں کا رنگ ان تینوں نے مہوش سے لیا تھا ، ووو بیٹا آپ کے ممی ڈیڈی اب نہیں رہے آپ کے ڈیڈی اور ممی اب سے ہم ہیں،
خدیجہ بیگم نے ماہا کو پیار کرتے ہوئے کہا تھا، نہیں آنٹی آپ تو نہیں ہیں ہمارے کچھ، آپ لوگ ہیں کون ، مزمل نے حیران ہوتے ہوئے پوچھا تھا، اس کی بار ثاقب صاحب نے کہا تھا، بیٹا ، اب کے بابا میرے چھوٹے بھائی تھے، اور آپ کی ممی ان کی چھوٹی بہن، رشتے سے ہم آپ کے تایا اور یہ خالہ اور چچی ہیں، اب سے آپ ہمارے ساتھ ہی راہو گے ، چلو شاباش جلدی جلدی سے اپنا ضرورت کی چیزیں رکھ لو بیگ میں ہمیں صبح نکلنا ہے امریکہ کے لیے، ثاقب صاحب پیار سے مایا کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا کہ باہر نکل گئے تھے
وہ ان بچوں کا سامنا نہیں کر سکتے تھے، ہسپتال پہنچتے سے پہلے ہی شہریار مر گیا تھا مرنے سے پہلے اس نے اپنے بھائی اور بھابھی سے وعدہ لیا تھا کہ وہ اس کے بعد اس کے بچوں کو بچوں کو اپنے بچوں کی طرح پالے گا اور یہاں سے لے جائے گا ، ثاقب نے وعدہ کیا تھا کہ وہ اپنے بیٹے سے زیادہ خیال رکھے گا، شہریار کو دفنا دیا گیا تھا، مہوش کی حالت بہت خراب تھی ، پھر اسے امریکہ کے اک بڑے ہسپتال میں منتقل کر دیا تھا ، اس لیے صبح اسے لے کر جانا تھا بچوں کو ابھی نہیں بتایا تھا ان کی ماں کا، ،،،،
فیض احمد سلطان اور فمیدہ بیگم کے دو بیٹے تھے وہ امریکہ میں رہائش پذیر تھے، بڑا بیٹا ثاقب فیض سلطان کی شادی انہوں نے اپنے دوست کی بڑی بیٹی خدیجہ بیگم سے کروائی وہ بہت خوش اخلاق تھیں ، ان کا ایک ہی بیٹا احمر ثاقب سلطان تھا، ان کو بیٹیوں کی بہت خواہش تھی لیکن خدا کی مرضی، دوسرا بیٹا شہریار فیض سلطان، وہ اپنی بھابی کی چھوٹی بہن مہوش کو پسند کرتے تھے، وہ بھی شہریار کو پسند کرتی تھی، لیکن یہ شادی بڑوں کی پسند سے ہوئی تھی، مہوش علی کو یونی میں ایک لڑکا پسند کرتا تھا، مہوش نے کبھی بھی اسلم ملک کوئی سے کوئی بات نہیں کی تھی مہوش کی شادی والے دن پالر سے باہر اسے اسلم ملا تھا ، اس دن شہریار نے خود لینے جانا تھا مہوش کو ، اسلم نے اسے وہاں کہا تھا کہ مہوش نے مجھے بلایا ہے اگر تم نہیں آتے تو وہ اس کے ساتھ باگ جاتی، لیکن مہوش نے اسے ادھر ددکارا تھا، کہ تم جھوٹ بول رہے ہو دفعہ ہو جائو میں صرف شہریار سے پیار کرتی ہوں، تب شہریار نے اسلم کو بہت مار مارا تھا وہ مہینہ ہسپتال میں رہا تھا جانے سے پہلے اس نے مہوش کو دھمکی دی تھی کہ وہ اس کو برباد کر دے گا، اس لیے شہریار مہوش کو لے کر پاکستان آگیا تھا، وہ ڑرتا تو نہیں تھا لیکن وہ مہوش کے ساتھ اک پرسکون زندگی جینا چاہتا تھا، اسلم کی بھی اس کے گھر والوں نے زبردستی شادی کرا دی تھی ,اس کی بیوی کا نام ہما تھا، اس کے باپ شجاعت خان نے انہیں جاپان بهج دیا اس کا ایک بیٹا تھا ، ازمیر ملک. . وہ مہوش کو نہیں بھولا تھا…، اور اس کو برباد کرنا چاہتا تھا، اسلیئے اس نے مہوش کو ڈھونڈنے کے لیے آدمی رکھ لیئے تھے ،
لیکن اسے 12، 13 سال بعد جا کر پتا چلا تھا، پتا چلنے ساتھ ہی وہ پاکستان آگیا تھا ، آنے کے بعد اس نے سب سے پہلا کام مہوش کے پاس جانا کیا وہ کسی کو بتا کر نہیں آیا تھا ، مہوش کی طرف سے جانے کے بعد وہ سیدھا جاپان کے لیے نکل گیا تھا ،
اس کے آنے سے پہلے مہوش نے بچوں کو سامنے پارک میں بیهج دیا تھا جس کی وجہ سے وہ بچ گئے، مایا کو پیاس لگی تھی وہ پانی لینے گھر آئی تھی وہ اندر جانے والی تھی کہ اس کے دو آدمیوں کو دیکھے جو اس کے باپ کو مار رہے تھے وہ ڈر کر چپ گئی تھی ، جب کافی دیر تک مایا نہ آئی تو مزمل، ماہا کو لے کر آیا تھا کہ سامنے مایا کو روتے دیکھا تو وہ ڑر گیا تھا، مایا بہت کم روتی تھی وہ بھی تب جب وہ بہت ڈر جاتی،
ان تینوں نے اپنی پیکنگ کر لی تھی وہ صبح امریکہ کے لیے نکل چکے تھے،
مہوش کومے میں جا چکی تھی امریکہ میں ہی اسے ہسپتال میں رکھا گیا تھا،
احمد ( ثاقب کا بیٹا) کے ساتھ وہ تینوں کافی گهل مل گئے تھے ادھر ہی ان کو سکول میں داخل کروا دیا تھا، خدیجہ نے ان کو ماں کی طرح پالا تھا ، ثاقب صاحب نے بھی ان کو اپنے بیٹے سے بھر کے پیار کیا تھا فیض صاحب اور فمیدہ بیگم بھی اپنے پوتے پوتیوں سے مل کر بہت خوش تھے، انہیں ثاقب نے یہی کہا تھا کہ ان دونوں کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا جس میں شہریار مر گیا تھا اور مہوش کومے میں چلی گئی دکھ بڑا تھا لیکن انہوں نے سنبھال لیا تھاخود کو اور بچوں کو
، ثاقب صاحب اور خدیجہ بیگم کو بھی ساری بات نہیں پتا تھی کہ مہوش کے ساتھ اتنا بھیانک سلوک کیا کس نے اور کیوں شاید انہیں کبھی پتا بھی نہ چلتا آگر وہ اس دن وہ ویڈیو نہ دیکھ لیتی ویڈیو دیکھتے ہوئے ان کے رونکهے کھڑے ہوئے تھے تو مطلب بچوں نے اپنے ماں باپ کو قتل ہوتے دیکھا تھا وہ کچھ نہ کر سکے، وہ تو ابھی تک یہی سمجھتی تھیں کہ وہ کچھ نہیں جانتے،
ہوا یہ تھا کہ ، خدیجہ بیگم مایا کو جگانے اس کے روم میں آئیں تھیں، وہ سب بچے الگ رومز میں ہوتے تھے، اس دن اتوار تھا اس لیے سب لیٹ ہی آٹهے تھے، لیکن مایا ابھی تک نہیں آئی تھی اس لیے وہ اسے بلانے اس کے روم میں آگیئ ،
تب مایا اور ماہا 15 سال کی ہو رہی تھی، تھیں تو پہلے ہی بہت خوبصورت پھر جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہوئے وہ اور بھی خوبصورت ہوگئی ، وہ دونوں بالکل اک جیسی تھی گھر والوں کے علاوہ کوئی پہچان نہیں سکتا تھا ، مایا نے کبھی سفیر اور سیاہ رنگ کے علاوہ کوئی رنگ نہیں پہنا اسے رنگوں سے نفرت تھی، جبکہ ماہا ہر رنگ پہنتی تهی ، امریکہ میں رہتے ہوئے وہ دونوں بھی کافی بولڈ ڈریسنگ کرتی تھی، ، دونوں باقی لڑکیوں کی طرح بالکل نہیں تھیں رڑنا سیکھا نہیں تهی مزمل اور احمر بھی ہر وقت مایا ماہا کے ساتھ رہتا تھے، احمر مایا کو پسند کرتا تھا وہ اس سے 4 سال بڑا تھا مزمل سے دو سال بڑا تھا ان چاروں کی بہت بنتی تھی، لیکن پھر بھی احمر نے کبھی اپنے جذبات کا اظہار نہیں کیا شاید وہ ڈرتا تھا کہیں دوستی بھی نہ ختم کر دے
وہ کمرے میں داخل ہوئی تھی کمرہ میں روشنی نہیں تهی پردے آگے کیئے ہوئے تھے جس کی وجہ سے دھوپ نہیں آسکتی تھی،کمرے کی تھیم بھی وائٹ تهی ہر چیز وائٹ تهی ، جہازی سائز بیڈ پر وہ سوئی ہوئی تھی، وائٹ نائٹ ڈریس پہنا ہوا تھ ہونٹ بھینچے ہوئے تھے، خدیجہ بیگم اس کے ساتھ بیڈ پر بیٹھ گئی
تھی اس کا اک ہاتھ بیڈ پر تھا دوسرا اپنے پیٹ پر رکھا جس میں کوئی موبائل تھا جو آج سے پہلے انہوں نے کبھی نہیں دیکھا تھا تجسس کے مارے انہوں نے اس کے ہاتھ سے آرام سے لیا تھا، موبائل کو پاسوڈ نہیں تھا وہ موبائل رکھنے والی تھی جب ان کی نظر موبائل کی سکرین پر پرہی وہ کوئی ویڈیو تهی جس میں مہوش نظر ارہی تهی ، انہوں نے اک نظر مایا پر ڈالی یانی وہ رات کو نہیں سو سکی تھی،
پھر انہوں نے وہ ویڈیو پلے کی ان کے پاؤں کے نیچے سے زمین نکلتی محسوس ہوئی ویڈیو میں وہ سارا منظر تھا جب مہوش کے ساتھ زیادتی کی گئی تھی اور شہریار کا قتل کیا گیا تھا، ویڈیو چهپ کے لی گئی تھی تب ہی وہ ان لوگوں کو سہی سے دیکھ سکی ، تکلیف سے ان کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے تھے، ویڈیو ختم ہو چکی تھی وہ خالی خالی نظروں سے کبھی موبائل تو کبھی مایا کو دیکھ رہی تھی،
مطلب ان کو سب پتا تھا ، وہ موبائل ادھر ہی رکهتے مرے مرے قدموں سے اپنے کمرے میں آگئی تھی، کتنی ازیت سہی تهی مہوش نے ، وہ سوچ سوچ کر ہی کانپ رہی تھی ، انہیں اب سمجھ آئی تهی کہ مہوش ہوش میں کیوں نہیں آرہی وہ تو جینا ہی نہیں چاہتی تھی، اور جب وہ مایا، لوگوں کو کہتی تھی کہ بس ٹھیک ہو جائے گا تب تینوں ہی ازیت دے مسکرا دیتے کچھ نہیں بولتے بس بات بدل دیتے جیسے جانتے ہوں کہ اب کبھی کچھ ٹھیک نہیں ہو سکتا، وہ تب تو ان کی تنزیہ مسکراہٹ کو سمجھ نہیں سکتی تھی لیکن اب وہ سمجھ گئی تھی اتنی سی عمر میں کیا کیا نہ دیکھا کتنی تکلیف سہی ، انہوں نے تینوں کو ماں بن کر پالا تھا کیسی ماں تھی جو اپنے بچوں کی تکلیف محسوس نہیں کر سکی وہ، وہ اب باقاعدہ رو رہی تھی
وہ ویڈیو مایا نے خود بنائی تھی وہ جانتی تھی وہ جانتی تھی کہ وہ اس وقت کچھ نہیں کر سکتی تھی اسلیئے اس نے سوچا تھا وہ بڑی ہو کر ضرور بدلہ لے گی
، مایا ماہا ، مزمل اور احمر چاروں کو پتا تھا ، ان تینوں کی زندگی کا مقصد ہی یہ تھا. .. وہ چاہتے تھے کہ. … اسلم ملک اور صدیق خان. …. دونوں تڑپیں. .. روئیں. … پچھتائیں. …. مگر تب وقت نہ ہو. …..کیونکہ اسلم کے ساتھ اس کا جگری دوست صدیق بھی تھا ….شہریار پر گولیاں بھی اسی نے چلائی. …. مہوش کے ساتھ زبردستی کرنے پر بھی اسلم کو اسی نے اکسایا. ….. پھر وہ دونوں واپس چلے گئے. …. وقت کے ساتھ ساتھ ان کا ملنا ملانا بھی کم ہوتا رہا. …. اسلم جاپان سے واپس آئے امریکہ. ….میں اپنا بزنس سیٹل کیا. ….. صدیق پہلے سے ہی امریکہ میں ہی رہائش پذیر تھے. … ایک بیٹا. ..فارس. … اور ایک بیٹی دیا. … پھر ایک دن وہ فون پر اسلم سے بات کررہے تھے. . جب ان کی بیوی فوزیہ نے تقریباً سب سن لیا. …. اور انہوں نے کافی بہس کے بعد حویلی چھوڑ دی. … حویلی میں سلمان خان اور ہمیرہ بیگم کو بھی سب پتا چل گیا تھا. ..مگر وہ ماں باپ تھے خاموش ہوگئے. … پھر صدیق صاحب اپنے بچوں سے ملتے رہتے تھے. …انہیں اپنی بیٹی دیا سے زیادہ پیار
احمر انہیں کوئی تسلی تو نہیں دے سکتا تھا. …. ان کا درد ہی اتنا بڑا تھا …… ہر تسلی معمولی معلوم ہوتی تھی اس کے آگے. …. تب سے مایا. ..ماہا. .مزمل تیوں ایک خول میں بند ہوگئے. … مزمل نے شہریار سے کیا وعدہ بھی بهلا دیا. ….. وہ تینوں ہنسنا بھول گئے …بس خود تک ہوگئے. …. احمر سے جتنا ہوسکا وہ انہیں زندگی کی طرف واپس لانے کی کوشش کرتا. …… مگر بے سود. …… تها. … انہیں اپنا کوئی گناہ،…گناہ نہیں لگتا تھا. ..بلکہ وہ ایک زانی مرد تھے…انہوں نے اس کے علاوہ بھی ایک عورت کے ساتھ زیادتی کی تھی. .. اس کے بعد وہ عورت اس کے ناجائز بچے کی ماں بھی بنی. .مگر یہ سب انہوں نے پاکستان میں کیا اور پھر امریکہ باگ گئے. …دیا کی پیدائش کے بعد انہوں نے زنا جیسے گناہ چھوڑ تو دیا…. مگر جو گناہ کیلئے انہیں کبھی گناہ نہ مانا. ….. جب فوزیہ بیگم کو پتا چلا تھا تب فارس. ….14 اور دیا 10 سال کی تھی. …گھر میں لڑائی کی وجہ وہ جانتا تھا. …. وہ شروع سے ہی اپنے باپ کو کیکٹرلیس سمجھتا. ….. صدیق صاحب کو بھی فارس کے ریوڈ بہو سے زیادہ تکلیف نہ ہوئی. ..کیونکہ دیا انہیں ولڈ بسٹ ڈیڈ کہتی نہ تهکتی تھی. .اور پھر وقت کے ساتھ ساتھ. ان کے لیے ان کی دیا ہی سب کچھ ہوگئی. …. وہ نہ زیادہ حویلی جاتے. .نہ فارس سے زیادہ ملتے. ..نا کبھی فوزیہ بیگم کو منانآ چاہا. ….. بس دیا کی ہر خواہش. … اس کے بولنے سے پہلے پوری کر دیتے. …. وہ اپنے گناہ کو گناہ مانتے تو نہیں تھے. .مگر دل کہیں وہ دیا کے لیے ڈرتے بھی تھے. ..کہ کہیں اسے کچھ نہ ہوجائے. ….. پھر وہ بھی بزنس میں مصروف ہوگئے. … اسلم صاحب سے دوستی بھی ختم ہوگئی تھی. … وجہ ان کے دل میں مہوش کی محبت بنی. .. وہ آج بھی اسے چاہتے تھے. …. اپنی غلطی کا شدت سے احساس تها. … جبکہ صدیق صاحب کو بالکل نہیں تها. …. یوں ان کی دوستی آہستہ آہستہ کم اور پھر بالکل ختم ہوگئی. .. .
اسلم نے کبھی ہما کو اپنی بیوی نہ سمجھا. .. وہ ان کی بیوی صرف دنیا کی نظر میں تھی. …. ایک بیٹا. …وہ بھی ایک غلطی کی نشانی. ……. وہ ایک رات کے علاوہ کبھی ہما کی طرف راغب نہ ہوئے. … بلکہ میاں بیوی ہونے کے باوجود وہ اجنبی ہوتے گئے. . ازمیر ملازموں کے ہاتھوں پلا. ..اسے کبھی ماں کی ممتا..باپ کا سایہ نہ ملا. اور پھر وہ بھی ایک عجیب شخصیت کا مالک بن گیا. . بچپن میں جب کبھی بھی وہ ہما سے کچھ مانگتا. ..تو اس کا ایک ہی جواب ہوتا.. *ازمیر آپ کے پاس پیسے ہیں اور پیسوں سے کچھ بھی خرید لو. ..جو چاہے. اور دوبارہ مجھ سے نہ پوچھنا..پیسوں سے لے لینا * .. اور یہ بات اس کے ننھے دماغ پر چپک کر رہ گئی …وہ سب کچھ پیسے کو سمجھنے لگ گیا.. ماں باپ کی بے رخی پہلے تو محسوس کرتا…مگر وقت کے ساتھ ساتھ اس نے بھی انہیں بلانا چھوڑ دیا…وہ اکثر سوچتا تها. .اگر وہ چائیے تها ہی نہیں تو اسے کیو پیدا کیا. . مگر جواب کبھی نہ مل پایا
پھر وہ سب ہی ماضی کو بھول کر حال کے ہوگئے. .سوائے مزمل. .ماہا. .اور ماہا کے. .. ان کا سب ماضی میں تها. . وہ چاہ کر بھی نہ بھول سکے. .
کہیں دور. ..بہت دور. .. وقت…اور تقدیر. .کھڑی مسکرا رہی تھی.
کہیں. .محبت. . عشق. . دیوانگی. .. جنونیت. .
تو کہیں. ……
زندگی اور موت. ….کا کھیل کھیلا جانا تها
وقت کو بھی نہیں پتا تھا
آنے والا وقت…. کیاکیا وقت لاتا
زندگی کا سفر جاری تها
کٹ جانے کے لیے
مٹ جانے کے لئے
وقت پریشان تها. …آنے والے وقت کے لیے
البتہ تقدیر مطمئن تھی
جیسے جانتی ہو
وقت نے کیا وقت لانا تها
سنو جاناں
کچھ دیر تو ٹهرہ
میری سانسوں کو اپنی
سب دعاؤں کی
دھنک اپنی
زرا محسوس کرنے دو
میری آنکھوں کو اپنا
روپ پڑھنے دو
میرے ہونٹوں کو اپنا
نام بولنے دو
میرے ہاتھوں کو
اپنے ہاتھوں میں لے کر
سہارا دو
میری آنکھوں کو جینے کا
اشارہ دو
مری سانسوں کو
کشتی کا کنارہ دو
میری خواہش ہے جب بھی
میں اس دنیا سے جائوں
تو تمہارے ساتھ رہنے کا
حسین احساس میرے ساتھ جائے
سنو جاناں
فقط کچھ دیر باقی ہے
فقط کچھ دیر.
حال ♥♥♥
دیا تم کیوں ہو اتنا پریشان. .مجھے یقین نہیں ارہا یہ تم ہی ہو. . آخر ہو کیا گیا ہے تمہیں. … ہانیہ نے بغور اس کا جائزہ لیتے ہوئے کہا. .. وائیٹ شرٹ پر نیوی بلو جیکٹ اور نیوی بلو ہی جینز پہنے. .. بالوں کو بے دردی سے جهورے میں بندھے. … گرے آنکھیں پر سیاہ حلقے نظر ارہے تھے. …. وہ کافی ڈیپرسٹ لگ رہی تھی. …..
مجھے کیا ہونا ہے. ..بس کچھ دن سے طبیعت سہی نہیں تھی اسے لیے تهوری ویکنیس ہوگئی ہے. . اور تو کچھ نہیں. … دیا نے جوس کا گلا منہ سے لگاتے. .. قدرے ناگواری سے جواب دیا. …. اس وقت وہ کسی سے ملنا نہیں چاہی تھی مگر ہانیہ کے بے حد آسرا پر وہ اب ایک ریسٹورنٹ میں ڈنر کررہے تھے. ….
اچهاااا تو تمہاری طبیعت خراب ہے. ….مجھے تو جیسے پتا ہی نہیں ہے کہ تم کب کب بیمار. ..یا. .. پریشان. .ہوتی ہو. …. دیا مجھے اچھے سے پتا ہے تمہیں کوئی مسئلہ ہے. …. کہیں اس لڑکے نے تمہیں پر تو تنگ نہیں کیا. …. اور جیسکا بتا رہی تھی تم اسی کی کمپنی میں اس کی سیکورٹی کی جاب کررہی ہو. … ہانیہ نے فاک پلیٹ میں گماتے ہوئے کہا. … نظریں اب بھی دیا کے چہرے پر مرکوز تھی. …
یار. … وہ. ….. ابھی وہ آگے بولتی کہ اس کی نظر. سامنے ٹیبل پر پرہی. …. مزمل کسی لڑکی کہ ساتھ بیٹھا. . ہنس کر بات کررہا تھا. ….
دیا کے دل میں ایک ٹیس اٹهی تھی. ….. گرے آنکھیں آنسوؤں سے بڑه گئی تھی. .. ہانیہ نے اس کے نظروں کے تعاقب میں دیکھا. …. جو جان گئی تھی. .. دیا کی پریشانی کی وجہ. ….مزمل کی نظر اس پر نہیں پرہی تھی. …. دیا سب کچھ بلائے اسے ہی دیکھ رہی تھی. … ایک آنسو چپکے سے اس کی آنکھ سے بہہ گیا تھا. ….
ہوش میں آو ….پبلک پلیس ہے دیا ..ریلکس. ..ہانیہ نے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر کہا. … دیا ہوش میں آئی تھی. ..سکتہ ٹوٹ گیا تھا. …. منظر اب بھی وہی تھا. … مزمل سامنے تھا. .. لڑکی اب اسے اپنے موبائل میں کچھ دیکھا رہی تھی. ..اس کے قریب تھی. ….. اب بس ہوگئی تھی. .. دیا ایک دم آٹھ کر باہر کی طرف چلی گئی. …
افففف …ٹیک آٹ. .. ہانیہ نے ویٹر کو پیسے دیتے باہر کی طرف بھاگی. ….
دیا. ..دیا. ..لیسن. .یار. …رکوو تو. …..ہانیہ قدرے اونچی آواز میں اسے بلا رہی تھی. ….
دیا کے نام پر اک دم مزمل پیچھے مڑا. ….. گلاس وال کے پار اسے دیا نظر آگئی تھی. …جو اب اپنے آنسو صاف کر کے. ..ہانیہ کو کچھ کہہ رہی تھی. ….مزمل کے دل کو کچھ ہوا تھا ….. وہ اب بھی ادھر ہی دیکھ رہا تھا. …. وہ دونوں اب گاڑی میں بیٹھ گئی تھی. ….. گاڑی سٹاف بهی کردی. ….. گاڑی اب روڈ پر ڈال دی گئی تھی. …. اور پهررر. …. وہ نظروں سے اوجھل بهی ہوگئی. …. مزمل اب بھی ادھر ہی دیکھ رہا تھا. …وہاں ایک اور گاڑی آکے رکی تھی. …. مزمل کا سکتہ پهر بهی نہیں ٹوٹا. ….
مزملللل …… کوئی نہیں ہے ادهررر اب. … مایا نے دانت پیستے ہوئے کہا. ….
ہا. ….ہاں ک. .کوئی نہیں ہے. .. بس ایسے ہی. … چلیں اب ہمم. … مزمل نے خود کو نارمل کرتے ہوئے کہا ساتھ ہی وہٹر کو بلا کر بل بهی پے کر دیا. ….. اور اب وہ بھی ریسٹورنٹ سے باہر آئے. …..
آج مایا کے کہنے پر مزمل اور وہ ڈنر کرنے آئے تھے. … انہوں نے تو ماہا اور احمر سے بھی کہا مگر ماہا کا موڈ نہیں تھا. .. اور احمر کو اپنے کسی دوست کی طرف جانا تھا. … تب ہی وہ دونوں آئے. ….. مزمل نے آتے وقت دیا کو نہیں دیکھا تھا. … اور دیا مایا کو اس کے ساتھ دیکھ کر غلط سمجھ رہی تھی. …..
وہ دونوں اب گاڑی میں بیٹھ گئے تھے. ….. گاڑی اب مین روڈ پر دوڈ رہی تھی. ..ہلکی ہلکی بارش شروع ہوگئی تھی. …..