62.3K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 09

گڈ مارننگ … فارس نے کرسی پر بیٹھے ہوئے کہا ، وہ سب ناشتہ کر رہے تھے،
کیسے ہو بیٹا اور آج اتنا لیٹ ہو گئے، فوزیہ بیگم نے اس کے سامنے جوس کا گلاس کرتے ہوئے کہا. .
ہاں موم بس آج لیٹ جاں گا ، اور یہ گڑیا کدھر ہے، فارس نے دیا کی خالی جگہ کو دیکھتے ہوئے کہا. .
وہ بیٹا کہہ رہی تھی کہ آج کہیں انٹرویو دینے جائے گی، اسے لینے تیار ہورہی ہے….بلکہ لو دیکھو آگئ…. انہوں نے دیا کو آتے دیکھا تو کہا. .
کیسے ہو بهیو .. آپ تو نظر ہی نہیں آتے. دیا نے ہاتھ سے فائل اور اپنا پرس ڈرائنگ ٹیبل پر رکھا اور خود فارس کے ساتھ والی کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گئی. ..
ابھی ابھی کام شروع کیا ہے اور پھر ایک پروجیکٹ مل گیا ادھر بیزی ہو گیا .. تم بتاؤ کدھر ہے انٹرویو … فارس نے برڈ کا سلائس منہ میں ڈالتے ہوئے کہا. .
دو تین جگہ ہے بهیو .. دیکھو اب کدھر جاب ملتی ہے. .. دیا نے ماں کو دیکھ کر کہا جو پہلے ہی اسے گھور رہی تھی. . جس نے وائٹ جینز پو یلو سلیو لیس سٹائلش سی شڑٹ پہنی ہوئی تھی. .. بالوں کو رول کر کے پونی میں بند کیئے … وہ کافی خوبصورت لگ رہی تھی.
دیا میں نے کتنی دفعہ کہا ہے کہ اتنے چھوٹے کپڑے مت پہنا کرو ..مگر تم ہو کہ کسی کی سنو تو. .
اففففف موم ایک تو آپ بھی نہ آپ کی وجہ سے میں نے شاڑٹس پہننا چھوڑ دیئے اور آپ اب بھی کہہ رہی ہیں. . دیا نے بڑا مانتے ہوئے کہا. .
بیٹا میں ڈرتی ہوں کہ کہیں میری بیٹی کسی مشکل میں نہ پڑ جائے. .. آج کل خوبصورت ہونا بھی جرم ہوگیا ہے … تمہیں نہیں پتا. .. کتنے درندے شرافت کا لبادہ اوڑھے کهوم رہیں ہیں . انہوں نے کھوئے کھوئے لہجے میں کہا. .
موم کیا ہوگیا ہے یارررر، میری بہن ہے .. فارس خان کی بہن کوئی ہاتھ تو لگائے میں جان لے لوں گا. . فارس نے سٹاپ
لہجے میں کہا.
اففففف آپ دونوں بھی نا. . خیر بائے موم ..بائے بهیو … میں جا رہی ہو.. دیا نے فائل اور بیگ اٹھا کر ، گاگلز لگئے اٹھتے ہوئے کہا. …
اللہ کے امان میرا بیٹا. ، فوزیہ بیگم نے اسے دیتے ہوئے کہا. . ان کا دل کافی دنوں سے بے چین تھا. .
اوکے ماما میں بھی جا رہا ہوں. . فارس نے ہاتھ منہ نیپکن سے صاف کر کے کہا. .
خیال رکھنا بیٹا..
فارس ان کے سر پر بوسہ دیتے ہوئے باہر نکل گیا.
♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥
ہاں میں نے بھی سنا ہے اس بارے میں پتا نہیں کون ہے .. ویسے جو بھی ہے … بڑا شاتر ہے …. کتنے مڈر کر دیئے مجال ہو جو اب تک پولیس کو کچھ بھی پتا چلا ہو ..
مزمل نے بھی احمر کی ہاں میں ہاں ملائی. .
لڑکا ہے کہ لڑکی. . مایا نے گلاس منہ سے لگاتے ہوئے کہا. .
یہی تو مزے کی بات ہے کہ آج تک کسی کو یہ بھی پتا نہیں چلا. . احمر نے چائے کا سیپ لیتے ہوئے کہا. .
اتنا بڑا سیلڑ کلر ہے وہ . اتنے قتل کر لیئےے اور خود بھی کہہ رہے ہو کہ جتنے لوگ مرے ان کے جسم پر ایک مخصوص نشان ہے تو کیوں پتا نہیں چلا. ماہا نے حیرانی سے پوچھا.
. وہ سب ناشتے کے لئے بیٹھے ہوئے تھے جب احمر نے کسی سیلیر کلر کے بارے میں بتایا. ..
یار وہ تو وہ خود کرتا/کرتی ہے. .. لاہے پر کچھ لکھا ہوا ہے اور وہی لوہا گرم کر کے وہ لوگوں کے جسم پر لگاتا/تی ہے. اور آج تک کوئی پڑھ بھی نہیں سکا کہ وہ لکھا کیا ہے. . احمر نے ان کی معلومات میں اضافہ کیا. .
اچھا تو چلو ایک کام کرتے ہیں ہم لوگ. .. ماہا نے فوک واپس پلیٹ پر رکھتے ہوئے کچھ سوچ کر کہا. .
نا تم اب اس معاملے میں نہ پڑو … مایا نے جلدی سے کہا. .
یار ماہی تم بھی نا. . ماہا بتاؤ کیا کہ رہی تھی. . مزمل نے ماہا کو دہکهتے ہوئے کہا جس کا منہ لٹک گیا تھا. .
اچهااا. . تو ایسا کرتے ہیں کہ ہم لوگ اس پر ریسرچ کرتے ہیں. . مطلب گوگل سے. . یا جیسے بھی کر کے. . پتا تو چلے کہ اتنا بہادر ہے کون .. ماہا نے خوش ہوتے ہوئے بتایا. .
ہاں ماہا کہہ تو ٹھیک رہی ہو .. ویسے مجھے تو لگتا ہے کہ یہ کسے مرد کا کام ہی ہو گا. لڑکیاں تو کاکروچ سے بھی ڈرتی ہیں. احمر نے آخر میں اپنے سے ہی شوشا چھوڑا ..
مجھے تو یہ کسی لڑکی کا کام لگتا ہے ، اور ہاں ہم سب اپنا اپنا کریں گے. .، مطلب کہ میں الگ ماہا الگ اسی طرح تم دونوں بھی الگ الگ. دیکھتے ہیں کہ پہلے کون اس تک پہنچتا ہے. .مایا نے احمر کو آنکھیں نکالتے ہوئے کہا
ہاں یہ ٹھیک ہے. .. اور دیکھ لینا کوئی تگڑا سا مرد ہی نکلے گا. ..یہ کام تم لڑکیوں کے بس کے نہیں ہیں. .. کہاں تم لڑکیاں اور کہاں کلر . تم لوگ تو کسی کو کل کرنے سے پہلے خود ہی نہ ہوجاو. .. احمر نے بٹر سے برهی برڈ منہ میں ٹهوستے ہوئے. بے فکری سے کہا. .
احمرررررر … اٹهو نکلو جلدی … ہمیشہ کی طرح گاڑی میں کھانا جو رہ گیا. . مایا نے اٹھتے ہوئے کہا. . غصہ ت پہلے ہی وہ دلا گیا تھا…. کہاں وہ برداشت کرتی کہ وہ لڑکیوں کو ڈرپوک کہہ رہا تھا. .
اچھا یار چلو. . کھانے تو تم نے مجھے دینا نہیں ہے. . احمر نے دو برڈ پر سٹابری جیم لگاتے ہوئے آٹھ کرکہا. .
تم جاو گی. . مزمل نے ماہا کے پوچھا کیوں نہ وہ دو دن سے نہیں گئی تھی اسے احساس ہوگیا تھا کہ اس نے کافی بدتمیزی کی تھی فارس سے. .
ہاں نکل رہی ہوں ، ماہا نے بھی اٹھتے ہوئے کہا. .
آج کا دن شروع ت اچھا ہوا ہے اللہ کرے آگے بھی اچھا ہو .مزمل نے ہاتھوں سے بالوں کو سیٹ کرتے ہوئے خود سے ہی کہا. کیونکہ آج انہوں نے شاید پہلی دفعہ یوں بیٹھ کر ماضی کے علاوہ کسی بات پر بهس کی تھی ورنہ تو ان کا رشتہ کافی گہرا ہونے
باوجود کافی سرسرا سا تھا. صرف لین دین کا ہی. مزمل سوچتے ہوئے باہر پورچ میں کھڑی گاڑی تک آگیا تھا. باقی تینوں کب کے نکل گئے تھے.
♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥
سر میں آجائوں .. مارک نے فارس کے آفس میں داخل ہونے سے پہلے پوچھا. .
ہاں آئو میں کب سے تمہارا ہی انتظار کررہا تھا.. اور کہاں تھے اتنے دن تمہیں پتا ہے کتنا اہم کام دیا تھا میں نے تمہیں . فارس نے اسے دیکھتے ہی اپنے ازلی سٹاپ لہجے میں کہا،
سوری سر آپ کو انتظار کرنا پڑا. . میں آپ کے کام میں ہی مصروف تھا. .. یہ رہی مس ہیر کی فائل اس میں وہ سب ہے .، جو مجھے مل سکا. . سوری سر ہمیں زیادہ تو کچھ بھی معلوم نہیں ہوسکا …بچپن کے بارے میں تو کچھ بھی نہیں کیونکہ میم کا بچن پاکستان میں گزرا ہے وہ ادھر تب ائی تھی جب ان کے ماں باپ کا قتل ہوا یہ تو نہیں پتا چلا کہ کیسے ہوا کچھ کا کہنا ہے کہ ایکسیڈنٹ ہوا تو کہیں سے پتا چلا کہ بےدردی سے قتل ہوا . ان کے بارے میں ہر کوئی الگ لگ کہانیاں ہی سنا رہا تھا. … اور سر … ..وہ. . میڈم نے اپنے بارے میں ادھر جو کچھ بھی بتایا وہ سب بالکل جھوٹ ہے. .. بلکہ نام بھی غلط ہے. .. ان کا نام ہیرر نہیں ماہا سلطان ہے …. سلطان انڈیسٹرز جو بزنس پوری دنیا میں پھیلا ہوا ہے ، ان کے مالک ثاقب سلطان کی بھتیجی ہیں … ایک اور بھائی بھی ہے. . . . انہوں نے اپنے بھائی کے ساتھ اپنا بزنس حال ہی میں شروع کیا ہے پھر نہ جانے کیوں وہ ادھر آگئی … مارک نے زمین پر نظریں گارے ہوئے ساری باتیں فارس کے گوش گزار دی
جائو تم … فارس نے بمشکل خود پر کنٹرول کرتے ہوئے کہا. . جی سر مارک کہہ کر باہر نکل گیا تھا. .
اتنا بڑا دھوکہ اتناا بڑا … اپنا نام تک جھوٹ بتایا. … تم کون ہو ہیرر کیوں آئی ہو میری پرسکون. …. ہاہاہا خیر پرسکون تو تھی ہی نہیں میری زندگی کبھی مگر تم نے آکر مجھے اور بے چین کر دیا ہے. … فارس نے بے بسی سے چیئر کے بیک سے ٹیک لگا لی .. جب دور سے اسے ماہا آتی دکھائی دی … بلیک سٹائلش شرٹ. . بلیک جینز . بلیک ہی سپورٹ شوز پہنے. . بالوں کو درمیان سے مانگ نکالے، کهلا چھوڑے .اپنی نیلی آنکھوں کو گاگلز سے چهپائے وہ جیکلین سے بات کررہی تھی .. پہلے تو اسے دیکھ کر فارس کو سکون ملا مگر … کچھ ہی پل. …. یک دم اسے مارک کی بولی گئی ساری باتیں یاد آئی اس کا دماغ ہی گھوم گیا. .. وہ ایک دم اٹھا تھا. . باہر نکل کر ماہا کی طرف بڑھا … ماہا نے اسے دیکھ کر اگنور ہی کیا. … فارس تب تک اس کے سر پر پہنچ گیا تھا
آفس میں آئیں. . فارس کہہ کر پلٹنے لگا تھا جب جب ماہا کی بات سے طیش میں آگیا..
سر ابھی مجھے کوئی کام ہے میں تھوڑی دیر بعد آتی ہوں،
فارس نے مڑ کر اچانک اس کے بازو سے پکڑا ! چھوڑو مجھے .. تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھے یوں ٹریٹ کرنے کی ماہا نے خود کو فارس کی گرفت سے نکالنے کی کوشش کی مگر ناکام رہی ،
وہ اسے گھسٹتا ہوا آپنے آفس میں لایا تھا ، ایک جھٹکے سے اسے چھوڑ کر لاک لگایا. ماہا نے بمشکل خود کو بچایا ورنہ وہ سیدھی زمین پر گرتی،
تم. .تم پاگل ہو گئے ہو. .. جنگلی انسان تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھ سے سختی سے پیش آنے کی میں نے پہلے بھی تمہیں کہا تھا میں تمہاری غلام نہیں ہوں جو تم نجوم مرضی کرتے پھرو. .. دوبارہ ایسی ہمت بھی نہ کرنا ورنہ انجام کے زمے دار خود ہو گے ، اور اگر مسئلہ ہے مجھ سے تو بکو میں 3 کے بجائے 6 کروڑ دے دوں گی مگر غلامی مجھے بالکل نہیں پسند. . ماہا نے آگے بڑھ کر اس کا کالر پکڑ کر تقریباً چلاتے ہوئے کہا، آخر کب وہ اسے رویے کی عادی تھی جو سہہ لیتی،
اوووو اس کے ہونٹوں کو گول کرکے کہا،
تو میڈم اونچی آواز برداشت نہیں کرتی ،ہممممم آئی سی. اور مجھے پتا ہے بہت پیسہ ہے میڈم کے پاس. . مگر میڈم بیکهاری میں بھی نہیں ہوں تو یہ پیسے کا زور کسی اور پر آزمانا. . اور جہاں تک غلامی کی بات ہے تو تم میری غلام ہو. ..
فارس نے بھی غصے سے اس کے ہاتھ اپنے کالر سے ہٹاتے، کہا،
وٹ ایوررر. .. پاگل. سائیکو . جنگلی … ماہا نے ناگواری سے کہہ کر باہر جانے کے لیے قدم اٹھائے، ابھی ہی تو اس کے دل میں فارس کے لیے نرم گوشہ بنا تھا. .. وہ سوچنے لگی تھی. . آج ایک عرصے بعد اس کی آنکھوں میں نمی آئی تھی جس سے ابھی وہ انجان تھی. . اس نے دروازہ کھولنے کے لیے ہینڈل پر رکھا تھا جب فارس کے الفاظ نے اسے ٹهٹهکنے پر مجبور کر دیا.
میں تمہاری اصلیت جان چکا ہوں. .ہیرر. ..،، اوپسسس سوری. ….. ماہا شہریار سلطان. ..ناک ہیر درانی. .. ایم آئے رائٹ. …؟؟ کیوں
. جھوٹ بولا ہاں تمہیں کیا لگا تم کب تک اس جھوٹ کے ساتھ رہو گی … مجھے تو لگا تھا کہ تم مجھے پاگل صرف بولتی ہو مگر ہی. … سوری ماہا. .، تم نے تو مجھے سچ میں پاگل ہی سمجھ لیا. . اب بتاؤ کیوں جھوٹ. . کیا ارادہ ہے تمہارا. .. کیوں آئی ہو، ہاں بولو. . فارس نے اس کو بازو سے سختی سے پکڑتے ہوئے کہا، ،
ن نہیں ہوں م میں تمہیں جوابدہ، وہ پہلے تو دهنگ ہی رہ گئی تھی فارس کے منہ سے اپنی سچائی سن کر. .پھر خود کو نارمل کرتے اس کی گرفت سے اپنا بازو نکالتے قدرے اونچی آواز میں کہا. .
ہو. ہو تم جوابدہ تم مجھے. . میری کمپنی میں. .. میری پرسنل سیکرٹری ہو کر. .. آف کے کمپنی کی ورکر ہو کر تم کیسے کہہ سکتی ہو کہ تم جوابدہ نہیں ہو. جوابدہ ہو تم. … اور جواب دو گی تم مجھے. ابھی اور اسی وقت. . فارس نے تقریباً چیختے مگر دھیمی آواز. میں اس کے بازو سے کهنچتے اسے اپنے اور قریب کر کے کہا ‏
“مجھے معلوم تھا محسن ،وہ میرا ہو نہیں سکتا…… 🔥
مگر دیکھو ،مجھے پھر بھی محبت ہو گئی اس سے ….
چھوڑو مجھے .. اس نے کسی ہارے ہوئے انسان کی طرح کہا … اس کی آنکھوں میں نمی بڑه آئی تھی ..
مجھے جواب چائیے ہیر بولو کیوں جھوٹی پہچان بتائی. .
کیونکہ نہیں بتانا چاہتی ہوں کسی کو اپنی پہچان. .. مجھے اپنی زندگی جینی ہے اپنی مرضی سے. … جہاں جائوں باپ یا تایا کے حوالے سے جانی جاتی ہوں اسے لیے اپنی الگ پہچان بتائی. … اور کیا بتاؤں. . جو پوچھنا ہے جلدی پوچھو. . ماہا سے جو بن پایا وہ بول گئی. .
تم مجھے بتا بھی سکتی تھی. . فارس نے اس کے بازو پر گرفت مضبوط کرتے ہوئے دهمی مگر غصیلی آواز میں کہا. .
سیییی .. بازو پر گرفت سخت ہوتے ہی اس نے تکلیف سے آنکھیں میچی. . ایک قیمتی آنسو آنکھوں کے بار توڑ کر بے مول ہوا تھا. .
ایک دم جیسے ہوش میں آئی تھی. ..
تم پیچھے ہٹو وحشی انسان . درندے ہو تم بھی اپنے باپ کی طرح. .. تم لوگ ہوتے ہی بے حس ہو. . تم لوگ بھول جاتے ہو کہ بہن بیٹی تم لوگوں کے گھر میں بھی ہے .. تم لوگوں کو صرف نوچنا آتا ہے. … ت تم پر بھی تمہارے باپ کے خون کا اثر ہوگا…. ہٹو اب
وہ جو اس کے آنسوؤں سے تر چہرے میں کھو گیا تھا اس کے لفظوں سے اسے ہوش کی دنیا میں پٹخا تھا. . بازوں پر گرفت ہلکی …اور ہلکی…. پھر پوری طرح ختم ہو گئی تھی. … وہ تو اس سے حساب کرنے آیا تھا ی کیا اس نے تو اسے ہی کہٹری میں کا کهڑا کیا تھا. .. اس نے بے یقینی سے اپنے ہاتھ کو دیکھا جو خالی تھا. .،، بلکل خالی. .. ماہا کب کی جا چکی تھی. ..
باپ کی طرح وحشی. … اس کے ہونٹ بڑبڑائے. .
ی یہ بات ہیر کو کیسے. .. یہ تو صرف میرے علاوہ دو ہی لوگوں کو پتا تھی. …پھر ہیر کو کیسے. .. اس نے حیرت سے دروازے کو دیکھ کر کہا جہاں سے ماہا گئی تھی.
، مجھے بابا سے پوچھا پڑے گا …. ہاں مجھے بابا ہی بتائیں گے اب. . فارس نے خود سے ہی کہا پر گاڑی کی چابیاں اٹھا کر باہر باگا. ..
………..
مجھے کچھ نہیں پتا مجھے جاننا ہے کہ آپ کے کئے گئے گناہ کا کس کس کو پتا تھا. . فارس اس وقت اپنے باپ کے آفس میں بیٹھا ان سے پوچھ رہا تھا .ان کا تو یہ بات سن کر ہی رنگ فقت ہوگیا پہلے تو وہ صاف، مکر گئے مگر پھر انہوں نے حامی بھر لی. .
یہ سب تمہیں فوزیہ نے بتایا ہے نہ. . انہوں نے سگریٹ کا کش لیتے ہوئے عام سے لہجے میں کہا.
مجھے میرے سوال کا جواب دین اور موم نے مجھے کچھ بتانا ہوتا تو پہلے بتا ردیتی، ،
فارس نے خو پر کنٹرول کرتے ہوئے کہا. .
میرے اور اسلم کے علاوہ کوئی بھی نہیں جانتا. .. وہ بچے تھے اس کے انہیں بھی مار دیا ..کوئی بھی نہیں بچا. .
مزمل نا ان دونوں کو پیچھے بیٹھے کا کہا تھا اور خود چهپ کر دیکھ رہا تھا وہ جا کر اپنی ماں باپ کو بچانا چاہتا تھا لیکن وہ جانتا تھا کہ وہ اکیلا کچھ نہیں کر سکتا اس کے ساتھ اس کی بہنیں بھی تھی وہ ان کو لے کر کوئی رزک نہیں لے سکتا تھا ،
آاااا پورا منشن چیخوں سے گونج اٹھا تھا ، آس آدمی نے اس کی ماں کو سامنے صوفے پر رهکا دیا تھا اور اس کے کپڑے نوچ رہا تھا اور پھر اس کے اوپر جھک گیا تھا
شہریار نے اپنی آنکھیں بند کر دی تھی وہ اپنی بیوی کے ساتھ زیادتی ہوتی کیسے دیکھ سکتے تھے ، اس کی ماں کی چیخیں گونج رہی تھی ، مہوش اب شاید ہلکی ہلکی سانسیں لے رہی تھی،
جب گھر میں دو بچے بھاگتے ہوئے داخل ہوئے تھے، ماا مااا ، بھاگتے ہوئے اندر آئے تھے سامنے کا منظر دیکھ کر کانپ گئے تھے وہ بھاگنے ہی والے تھے کہ ایک آدمی نے آگے بڑھ کر ان کو پکڑ لیا تھا ، ہا ہا ہا تو یہ ہیں بچے تمہارے بچے ، ایک آدمی نے بچے کو پکڑتے ہوئے کہا تھا. مہوش پر جھکا شخص بھی اب اٹھ گیا ت، یہ یہ نہیں ہیں ہمارے بچے پلیز انہیں چھوڑ دو ،
شہریار اک دم ہوش میں آیا تھا ، وہ ان معصوم بچوں کو مرنے نہیں دینا چاہتا تھا ، ہا ہا ہا بیشک جھوٹ بول لو ان دونوں کو مرنا ہوگا وہ دونوں بچے ڑر سے رو رہے تھے ،
تب ہی گولیوں کی بوچھاڑ کر دی تھی اس آدمی نے معصوم بچوں پر وہ دونوں تڑپتے ہوئے زمین پر گر گئے تھے ، شہریار نے کرب سے آنکھیں بیچ لی تھی مزمل چہا کر بھی نہیں بچا سکتا تھا اسے یاد تھا جب اس کے باپ نے اسے کہا تھا کہ کچھ بھی وہ جائے اپنی بہنوں کو اکیلے نہیں چهورنا اور وعدہ لیا تھا کہ ان میں اور ماہا مایا میں سے کسی ایک کو بچانا پڑے تو وہ اپنی بہنوں کو بچائے گا، وہ ادھر ہی خاموش ہو کر اپنے ماں باپ کو مرتے دیکھ رہا تھا. . لیکن بیٹا میں. …. بسسسس .. اور کچھ نہیں کہنا. ..مر گیا آپ کا بیٹا آپ کے لیے مجھے تو اب اپنی بہن کی فکر ہورہی ہے کہ کہیں آپ کے گناہوں کی سزا میری معصوم بہن کو نہ ملے. .. فارس نے چہرے پر ہاتھ پھیر کر خود کو نارمل کرنا چاہا. . اور نا جانے کیا سوچ کر اچانک آٹھ گیا. . خدا حافظ. . وہ کہہ کر بہر نکل گیا. پیچھے صدیق صاحب نے بے فکری سے ایک اور سگریٹ نکل لی
♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥
وہ ابھی ہی آفس پہنچی تھی یہ تیسری جگہ تھی پہلی دونوں جگہ جاب اسے خاص پسند نہیں آئی تھی اس نے سوچ لیا تھا کہ اب یہ جاب ڈن ہے. .
وہ ویٹنگ روم میں 3، 4 اور لڑکیوں کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی گئی واپس چلی گئی تھی منہ بنا بنا کر. . .کہ باس کو کوئی پسند ہی نہیں آرا مینجر کی سیٹ کے لیے جو کچھ دن پہلے ہی ریزائن دے گیا تھا. .
مس دیا .. اس کا نام اناؤنس ہوا تھا وہ جلدی سے آٹھ کر آفس کی طرف بڑھ گئی. .
مے آئے کم ان سر. .. فارس کے پاس پہنچ کر اس نے دروازہ ناک کر کے کہا
جانی پہچانی آواز سن کر اس نے ایک دم دروازے کی طرف دیکھا، …. اور حیرت سے دیهتا ہی رہا … مطلب کہ جیسے دیکھنے کے لئے وہ کتنے پاپڑ بیلتا تھا وہ اس کے سامنے اس کے آفس میں جاب لینے آئی. . یک دم وہ ہوش میں آیا.
کم ان. .. سنجیدگی سے جواب دیا. .
ہیو آ سیٹ. . بنا اسے دیکھے کہا تھا. . جو اسی کو دیکھ رہی تھی یا شاید پہچاننے کی کوشش کر رہی تھی کہ پہلے کدھر دیکھا جناب کو. . یاد آتے ہی غصے سے سیٹ پر بیٹھ گئی. ..
ہمم کب سے کریں گی جوائن .. اس نے ایک سرسری نظر فائل پر ڈالتے ہوئے کہا. جاب تو دینی ہی تھی اسے تو پھر زیادہ کیو گھماتا. .
چلیں آپ کل سے ہی جوائن کرلیں. . اس کے کچھ بولنے سے پہلے ہی خود فیصلہ سنا دیا. . آپ جائیں آپ کو امپائیمٹ لیٹر مل گا. فائل واپس اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا . جو منہ کھولے اسے ہی دیکھ رہی تھی
لیکن سر انٹرویو. .. دیا نے پریشان ہوتے ہوئے کہا. .
آپ کی سی وی ٹھیک ہے. . انٹرویو کی کوئی خاص ضرورت نہیں ہے. . مزمل نے بغور اسے دیکھتے ہوئے کہا.
اوکے سر چلیں پھر میں کل ہی سے جوائن کروں گی. . دیا نے فائل اٹھاتے ہوئے کہا. .
ہممم اوکےے بائے مزمل دوبارہ لیپ ٹاپ میں مصروف ہوگیا تھا .مگر دھیان اس کی طرف ہی تھا جو اب باہر نکل رہی تھی. ..
دیا … تو تم خود ہی میرے پاس آگئی. . ہممم ناک بیڈ. .. اب دیکھتا ہوں تمہیں کون بچا سکے گا مزمل سلطان سے. ..، تمہیں میں بہت جلد اپنا بنا لوں گا. . تمہارے باپ کے کئے کی سزا تمہیں ملے گی دیا. . تم آپنی بربادی کی طرف خود آئی ہو …..اب بچ نہیں سکو گی. …اپنے باپ کے ماضی سے. … مزمل نے اپنی رولنگ چیئر کے بیک سے ٹیک لگا کر سوچا. .. فتح مندی کی مسکراہٹ اس کے چہرے پر رقص کررہی تھی. ..
♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥
نہیں مجھے سچ میں ایسا لگتا ہے کہ تم جو دکھتی ہو وہ ہو نہیں. . مطلب کچھ تو ہے جو تمہیں اندر ہی اندر تنگ کر رہا ہے. .. جو تم کسی کو بتا نہیں سکتی. …
امیر اور مایا اس وقت ایک فائو سٹار ریسٹورنٹ میں بیٹھے ہوئے تھے. .
اور تمہیں ایسا کیوں لگتا ہے. . مایا نے فاک سے چیکن کا روسٹ پیس منہ میں ڈالتے ہوئے کہا. حیران تو وہ ہوئی تھی کہ اس نے کیسے اس کے اندر کا حال جان لیا. .
بس لگتا ہے مجھے کہ تم بہت گہری ہو .. ایسا لگتا ہے کہ تمہاری هنسی کھوکھلی ہے مطلب تم خود کی تکلیف چھپانے کے لیے ہنستی ہو. . سچ بولنے سے ڈرتی ہو اپنے معاملے میں … خود کی اصل زات کو بالکل ہی پوشیدہ کر دیا ہے. ،. ازمیر نے بغور اس کا جائزہ لیتے ہوئے کہا. وہ آج بھی اپنے مخصوص بلیک بزنس سوٹ میں تھی ازمیر نے بھی بلیک ٹو پیس کے نیچے بلیک ہی شرٹ پہنی ہوئی تھی.
تم نے کیسے جان لیا وہ جو میں خود نہیں مانتا چاہتی .. فاک واپس پلیٹ میں رکھ کر اب پوری طرح اس کی طرف متوجہ ہوئی تھی جو پہلے ہی اس کی طرف متوجہ تھا. .
تمہیں پتا ہے کہ تم نا اکثر خاموش رہتی ہو اور خاموشی اکثر اوقات سچ کا گلا گھونٹ دیتی ہے. . چهپ سا جاتا ہے سچ .. اور شاید تم بھی اپنا سچ چھپانا چاہتی ہو .. ازمیر اب سامنے روڈ پر دیکھ رہا تھا .. وہ باہر اوپن جگہ پر بیٹھے ہوئے تھے ، موسم خوشگوار تھا کافی…..
کچھ سچ بہت کڑوے ہوتے ہیں … بہت کڑوے ازمیر. ….. اتنے کے زبان سے ادا ہوتے ہی اگلے کا قتل کر سکتے ہیں. . محبت کا. .. مان کا. .. بھروسے کا. … بنا زہر کے. .. مقابل سانس تو لیتا نظر آتا ہے ، مگر اصل میں وہ مر چکا ہوتا ہے. .. اسی لیے کچھ سچ پوشیدہ ہی رہنے چاہیے. . اور وقت پر ہی ان کو فاش کرنا چاہیے. . وہ دونوں اب اٹھ گئے تھے. .. ریسٹورنٹ سے. . فٹ پاتھ پر چل رہے تھے .. ازمیر کی ہی فرمائش پر وہ پیدل آئے تھے اب واپس بھی پیدل ہی جا رہے تھے.
تم شاید نہیں جانتی کہ موت اکثر نئی زندگی کی شروعات ہوتی ہے. … کبھی کبھی جینے کے لئے مرنا ضروری ہوجاتا ہے. … تمہیں پتا ہے .. زندگی سے زیادہ بے وفا کوئی نہیں ہوتا. … یہ صرف اسی سے وفا کرتی ہے. . جن کے پاس پیسہ ہو. . پیسہ نہیں تو آپ کی قدر کوئی نہیں کرتا. .. میں نے اکثر سنا ہے کہ خوشیاں پیسے کی متہاج نہیں ہوتی. … لیکن میرا خیال ہے کہ پیسے کے بغیر کوئی خوشی خوشی نہیں ہوتی. .. اب دیکھو نا میرے پاس. ..تمہارے پاس. . بہت پیسہ ہے. . ہمیں کل کی کوئی فکر نہیں کہ کل کیا ہوگا. . کیونکہ ہمیں پتا ہے کہ پیسہ ہمیں ہر مشکل سے نکال لے گا. . ہمارے پاس اتنا پیسہ ہے کہ ہم روز سو دو سو لوگوں کو اچھا کھانا کھلا سکتے ہیں مگر نا جانے ہم ایسا کیوں نہیں کرتے … کتنے لوگ ہیں جو سہی سے کها نہیں سکتے ہم نہیں مدد کرتے کسی کی بھی. ..ازمیر سامنے دیکھے کسی ٹرانس کی کیفیت میں بولے جا رہا تھا. .
ہمیں پہل کرنی چاہیے ازمیر پهر دوسرے کریں گے نا. . مایا نے ہوا سے چہرے پر آتے بالوں کو کان کے پیچھے کرتے ہوئے کہا. .
ہمم سہی کہہ ری ہو ہم کریں گے. . خیر کس بات سے کس بات پر پینچ آئے. . ازمیر نے ہنستے ہوئے کہا. وہ اب آفس میں پہنچ آئے تھے. .
چلو میں اب جاو. .. مایا کہتے اپنے آفس کی طرف چلی گئی پیچھے ازمیر بھی اپنے آفس کی طرف مڑ گیا. ..
پیچھے کھڑے احمر نے غصے سے مٹھیاں بیهچ لی. .. وہ کب سے دیکھ رہا تھا ان دونوں کو بات کرتے آتے. .
نہیں ازمیر نہیں میں تمہیں مایا کو خود سے چھیننے بلکل بھی نہیں دوں گا وہ صرف اور صرف احمر سلطان کی ہے اور یہ بات میں تمہیں بہت جلد بتا دوں گا. . احمر نے جنونی انداز میں کہا. .
♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥
وہ ابھی ہی واپس آئی تھی .. موبائل اور گاگلز اٹھا کر دیوار پر ماڑے تھے … اآآہ . ڈریسنگ ٹیبل سے سب کچھ اٹھا کر نیچے پھنکا تھا. . اتنے قیمتی قیمتی پرفیومز .. میک اپ. .. سب کچھ ہی توڑ دیا تھا. . برانڈ پرفیومز کی خوشبو ہر طرف پھیل گئی تھی. .
اسے نہیں پتا تھا کہ اسے اپنا غصہ ہے کس پر. . فارس کے رویے پر یا خود کی سچائی پتا لگنے پر. … اس کا سر درد سے پھٹ رہا تھا. …
وہ اپنا غصہ چیزوں پر نکالنے کے بعد اب شاور لینے واش روم میں بند ہوگئی تھی
♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥
موم. .. موم. … فارس نے آنے ساتھ فوزیہ بیگم کو بلایا. ..
کیا ہوا میرا بیٹا کیوں چلا رہے ہو ، انہوں نے آتے ساتھ ہی کہا. .
موم میری گڑیا کدھر ہے مجھے ابھی بات کرنی ہے اس سے. جلدی بلائیں اسے … فارس نے صوفے پر گرتے ہوئے انداز میں بیٹھا. ،
کیا ہوا بهیو کیوں اتنے غصے میں ہیں. . دیا ابھی کچھ دیر پہلے ہی سے آئی تھی. . اب فارس کی آواز سنتے ہی نیچے آگئی. .
بهیو کی جان .. کیسی ہے. . اور جاب کا کیا بنا. . فارس نے اسے اپنے ساتھ گاتے ہوئے کہا. .
مل گئی جاب چھوڑیں اسے آپ نا مجھے آج لنچ کروانے کے لیے بلکہ موم کو بھی لے کر جائیں. .. دیا نے پوچھا نہیں تھا سیدھا حکم دیا تھا، ،
اوکے چلیں گے مگر پہلے میری بات سنین، …. آج کے بعد آپ کهر سے اکیلی باہر نہیں جاو گی میں نے گارڈز ہائر کر دیئے ہیں ..، جب بھی کہیں گئی .. بیشک ہی. . ہانیہ یا. . جیسکا کے ساتھ ہی کیوں نہیں .. گارڈز ساتھ لے کر جائو گی. . میں نے موم کی باتوں پر گور کیا ہے تب کہہ رہا ہوں. .. فارس نے ساتھ وجہ بھی بتا دی کہ کہیں یہ نہ سمجھ لے کہ اسے اس پر بھروسہ نہیں ہے. .
ہمممم . اچھا مگر بهیو. .. گارڈز میری گاڑی میں نہیں بیٹھے گے میری گاڑی کے پیچھے بے شک ہوں. . دیا نے اپنی شرط بھی بتا دی. ،،،
اوکے بهیو کی جان اب جائو تیار ہوجاو ..پهر لنچ کے لیے چلتے ہیں. .. موم آپ بھی تیار ہوجائی. .
فارس نے فوزیہ بیگم کو بھی مخاطب کیا جو فارس کی بات سن کر کافی مطمئن ہوگئی تھی. .
اوکے چلو. . وہ سب اپنے اپنے کمروں میں تیار ہونے چلے گئے. .