Tu Bewafa Na Tha by Sandal readelle50033 Episode 21
Rate this Novel
Episode 21
دس پیرا_ میڈے مونڈھیاں تے
میڈے یار دِی چادر کد چڑھ سی؟
میں دھاگے بَنھ بَنھ تھک گئی ہاں
مَیکوں دَھاگیاں والا_ کَد لَبھ سی؟
وہ آج واپس آگئی تھی خان ویل… صدیق خان کی تو مانوں عید ہوگئی تھی. ..اس کی لاڈلی بیٹی سہی سلامت اسے مل گئی تھی. … مگر دیا ان سے بکلک سرسری سا ملی تھی پھر سر درد کا کہہ کر اپنے روم میں آگئی تھی. .. فوزیہ بیگم تو پہلے بھی بات نہیں کرتی تھی تب ہی وہ بھی اپنے کمرے میں آگئی. … کافی دفعہ فارس کا نمبر ڈائیل کیا مگر بے سود. ….آف جارہا تھا. …
آج صبح ہی سحر نے اسے کہا تھا کہ وہ واپس جا سکتی ہے. .. مگر وہ زرا نہیں آنا چاہتی تھی. …. مگر مجبور تھی ساری زندگی ہوٹل کے روم میں تو گزار نہیں سکتی تھی تب ہی چارو نا چار گھر آگئی. … فارس کو کال کی مگر اس کا نمبر آف جارہا تھا. … اب فارس ہی رہ گیا تھا اس کا بھائی. …. اسے کسی کے سہارے کی ضرورت تھی. … کسی سے بات کرنا چاہتی تھی. ….. موم پہلے ہی بیمار تھی اوپر سے فارس کے لیے پریشان تھی کہ وہ گیا کدھر. ….. انہیں بھی عینا نے سب بتا دیا تھا کہ وہ لوگ کون تھے اور کیوں انہیں ادھر لائے تھے. …. کوئی بھی بات چھپائی نہیں تھی. .. وہ بھی پہلے سے جانتی تھی کہ مکافات عمل ہونا تھا. ….
وہ رونا چاہتی تھی ….. کافی دیر تکیئے میں منہ دیئے روتی رہی تھی. … سر درد سے پھٹ رہا تھا. … اس نے نیند کی گولی لی اور اپنی زندگی کو سوچتے سوچتے ہی سو گئی تھی. …..
♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥
ماہااااااا. ….ماہااااا وہ اونچی اونچی آوازیں دے رہا تھا …… اسے وہ فوت کو گیا تھا ماہا سے ملنے مگر اسے وہاں نا پا کر وہ واقعی میں پریشان ہوگیا تھا. .. پھر وہ سلطان ویلا بھی گیا کا کہیں وہ وہاں نا وہ مگر وہ وہاں کہیں نہیں تھی. …. تب سے اس نے اپنے کافی بندوں کو اس کے ڈھونڈنے کے لیے بولا تھا. … رات تو اسے کچھ نہیں پتا چلا مگر اب صبح اسے ایک بندے نے اسے ماہا کا بتایا تھا. …
وہ سب چھوڑتا یہاں پہنچا تھا. … ایک کھلا ویران میدان سا تھا. ….. اسے دور آگ لگی ہوئی نظر آئی تھی …وہ اس طرف بھاگا تھا. …..
اٹهاو اسے ہاسپٹل لے کر جاو جلدی. …. وہ زمین پر اوندھے منہ گرے فارس کی طرف اشارہ کرتے اپنے بندوں سے اسے اٹھانے کا بالا آگے بڑھا تھا. .کچھ لوگ فارس کو اٹھا کر لے گئے تھے ت کوئی آریان کے ساتھ ہی آگے بڑھ گئے تھے. …..
ماہااااااا. ….. ی. ..ی. …یہ کیسے. .. پانی لاو … پانی کا انتظام کرو جلدی. ….. وہ آگے بڑھا تھا کہ اسے آگ کے بیچ و بیچ ماہا کرسی پر بندھی ہوئی نظر آئی شاید بہوش تھی تو ہی ایک طرف سر گرا ہوا تھا. … آگ بہت زیادہ ہے نہیں بڑھی تھی مگر کم بھی نہیں تھی. …. وہ بھی ماہا کو اس طرح دیکھ کر پہلے بیٹنگ یقین ہی نہیں آیا. …پھر وہ چلا کر بولا تھا. …
سر…. سر کیا کررہے ہیں. …. سر آگ زیادہ ہے نقصان ہوجائے گا. … اس کے ایک وفادار نے اسے آگ کی طرح بڑھتے دکھتے ہوئے کہا تھا. ..
مگر وہ سامنے پڑہے سٹول چڑ کر آگ سے اندر گود گیا تھا. … اس کی گرے شرٹ کو آگ لگ گئی تھی. … جبھی اس نے وہ اتار کر دور پھینک دی تھی. .. اب وہ بلیک پینٹ اور بلیک ہی بنیان میں تھا. …
ہیے ماہا. .. ویک آپ؟ آپ نے ماہا کے ہاتھ پاوں کھولتے کہا تھا. … ..
اٹهو. …پلیززز اٹهو. …ماہااااااا وہ اسے لے کر نیچے بیٹھا تھا. . اس کا سر اپنی گود میں رکھ کر اس کے گال سہلا رہا تھا. … آنکھوں میں نمی تھی. … آگ ان کی طرف بڑھ رہی تھی. …تب ہی کچھ لوگ پانی کی بالٹیاں لے کر آئے تھے. .. یہ جگہ تھوڑی ویران تھی تب ہی دیر لگئی تھی. .. انہوں نے پانی پھینکتے ایک جگہ سے آگ ہٹانے کی کوشش کی. …. ختم ہو خیر نہیں ہوئی تھی مگر. .کم ضرور ہوگئی تھی. ..تب ہی آریان اسے اٹھا کر باہر نکلا تھا. ….
پانی دو ادھر. … اس نے اپنے آدمی کے ہاتھ سے بالٹی لے کر نیچے رکھی تھی. .. اور پھر اپنے ہاتھ میں پانی بھر کر اس کے چہرے پر چھڑکا تھا. …
وہ کھانستے ہوئے آٹھ گئی. … اور گهوئی گهوئی سی ادھر ادھر دیکھ رہی تھی. ….
تم ٹھیک ہونا. …. آریان نے اسے سختی سے خود میں میچ لیا تھا. ….
رو کیوں رہی ہو ماہا. .. خبر اسے اپنا سینا بهگیتا ہوا محسوس ہوا تب ہی اسے اسے خود سے تھوڑا دور کرتا تڑپ کر بولا تھا. ..ماہا یک دم ہوش میں آئی تھی. .. نیلی آنکھیں بے دردی سے صاف کرتی اٹه گئی تھی. ….
آریان بھی ساتھ ہی اٹھ گیا تھا. ….
وائیٹ شرٹ پینٹ. ..جو جگہ جگہ سے گندی ہوئی تھی. .. دهویں سے زیادہ کالی بهی ہوگئی تھی. .. چہرہ بھی کافی گندہ ہوا تا. … اس نے پاس پڑہی بالٹی سے پانی بھر کر پانی سے منہ رگڑ رگڑ کر دهویا تھا. .. اسے اب بھی فارس کا دهکتا لمس محسوس ہورہا تھا. ..جسے وہ محسوس نہیں کرنا چاہتی تھی. …..
چلو ….. آریان نے اس کی ہاتھ پکڑتے. .. اپنے ساتھ کهنچتے ہوئے لمبے لمبے ڈانگ بهڑتا. .. گاڑی کی طرف بڑھا تھا. …
وہ بےیقینی سے اسے دیکھ رہی تھی.
… بیٹھو اب ادھر. … آریان نے گاڑی کا دروازہ کھول کر اسے فرنٹ سیٹ پر بیٹھاتے ہوئے دروازہ بند کر دیا. . خود آکر ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی. …… ماتھے پر بے شمار بل تھے. .. چہرے پر بلا کی سنجیدگی. …اسی لیے ماہا چپ ہوگئی تھی… کچھ وہ ابھی کسی سے بات بھی نہیں کرنا چاہتی تھی. .. ورنہ اس کی اچھی کلاس لتی. .
ادھر آریان یہ سوچ سوچ کر ہلکان ہورا تھا کہ اگر وہ نہ پہنچتا تو اب تک ماہا کدھر پہنچ گئی ہوتی. .. اور پھر فارس. … اس نے پہلے بھی جب ماہا کو ہاسپٹل لے کر گیا تھا اس سے پہلے وہ ادھر اس کے ساتھ فارس کو دیکھ چکا تھا. .. مگر وہ اسے زمین پر دھکا دے کر جا چکا تھا. .. وہ پوچھنا چاہتا تھا کہ کون ہے. ..مگر وقت ہی نہیں ملا. ….
❤ ہزار بار اُس سے گفتگو ہوئی لیکن..
ہزار بار کوئی بات رہ گئی مجھ سے ��….
♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥
موم آجاوں … احمر نے خدیجہ بیگم کے کمرے کا دروازہ ناک کرتے ہوئے کہا تھا، ،،
ارے میرے بچے. .تمہیں کب سے پوچھنے کی ضرورت پڑ گئی. … تم توبھی پوچھ کر نہیں آتے. …. خدیجہ بیگم اسے دیکھتی ہوئی بولی. …
ارے موم وہ بس ویسے ہی. .. آج دل کیا تو… احمر نے خجل ہوتے ہوئے کہا. .. سہی ہی نہیں کہہ رہی تھی. .. اسے جنتا کہتے رہو وہ پھر بھی ناک کر کے بہت ہی کم آتا تھا. .. یا کمرے میں پہنچ کر پوچھتا تھا. ….
وہ. ..موم ڈیڈ. ..مجھے آپ دونوں سے کوئی بات کرنی ہے. … احمر نے خدیجہ بیگم کی گود میں سر رکھتے لیٹ کر کہا. .. خدیجہ بیگم کے ساتھ ساتھ ثاقب صاحب جو کوئی بک پر رہے تھے وہ وہ متوجہ ہوگئے. …
ہاں میرا بیٹا. … کیا کہنا ہے. … آج کل مجھے میرا بیٹا حیران کیلئے جا رہا ہے. .. ہر باپ پوچھ کر کررہا ہے. … کوئی بات منوانی ہے. … خدیجہ بیگم نے لاڈ سے اس کے سر میں ہاتھ پھیرتے اپنے خوبرو بیٹے کو دیکھتے ہوئے کہا. …..
یار موم اب تک میں 25 کا ہونے والا ہوں. .. آپکو نہیں لگتا کہ. …اب میری شادی کردینی چاہیے. … اس نے بنا لگی پٹی بات کی تھی. …
ثاقب صاحب اور خدیجہ بیگم نے بے اختیار ایک دوسرے کو دیکھا تھا. ..
کوئی لڑکی پسند آگئی ہے. .. ؟؟ ثاقب صاحب نے قدرے سنجیدگی آواز میں کہا. .
افففف ڈیڈ آپکی یہ. . سنجیدہ سی آواز سن کر جو ہمت میں ادھر کر کے آیا ہوں وہ ختم ہورہی ہے. … اس نے تپ کر کہا تھا. ….
احمر تمیز سے. . ڈیڈ ہیں تمہارے. … اور جو پوچھ رہے ہیں وہ بتاؤ. .. اب کی بار خدیجہ بیگم نے بهی. .. قدرے سختی سے کہا تھا. …..
سوری ڈیڈ. …… وہ …… مجھے مایا سے شادی کرنی ہے. … اس کے پہلے ثاقب صاحب کوئی سوری کرتے. ..پھر آنکھیں بند کرتے جلدی سے بات پوری کی. … اور انتظار کر رہا تھا کہ کب سر پر بجتی ہے. .. مگر جب کچھ نہیں ہوا تو دھیرے دھیرے سے آنکھیں کھولی تھی وہ اسے ہی دیکھ رہی تھی. .. خوش رہیں وہ دونوں ہوئی تھی. .ہمیشہ سے یہی بات چاہتی آئی تھی کہ .. ان میں سے کسی ایک کو اپنی بیٹی بنا لیں ہمیشہ کے لیے. … مگر اب مہوش ہوش میں آگئی تھی. .. فیصلہ اس نے اور مایا نے ہی کرنا تھا. …
بیٹا. .. وہ تو ٹھیک ہے مگر پہلے مہوش اور مایا سے پوچھنا بهی تو ہوگا. … انہوں نے پیار سے کہا تھا. …..ثاقب صاحب بهی پرسکون ہوکر دوبارہ کتاب پڑھنے لگ گئے تھے. ..جانتے تھے. ..اب ان کی باتیں ختم نہیں ہونی. …
موم بس اب آنی سے بات کریں. ..اور مایا کی تو فکر ہی نہ کریں. .. وہ خوش ہے. …بلکہ اسی نے تو مجھے کہا ہے کہ آپ سے بات کروں. .. یو نو. .. اسے شرم آرہی تھی تھوڑی تو. …… وہ آگے بهی بولتا مگر وارن کرتی آنکھوں میں دیکھتا خاموش ہوگیا تھا. .. اس بات پر ثاقب صاحب نے بھی. . عینک اتار کر کها جاتے والی نگاہوں سے اسے دیکھا تھا مگر وہ انجان بنتا آنکھیں موند گیا. … وہ دونوں جانتے تھے. .. اپنے آپ کو بچانے کے لیے وہ مایا کو آگے پھینک رہا تھا. … یہ بھی کہ مایا کو بھی پتا بهی نہیں ہوگا. …. وہ اسے تاسف سے دیکھتے رہ گئے. …. جو اب مسکین سی شکل بنائے آنکھیں موندے ہر چیز سے بے خبر ظاہر کررہا تھا. ….
جمع ہم کو نہیں آتی نفی سے ہم کو نفرت.
تقسیم تمہیں کرتے ہیں ضربِ دل پر لگتی ہے
♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥
اس نے ایک جھٹکے سے گاڑی فام ہاؤس کے پورچ میں روکی تھی. … ماہا بنا اس کی طرف دیکھے نکل کر اندر چلی گئی وہ بهی اس کے پیچھے اندر چلا گیا تھا. ….
اور
وہ سامنے جو روم ہے وہ مزمل کا ہے تم… شاور بهی لے لو اور اسی کے کوئی کپڑے پہن لو. … میں فریش ہو لوں تو مجھے. . سلطان ویلا لے جانا میری گاڑی نہیں ہے. … ماہا اس کے سامنے رکتی بولی تھی. …
حرکتیں ہیں جو گاڑی ہونی چاہیے تمہارے پاس. … جانتا ہے احمر تم تینوں بہن بھائیوں کو تب ہی گاڑی لے گیا تھا کہ پھر بیماری میں سیر سپاٹے کے لیے نکل نا جاو. … مگر بیچارے کو کیا پتا تھا کہ. . تمہیں کوئی روککک ہی نہیں سکتا. .ہاں نا ؟؟؟.. اس نے پت کر کہا تھا. …
میں صرف واک کرنے گئی تھی. .. اس سے بال کان کے پیچھے کرتے ہوئے. بے نیازی سے کہا. .
ہاں وہ تو میں دیکھ ہی چکا ہوں جو تم واک کررہی تھی. … اس کا لاپروا لہجہ اسے اور تپا گیا تھا. ….
ہاں تو مجھے کیا پتا تھا کہ موت سے سرسری سی میٹنگ پلین کی ہوئی تھی قسمت نے. … لہجے میں رتی برابر فرق نہیں پڑا تھا. ….
ہاں نا چار پانچ دنوں میں چار سے پانچ سرسریییی سی میٹنگ ہوچکی ہیں. … اور مجھے لگتا ہے اگلی میٹنگ میں ڈیل فائنل ہوگی. ….دانت پیستے ہوے کہا. ..
ہاں پچھلی دو دفعہ بهی فائینلاییز ہوجاتی اگر تم مداخلت نا کرتے تو. …. کمال بے نیازی سے جواب دیا تھا. …
اچهااااا. … جاو اب. … اور جلدی آو کافی بنا رہا ہوں. ….اس نے ہار مان لی تھی. …
وہ اسے کچن کآ بتاتی اپنے روم میں آگئی. ….. دروازہ بند کرتے ہی وہ نیچے بیٹھ کر پھوٹ پھوٹ کر روئی تھی. …. دنیا کے سامنے وہ ایک مضبوط لڑکی تھی. ..مگر یہ وہی یا اس کا کمرہ ہی جانتا تھا کہ وہ کتنا روتی تھی. …..
کافی دیر رونے کے بعد وہ واڈروب سے کپڑے لیتی واش روم میں چلی گئی. …دس منٹ بعد وہ باہر نکل آئی تھی اکر ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی ہوگئی تھی. … ڈرائیر سے بال خوشک کر کے. … سامنے سے کچھ بال لیتی پیچھے پونی میں بندھے تھے. .. باقی کھلے بالوں کو برش سے ٹھیک کیا تھا. ….
پھر اس کے اپنے چہرے کی طرف دیکھا تھا. .. جہاں نشان تھا. .. کریم سے انہیں بھی چھپا دیا تھا. … ماتھے پر اب پٹی کی جگہ سنی پلاس لگی تھی. … ہلکا سا میک اپ کرکے. .. وہ اپنے لانگ بلیک شوز اٹھاتی بیڈ پر بیٹھ کر پہننے لگی تھی. .. پہننے کے بعد وہ دوبارہ ڈریسنگ کے سامنے آکر رکی تھی. .. ایک تفصیلی نگا خود پر ڈالی تھی. … ریڈ. .. سٹائلش سی ہائی نیک والی گرم شرٹ. .. بلیک جینز. .بیک لانگ شوز. پہنے وہ تیار تھی. .. مگر نیلی آنکھیں رونے کی چغلی کھا رہی تھی. …وہ شیشے میں اپنا سنورا روپ دیکھ کر تنزیہ مسکرائی تھی. …. زندہ لاش کو سنوارنا کتنا مشکل ہوتا ہے … یہ اسے اب سمجھ آئی تھی. … اندر سے کتنی ٹوٹی ہوئی تھی. ..مگر ظاہر کتنا دلکش تھا. … کتنا مطمئن تھا. ….
اے زندگی یہ کیا حال کر دیا ہمارا
جا، جا کر ہماری ماں سے پوچھ
. .کتنے لاڈلے تھے ہم اس کے
وہ نیچے آئی تو سیدھا کچن کی طرف چلی گئی. .. سامنے ہی وہ کافی کپ میں ڈال رہا تھا. …. بلیو جینز. … وائیٹ ہڈی. .. بازو کہنیوں تک فولڈ کیئے. …. گیلے بال ماتھے پر بکھرے. .. وہ کافی پرکشش لگ رہا تھا. …
آہٹ پر وہ مڑا تھا. … ماہا کو دیکھ کر ایک بیٹ مس ہوئی تھی. .. اسے پہلی بار اتنا تیار دیکھا تھا. …
وہ کافی کا مگ اٹھاتی ادھر ہی کرسی کھینچ کر بیٹھ گئی. .. وہ بھی ہوش میں آگیا تھا. … اس کے سامنے ہی بیٹھ گیا. .. اسے اب بغور دیکھ رہا تھا. ….
روئی کیوں ہو. … کافی کا کپ لبوں کو لگاتے ہوئے کہا. .
م میں. ..نہیں تو. ..میں تو نہیں روئی. … وہ ایک دم گڑبڑائی تھی. .
ہمم اچھا. ..لیکن مجھے لگا. .. کافی رو کر آئی ہو. .. ویسے اپنے سامنے رونے کے میں پیسے نہیں لیتا. … وہ اب بھی اسے ہی دیکھ رہا تھا
مگر…میں نہیں روئی. … ایک دفعہ پھر جھوٹ بولا. …
خیر. … چھوڑو. … اس نے. بات ہی ختم کی. …
تمہاری موم اور ڈیڈ کو کیا ہوا تھا. ..مطلب اچانک … اس سے سرسری سا پوچھا تھا. ..
ماہا کو آرام سے کافی پی رہی تھی اچانک رکی. .. اسے ایک دم سے کافی بہت کڑوی لگی تھی اتنی کہ. .حلق سے اتارا بهی مشک ہوگی. .. اس نے کب سائیڈ پر رکھ دیا. ..
وہ بغور اس کے اڑتے رنگ دیکھ رہا تھا. .. پہلے بهی جب اس نے پوچھا تو اس کی کوئی. ایسی ہی حالت ہوئی تھی. … مزمل بهی ٹال گیا. ..
بتایا نہیں تم نے. … کافی کا سپ لیتا دوبارہ بولا تھا. …
جواب میں ماہا نے بارہ سال پہلے ہوئے واقعے سے لے کر. .. فارس کا اسے آگ میں چھوڑنے تک سب بتاتی گئی. …
آریان نے بمشکل کڑوی کافی حلق سے اتاری تھی. …. اسے یقین نہیں رہا تھا. .. اسے لگا وہ مزاق کررہی ہے. … مگر وہ بالکل سنجیدہ تھی. ….
مطلب … مطلب اگر تم لوگوں کو کچھ ہوجاتا تو. .. یا اب ہوجائے تھے. .. اس نے حلق تر کرتے ہوئے کہا. .
تو ہوجائے. … سٹاپ لہجے میں بولی تھی. …
تمہیں کچھ نہیں پتا کہ مایا نے کیا اور کیوں کیا دیا کے ساتھ. …. وہ اب بھی یقین نہیں کر پا رہا تھا. … نازک سی لڑکی. .. کہاں پسٹل اور چاقو سے کھیلنے لگی تھی. ..
نہیں. .. وقت ہی نہیں ملا کہ پوچھتی. …. وہ اٹھ گئی تھی. .. آریان بهی کپ رکھتا اس کے ساتھ ہی اٹھ گیا. …
اور اب کیا کرو گے. … اب تو تمہاری موم کوبھی ہوش آگیا ہے. … وہ پھر کچھ کرنا چاہے گا. … اور تمہاری موم کو تو کچھ یاد بهی نہیں ہے. … وہ اب باہر آگئے تھے. …
جا رہی ہوں نا. .. پوچھو گی تو نا. … وہ دونوں اب گاڑی میں بیٹھ گئے تھے. ….
شبِ انتظار کی کشمکش میں نہ پوچھ کیسے صبح ہوئی
کبھی ایک چراغ جلا دیا کبھی ایک چراغ بجها دیا
کبھی چاند کہا اس نے مجھے کبھی آسمان سے گرا دیا
کبھی نفرتوں سے ملا سکون کبھی چاہتوں نے رلا دیا
♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥
موم یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں. … مایا نے حیرانگی سے مہوش کو دیکھا. …..
اس میں غلط کیا ہے. …. بیٹا ہمارا ملک ہے پاکستان. .. ادھر ہمارا گھر ہے. … میں بس چاہتی ہوں کہ اب ہم ادھر چلیں جائیں. … تم لوگ اگر ادھر ہی رہنا چاہتے ہو تو مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے. …. تم لوگ آتے رہنا. .. مہوش نے مایا کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا. ….
ابھی ہی مایا سو کو آٹهی تھی ناشتہ کرنے کے بعد مہوش کے پاس آئی جو لوئونچ میں بیٹھی. ..ٹی وی پر کوئی شو دیکھ رہی تھی. .. یا شاید ٹی ویسے ہی لگی تھی وہ تو کہیں اور ہی تھی. ..مایا آکر ان کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گئی تھی جب مہوش نے پاکستان جانے کی فرمائش کی. …
ہممم اوکے موم جیسا آپ چائیں. …. اور یہ مزمل اور احمر کدھر ہے. .. اس نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے پوچھا.
… بیٹا احمر تو ادھر ہی تھا. ..مزمل صبح سے کہیں نکلا ہوا ہے. بیٹا ابھی تک میری ماہا نہیں آئی. .. وہ کیوں نہیں آرہی. … مجھے ایسا کیوں لگتا ہے کہ تم لوگ کچھ چھپا رہے ہو. … وہ کدھر اتنا دور اکیلی گئی ہوئی ہے بیٹا چھوڑو ..سرپرائیز کو. .. بس اسے بلا دو. .. ماہا کو یاد کرتے ان کی آنکھیں بھیگ گئی تھی. ..ممتا کو سکون مل ہی نہیں رہا تھا. ….
موم ٹینشن نہ لیں وہ ٹھیک ہے. ..میری رات میں بات ہوئی اس سے کہہ رہی تھی دو دن تک آجائے گی. …ماہا کی یاد آتے وہ ایک دم پریاش ہوگئی تھی. .. وہ رات سے کال نہیں اٹھا رہی تھی. .. نجانے کیسی ہوگی. … وہ پریشان تھی مگر چھپا گئ. …
اچھا تم میری بات بیشک نا کرواوں. .. تم اسے کال کرو. .. میں اس کی آواز ہی سن. .. وہ اب بھی مطمئن نہیں تھی…..
اوکے موم کروا دیتی ہوں … ویسے تو وہ ابھی بیذی ہوگی آفس میں آگر کال پک کرلے تو ہی. … مایا نے موبائل. کانچ کے ٹیبل سے اٹھاتے ہوئے کہا..
مجھے کسی سے بات نہیں کرنی. … میں خفا ہوں سب سے. … ماہا مہوش کی دوسری سائیڈ پر بیٹھتی نروٹهے پن سے بولی. …
مہوش حیرت سے کبھی ماہا توبھی مایا کو دیکھ رہی تھی. .. کپڑوں کے علاوہ لگ ہی نہیں رہا تھا کچھ مختلف. … بلکل ایک جیسی. … مایا نے بلیک پینٹ پر گرے گرم سوئیٹر پہنی تھی. …..
م ماہا. … انہوں نے زیرلب کہا. … ماہا ایک دم ان کے گلے لگ گئی تھی. …. اسے سامنے سہی دیکھ کر مایا بهی پرسکون ہوگئی تھی. … اب اٹه کر بیٹھ گئی تھی. … آریان بهی. .. سلام کرتا ان کے ساتھ ہی بیٹھ گیا. ..
مجھ سے بات نہ کریں. … آپ ہمیں چھوڑ گئی تھی. .. آپکو ہماری زرا فکر نہیں تھی. .. وہ روتے ہوئے بولی تھی. … رونا ہے بہت سی باتوں پر ارہا تھا. .. اب ایسے ہی وہ رہی تھی. …دل کا غبار نکال رہی تھی. …..
میرا بچہ. ..یہ تو قدرت کے کھیل ہیں. … ہم نے کچھ نہیں کرسکتے. .. وہ اس کا چہرہ چومتے ہوئے. .. محبت بھرے لہجے میں بولی. ….
ارے میری جان یہ کیا ہوا. .. ان کی نظر اب سنی پلاس پر گئ تھی. ..
کچھ نہیں ہوا ممی بس ایسے ہی زرا سی لگ گئی تھی. . اس نے ان کے گلے لگتے ہوئے تھے. .
اچهااااا ….. ارے یاد آیا. .. تمہیں تو کسی نے بتایا ہی بتایا. ..پھر تمہیں کیسے پتا چلا میرے بارے. .. اچانک انہیں یاد آیا. ..
ماہا کے ساتھ ساتھ مایا اور آریان بهی گڑبڑا گئے تھے. .. انہیں تو یاد ہی نہیں. رہا. .. ماہا تو مہوش کو سامنے دیکھتی سب بھول گئی تھی. ….کہ وہ تو انجان تھی جاپان گئی ہوئی تھی. …
ارے آنی آپکو میرا تو پتا ہے. ..مجھے اس نے رات کو کال پر بتایا کہ وہ صبح آرہی ہے کہ تو میں بھول ہی گیا کہ اسے بتانا نہیں تھا اسی لیے سب بتاتا چلا گیا. … پہلے ت میڈم کو یقین ہی نا آیا. ..پھر میں اسے تصویر بهیجی نئی تو مانی کافی دیر تو روتی رہی اور اب آپکے سامنے ہے. …. احمر نے ہمیشہ کی طرح آج بھی انہیں بچا لیا مگر مرچ مصالحہ لگا کر ہی. .. عادت سے مجبور. ..
اچهااااا. … چلو بیٹا ابھی دن کے کھانے کو کافی ٹائم ہے تو تم جاؤ … آرام کرو. .. پھر کھانے کے ٹائم باتیں کریں گے. ..مہوش نے محبت سے کہا. … مایا کے کے موبائل پر سکی کی کال آرہی تھی توجہ اکسیوز کرتی اٹه گئی تھی. … آریان بهی ماہا کو دیکھتا. … بعد میں آنے کا کہہ کر نکل گیا تھا. .. احمر مایا کے پیچھے ہی چلا گیا. … ماہا بهی اپنے کمرے میں آگئی تھی. .. اسے سچ میں تھکن ہورہی تھی. .. اسی لئے اسی طرح بیڈ پر اوندھے منہ گر گئی. .. شوز اتارنے کی بهی زحمت نہیں کی. …
یہ کیا کررہے ہو. .. پیچھے ہٹو. … احمر نے مایا کو کمر سے پکڑتے اپنے ساتھ لگایا تھا. …
میرے پاس ایک گڈ نیوز ہے. .. پہلے وہ تو سن لو پھر ہٹ جاؤں گا. . احمر نے اپنا ناک اس کی گردن پر سلاتے ہوئے. .. خمار آلود آواز میں کہا. …
ہٹو پیچھے. … اور بات سنو میری. .. اپنا یہ چهچوڑا پن بعد کے لیے رکھو. ….. مایا نے پوری قوت لگا کر اس فالودی جسم کو خود سے دور کیا. ..چہرے پر چٹانوں کی سی سختی تھی. .
مایا کچھ ہوا. ..کس کی کال تھی. … پریشان کیوں ہوگئے. … اس کے پیچھے ہوتے احمر نے اسے دیکھتے قدرے سنجیدگی سے کہا. …
جواب میں اسے جو مایا نے بتایا. … وہ پریشان ہوگیا تھا. .
مطلب. .. وہ کسی مشکل میں ہے. .. احمر اب بلکل سنجیدہ ہوگیا تھا، ….
ہاں مجھے لگتا ہے. ..کیونکہ وہ ایسے کسی اور کے موبائل کال کر کے. بلا نہیں سکتا. .. اور اس نے مجھے کوڈ وڈ میں. .. ہنٹ دی ہے کہ. .. مشکل میں ہے. .مجھے ایسا لگا وہ مجھے آنے سے منع کررہا تھا. .. مایا نے پریشان ہوتے ہوئے کہا. ..
ہممم یہ صدیق خان کا ہی کام ہو سکتا ہے. .. شمس نےبتایا تھا کہ کی اسلم ملک بهی آگیا ہے. … تو یہ اسی کی گھٹیا حرکت ہوگی. .. تم ایسا کرو کہ اڈریس بتاؤ. ..اور جاو تم. … نا گئی تو اسے نقصان بهی پہنچا سکتے ہیں. .. میں آتا ہوں ادھر ہی. ..تم پریشان نہ ہونا. ..کسی کچھ نہیں ہونے دوں گا. . احمر نے اسے سینے میں بهیچتے ہوئے کہا. … لہجے میں خوف تھا. . اسلم ملک یا صدیق خان کا نہیں. .. کسی اپنے کو کھونے کا. .. ابھی تک سب ٹھیک ہورہا تھا. .. اب وہ کچھ غلط نہیں ہونے دے سکتا تھا. ..
مایا کب کی نکل گئی تھی. ..اسے اپنا چہرہ بهگیتا محسوس ہوا تھا. . آنسو دیکھتا وہ حیران ہوا تھا. .. پھر انہیں آستین سے صاف کرتا. .. کسی کو کال کرتا اندر بھاگا تھا. ……
