Tu Bewafa Na Tha by Sandal readelle50033 Episode 08
Rate this Novel
Episode 08
ہما میڈم آپ کو سر بلا رہیں ہیں ، ہما بیگم اپنے کمرے میں ڈریسنگ روم میں کھڑی تیار ہورہی تھی جب میڈ نے آکر انہیں اسلم صاحب کے بلاوے کا بتایا ،
جائو تم ، ارہی ہوں، ہما بیگم کا موڈ ہی خراب ہوگیا تھا، ریپ ریڈ کلر کی انتہائی نفیس سی سلیو لیس ساڑھی پہنے جس کا اگلا گلہ اوپر گردن تک تھا اور بیک صرف دو موتیوں کی ڈورهی پر ٹکا ہوا تھا، ریڈ ہائی ہیل پہنے ، تیز میک اپ کیئے، بالوں کو ڈائے کر کے کھلا چھوڑے وہ ایک جوان بیٹے کی ماں کہیں سے بھی نہیں لگ رہی تھی ،
آج ملک اسلم اپنے کسی بزنس پاٹنر کے ہاں پارٹی پر جا رہے تھے یہ تو یہاں کا معمول تھا روز ہی پارٹز وغیرہ، اپنے جوان بیٹے کو تو وہ بھول ہی گئے تھے جو پچھلے ایک ہفتے سے گهر نہیں آیا تھا، اپنی زندگی میں اتنے مگن تھے کہ اپنے سے جڑے قیمتی لوگوں کو بهول بیٹھے،
چلوو تم اب لیٹ نہیں ہورے، ہما بیگم سیڑھیوں سے اترتی سامنے صوفے پر بیٹھے کسی گہری سوچ میں گم اسلم صاحب کو دیکھ کر بولی ،
ان دونوں میں شادی کے بعد سے ہی ایک ان دیکھی دیوار سی تھی، اسلم صاحب کبھی ہما بیگم کو پیار دے ہی نہیں سکے ، ہما بیگم پہلے پہل تو محسوس کرتی پھر ازمیر کے بعد وہ بھی بے حس ہوگئی، ازمیر ملازموں کے ساتھ ہی رہتا تھا ، کتنے کتنے دن وہ اپنے ماں باپ کو دہکهتا ہبهی نہ تھا وہ ہوتے تو دیکھتا، یوں ملازموں کے ساتھ رہ کر وہ ایک عجیب شخصیت کا مالک بن گیا
ہممم چلو، اسلم صاحب نے ایک نظر بھی دیکھے بغیر کہا ،
کچھ دیر بعد وہ ایک بہت بڑے ہال میں پہنچ گئے،
ہیلو ملک صاحب کیسے مزاج ہیں آپ کے، ان کے دوست طاہر نے بغل گیر ہوتے ہوئے کہا
شکر الحمد للہ ، سب ٹھیک،
اور مسز اسلم؟؟؟؟ طاہر نے ایک جانجتی نظر ہما بیگم پر ڈالتے ہوئے کہا، ،
بالکل ٹھیک ، طاہر صاحب آپ سنائیں ہما بیگم نے بالوں کے اک ادا سے پیچھے کرتے ہوئے کہا،
بسسس ہم بھی ٹھیک ہوگئے ، طاہر صاحب نے بھی بغیر انہیں دیکھتے ہوئے کہا،
اووو ان سے ملیں یہ ہمارے نیو پاٹنر. …… ڈی کے کمپنی کے مالک. …. صدیق خان …… ، طاہر صاحب نے سامنے سے آتے ہوئے صدیق خان سے اسلم صاحب کو ملوایا جو ان سن کر ہی پیچھے مڑ چکے تھے سامنے دیکھ کر تو مانوں ان پر سکتا طاری ہو گیا تھا، آج اپنے جگری دوست کو 11 سال بعد دیکھ رہے تھے انہیں دیکھ کر نہ جانے کیا کچھ یاد آیا تھا
مقابل کا بھی کچھ یہی حال تھا ، انہیں بھی اپنا ماضی یاد آیا تھا جو وہ بولنا چاہتے تھے، مگر وہ کسی آسیب کی طرح ان کے پیچھے ہی پڑ گیا تھا،
اسلممم … وہ بمشکل بول پائے،
ہیلووو ، آچهاااااا1 لگا آپ سے مل کر، پہلے اسلم ہوش میں آئے تھے، ہاتھ آگے بڑھا کر ملے،
ہممم طاہر صاحب آپ مجھے جیک سر سے ملوا دیں ، انہوں نے اسلم صاحب سے ہاتھ ملا کر طاہر صاحب کو مخاطب کیا، وہ جلد از جلد ادھر سے غائب ہونا چاہتے تھے،
ہاں ہاں کیوں نہیں چلیں آپ ، طاہر صاحب نے ہاتھ کے اشارے سے راستہ دیکھتے ہوئے کہا ، اور وہ دونوں بھیڑ میں گم ہوگئے،
اسلم صاحب بھی بڑے بڑے قدم اٹھاتے باہر نکل گئے البتہ ہما بیگم ادھر ہی اپنی دوستوں کے ساتھ مصروف ہوگئی ، مزمل اپنے کمرے میں لیٹا کسی غیر مری نقطے پر غور کر رہا تھا، اس کا دل آج بہت خفا خفا سا تھا ، وہ کافی دیر سے سگریٹ پھونک رہا تھا مگر اندر کی آگ کسی بھی طرح ختم ہو نے کا نام نہیں لے رہی تھی ، وہ سکون چاہتا تھا جو پچھلے 12 سال سے ایک لمحہ بھی نہیں ملا ، وہ بظاہر تو کافی ہنس مکھ نظر آتا مگر صرف وہی جانتا تھا کہ وہ کس طرح خود سے ایک نہ دیکھنے والی جنگ لڑ رہا ہے، دیا کو دیکھے بھی ہفتہ تو ہو ہی گیا تھا ، مگر وہ اسے پل پل یاد رہتی تھی،
مسکرانا تو بس ایک ادا ہے ہماری
یہ مت سمجھنا کہ غم سے نا آشنا ہیں ہم
اچانک ہی دروازے پر دستک ہوئی
آجاو، سگریٹ سامنے ہی ایش ٹرے میں کچلتا آٹھ کر. بیٹھ گیا تھا، بلیک شرٹ ٹرائلز مل ملبوس، بالوں کو ماتھے پر بکھیرے لال آنکھیں ، وہ کافی ٹینس لگ رہا تھا،
کیا ہوا بڈی تو کیوں پریشان ہے اتنا، احمر نے اس کے سامنے ہی بیڈ پر بیٹھتے ہوئے کہا،
پریشان نہیں ہوں ، بس ویسے ہی سر میں درد ہے کچھ تب، مزمل نے سر بیڈ کے بیک سے لگا کر آنکھیں میجچتے ہوئے کہا،
مجھے پتا ہے تو دیا کی وجہ سے ڈسٹرب ہے ، یار حوالہ کر میرے یار سب سیٹ ہو جائے گا ، احمر نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر کہا ، پریشان تو وہ بھی تھا ، بہت سوچنے پر بھی اس کے شاتر دماغ میں کچھ نہیں آیا کہ کیسے وہ مزمل کو اس پریشانی سے نکالے ،
ہاہاہاہا ، احمر میں کوئی بچہ نہیں ہوں جسے تو بہلا لے ، سب سمجھ ہے مجھے ، نا مطلب ہر بار ہم ہی کیوں، 12 سالوں سے لمحہ سکون کا نہیں ملا ، اس کو دکھا تو لگا تھا کہ اب .. شاید اب زندگی مہربان ہو ہی گئی ہے 12 سال بعد مجھ پر، لگا تھا کہ اب میں بھی خوش رہ پائوں گا ، مجھے لگا اسے دے کر خدا نے سارے دکھوں کا مداوا کر دیا …. لیکن اب مجھے پتا چلا کہ اسے جس لمحے دیکھا وہ تو سب سے زیادہ آزیت کی وجہ بننے گا ، میں نے سوچ بھی کیسے لیا کہ میری ..میری. .مزمل. . یا. ..مایا. ،،،، یا …..ماہا کی زندگیوں میں بھی سکون ہو سکتا ہے . ہمیں جو. .جتنا سکون ملنا تھا وہ سب 12 سال پہلے مل گیا ہمارا حصہ ختم. . ہم نے یوں ہی ساری زندگی گزارنی ہے …. بنا سکون کے. .. تکلیف. .. آزیت. …. اور نا جانے کس کس آگ میں جل کر. . مجھ میں اب برداشت نہیں ہے …، ہاں یاررر. …. میری بس ہورہی ہے. …، میں مرد ہو کر یہ نہیں سہ پا رہا تو میری معصوم. .. نازک سی بہنیں کیسے سہتی ہوں گی …. کتنا تڑپتی ہوں گی … کیا کروں جگر. .، دل تو وہ. ..، ہاہاہاہا …. وہ لے گئی … دماغ نے ساتھ چھوڑ دیا ہے. . مجھے لگتا ہے میں جلد پاگل ہو جائوں گا……… مزمل جب بولنے پر آیا تو بولتا ہی چلا گیا …
احمر تو بالکل خاموش ہو گیا تھا اسے تو سمجھ ہی نہیں ارہی تھی وہ کیا بولے تو اس کو کچھ سکون ملے ، وہ تو آزیت کی حدوں کو چھو رہا تھا. . مگر قہقہے لگا کر. .
چھپا رہا ہے کسی کرب کو، کسی درد کو
جو ہنس رہا ہے مسلسل، وہ جھوٹا ہے.
ت تو آرام کر اب ، کافی تھکا ہوا ہے میں بھی چلتا ہوں، احمر سے کچھ بن نا پایا تو یہی کہہ کر وہ نکل آیا باہر اس آنکھیں بی ضبط سے لال ہوگئی تھی ، وہ اپنے جان سے پیارے ، دوست…. بھائی،… بہن. … اپنی محبت …. کسی کے لیے بھی تو کچھ نہیں کر پا رہا تھا. … وہ بھی بےبس تھا ……. بہت بے بس. ..
دیا. ….. پیچھے مزمل کے منہ سے بے ساختہ نکلا ساتھ ہی زخمی مسکراہٹ اس کے وجہی چہرے پر سج گئی …
جو تجھے دیکھنے سے ملتا ہے سارا مسئلہ اُس سکون کا ہی ہے ۔ ☹️❤ جیکلین یہ مس ہیر آبهی تک نہیں آئیں ، فارس کب کا آفس آیا ہوا تھا مگر اسے پیر کہیں بھی نظر نہیں ارہی تھی آج تناسب جلدی آنا چاہیے تھا، فنکشن کی تیاری میں پوری تھی مگر اسے ہیر کو دیکھنا تھا. آخر تهک کر اس نے انٹر کام اٹھا کر جیکلین سے پوچھا،…..
سر مس ہیر آپ کے آنے سے کچھ دیر پہلے ہی گئیں تھیں. . وہ رات ساری ادھر ہی تھی ، تهک گئی تھی تو انہوں نے کہا آپ کو بتا دوں کہ اب شام میں ہی آئیں گی، جیکلین نے تھکن سے چُور آواز میں کہا ،
ہممم ایسا کریں کہ جو جو رات کو جاگا رہا اسے چھٹی دیں.. آبهی گھر جائیں اور آرام کریں شام کو پارٹی میں. ہی آئیں اور آپ بھی چھٹی کریں ، فارس نے کچھ سوچتے ہوئے کہا. .
جی تھنک یو سرر ، جیکلین نے خوشی سے کہ وہ ویسے بھی تهک گئی تھی .
کچھ ہی دیر بعد آفس سے وہ بھی گھر کے لیے نکل گیا.
ہم کتنی محبت کرتے ہیں
تجھے کب ہو گا معلوم پیا 🌹
♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥
ہیلوو کیا ہورہا ہے. . ازمیر نے مایا کو دیکھتے ہوئے کہا. جو کسی گہری سوچ میں گم تھی.
نہیں کچھ بھی تو نہیں. . مایا نے پن واپس ٹیبل پر رکھتے ہوئے کہا. .
اچھا یہ تو اچھا ہے .. ازمیر نے اسکے سامنے والی چیئر پر بیٹھتے ہوئے کہا
ہممم پروجیکٹ کیسا چل رہا ہے، مایا نے بغور اسے دیکھتے ہوئے کہا، جس نے بلیک شرٹ پنٹ پہنے، بلیک شوز، بالوں کو اپنے مخصوص انداز میں سیٹ کیے وہ کافی ہینڈسم لگ رہا تھا، مایا نے نوٹ کیا تھا وہ اب زیادہ بلیک کلر پہننے لگ گیا تھا، مایا نے بھی بلیک بزنس سوٹ پہنا ہوا تھا، بالوں کو سٹریٹ کر کے کهلا چھوڑا اہوا تھا ،
اچھا کام ہورہا ہے. … ازمیر نے سرسرا یا جواب دیا. .
اچھا یہ تم نے میری طرح بلیک رنگ کیوں پہننا شروع کر دیا، مایا نے دماغ میں گھومتا سوال زبان پر لایا
میں سوچا کہ کیوں نہ اپنی اکلوتی دوست کی طرح ہو جائوں ، ازمیر نے جس انداز میں کہا مایا کی ہنسی ہی چھوٹ گئی،
وہ مایا میں کہہ رہا. ……. ٹھیک اسی وقت احمر آفس میں داخل ہوا. . مایا کو یوں ازمیر سے ساتھ بیٹھ کر ہنستے مسکراتے بات کرتا دیکھ کر اسے ازمیر سے شدید جلن محسوس ہوئی. .
اووو سوری آپ دونوں کو ڈسٹرب کر دیا، احمر نے بغور مایا کو دیکھتے ہوئے کہا.
نہیں احمر کہو تم کیا کہہ رہے تھے. مایا نے دوبارہ سنجیدہ ہوتے ہوئے کہا. وہ احمر نے شدت سے محسوس کیا تھا.
کچھ نہیں. . احمر کہنے ساتھ رکا نہیں تھا وہ جیسے آیا تھا ویسے ہی چلا گیا. .
اس کو کیا ہو گیا ہے، ازمیر وبارہ مایا کی متوجہ ہوا. .
کیا پتا خیر چھوڑو تم اس کو یہ ایسا ہی ہے. پریشان تو وہ بھی ہوئی تھی. .
ہممم چلو سہی ہے. ازمیر نے بھی زیادہ کریدنا مناسب نہ سمجھا.
مجھے تیرا ساتھ گلابوں سا
مرا تجھ بن تلخ مزاج پیا۔ 😞
مرا آنے والا وقت بھی تُو
مرا تُو ہی کل اور آج پیا😊💙
♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥
آج اسلم صاحب کو مہوش کی یاد شدت سے ارہی تھی. …، وہ مانتے تو نہیں تھے انہوں نے جو کیا وہ غلط تھا مگر پھر بھی وہ چاہتے مہوش کو ہی تھے، ہما سے تو انہوں نے تعلق دنیا داری کے لیے نبھایا. دل سے تو وہ مہوش کو ہی چاہتے تھے. …
وہ ملک ویلا میں اپنے کمرے میں بیٹھے ماضی یاد کررہے تھے. …. وہ جانتے تھے کہ ان کی محبت اب زندہ نہیں ہے یہ بھی جانتے تھے کہ اس کی موت کے مزےدار بھی وہی تھے، یہ بات انہیں تکلیف دیتی تھی. .
میں تمہیں مارنا نہیں چاہتا تھا مہوش مگر اس وقت میں انسان نہیں درندہ بنا ہوا تھا، جس نے ایک معصوم کو نوچ کر مار ڈالا. .. مگر تم نے بھی تو غلط کیا تھا. مجھ پر اس شہریار کو فوقیت دے کر. .وہ ایک دفعہ پھر ماضی میں کهو گئے
ماضی. ….
کیا ہوا تم رو کیوں رہی ہو،
تقریباً نو دس سال کی اک بچی بڑے سے بنگلے کے لان میں بیٹھی گٹنون میں سر دیے بس روئے جا رہی تھی جب اس کے پاس اسی کی عمر کی ایک لڑکی تقریباً تقریباً بھاگتے ہوئے آئی تھی اس کے ساتھ اس سے تقریباً دو سال کا بڑا لڑکا بھی بھاگتا ہوا آیا تھا ،
و وہ ڈیڈی، ، ا اور ممی،.. اس بچی نے سر اوپر اٹھایا تھا نیلی آنکھیں رونے کی وجہ سے لال ہو چکی تھی خوبصورت سفید چہرہ رونے کی وجہ سے گلابی ہو گیا تھا ، کیا ہوا ہے بتائو میری جان ، وہ بچہ اس کے ساتھ بنچ پر بیٹھ کر اس کے آنسو صاف کرتے ہوئے پوچھ رہا تھا ، اس کے ساتھ کھڑی دوسری بچی بھی اب رو رہی تھی،
و ا انکل نے م م ماار دیا ہ ہے وہ روتے ہوئے بمشکل روتے ہوئے بول رہی تھی، کس کو مارر دیا ہے ،
گڑیا بتائو نہ اور ممی کدھر ہیں ، وہ بچہ اب پریشان نظر آریا تھا، و ان انکل نے ہمارے موم ڈ ڈیڈ ک کوو ممارر دیا ہے
، وہ بچی اب اپنی شرٹ سے اپنا ناک صاف کرتے ہوئے بول رہی تھی چہرے پر ڑر خوف ، غصے ملے جلے تاثرات تھے اس کی بات سنتے دوسی بچی دوبارہ رونے لگ تھی ، جب اس بچے نے دونوں بچیوں کا ہاتھ پکڑے تھے ، ک کسی نے مارا ہے اور کدھر ہے موم ڈیڈ ، وہ بچہ اب ڑرتے ہوئے پوچھ رہا تھا ، وہ اندر ہیں ،
آئو میرے ساتھ، ، تینوں ڈرتے ڑرتے اندر کی طرف گئے تھے اندر جا مزمل نے دونوں کو دور صوفے کے پیچھے بیٹا دیا، اندر کا منظر بہت خوفناک تھا کچھ لوگوں نے شہریار سلطان کو کرسی پر بیٹھا کر رسیوں سے باندھا ہوا تھا اور اک آدمی نے مہوش کو بالوں کو سختی سے پکڑا ہوا تھا اور مسلسل کچھ کہ رہا تھا اور ساتھ ساتھ خباثت سے ہنس دیا اور ساتھ ہی اس کا ساتھی بھی ہنسا ،
تمہیں کیا لگا ڈارلنگ میں تمہیں بھول جائوں گا اپنی اتنی بیزتی کو بھول جائوں گا ، شام کے 6 بج رہے تھے فارس ہال میں موجود تھا اس کے ورکرز میں سے بھی کوئی کوئی تھا.
بلیک ڈنر سوٹ پہنے بلیک شوز،….. بالوں کو جیل سے سیٹ کیے . وہ کافی ہینڈ لگ رہا تھا. …کافی لڑکیاں اس کے قریب ارہی تھی جنہوں نے کپڑے نہ پہننے کے برابر پہنے ہوئے تھے. … مگر فارس کا دل تو صرف ماہا کو دیکھنے کا کررہا تھا جو نہ جانے کدھر گم تھی، نمبر بھی آف جا رہا تھا
پورے ہال کو بلیک اینڈ ریڈ تھیم س ڈیکوریٹ کیا ہوا تھا……. ہر طرح خوب گہما گہمی تھی. …… لڑکے لڑکیاں سب اپنی موج مستی میں مصروف تھے. … کسی کو کسی کا خیال نہیں تھا. ….. مشہور بزنس مین سہراب درانی کی اکلوتی بیٹی
عدن درانی کا بیرتهڈے پر امریکہ کے کافی بزنس مین موجود تھے. …. فنکشن میں سب لڑکوں نے بلیک اور لڑکیوں نے ریڈ کلر پہننا تھا ….ہر کسی نے آف کے کمپنی کے ورکرز اور مالک فارس خان کو ان کے کام پر خوب داد دی. …. مگر وہ تو تھی ہی نہیں جس نے یہ سب کیا تھا. …. فارس نے بہت دفعہ کال بھی کی مگر نو رسپانس. …… اس نے جیکلین سے بھی پوچھا مگر اس نے بھی لا علمی کا اظہار کیا. ………. فارس ….. اتنا سب کچھ ماہا کے بغیر بے معنی ہی لگا. ….. اس کا دل ہر چیز سے آٹھ گیا تھا،
. اس کی نظریں سارے ہال میں ایک لڑکی کو ڈھونڈ رہی تھی ، تھیم کے حساب سے سب لڑکیوں نے ریڈ اور لڑکوں نے بلیک کلر پہنا ہوا تھا ، ہال کو بھی ریڈ اور بلیک کلر سے ڈیکوریٹ کیا گیا تھا ، وہ تهک کر ایک صوفے پر بیٹھ گیا تب ہی اسے اپنے قریب سے جانی پہچانی ہنسی کی آواز آئی ، وہ ایک دم پیچھے، مڑا، وہ جیکولین سے ساتھ بیٹھی کسی بات پر ہنس رہی تھی. وہ بنا وقت زائع کیے اس تک پہنچا،
آپ یہاں ہیں اور میں آپ کو کہاں کہاں ڈھونڈ رہا ہوں، فارس اس کے سامنے والے صوفے پر بیٹهتے ہوئے بولا
کیوں سر پچهلے دو دن تو اپ نے مجهے سکون سے بیٹھنے نہیں دیا اب کیوں ڈھونڈ رہے ہیں ، ماہا نے جل کر کہا وہ پہلے کی ہی تهکی ہوئی تھی اور اب فارس دوبارہ اسے ڈھونڈ رہا تھا، ،
ہاہاہاہہا کام میں یہ سب تو ہوتا ہے ، لیکن میں ابھی آپ کو کام کے لیے نہی ڈهونڈ ریا تھا ، میں ویسے ہی ڈهونڈ رہا تھا، فارس نے اس پر ایک جانچتی ںظر ڈال کر کہا
ریڈ پاوں تک آتا فراک جو سینے سے اوپر اور بازوں سے ریڈ نیٹ کا تھا، ریڈ ہی ہائی ہیل ، بالوں کو تھوڑا تھوڑا کرل کیلئے کهلا چھوڑا ، ہلکا پھلکا میک اپ ، بلڈ ریڈ لپ اسٹک لگائے وہ معمول سے ہٹ کر تیار ہوئی تھی ، یہاں موجود سب لڑکیوں سے زیادہ خوبصورت لگ رہی تھی ، کم از کم فارس کو تو یہی لگا،
معاف کریں سر مجهے ، ویسے آپ کے پاس اور کوئی کام نہیں ہے جو ہر وقت یوں بے وجہ گھومتے پھرتے ہیں ، ماہا نے تیز میوزک کی وجہ سے اونچی آواز میں کہا،
مس ہیرررر ، آپ ہر وقت لال مرچ منہ میں لینے پھرتی ہیں ، کبھی تو آرام سے بات کرلیا کریں ، ویسے آپ سے زیادہ بدتمیز لڑکی پورے امریکہ میں بلکہ اس پوری دنیا میں نہیں ہونی ہے ، فارس نے دانت پیسے ہوئے کہا، آخر وہ کہاں عادی تھا اس لہجے کا ،
اووو اچھا سر…. ، تو
آپ جیسا ، لوفر ، کام چور، اور سستا عمران ہاشمی، اس امریکہ توکیا پوری دنیااااااااا میں کہیں بھی نہیں ملے گا چراغ لے کر ڈھونڈنے سے بھی نہیں ، ماہا بھی کہاں چپ رہنے والے میں سے تھی،
آج تک اتنی کسی میں ہمت نہیں ہوئی کہ مجھ سے اس لہجے میں بات کرے ، بات تو چهوریں ایسا سوچنے والے دوبارہ سوچنے کے قابل ہی نہیں رہتے، فارس نے اس بتمیز کو پھر ڈرانا چاہا ،
اووو یہ میرے لیے تو اعزاز کی بات ہے، ہاں نا، اور آپ فکر نہ کریں آپ تقریباً ہر کوئی آپ سے ایسے ہی بات کرے گا کیونکہ شروعات مجھ سے ہوئی اب برکت ہوگی، ماہا بھی اپنے نام کی ایک ہی تھی ،
فارس تو اس ڈهیٹ کو دیکھتا ہی رہ گیا ہیر میں تمہارا باس. …..
سر اگر میں آپ کو عزت سے آپ کہ کر مخاطب کررہی ہوں تو آپ بھی مجهے یہ تم تم نہ کہیں. .. ماہا نے اسکی بات پوری ہونے سے پہلے ہی کاٹ دی.
ویسے آپ کے بچپن میں آپ کے ساتھ کوئی بڑا واقعہ پیش آیا جس نے آپ کی زندگی ہی بدل دی مطب کے کوئی ایکسیڈنٹ ہوا جس میں آپ کا دماغ متاثر ہوا. . وہ اور بھی بولتا پر جیسے ہی اس کی نظر ماہا پر پڑہی اسے بریک لگی تھی. .
ہیر آر یواوکے . جیکلین نے پریشان ہوتے ہوئے کہا. .
اور اچانک ہی ماہا کے ہاتھ میں پکڑا سافٹ ڈرنک کا گلاس اس نے ہاتھ میں ہی توڑ دیا .کانچ اس کے ہاتھ میں گهپ گئے تھے مگر ادھر فکر کس کو تھی. .
یہ یہ کیا کررہی ہو ہیرر تمم تمہارے ہاتھ سے خون بہا رہا ہے ، فارس اس کے پاس بیٹهتے ہوئے بولا. .
Hey don’t dare to touch my hand
فارس نے اس کا ہاتھ پکڑے کے لیے بڑھایا ہی تھا. جب اچانک ہی ماہا صوفے سے اٹھتی ہوئی تقریباً چلا کر بولی. .. تیز میوزک میں آواز زیادہ پھیل گئی نہ سکی. .
اوکے ہیر میں کچھ نہیں کررہا، ، جیکلین اسے لے کر جائو تم. فارس نے جیکلین کو اس کے ساتھ بیجا جو غصے سے باہر نکل گئی تھی. .
اوکے سر، سی یو. . جیکلین اس کے پیچھے ہی نکل گئی تھی.
ایسا کیا کہہ دیا میں نے جو اس کا یہ ریایکشن تھا. .. بچپن لفظ سنتے ہی اسے اتنا غصہ آگیا آخر کیا ہوا اس کے بچپن میں ، فارس ادھر ہی صوفے پر بیٹھ کر سوچ رہا تھا.
جو بھی مجهے پتا کرنا پڑے گا. فارس نے خود سے ہی کہا
تجھے کچھ بھی نہیں معلوم پیا
مرے اے بھولے معصوم پیا
بن لفظ، خیال، حسیں، بندش
مری ذات میں تُو منظوم پیا
سب تجھ بن فرض کفایہ ہے
بس تُو لازم ملزوم پیا
ترے چرنن میں ہم سیس دھریں
مت خود سے کر محروم پیا
کب درشن دان کرو گے تم
کب جاگے گا مقسوم پیا
