62.3K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 05

وہ سارے باہر لائونچ میں بیٹھے چائے پی رہے خلاف توقع سب ہی خاموش تھے ، ثاقب صاحب اور خدیجہ بیگم ان چاروں کو دیکھ رہے تھے جو کچھ پریشان لگ رہے تھے، ،
بیٹا کوئی مسئلہ ہے یا پریشانی، ،،؟؟ آخر ان کی خاموشی سے تنگ آکر ثاقب صاحب بول ہی اٹھے،
نہیں بابا سب ٹھیک ہے کوئی مسئلہ نہیں ہے ،
مزمل نے خود کو نارمل ظاہر کرتے ہوئے کہا، ،
ہمم چلو بچوں خوش رہو ،،میں جارہا ہوں کل ایک میٹنگ ہے ، اسی کے سلسلے میں انہوں نے پہلے مزمل اور آخر میں خدیجہ بیگم کو دیکھ کر کہا،
رات تک آجائیں گے نا خدیجہ بیگم نے بھی ان کے ساتھ اٹھتے ہوئے کہا، ہاں آجاون گا ، وہ کہتے ہوئے اندر چلے گئے پیچھے خدیجہ بیگم چلی گئی، ،
اب وہاں وہی چاروں خاموش بیٹھے ہوئے تھے ، جب اس خاموشی کو مایا کی آواز نے توڑا، ،
اب آگے کیا کرنا ہے ، کوئی ارادہ ہے بھی یا دل بدل گیا ہے، مایا نے مزمل کی طرف دیکھتے طنزیہ لہجے میں کہا تھا. .
ہ ہا، ہاں کیوں نہیں ، میرا ارادہ تو بلکل نہیں بدلا ، تو بتائو کیا کریں آگے،
وہ بھی اس وقت سب بھول گیا تھا یاد تھا تو صرف یہ کہ اس نے بدلا لینا تھا ہر حال میں،
سوچ کو مزمل ابھی ہی بعد میں کوئی مسئلہ نہیں کرنا ، اس کی نظر اب بھی مزمل پر ہی تھی ناجانے وہ اس کے چہرے پر کیا ڈھونڈنا چاہ رہی تھی،
میں نے کہہ دیا نہ کہ میں نہیں ہٹوں گا پیچھے تو تمہیں بیفکر ہونا چاہیے، مزمل اب تنگ آریا تھا ، یا شاید وہ اس بارے میں بات نہیں کرنا چاہ رہا تھا،
چلو پھر کرتے ہیں کچھ ، مایا نے ہاتھ سے چائے کا کپ ٹیبل پر چھوڑتے ہوئے کرسی سے ٹیک لگا لی،
اس سب میں احمر اور ماہا بلکل خاموش تھے ، احمر مایا کے لیے ڈر رہا تھا کہ اس سب میں کہیں اسے کچھ نہ ہو جائے ، وہ تینوں جس طرف بڑھ رہے تھے وہاں
آگ تھی ہر طرف، وہاں موت کسی کو بھی کہیں بھی آسکتی تھی، اور آگر مایا کو یا مزمل ، ماہا میں سے کسی کو بھی کچھ ہوگیا…. اس سے آگے وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا،
اور ماہا دیا کے لیے مزمل کے جذبات سے ڈر رہی تھی ، وہ اس کی بہن تھی کیسے نہ دیکھتی اس کی آنکھوں میں دیا کے لیے محبت ، وہ بھی کافی پریشان تھی،
اس بار خاموشی کو شمس نے توڑا،
سر ازمیر ملک سے جڑی ایک بہت اہم بات پتا چلی ہے، وہ ان کے سامنے کرسی پر بیٹھتے ہوئے بولا وہ ان کا کافی پرانا سیکرٹری تھا ساتھ ہی کافی اچھا دوست بھی ، وہ ، مزمل لوگوں کے بارے میں سب جانتا تھا ، اس لیے ان میں کافی بے تکلفی تھی، اس کے بولتے ہی ان چاروں کا دھیان اس کی طرف ہوگیا،
کیا خبر ہے، اس __ کے بارے میں، مزمل کی غصے بهری آواز گونجی،
تو خبر یہ ہے کہ کل ہماری جس کمپنی کے ساتھ میٹنگ ہے وہ کمپنی ازمیر کی ہی ہے ، وہ وہ یہ میٹنگ وہ خود اٹینڈ کرے گا، وہ کہہ کر خاموش ہو گیا،
جبکہ وہ چاروں حیران پریشان اسے ہی دیکھ رہے تھے، مطلب ان کا شکار خود ان کی طرف آرہا تھا ، انہوں نے تو ابھی تک کچھ سوچا بھی نہیں تھا،
لیکن کیسے ،، میرا مطلب ابھی ہم نے کوئی پلنگ کی ہی نہیں ہے ، تو ، مطلبب ، مزمل سچ میں پریشان ہو گیا، یہی حال ان تینوں کا بھی تھا، ،
سر اگر آپ کہیں تو میرے پاس ایک بہت اچھا پلین ہے ، شمس نے بتانے سے پہلے ان کی رائے لینی ضروری سمجھا،
ہاں ہاں بتاو ، اور زیادہ یہ ڈرنے کے ڈرامے کرنے کی ضرورت نہیں ہے ، اس وقت ہم آفس میں نہیں ہیں جو تم سیکرٹری اور ہم باس ہوں ، اور آفس کے باہر یہ سر سر کر کے چاپلوسی بیشک نہ کرو ، زلیل انسان،
احمر تو پهٹ ہی گیا ، مطلب اسے تو وہ سر سر کہہ کر اتنی عزت نہیں دیتا تھا ، اور ابھی تو پہلے ہی اس کا دماغ پ خراب ہوا ہوا تھا ، اوپر سے اس کی چاپلوسی. …
ہاں شمس بولو تم کیا کہہ رہے تھے ، مایا نے احمر کو گهوری نوازتے شمس کو دیکھ کر کہا
،، جس پر وہ اپنا پلین انہیں بتانے لگا ، جیسے جیسے وہ بتا رہا تھا ، احمر کے سوا تینوں کے چہرے پر اطمینان نظر آرہا تھا جبکہ احمر کا تو دل کیا کہہ اس کی ادھر ہی قبر کهود دے ، وہ ساری بات سمجھا کر اب انہیں ہی دیکھ رہا تھا آیا ، پلین پسند آیا کے نہیں، ،
واہ یہ وہ واقع زبردست ہوگیا مطلب اپنا اچھا پلین ، ، کتنے عرصے بعد مایا کے ڈمپل نمایاں ہوئے تھے ، سب ہی اسے شوک سے دیکھ رہے تھے، احمد جس کا کچھ دیر پہلے دل کررہا تھا کہ شمس کا قتل کردے ابھی اس کا دل کیا کہہ سب کے سامنے اس کی چمی لے ، کہ اس کی وجہ سے اس کی مایا مسکرائی تھی،
لیکن بڑے بابا کو راضی کون کرے گا ، سب سے پہلے ماہا ہوش میں آئی تھی تھی تو وہ بھی بہت خوش کہ اس کی بہن کتنے عرصے بعد یوں خوش ہوئی تھی،
بابا کو میں منا لوں گا بلکہ رات کو سب ان سے بات کریں گے ، احمر نے سب کو مطمئن کرتے ہوئے کہا، اور پھر وہ پانچوں دوبارہ باتیں کرنے لگ گئے،
■■■■■
وہ سٹڈی میں بیٹھی پیپرز کی تیاری کر رہی تھی جب اس کا موبائل رنگ کیا ،
کیا مصیبت ہے ، کس کو سکون نہیں ہے ، وہ سخت بدمزہ ہوئی نوٹس ادھر ہی پٹختی کمرے میں آئی تھی ، گرے ٹی شرت ، وائٹ ٹرائوزر پہنے بالوں کو ڈهیلی پونی میں کیئے ، چہرے پر غصہ سجائے وہ اس حالت میں بھی بہت خوبصورت لگ رہی تھی،
موبائل پر ان نون نمبر سے آتی کال دیکھ کر اور غصہ آیا ،،
ہیلوو ، کال آنسر کرنے کان سے لگائی،
ہیلوووووو ، سن رہے ہو کہ نہیں جب بولنا نہیں ہوتا تو کال کیوں کرتے ہو، وہ سخت چڑ کر بولی،
ادھر مزمل جو کب سے دیا کی آواز
سننا چاہ رہا تھا ،، اس نے کافی دفعہ دل کو سمجھانے کی کوشش کی ، کافی بہلایا مگر دل تھا کہ بغاوت پر اتر آیا ، آخر تنگ آکر اس نے دیا کو کال ملا ہی لی ، جیسے ہی اس کی آواز سنائی دی. اس کے اندر تک سکون اترا، اس نے سر بیڈ کے بیک سے لگا کر آنکھیں بند کر دی،
ہیلوو کیسی ہو،
مردانہ وہ بھی انجان آواز سن کر اس نے حیرت سے موبائل کو گھورا پهر دوبارہ کان سے لگا لیا ، اب وہ بھی بیڈ پر بیٹھ گئی تھی، ،
ہو کون تم..پہلے تو یہ بتاؤ. .پھر میں بتاتی ہوں کہ کیسی ہوں. .وہ ایک ایک لفظ چبا کر بولی تھی. .
اتنی جلدی بھول گئی ، ابھی کچھ دنوں پہلے ہی تو ہماری ملاقات ہوئی تھی ، مزمل نے صاف تنگ کرنے والے لہجے میں کہا. .
اررےےےے کب ہوئی ہماری ملاقات ، آپ جھوٹ بول رہے ہیں میں نے تو آپ کی آواز ابھی سنی ، دیا تو حیران ہی ہوگئی تھی،
مس دیا میں کیوں جھوٹ بولوں ، آپ ہی بھول گئی مجھے، دماغ پر زور ڈالیں تو یاد آجئے گا ، کلب کے باہر ملے جو تھے، ، مزمل نے اسے یاد کروانا چاہا، ،
اووووووو ، اچھا وہ بلیک مین آپ تھے، دیا تو سچ میں بھول گئی تھی ،
ایک منٹ ایک منٹ یہ آپ نے مجھے بلیک مین کیوں کہا اچھا خاصا چٹا ہوں تو، مزمل کو تو دکھ ہی ہوگیا تھا،
اررےےےے نہیں وہ آپ پورے بلیک ڈریس میں تھے نا تب کہا ، دیا نے کلیر کرنا ضروری سمجھا، ،
اور شکر ہے ، ویسے آپ نے میرا چہرہ بلکل نہیں دیکھا ، مزمل نے کچھ سوچتے ہوئے پوچھا ،
کہاں دیکھتی آپ نے پردہ کیا ہوا تھا ، شاید آپ اپنی خوبصورتی کسی کو دیکهانا نہیں چاہتے ، ، ہاں مگر آپ کی نیلی آنکھیں دیکھی، وہ ریل تھی یا لینز تھے ، دیا کو سچ میں اس کی آنکھوں کا کلر پسند آیا تھا،
ریل ہے میڈم ، ویسے میں آپ سے تو خوبصورت ہی ہوں ، اپنے آپ کو دیکھا ہے ، کسی چریل سے کم نہیں ہیں ،
مزمل نے اس کو تپانا چاہا
اووو شٹ اپ ، زیادہ فری نہ ہو ، دو منٹ بات کیا کرلی سر پر ہی چڑھ گئے ہو دوبارہ مجھے کال نہ آئے نہیں تو بلاک کر دوں گی ، ایڈیٹ، کہہ کر اس کے ٹهک سے کال بند کی اور موبائل بیڈ پر پھینکا، دیا سچ میں ہی جل گئ تھی ، آخر کیوں نہ جلتی ، اس کے اتنے پیارے چہرے کے بارے میں کہا تھا
دوسری طرف مزمل کا قہقہہ بے ساختہ تھا، پھر وہ ہنستا ہی چلا گیا، کئی آنسو اس کی آنکھوں سے نکل گئے تھے اس نے بھی صاف کرنا ضروری نا سمجھا، اب تو یہ آنسو شاید ہمیشہ ساتھ ہی رہتے، …
کاشششس دیا کاشششس کے تم صدیق خان کی بیٹی نہ ہوتی کاش ، تو میں تمہیں رانی بنا کر رکھتا اپنے دل کی ، اپنے کهر کی ، لیکن اب تمہیں میری نفرت اپنے نازک ، موم سے وجود پر برداشت کرنی ہیں، اس کا نازک سرہاپا ، یاد کر کہ وہ دوبارہ تلخی سے مسکرایا، ،
کیوں آخر کیوں مجھے تم سے محبت ہوگئی ، کیوں تم میرے لیے سانسوں کی طرح ضروری ہوگئی ، م می میں کیسے ، کیسے دوں گا تمہیں تکلیف ، تمہاری ان خوبصورت آنکھوں میں ک کیسے آنسوؤں کی وجہ بنوں گا، م میں نہیں کر سکوں گا ، نہیں ہے اتنی ہمت مجھ میں ،…
اس سے اپنے بالوں کو دونوں ہاتھوں سے بے دردی سے جکهڑا تھا ، کرب سے آنکھیں بیچ لی ، درد کی شدت حد سے زیادہ ہوگئی تھی، سر درد سے پھٹ رہا تھا، ، بال بکھرے ہوئے تھے، بلیو شرٹ کے اوپری دو بٹن کھولے تھے ، بازو کہنی تک فولڈ کیئے ، وہ بیڈ پر بیٹھا ہوا تھا،
اچانک اس نے آنکھیں کهولی تھی ، لال انگار ، درد ، ازیت، بے بسی ، بدلے کی آگ، عشق، کیا کچھ نا تھا ان آنکھوں میں،
نہیں دیا صدیق خان تمہیں میرا بیسٹ روپ ہر حال میں سہنا پڑے گا، تم سہو گی مجھے ہر صورت، میں تمہیں بھی وہی ازیت دوں گا جیسی تمہارے باپ نے میرے نے میری ماں کو دی، جیسے میری ماں باپ کو مارا تمہیں بھی مرنا ہوگا ، ہاں …مرنا ہوگا تمہیں، ،، ایک دفعہ پھر کرب سے
آنکھیں میچ لی ، ازیت ہی ازیت تھی ، بہت بے بسس ہوگیا تھا ، کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا ، آنکھیں کھولتا تو دیا نظر آتی ، بند کرتا تو اپنی ماں کی بے بسی نظر آتی، بیقوقت دیا کے قہقہے اور مہوش کی کانوں کو چیرتی ازیت سے بهڑی آواز. سنائی دیتی ، شہریار کی بے بسی ، ماہا ماہا کی خوشیاں جو نہ جانے کہاں گم ہوگئی تھی ، ان کا تڑپنا سسکنا سب یاد آتا ، بے بسی کی انتہا تھی، یہی سب سوچتے سوچتے نا جانے کب نیند اس پر مہربان ہوگئی ، ایک دفعہ پھر سب تکلیفوں 1 آزاد ہو کر سو گیا تھا ،
■■■■
یہ کیا کہہ رہے ہو بیٹا آپ لوگ ، ثاقب صاحب ہاتھ میں اٹلی کے ٹکٹ پکرے حیرانگی سے سب کو دیکھ رہے تھے،
بابا اس میں حیرانگی کی کیا بات ہے، بس آپ جا رہے ہیں وہ مہینے کے لیے ، یار بابا تھوڑا گھومے پهرے ، ہر وقت کام کام ، بس آپ اور ماما صبح 5 بجے جا رہے ہیں ہم نے ساری تیاری کر لی ہے ، کیوں مزمل ، کہتے ہوئے اس نے اچانک مزمل کو بھی ساتھ گھسیٹا ، مزمل بیچارے کو تو کچھ سمجھ ہی نہیں آرہا تھا ، ایک تو احمر اسے نیند سے جگا کر ادھر لے آیا تھا اب یہ ڈرامہ اسے تو کچھ سمجھ ہی نہیں آرہا تھا ، آنکھیں مسلتے وہ ادھر ادھر دیکھ رہا تھا اس کی یہ حالت دیکھ کر ماہا، مایا کو بھی ہنسی آرہی تھی ، اس کو خاموش دیکھ کر خدیجہ بیگم نے اسے مخاطب کیا،
بیٹا یہ کیا کہہ رہا ہے آپ نے کیوں یوں اچانک ہمارے لیے اٹلی کے وہ بھی دو مہینوں کے ٹکٹ لے لیئے وہ بھی پریشان ہو گئی تھی…
ہ ہاں ہاں ، بڑی ماما ٹھیک کہہ رہا ہے جو بھی کہہ رہا ہے، آپ لوگ جائیں کچھ دن گھومیں ، ہم ادھر ہیں، ، مزمل نے کہتے ہوئے احمر کو آنکھیں نکالنی نہ بهولی
لیکن بیٹا کل میری بہت امپورٹ میٹنگ ہے میں کیسے چھوڑ کر جا سکتا ہوں، اس برخوردار کو تو کچھ پتا ہی نہیں
نہیں ہے ، اور صبح کیسے ، کچھ تیاری نہیں کی ہوئی ، بیٹا ایسا کرو کہ کچھ دن آگے رکھ لو ، وہ اب بھی مطمئن نہیں تھے،
ن نہیں بابا میٹنگ ہم دیکھ لیں گے ، میں اور مایا ، پوچھ لیں اس سے، احمر نے اس دفعہ مایا کو گھسیٹا ، اب ماہا اپنی باری کا انتظار کر رہی تھی کہ کب اس کی باری آتی ہے، ،
ہاں بابا میں اور اااحمررر دیکھ لیں گے آپ آفس کی ٹینشن نہ لیں، آپکی غیرماجودگی میں ، میں اور آحمر بہتتت خیال رکھیں گے، مایا نے پہلے احمر کو گوری سے نوازا پهر ثاقب صاحب کو دیکھ کر ، آرام سے کہا ،
لیکن بیٹا ادھر اتنا وقت ہوٹل میں تو نہیں رہ سکتے نہ ، ثاقب صاحب اب بھی تیار نہ تھے
ارے بابا آپ کو کس نے کہا کہ آپ لوگ ہوٹل میں رہیں گے ، ماہا نے بہت اچھا ویلا بک کروایا ہے دو مہینوں کے لئے آپ لوگ آرام سے رہیں گے ، ویسے بھی آپ اور ممی نے ایک دوسرے کو ٹائم دینا تو چھوڑ ہی دیا ہے، احمر نے ماہا کو بھی گھسیٹا ساتھ ہی،
ارے ماہا بیٹا کون سا ویلا بک کروایا ، ہے کدھر ، کچھ تو بتاو ، خدیجہ بیگم بخشنے کے موڈ میں بالکل نہیں تھی ،
وہ. .وہ مما، ….
ارے مما وہ تو سرپرائز ہے نہ آپ لوگ جائیں تو سہی، جب ماہا سے کوئی بات نہیں بن پائی تو مایا نے سنبھالا تھا مزمل کو تو اس وقت سب ہی زہر لگ رہے تھے ، وہ نیند سے کبھی ادھر تو کبھی ادھر گر رہا تھا مگر مجال ہو جو کسی کو بیچارے پر ترس آئے ، وہ بالکل ٹن ہوا تھا ،…
ہاں ماما آپ جائیں اپنی اور بابا کی پیکنگ کریں اور ماہا اور مایا کہہ رہی تھی کہ وہ آپ کی مدد کروا دیں گی، احمر کہاں باز رہنے والا تھا ،
ہاں یہ ٹھیک ہے ، بیٹا آجاو ، ویسے بھی اتنا ٹائم نہیں ہے کہ میں اکیلی کرں ، بهلا ہو تم دونوں کا تم دونوں کے ہوتے ہوئے مجھے بیٹیاں مل گئی ہیں میں بہت خوش ہوں،
ہاں ماما آپ جائیں ہم بسسس ابھی آتے ہیں، مایا نے احمر کو گھورتے ہوئے کہا،
چلو آجاو پهر ، وہ کہہ کر چلی گئی تھی ، ثاقب صاحب پہلے ہی آٹھ گئے تھے،
اب بتاؤ کہ کیا بکواس ہے یہ اور کیوں بیهج رہے ہو ماما بابا کو ، اور ہمیں کو گھسیٹ رہے تھے ، اگر کچھ کرنا تھا تو پہلے بتا نہیں سکتے تھے ، میری نیند خراب کر دی ، مزمل کو تو اب بھی اپنی ادھوری نیند کی پری تھی،
ہاں بکو اب کیا بکواس ہے ، یہ سب ، ماہا نے بھی حصہ لیا،
احمر بولو گے کچھ کہ کیوں بھیج رہے ہو ماما بابا کو ، اس کو خاموش دیکھ کر مایا کو سچ میں غصہ آرا تھا،
ارے بابا آپ ، احمر نے ایک دم اٹھتے ہوئے دروازے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ، مایا ، ماہا اور مزمل کا بھی رنگ اڑا تھا انہوں نے بیقوقت پیچھے مڑ کر دیکھا لیکن ہاں کو ان کے فرشتے تک نہ تھے، وہ واپس مڑے لیکن یہہہ کیا ادھر تو احمر کا نام و نشان ہی نہ تھا ، مطلب وہ چکمہ دے گیا تھا،
احمررررررررررررررر تینوں کی چلانے کی آواز سے سلطان ویلا ہل گیا تھا، ادھر احمر آرام سے اپنے کمرے میں ہیڈ فون کانوں میں ٹهوسے فل آواز میں لگا کر آرام فرما رہا جیسے اسے پتا ہو کہ آگے کیا ہونا تھا،
رات کے بارہ بجے کہیں وہ پیکنگ کر کے فارغ ہوئے تھے ، ماہا کو تو ویسے بھی یہ کام کرتے ہوئے موت آتی تھی، ، وہ دل ہی دل میں ، ہزار گالیاں دے چکی تھی احمر جس کی وجہ سے وہ ادھر پهس گئی ، لیکن مایا نے چپ چاپ ہو کر کروا دی ،
اب وہ اپنے کمرے کی طرف جا رہی تھی، جب اچانک کسی نے اسے بازو سے پکر کر کچہنچ کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا ، کمرے میں لا کر اسے چھوڑا ، اور کمرہ لاک کر کے اس کی طرف مڑا وہ بیچاری ابھی بھی اپنا بازو پکڑے کھڑی تھی اس نے کھینچا ہی اتنے زور سے تھا،
کیا ہوا درد ہو رہا ہے، احمر نے ، اس کا بازو دیکھتے فکرمندی سے گویا ہوا ،
یہ کیا بدتمیزی ہے احمر ایسے کون کرتا ہے آرام سے نہیں لا سکتے تھے. .اپنا بازو اسکی سخت گرفت سے نکالتی وہ ناگواری سے بولی. . مایا کو سچ میں اچھا نہیں لگا تھا. .
لیکن جواب میں وہ بالکل خاموش تھا ، اس کے چہرے پر نظریں جمائے وہ نہ جانے کیا ڈھونڈ رہا تھا،
کیا دیکھ رہے ہو، مایا نے اس کے سامنے ہاتھ ہلاتے ہوئے کہا، ..
دیکھ نہیں کچھ سوچ رہا ہوں ، اس کے پھولے گلابی گال پر ہاتھ رکھتے وہ پرسوچ لہجے میں بولا تھا. . ، وہ دونوں کافی قریب تھے ایک دوسرے کے..کہ ایک دوسرے کی سانسوں کی تپش وہ اپنے چہرے پر محسوس کر سکتے تھے. .
کیا سوچ رہے ہو..دو قدم پیچھے کو لیتی وہ عام سے لہجے میں بولی تھی. .
ہممممم وہ بھی بتاؤں گا، لیکن پہلے تم مجھے ایک بات بتاؤ، اب کہ وہ اسکی نیلی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا تھا. ..
مایا تو اسے ایسے دیکھ کر بہوش ہونے کو تهی ، اس نے دور ہونے کی کوشش کی مگر بے سود…وہ اور قریب آگیا تھا اسکے. .
ماہی. … تمہیں کسی اور کے ساتھ نہیں دیکھ سکتا. ..تم. .ماہا سے کہو. .وہ میرے ساتھ چلی جائے گی. …احمر نے بغور اسکو دیکھتے بے چین لہجے میں کہا. .
احمر پیچھے تو ہٹو پہلے ، پهر بات کرتے ہیں. … مایا نے تنگ آکر قدرے سخی سے کہا. …
ہممممم. …وہ ہنکار بھرتا دور ہوا تھا. ..اور پھر اسکا ہاتھ پکڑ کے آکر صوفے پر بیٹھایا. .اور خود بھی اسکے ساتھ بیٹھا تھا. ..
اب بولو کیا مسئلہ ہے. .کیا اول فول بولے جا رہے ہیں. …مایا پوری طرح اسکی طرف متوجہ ہوتے تیوری چڑھاتے ہوئے بولی تهی. ..
تم. .تم دور نہیں رہ سکتی سا سب سے. ..م میرا مطلب مزمل ماہا، اور پھر میں بھی تو ہوں نا. …تم. …..جواب جانتے ہوئے بھی وہ ایک امید سے بولا مگر مایا کو دیکھتے بات ادھوری ہی رہ گئی تھی. .
تمارا دماغ چل گیا ہے. …. ہٹو. .جانے دو مجھے. ..قدرے ترخ کر بولتی وہ اٹھی س صوفے سے. ….
احمر نے اسکے آگے بڑھنے سے پہلے ہی اسکی کلائی پکڑ کر روکا. ..اور پھر جھٹکا دے کر دوبارہ ادھر ہی صوفے پر بیٹھایا تھا. …..
تم نا ..مجھے بیمار لگ رہے ہو. ..اسکے ماتھے پر ہاتھ رکھتی وہ اب کے سچ میں فکرمند ہوئی تھی. ….
ماتھے پر رکھے اسکے ہاتھ کو اپنے مضبوط ہاتھ میں پکڑا تھا. ….
تمہیں کسی اور کے ساتھ کیسے دیکھوں گا. .. اسکے ہاتھوں کو دیکھتے ہوئے بولا. ..لہجے میں عجیب سی بے چینی تهی. .جیسے مایا سمجھ نہیں پاررہی تهی.
ادھر بھی تو فارس ہوگا. ..دیکھنا تو تب بھی پڑے گا. ..آرام سے اپنا ہاتھ اسکے ہاتھ سے نکالتی وہ اب قدرے آرام سے بولی. .
تمہیں دیکھتے ہوئے میں بھی احتیاط کرتا ہوں. …..تو وہ — شخص تو ہے ہی کمینہ. ..مگر چلو. ….تمہارے لیے یہ بھی کرلیں گے. …مگر یاد رکھنا. ..وہ بولتے ہوئی پل بھر کو رکا. …
وہ مجرم کیا بیٹا ہے. …. جیسا بھی ہو. …تم کافی احتیاط کرنا. ..اسکا لہجہ اب تھوڑا عجیب آ ہوا تھا. ..کهو دینے کا خوف شدت پکڑ رہا تھا جیسے. …
ہمم. .. وہ ناسمجھی سے ہی سہی. .مگر سر ہاں میں ہلا گئی تھی. .
..■■■■
صبح 4 بجے مزمل اور احمر انہیں ایئرپورٹ پر چھوڑے جا رہے تھے، مایا اور ماہا کو نہیں جگایا تھا ، وہ گاڑی میں ہی تھے ، جب احمر نے ثاقب صاحب کو مخاطب کیا
بابا اب جا ہی رہے ہیں تو وہاں جا کر گھر کے لیے پریشان نہ ہونا ہم ادھر دیکھ لیں گے اور روز روز علی صاحب، ( سیکرٹری ) کو فون نہ کرتے نہ رہنا مجھ پر تو آپ کو یقین نہیں ہے ، آپ کو کچھ پوچھنا ہو تو مزمل کو کال کر دینا ، احمر سارے رستے صاف کرنا چاہتا تھا، ،
بیٹا یہ ہے ہی نالائق تم تو سمجھ دار ہو بیٹا اپنا اور سب کا خیال رکھنا میں ، احمر ، مایا اور ماہا یہاں اپنی امانت چھوڑ کر جا رہی ہوں ، اسی طرح مجھے لوٹانا ، اور اپنا بھی بہت خیال رکھنا ، آفس وغیرہ بھی دکھنا تمہیں پتا تو ہے تمہارے پاپا کتنے فکرمند ہیں ،
اس سے پہلے ثاقب صاحب کچھ بولتے خدیجہ نیم نے بولنا شروع کر دیا،
آپ فکر نہ کریں ، میں خیال رگوں گا
تھوڑی دیر بعد وہ انہیں چھوڑ کر آگے تھے ایک نئے ارادے سے ،
■■■
اس وقت مایا مزمل اور احمر آفس میں تھے ، مزمل اور احمر نے میٹنگ اینڈ کی تهی جو کامیاب ہوگئی تھی ، اب دو مہینے تک ازمیر کی کمپنی نے ان کے ساتھ کام کرنا تھا ،
چلو اب تک تو سب ٹھیک ہوگیا ہے ، آگے کافی احتیاط سے کام لینا ہوگا،
مزمل نے احمر اور مایا کو دیکھ کر کہا …
ہمم چلو تم دونوں ہیٹهو میں آتی ہوں ازمیر ملک سے پہلی ملاقات کر کے ، مایا نے کرسی سے اٹھتے ہوئے کہا، اور باہر نکل گئی، .احمر کی نظروں نے دور تک اسکا پیچھا کیا تھا. ..
ازمیر اس وقت اپنے آفس میں تھا جو اسے یہاں ملا تھا ، ہیلو ازمیر ملک ، کیسے مزاج ہیں آپکے، ،
ازمیر آفس میں گلاس وال کے پاس کھڑا کسی گہری سوچ میں تھا جب اسے اپنے قریب سے کسی لڑکی کی آواز سنائی دی، وہ پہچهے مڑا تو ایک خوبصورت لڑکی کھڑی تھی، وہ اسے دیکھ کر کچھ دیر کے لئے سب بھول گیا ، گرین آنکھیں، خوبصورت نقش، لالے لمبے بال ، بلیک جینز شرٹ میں ملبوس، بلیک ہی سنیکر شوز پہنے وہ انتہائی خوبصورت لگ رہی تھی، ، ازمیر کی اس سے نظر ہی نہیں ہٹ رہی تھی جب اچانک اس نے اپنا ہاتھ اس کے سامنے لہرایا، ،
ہیلو مسٹر کدھر گم ہو گئے،
وہ… وہ نہیں تو کہیں بھی نہیں، آپ کا تعارف ؟؟
شاید زندگی میں پہلی بار اس کی زبان لڑکهرائی ،
اووو ،،، مائے سلف ہیر سلطان یہاں کے اونر ثاقب سلطان ہی اکلوتی بیٹی،
ہیر نے بالوں کو ایک ادا سے پہچهے کرتے ہوئے کہا ،،
ہیر ، وہ زیر لب بڑبڑایا،
آپ کھڑے کیوں ہیں بیٹھے نا ، مجھے کام ہے کچھ تو مجھے نکلنا ہے ورنہ آپ کو کمپنی دیتی ہیر نے سیٹ اس کے لئے آگے کرتے ہوئے کہا
ہمم ازمیر نے فقط اتنا ہی کہا
وہ باہر کی طرف بڑھ گئی ابھی دروازے تک گئی تھی جب اچانک رکی ، اس کے اسے رکنے سے ازمیر کی دل کی دھڑکن بڑهی،
تم یہ سوچ رہے ہو گے کہ میں بائے کہے بغیر ہی چل دی ، تو مسٹر ازمیر ملک اب تو مسلسل ملاقات ہوگی ، اور جس دن آخری ملاقات ہوئی اس دن بہت خوبصورت انداز میں کروں گی ، اااہاں ، میرا مطلب کے لاسٹ ڈے بہت اچھے سے سیلیبریٹ کریں گے ،
وہ ازمیر کے کافی قریب کھڑی تھی ، ازمیر نے اس کی آنکھوں کو کچھ ڈھونڈنا چاہا اس کا لہجہ اسے کافی عجیب لگا
اوکے تو میں گئی ، مایا اسے بولتی باہر نکل گئی،
پیچھے ازمیر اسے دیکھتا رہا اسے یہ لڑکی کافی مختلف لگی ،
ہیر سلطان ، ناٹ بیڈ ، وہ دوبارہ کرسی پر بیٹھ گیا،.