Tu Bewafa Na Tha by Sandal readelle50033 Episode 07
Rate this Novel
Episode 07
ماہا سٹڈی میں اپنی مخصوص رالینگ چیئر پر بیٹھی ہوئی تھی، اپنے دونوں بازو رائیٹنگ ٹیبل پر رکھے ، ایک ہاتھ میں پن گمها رہی تھی، ٹی پنک کلر کی کھلی سی شرٹ اور وائٹ ٹرائوزر پہنے ، بالوں کو بے دردی سے جوڑے میں پهسائے وہ اس رف حالت میں بھی کافی پرکشش لگ رہی تھی،
عجیب بندہ ہے مجھے تو اڈر لگتا ہے ……. اس سے تو اچھا وہ ازمیر ہی تھا میں اسے ڈیل کرلیتی …… مگررر. … اب تو کچھ نہیں ہوسکتا، مزمل یا ماہا کو بتایا تو وہ مرد کریں گے میری. ….. لیکن. …. خیرر اب کچھ نہیں ہوسکتا ……. اب ادھر ہی جانا پڑے گا … کتنا چهچهوڑا ہے…دیکھتا کیسے ہے. .جیسے …. خیر اب دل بڑا کرنا پڑے گا. .. دیکھا کیسے سیدھا کروں گی اسے میں،
پن اب بھی وہ ہاتھ میں گمها رہی تھی،
ماہا اس کی فوٹو دیکھتے ہی اس سے کافی امپرس ہوئی تھی، اسے فارس فارس صدیق خان کافی اچھا لگا تھا، لیکن یہ بات اب تک ماہا نے مانی نہیں تھی، مزمل اور مایا کو بھی اسی نے کہا تھا کہ وہ فارس کو ڈیل کر لے گی ، جبکہ مزمل اسے ازمیر کو ڈیل کرنے کا کہہ رہا تھا، ، اور اب اسے فارس سے ڈر لگنے لگا تھا ، وہ اس کے حواسوں پر سوار ہو رہا تھا.
اپنی ساری سوچوں کو جٹکتی وہ صبح کے لیے کپڑے نکالنے چلی گئی تھی کمرے میں،
حالات نے ہمیں ایسا سبق سیکھا یا
کہ شاگرد بننے کی عمر میں استاد بن گئے
♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥
ہاں مایا رات میں ڈیڈ سے بات ہوئی تھی میری میں نے انہیں بتا دیا کہ ڈیل فائنل ہوگئی ہے ،
وہ سب بیٹھے ناشتہ کر رہے تھے. جب احمر نے کہا
ہمممم ٹھیک ہے ، اور علی صاحب سے کیا کہا ، ماہا نے چائے کا گھونٹ لیتے ہوئے کہا،
اررےے کہنا کیا ہے میں نے انہیں اور ان کی وائف کو آفس آفس کی طرف سے ، دبئی بیهج دیا اور کہا کہ جائیں وائف کے ساتھ ٹائم گزاریں ، ڈیڈ نے کہا تھا کہ آپ کو چٹهیوں پر بھیج دوں ، پہلے تو نہیں مانے کہنے لگے کہ تم لوگ بچے ہو کام نہیں دیکھ سکتے، سر کے آنے تک نہیں جا سکتا، میں نے بھی کہا کہ بھئی ہم ہیں جائیں آپ، اور ڈیڈ کا نام نیو نمبر بھی نہیں دیا ، دوسرا نمبر لگے گا نہیں ، تو بس خاموش ہوگئے اور اب تو چلے بھی گئے ہونگیں ،
احمر نے بریڈ پر بٹر لگاتے ہوئے مزے سے اپنی کارستانی سنائی،
ہمممم چلو ایک مہینہ وہ نہیں ہونگیں ، تب تک ازمیر کا کھیل ختم کرنا ہوگا، پھر وہ فارس اور. …… اور. . وہ دیا صدیق بھی ہے، ٹوٹل دو مہینے ہیں پھر ڈیڈ بھی آجائیں گے
مزمل پہلے تو روانی سے بول رہا تھا مگر دیا کا سوچتے ہی اسے بریک لگی ، ایک ہیولہ سا نظروں کے سامنے سے گزرا، یہ تو وہی جانتا تھا کہ کتنی مشکل سے اس نے دیا کا نام لیا تھا، مگر وہ خود کو ان سب کے سامنے کمزور نہیں ظاہر کرنا چاہتا تھا، اس نے سوچ لیا تھا کہ وہ دیا کو صدیق خان کی بیٹی کی ہی طرح ٹریٹ کرے گا ،
ہممم سہی کہہ رہے ہو فارس اور دیااا بھی ہیں ہمارے ٹارگٹ میں ، مایا نے دیا پر خاصا زور دیا، دیا کے نام پر مزمل کے چہرے پر ایک کرب گزرا تھا جو وہاں سب ے ہی دیکھا تھا،
چلو احمر لیٹ ہو رہے ہیں پہلے ہی تمہیں بہت لگی ہے تو آفس میں جا کر کها لینا ، اب مایا نے احمر کو مخاطب کیا جو اب چکن سینڈوچ کے ساتھ انصاف کررہا تھا ، مایا کی آواز پر مسکین سی شکل بنا کر سینڈوچ ہاتھ میں لینے ہی اٹھ گیا ، یہ تقریباً روز ہی ہوتا تھا صبح کے ناشتے پر ہمیشہ لیٹ ہوتا تھا وجہ سے اس کی پیاری نیند تھی ، اسے لیے ہاتھ میں راستے میں ہی ناشتہ کرتا تھا، تین ہی چیزیں اسے جان سے پیاری تھی. ….. کھانا ( ماہا کی طرح ہو بھی بہت فوڈی تھی ( ، سونا اور مایا ، کسی ایک کو بھی نہیں چھوڑ سکتا تھا،
ان دونوں کے بعد ماہا بھی اٹھ گئی ، ساتھ ہی مزمل بھی، ماہا اپنی گاڑی میں بیٹھ کر آفس کے لیئے نکل گئی، مزمل بھی اپنی گاڑی اپنے آفس کی طرف موڑ چکا تھا ، اب سے مایا نے احمر کے ساتھ سلطان کمپنی میں ہی کام کرنا تھا، اور ماہا نے فارس کی کمپنی جوائن کرلی ، تو مزمل اکیلا ہی جاتا تھا ،
کسے کل کے بہانے پر بہلا رہے ہو
ہمیں آج دکھ ہے کہ تم جا رہے ہو
نظر آنے والے تو تم تھے ہی نہیں
پھر کیوں ہمیں ہر جگہ نظر آرے ہو
نشہ کوئی پوچھے مجھ سے گفتگو کا
سمجھتا نہیں ہوں کہ کیا کہہ رہے ہو
بڑی دیر پچهتاو گے اب تو شاید
بڑی دیر کے بعد پچهتا رہے ہو
کریدہ نہ پھر زخم پوچھو نہ کچھ بھی
کچھ دن تو تم بھی مسیحا رہے ہو
نہ ہوگی نہ شکوے کا موقع ملے گا
ملاقات کا تم وعدہ فرما رہے ہو
یہی تو ہے راحیل منزل کا جنون
پتہ گهو رہے ہو خیر پا رہے ہو
♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥
فارس کب سے بیٹھا ماہا کا انتظار کر رہا تھا ، آج ایک میٹنگ تھی جو اس نے ماہا کے ساتھ ہی دیکھنی تھی لیکن وہ آنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی اسے ایک ہفتہ ہوگیا تھا ادھر ،، تب ہی فارس کی نظر انٹرس کی طرف گئی ، فارس کے آفس کی دیواریں گلاس وال تھی جن سے آفس کے اندر سے تو باہر کا منظر صاف دیکهائی دیتا تھا مگر باہر والا اندر نہیں دیکھ سکتا تھا،
وہ سامنے سے ہی آرہی تھی آرہی تھی ، وائٹ سوٹ پنٹ پہنے بالوں کی درمیان سے مانگ نکالے کانوں کے پیچھے کر کے سارے کھلے چھوڑے، آنکھوں پر برانڈڈ گاگلز لگائے، پاوں میں بلیک ہیل والے شوز پہنے، ایک ہاتھ میں ، موبائل پکڑے آفس ہی کی طرف آرہی تھی ، اس کا آفس فارس کے آفس کے اندر ہی تھا ، لاڈ بورڈ لگا کر الگ کیا ہوا تھا ،
کدھر رہ گئی تھی آپ ہیر آپ کو پتا ہے میں کب سے آپ کا ویٹ کررہا تھا،
وہ جیسے ہی اندر آئی فارس شروع ہوگیا ، وہ ناک کر کے بالکل نہیں آتی تھی اس کا کہنا تھا کہ اس کا آفس بھی یہی ہے تو اسے ناک کرنے کی ضرورت نہیں ہے ، پہلے پہل تو فارس نے کہا لیکن اس کے آگے اسے بھی ہار ماننا پڑی ،
چلیں سر .. ماہا نے اس کی ساری باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا،
ہمممم چلیں ، فارس نے خود دانت پیس کر کہا بلا اسے کہاں پسند تھا کہ کوئی اسے اگنور کرے …… خیر. … یہ نیک کام بھی ماہا کے علاوہ کوئی نہیں کر سکتا تھا، وہ دونوں ادھر سے سیدھا میٹنگ روم میں گئے،
مارنگ سر ، انہیں دیکھتے ہی سب نے آٹھ کر کہا…..
ہممممممم ، کام کی بات پر آئیں ، سر کو خم کرتے سلام کا جواب دیتے اس نے کام کی بات کی ،،
تھوڑی دیر بعد انہیں یہ کنٹریکٹ مل گیا تھا ، سب کچھ ماہا نے ہی فائنل کیا تھا فارس کو سب کچھ بهلائے اسے دیکھنے میں مگن تھا، ماہا کو اسے خود کو یوں دیکھتے پا کر کنفیوز ہو رہی تھی پھر بھی ساری باتوں کے بعد ڈیل فائنل کر دی تھی یہ کافی بڑے بزنس ٹائکون کی بیٹی کی بیرتهڑے پارٹی کی جو کل شام میں تھی اور ان کے پاس بہت کم ٹائم تھا ،
مس ہیر آپ میرے آفس میں آئیں، سب سے مل کر آخر میں ہیر کو اپنے روم میں بلاتا وہ شاہانہ چال چلتا اپنے آفس میں چلا گیا، ہیر سب سے ملتی باہر آگئی تھی
یہ بندہ میری جان پہلے ہی لے لے گا، ہیر سوچتی ہوئی اس کے آفس میں داخل ہوئی
جی سر آپ کو کوئی کام تھا ، ہیر اندر گئی تو وہ سامنے ہی کھڑا تھا ، اجازت لے کر تو ہیر کو اندر آناپسند تھا ہی کدھر،
کیوں اگر کام نہ ہو تو میں آپ کو بلا نہیں سکتا ؟؟ خیر مجھے یہ کہنا تھا کہ کل کا سارا ایونٹ آپ نے پلین کرنا ہے آپ کی ہیلپ کر دے گی جیکلین ، پہلے اس سے سوال کرتا آخر میں اپنے مدعے کی بات کرتا وہ قدم قدم اس کی طرف بڑھ رہا تھا،
ہیر اسے اپنی طرف بڑھتا دیکھتی قدم پیچھے کی طرف لیتی دیوار کے ساتھ لگ گئی ،
سمجھ آئی آپ کو یا نہیں، اس کے دونوں طرف بازوؤں کا حصار باندھتا کھڑا ہوگیا ،
پہلی بات سر کہ آپ مجھے کام کے علاوہ بلکل بھی نہیں بلا سکتے ، دوسری بات اتنا بڑا ایونٹ ہے میں ابھی آئی ہوں مجھے کام کا اتنا نہیں پتا ، ایونٹ خراب بھی ہو سکتا ہے تو آپ کسی اور کو دے دیں ، میں ساته ہیلپ کروا دوں گی، وہ ایک ہاتھ اس کے سینے پر رکھے اسے پیچھے کرتے ہوئے کہا جس پر کوئی اثر نہ ہوا
تمہیں کوئی حق نہیں میرے حواسوں پر سوار ہونے کا ، وہ بغور اس کا جائزہ لیتے ہوئے بولا ،
اپنی بات کا اتنا فضول جواب سن کر وہ غصہ میں آگئی
ہٹیں پیچھے سر آپ فاصلہ رکھ کر بات کیا کریں نہیں تو میں رزائن دے دوں گی ، اپنی حالت سے پریشان ہوتی وہ اسے دور کرنے لگی
ہاہاہا ، آپ شاید بھول رہیں ہیں کہ آپ نے ایک سال کا کانٹرک سائن کیا اس سے پہلے اگر آپ نے جواب چھوڑنے کا سوچا تو آپ کو بهاری جرمانہ ادا کرنا پڑے گا وہ اس کے ہونٹوں کو فوکس میں لیئے ہوئے بولا
ہاہاہا سر آپ مجھے ……. اس کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی وہ اس کے ڈمپل پر اپنے دہکتے انگاروں جیسے ہونٹ رکھ چکا تھا، اس کے ہونٹ ماہا کے ہونٹوں سے مس ہورہے تھے ، اسے اپنے ہونٹوں پر اس کی دهاڑی کے بال محسوس ہورہے تھے ،
وہ بلکل ساکن ہوگئی …. تھی اس کی قربت میں وہ سب بھول گئی ….اس کا دل دھڑکنا بھول گیا…….وہ ہل بھی نہ سکی …… وہ اس شخص کے سحر میں مبتلا ہو رہی تھی ……. وہ بھول گئی تھی اپنا مقصد ……. وہ بھول گئی تھی کہ وہ اس کے موم ڈیڈ کے قاتل کا بیٹا تھا. ….. ایک قاتل کا بیٹا. …… جسے وہ یہاں برباد کرنے آئی تھی.
س س سر ….پ پلیزز ، اچانک اسے اپنی پوزیشن کا احساس ہوا، وہ بمشکل بول پائی،
میرے سامنے ہنسا مت کریں، آپ کے ڈمپل دیکھ کر میں سب بهول جاتا ہوں، اس نے ہونٹ اس کے گال سے ہٹا تو لیئے تھے مگر چہرہ اب بھی ماہا کے چہرے کے بلکل قریب تھا اتنا کے بولتے ہوئے اس کے ہونٹ ماہا کے چھوٹے سے ناک سے مس ہورہے تھے ،
سررر پلیززز ، ماہا نے اس کے کہندے پر ہاتھ رکھ کر اسے پیچھے کیا جو خود ہی فاصلہ بنا گیا ،
تو کیا کہہ رہی تھی آپ ، فارس نے اپنے ہونٹوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا، اپنی آتی بے خودی پر تھوڑا شرمندہ تو تھا مگر ظاہر کرنے سے شاید ٹیکس لگتا تھا تب ہی ڈهیٹ بنتا دوبارہ اسے مخاطب کیا ، جو اب ادھر سے گھسنے کا سوچ رہی تھی ،
میں یہ کہہ رہی تھی کہ یہ فائن سے مجھے نہ ڈرائیں ، میں پے کر سکتی ہوں ، دوسری بات ، بات کرتے ہوئے فاصلہ رکھا کریں اور. .. یہ میرے سامنے سستے عمران ہاشمی بننے کی کوشش نہ کریں میں نہیں امپرس ہوتی ، دوبارہ اپ اگر میرے قریب آئے تو اچھا نہیں ہوگا، ،
پہلی بات مغرور لہجے میں کہتے آخر میں انگلی اٹھا کر اسے گھورنے ہوئے کہا،
یہی. ….یہی ایٹوڑ تمہارا مجھے تمہاری طرف کھنچتا ہے ، اسی انگلی کو پکڑ کر خود کی طرف کھنچا وہ تیار نہیں تھی تب ہی اس سے سینے سے آلگی، دونوں کی دهڑکنوں میں مقابلہ لگا ہوا تھا جو الگ ہی سپیڈ میں دھڑک رہا تھا ،
سر فلحال تو آپ نے مجھے کھنچا ہے اپنی طرف تو پیچھے ہٹییں ، اور مجھے کام ہے تو میں ابھی جا رہی ہوں ، مگر فکر مت کریں میں گھنٹے تک آجائوں گی ، اپنے اور اس کے درمیان فاصلہ بناتی آخر میں اسے کہتے ہوئے وہ اپنے آفس میں گاڑی کی کی لیتے اس پر نگاہ غلط ڈالے بغیر نکل گئی ،
ناٹ بیڈ. .. اتنی ہمت تو میرے باپ میں بھی نہیں ہے جو مجھ سے ایسے بات کرے، خیر ججتا ہے میری ہیر پر ،
باپ کو سوچتے ہی اس کا حلق تک کڑوا ہوا تھا ،
اس کی نگاہوں نے ہیر کا اوجھل ہونے تک پیچھا کیا تھا ، پھر وہ بھی باہر نکل گیا کیونکہ اسے بھی دیا کو لینے جانا تھا ،
کبھی یہ دعویٰ کہ وہ میرا ہے فقط میرا ہے
کبھی یہ ڈر کر وہ مجھ سے جدا تو نہیں
کبھی یہ دعا کے مل جائیں
اسے سارے جہاں کی خوشیاں
کبھی یہ خوف کہ جوش وہ میرے بنا تو نہیں
کبھی یہ تمنا کہ بس جائوں اس کی نگاہوں میں
کبھی یہ ڈر کہ اس کی آنکھوں کو کسی نے دیکھا تو نہیں
کبھی یہ خواہش کہا منتظر ہو زمانہ اس کا
کبھی یہ وہم وہ کسی سے ملا تو نہیں
کبھی یہ آرزو جو مانگے مل جائے اسے
کبھی یہ وسوسے اس نے میرے سوا کچھ مانگا تو نہیں
وہ اپنے آفس میں بیٹھی ہوئی تھی بلیک بزنس سوٹ پہنے ، بلیک ہی ہائی ہیل ، بالوں کو کهلا چھوڑے، گاگلز کو آنکھوں سے ہٹا کر سر پر ٹکائے ، ، آنکھوں کا کلر اس نے گرین کر دیا تھا ، اپنی مخصوص رولنگ چیئر پر کانگ پر ٹانگ رکھے ، دو انگلیوں میں پن گماتی وہ کوئی فائل ریڈ کر رہی تھی، جب دروازہ ناک ہوا. .
یس کم ان، فائل بند کر کے ٹیبل پر رکھتے ہوئے کہا ، اسے پتا تھا کہ آنے والا کون ہے،
کیسی ہیں مس ہیر، ازمیر اس کے سامنے والی چیئر پر بیٹھتے ہوئے بولا ،
آئے ایم گڈ ، وٹس ابائوٹ یو ( I am good, what’s about you ,? ) ، اس نے اس کا جائزہ لیتے ہوئے کہا،
بلیو پینٹ پر وائٹ شرٹ پہنے ، بازو کہنیوں تک فولڈ کیے، بلیک چمکتے ہوئے شوز پہنے ، بالوں کو ماتھے پر گرائے ، وہ کسی کا بھی آئیڈیل ہو سکتا تھا، مگر یہاں مایا تھی جس کے لیے وہ اس کے موم ڈیڈ کے قاتل سے زیادہ کچھ نہیں تھا،
میں بھی ٹھیک ، ویسے آپ سے ایک بات پوچھوں اگر بڑا نہ مانیں تو، ؟؟ ازمیر نے چیئر کے بیک سے ٹیک لگاتے ہوئے کہا،
ہاں جی پوچھیں، ،
7، 8 دن تو ہوگئے ہیں مجھے یہاں ، میں نے آپ کو ہمیشہ بلیک یا وائٹ رنگ میں دیکھا ہے ، نارملی لڑکیاں تو رنگوں کی کافی شوقین ہیں ، آپ کا تو آفس کی تھیم بھی بلیک اینڈ وائٹ ہے ، کچھ خاص وجہ ؟؟ ازمیر نے آفس کا بھر پور جائزہ لیتے ہوئے کہا ،
اپکو لڑکیوں کے متعلق کافی معلومات ہیں …..خیر….. آپکی زندگی آپکی مرضی. …… دوسری بات مجھے رنگوں میں نفرت ہے …… مجھے سیاہ رنگ پسند ہے کیونکہ یہ رنگ نہیں بدلتا ….. اور سفید اس لیے کہ اس کا کوئی رنگ نہیں ہوتا …… مجھے رنگیں چیزوں سے نفرت ہے ……. جو ہوتیں تو کچھ ہیں مگر انہیں رنگ دے کر کچھ اور بنا دیا جاتا ہے. …. بس اسی لیے …. میرے آس پاس آپ کو صرف دو رنگ ہی دیکھتے ہیں، ، مایا نے کھوئے کھوئے لہجے میں کہا،
انٹرسنگ ….. ویسے آپ وہ ہیں نہیں جو آپ دیکھتی ہیں، آئے مین کے کافی گہری ہیں آپ … ازمیر نے اس کو دیکھتے ہوئے کہا.
وہ تو آپ بھی ویسے نہیں ہیں جیسے نظر آتے ہیں……بلکہ ویسا تو آج کی دنیا میں کوئی بھی نہیں ہے جیسا نظر آتا ہے …… کوئی بڑا بنتا ہے لیکن وہ دل کا اچھا ہے ……تو کوئی اچھا بلکہ بہت اچھا ہے لیکن اس کے دل میں کهوٹ ہے .. ظاہر دیکھ کر کسی کو جج نہیں کرنا چاہیے …. کسی کو حالات بڑا بنا دیتیں ہیں تو … تو کسی کے خون میں شامل ہوتا ہے منافقت…. دھوکہ دینا… جھوٹ بولنا. … ان شاٹ …. سمندر کتنا گہرا ہے. .. سمندر میں کیا کیا راز دفن ہے. … یہ سب تو تب پتا چلتا ہے جب بندہ اس میں ڈوبتا ہے …. ساحل پر کھڑے ہو کر ہم صرف اندازہ ہی لگا سکتے ہیں … وہ بھی غلط…
مایا نے سامنے دروازے پر نظریں جمائے ہوئے کہا،
ہممم سہی کہہ رہی ہیں آپ … میں کافی امپرس ہوا ہوں اپسے کہ اس دنیا میں بھی کوئی ایسی سوچ رکھتا ہے … ویل ڈن. .. واقع آپ چاہے جانے کے قابل ہیں ..، پہلی بات اس نے اسے دیکھتے ہوئے کہا آخری صرف دل میں ہی کہہ سکا. .
ہممم خیر باتوں میں بھول ہی گئی. . چائے. . کافی کیا لیں گے. . مایا نے انٹرکام اٹھاتے ہوئے کہا،
کافی،
ہاں شمس دو کپ کافی بهجو میرے آفس میں، کال کاٹ کر وہ دوبارہ ازمیر کی طرف مڑ گئی، کافی کے ساتھ ساتھ پھر کافی باتیں ہوتی رہیں، ،
ازمیر مایا کو پسند کرنے لگا تھا، مگر وہ ڈرتا تھا کہ کہیں مایا کو کہہ کر اس کی دوستی سے بھی محروم نہ ہو جائے ، وہ روز گھنٹہ دو گھنٹے مایا کے ساتھ گزارتا ، اسے مایا کا بولنا بہت پسند تھا ، مایا کو بھی وہ نیچر وائز بڑا انسان تو نہ لگا لیکن پھر بھی وہ اپنا ارادہ نہ بدل سکی ، وہ بھی اپنے خول سے باہر آرہی تھی ، جتنی باتیں اس سے کرتی اتنی تو اس نے کبھی احمر سے بھی نہ کیں ،
تھوڑی دیر بعد ازمیر اپنے آفس میں چلا گیا، مایا بھی دوبارہ اپنے کام میں مصروف ہو گئی،
ہمیں کهو کر بہت پشتائو گے جب ہم نہیں ہوگیں
دنیا بھر کو ویران پائو گے جب ہم نہیں ہونگیں
بہت آسان سہی راہ وفا کی منزلیں، لیکن
اکیلے تم کہاں تک جائو گے جب ہم نہیں ہونگیں
ہمیں اپنا نہیں جان تمنا، غم تمہارا ہے
تم کس پر ستم فرمائو گے جب ہم نہیں ہوگیں
♥♥♥♥
