Tu Bewafa Na Tha by Sandal readelle50033 Episode 01
Rate this Novel
Episode 01
ٹهک، ، ٹهک، ٹهک ،
وہ باہر کھڑی کب سے دروازہ بجا رہی تھی، لیکن شاید مقابل کدهے گھوڑے بیچ کر سوا ہوا تھا، ،
کہیں یہ لڑکی پهر بہوش تو نہیں ہو گئی
وہ پریشانی میں سوچتی جلدی جلدی قدم اٹھاتی اپنے کمرے سے دوسری چابی لا کر دروازہ کھولا تھا
، کمرے کا ماحول خوابناک تھا ، کمرہ کافی بڑا تھا ڈارک بلیو تھیم جس کو دیکھ کر اندازہ لگایا جا سکتا تھا کہ کمرے میں رہنے والے کو ڈارک بلیو کلر کچھ زیادہ ہی پسند تھا، کمرے کے درمیان میں ڈبل بیڈ تھا سائڈ پر دو سائیڈ ٹیبل تھے ، کمرے میں ایک کونے میں اک فوفہ اور ٹیبل تھا، دوسرے کونے میں تین دروازے تھے، اک واشروم ، ایک ڈریسنگ روم اور تیسرا سٹڈی روم تھا،
ماہا بیٹا کدھر ہیں،
وہ بڑے بڑے قدم اٹھاتی سٹڈی روم میں داخل ہوئی تھی جس کا ڈر تھا ہی ہوا تھا ، ماہا کرسی پر بیٹھی سر ٹیبل پر ٹکائے سونے کا شغل فرما رہی تھی،
اٹھو بیٹا ابھی مایا آتی ہے پھر آپ کی ہی شامت آنی ہے چلیں شاباش جلدی اٹھیں ،
وہ اس کے ساتھ کھڑی اسے اٹھانے کی کوشش کر رہی تھی ،
پلیزززززز چھوٹی ممی تھوڑا سا سونے دیں ، اس نے بنا ہلے بیزاری سے بولا تھا
، بیٹا آپ پهر رات کو نہیں سوئی نہ ، انہوں نے افسوس سے پوچھا تھا
آپ کو پتا ہے مار دیا انہوں نے میرے ڈیڈی ممی کو ،
اس نے اک دم سر اوپر اٹھایا تھا ،
نیلی آنکھیں لال ہوئی تھی جو اس کے رات نہ سونے اور رونے کی چغلی کھا رہی تھی، سفید رنگت غصے، تکلیف ضبط کے چکر میں لال ہو رہی تھی کالے لمبے بال کاندھوں پر بکھرے ہوئے تھے ، ریڈ نائٹی جو گھٹنوں تک ہی آتی تھی اس میں اس کی گوری رنگت اور زیادہ نمایاں ہو رہی تھی ، غیر معمولی خوبصورت نقوش ..چھوٹی سی ناک. .. باریک کٹے ہوئے لب. …نیلی بڑی بڑی خوبصورت آنکھیں وہ کسی کے بھی چاروں شانے چت کرنے کی صلاحیت رکھتی تھی. ..
وہ اس کو غور سے دیکھ رہی تھی جب اچانک دروازہ کھولنے کی آواز پر وہ دونوں پیچھے مڑی تھی
گڈ مارننگ چھوٹی ممی ،
وہ چلتی ہوئی ان تک آئی تھی ، مگر دیکھ آپنی بہن کو ہی رہی تھی،
گڈ مارننگ بیٹے آپ لوگ آجائو پهر ناشتہ کرتے ہیں وہ کہتی ہوئی نکل گئی تھی
طبیعت ٹھیک ہے تمہاری،
لہجے میں فکرمندی لیے وہ آپنی جڑواں بہن سے پوچھ رہی تھی ،
مایا نے بلیک شاٹ شرٹ بلیک ہی جینز ، بلیک ہیل پہنی ، کالے لمبے بالوں کی ہائی پونی کیئے ، ہلکا سا میک اپ کیا ہوا تھا،
وہ دونوں بالکل ایک جیسی تھی گھر والوں کے علاوہ انہیں کوئی پہچان نہیں سکتا تھا کہ ماہا کون ہے اور مایا کون ، نیلی بڑی بڑی آنکھیں جو ان تینوں نے اپنی ماں سے چرائی تھی ، چھوٹی سی ناک ، گلابی ہونٹ، گالوں پر پرتے ڈمپل ماہا کے دونوں گالوں پر پڑتے تھے جبکہ مایا کے لفٹ گل پر مگر دونوں نے ایک عرصے سے اپنے ڈمپل کی نمائش کروانی چھوڑ دی تھی، سفید رنگ ،کالے لمبے بال ، مایا نے رنگ پہننے چھوڑ دیئے تھے وہ صرف سفید اور کالا رنگ پہنتی تھی مگر کبھی کبھی ماہا ضد کر کے آپنے جیسے کپڑے پہنا ہی دیتی تھی،
وہ میں ٹھیک ہوں، تم جاؤ میں ریڈی ہو کر آتی ہوں نیچے پهر ساتھ ہی جائیں گے
وہ اس کو دیکھتی پیار سے بولے نکل گئی تھی ، مایا بھی ایک نظر ساری جگہ ڈال کر باہر آگئی تھی،
تھوڑی دیر بعد وہ سارے ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھے ہوئے تھے جب ثاقب صاحب نے مزمل کو مخاطب کیا تھا،
اور بئهی کام کیسا جا رہا ہے آپ تینوں کا ،
چھوٹے پاپا اچھا چل رہا ہے آج ایک بہت امپاٹڈ میٹنگ ہے جو میں اور مایا دیکھ رہے ہیں، یہ ڈیل اگر ہمیں مل جائے تو ہمیں بہت پرافٹ ہوگا ، مزمل نے تفصیل سے انہیں بتایا تھا ،
ہمممم ، چلو خدا خیر کرے وہ کہہ کر اٹھ گئے تھے ، خدیجہ بیگم بھی اٹھ گئی تھی ،
یار یہ تم تینوں کی وجہ سے میری بہت عزت افزائ ہوتی ہے ،
احمر نے معصوم سی شکل بنا کر ان تینوں بہن بھائی کو دیکھے کہا تھا
کیوں ہم نے کیا کیا ہے جو یوں بول رہا ہے
، مزمل نے اس کو آنکھیں دیکھتے ہوئے کہا تھا،
بلیو پینٹ گرے شرٹ بلیک برانڈڈ شوز پہنے بالوں کو جل سے سٹ کیئے نیلی خوبصورت آنکھیں ، سفید رنگت، ہلکی ہلکی شیوو کیئے وہ ایک خوبرو لڑکا تھا 22 سال کی عمر میں مایا اور ماہا کے ساتھ مل کر اپنا بزنس سنبھال چکا تھا جبکہ احمر
( ثاقب صاحب مزمل لوگوں کے تایا تھے خدیجہ بیگم مزمل لوگوں کی تائی اور خالہ تھی شہریار اور مہوش کے انتقال کے بعد وہ ان تینوں بچوں کو اپنے ساتھ امریکہ لے آئی تھی ماں باپ بن کر پالا تھا انہوں نے ان تینوں کو، ان دونوں کا ایک ہی بیٹا احمر 24 سال کا تھا، 5 فٹ سے نکلتا قد، بهوری آنکھیں ، ڈارک برائون بال ماتھے پر بکھرے ، ستون ناک ، کٹدار ہونٹ ہلکی سی دهاڈی اسے اور بھی خوبرو بناتی تھی بی بی اے کر چکا تھا, اب ہر وقت فضول گھومتا پھرتا تھا کبھی ثاقب صاحب کے ساتھ آفس چلا جاتا، زیادہ وہ مزمل لوگوں کے آفس میں پایا جاتا ان چاروں میں بہت اچھی بنتی تھی، ثاقب اپنا خاندانی بزنس سنبھال رہا تھا جبکہ مزمل ، مایا نے اپنا الگ سٹونز کا بزنس شروع کیا تھا جو بہت اچھا چل رہا تھا ، مایا اور ماہا نے بھی اپنی پڑھائی ختم کر لی تھی وہ دونوں 20 سال کی ہو گی تھی ، ماہا گھر میں سب کی بہت لاڈلی تھی خاص کر مزمل اور مایا کی )
یار ہر وقت میرے باپ کے سامنے نمبر بڑھاتے ہوئے نظر آتے ہو کیا مجھ سے میرا باپ چھیننا چاہتے ہو
اس نے جانجتی نظروں سے مزمل کو دیکھتے ہوئے پوچھا تھا
چلو ہم لیٹ ہو رہے ہیں اٹهو
، وہ مایا، ماہا کو بولتا احمر کو سرے سے نظر انداز کرتا باہر جا چکا تھا، وہ دونوں بھی نکل گئی تھی
اارےےےےےےےے مجھ غریب کو بھول کیوں گئے رکووووووو
وہ سینڈوچ اٹھائے ان کے پیچھے بھاگا تھا ، ماہا مزمل کے ساتھ آگے بیٹھی تھی ، جبکہ مایا پیچھے بیٹھ رہی تھی احمر بھی بھاگتا ہوا آکر اس کے ساتھ بیٹھ گیا تھا کہ کہیں وہ چھوڑ ہی نہ جائیں مزمل گاڑی بگا کے لے گیا تھا
لوٹ آیا ہوں پھر سے اپنی اسی قید تنہائی میں..
لے گیا تھا کوئی اپنی محفلوں کا لالچ دے کے…….
■■
فارس !! بیٹا کدھر جا رہے ہو،
فوزیہ بیگم نے فارس کو روکتے ہوئے پوچھا تھا جو باہر کی طرف جا رہا تھا
وہ ماما میں زین کی طرف جا رہا تھا، آپ کو کوئی کام ہے ؟
وہ ان کی طرف دیکھا ہوا بولا تھا، بلیو جینز ، ریڈ شرٹ پہنے، بلیک شوز ، بالوں کو جیل سے سیٹ کیئے ، سفید رنگت گلابی ہونٹ جو سائڈوں سے بلیک جو اس کا نشہ کرنے کی گواہی دیتی تھیں ، وہ ایک خوبرو جوان تھا ،
ہممم بیٹا وہ آج ڑرائیور نہیں ہے تو دیا کو یونی چهور آئو،
اوکے بھیجے جلدی
، وہ بولتا باہر نکلا تھا،
5 منٹ کے بعد دیا آگئی تھی، پنک ٹی شرٹ ، بلیو جینز ، بالوں کو ہائی پونی کیئے ، گرے آنکھیں، گلابی ہونٹ ، سفید و سرخ رنگت وہ کسی کی بھیdream girl ہو سکتی تھی….
وہ آکر گاڑی میں بیٹھ گئی تھی، فارس اسے یونی ڈراپ کرنے کے بعد زین کی طرف چلا گیا تھا، زین اس کا بچپن کا دوست تھا ،
وقار صاحب اور رضیہ بیگم کا اک ہی بیٹا تھا ، صدیق ، ان کی شادی انہوں نے اپنی مرضی سے اپنے دوست کی بیٹی، فوزیہ سے کر دی ان کا ایک بیٹا فارس اور بیٹی دیا تھی ، وقار صاحب، زضیہ بیگم اور صدیق صاحب اپنے پاکستان گاؤں میں حویلی میں رہتے تھے، وقار صاحب وہاں کے چودھری تھے گاؤں کے سارے فیصلے ان کی مرضی سے ہوتے تھے، فوزیہ بیگم اپنے بچوں کو لے کر امریکہ شفٹ ہوگئی. .صدیق خان بھی انکے ساتھ آگئے مگر وہ رہتے ان کے ساتھ نہیں تھے. صدیق اپنے بچوں، بیوی سے ملنے آتے رہتے تھے ، دیا میں تو ان کی جان بستی ، وہ بہت ڈرتے تھے کہ ماضی میں ہوئے گناہ ان کی بیٹی کی زندگی میں نہ آجائیں، وہ تینوں ایک پرسکون زندگی جی رہے تھے،
پھر خبر آئی وہ بہت خوش ہے
جب جدا ہوئے تھے تو حلات دونوں کے اک جیسے تھے ����
■■■■■
مع معااافففف ککرر دووو
، کرسی پر باندھا ہوا شخص اپنی زندگی کی بیگ مانگ رہا تھا مگر شاید مقابل کوئی بہت سخت دل تھا جسے لوگوں کو یوں مار کر سکون ملتا تھا،
اررےے سیٹھ جی آپ تو ڈر رہے ہیں یارررر چلیں آپ کے ساتھ کافی عرصہ کام کیا اسی لئے آپ کے لیے رعایت ہے ، ٹھیک ہے نہ، ؟؟
ان کے سامنے ان کی آنکھوں میں دیکھتا ہوا بولا تھا،
دیکھو ملک مجھے جانے دو تمہارا راز راز ہی رہے گا ملک میرے بچے یتیم ہو جائیں گے رحم کرو
ملک سیٹھ فواد اپنے سامنے کھڑے اس ظالم شخص کے آگے ہاتھ جوڑ کر کہا تھا،
اتنی ہی محبت تھی اپنے گھر والوں سے تو پہلے سوچنا چاہیے تھا نہہہ، چلو کیا یاد کرو گے نہیں مارتا تمہیں لیکن یاد رکھنا اگرررر کسی کو بھی بتانے کی کوشش کی یا کوئی چلاکی کی تووو، ،،،، تو تمہاری ننھی پری بہت خوبصورت ہے کیا ہوا چھوٹی ہے تو ہمارا کام ہو جائے گا ، اس کے بعد تمہاری بیوی، واہ کیا مست ہے ، کافی لوگوں کے لیے کافی ہے، اس لیے زرہ احتیاط سے کام لیا ، مجھ سے غداری کی تو تمہارا پورا خاندان ختم کرنے میں، میں دیر نہیں لگائوں گا، ، سمجھ گئے ہوگےے
، وہ سفاکیت کی ساری حدیں پار کرتے ہوئے بولا تھا
، کهولو اسے
آخر میں اپنے آدمیوں کو اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا، وہ اسے کھول چکے تھے ، سیٹھ فواد شکر خدا کا کرتا ہوا نکل گیا تھا ، ملک کی قید میں جو ایک دفعہ آجانا پهر اس کا نکلنا مشکل ہی ہوتا ،
نظر رکھو اس— پر کہیں پهر ہوشیاری نہ دیکھا دے ،
وہ اپنے خاص آدمی کرپس اور جیک کے سامنے بیٹھتے ہوئے بولا تھا،
جی سر ، جیک نے ادب سے جواب دیا اور باہر نکل گیا،
ویسے سر ایک بات پریشان کر رہی تھی آگر آپ بتا دیں تو،
کرپس نے ڈرتے ڈرتے اپنے سامنے بیٹھے شخص سے پوچھا تھا، ،
ہاں پوچھو ، سگریٹ کا دھواں ہوا میں چھوڑتے ہوئے کہا تھا،
وہ سر کیا آپ نے سیٹهه کو اس کی فیملی کی وجہ سے چهورا میرا مطلب کے اس کی ہی وجہ سے آپ اسے تو نہیں چهور سکتے ،
کرپس نے ڈرتے ڈرتے اپنی بات پوری کی تھی کہیں اگلے کو غصہ ہی نہ آجائیں پهر نہ آئی مرنا پرہے،
ہاہہاہاہاہا جب تم جانتے ہو کہ میں اپنے مطلب کے بغیر کچھ نہیں کرتا تو یہ سوال کیوں، ؟ مجھے ابھی اس سے بہت کام ہے اس کا سارا بزنس ہتھیانا ہے اس کے بعد اس کی بیوی ، واہ کیا کمال کا مال ہے ، پتا نہیں اتنا خوبصورت مال اسے کیسے مل گیا میں تو اس کی بیوی کو دیکھ دیکھ کر ہی دل بھرتا ہوں لیکن اب وہ مجھے چائیے ہے. ..اسکے بعد ابھی اور بھی بہت سے کام نکلوانے ہیں اس سیٹھ سے. .کافی کام کا بندہ ہے. ..مگر. .ی وفاداری. .اور یہ ایمان داری ختم ہوجائے تو. .،
وہ سگریٹ کے کش لیتا ساتھ ساتھ اپنی آگے کی پلاننگ بھی پتا رہا تھا،
ملک ازمیر ، ایک بہت بڑا بزنس ٹائیکون تھا، اس کے باپ ملک اسلم کا اتنا بڑا بزنس نہیں تھا، مگر ازمیر نے جب سے سنبھالا تھا، کئی غیرقانونی کام کر کے اس نے اپنا بزنس کافی پهلا لیا تھا، ملک اسلم اور ہما بیگم کا ایک ہی بیٹا تھا ، مگر نا تو اسلم ملک نے اس پر توجہ دی نا ہی حما بیگم کو اسکی کوئی پروا تھی. .. تنہا رہتے رہتے. ..وہ خود سر ہوتا گیا. .. وہ جو چیز پسند کرلیتا بس اسے وہ چاہئیے ہوتی خوا وہ کسی اور کی ہی کیوں نہ ہو …وہ رشتوں کے معاملے میں ایک انتہائی بد نصیب شخص تھا. … بس اسی لیے جو اسے پسند آجاتا وہ اس کے معاملے میں شدت پسند ہوجاتا. ..وہ اسے دنیا سے چھپا لینا چاہتا تھا. …
، سفید رنگت، گلابی ہونٹ جو سائیڈ سے کالے ہوئے تھے ، بهورے بال جو ماتھے پر بکھرے ہوئے ہوتے ، کالی سیاہ آنکھیں، کسرتی جسم.. 6 فٹ قد وہ کتنی ہی لڑکیوں کے خوابوں کا شہزادہ تھا اسی بات کا فائدہ اٹھا کر وہ کئی لڑکیوں کے ساتھ کھیل چکا تھا اپنے پیار میں پهسا کر وہ انہیں اپنے فام ہاوس میں لے آتا پهر جب دل بھر جاتا تو انہیں چھوڑ دیتا … یہی سب اسکی زندگی کا خلاصہ تھا. ..
اب تم جاؤ میں بھی کچھ ٹائم ریسٹ کرنا چاہتا ہوں،
وہ کرپس کو جواب دینے جود بھی باہر نکل آیا تھا،
صبح کے تخت نشین شام کو مجرم ٹھہرے
ہم نےپل بھر میں نصیبوں کو بدلتے دیکھا ہے��
