Tu Bewafa Na Tha by Sandal readelle50033 Episode 18
Rate this Novel
Episode 18
شام کے سائے گہرے ہورہے تھے ساتھ ہی ہوا میں خنکی بڈھ رہی تھی. …. ہلکی ہلکی ہوا. .. سردی مزید بڑھا رہی تھی. ….. سڑک پر کافی لوگ موسم انجوائے کررہے تھے. ..تو کہیں تھکے ہارے گھروں کو لوٹ رہے تھے. ….
میں نے کہہ دیا ہے. .مجھے گھر کر جاو مزمممملل. … وہ تقریباً چلاتے ہوئے بولی تھی. .. اونچا بولنے کی وجہ سے سر میں ٹیس اٹهی تھی. ….. مگر بہت مہارت سے نظر انداز کر گئی تھی. …. صبح کے بعد اسے اب 3 بجے ہوش آیا تھا تب سے ایک ہی ضد لگائی ہوئی تھی. ..اور ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ آبهی اسے ڈسچارج نہیں کرسکتے تھے. ..مزمل بے چارہ نہیں ماہا اور ڈاکٹر کے درمیان پس کر رہ گیا تھا. ..جانتا تھا ماہا کی ضدی. .. سر پهری تھی. … اس نے کہا تو اب اسے جانا ہی تھا. … اور وہ پریشان تھا کہ دوبارہ باہوش ہوگئی تو. ….. احمر نے تو ہاتھ کھڑے کر کے سرینڈر کا سائین دے دیا تھا. …. امیر کو دن کو ہی زبردستی بهج دیا تھا. …. سحر بھی ماہا کو سمجھا رہی تھی مگر وہ بھی ماہا تھی. …
ماہا …کل چلیں گے نا کہہ رہا ہوں. …. رات کو بڑے پاپا بھی آرے ہیں پلیزززز اب مان لو. …..کئی بار بولی گئی بات ایک دفعہ پھر بولی تھی. …..
پلیزززز مجھے نکالو ادھر سے دم گھٹ رہا ہے. … اور بڑے پاپا آئے تو میں اگلے دو ہفتے ادھر ہی پڑہی رہوں گی. …. ماہا اب بیڈ سے اٹھتی بولی تھی. …. سر پر پٹی کی ہوئی تھی. …. ہاسپٹل کے ڈرس میں وہ ضدی لڑکی کسی کی نظروں کے حصار میں تھی. …..
اچھا چلو احمر اور سحر لے کر جاو. ..مجھے کوئی بہانہ بنانے دو اب ڈاکٹرز کے سامنے. … ہمیشہ کی طرح آج بھی ماہا کے آگے کسی کی نہیں چلی تھی. …. کپڑے پہلے ہی سحر لائی ہوئی تھی ….. ٹی پنک لانگ سویٹر. .. بلیو جینز پہنے وہ باہر آئی تھی. …. سر پر پٹی تھی تو. .بال کھلے کندھے پر بکھرے تھے. …..وہ اس حال میں بھی کافی حسین لگ رہی تھی. …. پھر سحر اور احمر کے ساتھ بیک ڈور سے باہر نکل گئی. .. چہرے پر پریشانی. .. حیرت ..غصے بنکوقت تاثر تھے. … مزمل اب ڈاکٹر کے پاس چلا گیا تھا. ..کو جگار تو کرنا ہی تھا. …..
چلو عشق نہیں ….ہمیں سوچنے کی عادت ہے
کیا کریں. …..ہمیں ایک دوسرے کی عادت ہے
تو اپنے شیشہ گری. …. ہنر نہ کر ضائع
میں آئینہ ہوں. ..مجھے ٹوٹنے کی عادت ہے
تیرا نصیب ہے اے دل. ….. سدا کی محرومی
نہ وہ سخی ہے. ….نہ تجھے مانگنے کی عادت ہے
یہ خود اذیتی رہے گی. …. آخر کب تک فراز
تو بھی اسے نہ کر یاد. …جسے بھول جانے کی عادت ہے
صدیق خان مایا آ سحر کی طرف سے آنے کے بعد سے فارس کو کال پر کال کررہا تھا. .. مگر وہ پہلے ہی کال کاٹ دیتا. .. پھر اس نے موبائل ہی آف کردیا تھا. …. اور وہ تب سے کوشش کررہا تھا. .. دیا کی فکر الگ کهائے جارہی تھی. .. اب اپنی بیٹی پر وہ وقت آیا تو کیسے تڑپ رہا تھا. …. دعائیں کرتے تهک نہیں رہا تھا. … یہی کیسا انکشاف ہوا تو آج. .. شہریار اور مہوش کے بچوں کو بچوں کو بھی اس نے مارا تھا. … . اب وہ کیسے سامنے اگئے تھے. .. اور دوسری ….ہاں اسے یاد تھا. … اس نے پاکستان میں ہی ایک لڑکی. .. حرا کے کے ساتھ زیادتی کی تھی. …
اس کے بعد اسے پتا چلا تھا اس کی ایک ناجائز بیٹی بھی تھی. …. اس سے کبھی دیکھا ہے نہیں تھا مگر وہ اس کے بعد بھی کئی دفعہ حرا سے ملا تھا. .. حرا کا والد خرم اور والدہ سیرت نے اس کے بارے میں جان کر اس پر کیس کیا تھا. … ریپ کیس. .. صدیق خان نے کئی دفعہ خرم صاحب کے منع کیا تھا. … کے چھوڑ دے یہ سب اسے کچھ نہیں چاہئے تھا. .. وہ سحر کو چھوڑ نہیں سکتی تھی وہی بےشک ناجائز اولاد کی مگر وہ اس ماں تھی. .. نہیں چھوڑ سکی صدیق خان نے. ..اسے کیس واپس لینے کے لیے کہا تھا ورنہ دھمکی دی تھی کہ وہ اس کی بیٹی کو مروا دے گا. … مگر نجانے اس نے کدھر چھپا کر رکھا تھا سحر کو بھی وہ کبھی اسے نقصان نہیں پہنچا سکا. … اور ادھر خرم صاحب نہیں مانے وہ چاہتے تھے ان کی بیٹی کو انصاف ملے. … اور اسی چکر میں مر گئے. ..جب صدیق خان کو پتا چلا کہ وہ نہیں مان رہے تو. .. پہلی ہیرنگ میں ہی کار ایکسیڈنٹ کروا کر انہیں مروا دیا …. اس گاڑی میں خرم صاحب اور سیرت ہی تھے وہی دونوں موقع پر مر گئے تھے. … ایکسیڈنٹ ایسے ہوا تھا کہ کسی کے گمان میں بھی نہیں تھا کہ. .وہ ایک سازش تھی. …
اس کے بعد کئی عرصہ خاموشی سے گزر گیا. ..پھر انہیں خیال آیا تھا کہ خرم صاحب کا کافی بڑا بزنس تھا. .. اب اس کی نیت سے بزنس پر تھی. … مگر حرا نے کہہ دیا کہ وہ سب سحر کے نام ہے …. اور تب ہی انہوں نے غصے میں ان پر فائرنگ کی تھی. ..جس کے نتیجے میں وہ دونوں ٹانگوں سے محروم ہوگئی تھی. … اس کے بعد سے انہوں نے کبھی انہیں تنگ نہیں کیا. … وہ تو بھول بھی گئے تھے اپنی دوسری بیٹی کو. … اب وہ ان کے مقابل تھی. ….. انہیں شدت سے اپنی غلطی کا احساس ہورہا تھا. ..وہ تب ہی ان کا قصہ ختم کردیا چاہیے تھا. .مگر اب دیر ہوگئی تھی. … .
انہوں نے تهک ہار کر اسلم ملک کو کال کی اور اسے الف سے یے. .تک ساری کہانی بتا دی تھی. … پہلے ہی اسلم ملک کافی شاک ہوا. …. شاک کے پانا بنتا تھا. …. جن بچوں کو وہ بارہ سال پہلے مار چکے تھے. …. جس مہوش کی انہوں نے سانسیں ادھیر دی تھی. …. وہ واپس کیسے آگئے. …. پھر وہ. …. پھر وہ خوش بھی ہوئے. … ان کاکبیرہ. … اتنا بڑا بھی نہیں تھا. …. تھا تو گناہ. …. مگر وہ زندہ تھی. .. اس کے بچے زندہ تھے. …. وہ اپنے ناقابل معافی گناہ کی معافی مانگنا چاہتے تھے. …. نجانے کس منہ سے. …. پھر انہوں نے صدیق خان کو کہا کہ وہ خود ارے ہیں اور دو دن میں تب تک وہ کچھ نہ کرے. .کیونکہ وہ جانتے تھے. … وہ کچھ بھی کر کے انہیں مارنے کی پوری کوشش کرے گا. …. صدیق خان پہلے ہی بہت غصہ ہوئے ہیں ماننا پڑا. .. ایک ہی آپشن تھا. ..
وہ دیا کے لئے بہت پریشان تھے. … مگر پریشان ہونے کے علاوہ کچھ کر بھی تو نہیں سکتے تھے. ….تب ہی خاموش ہوگئے. …. ایسی خاموشی جس کے بعد طوفان آنا تھا. …..
سنو ایسے نہیں کرتے
جسے شفاف رکھنا ہو
اسے میلا نہیں کرتے
اگر تمہاری آنکھیں اجازت دیں
توہم کیا کیا نہیں کرتے
اپنے اجڑے ہوئے گھر پر
زیادہ سوچا نہیں کرتے
سفر جسکا مقدر ہو
پھر اسے روکا نہیں کرتے
کیا ہوا احمر. پریشان لگ رہے ہو. …. مایا احمر کے ساتھ بیٹھتے بولی تھی. …. شام اب رات میں ڈهل رہی تھی. … ماہا کو اتنے جلدی گھر آتا دیکھ کر وہ حیران نہیں ہوئی تھی. …جانتی تھی. .وہ ہاسپٹل میں ٹک ہی نہیں سکتی تھی. …. اب وہ دوائی لے کر سو رہی تھی. …کسی نے اس سے کچھ نہیں پوچھا تھا. …. نا اس نے کچھ بتایا. …. مزمل ت آتے ساتھ سو گیا تھا. … عینا اور سحر کو بھی مایا نے ادھر ہی زبردستی رکھ لیا تھا کہ جب تک ادھر ہے ہاسپٹل میں نہیں بلکہ اس کے ساتھ رہے گی. ..کافی دگ وجے دو کے بعد منا ہی لیا تھا. …. آخر ماہا کی ٹوئینی تھی. ..اپنی بات منوانا جانتی تھی. .. آبهی اپنے روم میں جانتے ہوئے اس نے لائونچ میں احمر کو پریشان بیٹها دیکھ کر اس کی طرف آگئی تھی. ….
… جانممم. جہاں تم تینوں جیسے نمونے ہوتے ہیں وہاں پریشانی کا پریشانی ہوتی ہیں. ….. اس نے جل کر جواب دیا تھا. … آخر وہ بھی تو انسان ہی تھا. …رات سے گهن چکر بنا ہوا تھا. … اوپر سے. … کل سے ازمیر کو اپنے سامنے دیکھ دیکھ کر دو کلو خون تو ویسے ہی جل گیا تھا. …جو بے وجہ سے ہیر کے لیے دو دن ادھر رہا. …بےشک وہ مایا نہیں تھی مگر وہ تو اسے مایا ہی سمجھ رہا تھا. …
اب کیا کردیا ہم نے. … مایا نے ٹی لگاتے ہوئے بے نیازی سے کہا. .
وہ بے چارہ عیش عیش کر اٹھا تھا. …. اس کی نیندیں اڑا کر کتنے مزے سے بیٹھی تھی. .. ..
ارے جانم کس نے کہا آپ نے کچھ کیا. … ہم ناچیز ہوتے ہی کون آپ آپ پر ٹونٹ کریں. ..گستاخی معاف. .. احمر نے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے کہا تھا. …..
چپ کر کے جاو آرام کرو تم کل سے جاگے ہوئے ہو. … چینل چینج کرتے بنا اس کی طرف دیکھے بولی تھی. .. اس کا خون جلا گئی تھی. ….
یہ. …کیا کررہے ہو. .. وہ چیخی تھی. … احمر ایک دم آٹھ کر اس کے پاس آگیا تھا اور اسے جھٹک دے کر خود پر گرایا تھا. …
بہت تهک گیا ہوں. ..تھوڑی دیر میرے پاس رہو ٹھیک ہوجاوں. .. احمر نے زبردستی اس کا سربراہ اپنے سینے سے لگائے ہوئے کہا. …مایا خاموش ہوگئی تھی، ….
یار مجھے ڈر لگ رہا ہے آج صبح سے. …. پتا نہیں جیسے کچھ غلط ہوجائے گا. .. احمر نے ہونٹ اس کے بالوں پر رکھتے کهوئے ہوئے لہجے میں کہا. …
ماہا کی وجہ سے پریشان ہوگے. ..ہوں تو میں بھی. …. بہت ضدی ہوگئی ہے وہ تو. ..پہلے کم تھی. .کیا. …. اب دیکھو نا کتنی بیمار ہے مگر سنتی کدھر ہے. .. مایا کے لہجے میں فکر واضح تھی. …
ہممم مگر مجھے اس سے ہٹ کر ڈر لگ رہا ہے. … سامنے پڑا کمفٹر اس نے اپنے او مایا پر ڈالتے کہا. ..
مایا نے سر اٹھا کر اسے دیکھا تھا. …. بهورے بال ماتھے پر بکھرے ہوئے تھے. … ناک لال ہو رہا تھا. … اس کے چہرے پر ڈر تھا. …
ازمیر کو دیکھ کر نا. .. اس نے پتا نہیں بنایا تھا یا پوچھا تھا. ..
پتا نہیں واپس کیوں آگیا ہے. .کام توختم ہوگیا ہے. … ماہی میں بہت ڈرتا ہوں. .کہیں زندگی کے کسی مور پر. … کہیں. .کسی وجہ سے. ..ازمیر کی وجہ سے. ..یا. .یا بے وجہ ہی. ….کہیں کھو نا دوں. …. بہت ڈرتا ہوں. ….کوئی چهین نہ لے تمہیں مجھ سے. … تم جانتی ہو. … میں تم سے تب سے محبت کرتا ہوں. .جب تم آئی تھی. … تب مجھے تو یہ بھی نہیں پتا تھا یہ محبت ہوتی کیا ہے. …مگر تمہیں اورماہا کو دیکھ کر میں ایک دم پہچان جاتا تھا. .. تب جب اکثر موم ڈیڈ بی پریشان ہوجاتے تھے. … تمہیں دیکھ کر میرا دل بہت زور سے دھڑکتا تھا. … اور ابب ماہی اب. .محبت بہت پیچھے رہ گئی ہے. …. بچپن سے تمہیں چاہ کر. ..سوچ سوچ کر. … تمہارے خواب دیکھ دیکھ کر. .. اب ایک عادت سی ہوگئی ہے. ..ایک نشہ سا ہے. ..جو نا لوں تو سانسیں اکهرتی ہیں. …. تمہیں سوچوں نا تو کچھ بھی اچھا نہیں لگتا. … اگر. ..میں کبھی ایسا ہونے تو نہیں دوں گا مگر پھر بھی تم کہیں دور ہوگئی تو. .. میں بالکل نہیں جانتا ہوں کیسے رہوں گا. ….یا. …یا رہوں گا بھی یا نہیں. … بس صرف اور صرف اتنا جانتا ہوں میں نہیں رہ پاؤں گا. ..وہ جنونی انداز میں بولے جا رہا تھا. …مایا نے اسے ایک دفعہ بی روکا نہیں تھا. ….. وہ ہنوز خاموش تھی اس خاموشی کو ایک دفعہ پھر احمر کی بهاری گھمبیر آواز نے توڑا تھا. …
مایا مجھ سے وعدہ کرو. .تم خود کو میرے لیے سنبھال کر رکھو گی. … وعدہ کرو میرے علاوہ کسی کی نہیں ہوگی. …
ہممم جانتی تھی تمہاری پریشانی کی وجہ یہ ہی ہے. …. وہ اپنے کام سے آیا ہوگا. .یا جس کام سے بھی آئے. … تم کیوں ڈر رہے ہو. .. وہ مجھے تم سے نہیں چهین سکتا. … وہ میرا دوست تھا اور کچھ نہیں. …. اور وعدہ خیال رکھوں گی خود کا. .. مایا کاسر اب بھی اس کے کندھے پر تھا. …. وہ کچھ دیر یوں ہی خاموشی سے ایک دوسرے کو محسوس کررہے تھے. … اچھا اب چھوڑو میں ماہا کے دیکھ لوں. ..کچھ کھانا ہو تو. …. مایا اب. اٹهی تھی اس نے روکا نہیں تھا. ..مایا چپل پاوں میں اڑستی اٹه کر ماہا کے کمرے کی طرف بڑھی تھی. ….
یہہہ کدھر گئی. … وہ کمرے میں آئی تھی. ..خالی کمرہ عدالت کا منہ چڑا رہا تھا. .. واشروم. .. سٹڈی کہیں بھی تو نہیں تھی. .. مایا کا دماغ گھوم گیا تھا. .مطلب وہ اسحالت میں دوبارہ باہر نکل گئی تھی. ..اس نے سر پکڑ لیا تھا. …
کیا ہوا کدھر ہے. .. احمر کمرے میں داخل ہوتے. ..ادھر ادھر دیکھتے بولا تھا. ..
نکل گئی پھر. … مایا نے بالکونی میں سے نیچے. .. پورچ میں دیکھتے ہوئے کہا تھا. ..اس کی گاڑی نہیں تھی. …. اسے تو گیڈکیپر پر غصہ ارہا تھا جس نے اس کے لیے دروازہ کھولا. ..
فون بھی نہیں لگ رہا. .. وہ پوری طرح ہوش میں بھی نہیں تھی. ..اور گاڑی لے کر نکل گئی. .. بس اب دعا کرو زندہ آجائے. …. سہی توکہتا ہوں تم تینوں بہن بھائیوں کو سمجھنے سمجھانے والا کوئی پیدا ہوا ہی نہیں ہے. .. احمر نے جلے ہوئے لہجے میں کہا. .پریشان ہو بھی ہوگیا تھا. .
ہممم چلو جاو تم. ..میں دیکھتی ہوں. .مایا اپنے کمرے کی طرف بڑھتی بولی تھی. .
نا جی شکریہ تم نا نکل جانا اب اس کے پیچھے. .میں جارہا ہوں. ..احمر چابیاں پاکٹ میں چک کرتا …بولا تھا. .جانتا تو تھا. .اسی کی ٹوئینی ہے. .سنے گی تو نہیں پر بھی بول دیا تھا. .. اور گلگلز لگاتا. . باہر نکل گیا. ..وہ دن سے ماہا کے پیچھے خوار ہی ہوگیا تھا. .سویا بھی نہیں تھا. .. اور اس میڈم کو فکر ہی کہاں تھی. .
مایا بھی کسی کو فون کرتی جلدی سے کمرے کی طرف بڑھ گئی. ……
وہ بلائیں تو کیا تماشا ہو
ہم نہ جائیں تو کیا تماشا ہو
یہ کناروں سے کھیلنے والے
ڈوب جائیں تو کیا تماشا ہو
بندہ پرور جو ہم پہ گزری ہے
ہم بتائیں تو کیا تماشا ہو
آج ہم بھی تری وفاؤں پر
مسکرائیں تو کیا تماشا ہو
تیری صورت جو اتفاق سے ہم
بھول جائیں تو کیا تماشا ہو
وقت کی چند ساعتیں ساغرؔ
لوٹ آئیں تو کیا تماشا ہو
وہ اب کافی دیر بعد جاگی تھی. …. پہلے تو کافی دیر چهت کو گھورتی رہی. ..پھر آہستہ آہستہ دماغ کام کرنا شروع ہوگیا تھا. …. وہ صبح آگئی تھی ضد کر کے. ..مگر آنے کے بعد پھر سر درد کررہا تھا. … تب ہی سحر نے زبردستی دوائی کھلا کر سلا دیا تھا. .. اور اب وہ جاگی تھی. ….
ہاتھ اس کے اٹھا کر سائیڈ ٹیبل پر پھیرا تھا. .. موبائل اٹھا کر ٹائم دیکھا تو. .. 7 بج رہے تھے. …. زیادہ ٹائم تو نہیں ہوا تھا مگر سردیوں کی وجہ سے اندھیرا ہوگیا تھا. .. پھر وہ کچھ سوچتی اٹهی تھی. ..سر درد کررہا تھا. .. پہلے سامنے فروٹ باسکٹ سے کچھ فروٹ کھانے کے بعد اس نے ٹیبلٹ لی تھی. ..پھر فریش ہونے چلی گئی. ….. شاور تولے نہیں سکتی تھی. .. کپڑے چینج کر کے باہر آگئی. … موبائل اور گاڑی کی چابیاں اٹھا کر باہر نکل گئی. …. سامنے تو کوئی تھا نہیں تو اسے سر کھپانے کی ضرورت نہیں پڑی. …. ہوتا بھی تو. .. اس نے وہی کرنا تھا وہ اس نے سوچا تھا. … او اس وقت اس کے دماغ میں ہوئی منظر تھا. .. ہاسپٹل میں گرنے سے پہلے کا. …. وہ چہرہ جو اس نے بارہ سال بعد دیکھا. … ہاں مہوش کا چہرہ. … اس نے مہوش کو دیکھا تھا. .. ہاسپٹل کے ایک روم میں بے سود بیڈ پر پرا. ….. اس کا دماغ شل ہوگیا تھا. .. تب ہی وہ حواس باختہ ہو کر بھاگی تھی. … وہ تو لفٹ کی طرف جانا چاہ رہی تھی مگر. … سیڑھیوں کے پاس ہی اس کا پاؤں مڑ گیا تھا. … کوشش کے باوجود وہ گر گئی. ..
اور اب گیڈکیپر کو آنکھیں دکھانے کے بعد وہ نکل ہی آئی تھی. …. اسے اپنی سوچ اور آنکھوں دیکھے تو غلط ثابت کرنا تھا. …. . یقین نہیں تھا جو اس نے دیکھا وہ سچ ہے تب ہی کسی کو کچھ بتایا بھی نہیں. …
وہ آبهی ایک قدرے ویران سڑک سے گزر رہی تھی. ..جب اچانک ایک گاڑی آکر ٹھیک اس کی گاڑی کے سامنے رکی تھی. … ایسے کہ ماہا اپنی گاڑی آگے نہیں بڑھا سکتی تھی. …. وہ پیچاں گئی تھی. .. سامنے کون تھا. … فارس صدیق خان. … ہاں وہ فارس ہی تھا. …. جو گاڑی میں بیٹھا اسے گھور رہا تھا. ..پہلے تو وہ ہارن بجاتی رہی مگر مقابل بھی سہی ڈھیٹ تھا. … جبھی ہلا تک نہیں. … ماہا غصے سے باہر نکلی تھی. .. گاڑی کا دروازہ زور سے بند کرتی. … اس کی گاڑی کی طرف بڑھی تھی. … جو اب بھی اسے ہی دیکھ رہا تھا. ….
مسئلہ کیا ہے. ..رستہ کیوں روکا ہوا ہے. … وہ اس کی گاڑی کا شیشہ ناک کرتی دوسرے ہاتھ سے سر مسلتی بولی تھی. ….
بات کرنی تھی تم سے. ..فارس گاڑی سے باہر نکل کر اس کے سامنے کھڑا ہوتے اس کا جائزہ لیتے ہوئے کہا تھا. …. وائیٹ گرم سٹائلش سوئیٹر ..بلیو جینز. ..وائیٹ ہی شوز پہنے. ..سر پر پٹی باهندی تھی. .. جو زرا سی لال تھی. ..خون سے. .. بال کھلے. .. وہ الحال میں بھی فارس کا دل دهڑکا گئی تھی. .. فارس نے بھی آج اتفاق وائیٹ شرٹ اور بلیو جینز ہی پہنی تھی. … جیکٹ اندر گاڑی میں ہی تھی. ..
جو بات ہے جلدی کرو زرا. … مجھے جانا ہے کہیں. … وہ اپنی گاڑی کی طرف بڑھتی بولی تھی. ..فارس بی اس کے پیچھے ہی آگیا تھا. ..
تمہیں آرام زرا نہیں ہے. … حالت دیکھو زرا اپنی اور. ..خود گاڑی ڈرائیو کررہی ہو. ..کچھ دیر رہ لیتی گھر. … وہ نہ چاہتے ہوئے بھی بول چکا تھا. … بات وہ کوئی اور کرنا چاہتا تھا مگر اسے اس طرح دیکھ کر وہ پریشان ہوگیا تھا. …. کل رت کو اتنی کریٹکل کنڈیشن تھی. ..موت اور زندگی کے درمیان تھی اور آج گاڑی میں بیٹھی وہ بھی اکیلی. .
میری فکر مت کرو تم. …میں سنبھال سکتی ہوں خود کو. ..تم نے اگر یہی بات کرنی تھی توپلیزز گاڑی ہٹائو مجھے لیٹ ہورہا ہے. … ماہا پہلے تو اسے دیکھتی رہی. .. پھر ناگواری منہ پر سجائے ترخ س بولی تھی. … وہ اسے نہیں دیکھنا چاہتی تھی. … جانتی تھی اسے سامنے دیکھ کر دل اس کی تمنا شدت سے کرتا تھا. … محبت کو بھول جانا احسان ہے بشرطیکہ کہ وہ دوبارہ سامنے نہ آئے …لیکن وہ دونوں تو ملتے رہتے تھے. .
ہممم چلو تو کام کی بات پر آتے ہیں مجھے یہ بتاؤ کہ یہ کون ہے. .ماہا سلطان. …. فارس سرد سانس ہوا کے سپرد کرتا موبائل ماہا کی طرف کرتا سردمہری سے گویا ہوا…
ماہا ہونقون کی طرف کبھی موبائل فون کبھی فارس کو دیکھ رہی تھی. جس نے آج اسے پہلی مرتبہ ہیر کے بجائے ماہا سلطان کہا تھا. .. … موبائل پر اسی سی سی ٹی فوٹیج سے لی گئی فوٹو تھی. ..جس میں مایا نظر ارہی تھی اسکے بال اور نیلی آنکھیں. .. ماہا کو ت ابھی تک نہیں پتا تھا کہ یہ سے مایا نے کروایا. … یا کچھ بھی اس سے ریلٹد. … لیکن وہ فوٹو دیکھ کر پہچان گئی تھی وہ مایا ہی تھی، …
ماہا تم نے ہی میری موم اور دیا کو مارا ہے نا. .؟ مجھ سے جھوٹ مت بولنا. .. میں جانتا ہوں یہ تم ہی ہو. … اور تم نے دھمکی دی ہے مجھے. .. فارس کے دل نے شدت سے دعا کی تھی وہ ماہا نہ ہو. .
ہاں. .میں ہی تھی ..میں نے ہی مارا تمہاری موم اور دیا کو. .کیا کرو گے ہاں. ..ماہا کے کچھ سوچتے ہوئے کہا. .
فارس نے ایک جھٹکے سے اسے گاڑی کے ساتھ پن کیا تھا. .. سر زور سے گاڑی سے لگنے کی وجہ سے خون نکلنا شروع ہوگیا تھا. …سر کا درد بڑھنے لگا تھا. ….
ماہا اگر اس میں تمہارا ہاتھ ہوا تو آئے سوئیر میں اپنے ہاتھوں سے جان لوں تمہاری. . مار دوں گا میں تمہیں. … تم قابل ہی نہیں میرے بے لوث محبت کی. ..فارس کا لہجہ خطرناک حد تک سنجیدہ تھا. .. ماہا کا سر درد سے پھٹ رہا تھا. …مگر وہاں پڑوا کسے تھی. …
مارا ہے میں نے تمہاری موم اور دیا کو. .انہی ہاتھوں سے جو تمہارے ہاتھ میں ہیں. .. لیکن قسمت سے یا بدقسمتی سے تمارا گھٹیا باپ بچ گیا. …مگر ….
چٹاخ. …. ابھی وہ کچھ بولتی کہ فارس کا بھاری ہاتھ آٹھ چکا تھا. … ماہا کا پہلے ہی کھڑا ہونا محال تھا. ..اس تھپڑ نے اور کس نکال دی وہ دھڑام سے نیچے گڑھی تھی. … سر ایک دفعہ پھر زمین پر شدت سے لگا تھا. …آنکھوں کے سامنے تاریکی پھیل رہی تھی. ….. فارس نے اپنے ہاتھ کو دیکھا تھا جس پر خون لگا تھا. ..پھر ماہا کو جس کا چہرہ خون سے بھر رہا تھا سفید پٹی لال ہوگئی تھی. .. وہ ہاتھ زمین پر رکھ کر اٹھنے کی کوشش کررہی تھی. … فارس مڑ گیا تھا. … دل چلا رہا تھا کہ نا چھوڑ کر جا. ..مر جائے گی. .. ویران جگہ ہے. … پہلے ہی بیمار ہے. .. مگر وہ سنگدل بن گیا تھا. .. دیا اور فوزیہ بیگم کا جلسا ہوا وجود اس کے سامنے آیا تھا. .. اس کے قدم اور تیزی سے بڑھ رہے تھے. …ماہا کی سسکیاں کانوں میں ہتھوڑے کی طرح بج رہی تھی وہ جلدی سے گاڑی میں بیٹھ کر گاڑی لے جا چکا تھا
پیچھے ماہا اٹھنے کی ناکام کوشش کررہی تھی. .. اسے اپنے چہرے پر خون محسوس ہورہا تھا. .سفید سوئیٹر لال ہورہی تھی. ..،
سفید سوئیٹر اب لال ہوگئی تھی. … بال چہرے پر چپک گئے تھے. .. سر کا درد ناقابلِ برداشت ہورہا تھا. … اس نے مزاحمت بند کردی تھی. … بے جان سے بازو اور سر نیچے زمین پر ٹکا دیئے تھے. …
دوسری طرف فارس نے غصے ہاتھ سٹررنگ پر مارا تھا. .. اور اپنے چہرے پر پھیرا تھا. .. پھر چونک کر اس نے اپنے ہاتھ کو دیکھا تھا. ..جس پر خون لگا تھا. .. پھر اس نے اپنی شرٹ کی طرف دیکھا تھا. .. وہ بھی خون آلود ہوگئی تھی. … اس نے کنارے پر گاڑی روک دی تھی. … پھر کهوئے کهوئے سے انداز میں اپنے ہاتھ کو دیکھ رہا تھا. .کئی آنسوؤ ٹوٹ کر بے مول ہوئے تھے. …کیا حال کیا تھا قسمت نے اسکا. . اس نے کرب سے آنکھیں میچ لی تھی. …..
.. دور کہیں اسے اپنے نام کی پکار سنائی دی تھی. …. کوئی اسے بلا رہا تھا. .. پھر اس کے پاس نیچے بیٹھ کر اسے اٹھایا تھا. .. اور باگا تھا. … پھر شاید اسے گاڑی میں بیٹھایا تھا. …. وہ مسلسل کچھ بول بھی رہا تھا. .. اس سے یا کسی اور سے وہ یہ اندازہ نہیں لگا سکی. … پھر گاڑی چلی تھی. …. پھر اس کے سامنے مکمل تاریکی پھیل گئی. ……. مکمل طور پر حواس کھو گئی. …. سر کا درد اچانک ختم ہوگیا. ..یا اس نے محسوس کرنا چھوڑ دیا. …….
سامنے منزل تھی اور پیچھے اس کی آواز
رکتا تو سفر جاتا. .رکتا تو بچهر جاتا
میخانہ بھی اس کا تھا، محفل بھی اس کی تھی
پیتا تو ایمان جاتا. .نا پیتا تو صنم جاتا
سزا ایسی ملی مجھ کو، زخم ایسے لگے دل پر
چھپاتا تو جگر جاتا، سناتا تو بکھر جاتا
