Tu Bewafa Na Tha by Sandal readelle50033 Episode 17
Rate this Novel
Episode 17
کیا کہہ رہے ہیں ڈاکٹرز. …اور یہ لو احمر ناشہ کرو تم لوگ رات سے کچھ کھایا نہیں ہوگا. … سحر نے ان کے سامنے بیٹھتے ہوئے ..احمر کی طرف ناشتہ بڑھاتے ہوئے ساتھ ہیر کا بھی پوچھا تها. ….
ہوش آگیا ہے. …مگر. … اب سو رہی ہے. .. جواب ازمیر نے دیا تھا. ….. وہ کافی غور سے دیکھ رہا تھا سحر کو. … کسی گہری سوچ میں تها. …
ہممم یہ کافی اچھی بات ہے. ..میں ابھی م. …… تم لوگ ناشتہ کرو. … وہ روانی میں مایا کا بولتے بولتے رہ گئی…… احمر. اور مزمل بهی دو منٹ ڈرے تھے. …
ازمیر نے ناسمجھی سے اسے دیکھا. …. وہ اس کا بات کے بیچ میں ایک دم رکنا. …پهر مزمل اور احمر کا پریشان چہرہ …. بہت شدت سے نوٹ کیا تها. …..مگر خاموش تها. …. تب تک احمر نے ناشہ لگا دیا. … وہ لوگ ویٹنگ روم میں تھے. …. مزمل نے ازمیر کو جانے کا بہت کہا تها مگر وہ ٹال گیا. … احمر تو مزمل کو اکیلا چھوڑ نہیں سکتا تھا. .. جو کسی صورت بھی ماہا کے بغیر جانے کو تیار نہیں تھا. …. اسے آج بھی شہریار کے آخری الفاظ یاد تھے. …. وہ بہت ڈر گیا تھا. … پہلے دیا اور پھر ماہا. …. دیا کی طرف سے وہ اب مطمئن تها. … مایا نے سرسری سا احمر کو سب بتا دیا تها. … احمر نے موقع دیکھتے مزمل کو بھی بتا دیا جب ازمیر باہر گیا تها. ..سن کر مزمل شاک ہوا تھا. .. شاک تو. احمر بھی بہت ہوا تها. … مگر پھر دیا کہ طرف سے مطمئن بھی ہوگئے. … اب صرف ماہا کی طرف سے پریشان تھے. .. اسے کچھ دیر پہلے ہی ہوش آیا تها. … سر پر کافی گہری چوٹ لگی تھی. ….. اس لیے …. ڈاکٹرز نے ابھی ڈسچارج نہیں کیا تها ان کے مطابق ہفتہ ادھر ہی رہا تھا. … مگر ماہا نے اٹھتے ہی گھر گھر کی رٹ لگائ ہوئی تھی. … وہ ہمیشہ سے ہی ایسی تھی جتنی بھی بیمار ہوتی اسے …ہسپتال میں رہنا مشکل ترین امر لگتا تها. …. اس سے ملنے جب ازمیر گیا تها. … وہ حیران ہوا تها. …. اسے کوئی کشش محسوس نہیں ہوئی تھی نا ہی. ..کچھ خاص محسوس ہوا تها. …. جو مایا کو دیکھ کر ہوتا تها. … وہ اپنے خیالات کو جهٹکتا. … اس سے نارملی ملا تها. ….مگر ہیر نے بھی زیادہ جواب نہیں دیا تھا پهر دوائیں کے زیر اثر جلد ہی نیند کی وادیوں میں گم ہوگئی. ….
ان تینوں نے ناشتہ کردیا تها تب تک سحر بھی ماہا کو دیکھ آئی تھی. … وہ پہلی دفعہ ہیر سے ملی تھی. …. وہ خود حیران ہوئی تھی. …. وہ اور مایا سچ میں بالکل ایک جیسی تھی بلکل. ….. او کچھ دیر اسے حیرت سے دیکھتی رہی تھی. … پهر جلد ہی باہر آگئی. …. اسے جلدی جانا تها عینا کا میسج اسے ملا تها. … اب اسے جلدی جانا تها. ….
وہ ان تینوں سے ملتی باہر آگئی تھی ابھی وہ گاڑی میں بیٹھ رہی تھی. ..جب اسے ازمیر کی آواز سنائی دی. … اس کے بیٹ مس ہوئی تھی. ..پهر جلد ہی خود پر قابو کرتی وہ پیچھے مڑی تھی. …. جہاں وہ رات والے حولیے میں ہی تهکا تهکا سا لگ رہا تھا کافی. …
دو منٹ بات سن لو. … وہ اب اس کے آمنے سامنے کھڑا تها. ..
بولو. ..مگر جلدی مجھے کام ہے کچھ ضروری. … سحر نے عجلت میں موبائل پر ٹائم دیکھتے ہوئے کہا تها….. اصل میں وہ یہاں سے بھاگنا چاہتی تھی. … وہ ازمیر کو اپنی کمزوری نہیں بنانا چاہتی تھی. … اور جب اسے اسے مایا نے بتایا تها کہ ازمیر ہی ملک اسلم کا بیٹا ہے. … تب سے اس نے اور احتیاط کرلی جو جانتی تھی. ..خون کے کچھ تو اثر ہوگا. …
ہممم وہی پوچھ رہا ہوں …. ایسا کون سا کام ہے جو تمہیں ہیر سے زیادہ اہم ہے اور رات کو بھی نہیں تھی. … ازمیر نے بغور جائزہ لیتے ہوئے کہا تھا. .
پرسنل ہے. ..اور کون ہیر. … کام کا تو بتا نہیں سکتی تھی البتہ ہیر نام پر چونکی تھی تب ہی پوچھ لیا. ….. اسے مایا نے سب تو بتا دیا تها مگر. .. وہ بتانا بھول گئی تھی کہ اس نے اپنا اصل نام بھی نہیں بتایا تها. ….اس کا نام ازمیر اور فارس کے سامنے ہیر تها. ….ازمیر نے حیرت سے اسے دیکھا تھا. ..کہ آیا یہ ٹائم مذاق کا ہے. ..
کمالللل. …. ابھی اندر اس سے مل کر آرمی ہو اور بهول بھی گئی. ….
اوووو. .. ایکچولی سر درد ہے سمجھ نہیں آئی. … اسے سمجھ نہیں آئی کہ کیا بولے تب ہی بہانہ بنا دیا. ..
ہممم مم. .. خیر مجھے پوچھا یہ تها کہ. …رات کو ہیر تمہارے ساتھ باہر نکلی تھی. … اور بمشکل 8.10 منٹ ہی گزرے جب وہ سهڑیوں سے گری. … اور تو اور اس کے کپڑے بھی چینج ہوئے ان ہی چند منٹ میں. … ساونڈ سٹرینج. ..ہمم؟ ؟؟ کیا تم وضاحت کرو گی یہ سب کیسے ہوگیا. .. اور رات کو کیوں نہیں آئی. .. آئے مین کدھر تھی. .. تمہیں تو اپنی دوست کے پاس ہونا چاہیے تھا نا …؟ ازمیر نے کب سے اپنے دماغ میں گھومتے سوال زبان پر لیا تها. … سحر کی تو جان ہوا ہوئی تھی. …مطلب ایسے حالات میں بھی وہ ہیر کے کپڑے اور …. باہر اندر جانا نوٹ کررہا تها. … وہ ہونق بنی اسے دیکھ رہی ….مگر پهر جلد ہی خود پر کنٹرول کردیا تها. ..
وہ میرے ساتھ کینٹین تک گئی تھی ادھر اس کی ہڈی پر جوس گر گیا تب ہی گاڑی اس اپنی جیکٹ پہن لی تھی پهر وہ اندر چلی گئی تھی. …. اور وہ سیکنڈ فلور پر کیا کررہی تھی. … وہ تو تم اسی سے پوچھنا. … اور جہاں تک بات ہے میں کدھر تھی تو. .. میری موم اکیلی تھی گھر بیمار ہیں بہت تو میں جلد ہی گھر چلی گئی. … موبائل سائیلنٹ پر تها کے دیکھا نہیں احمر کی کال. .. صبح دیکھی تو آگئی. ……. اور اب ہوگئی ہو تفشیش توپلیززززز. ..لیو. … سحر سے جو جو بہانہ بنتا گیا وہ بولتی گئی. … اسے نہیں سمجھ ارہی تھی کیا بول رہی ہے. … بس بولتی گئی. … دل میں نہیں چاہ رہا تھا اسے سفائی دینے کا. ..مگر وہ نہیں چاہتی تھی کہ وہ زرہ بھی شک کرے. .. اسے جواب دے کر گاگلز آنکھوں پر لگاتی گاڑی میں بیٹھ کر گاڑی لے گی. ….. پیچھے ازمیر اب بھی ادھر ہی دیکھ رہا تھا جدھر سے وہ گئ تھی. … البتہ سحر کے جواب سے وہ کچھ مطمئن ہوا تها. ..مگر پورا نہیں. …کیونکہ. ..صبح ہی کسی بات پر احمر نے کہا تھا کہ اس کے پاس سحر کا نمبر نہیں ہے. … پهر کال کیسے. …خیر وہ اپنے خیال جهٹکتے. .. واپس اندر کی طرف چلا گیا. …..
کوئی ہے. …؟ کیوں لائے ہو مجهے یہاں. …. وہ چلا رہا تھا. ..کمرے میں گہری تاریکی تھی کچھ بھی نظر نہیں آریا تھا ایک اسی کی چیخنے کی آواز ارہی تھی. … اس کو اتنا تو اندازہ تھا کہ وہ کسی ٹارچر روم میں تھا. …اس نے بھی تو کئی معصوموں کو مارا تها اپنے ٹارچر روم میں. ……
تب ہی ہلکی آواز سے دروازہ کھلا تها. …. ساتھ ہی ٹارچر روم میں روشنی پھیل گئی تھی. …..اچانک روشنی کی وجہ سے اس نے آنکھیں بند کرلی تھی. …. اب کوئی دو وجود اس کی طرف ارے تھے. …مگر وہ بھاری بوٹوں کی آواز نہیں تھی بلکہ ہائی ہیل کی آواز تھی. …..اس نے دھیرے دھیرے آنکھوں کھولی تھی. …وہ دو لڑکیاں تھی. ……..دونوں نے بلیک جینز. ..بلیک ہڈی. .. بلیک ہیلز. .. بلیک ماسک لگایا تھا. … اب دونوں نے ساتھ ہی ہڈ اتار دیا تھا. …بالوں کو دونوں نے جوڑے میں بهندا ہوا تھا. …..صرف ایک کی نیلی اور دوسری کی کالی سرد آنکھیں نظر ارہی تیری. ….. سحر اس کے سامنے کرسی رکھ کر بیٹھ گئی تھی. …. ہاتھ میں اپنا مخصوص چاقو گھما رہی تھی … مایا دوسری طرف منہ کھڑی کر کے کھڑی تھی آج بارہ سال بعد اپنی ماں باپ کے مجرم کو اپنے سامنے دیکھ رہی تھی. …بارہ سال پہلے کتنی مجبور تھی اور آج. …آج …مقابل مجبور تها. ..
کون ہو تم ..لڑکیوں. ..جانتے ہو. ..کون ہوں میں. …. چھوڑو مجهے. …. صدیق خان چلا رہا تھا. ….
کون ہوں میں؟ … یہ تو بہت کمال کا سوال ہے. …. اور تم کون ہو. .. وہ بھی جانتے ہیں. .. چھوڑ بھی دیں گے. … پہلے یہ تو تفصیل سے بتا دیں کہ ہم ہیں کون. .لیکن اس سے پہلے کچھ دیکھ تو لو. … سحر آگے ہو کر چاقو اس کے دل کے مقام پر رکھا تھا. ….صدیق خان سچ میں. ڈر رہا تھا اس سائیکو لڑکی سے. …..
کیا دیک دیکھ لوں. … صدیق خان نے خود کو نارمل رکھنے کی ناکام کوشش کی تھی. ..
ماہی تم بتاؤ گی کہ میں بتاؤ. … بلکہ سرپرائیز …. سحر اب مایا کی طرف مڑی تھی ..جو سٹاپ چہرے کے ساتھ انہیں ہی دیکھ رہی تھی. ….
یا مایا یہ نیک کام تم کرو. … سحر نے موبائل مایا کی طرف بڑھایا تها. … اس نے موبائل اٹھا کر کچھ کاهلا تها. …پھر ایک ویڈیو پلے کر کے صدیق خان کی طرف موبائل کا تها. ….
ان کے پیروں کے نیچے سے زمین نکلی تھی. … سانسیں مشکل ہورہی تھی. ….. کچھ بولنے کابل میں وہ رہے ہیں نہیں تھے. …
کچھ یاد آیا. …. آیا ہے ہو گا. ….. بارہ سال پہلے. …. تم نے بھی تو ایسا ہی کیا تھا. …پھر ڈر کیوں گئے. … جس کے ساتھ تم نے یہ سب کیا تھا وہ بھی انسان ہی تھے پھر. …. مایا نے موبائل اپنی طرف کرتے ہوئے سٹاپ لہجے میں بولی تھی. ….
کو. .ن. … ہو. ..تم. .. انہیں اپنی آواز کہیں دور سے آتی محسوس ہوئی تھی. ….
مایا شہریار سلطان. ….. اس نے صدیق خان پر بم پھوڑا تها. ….. وہ بہوش ہونے کے در پر تها. …. ڈر سے جان نکل رہی تھی مگر. … یہ ڈر اپنے سے زیادہ اپنوں کے لیے تها. ……
ک کون. … زبان سے ہونٹ تر کرتے ہوئے پوچھا تھا. … دل میں کہیں دعا کی تھی کہ. ..وہ جو سمجھ رہا ہے وہ نہ ہو. …
ارے تم تو بهول گئے. … مایا تمسخر اڑانے والے انداز میں بولی تھی. ….
م میں. .ن نہیں ج جانتا کسی ..م مایا شہ. …ریار. ..سلطان کو. … اسنے خود پر قابو پانے کی ناکام کوشش کی تھی مگر بے سود. … دل زور زور سے دھڑک رہا تھا. …پهر وہ… ویڈیو. ….
اچھااااااا. …. مایا کو نہیں جانتے ہو ناااا. … شہریار سلطان اور. … مہوش شہریار خان نے جانتے ہوگے ناااا. … مایا نے ایک ایک لفظ کو بچاتے ہوئے کہا تھا. …صدیق خان کے پسینے چھوٹ گئے تھے. ..یہ وہ کیا کہہ رہی تھی. …. پهر سے 12 سال کا واقع ان کے زہن میں آیا تھا. …. کیا وقت. .. وہ وقت دهرا رہا تها. ……؟ نہیں. ..یہ سوچ ہی. ..روح نکالے کے لیے کافی تھی. ….. ان کے عمل کی سزا. ..دیا کو کیسے مل سکی تھی. …وہ تو بہت معصوم تھی. … ان کا دم گھٹنے لگا تها. ….. وہ گہرے گہرے سانس لے رہا تھا اب. ……
ارے ابھی سے یہی حالت. …میرا تو سن لو کہ میں کون ہوں. .. سحر نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا تھا. ..اسے صدیق خان اس حال میں بہت اچھا لگ رہا تھا. ….دل کو عجیب سا سکون مل رہا تها. ..
سحر. …. باپ کا نام اتنا کوئی بکواس ہے کہ اپنے نام کے ساتھ لگاتی ہی نہیں ہوں. …مگر اب کیا کروں. ….باپ تو باپ ہوتا ہے ناااااا. … وہ اس پر ہلکی سی جھکی پرسرار لہجے میں بول رہی تھی. …….
عالیہ مرزا کی بیٹی. …..چههههه تمہاری بھی تو بیٹی ہوئی. …یاد آیا کچھ. … لہجہ اب خطرناک حد تک سنجیدہ ہوگیا تها. ….
زبان تو ان کی گهنگ ہوگئی تھی. …. یہ کیسا کھیل تها قسمت کا. ….. حیرت سے آنکھیں پھاڑے اسے توکبهی مایا کو دیکھ رہے تھے. ….وہ اس خواب سے بیدار ہونا چاہتے تھے. …. مگر. ..کیسے. …یہ خواب تو نہیں تها. ..حقیقت تھی. ….جس کے وہ بچ نہیں سکتے تھے. …. ان پر حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹے تھے. …. دل کسی انہونی کے سبب لزر رہا تها. ….
ارے تمہارے تو ابھی تک پسینے چھوٹ گئے. … ابھی بڑا سرپرائیز تو دیا بهی نہیں. ….کیوں مایا. … سحر نے اس کی حالت پر چوٹ کرکے ساتھ مایا کو مخاطب کیا. ..جو اس کی حالت کافی انجوائے کررہی تھی. ….چلو مایا اب دوسرا سرپرائیز بهی تو دو. … سحر وبارہ صدیق خان کی طرف متوجہ ہوئی تھی. ..
جب مایا نے ایک اور ویڈیو اس کے سامنے پلے کی تھی. ….. ان کا دل بند ہونے کے در پر تها. ….. مگر بند ہوا نہیں تها. …. اس سب میں پہلی بار ان کی آنکھیں برسی سافی شدت سے. …..
پہلی ویڈیو وہ تھی جو مایا نے خود بچپن میں بنائی تھی. ..جس میں صدیق خان اور اسلم ملک واضع طور پر نظر ارہے تھے. ….. ان کو برباد کرنے کے لیے یہ کافی تها. …..مگر دوسری ویڈیو. ….جس میں دیا تھی. …….. بیڈ پر پڑا اس کا بہوش وجود. … اور دو کافی بڑے کالے حبشی اس کے سامنے تھے. ….. جو اس وقت اپنی شرٹ اتار رہے تھے. …… اس سے زیادہ وہ دیکھ نہیں سکا تھا. ..جبھی آنکھیں میچ لی. …
ی یہ جھوٹ ہے. ..میری. ..بچی. ..تو تو مر گئی. …انہوں کچھ یاد کرتے اچانک کہا تها. ..
ایسے کیسے مڑ گئی. ….. وہ سب ڈرامہ تها ایک. ….. تم نے سی سی ٹی فوٹیج میں مجهے دیکھا تو ہے. ….اصل میں وہ تمہاری بیٹی اور بیوی کی لاش تھی ہی نہیں. ..ڈی ان اے رپورٹ بهی فیک تھی. …. تمہاری شہزادی بیٹی اور بیوی کو تو تم نے کافی مہنگے داموں میں بیچا ہے. …… دیکھ تو لیا تم نے اپنی بیٹی کو. ….ارے اب تک تو وہ برباد ہو بهی چکی ہوگی. …… مایا کے کافی سفاکیت سے اس کے ہوائیں اڑاتے چہرے کو دیکھے کہا تها. …..
جھوٹ ہے ی یہ. ….م میری بیٹی مر مر چکی ہے. ….اس کے دل نے شدت سے دعا کی تھی کہ مر گئی ہو اس کی بیٹی. …. اس سب سے تو بہتر ہی تها وہ مر جاچکی ہوتی. ….
جب ہی مایا نے کسی کو کال کی تھی. ..موبائل سپیکر پر لگا دیا تها. ….
چھوڑو مجهے کون ہو تم لوگ. ….ڈیڈی. ….بهیو. …. لیو می. …پلیز لیو. …تب ہی دیا کی چیختی آواز موبائل سے آئی تھی. …… صدیق خان نے کرب سے آنکھیں بند کرلی تھی. …. ہاں. …بارہ سال پہلے بھی تو یہی آوازیں گونجی تھی. …شہریار ویلا میں. ….تب بھی تو کسی کی عزت نیلام ہوئی تھی. …. زمہدار …صرف اور صرف صدیق خان تها. ….. اسلم ملک سبھی زیادہ. ….جس نے منع کیا تها. … اس سب سے. ….مگر شیطان بن کر صدیق خان نے اسے بہکا دیا. …… اب وقت. ..وہی. ..وقت لوٹ آیا تها. …… اور عزت. … ہاں اس کی بیٹی کی عزت. ..اس کی عزت. ….اس کے بھائی کی عزت. ….خاندان کی عزت. ….. بهلی چڑھی تھی. …نیلام ہوئی. تھی. …خاک ہوئی تھی. …… مکافات عمل تها. ….. آج وہ اسی طرح تڑپ رہا تها جیسے شہریار تڑپا تها. … اپنی محبوب بیوی کو برباد ہوتا دیکھ کر. … اپنے معصوم بچوں کوسوچ کر. …. مگر وقت نے بے بس کردیا تها. …… اسی طرح آج کرسی بندھا تھا جیسے شہریار کو بندھا تها. … اس کے دل نے اب بھی اعتراف نہیں کیا تها کہ بارہ سال پہلے اس نے ایک گھناونا عمل کیا تها. …قتل کیا تها. ….. کسی بھی عزت نوچنے نے ایک اور درندے کا ساتھ دیا تها. … اس کا دل بس اتنا چاہ رہا تھا کہ اس کی معصوم. .شہزادی بیٹی محفوظ ہو. ….. مگر …کیسے. …. اب تو دیر گوئی تھی. ….
جاو تم آزاد ہو. …کچھ کرسکتے ہو تو کر لو صدیق خان. …. ایک موقع میں ہر سکی کویتی ہوں. ..تم ت پهر میرے سو کولڈ باپ ہو. ..ایک گھٹیا باپ. ….. سحر نے بنا مایا کی گهوری کو خاطر لاتے ہوئے عینا کو اسے کھولنے کا آشارہ کیا تها…. عینا ابھی ہی پہنچی تھی. …. تب ہی عینا نے اسے کھول دیا. …. صدیق سب پر ایک نظر ڈالتا تقریباً بھاگتا ہوا باہر نکلا تها اسے ہر حال میں اپنی. بچی کو بچانا تها. …. فارس کوبتانا تها. …
مایا پلیززز یار. … سحر نے مایا کو بنا بات کیئے باہر جانا دیکھ کر اس کی طرف بڑھی تھی. ..
سحر میں نے کہا بهی تها. … میں آج ہی اسے ماروں گی. .پهر کیوں چھوڑ دیا. .. مایا اپنی گاڑی کے پاس رکتے ہوئے اس کی طرف مڑی تھی. … عینا اپنی گاڑی میں بیٹھ چکی تھی. ….
یار ایسے کیسے اتنا جلدی مار دیں. … تھوڑا توبہ بس ہوتا دیکھیں نا. …. ویسے بھی یہ مارنا کوئی مشکل کام نہیں ہے. ..تم ٹینشن نہ لو چلو اب. .سحر نے گاڑی میں بیٹھتے ہوئے کہا. … مایا بهی منہ بناتی گاڑی میں بیٹھ گئی تھی. ….
یہ جو زندگی کی کتاب ہے
یہ بھی کی کتاب ہے
کہیں ایک حسین خواب ہے
تو کہیں جان لیوا عذاب ہے.
کہیں کهو لیا. ..کہیں پا لیا
کہیں رو لیا. .کہیں گا لیا
کہیں رحمتوں کی ہیں بارشیں
کہیں تشنگی بے حساب ہے
کہیں چهائوں ہے. .کہیں دھوپ ہے
کہیں کوئی اور ہی روپ ہے
کہیں چهین لیتی ہر خوشی
کہیں مہربانیاں بے شمار ہیں
یہ جو زندگی کی کتاب ہے
یہ کتاب بھی کیا کتاب ہے
وہ تهری پیس میں. .بالوں کو جیل سے سیٹ کیئے . چہرے پر بلا کی سنجیدگی سجائے. ….ٹهاٹ سے اپنے آفس میں بیٹھا. لیپ ٹاپ پر کام کر رہا تها جب دروازہ ناک ہوا. ……. لیپ ٹاپ پر مہارت سے چلتی انگلیاں ایک پل کو رکی تھی. …. مگر پهر اپنی سابقہ حالت میں ہوگی. ..
کم ان. … بهاری گھمبیر آواز آفس میں گونجی تھی. … تب ہی دروازہ کھول کر ایک انگریز اندر داخل ہوا تها. ..ہاتھ میں ایک فائل تھی
سر دس از دل فائل یو آسک فار. …. اس نے فائل اس کی طرف بڑھاتے معدب لہجے میں کہا. …
ہممم. .. اوکے. ..یو مے گو ناو. … بغیر اس پر ایک بڑی نظر ڈالے. .جواب دیا تها. .. . لڑکا فائل چھوڑتا باہر نکل گیا. ….. دروازہ بند ہونے کی آواز کے ساتھ ہی اس کی لیپ ٹاپ پر چلتی انگلیاں رکی تھی. …… پهر چہرے پر ایک دلفریب مسکراہٹ پھیل گئی تھی. … فائل آٹا اور کھولی تھی. ….. اور اچانک. …مسکراہٹ غائب ہوگئی. … اب چہرے کی زینت حیرانی تھی. …
ماہا شہریار سلطان. …..ڈاٹر آف شہریار سلطان. ….. وہ حیرت سے زیر لب بڑبڑایا. …. پهر حیرت کو جهٹکتا اور آو فارمیشن پر رہا تها اس کی. … پهر موبائل اٹھا کر کوئی نمبر ڈائیل کر کے کان سے لگایا تها. …
ہیلو. …. ایک لڑکی کی ڈیٹیلز سینڈ کر رہا ہوں. .. نظر رکھو. .. ایک ایک حرکت پر. …مجهے اس کی ایک ایک بات کی خبر چائیے. …بول کر بنا دوسرے کا جواب سنے کال بند کردی. … ساتھ ہی کچھ بڑی بڑی باتیں اسے سینڈ کردی. … موبائل ..دوبارہ سائیڈ پر رکھ دیا تها. … اور اپنی رولنگ چیئر پر سر ٹکا کر آنکھیں موند لیں. …. تب ہی اسے دوبارہ دو نیلی آنکھیں نظر آئی ساتھ ہی اس کے چہرے پر دوبارہ دلفریب مسکراہٹ کھیل گئی. ……..
کافی عرصہبیت گیا ہے جانے تو ابکیسا ہوگا
وقت کی ساری کڑوی باتیں چپکے چپکے سہتا ہوگا مجھ سے بچھڑے بھیایک زمانہ بیتا
اچھا ہوتا جوساتھ رہتے میرے بعداسے نے سوچا ہوگا
اپنے دل کیساری باتیں
خود ہی خود سےکہتا ہوگا مجھ سے بچھڑے بھی _ایک زمانہ بیتا
کافی عرصہبیت گیا جانے وہ ابکیسا ہوگا
