Tu Bewafa Na Tha by Sandal readelle50033 Episode 20
Rate this Novel
Episode 20
صبح کا اجالا ہر سو پھیل گیا تھا. …. موسم خوشگوار تھا. …… ایسے میں اسلم ملک صدیق خان کے سامنے بیٹھا ہوا تھا. ….. سٹاپ چہرے کے ساتھ. … البتہ صدیق خان کے چہرے پر نفرت اور بدلے کے تاثرات تھے. …. ….
انہیں پتا چل گیا تھا کہ مہوش بھول گئی تھی کہ اس کے ساتھ کیا ہوا تھا. ..وہ کیوں کومے میں تھی. ..شہریار کیسے مرا. …. وہ سب بھول گئی تھی. … ساتھ ہی اسلم ملک کو جو امید نظر آئی تھی کہ وہ اس سے معافی مانگ لے گا. …وہ ختم ہوگئی تھی. …اب کیسے معافی مانگتے. … اسے تو کچھ یاد دہ ہی نہیں تھا. …. اسے یاد دلا کر ایک دفعہ دوبارہ تکلیف نہیں دے سکتا تھا. … تب ہی خاموش ہوگیا تھا. … اسے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا کہ … مزمل مایا اس کے ساتھ کیا کرسکتے تھے. ….. یا وہ ویڈیو وائیرل کر کے اسے بدنام کر سکتے تھے. … وہ اپنے گناہ کو مان گیا تھا. … تو سزا سے بھی ڈرتا نہیں تھا. …. بلکہ اسے تو دکھ تھا کہ اسے سزا مہوش خود کیوں نہیں دے سکی. ….مہوش اس کی سچی محبت تھی. … مگر تب ہوش ہی کب تھا اسے. …. پھر اسے بھڑکایا بھی تو بہت تھا تب ہی …..بهول گیا. ….. ہوش تو تب آیا تھا جب مہوش کی موت کی خبر سنی تھی. … تب اسے احساس ہوا تھا کہ وہ اس سے محبت کرتا تھا. ..مگر بے سود. ….. په پهر صدیق خان سے سن کر اسے تھوڑی امید ملی تھی جو اب ختم ہوگئی تھی. …….
ادھر صدیق خان اپنے شیطانی دماغ میں کچھ سوچ رہا تھا. … کچھ ایسا جسکا انجام نجانے کیا ہوسکتا تھا. …. وہ بس دیا تو اپنے سامنے دیکھنا چاہتا تھا. … نجانے کیوں ، مگر اس کا دل کہتا تھا کہ وہ ٹھیک ہے. … کیونکہ وہ دونوں لڑکیاں تھی. … اور کسی لڑکی کے ساتھ ایسا کر ہی نہیں سکتی تھی. … او اگر کرنا ہوتا تو اسے بتاتی نا بلکہ کرتی. … وہ بس اپنی دیا کو اپنے سامنے چاہتا تھا. …. سہی سلامت. … اس نے سوچ لیا تھا دیا کو لے کر وہ بہت دور چلا جائے گا. … وہ اس کے جگر کا ٹکڑا تھی. …… جسے وہ تکلیف میں نہیں دے سکتا تھا. … دو راتوں میں وہ ایک پل بھی سو نہیں سکا تھا. … سوتا کیسے. .. آخر اس کی لاڈلی. .نازوں پلی بیٹی دشمن کے پاس تھی. …. وہ کچھ بھی کرسکتا تھا. …. کچھ اپنے اعمال کا بھی پتا تھا. … کہیں اس کا کیا اس کی بیٹی کے سامنے نا آجائے. …….بس یہی سوچ. .دل دہلانے کے لیے کافی تھی ……..
شیطانی دماغ. چلا رہا تھا. …. انجام سے بے خبر ایک اور گناہ کرنے چلا تھا. …. پهر اس نے اپنا سوچا پلین اسلم ملک کے گوش گزار دیا. …. اس نے نا ہاں کی تھی. .نا ہی نا. … وہ کچھ اور ہی سوچ رہا. …..
ایک دوسروں کی سوچوں سے بے خبر. …
اپنے انجام سے بے خبر. …..
وقت ،،قدرت کے ف فیصلے سے بے خبر. …..
الگ الگ سوچیں ل لیے. ….
ایک ہی رستے کے مسافر. …..
محبت میں جس نے ٹھکرایا تھا مجھے ✨
ہے بے تمہارے بعد کا تو خیـــر کیـــــا کہیں
♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥
دو دن گزر گئے تھے. … مہوش کو گھر آئے. … مایا مزمل احمر ہر وقت ان کے ساتھ ہی ہوتے تھے. .. انہوں نے ثاقب صاحب کے کچھ پوچھ گچھ نہیں کی تھی. … آخر کس منہ سے کرتے. … باپ بن کر پالا تھا. … ماہا کا انہوں نے یہ ہی کہا تھا کہ وہ آفس کے کام سے جاپان گئی ہوئی ہے. … آئے گی تو سرپرائیز دیں گے. .. وہ بھی خاموش ہوگئی تھی. ….
ابھی بارہ بج رہے تھے. … وہ کمرے میں اکیلی بیٹهی تھی. .. سامنے اپنے شہریار. .ماہا مایا مزمل کی فوٹو کی. …. کافی دیر سے اسے گلے لگائے روتی رہی تھی. …
سب پر اس نے یہی ظاہر کیا تھا کہ وہ سب بهول گئی. …. مگر وہ کیسے بهول سکتی تھی. …وہ ازیت ناک لمحے. ….جو اس کی ہنستی مسکراتی زندگی برباد کرگئے تھے. …. وہ اسے. … شہریار. ..کو ختم کرگئے تھے. …. جو اس کے بچوں کو ماں باپ سے محروم کر گئے تھے. …. جو تهک گئی تھی دو دن سے سب کے سامنے ہنستی مسکراتی ….. تهک گئی تھی. . خود کو انجان ظاہر کرتی کرتی اب رونا چاہی تھی تب ہی. .. اب دل کھول کر رو رہی تھی. …. ساونڈ پروف تھا کمرہ تبھی سکون سے رو رہی تھی. ….
ماہا سے ملتا چاہتی تھی. …. اسے سامنے دیکھنا چاہتی تھی. .. جو اسے سب سے زیادہ پیاری تھی. … مگر وہ تھی ہی نہیں. ….
تهک کر اٹھی تھی. .. اور اپنے سامان. .. جو پہلے ہی مزمل لوگ منگوا چکے تھے پاکستان سے جب وہ کومے میں تھی. …. سے اپنی ڈائری نکال کر وہ لے کر پن لے کر بیڈ پر آکر بیٹھ گئی تھی. … اب وہ ڈائری ہی تھی جو اسے سمجھتی. …. جو خاموشی سے سنتی. … اپنے مشورے نا دیتی. ….. بس خاموش رہتی. … صرف اسے سنتی. ……
وہ باتیں جو میں پی گئی تھی. ..
وہی باتیں تو مجھے اندر سے کها گئی….
♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥
اس نے دھیرے دھیرے آنکھیں کھولی تھی. …. سمجھنے کی کوشش کررہی تھی کہ وہ کدھر ہے. … اٹھنے کی کوشش کی مگر ہاتھ بهندے تھے. … اس کے غور کیا تو ایک سنسان کی جگہ پر کرسی سے باندهی ہوئی تھی. … پهر اسے یاد آتا گیا وہ کیسے ادھر آئی تھی. …
وہ اپنے کمرے میں بیڈ پر لیٹی ہوئی تھی. …. چهت کو ایسے گھور رہی تھی جیسے اس نے ادھار لیا ہو. …. اس دن آریان اسے یہاں چھوڑ گیا تھا. … پهر دو دفعہ آیا بھی تھا. … بینڈج چینج کروانے لے کر گیا تھا. …. اب وہ ٹھیک ہو گئی تھی. .. مگر آریان کی ضد ہی تھی. …. کہ دو دن آرام کرے. … وہ مزمل سے مل چکا تھا. … اسے سب بتا بھی دیا تھا. …مزمل احمر. .. سحر بھی آئے تھے. …. اور اب وہ بور ہورہی تھی. …تب ہی رات کے 9 بجے گھر جانے کا سوچا تھا. … سر سے پٹی بھی اتر گئی تھی. …. اور وہ اب مہوش سے ملنا چاہیی تھی. ….اتنے عرصے بعد. … ناممکن ممکن ہوا تھا. … جس ماں کو وہ مرا ہوا سمجھتی رہی وہ ایک دم سے زندہ ہوگئ تھی. … اب بھی وہ اس سے ملنے کے لیے نکل کر باہر آئی تھی. … مگر اس کا دماغ ہی گھوم گیا تھا. … اس کی گاڑی نہیں تھی وہاں. … جبکہ آریان لے آیا تھا. ….. اور اب وہاں نہیں تھی. ..جانتی تھی. ..مزمل یا احمر ہی لے گئے ہوں گے کہ پهر کہیں بیماری میں نا نکل جائے. … اب تو اس نے ضد بنا لی تھی کہ باہر جانا ہی جانا ہے. ..تب ہی. … پیدل نکل آئی. … ہاتھ میں ہاٹ چاکلیٹ کا کپ پکڑے وہ سڑک کنارے چل رہی تھی جب. .. اچانک کسی نے اس کے چہرے پر رومال رکھا تھا. … اور وہ بہوش ہوگئی. … شاید اس پر کچھ لگا تھا. … یہ سب اتنا جلدی ہوا کہ اسے سمجھ ہی نہیں آئی کہ آخر ہوا کیا تھا. …
اور اب وہ یہاں تھی. …. انڈر کنسٹریکشن جگہ تھی. … وہ اٹھنے کی کوشش کررہی تھی مگر ہل بھی نہیں سک رہی تھی. …. مگر پهر اچانک وہ ساکت ہوگئی سامنے سے آتے وجود کو دیکھ کر. … فارس. …..
فارس جو رات کو آپنے فام ہاوس سے والنگ کے لیے نکلا تھا. .. ماہا کو دیکھ کر نجانے کیا سوجھی کہ اسے بہوش کر کے ادھر لے آیا تھا. … اسے بھی ایسے ہی تڑپانا چاہتا تھا. ..جیسے دیا اور فوزی بیگم کو اس نے تڑپایا. …فارس کے خیال سے. ..
تمہیں بھی ویسی موت دینے کے لیے جیسی تم نے میری موم اور دیا کو دی تھی. ….
اس کے لہجے میں کرب تھا تکلیف تھی نجانے کیا کیا تھا. ….
سٹول اس کی کرسی کے سامنے رکھ کر بیٹھ کر اس کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا تھا، نیلی آنکھیں بے یقینی تھی. .. اسے اب بھی نہیں پتا تھا کہ مایا نے دیا کے ساتھ کیا کیا. … اسے یاد آیا تھا کہ مزمل اسے کچھ کہنا چاہ رہا تھا مگر آریان ساتھ تھا تب کچھ نا بولا….
، فارس نے آگے بڑھ کر اس کے بال اپنے هاتہوں میں جکڑے تھے، وہ اسے تڑپنے دیکھنا چاہتا تھا مگر. . وہ. .
ها ها ها ها مسٹر فارس تم مجھے مار ہی نہیں سکتے اگر مار سکتے ہوتے تو ابھی تک میں زندہ نہ ہوتی شاید ، اک دن اور رات ہو گئی ہے میں ادھر ہوں مگر تم سے نہ ہو سکا مان کیوں نہیں لیتے کہ پیار کرتے ہو تم مجھ سے،
وہ اس کی آنکھوں میں دیکھ کر بول رہی تھی…پہلے والی بے یقینی جهٹ سے غائب ہوگئی تھی. .. اک یقین تھا اس کے لہجے میں،
محبت ہوتی نہ مجھے تم سے تو تمہاری یہ حالت نہ ہوتی وہ اس کو اک نظر دیکھتا ہوا تنزیہ لہجے میں گویا ہوا.. تھا، سفید شرٹ اور سفید ہی جینز مٹی سے گندی ہو گئ تھی کندھوں تک آتے بال بکھرے ہوئے تھے چہرے پر تهپروں کے نشان تھے مگر مسکراہٹ بھی تھی جس کی وجہ سے گالوں پر پڑتے ڈمپل صاف نظر اہے تھے
، اچھا ایسا ہے مسٹر تو یقین دلاو اپنی بات کا
، نہیں ہے مجھے تم سے زدہ بھی محبت نفرت کرتا ہوں میں تم سے چیختا ہوا بولا تھا ساتھ ہی اک جٹکتے سے اس کے بال چھوڑ کے کے سامنے جا کر کھڑا ہو گیا تھا اس کی پیٹھ ماہا کی طرف تھی، تو یقین دلایا نہیں جاتا ؟؟ اس کی پیٹھ کو دیکھتی بولی لہجے میں جیت کے آثار تھے،
ہقین دلائوں ؟؟ اس کے قریب آ کر کرسی کے هینڈل پر ہاتھ رکھ کر اس کی آنکھوں میں دیکھ کر پوچھا تھا,
چلو ٹھیک ہے دلاتا ہوں یقین، اسے کہتا ہوا وہ وہاں سے نکل گیا تھا.
ماہا بھی وہیں دیکھ رہ رہی تھی جہاں سے وہ گیا تھا، کچھ ہی دیر میں وہ واپس آتا ہوا دکھائی دیا اب کی بار اس کے ہاتھ میں کین تھا
، یہ کیا ہے افراد ؟؟ اس نے نا سمجھی میں فارس کو دیکھتے ہوئے پوچھا تھا، کرسی سے رود گول شکل میں گرا دیا تھا ، یہ کیا کررہے ہو. .،،،؟
یہہہہ. … یہ ثبوت میری بات کا کہ مجھے تم سے محبت نہیں. … ار
جانتی ہو اسے اتنے دور کیوں گرایا ؟؟ ربارہ اس کے قریب آیا تھا یا شاید آخری دفعہ، ماہا کو یقین نہیں آ رہا تھا کہ وہ اسے مار بھی سکتا تھا وہ تو اس سے بہت پیار کرتا تھا تو پھر یہ سب ؟
کیوں کہ مرنے سے پہلے تمہارے پاس کچھ وقت ہو جس میں تم سوچ سکو کہ کتنی شدید نفرت ہے مجھے تم سے ، تمہاری موت میرے ہاتھوں ہونی تھی ، اب تو آگیا یقین یا مر کر آئے گا؟ ؟
اس کو یقین دلانے سے زیادہ وہ خود کو یقین دلا رہا تھا، نیلی آنکھوں میں خوف کی جگہ درد تھا کتنا مان تھا کہ وہ اس سے بہت پیار کرتا ہے سب جتم ہو گیا تھا ماہا کے لیے اب ،
ہمممممم بس اتنا کہ کر آنکھیں بند کر لیں تھی کتنے آنسو نکل پڑے تھے ،
آنکھ پرنم، اشک زمزم ، سانس مدھم، وقت ہے کم
وصل راحت، ہجر ماتم، رقیب قاتل ، موت مدھم
یار آئو گی ، اس کے گال پر اپنے ہونٹ رکھتے ہوئے سرگوشی میں کہا تھا جسے ماہا نے بآسانی سنا تھا ، ساتھ ہی زخمی مسکراہٹ لبوں پر آئ تھی جس سے اس کے ڑمپل نمایاں ہوئے تھے ، فارس اس کے ڑمپل پر ہونٹ رکھے تھے پھر اچانک پیچھے ہو گیا تھا جینز کے پاکٹ سے ماچس نکالی تھی آگ لگا کر تیلی ہاتھ میں پکڑی ہوئی تھی ، آواز سے ماہا نے آنکھیں کھولی تھی مسکراہٹ اب بھی اس کے چہرے پر تھی , فارس کی آنکھیں تکلیف سے لال ہو گئ تھی آخر کیوں نہ ہوتی زندگی میں پہلی بار کسی سے پیار بلکہ عشق کیا تھا اور اب اسے خود ختم کر رہا تھا اتنے ہاتھوں سے ، ماچس کی تیلی کو وہ پھینک چکا تھا ہر جگہ آگ لگ گئی تھی درمیان میں کرسی پر باندھای وہ فارس کو ہی دیکھ ہی تھی وہ مرے قدموں سے جا رہا تھا جب اس کی آواز سنائی دی تھی،
محبت کا تو تم بے کب نے تو کبھی ثبوت نہیں دیا تو. .نفرت کا اتنا پختہ ثبوت کیوں ؟؟
تم بھی اپنی فیملی کا سوکولڈ بدلہ کے پیچھے. ..محبت روند رہے ہو. .
، دھوئیں سے دهویں کی وجہ سے وہ کھانس رہی تی… فارس جاتے جاتے رک چکا تھا سانس بھی روک لیا تھا. .. آنسوؤں لگاتار بہہ رہے تھے. .. ، (هاں مارا ہے میں نے تمہارے گھر والوں کو تمہاری موم کو اور تمہاری بہن کو بھی انہیں ہاتھوں سے جو تمہارے ہاتھ میں ہیں ) کچھ دنوں پہلے بولی گئ ماہا کی بات اس کے کانوں میں گونجتی تھی ،آنسوؤں میں شدت آئی تھی. .
، وہ چھوٹے چھوٹے قدم آٹھاتا دور ہو رہا تھا اپنی زندگی سے، لیکن اس کی برداشت شاید اتنی ہی تھی اچانک اس کا سر درد سے پھٹنے لگ گیا تھا وہ گر گیا تھا نیچے دنیا و مافیا سے بے خبر فرش پر پڑا تھا تو دوسری طرف ماہا بھی بہوش ہوگی تهی ، ہر گزرتے لمحے میں آگ برہتی جا رہی تھی
ہم بیوفا ہرگز نہ تھے. .
پر ہم وفا کر نہ سکے. .
ہم کو ملی اس کی سزا
جو خطا ہم کر نہ سکے
کتنی اکیلی تھی وہ راتیں
ہم جن پر اب تک چلتے رہے
تجھ سے بچھڑ کر بھی
اے بے خبر. ..
تیرے ہی ہم چلتے رہے
تو نے کیا جو شکوہ
ہم وہ گلہ کر نہ سکے
تم نے جو دیکھا سنا
وہ سب سچ تھا مگر
کتنا سچ تھا یہ کس کو پتا
جانے میں نے تمہیں کوئی دھوکہ دیا
یا جانے تمہیں کوئی دھوکہ ہوا
اس پیار میں سچ جھوٹ کا
تم فیصلہ کر نہ سکے
ہم بیوفا نہ تھے
مگر ہم وفا کر نہ سکے
♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥
وئیٹ شرٹ پینٹ پہنے. ..پیک جیکٹ پہنے. ..بالوں کو ڈهیلی سی پونی میں بند کئے. .. وہ ہاتھ میں کافی کا بهاپ اڑاتا کپ پکڑے. .. نجانے کیا سوچ رہی تھی. … زندگی کتنے جلدی بدل گئی تھی. ..کچھ دن پہلے تک تو وہ خوش تهی … آج آتنی ہی ازیت میں…. اسے عینا سے سب پتا چل گیا تھا. . اپنے باپ کی سب حقیقت. … سب کچھ جان گئی تھی. …. تب سے وہ خاموش ہوگئی تھی. … وہ سحر کے ساتھ ہی اسے ہوٹل میں رہ ری تهی ساتھ ہی فوزیہ بیگم بھی. … اسے گھر سے نکلنے سے. منع کیا ہوا تھا. ..کہ کوئی پہچان نا لے. ….. مگر کل وہ ملی تھی مزمل سے. … سحر کے کہنے پر ہی وہ چپ چاپ چلی گئی تھی. …. ماسک وغیرہ پہن کر کے کوئی پہچان نا لے. …….
آدھا گھنٹہ گزرنے کے بعد اسے وہ اپنی طرف آتی نظر آئی تھی. …… وہ کافی دیر سے بیٹھا اس کا انتظار کررہا تھا. … پتا نہیں کیا کہنے آیا تھا. … وہ نہیں جانتا تھا. … مگر وہ اس سے ملنا چاہتا تھا ایک دفعہ. …
.. سکن بلیک جینز. .. وائیٹ شرٹ. ..پر سکن لانگ کوٹ پہنے… اس کی ہڈی سر پر کی ہوئی تھی. .. چہرے کو ماسک کے نیچے چھپایا ہوا تھا. … کیونکہ وہ دنیا کی نظر میں تومر چکی تھی. …. اسی لیے چہرہ چھپایا ہوا تھا. …. اس نے شاید دور سے ہی مزمل کو دیکھ لیا تھا تب ہی. …. اس کے پاس آکر سامنے والی کرسی پر بیٹھ گئی تھی. … چہرے سے ہڈی اتار لی تھی. …. اب وہ پوری طرح مزمل کی طرف متوجہ تھی. …
کیوں بلایا تھا آپنے. … بات کی شروعات بھی اسی نے کی. ..
بات کرنی تھی مجھے تم سے تب. … مزمل نے اسے دیکھنے سے اجتناب ہی کیا تھا. .
ہمم کیا بات کرنی تھی اپکوو. .. وہ ہنوز اسے دیکھ رہی تھی. … کسی پیاسے کی طرح اسے دیکھ کر آنکھوں کی پیاس بجھانے کی کوشش کررہی تھی. .
وہ. ….. اسے سمجھ نہیں آئی وہ کیا کہے. .کہاں سے شروع کرے …. تب ہی خاموش ہوگیا تھا. ..
ہمم …. سب بتا چکی ہے مجھے عینا. … کہ آپکو مجھ سے کوئی محبت نہیں تھی. .. مجھے تو اپنے استعمال کیا. .. اپنا بدلہ لینے کے لیے. …. مجھ سے محبت کا ڈھونگ رچایا. ….. ہاں نا. …. دیا نے اس کو دیکھتے سٹاپ لہجے میں کہا تھا. …
مزمل نے تڑپ کر اسے دیکھا تھا. … مانا اسنے کیا تھا اسے استعمال. .مگر. .محبت تو اسے تب ہوئی تھی. .جب وہ جانتا بھی نہیں تھا کہ وہ صدیق خان کی بیٹی ہے. … وہ بولنا چاہتا تھا کہ اس کی محبت سچی ہے. ..مگر چاہ کر بھی بول نہ سکا. ….وہ کچھ نہیں بولا تھا. … شاید الفاظ ساتھ ہی نہیں دے رہے تھے. …
میں یہ نہیں کہہ رہی میرے ڈیڈ نے سہی کیا. …. یا انہیں چھوڑ دیں. ..یا معاف کردیں. …. مانتی ہوں اپکا بہت بڑا لوس ہوا ہے. ..مگر. …مزمل میری یا فارس بهیو کی غلطی کہاں ہے. … ہمارے ڈیڈ کے گناہ کی سزا ہمیں کیوں دی. … اپنے میرے جذبات کا مذاق بنایا ہے مزمل. ….. یہ تو غلط ہے نا. ….. ہم مر سکتے ہیں نا جی سکتے ہیں. … مطلب کدھر لے آئے آپ ہمیں. …. پل پل مرنے کے لئے چھوڑ دیا. .. ڈیڈ کو ہمیں ایسے دیکھ کر تکلیف ہوگی. ..جو انہیں ہونی بھی چاہیے. … مگر میں اور بهیو. ..؟؟ . ہمارا کیا مزمل. … جو تکلیف ہمیں بے گناہ ہوتے ہوئے مل رہی ہے. ..کیا ..کیا وہی آپکو معاف ہے ؟؟؟؟ یہ کہاں کا انصاف ہے. .. اب چپ کیوں ہیں جواب دیں. .. دیا کی آواز روند گئی تھی. .. گرے آنکھیں شدت غم سے لال ہورہی تھی. …
مزمل دم سادھے اسے سن رہا تھا. … اسے کیسے بتاتا وہ بھی اسی تکلیف سے گزر رہا تھا. .کیسے بتاتا وہ اس سے دستبردار ہوکر اسی طرح برباد ہوگا. … اسی طرح تڑپے گا. … دل و دماغ میں بہت کچھ تھا کہنے کو مگر زبان پر قفل لگا ہوا تھا. … ہاتھ میں پکڑے اسی کے لاکٹ پر گرفت مضبوط ہوگئی تھی. .. نیلی آنکھیں برسنے کو تڑپ رہی تھی. … مرد ہوکر رو نہ سکا. … وہ کیسے روتا. … اس کے سامنے بیٹھی. .نازک سی لڑکی نے انتہائی تکلیف میں ہونے کے باوجود ضبط نا توڑا … وہ بھی پھر. .. ایک مرد تھا. ..مضبوط مرد. …..
مجھے یہاں کوئی بھی دیکھ سکتا ہے. ..مجھے جانا چاہیے. ….آپکے پاس کوئی جواب نہیں ہے جو مجھے دے سکیں. …مگر کبھی. .. وقت ملا تو سوچنا ضرور. …میرا کیا قصور تھا. … بارہ سال پہلے جو ہوا مجھے تو اس کی خبر بھی کل ہوئی. … اور بے گناہ ہوتے ہوئے سزا بھی. سنا دی گئی. …، سوچنا ضرور. … کیوں کیا یہ؟ .. جواب ملا تو مجھے بتا دینا. …. شاید اپنی غلطی پتا چلنے کے بعد. .. سزا سزا لگے. .. اتنی تکلیف نا ہو جتنی اب بے گناہ ہوتے ہوئے ہورہی ہے. …..ورنہ. ….. میں ساری زندگی یہی سوچتے گزار لوں گی کہ میری غلطی کدھر تھی. … دل تو اس کا کررہا تھا دهاڑے مار مار کر روئے. .چلائے. … اپنی تکلیف ظاہر کرے. …. مگر انا آڑے آگئی. … وہ ٹوٹنا نہیں چاہتی تھی کسی کے سامنے. ….. اس ظالم کے سامنے تو بالکل بھی نہیں. ..تب ہی خود پر ضبط کے پہرے بٹھائے ہوئے تھے. … وہ اٹھ رہی تھی. …. جب. .. مزمل کی آواز آئی. ..اس نے کرب سے آنکھیں بند کرلی تھی. ..
معاف کردو. … انا توڑ گیا تھا وہ…جھک گیا تھا. …. مگر دیر سے. …
میری تکلیف بھی نہیں دیکھو. … اپنی موم کے ساتھ زیادتی ہوتے دیکھی ہے. .میں نے ہی نہیں میری بہنوں نے بھی. … اپنے ڈیڈ کا قتل اپنے سامنے ہوتے دیکھا. … بچپن بچھڑ گیا. … مایا اور ماہا جو ہر وقت ہنستی مسکراتی تھیں. ..انکی بالکل خاموشی سنی ہے. …. ایسی خاموشی جو چیخ رہی ہوتی تھی. … انہوں نے کہا مروت بھی مُسکرانا چھوڑ دیا. …. پھر 12 سال بعد اپنا دشمن ملا تو کیسے چھوڑ دیں. … اور محبت. ..ہاہا. ..وہ ہنسا تھا. .جیسے خود پر ہی ہنس رہا. .جیسے خود کا مذاق اڑا رہا ہو. … وہ مجھے اسی لمحے تم سے ہوئی تھی جب پہلی بار دیکھا تھا تمہیں. …
.. وہ ساکن ہوگئی تھی. .. سانس تک روک گئی تھی. ..
، تب میں جانتا بھی نہیں تھا کہ کون ہو تم. … مگر جب پتا چلا تب محبت پنجے گہار چکی تھی دل میں. … دیر کردی میں نے. … اور …جب بھی تمہارے قریب آیا. .. دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر آیا. ..کبھی بدلہ بدلہ سوچ کر نہیں آیا. … مگر یہ بھی سچ ہے. ..میں تمہارے ڈیڈ کو معاف نہیں کر سکتا. .. اتنا ظرف شاید. ..مجھ میں نہیں ہے. ….. مزمل بولتا گیا تھا. .. اس بار اس نے دماغ کی نہیں سنی تھی. ..اس بار اس نے وہی کہا تھا. ..جو اسکا دل کہہ رہا تھا. .. دیا حیرانی سے اسے سن رہی تھی. ..جیسے یقین کرنا چاہ رہی تو کہ آیا وہ خواب تو نہیں دیکھ رہی. …مگر وہ حقیقت تھی. … وہ پیار. …وہ. فریب نہیں تھا. ..سچ تھا وہ. ….مطلب وہ یکطرفہ محبت نا تهی. … وہ بھی اس کے جہان کا مسافر تھا. …. اس کی نیلی آنکھیں اس کا ساتھ دے رہی تھی جو بھی وہ بول رہا تھا. ..
مجھے معاف کردو. .مجھے تمہارا سہارا نہیں لینا چاہیے تھا. ..ل میں نے غلط کیا. … محبت کی سزا بہت ہے دیا. …یہ. .یہ پچھتاوا نا دو. ..پلیز بهیک میں ہی معافی دے دو. ….. تمہیں اپنا نہیں سکتا. … تم سے دستبرداری ازیت ناک ہے. … دم گھٹتا ہے اب میرا. …. 12 سال سے ایک لمحہ سکون کا نہیں دیکھا. …. اب ختم ہوگئی ہے میری ہمت. …..مجھے کبھی کبھی لگتا ہے کہ. ..کہ جسے اگلا سانس نہیں آئے گا. …… جیسے میرے دماغ کی رگیں پهٹ جائیں گی. ….. دیا. .تم. … تم معاف کردو گی تو. .شاید کچھ سکون مل جائے پلیززز دیا. ….. وہ پوری طرح ٹوٹا بکھرا سا لگا تھا اسے. ….. بہت تکلیف میں. …. مگر پهر وہ بے حس بن گئی. ….
آپکی معافی مانگنے سے. ..کیا ہوجائے گا. .مزمل. … کیا وہ خواب میرے مکمل ہو جائے گے…؟. .جو میں نے آپکے ساتھ دیکھے. …. کیا میرے دل میں جو اپنے اپنی محبت ڈالی وہ کم ہوجائے گی. .؟؟؟… کیا مجھے سکون ملے گا کبھی. …. نہیں نا. … وہ سانس لینے رکی تھی. ..
تجھ سے تعبیر نہیں مانگی. .مگر اتنا یاد تو کر
تو نے ان آنکھوں کو کچھ خواب دکھائے تھے. …
کیا بهیو بهول جائیں گے. ..ماہا کو. ..؟…. سب آپ مجھے بتا دیں کیا ہو جائے گا آپکی سوری سے. … میں اکسپرٹ کرلو گی. …. وہ بول کر خاموش ہوگئی تھی. …
کچھ نہیں ہوگا. ….مگر شاید میرا گلٹ ختم ہوجائے. … شاید مجھے تھوڑا سا ہی سہی مگر سکون مل جائے. …. وہ ازیت کی بلندیوں کو چھو رہا تھا. ….. نیلی آنکھیں شدت غم سے لال ہوگئی تھی. ….. مگر آنسو کو اجازت نہ دی بار توڑنے کی. ..
واہہہہہ. .. مطلب آپ اب بھی اپنا سوچ رہے ہیں. ..مطلب میں کہیں نہیں…؟ …میں کچھ نہیں. ..؟؟؟. یقین مانیں. .. اگر محبت کی کوئی عدالت ہوتی تو آپکی سزا. .. سزائے موت سے کم نہیں ہوتی. …. وہ اسے دیکھتی تکلیف سے بولی تهی
ا
وہ سختی سے لب بینچ گیا تھا. …. آنکھیں لہو ٹپک رہی تھی. ….. اس نے پهر اپنا ہاتھ جو سختی سے بند کیا ہوا تھا آٹها کر اس کے سامنے ٹیبل پر کھول دیا تھا. …. اور اس کا لاکٹ اس کے سامنے رکھتا آٹھ گیا تھا. …. آخری نشانی سبھی دستبردار ہوگیا. … وہ جا چکا تھا. ..
مگر وہ اب بھی اپنے سامنے پڑے لاکٹ کو دیکھ رہی تھی جو وہ ابھی ابھی چھوڑ کر گیا تھا. …. اسے محسوس ہوا تھا. ..کوئی گرم سیال اس کے چہرے پر بہہ رہا تھا. .. اس نے بے یقینی سے اپنے ماسک لگے چہرہ پر پهرا تھا. …..پهر ماسک اتار کر پهنک دیا تھا. …. …..لاکٹ اس کے چہرہ کے پاس پڑا تھا. … دونوں بازو ٹیبل پر بچهائے اس پر سر رکھتی وہ رو دی تھی. .. اتنی ہی ہمت تهی اس میں. …..
آس پاس کے لوگ اسے حیران نظروں سے دیکھ رہے تھے. ..مگر اسے کسی کا ہوش ہی کب تھا. … اسے تو یہ بھی ہوش نہیں تھا کہ اسے ماسک نہیں اتارنا چاہیے تھا. …. وہ بس روئے جا رہی تھی. ……..
کافی ٹھنڈی ہوگئی تھی. … وہ اب بھی مختلف سوچوں میں گم تهی. …نا ختم ہونے والی سوچیں. ………
سنو اے چاند سی لڑکی
تم ابھی تتلیاں پکڑو
یا پھر گڑیوں سے کھیلو تم
یا پھر اپنی ان معصوم آنکھوں سے
ڈھیروں خواب دیکھو تم
فراز و فیض محسن کی
یہ کتابیں نہ پڑھنا تم
یہ سب لفظوں کے ساحر ہیں
تمہیں الجها کر رکھ دیں گے
تمہیں معلوم ہی کب ہے
محبت کے لبادے میں
ہوس اور حرس ہوتی ہے
یہ انسانوں کی دنیا ہے
مگر ان کے کئی بڑه کر
یہاں وحشی درندے رہتے ہیں
وہ وحشی جن کی آنکھوں میں
مچلتے محبت کے پیچھے
ہوس اور حرس ہوتی ہے
ابھی کچھ کلی ہو تم
ابھی کانٹوں سے مت کھیلو
ابھی اپنی ہتھیلی پر
کسی کا نام مت لکھنا. .
ابھی اپنی کتاب میں
کوئی لال گلاب نہ رکھنا
ابھی شعروں میں مت الجهو
ابھی تو بہت عمر باقی ہے
ابھی خود کو سنبھالو تم
ابھی مت گنگنائو تم
ابھی سے عشق میں سوچو
ابھی سب بھول جائو
