62.3K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 13

ے حرف تسلی تیرے مشکور ہیں لیکن
یہ ‘ خیر ہے’ سے بہت آگے کا دکھ ہے
یہ لو جائو تم چینج کرلو. …تمہارے کپرے خراب ہوگئے ہیں. .سحر نے اپنا ایک سوٹ سوٹ کیس سے نکل کر اس لڑکی کی طرف بڑھایا. …..لڑکی نے بنا کچھ کہنے کپڑے لے کر واش روم میں چلی گی. …تب تک سحر نے ڈنر آڈر کردیا تھا. ….
سحر اس لڑکی کو لے کر سیدھا ہوٹل آگئی تھی کیونکہ وہ لڑکی ابھی سہی حالت میں نہیں تھی. ……
10 منٹ بعد وہ باہر آگئی تھی …فریش ہوکر. ….. بلیک جینز. .. گرے شرٹ. …پر جیکٹ پہنے کافی مطمئن لگ رہی تھی. ..جیسے کچھ دیر پہلے ہوا حادثہ اس کے ساتھ نہیں بلکہ کسی اور کے ساتھ ہوا ہو. …..
کھانا آگیا تھا. …. ویٹر نے ہی کانچ کے ڈیبل پر لگایا اور چلا گیا. …
چلو آئو کھانا کھا لو. ….. سحر نے چیئر پر بیٹھتے اسے مخاطب کیا جو پنٹ کے پاکٹ میں ہاتھ ڈالے کھڑکی سے ہاہر دیکھ رہی تھی. …. اس کے پکارنے پر بنا کچھ کہئے آکر دوسری چیئر پر بیٹھ گئی. … ایک پلیٹ میں آپنے لیئے چائینز نکال کر اب کها ری تھی. …. کچھ دیر پہلے والا ڈر خوف. …کہیں تھا ہی نہیں. …. جیسے کبھی ہوا ہی نہ ہو. …. وہ بالکل نارمل تھی. .. فارمل ہونے کی کوشش بھی نہ کی. …
سحر تو پہلے کافی دیر ٹکٹکی باندھے اسے دیکھتی رہی. …. پھر ایک ریشیئن ڈش اپنی پلیٹ میں ڈالتے کمرے میں پھیلی خاموشی کو توڑا. …..
نام کیا ہے تمہارا. ….
عینا. ……. یک لفظی جواب دیا تھا. ….. چہرہ اٹھا کر دیکھنے کی زحمت نہ کی. …
ہممممم عینا. ……. کیا کرتی ہو. …. فیملی کدھر ہوتی ہے. .. اور اتنی رات کو کیا کررہی تھی اکیلی سنسان جگ پر. ….سحر نے پلیٹ میں چمچ گھماتے ہوئے ایک ساتھ ہی کئی سوال کر لیئے. …اسے سامنے بیٹھی لڑکی کافی عجیب لگی تھی مطلب. … اس نے اس کی جان بچائی اب اسے ہی نخرے دیکھا رہی. ….
ایف ایس سی کے پیپرز دیئے حال ہی میں. … ریزلٹ نہیں آیا. …… فیملی کوئی نہیں ہے میری. …. موم ڈیڈ کی ڈیته ہوگئی. ….پاٹ ٹائم جاب کرتی ہوں ایک ریسٹورنٹ میں. ..آج لیٹ ہوگئی تو ہی وہ لڑکے پیچھے پڑ گئے. …. اس نے سارے سوالات کا تحمل سے جواب دیا البتہ کھانا چھوڑا نہ تھا نہ ہی پلیٹ پر جھکا سر اٹھایا. ….
اچهااااا. ……..تم آگر چاہو تو میرے ساتھ کام کر سکتی ہے. … اچھی سیلری ملے گی. .کام آسان ہوگا. .. ساتھ ہی رہائش. .. تم کسی بھی اچھی یونیورسٹی میں تعلیم جاری رکھ سکو گی. …. سحر اب فاک پلیٹ میں چھوڑ کر پوری طرح اس کی طرف متوجہ ہوگئی جس نے اب بھی کوئی خاص ریئیکٹ نہیں کیا. ….
مگر آپ یہ سب کیوں کرنا چاہیں گی. ….اور آپ کے پرنٹس. …اور یہ آپ کا گھر تو نہیں. …اور میں کیوں کروں آپ کے ساتھ کام. …. کیا پتا آپ لیگل کام کرتی بھی ہوں یا نہ. سائٹ ڈرنک اپنے گلاس میں انڈیلتے ہوئے کچھ دیر پہلے اسے کے بے رحمی سے قتل کرنے پر ٹونٹ کیا. ..
اسی اثنا میں سحر نے ایل ای ڈی ان کر دی. …جس پر کچھ دیر پہلے اس کے قتل کیئے گئے کیس پر بحث ہورہی تھی. …. نیوز کے مطابق ایک لڑکا زیادہ خون بہہ جانے کی وجہ سے مر گیا تھا جبکہ دوسرا ہوش میں آگیا تھا…مگر اس کا یہی کہنا تاکہ کوئی نقاب پوش لڑکی تھی. …. اس کے اس کے سینے پر لکھے” سائیکو ” جو پڑھ تو کوئی نہیں سکا تھا. …مگر اتنا پنا چل گیا تھا. ..کہ وہ سیئرل کلر کوئی لڑکی ہی تھی کیونکہ آج سے پہلے کوئی نہیں جان سکا تھا کہ وہ لڑکی تھی یا لڑکا. .. وجہ تھی کہ اس کا مارا کوئی بچتا ہی نہیں تھا. ….. وہ کہیں بھی اسے سی سی فوٹیج میں دیکھا جاتا تو وہ فل بلیک ….بلیک ٹائٹ جینز. …بلیک شدٹ. … اور بلیک لانگ. …لوئیٹ کوٹ پینے. .. بلیک. . لانگ شوز. …. بلیک ماسک. …. بلیک ہی کیپ پینے. … لانگ کوٹ کے بیک پر بھی وہی نشان تھا جو مرے والوں کے جسم پر بی ہونا. ….. حیرت کی بات یہ تھی. .مرے والے سب جو تھے. … ان کا کرکٹر سہی نہیں تھا. … لڑکیوں کو مجبور سمجھ کر ان کے ساتھ زیادتی کرنا. …. ریپ کیس. ..جن ریپیسٹ کو قانون سزا نہ دے سکتا. …. جو مجرم ہوکر بھی آزاد ہوجاتے. ….. جو معصوم بچوں کا دھندا کرتے. …. یہ سب کے سب وہی تھے. … کسی ایک کیس میں بھی مقتول کا کرکٹر سہی نہیں تھا. ….
سحر نے چانک پر اس کی طرف دیکھا. …. جو کافی کھانا کھا چکی تھی مگر بھوک شاید اب بھی لگی تھی جو کھائے جا رہی تھی. …جبکہ سحر کی پلیٹ میں آس کا کھانا اپنی بے قدری پر رو رہا تھا. ….
میں کوئی ایللیگل کام نہیں کرتی. …. میں صرف انہیں سزا دیتی ہوں ….جو سزا کے مستحق ہوتے ہوئے بھی فرار ہوجاتے ہیں جو پیسے کے بل پر قریب کو ناچتے ہیں. …اور خدا بننا چاہتے ہیں. ….جن کے خلاف یہ قانون کوئی ثبوت نہیں ڈھونڈ سکتا اور اگر ڈھونڈ بھی لے تو امیر کو سزا نہیں دیتا. … سحر ڈرنک کا گلاس ہاتھ میں گهمائے اس ہی ہلتی ڈرنک کو دیکھ کر کہہ رہی تھی، ،،، آنکھیں لال انگار ہورہی تھی. ..
لیکن کیوں. ….. بیشک جو کوئی دوسرا کرے. .. زیادتی کرے کوئی. ..یا جو بھی قانون ہے نہ ….. تو پھر ہم کیوں پڑہیں آس میں. …. عینا نے عام سے لہجے میں کہا. .
کیونکہ میں اپنی جیسی اور اور ناجائز سحر نہیں دیکھنا چاہتی اس دنیا میں. ..
سحر نے قدرے سٹاپ لہجے میں کہا. ….. کانچ کے گلاس پر گرفت مضبوط ہوگئی تھی. ..جیسے کسی لمحے بھی گلاس ٹوٹ سکتا تھا. …. نظریں ہنوز گلاس پر ہی تھی. …
وہ جو کب سے کھانے میں بری طرح مگن تھی. … اس کی بات پر بے اختیار نظریں آٹها کر اسے دیکھا. …. آنکھوں میں حیرت تھی. …. ہاتھ سے فاک کانچ کی پلیٹ میں گر کر ایک شور پیدا کیا تھا. …….
مط. . لب. …… بے یقینی سے کہا آواز دب سی گئی. …. وہ تو سوچ بھی نہیں سکتی تھی سامنے بیٹھی نک سک سی لڑکی ریپ چائیلڈ تھی. ..
مطلب. …یہ کی میں ایک ریپ چائیلڈ ہوں. ..میرے باپ نے میری ماں کا ریپ کیا تھا. …. اور س گناہ کی نشانی میں بنی. … پاکستان میں. …. پھر کہیں باگ گیا. …. میرے گرانڈپا اور گرنڈما میری موم کو لے کر ادھر امریکہ آگے ان کا کافی برها بزنس تھا. … پھر میرے باپ نے ان دونوں کو بھی مروا دیا کیونکہ وہ موم کو انصاف دلوانا چاہتے تھے …. یہیں تک میرے باپ کی سفاکیت نہیں ہے. .. اس کے بعد وہ دوبارہ آیا میری موم سے 90 پرسنٹ شیئر مانگے. … موم نے یہ کہہ کر منع کر دیا کہہ وہ سب میرے نام ہیں کیونکہ وہ میرے گرانڈپا نے میرے نام کیئے تھے. …. اور میں تب 16 سال کی تھی. ..18 سے پہلے تو دے بھی نہیں سکتی تھی. .. نتیجہ میں اس نے میری ماں کو جان سے مارنے کی کوشش کی وہ تو موم کی قسمت تھی کہ موم بچ گئیں. ..مگر ویل چیئر پر آگئی …. اور یہ سب میں اسے لیئے کرتی ہوں کہ میں نہیں چاہتی میری طرح کا کوئی اور ہو. …. کیونکہ میرے موم کے پرنٹس نے کہا ان کا ساتھ دیا مگر زیادہ تر ماں باپ بھی عزت کی خاطر لڑکی کو مار دیتے ہیں اور گھر سے نکل دیتے. ..سحر نے آج وہ سب باتیں اس انجان لڑکی کو بتا دی جو آج سے پہلے کسی سے نہیں کی تھی. .
.. عینا دم سادھے اسے سن رہی تھی. ….کھانا کھانا تو کب کا بهول چکی تھی. ….. وہ اب تو وہ سب ٹھنڈا بھی ہوچکا تھا. …جواباً کچھ بھی سنے بغیر وہ اپنی جیکٹ آٹها کر باہر نکل گئی. …پیچھے عینا نے بے اختیار گہرا سانس لیا. …. ایک نظر اپنے سامنے پھیلے کھانے کو دیکھا پھر. …. سر چیئر کے بیک سے لگا کر آنکھیں موند لی. ………..
ایسی بے چین طبیعت سے کئی بہتر تھا
ہم کسی دشت-بیاناں کی وحشت ہوتے
■■■■■
مجھے اس کے اتنے قریب ہی نہیں جانا چاہیے تھا. …. مجھے اس سے اپنی محبت کا اظہار نہیں کرنا چاہیے تھا. ….. اگر مجھے محبت ہو بھی گئی تھی تو. … تو مجھے اسے پوشیدہ رکھنا چاہیے تھا. … کیونکہ مجھے انت پہلے سے معلوم ہے. … اپنی محبت کا. ….. اس کے دل میں اپنی محبت جگا کر چھوڑ دیا. …یہ سہی نہیں کیا میں نے. … وہ رو رہی تھی. ..یقیناً اس نے مجھے مایا کے ساتھ دیکھا ہوگا اور کچھ اور مطلب سمجھ کر دکھی ہوگئی ہو گی. .،
رات کا آخری پہر تھا. ..جب مزمل اپنے بیڈ پر سیدھا لیٹا چهت پر لگے بجهے فانوس کو گھور رہا تھا…… جو بالکل تاریک تھا. … اس کے دل کی طرح. …..کمرے میں صرف نائٹ بلب لگا تھا. … مزمل ریسٹورنٹ سے واپس آتے ہی کمرے میں بند ہوگیا تھا. ..، اور اب کافی ٹائم سے اسے ہی پڑا تھا. ……. اچانک کچھ دن پہلے ہوئی دیا سے ملاقات اس کے زہن میں آئی
—–flash back—–
وہ ابھی ہی آفس میں داخل ہوا تھا. … آج وہ معمول سے لیٹ تھا. … وجہ حارث تھا. .. جو اسے رستے میں مل گیا باتوں میں ٹائم کا پتا نہیں چلا. .. اور اب 11 بج رہے تھے مطلب روز سے دو گھنٹے لیٹ. … خیر اسے کون پوچھے والا تھا. …. اپنے آفس میں جانے سے پہلے وہ دیا کے کیبن میں چلا گیا. ….
پہلے ہی ڈور ناک کرنا چاہا مگر … (اپنی کمپنی میں کیوں ڈور ناک کرتا پهروں ) سوچ آتے ہی بنا ناک کیئے اندر آگیا. … سامنے ہی وہ آفس چیئر پر بیٹھی. …. سکائے بلو جینز پر. ..ریڈ شرٹ. بالوں کو کھلا چھوڑے. … ہلکا سا میک اب. … ریڈ ہائی ہیل والے شوز پہنے بیٹی تھی. .. سر چیئر کے بیک پر گرائے آنکھیں موندے. .. پاوں ڈیبل سے ڈرا پر رکھے. … بے غم ہو کے بیٹھی تھی. …. اسے دیکھتے ہی مزمل بنا آواز پیدا کیے اس تک آیا. … چیئر کے دونوں ہینڈل پر ہاتھ رکھے ہلکا سا جھٹکا دیا تھا جس سے وہ ہوش میں آئی تھی. ..
آ آ آپ. …. س سوری سر میں. .. دیا نے اٹهنا چاہا مگر مزل نے اس کی یہ کوشش ناکام بنا دی. ..
جی میں. .. ویسے آپ کو گھر والے سونے نہیں دیتے جو آفس میں آکر نیند پوری کررہی ہیں. . مزمل نے اپنا چہرہ اس کے چہرے کے تھوڑا اور قریب کرتے ہوئے کہا. .. ان کی سانسیں اب ایک دوسرے کے ہرے پر پر رہی تھی. .. دیا کا دل مانوں کانوں میں دھڑک رہا تھا. ..
ن ن نہیں سر. ..وہ. …. ابھی کچھ بولتی جب مزمل. نے اس کی بات بیچ میں ہی کاٹ لی. ..
ششششش … اس کے گلابی لپسٹک سے سجے نازک ہونٹوں پر اپنی انگلی رکھتے ہوئے اسے مزید بولنے سے روکا. …. اور پھر انگلی ہٹا کر انگوٹھے سے اس کے نازک ہونٹ سہلا رہا تھا. … اس کے ہونٹوں کی نرماہٹ اسے مزید مدہوش کررہی تھی. …. دیا تو جیسے بت ہوگئی تھی، ..نہ ہل سک رہی تھی نہ ہی بول سک رہی تھی. … مزمل اس کے ہونٹوں پر ہی نظریں جمائے کھڑا تھا. …
تمہیں دیکھ کر میں ہوش میں نہیں رہتا. ….. میرا دن چاہتا ہے تمہیں لے جائوں. ..یہاں سے بہت دور. … جہاں میرے تمہارے علاوہ کوئی نہ ہو. … جہاں صرف میں اور تم ہوں. … نہ کوئی رکاوٹیں. .. ماضی کی تلخ یادیں. ….. بدلہ. … دھوکا. ….. کچههه بهی نہ ہو. …صرف ہم اور ہماری محبت ہو. … دیا میرا دل تمہارے ساتھ کی بهیگ مانگتا ہے مجھ سے. …. چاہتا ہے تمہیں. …. تم پہلی لڑکی ہو جس نے میرے دل تک رسائی حاصل کی. …. وہ اب اس کی صراحی دار گردن پر جھک رہا تھا. …. .
سررر. …..پلیزززز. ..لیوو می. … دیا نے اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے پیچھے کرتے ہوئے کہا. …
تم بالکل نہیں چاہتی مجھے ؟؟؟؟؟ اس کے خوبصورت چہرے کو دیکھتے سوال کیا تها. …
م. .میں. …؟ دیا کی سمجھ میں نہیں آرہا تها وہ کیا کہیے. … کیسے اس سے دور ہو. …….
ہممممم تم. … آواز جذبات سے بوجھل ہو رہی تھی. …. گہری گھمبیر آواز. .. دیا سردی میں بھی پسینے سے بڑه گئی تھی. ….. اس نے کوئی جواب نہیں دیا تھا. .. ہوتا تو دیتی. …ہاں یہ سچ تها. .وہ بھی اب اسے سوچنے لگی تھی. … اس کو اپنے سامنے دیکھنا چاہتی تھی. .مگر کہنے کی ہمت نہیں تھی. …. تب ہی خاموشی سے اسے اپنے قریب ….بہت قریب دیکھ رہی تھی. …….
مزمل نے ایک ہاتھ اس کے بالوں میں پهنسا کر جھٹکا دے کر چہرہ تھوڑا اوپر کیا تھا. …. اور پھر اسکے گال پر شدت بهرا لمس چھوڑا تھا..
آہہہہہہ. …. دیا کی سسکی نکلی تھی. .. ساتھ ہی مزمل ہوش میں آیا تھا. … ایک دم پیچھے ہوا. …. دیا کا چہرہ شرم. ..غصے سے سرخ ہورہا تھا. …. ایک نظر اس پر ڈال کر …بنا کچھ کہئے. … ٹائی سہی کرتا. .. اس کے کیبن سے نکل گیا. ..
. پیچھے دیا ہونک بنی اسے جاتا دیکھ رہی تھی. .. شکر کا سانس لے کر. … اپنی دھڑکنوں کو نارمل کررہی تھی جو. … زور و شور سے دهرک رہی تھی. …. مزمل کو وہ کبھی نہیں سمجھ سکی تھی. … اس کی باتیں. .رویہ. … ماضی کا حوالہ. …. وہ بہت کنفیوز ہورہی تھی. …مگر دل میں اس کے لیے جگہ بن رہی تھی. ..یا کافی پہلے سے تھی. …. پہلی دفعہ ملنے سے. ..یا. …. وہ نہیں سمجھ سکتی تھی. …کب. .کیسے. …کیوں. … اسے اتنا پتا تھا. …. اسے مزمل سے محبت ہوگئی تھی. ….یہ جانے بغیر اس محبت نے اسے کتنا رلانا تها. … کیسا کیسا وقت دیکھنا تها. …کیا انت تها. ….. وہ کچھ نہی جانتی تھی. ….
مزمل کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے. … اسے اپنا آپ دیا کا مجرم لگا تھا. … اسنے سوچ لیا تھا. … وہ دیا سے مل کر معافی مانگے گا. …. اور بنائے گا وہ اس سے محبت نہیں کرتا. … یہ سوچتے ہوئے اس کا دل کامپا تها. ….. چیخ رہا تھا دیا کے لیے. …. کہہ رہا تھا وہ اس کی محبت ہے. … اسے بدلے کی بهیٹ نہ چرائو. ….. مگر وہ چپ چاپ آنسو بہا رہا تھا. …. دل کی درد تها. ..بہت درد. …. سر درد سے پھٹ رہا تھا. … رات گزر گئی تھی. …. روشن سورج نمودار ہورہا تھا. …. ہلکی ہلکی خنکی کی فضا میں. …. اس نے اب آنکھیں بند کر لی تھی. ..اور کچھ ہی دیر میں نیند مہربان ہوگئی تھی اس پر. ……
جنہیں دعائوں میں مانگا ہو….
انہیں بهول جانا آسان نہیں ہوتا. .
■■■■■
ماہا تیار ہورہی تھی. …. صبح کے دس بج رہے تھے. …. اسے کچھ ضروری کام سے جانا تھا. …. دو دن بعد وہ اٹلی جا رہی تھی. …. ثاقب صاحب اور خدیجہ بیگم نے بہت سمجھایا مگر اس کی ایک ہی رٹ تھی. ….. وہ دونوں بھی دس دن کے بعد واپس آرہے تھے. …..
مایا اور احمر آفس چلے گئے تھے. …مزمل سو رہا تھا. …. اس نے سر درد کا کہہ کر جانے سے منع کر دیا تھا. .. اب تک کمرے میں بند تها. ….
ڈارک بلو ٹو پیس کے پہنے. .. نیچے لائیٹ بلو شرٹ پہنے. ….. پاوں میں ہیل والے ڈارک بلو ہی شوز پہنے. … بالوں کو ہلکا سا کرل کیئے. .کھلا چھوڑے. … ہلکا میک اپ. …. گلے میں نفیس لاکٹ. … پہنے. .. وہ بالکل تیار تھی. …. موبائل اٹھائے. … بلیک گاگلز آنکھوں پر لگائے وہ پورچ کی طرف چلی گئی. .. اپنی گاڑی میں بیٹھ کر وہ اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھی. … ایک بڑے سے مال سے سامنے گاڑی روک کر باہر نکلی تھی. … گاڑی لاک کیئے وہ قدم اٹھاتی مال میں انٹر ہونے ہی والی تھی کہ اپنے نام کی جانی پہچانی آواز پر اسکے قدم رک گئے. …. وہ یہ آواز تو لاکھوں میں پہچان سکتی تھی. …. گاگلز اتار کر ہاتھ میں پکڑ لیئے خود کو نارمل کرتی وہ پیچھے مڑی تھی. … آج ہفتے بعد اسے دیکھ ری تھی. …. گرے تهری پیس پہنے بالوں کو جیل سے سیٹ کیئے وہ ہینڈسم لگ رہا تھا. …مگر آنکھوں سے نیچے حلقے بهی موجود تھے جو اس کی رت جگیوں کی داستان سنا رہے تھے. …
ہائے. … کیسی ہو ہیر. …کتنی کالز کی. …. کتنے میسجیز کیئے. …. کوئی رسپانس نہیں دیا. … فارس نے اس کے سامنے آتے ہوئے کہا. …
بزی تھی. … ماہا نے اس کے بجائے سامنے دیکھتے ہوئے کہا. ..
زرا خیال نہیں ہے میرا. …. کتنا پریشان رہا میں ایک رات بهی سکون سے سو نہ سکا. … فارس اب بھی اسے دیکھ رہا تھا. …
نہیں ہے مجھے تمہارا زرا بهی خیال. …میری طرف سے بهوڑ میں جاو. ..مجھے نہیں فکر تمہاری. … جو کرنا ہے کرو. …. ماہا نے سخت لہجے میں کہا تھا. …. فارس اسے دیکھتا ہی رہا. …
مجھے پتا ہے. ..تم محبت کرتی ہو مجھ سے. ….مگر کوئی وجہ ہے جس کی وجہ سے بولتی نہیں ہو. ….. فارس نے ماہا کو دیکھتے ہوئے کہا. ….
خوشفہمی ہے تمہاری. ..کہ…..میں تم سے محبت کرتی ہوں. … میں کوئی محبت نہیں کرتی تم سے بلکے نفرت کرتی ہوں. …. شدید. ….. اور میں نے صرف اور صرف تمہیں اپنے ایک مقصد کے لیے استعمال کیا ہے. …. تمہارے قریب آئی. ….. تمہیں خود سے محبت کروائی. …. یہ میرا مقصد تھا. …. اور مجھے لگتا ہے کہ وہ اب تقریباً مکمل ہوگیا ہے اور مجھے اور خوار نہیں ہونا. ….. ماہا نے سٹاپ. .. نفرت کی بھر پور لہجے میں کہا تھا. ..
ن نہیں. ..ت تم جھوٹ بول رہی ہو. ….میں نے تمہاری آنکھوں میں دیکھی ہے اپنے لیے محبت. … اور آنکھیں تو. .تو جھوٹ نہیں بول سکتی نا. ..مجھے سمجھنے کی کوشش کرو. ..ہیر پلیززز. …. میں کئی دنوں سے سہی سے سو نہیں سکا. …. م مجھے بتاؤ تم تمہیں مجھ سے کیا مسئلہ ہے. ..یا. ….میرے پرنٹس سے. ….. دیکھو بابا کو تو چھوڑ سکتا ہوں. …..مگر دیا اور موم کو نہیں. …. پلیزززز …..ہیرر ….پلیزززز تھوڑا. … تھوڑا تو کمپرومائز کرلو. ….مجھے قبول کرلو. ….میں. …میں کیسے. …یار کیسے رہوں گا تمہارے بغیر. ….یارررر. …. فارس نے اسے دونوں بازوؤں سے پکر کر خود کے قریب کرتے ہوئے کرب سے کہا. …. اس کی آنکھیں ضبط سے لال ہوچکی تھی. ….مگر مقابل بلکل بے حس تھا. … یا اسے بنا دیا گیا تھا. ….
سب سے پہلے تو مجھے یہ ….ہیر. .ہیر کہنا بند کرو. …نہیں ہے میرا نام ہیرر. … سب جھوٹ تھا. …سب. ….. دوسری بات، میری اب کوئی شرط نہیں ہے. ..مجھے نہیں رہنا تمہارے ساتھ. … نہ چھوڑو اپنی موم دیا اور. … سوکولڈ بابا کو. ….
انف …… یہ کیسے بات کررہی ہو تم میرے فادر کے بارے میں. … کچھ پتا بھی ہے تمہیں. .. فارس نے جھٹکے سے اسے پیچھے کی طرف دهکا دیا تھا. ..جس سے وہ دو قدم پیچھے ہوئی تھی. ..
فادر. …..ہہاہہہہہہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہ. …. سیریسلی یار. …ہاہاہاہاہا فادر. ….. تمہارے باپ کو مطلب آتا ہے اس لفظ کا. …. کبھی احتیاطاً پوچھ لیا. ..مجھے تو نہیں لگتا. …… فارس تمہارا باپ ایک. … زانی ہے….. ایک قاتل ہے. …. تمہارے باپ کے کئی عورتوں کے ساتھ. …….
چٹاخ. …… فارس کا ہاتھ اٹھا اور ماہا کے سفید چہرے پر نشان چھوڑ گیا. …..
وہ تهپر سے بے اختیار دو قدم پیچھے ہوئی تهی. .. ایک ہاتھ چہرے پر رکھے بے یقینی سے زمین کو گھور رہی تھی. ….. نیلی آنکھیں لال آنگار ہوگئی تھی. … بال آدھے چہرے پر آئے تھے. …. 20 سال کی زندگی میں یہ پہلا تهپر تھا. …..
نازوں پلی لڑکی … اسے آج پبلک پلیس پر پهپر پرہا تھا. …. کئی لوگ رک گئے تھے. … تقریباً سبھی انگریز تھے تو انہیں سمجھ نہ آسکا کہ کیا بول رہے تھے وہ دونوں. ….
ایک دم جیسے اس کا سکتا ٹوٹا تھا. …. چہرے سے ہاتھ اٹھا کر اس نے دیکھا تھا. …. ایک تنزیہ. …. کرب. .. ازیت سے بھر پور مسکراہٹ اس کے چہرے پر رینگ گئی. … ڈمپل نمودار ہوگئے. … وہ کچھ قدم کا فاصلہ مٹا کر فارس تک آئی تھی. …جو ایک ہاتھ کمر اور دوسرے اپنے منہ پر پهیر رہا تھا. .. اسے احساس ہوا تھا. … اس نے بہت غلط کیا تھا. ..
س سوری. .. ہیر. ..وہ میں. …
ماہا شہریار سلطاں. … نام ہے میرا. .. اپنے باپ سے پوچھا. … شہریار سلطان. … اور مہوش سلطان کون تھے. … انہی کی بیٹی ہوں میں. … آگے وہ اچھا سمجھائیں گے. … ماہا نے اس کی بات درمیان میں ہی کاٹ کر کہا. … دوسرے ہاتھ سے آنسو صاف کرتی وہ مڑ گئی تھی. …….. وہ واپس مڑی تھی اور اس کے قریب آئی …
ہاں کرتی ہوں تم سے محبت. …. بلکہ اسے محبت نہ کہو. … غلطی ہے میری زندگی کی سب سے بڑی. … جس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا مجھے باقی زندگی. … اور میرا اتنا بڑا ظرف نہیں کہ اپنے ماں باپ کے قاتل کے ساتھ زندگی بسر کروں. .. ایک قاتل کے خاندان میں جائوں …. اس لیے میں یہاں سے جا رہی ہوں دور. ….. بہت دور. …. اور ہاں مجھے کبھی موقع ملا تمہارے باپ کو اپنے ہاتھوں سے ختم کروں گی. …. دیکھنا تم. … وہ کہتے مڑ گئی تھی. …. دور جارہی تھی. ..بہت دور. …
شہریار سلطان. … اس نے زیر لب کہا. .. فارس تو سناٹوں کی زد میں آگیا تھا. ….. اس نے یہ نام بچپن میں کہی بار سنا تھا. ….وہ گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھتا چلا گیا. .. … وہ شدت سے دعا کررہا تھا جو وہ سوچ رہا ہے وہ زرا بهی سچ نہ ہو. ….. ماہا نے محبت کا اظہار کیا تھا. …. مگر کیسے. …. اس سے بچھڑ کر. …. ایک ازیت بڑی مسکراہٹ اس کے چہرے پر رینگ گئی. …..
مجبور ہو کر. …
لاچار ہو کر. …
غم سے دوچار ہو کر. ..
کچھ کرنا چاہیں..
کر نہ سکیں…..
مرنا چائیں. …
مر بهی نہ سکیں