Tu Bewafa Na Tha by Sandal readelle50033 Episode 06
Rate this Novel
Episode 06
کدهرررر ، کدهر جا رہی ہو ابھی ، احمر نے اسے امیر کے آفس سے سیدھا باہر پارکنگ ایریا کی طرف جاتا دیکھ کر پوچھا، ،
میں گھر جا رہی ہوں ، تم لوگ بعد میں آجنا، مایا کا موڈ کافی خراب ہو گیا تھا ازمیر کو دیکھ کر اسی لئے وہ گھر جانا چاہ رہی تھی، ،
کیا مطلب کہ گھر جا رہی ہو ابھی تو 10 بج رہے ہیں اور تو گھر میں میں کائی نہیں ہوگا ، ماہا بھی گئی ہوئی ہو گی ، احمر نے بغور اس کو دیکھتے ہوئے کہا ،
یار پلیززز احمر میرا سر درد سے پھٹ رہا ہے میں کچھ ریسٹ کرنا چاہتی ہوں اور پلیزز تم جاؤ میں اکیلا رہنا چاہتی ہوں ، مایا باہر کی طرف بڑھتی ہوئی بولی،
ہممم اوکے جاو ، مگر پلیزز ڈرائیونگ آرام سے کرنا یا، ، یا تم ڈرائیور کے ساتھ چلی جاؤ ، مجھے تم ٹھیک نہیں لگ رہی ،
کیا مطلب کہہ نہیں ہوں میں ٹھیک ، زندہ ہوں میں نہیں ملتی جلدی ، اور اگر تمہیں لگ رہا ہے کہ میں اس کو دیکھ کر پریشان یا پاگل ہو رہی ہوں تو تم یہاں غلط ہو ، اور میری زیادہ فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے ، میں خود ہوں خود کے لیے ، دوبارہ یوں جهے روک کر کچھ نہیں بولنا، جا رہی ہوں ، بائے
مایا پہلے ہی ازمیر کو کو دیکھ کر غصے سے پاگل ہو رہی تھی اور اب احمر کا یوں آکر روکنا اسے کافی غصہ دلا گیا ، اسے پتا ہی نہیں چلا وہ کیا بولتی رہی،
وہ بول کر رکی نہیں تھی،
چل یار چھوڑ نا ، جانتا تو ہے کہ کتنی نفرت کرتی ہے وہ ازمیر سے اسے سامنے دیکھ کر غصہ ہو گئی تو دل پر نہ لے ، مزمل نے سن لیا تھا مایا کو احمر سے بات کرتے ہوئے تب ہی احمر کو دلاسا دینا چاہا ، اسے بھی کہیں نہ کہیں شک تھا کہ وہ مایا کو پسند کرتا ہے ،
نہیں یار مجھے کیوں بڑا لگے گا، پہلی دفعہ تو اس نے ایسے بات نہیں کی ، چل اب میں ہوں ادھر تو جانا چاہتا ہے تو جا اپنے آفس ، احمر نے پہلے ڈهٹوں کی طرح پھر کچھ یاد آتے ہوئے کہا، ،
ہاں یار تو دیکھ اب ادھر جو کام ہم نے کرنا تھا وہ ہو گیا ہے ، اور دیکھنا کچھ غلط نہ ہوجائے کافی چالاک بندہ ہے ، ہمیں کافی ہوشیاری سے چلنا ہو گا ، صرف دو مہینے ہیں ہمارے پاس، تو اب جا دیکھ دیکھ کوئی بات ہو تو مجھے کال کرینا ، مایا پہلے ہی کافی غصے میں ہے، اور ماہا پتا نہیں کدهر تک پہنچی ہوگی ، مزمل نے اسے دیکھ کر کیا، ،
ہاں میں تو اسے بھول ہی گیا تو کال کر کے پوچھ گئی ہے کہ نہیں، احمر نے کچھ سوچتے ہوئے کہا،
تیرے اس دماغ میں کچھ پڑتا ہے کہ نہیں، بتایا بھی تھا کہ اسے کال نہیں کرنی ، اب دوبارہ نہ بھول جائی، اور اب بیٹھ جا کر اندر مجھے کام ہے کچھ اپنے آفس میں، مزمل نے اسے یاد دلاتے ہوئے کہا،
ہاں ٹھیک تو جا ، احمر نے کہا تو وہ بھی باہر نکل گیا، احمر دوبارہ آفس میں آگیا اسے بالکل بھی اچھا نہیں لگا تھا کہ مایا ازمیر کے پاس گئی تھی، مگر وہ کچھ کر بھی نہیں سکتا تھا ، وہ جانتا تھا کہ جب تک وہ تینوں اپنے ماں باپ کی موت کا بدلہ نہ لیں لیں وہ سکون سے نہیں رہ سکیں گے ، اس لیے وہ خاموش تھا ، ،
اس نے تکلیف سے آنکھیں بند کر لیں ،
♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥
ہیلو ، کیا آپ مجھے بتا سکتی ہیں کہ فارس صدیق کا آفس کہاں ہے ، وہ اس وقت فارس کی کمپنی میں کھڑی تھی،
یسسس میم بٹ آپ کس سلسلے میں ان سے ملنا چاہتی ہیں، کاونٹر پر کھڑی لڑکی نے کافی عزت سے اس سے انگلش میں پوچھا، ،
میں نے نیوز پیپر پر ایڈ دیکھا تھا کہ آپ کو پرسنل سیکرٹری کی ضرورت ہے تو اسی لیے آئی ہوں، ماہا نے بھی اسے اسی کے انداز میں نرمی سے جواب دیا،
اوکے میم تھرڈ فلور پر فرسٹ روم ان کا ہے اور سیکرٹری کی بھی انہی کو ضرورت ہے ، آپ جائیں ان سے مل لیں، اس لڑکی نے کافی عزت سے جواب دیا،
ہمم اوکے شکریہ بہت ، ماہا نے سمائل پاس کرتے ہوئے کہا ، جس سے اس کے دونوں گال پر پڑتے ڈمپل گہرے ہوئے ، کسی کو اپنا دل اس کے ڈمپل میں ڈوبتا محسوس ہوا ، وہ اس سب سے انجان لفٹ کی طرف بڑھ گئی، اوپر کھڑا نفوس بھی واپس اپنے آفس میں آگیا،
فارس آفس میں آکر اپنی چیئر پر بیٹھ گیا، وہ ابھی باہر نکلا تھا ، کسی کی کال آرہی تھی جب اچانک اس کی نظر نیچے کاونٹر کے پاس کھڑی لڑکی پر پرہی ، وہ لڑکی اسے پہلی نظر میں ہی بہت خوبصورت لگی پھر اچانک وہ مسکرائی اس کے ڈمپل دیکھ کر ، فارس کے دل میں اچانک آنے چھونے کی خواہش ابرهی، وہ ان کی آواز تو نہیں سن سک رہا تھا، جب اسے لفٹ کی طرف جاتا دیکھا تو آفس میں آگیا اسے پتا تھا کہ وہ ادھر ہی آئے گی کیونکہ ادھر اوپر اور کوئی آفس نہیں تھا ، وہ ابھی انہی سوچوں میں گم تھا جب دروازہ ناک ہوا ، فارس کی ایک بیٹ مس ہوئی،
یس کم ان ، وہ خود کو لیپ ٹاپ میں مصروف ظاہر کرتے کہا ،
وہ چلتی چلتی اس اور اپنے درمیان فاصلے ختم کر دی تھی ، اس کہ ہیل کی آواز خاموشی میں گونج رہی تھی، فارس کی نظر اچانک اٹهی ،
بلیو جینز پر سٹائلش سی لائٹ بلیو کلر کی شرٹ پہنے جس کے بارہ تو بالکل ہی نہیں تھے، اس کی گردن اور سفید بازو پورے نمایاں ہورہے تھے، سلور کلر کی ہائی ہیل پہنے ، لمبے کالے بالوں کو کھلا چھوڑا جس کی وجہ سے اس کی نگی کمر چھپ گئی تھی، ایک ہاتھ میں فائل دوسرے میں ، لیٹیسٹ آئی فون اور اپنے گاگلز پکڑے اسی کی طرف بڑھ رہی تھی، فارس ٹکٹکی باندھے ہوئے اسے ہی دیکھ رہا تھا اسے کسی چیز کا بھی ہوش نہیں رہا تھا،
ہیلووو سر آر یو اوکے ماہا نے اس کے آگے ہاتھ لہڑاتے ہوئے کہا، ایمپریس تو وہ بھی ہوئی تھی اس سے ، گرے ٹو پیس، ساتھ بلیک شرٹ پینے، بهورے بالوں
کو جیل سے سیٹ کیے ، وہ پیکچر سے زیادہ خوبرو تھا ، اپنی سوچ پر دو حرف بیجتی وہ فارس کی طرف متوجہ ہوئی جو اسے ہی تار رہا تھا،
یسس آئے ایم اوکے، پللیزز سٹ، اس نے خود کو سنبھالتے ہوئے ماہا کو بیٹھنے کا کہا جو کب کی کڑی تھی،
سر میں ہیر سلطان ، یہ سرر میرے ڈاکومنٹ، میں نے ایڈ دیکھا تھا کہ آپ لوگوں کو سیکرٹری کی ضرورت تھی تو تب میں آئی، ماہا نے اس کے سامنے اپنی جعلی فائل کرتے ہوئے کہا ،
آپ کیوں کرنا چاہتی ہیں جاب ، میرا مطلب کہ ضرورت ہے یا شوق، فارس فائل چیک رہتے ہوئے بولا وہ اسے دیکھنے سے ڈر رہا تھا ، وہ سب بھول جاتا تھا اسے دیکھ کر،
نہیں سر مجھے سوق ہے اس لئے، ماہا نے بغور اسے دیکھ کر کہا،
پھر کچھ باتوں کے بعد وہ وہاں سے آگئی تھی اسے کل سے ہی جائوان کرنا تھا،
ہیر سلطان، کیا لڑکی ہے ، مطلب اتنی خوبصورت ، اس کے جاتے ہی فارس اسے سوچنے لگ گیا ، اتنی دوری پہ بھی_قُربت کا یہ عالم توبہ
پاس ہی دل کے کوئی بول رہا ہو جیسے….
♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥
یار دیا آگے کا کیا سوچا ہے مطلب پیپرز کے بعد، جیسکا نے اسے دیکھتے ہوئے کہا ،
کیا سوچنا ہے ، بتایا تو ہے کہ جاب کا شوق ہے وہی کروں گی، دیا نے فاک پلیٹ میں رکھتے ہوئے کہا،
وہ اس وقت ریسٹورنٹ میں بیٹھے ہوئے تھے، آج ان کا دوسرا پیپر تھا، پیپر کے بعد ہانیہ اور جیسکا کی کافی اصرار پر وہ آہنگی تھی ، وہ بیٹی لنچ کر رہی تھی ،
پتا نہیں یار دیا تمہیں اوریا ہانیہ کو کیا شوق جاب کا سب تو ہے تم لوگوں کے پاس، اب فری رہو میری طرف میں نے سوچا تھا کہ پیپرز کے بعد ترکی جائیں گے گھومیں گے انجوائے کریں گے لیکن نہیں جی تم دونوں کو جاب کا جنون ہے ، جیسکا نے منہ بناتے ہوئے کہا ،
اس کے کافی دفعہ ان دونوں کو کہا کہ پیپرز کے گھومنے جائیں گے لیکن ان دونوں کا کہنا تھا کہ وہ جاب کریں گی م تب سے جیسکا انہیں بات بات پر سنائے جاتی تھی،
یار چلیں گے نا تمہارے ساتھ بھی ابھی تو موڈ ٹھیک کروں، ہانیہ نے بات سنبھالتے ہوئے کہا
یار چلو اب مجھے لگ رہا ہے کہ کوئی کب سے دیکھ رہا ہے مجھے ، اب اٹهو، دیا نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے کہا لیکن سب ہی خود میں مگن تھے مجال ہو جو کوئی اسے دیکھ رہا ہو،
کیا ہوا دیا تم ٹھیک ہو، کون دیکھ رہا یہاں تو سبھی اپنے کام سے کام کررہے ہیں تمہیں کون دیکھ رہا ہے، ہانیہ نے پریشان ہوتے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے کہا ،
یہی تو مسئلہ ہے یار کافی دنوں سے لگ رہا ہے کہ کوئی ٹرپ کررہا ہے ، اور اس دن کلب میں ……… پھر اس نے ساری بات بتا دی ان دونوں کو ، پہلے تو اس نے سوچا تھا کہ وہ ان دونوں کو پریشان نہیں کرے گی لیکن اب وہ کافی پریشان ہوگئی تھی ، تب ہی اس نے ساری بات بتا دی ان دونوں کو،
تم فکر نہ کرو اب پتا لگانے کی کوشش کریں گے ، نہیں تو تم اپنے بھائی کو بتا دینا،
جیسکا نے اسے مطمئن کرنا چاہا،
ہممم ٹھیک کہہ رہی ہے جیری، تم فارس بھائی کو بتا دینا اگر دوبارہ ایسا کچھ ہوا تو ، ہانیہ نے بھی جیسکا کی بات میں ہاں میں ہاں ملائی،
ہمم چلو بل پے کرو اور چلو گھر ڈراپ کروں تم دونوں کو ، دیا نے اٹھتے ہوئے کہا، وہ دونوں بھی دیا کے ساتھ اسی کی گاڑی میں آتی جاتی تھی کیونکہ یہ دیا میڈم کا حکم تھا سو انہیں ماننا پڑا، وہ بل پے کر کے بکل گئی ،
پیچھے مزمل نے چہرے سے ماسک ہٹایا اور کرسی کے بیک سے ٹیک لگا لی ،
اس نے دیا کے پیچھے اپنے بندے لگائے ہوئے تھے ، جن سے اسے پتا چلا کہ دیا ریسٹورنٹ میں ہے ، تو وہ احمر کو آفس میں ہی چھوڑ کر ادھر آگیا،
شب کو شب نہیں، دن کو رات کہتے ہیں
ہم فقط اپنی مرضی کی بات کہتے ہیں
چھوڑو پیار کی باتیں، عشق کے قصے
ایسی باتوں کو ہم خرافات کہتے ہیں
وہ جو ہم نے کھایا وہ تو دھوکہ تھا
مگر جو آپ کو ملا اسے شہ مات کہتے ہیں
ہم نہیں رکھتے کسی سے وفا کی امید
ہم جہاں رہتے ہیں اسے اوقات کہتے ہیں
وہ جو وفا کہ بدلے جفا دیتا ہے
سادا لفظوں میں اسے بدزات کہتے ہیں
♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥ کیا ہوا ماہا تم ٹھیک ہو، اور گئی تھی آج، مزمل ئے ماہا کو پول کے پانی میں پاوں ڈالے بیٹهی ہوئی نجانے کیا سوچ رہی تھی جب مزمل اس کے ساتھ آکر بیٹھ گیا،
ہممم گئی تھی ، مل گئی ہے جاب بھی فارس کی سیکرٹری کی کل سے جانا ہے، ماہا نے اس کو دیکھتے ہوئے کہا،
ہممم چلو یہ تو ٹھیک ہوگیا ، بس تم اپنا خیال رکھنا اور یاد رکھنا کہ کیوں گئی ہو ادھر ، مزمل سامنے دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے کہا،
ہممم میں تو یاد رکھوں گی ، خیر تم بتاؤ کدھر تھے دن کو ،، مطلب احمر بتا رہا تھا کہ تم اسے چھوڑ کر پہلے ہی آگئے تھے، ماہا بغور اس کو تکتی پوچھ رہی تھی،
میں … ہاں میں آفس چلا گیا تھا کام تھا ادھر کچھ، مزمل نے خود کو نارمل ظاہر کرتے ہوئے کہا،
اچهاااا،…. ! ماہا اب بھی اس کے چہرے پر نظریں جمائے ہوئے تھی، اسے پتا چلا تھا کہ مزمل پر اس لڑکی کے پیچھے گیا ہے، وہ تب سے پریشان تھی مزمل کے لیے، اور اب مزمل کا جھوٹ بولنا،
وہ خاموشی سے ادھر سے آٹھ گئی ، مزمل ادھر ہی بیٹھا رہا میرا عشق ہو. ….
تیری زات ہو. ……
پھر حسن عشق کی بات ہو…..
کبھی میں ملوں…..
کبھی تو ملے….
کبھی ہم ملیں ملاقات ہو. ….
کبھی تو چپ ہو….
کبھی میں ہوں چپ. ….
کبھی ہم دونوں چپ چاپ ہوں. …
کبھی گفتگو…….
کبھی تذکرے….. ….
کوئی زکر ہو….. …
کوئی بات ہو. ……
کبھی ہجر ہو تو وہ دن ہو….
کبھی وصل ہو تو وہ رات ہو……
کبھی میں تیرا. .کبھی تو میری….
کوئی اک دوجے کے ہم ہوں. …
کبھی ساتھ میں….
کبھی ساتھ تو…….
کبھی آپ دبے کے ساتھ ہوں. …..
کبھی صعوبتیں. …
کبھی رنجشیں. …
کبھی دوریاں. ……
کبھی قربتیں. …..
کبھی جیت ہو…..
کبھی ہار ہو……..
کبھی پھول ہو……
کبھی دھول ہو…….
کبھی یاد ہو………
کبھی بھول ہو……..
نہ نشیب ہوں………
نہ اداس ہوں…………
صرف تیرا عشق ہو. …
صرف میری زات ہو…..
