62.3K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 15

گرے ٹرائوزر گرے ٹی شرٹ پہنے بالوں کو ماتھے پر گرائے ہاتھ میں کافی پکڑے آپے کمرے سے منسوب بیکلونی میں کھڑا مسلسل مایا کے بارے میں سوچ رہا تھا. . آج رات دو بارہ بجے کی فلائیٹ تھی وہ اب مایا کے ساتھ آنا چاہتا تھا اسے اپنا بنا کر. … وہ مایا سے دستبردار نہیں ہونا چاہتا تھا. ..کسی قیمت پر بھی نہیں. …

کافی کا مگ ادھر ہی چھوڑ کر اندر کمرے میں آگیا. … کچھ سوچتے واپس مڑا تھا کافی کا مگ اٹھا کر اسے گھورتا رہا. ..پھر اسے لے کر کمرے سے باہر کی کچن کی طرف چلا گیا. ….. وہ ابھی سٹڈی کے پاس سے گزر رہا تھا جب اسے سٹڈی میں سے سسکیوں کی آواز آئی ….وہ حیران ہوا تھا… ابھی اسے لورا نے بتایا تھا کہ اسلم ملک اور ہما کہیں گئے ہیں. … تو پھر کون تھا سٹڈی میں. ….
اس نے سٹڈی کی طرف قدم بڑھا دیئے. …. دروازہ دھیرے سے گھولتا اندر گیا تھا. … رولنگ چیئر کی اس کی طرف پشت تھی. .. وہ دیکھ نہ سک رہا تھا کہ کون ہے … دھیرے دھیرے قدم اٹھا کر چیئر تک پہنچا تھا. …. اسے شدید قسم کا دھچکا لگا تھا. ……
ہما نائیٹ گائون پہنے چیئر پر آنکھیں میچی نیٹهی تھی. … چہرہ آنسوؤ سے تر تھا. …. بکهرے سے حال میں. …. اس نے آج تک اپنی موم کو کبھی اس حال میں نہیں دیکھا تھا. ….. اس سب سے زیادہ اسے ایک اور چیز نے حیران کیا. …. ہما امیر کی فوٹو سینے سے لگائے ہوئی تھی. …..
امیر نے حیرت سے ادھر ادھر دیکھا. … کئی تصویریں تھیں …. بچپن کی. .. بڑے ہونے کی. …. بلکہ ہر عمر کی. …… اس سے بھی زیادہ حیران وہ اس لیے ہوا اس نے ان میں سے کسی تصویر کے لئے پوز نہیں دیا تھا. … مطلب وہ تصویریں چهپ کر لی گئی تھی. … اسے خوشگوار حیرت ہوئی. …مطلب اس کی ماں اسے چاہی تھی. …. وہ بے اختیار ان کے پاس نیچے بیٹھ کر اپنا سر ان کی گود میں رکھا تھا. ……..
موم جب میں زندہ ہوں تو مجھے گلے لگایا کریں نہ. ….. تصویر کو کیوں. ….. کسی بچے کی طرح خواہش کی تھی. ….
وہ ایک دم ہوش میں آئی. …. بے بقینی سے گود میں سر رکھے امیر کو دیکھا. ….. آنکھوں سے کئی آنسو ٹوٹ کر گرے تھے. ….
موم کیا مسئلہ ہے. …مجھے بتائیں نا. … میں جانتا ہوں آپ مجھ سے پیار کرتی ہیں مگر پھر خود سے دور کیوں کرتی ہیں. …موم پلیزززز مجھے بہت ضرورت ہے آپکی. ..پلیززز موم کچھ تو کہیں. …. وہ آج جاننا چاہتا تھا کہ ہما اسے نظرانداز کیوں کرتی تھی. ….
وہ تلخی سے مسکرائی تھی. …تلخ مسکراہٹ…. ازیت سے بھر پور. …. آنسو بہہ رہے تھے. …..
ماضی. …… ♥♥♥♥
عروسی جوڑے میں ملبوس. .. وہ سیج پر بیٹھی. … اپنے مجازی خدا کا انتظار کررہی تھی. …. کافی دیر گزر گئی تھی کوئی نہ آیا. …
ہما کے والد. … عباس. … ہارٹ پیشنٹ تھے. ..ماں پہلے ہی مڑ گئی. … عباس چاہتے تھے. …وہ اپنی زندگی میں ہی ہما کو اس کے کهر دیکھ لیں. …. اور پھر انہوں نے اپنے دوست کے بیٹے اسلم کے ساتھ ان کا نکاح کردیا ہما باپ کی خوشی میں خوش تھی. …. … پھر نکاح کے کچھ دن کے بعد وہ بھی اسے چھوڑ گئے. … پھر کچھ ہی دنوں بعد. .. اسلم کے گھر والے اے رخصت کر کے لے آئے. ….
وہ سوچوں میں گم تھی جب دهڑم کی آواز کے ساتھ دروازہ کھلا. …. اس کی نظر دروازے کی طرف اٹھی تھی. … حیرت سے وہ اپنے ہمسفر کو دیکھ رہی تھی جو. .. ہاتھ میں وائن کی باتل لیے. …. نشے میں دھت. .لڑکھڑاتے اس ہی کی طرف بڑھ رہا تھا. .. ہما کا دل کامپا تھا. ….
مہوش. …میں نے کہا تھا نا تم آو گی میرے پاس. …. دیکھو تم میری ہوگئی ہو. ….ہمیشہ کے لیے. ….. وہ لڑکھڑاتے ہوئے اس کے قریب ہی بیڈ پر گر سا گیا. .. اسے ہما میں بی مہوش نظر انہی تھی. …. ہما تو ہونقوں کی طرح اسے دیکھ رہی تھی. .. جو اسے کوئی اور لڑکی سمجھ رہا تھا. …. آنسو آنکھوں میں آرے تھے اس نے اٹھا چاہا مگر اسلم نے کلائی سے پکڑ کر جھٹکا دے کر بیڈ پر گرایا تھا اور خود اس پر جھکا تھا. …. ہما کی جان لبوں پر آگئی تھی. …. تو کیا وہ نشے میں. .. کوئی اور لڑکی سمجھ کر آ سے رشتہ بنا رہا تھا. ….
ی یہہ …پیوو. … بہت. ..سکون م ملتا ہے اسے پی کر. … تمہیں بھی ملے گا اسے پیو گی تو. … …. وائن کی بوتل زبردستی اس کے منہ میں انڈیل کر خالی باتل دور پھینکی تھی. …ہما تڑپ رہی تھی. … وہ اس وحشی سے دور ہونا چاہتی تھی. …. اسے پیچھے دھکیلنا بھی بے قار ہوگیا. …. دوپٹہ اس کے وجود سے دور کرتا. …. . اسے درندگی کا نشانہ بنا رہا تھا. ..ہما تڑپ رہی تھی. … چینخ رہی تھی. …. مگر کوئی نہیں تھا. …. جو اسے اس وحشی سے بچاتا. …. وہ خود بھی ہوش گهوتی جا رہی تھی. ….. مگر. ..تکلیف. … درد … درندگی. … اپنے وجود پر محسوس کر سک رہی تھی. …. … اسے اپنی درندگی کا نشانہ بنا کر اس پر سے ہٹ گیا تھا. ….
پھر ازمیر پیدا ہوا سا بعد. … اس کا نام بھی مہینے بعد کها. ….. ہما جب جب ازمیر کو دیکھتی اسے پھر سے اپنی زندگی کا سب سے ہیانک باب یاد آتا …. تو انہوں نے امیر سے دور رہنا شروع کر دیا. …. اسے ملازموں کو دے دیا. …. وہ شادی کے تین مہینے بعد. ہی لندن آئے تھے. ….. اسلم نے اپنی غلطی کا کبھی اعت اعتراف نہیں کیا. .. انہیں ازمیر سے کوئی لگاو کبھی ہوا بھی نہیں. …. انہیں یاد تهیی تو صرف مہوش
یہ الگ بات ہے کہ جدا ہوئے تجھ سے
مگر کون کہتا ہے تیری فکر سے بھی جدا ہوئے
وہ دونوں ہاتھ میں کافی لیے سڑک کے کنارے چل رہی تھیں. ……… ہلکی ہلکی بارش اور ہوا ہورہی تھی. ….. موسم سرد تها. …. کافی لوگ انہی کی طرح ہاتھوں میں کافی کے مگ لہیئے موسم انجوائے کررہے تھے. …
سحر کا چہرہ سٹاپ تها. ….. البتہ مایا کسی سوچ میں گم تھی. ….
آئے کانٹ بلیو. ….. یار میں سوچ بھی نہیں وہ اتنآ گر سکتا ہے. … اتنا. ..مطلب. … مایا کی سمجھ میں نہیں آریا تها کیا کہے وہ. …. سحر کی تکلیف تو اس سے بھی بڑی تھی. …
تمہیں پتا ہے. ..ایسے لوگوں کو جینے کا کوئی حق ہے ہی نہیں. … چلو یار ایک بندہ گناہ کرلیتا ہے. … ٹھیک ہے. … غلطی. ..گناہ کسی سے بھی ہو سکتا ہے. .. مجھ سے بھی نجانے کتنے گناہ ہوئے ہوں گے. … یا جو میں اب کررہی ہوں وہ ٹھیک ہے کہ نہیں. ….. لیکن وہ. …. وہ باسٹرڈ مانتا بھی نہیں. …. وہ اپنے گناہ کو گناہ میں شمار نہیں کرتا. ….. صرف میں ایک ہی اس دنیا میں نا جائز اولاد نہیں ہوں. … میرے علاوہ نجانے کتنے بچے ہوس کی نشانی ہیں. … وہ تو شاید میری موم کی نیکی کوئی ان کے کام آگئی جو انہیں اتنی تکلیفیں نہیں سہنا پڑی. …. میں در بدر نہیں ہوئی. ….. مگر ہر کسی کی قسمت ٹھیک ہے یہ ضروری تو نہیں. …. وہ وہ کمینہ اب بھی. … اس عمر میں بھی. .. عیاشی نہیں چھوڑتا. …. اس کے اب بھی کئی لڑکیوں کے ساتھ تعلقات ہیں. … مجھے گن آتی ہے اسے اپنا باپ کے ہوئے. ….. مگر وہ ہنسی تھی. … تنزیہ ہنسی. …. مگر سچ بدل تو نہیں سکتا. ….. اب میں اسے بناتا چاہتی ہوں. … تکلیف کے معنی کیا ہیں. …. درد کیسے ہوتا ہے. …. ازیت کس بلا کا نام ہے. …. بہت جلد وہ جان جائے گا. … اور اگررر. …… اگر وہ مان لے اپنا گناہ. …. معافی مانگے مجھ سے میری ماں سے. …. اپنے گناہ کا اعتراف کرے تو. …. تو شاید میں اسے اس کے بچوں کے لیے معاف کر بھی دوں. ….مگر شاید. …. وہ دونوں اب ایک بنچ پر بیٹھ گئی تھی. …. کافی ٹھنڈی ہو گئی تھی. …. انہوں نے مگ سائیڈ پر رکھ دیئے، ….
سحر نے مایا کو ملنے کے لیے بلایا تھا. .. سحر کو مایا. … قابل اعتماد لگی تھی پہلی ملاقات میں. .ہی. ……. اس لیے اس نے مایا کو اپنے ساتھ ملانے کا سوچا کر دیا بجی اکیلی بی بہت کچھ سکتی تھی….. مگر پھر بھی مایا کو ساتھ ملایا. …. مایا. …. تو سحر کی بات. ….. صدیق خان. ..کے بارے میں سن کر سکتے میں آگئی. ..مطلب وہ صرف اسے کا گناہ گار نہیں تها. …. مایا نے بھی اپنے ماضی. … صدیق خان کے بارے میں سب بتا دیا. ……. حیران تو وہ بھی بہت ہوئی. ……
سحر ….. میرے پاس ایک آئیڈیا ہے. …. جس سے. … شاید صدیق خان کو کچھ فرق پڑے. …. اور جہاں تک بات ہے اسے معاف کرنے کی. …. تو سوری. …. تم اتنے ظرف والی ضرور ہوگی مگر میں نہیں ہوں. … میں اسے اس کے انجام تک پہنچا کر رہوں گی. .. چاہے اس میں میری کوئی مدد کرے کہ نا. …. ماہا اور مزمل تو….. کمزور ہوگئے ہیں. … ماہا جانا چاہتی ہے. …. اور آج. …. رات کی فلائیٹ سے ترکی جا رہی ہے. …. مزمل ہے میرے ساتھ. ..مگر میں جانتی ہوں. … وہ کمزور ہو گیا ہے. … وہ دیا کو چاہتا ہے. … اسے تکلیف دینا اس کے لیے مشکل ہے. …مگر پھر بھی وہ. …. میرا ساتھ دے گا. … مایا کے چہرے پر غصہ. … ازیت واضح تھی. وہ کسی ٹرانس میں بولے جا رہی تھی. …..
ہمممممم. …. تم ایسا کرو ماہا کو جانے دو. … اس کی جگہ میں تمہاری ہلپ کروں گی. …. وہ بھی سپیس لینا چاہتی ہے. … اور اسے سپیس دو. …. اور اسے پریٹنڈ کرو. …کہ اسے بیچ میں چھوڑ جانے پر شرمندگی نہ ہو. … دیکھو مایا. … جو تم نے بتایا. … ماہا کو کبھی محبت نہیں ملی. … ہاں گھر والوں کی ملی. ..مگر اسے بت مضبوط سہارے کی ضرورت تھی. … صرف اسے نہیں. .. تم تینوں کو. … اب جب اسے محبت ہوئی. … تو بھی اسے دستبردار ہونا پڑا ….. تکلیف دہ ہے یار. ….. مشکل ہے اس کے لیے. … تم لوگ اسے شرمندہ نہ کرنا. …. بلکہ اب جو کرنا ہوا ہم دونوں مل کر کریں گے. ….. تم چاہتی ہو تو…. مزمل اور احمر کو ساتھ رکھو. .مگر ماہا کو چھوڑ دو. …. سحر نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا تھا. …. وہ دونوں سامنے دیکھ رہی تھی. …..
تو. … اب کیا کریں. ….. بلکہ ایک کام کرتے ہیں. …. مایا اسے آگے اپنے پلین کے بارے میں بتاتی چلی گئی. ….
ہمممممم چلو پھر. …. دیکھتے ہیں. ..مگر اس کے لیے. …دیا کو باہر آنا ہوگا نا. … سحر نے مایا کے دیکھتے ہوئے کہا. …
رات کی تاریکی بهڑ رہی تھی. … اس سے پہلے وہ کچھ کہتی. … ایک مردانہ. … گھمبیر آواز نے دونوں کو اپنی طرف متوجہ کیا. …
ارے ازممیر تمم. … مگر تم نے تو رات کو آنا تھا. …. پھر جلدی کیسے. … مایا نے ہاتھ ملاتے ہوئے کہا. ….
البتہ سحر اس کے سحر میں جکڑ گئی تی. … بلیو پینٹ …. بلیک شرٹ. … پر لانگ. … بلیک شوز پہنے. …. بالوں کو ماتھے پر گراے. .. آنکھوں پر گلاگس لگائے. … وہ اپنی پوری وجاہت کے ساتھ اس کے سامنے کھڑا تھا. …..
مایا اسے پہلے ہی اسلم اور ازمیر کے بارے میں بھی بتا چکی تھی. ..مگر ازمیر کون ہے ے پتا نہیں تھا. .. اب مایا کے منہ سے ازمیر نام سن کر چونکی تھی. …..
ہاں مگر پھر جلدی آگیا. …. ازمیر نے گلاسز اتارے ہاتھ میں پکڑے ہوئے کہا. ….ہما نے اسے سب بتا دیا تھا. … اسے اپنے باپ سے اور نفرت ہوئی تھی اس کی وجہ سے اس کی ماں دور رہی. ….. وہ اپنے باپ کے بارے میں بھی بہت کچھ جان چکا تھا. ….. اس کا ماضی. … صدیق خان سے اس کی دوستی. … اور بی بہت کچھ. …
ارے آپ تو مجھے پہلے بھی ملی تھی. …. اس نے سحر کو دیکھتے ہوئے کہا جو اب سٹاپ چہرے کے ساتھ سامنے دیکھ رہی تھی. …
ہائے. …. مائے سلف سحر. … سحر نے مجبوراً ہاتھ ملاتے ہوئے کہا. …. یہ جان کر کہ وہ اسلم ملک کا بیٹا ہے اسے کافی دکھ ہوا. …. مگر وہ ایک مضبوط لڑکی تھی. …. اس کے جذبے پر کوئی فرق نہیں پڑا. ……
ہمممممم آئے ایم ازمیر. …. ہاتھ واپس کهنچ لیا تھا. … اب وہ مایا کو دیکھ رہا تھا. …. کتنا سکون ملا تھا اسے. ….. دل جهوم رہا تھا. …. بس اب بہت جلد تم میری ہوگی. … جان ازمیر. … ازمیر نے اسے دیکھتے ہوئے سوچا. …
اوکےےے چلو مایا تم لوگ ملتے رہو گے. …. ابھی چلو. …. کام ہے. .. سحر مایا کی طرف مڑتی گویا ہوئی. …
ہمممممم اوکےےے. … سی یو سون. … ازمیر سے دوبارہ ہاتھ ملاتی. … گاگلز لگاتی واپس مڑی تھی. …
ایکک منٹ. …. ازمیر اس کے سامنے آیا تھا. … پھر اس کی آنکھوں سے. .. گاگلز ہٹائی. ….
یہ. ….؟؟؟؟ تمہاری آنکھیں تو. ..گرین ہیں نا. … ازمیر کچھ سوچتے ہوئے بولا. ..
مایا کا رنگ اڑا تھا. … سحر بھی چانکی تھی. …
ہا ہاں. …. وہ. .. لینز ہیں نا یہ. … چلو اب لیٹ ہورہی ہوں بائے. .. خود پر قابو پاتے جلدی سے کہہ کر دوبارہ. .گاگلز لگا کر واپس مل گئی سحر بھی ازمیر کی طرف سمائیل پاس کرتی مایا کی طرف چل گئی. … مگر ازمیر کسی گہری سوچ میں پڑ گیا تھا. … وہ انہیں دور جاتا دیکھ رہا تھا. …..
بس بہت سہہ لی دوری اب میں یہ سارے فاصلے ختم کردوں گا. …. بہت جلد تم میری پناہوں میں ہوگی. .. آئے نو یہ غلط ہے. …. مگر تم سے دستبردار ہونا ناممکن. … جتنا مضبوط بن لوں. … تمہارے بغیر. …. ادھورا ہیں رہوں گا. ….. مشکل ہے ہیر. … اوپسسسس ہیر نہیں. ….. !!! وہ دلکشی سے مسکرایا تها. ….. وہ ابھی ہی پہنچا تھا. … مایا سے ملنے کی جلدی تھی تب ہی فلائیٹ جلدی کروائی لی. … ابھی وہ کافی پینے آیا تھا ہوٹل سے نکل کر. ..تب ہی اسے سحر نظر آئی. … وہ اس سے ہیلو ہائے کرنے آیا تھا. .. ساتھ مایا کو دیکھ کر حیران زرا نہیں تھا. …. کیونکہ وہ جانتا تھا. ..مایا کبھی بھی کچھ بھی کرسکتی ہے اسے سمجھنا مشکل تها. …وہ دوبارہ ریسٹورنٹ کی طرف بڑھ گیا. …..
ہاتھ تھامے ہوئے تنہائی کا
رقص کرتا تھا تنہا کوئی. .
میرا بچہ کیا ہوا ہے. .. فوزیہ بیگم دیا کے سامنے بیٹھتی ہوئی گویا ہوئی، ….
وہ بیڈ پر لیٹی. … کسی گہری سوچ میں گم تی ماں کی آواز سن کر چانکی تھی. ..
نہیں موم کچھ نہیں. .. بس دل نہیں لگ رہا کہیں. .. دیا سر ان کی گود میں رکھتی ہوئی بولی. …
میری بیٹی کے دل کو کیا ہوا. ….. فوزیہ بیگم اس کے سر میں ہاتھ پھیرتی. . بولی. …
کچھ نہیں موم. .. اس کا دل ہر چیز سے اچاٹ تھا. ….
چلو اٹهو. … تیار ہو مجھے. .. مال جانا ہے. .. ابھی اٹهو میرے ساتھ. .. وہ دیا کو باہر لے کر جانا چاہتی تھی تاکہ کچھ بہتر محسوس کرے. … بہانہ بنایا. …
موم بهیو کے ساتھ چلی جائیں نانا. . دیا ٹالنا چاہتی تھی اسے سچ میں کہیں جانے کا دل نہیں کررہا تھا. .
بهیو. .. تمہارا. … آفس کے کام میں مصروف ہے. .. اٹهو اب جلدی. ….
اسے زبردستی اٹھا کر واش روم بھیجا خود باہر نکل گئی. ….
کچھ دیر بعد دیا تیار ہو کر نیچے آگئی تھی. …. وائیٹ شرٹ پر وائیٹ لانگ کوٹ پینے. … بلیو جینز. .. وائیٹ سی سینکر پینے بالوں کو کھلا چھوڑے. … جھنجلائی ہوئی نیچے اتری. …
ارے گریا کدھر جا رہی ہے. .. تب ہی فارس سامنے آیا. ………
بیٹا. ..میں لے کر جا رہی ہوں. .. مال جانا ہے. ، تم ریسٹ کرو اب. .. ڈنر ساتھ کریں گیں. … جواب دیا کی جگہ فوزیہ نے دیا. ….
چلیں موم پهر دھیان سے جانا. … فارس کا دل تو نہیں چاہ رہا تھا انہیں جانے دے، مگر وہ بولا کچھ نہیں تھا. ..
دونوں باہر نکل گئی. …یہ جانے بغیر کہ کون سی قیامت ان کے انتظار میں ہے
اداکاری. … بڑا دکھ دے رہی ہے. .
میں. ….سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں. ..
Damn itttt.
اس کو ادھر ہی رکنا تھا. .. ادھر تو کوئی ہے بھی نہیں کس سے ہلپ لوں اب. …ماہا کی گاڑی اچانک روڈ کے درمیان رکی تھی. …. جگہ سنسان تھی. …. دور دور تک کوئی نظر نہیں آرا تھا. ..
وہ گاڑی سے نکلی تھی. … گاگلز اتار کر روڈ پر ہی پھینک دیئے. …
گاڑی سے ٹیک لگا کر کھڑی ہوگئی تھی. …. غصہ ناک پر تھا. … بلکہ اب وہ ہر وقت ہی غصے میں رہتی. … پهر کچھ سوچتے ہوئے واپس مڑی تھی. … گاڑی سے اپنا ریوالور نکال کر لوڈ کیا تھا. …. پهر اسے سامنے ہی گاڑی پر رکھ دیا ہے. … اور خود گاڑی سے ٹیک لگا کر کھڑی ہوگئی. ….
ابھی کچھ دیر ہی گزری تھی جب. …. اپنی گاڑی کے پیچھے ہارن کی آواز آئی. … وہ درمیان میں تھی اسی وجہ سے دوسری گاڑی آرام سے نہیں گزرا سکتی تھی. ..تب ہی ہارن دے رہی تھی. …
مگر وہ کان بند کر کے کھڑی تھی. … ہارن مسملل بج رہا تھا. … اس نے کافت سے آنکھیں بھی میچ لی. …..
تب ہی دوسری گاڑی سے وہ باہر نکلا تھا. …. گرے تهری پیس میں ملبوس. .. بالوں کو جیل سے سیٹ کیئے … اسے کی طرف بڑھ رہا تھا. ….
ہیلووو میڈم. …. یہ اپکا اپنا روڈ ہے جو درمیان میں گاڑی کھڑی کیے بلاک کیا ہوا ہے. ….. اپنی گھمبیر آواز سے اس سے مخاطب ہوا جس کی اسکی طرف پیٹھ تھی. …. ماہا نے نا محسوس انزاد میں پیسٹل اٹھا لیا تھا. …مگر بولی کچھ نہیں. .
وہ اب غصے سے اس کے سامنے آگیا. ….
اچھا میڈم اپنے شاید آنکھوں کے ساتھ ساتھ کان بھی بند کیئے ہوئے ہیں. .جو میری آواز نہیں ارہی.
وہ اسے پاکستانی لگی تھی تب ہی اردو میں بول رہا. ..
ماہا نے آنکھیں کھول تھی. …. اور سامنے موجود وجود. …. کچھ پل ساکن ہوگیا. … اپنا مکمل حسن شاید اس نے پہلی دفعہ دیکھا تھا. … اس کی نیلی جھیل سی آنکھیں اسے بہت اٹریکٹ کررہی تھی. ….
اسے ہوش ماہا کی آواز پر آیا. … اس کی آواز بھی اس کی طرح خوبصورت تھی. ..
گاڑی خراب ہوگئی ہے. …..
اووو نو پرابلم. ..میں دیکھتا ہوں. … تهری دیر میں اس نے گاڑی سٹاٹ کر دی تھی. … نظریں بار بار اس پر جا رہی تھی. ….
تھینکس مسٹر …ماہا نیچے سے گاگلز اٹھاتی بولی. ….
اپنے لینز لگائے ہوئے ہیں. …. اس نے جھٹ شے پوچھا کہیں وہ گاڑی سٹاٹ ہی نہ کرے
نہیں. .. یک لفظی جواب دے کر وہ گاڑی بھاگا کے لے گئی. …. پیچھے کھڑے وجود سے اس کی گاڑی کا نمبر نوٹ کیا تھا. ……..
نشہ تھا ان کی جھوٹی باتوں میں
وہ وقت گزارتے گئے ہیں عادی ہوتے گئے. ….
وہ تقریباً بھاگتا ہوا ہاسپٹل پہنچا تھا. .. ابی کچھ دیر پہلے ہی اسے کال آئی تھی. …. کہ ایک عورت اور لڑکی پر بڑی طرح تیزاب پھینک کر جلایا گیا ہے. … اور ڈیڈباڈیز کے پاس سے دیا کے موبائل سے کال کی تھی. …. اسنے کئی کال کی فوزیہ بیگم اور دیا کو مگر بے سود. ….. وہ ادھر پولیس سے بھی ملا تھا. ..جہاں واقعہ ہوا. … سی سی کی فوٹیج. ..میں واضح تھا. … وہ کوئی لڑکی تھی. …. جس نے ان پر تیزاب پھینکا. ….. اور فارس فوٹیج میں موجود لڑکی کی نیلی آنکھیں دیکھ سکتا تھا. …. چہرہ ماسک سے ڈهمپا تھا. پهر ماہا کی دھمکی اسے یاد آی کے وہ اس کی فیملی کو مار دے گی. …..
وہ ہاسپٹل پہنچا وہ سامنے ہی کھڑی تھی. …. انہی کپروں میں. …. بس ماسک اور. … کیپ. .. اور بلیک ہڈی نہیں تھی. … دے فارس کے قدم خود ہی آہستہ ہوگئے. …. .. اس کے ساتھ. … سحر …مزمل ازمیر. .. احمر بھی تھے. … پولیس کو اطلاع سحر نے دی تھی. …تب ہی وہ ادھر تھی. .. مایا نے مزمل اور احمر کو بتا دیا تھا. …. مززل تو سکتے میں چلا گیا تھا. …. ماہا بھی ہاسپٹل میں ہی تھی مگر وہ سمانے آنہی سکتی تھی. …. ازمیر اور فارس کی وجہ سے. …… پولیس تفتیش کررہی تھی. … اس ایک جھلک کے بعد …… کی فوٹیج بھی غائب تھی. …. کچھ پتا نہیں چل رہا تھا. …جس نے بھی کیا …بہت سفائی سے کیا تھا. …
وہ قریب پہنچ گیا تھا. …..
ڈاکٹر ہاتھ میں فائل لیے ان کی طرف ارہی تھی. ….. فائل مایا کو پکڑا کر کچھ کہتی وہاں سے چلی گئی. …. مایا نے پہلے فائل کھولی پهر. … ایک نظر اٹھا کر سامنے دیکھا. … فارس. .. مزمل. .. احمر. …. تینوں اس کے منتظر تھے. … دل زور زور سے دھڑک رہا تھا. ….دیا اور فوزیہ کیے لیئے…..
ڈی ان اے رپورٹ میچ ہوگئی ہیں. … ان ہی کی ڈیڈ باڈیز ہیں. … مایا نے دوبارہ فائل دیکھتے ہوئے کہا. …..
فارس نے بییقینی سے اسے دیکھا. ….. منہ پر تو قفل لگ گیا تھا. .. دماغ سائیں سائیں کررہا تھا. ……
مزمل بے اختیار دو قدم پیچھے ہوا.تها …… جو مایا نے ضرور نوٹ کیا. …….
مزمل تم جانتے تھے. … دیا ایک سہراب ہے. ….. جس کے پیچھے تم بھاگ رہے ہو. ..یہ جانتے ہوئے بھی کہ. ..تمہارے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا. … تم جانتے تھے کہ آگے کهائی ہے پھر بھی کود گئے. ….. اب بهکتو ……اس محبت کی قیمت ادا کرو اب. …..وہ مزمل کو دیکھ کر. …. تاسف سے سوچتی رہ گئی. ….ازمیر …احمر اور سحر آپس میں باتیں کر رہی تھے. ….
فارس اٹهو. ….. ازمیر نے آگے بڑھ کر اٹھایا تھا جو زمین پر ہی بیٹھ گیا تھا. . …… کیا یہ سب ہیر نے ہی کیا …؟ کیا ہیر نے اپنا کہا سچ کردیا. ..؟؟ مار دیا. .میری موم اور دیا کو. …؟ کیا میری بربادی کی وجہ میرا عشق ہے. …؟؟ کیا ہیر قابل نہیں تھی میرے بے لوث عشق کے ….؟ وہ کهوئے کهوئے سوچ رہا تھا. … درد حد سے بڑھ رہا تھا. ….یہ کیا ہو گیا تھا. ….. ابھی تو وہ دونوں اس کے سامنے تھیں پهر اب ……؟ آنسو لریوں کی طرف آنکھوں سے بہہ رہے تھے. …
مایا اور سحر باہر نکل گئی تھی. ….مزمل سکتے میں تھا. … وہ تو دیا کو سب سچ بتانا چاہتا تھا. ….
دیکھا جو آج خود کو اس سکتے میں آگیا
کتنا دلیر شخص تها جو بکهر گیا. …!!
Anabiya G
Nai mjy to koi plan lg rha h mayaa or sehar ka
3y
Reply