62.3K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 22

ہاں. ..کیا ہوا ہاتھ لگا چهورا. … صدیق خان نے فون کان سے لگاتے. . فاتحانہ انداز میں کہا. ….
ہاں ہاں. .ٹھیک ہے. …. نام کیا ہے. .ہاں مزمل. .. دیکھنا. .. چهورا. .ہوشیاری نہ کرسکے. …. موبائل فون لے لو. .. اپنا فون دو. .. اور جیسا میں نے بتایا ہے بلکل ویسا کرنے کو بولو. …. ہوشیاری کرے تو گولی مار دو. .. مگر دیکھنا مرنا نہیں چاہئے. .. اس کی کہانی تو میں خود ختم کروں گا. .. یہ مہوش کی کہانی ختم ہوجائے گی آج. …. میں اور اسلم پہنچ رہے ہیں. … دوسری جانب سے ان کی پسند کا جواب ملا تب ہی خوش ہوتا. .. تفصیل سے جواب دیتا. . اسلم ملک جو اس سے تھوڑا دور صوفے پر بیٹھا تھا اسے اپنے پاس آنے کیا اشارہ کیاتها. ..
چلو… آج یہ بهی پریشان ختم کرلیں. …. اسلم ملک کو بولتا وہ باہر نکل گیا. .. اسلم ملک بهی اس کے پیچھے نکل گیا. ….
مزملللل. .. دیا نے اپنی سسکی روکی تھی. ….. وہ جو صبح کے کمرے میں بند تھی اب بھوک کا احساس ہوا تو کچن کی طرف جارہی تھی. ..جہاں صدیق خان کے منہ سے مزمل کا نام سنتے ادھر ہی ساکن ہوگئی تھی. .. پوری بات سنتے اسے اپنے پاوں کے نیچے سے زمین نکلتی محسوس ہوئی. …. وہ ایک دم اندر کی طرف بھاگی تھی. … موبائل اٹها کر فارس کے نمبر پر ایک میسج کرکے باہر بھاگی تھی. ….. کیب کرکے اس نے صدیق خان کی گاڑی کو فالو کرنے کا کہا تھا. .. موبائل کی لوکیشن آن تی. .. فارس کا نمبر پہلے تو آف تھا. .مگر اب آن تپا مگر کال نہیں اٹها رہا تھا. … کاٹ دیتا تھا. ….. اب اس نے واپس آپ پر میسج کیا جو سین ہوگیا تھا. .مگر کوئی جواب نہیں. …..
♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥
مزمل جو ماہا کو دیکھنے جارہا تھا. … راستے میں اچانک اس کی گاڑی کے ٹائیر پر فائر ہوا. .. وہ دیکھنے کے لئے باہر نکلا مگر کسی نے اس کے سر پر ڈنڈا مار کر اسے بہوش کردیا. …… ..
اور اب وہ ہوش میں آیا تھا. … ایک کافی بڑا. .میدان سا تھا. ..اسے کرسیوں پر باندھا ہوا تھا. … بہت سے حبشی اور انگریز. .. ہاتھوں میں گن لیے اس کے سر پر کھڑے تھے. …. اس کے ہوش میں آتے ہی ایک حبشی نے موبائل اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا کہ وہ مایا شہریار سلطان کو بالائے. .بنا کچھ بتائے. مایا نے خود ہی پنا نام صدیق خان کا بتایا تھا. … تب سے بس اسے مایا اور سحر چاہئے تھی. ..برباد کر دینے کے لیے. .. اس لئے ہی اسنے اپنے بندوں کو اسے مایا کو بلانے کے لیے کہا. …… پہلے ہی وہ اڑا رہا کہ کچھ بھی کر لو وہ نہیں بلائے گا. ….مگر جب انہوں نے کہا کہ. .. ان کا ایک ساتهی ان کے گھر کے پاس ہی اور وہ ان کے کہنے پر ان کے گھر بم پھینک دے گا اسے مجبوراً اسے بلانا ہی پڑا. .. مگر اس نے کوشش کی تھی کہ وہ سمجھ جائے کہ وہ مشکل میں تھا. …
تب ہی دو گاڑیاں آکر رکی تھی. .. ایک میں سے اسلم ملک اور صدیق خان نکلا تھا. . دوسرے سے اس کے گارڈز. …. اب وہ خباثت سے مسکراتا اس کی طرف ہی آرہا تھا. … اسے دیکھ کر مزمل کا حلق تک کڑوا ہوا تھا. .. اوپر سے مایا کے نہ آنے کی دعا به
بهی کررہا تھا……
ارے دیکھو تو جوان کو. …. کتنا بے بس ہے بلکل مجھے تو لگ رہا ہے کہ یہ دوسرا شہریار ہے. … اور دیکھا اور اور شہریار کی کہانی دہرائے گا. . مگر اس بار بیوی کی جگہ بہن ہوگی. ..کیوں. .. ملک. ….وہ اس کے سامنے آکر کھڑا ہوتے تمسخر اڑانے ہوئے گویا ہوا. .. اسے مزمل کا یوں بے بس ہونا سکون دے رہا تھا. …..
کمینے انسان کھول تجھے بتا…… وہ آگے بول نہیں سکا تھا. .. اسی وقت مایا کی گاڑی آکر رکی تھی. .. اور وہ بھاگتی ہوئی اس تک آئی تھی مگر وہ حبشیوں نے اسے بڑی طرح جکڑ چکا تھا. .. وہ اپنے آپ کو چھڑانے کی کوشش کررہی تھی، …..
ہاہاہہہہہاہاہاہاہا. … تو دونوں چوہے. ….. کهڑوکی میں قید ہوگئی. …… چلو مزا آئے گا. ..پہلے تم دونوں کو دیکھ کو پھر سب سلطانیز کو ختم کرو گا. ..کہ کوئی صدیق خان کو چھیڑنے کی کوشش بھی نا کرے. …. وہ اب دونوں کو دیکھتا نفرت سے پھنکارا تھا. ….
کهولو اسے. .مگر چھوڑا نہیں. … اس نے اپنے بندوں کو مزمل کو کھولنے کا کہا تا. ….
آہہہ. … اس کے کھلتے ہی صدیق خان نے ایک بندے کو اشارہ کیا جس نے مزمل نے منہ پر پوری قوت سے مکا مارا تھا. … اتنا کا اس سے منہ سے خون نکلنا شروع ہوگیا تھا. ……. مگر وہ …. خون تھوکنے کے علاوہ کچھ بهی نا کرسکا. .. اسے کھول تو دیا تھا. .مگر دو کالے حبشیوں نے اسے جکڑا ہوا تھا. ….. وہ ایک مضبوط مرد تھا. .مگر اپنے سے بڑے دو غنڈوں کے سامنے بے بس ہوگیا تھا. ……. پھر ایک کے بعد ایک مکے اسے کے منہ پر مارے تھے وہ بس مایا کو دیکھ رہا تھا. … منظر ہٹا کر. .. وہ صوفے کے پیچھے کھڑا اپنے ماں باپ کو مرتا دیکھ رہا تھا. .. اس کی ماں ان درندوں سے خود کو بچانے کی کوشش کررہی تھی. .. اس کا باپ اس کی طرح ہی بے بس تھا. .. رو بهی کے نہیں سک رہا تھا. .. منظرِ پهر ہٹا. .. اب مایا خود کو چھڑا رہی تھی. …
مزمللللللللل. …. دیا ابھی ہی پہنچی تھی. .. مزمل کی یہ حالت دیکھتے وہ. .. چیخ آٹهی تھی. .. بیقوقت سب اس کی طرف مڑے تھے. … پنک نائیٹ ڈرس پہنے بالوں میں جوڑے میں مقیم کیئے. .. گھر کے سلیپر پہنے. .. وہ منہ پر ہاتھ رکھے. .. رو رہی تھی. … یہ کون سا روپ تھا اس کے باپ کا. .. وہ بھی اس کا آئیڈیل تھا. …مگر وہ تو کوئی سفاک انسان تھا. ….. صدیق خان پہلے ت اسے وہاں دیکھ کر. .. گڑبڑا گیا. .. وہ اپنی لاڈلی بیٹی کے سامنے ایسے نہیں آنا چاہتا تھا. …. مگر اب تو آگیا تھا. …
وہ بھاگ کر مزمل کی طرف آرہی تھی تب ہی صدیق خان نے اپنے بندوں کی طرف اشارہ کیا انہوں نے اسے پکڑ لیا تھا. …
ڈیڈی پلیززز چھوڑ دیں. ….پلیززز ڈیڈی پلیززز دیا چلا رہی تھی. .. اپنے آپکی ان دو کالے حبشیوں سے چھڑانے کی کوشش کررہی تھی. … صدیق خان کے کہنے پر ان حبشیوں نے اسے زیادہ مضبوطی سے تو نہیں پکڑا تھا کہ کہیں اسے تکلیف نا ہو مگر پهر بھی وہ. ..اپنے آپ کو چھڑا نہیں سک رہی تھی. ….
یہاں سارے ان کے حویلی والے گارڈز تھے جو دیا. .کو جانتے تھے. .. جانتے تھے وہ کتنے نازوں سے پلی تھی. … جانتے تھے صدیق خان کی جان بستی تھی اس میں. .تب ہی محتاط تھے. ..
میری بچی. …. تمہارے لیے میں اس سے بہت اچھا لڑکا ڈھونڈو گا. …..پہلے ان کا یہ تو بتا دوں کہ یہ الجھے کس سے ہیں. .. صدیق خان دیا کو بچوں کی طرح بہلاتے اب مزمل کی طرف مڑا تھا. ہاتھ میں پکڑی گن کا رخ مزمل کی طرف تھا. …. جو مایا کو دیکھے جا رہا تھا. ..جو اپنے آپ کو صدیق خان کے بندوں سے چھڑانے کی کوشش میں ہلکان تھی. ..مگر انہوں نے بہت مضبوطی سے پکڑا ہوا تھا کہ وہ ہل بھی مشکل سے رہی تھی…. وہی بارہ سال پہلے جیسا لگ رہا تھا اسے. ..اتنا ہی بے بس تھا. … اسے نہیں پتا تھا کہ اس کی نیلی آنکھیں بنا رکے برس رہی تھی. ….
تم باسٹرڈ. … تم نے کیسے سوچ لیا کہ مجھے برباد کرو گے. … یا مجھ اسے اپنے باپ اور ماں کا بدلہ لو گے. …. تم مجھ سے بارہ سال پہلے کا بدلہ لینے نکلے تھے. ..مگر میں آج وہی بارہ سال پہلے والا عمل دهڑائوں گا. …. پہلے تمہاری آنکھوں کے سامنے ہی اس چھوکری. .. اس نے مایا کی طرف اشارہ کیا تھا. … اس کی عزت کی دھجیاں بکھیروں گا پهر تیرے ٹکڑے کرو گا. …. پهر تجھے سمجھ آئے گا کہ صدیق خان کس بربادی کا نام ہے. …. وہ نفرت سے پھنکارا تھا. …. دیا مسلسل چلائے جارہی تھی. ..مزمل مایا کو دیکھے جا رہا تھا. ..مایا خود کو چھڑانے کی کوشش کررہی تھی. …
ملک. … پہلے تمہیں میں نے اس کی ماں دی تھی. .. آج اس کی بیٹی کو بھی خوش کردو. …. ادھر ہم سب کے سامنے ہی. … اس کی عزت کا جنازہ نکال دو. … پهر اس مزمل کی کہانی بھی ختم کر کے کہانی ختم کر دیتے ہیں. … گن کا رخ ہنوز مزمل کی طرف کیئے اسلم ملک سے گویا ہوا تھا. … جو خاموش تھا بلکل. . … ..
اچھا چلو تمہارا موڈ نہیں توخیر ہے. ..میرے یہ کتے کا کام کہ ہیں. ..ابھی اس چڑیا کو بهاڑ کر رکھ دیں گے. …. بولتے ہی اس نے اپنے دو کالے حبشیوں کو اشارہ کیا تھا. ..وہ وہ مایا کی طرف بڑھے تھے. … آنکھوں سے حوس ٹپک رہی تھی. ….
اچانک فضا میں شور برپا ہوا تھا. …. اور ساتھ ہی چار سپورٹس بائیک اس ساتھ آکر رکی تھی. …. پهر وہ چاروں وجود ایک ساتھ اترے تھے. … ایک جیسی. .بلیک بلیک شرٹ پینٹ. .. بلیک جیکٹ. … سر پر سے ایک ساتھ ہی ہیلمٹ اتاری تھی. … بال اڑ رہے تھے ہوا سے. … دو لڑکیاں. نے بالوں کو ہائی پونی میں قید کیا تھا .دو لڑکے. …جو آنکھوں میں غصہ لیے انہیں ہی طرف بڑھے تھے پیچھے ہی دونوں لڑکیاں بھی بڑهی تھی. … پسٹل چاروں نے ہاتھ میں پکڑے ان کی طرف کی ہوئی تھی. …
مار دو سالوں کو آج کوئی کمینہ زندہ نہیں رہنا چاہیے. … بہت کھیل لیا چھپن چھپائی. ..آج … جیت کسی ایک کی ہوگی. …، وہ حلق پھاڑ کر مقامی زبان میں اپنے بندوں کی طرف دیکھتے ہوئے بولا تھا. ……..
ٹھاہ. ..ٹھاہ. ..ٹھاہ. .ٹھاہ. … ٹھاہ پانچ گالیاں ایک ساتھ چلی تھی. .. پهر موت کا سا سناٹا چھا گیا تھا. …. عین اسی وقت ایک گاڑی آکر رکی تھی. … اندر بیٹها وجود. .سامنے کا منظر دیکھتے. .ساکن ہوگیا تھا. ……کئی پسٹلز نیچے گرنے کی آواز آئی تھی. … خون ہی خون پھیل گیا تھا ادھر. …. موت کی سی خاموشی ہنوز قائم تھی. ……
دیا مزمل کے پاوں کے پاس گری تھی. … خون میں لت پت وجود. … مزمل پکڑے غنڈوں کی گرفت اس پر ہلکی ہوئی تھی. …..
دیاااا. .. وہ گھٹنوں کے بل نیچے گرا تھا. … صدیق خان جس نے دیکھ لیا تھا کہ اب وہ بچ سکتے ہیں. ..تبھی. .مزمل کی طرف گولی. .چلائی. .. عین اسی وقت. .. دیا جو کب سے خود کو چھڑانے کی کوشش کررہی تھی. … اچانک خود کو چھڑانی اس کے سامنے آگئی تھی. ….. گلابی نائیٹی لال ہورہی تھی. …. گولی سیدھی دل کے مقام پر لگی تھی. … وہ دوسری سانس بهی ن لے سکی. …… . مزمل نے اسے بازوں میں بڑها تھا. ….
لکھا ہے کیا نصیبوں میں. ..
محبت کے خدا جانے. ..
جو دل حد سے گزر جائے
کسی کی وہ کہاں مانے. ….
جہان جانا نہیں دل کو
اسے ہے کیوں وہیں جانا..
بہت آئی گئی یادیں..
مگر اس بار تم ہی آنا. .
کہہ رہی ہے وفا….
سانسیں ہیں بے وجہ. ….
جو نا تجھ پہ لٹا ہم سکیں. ….
اس سے زیادہ حسین.
.موت ہوگی نہیں. ..
تیری بہاہوں میں ہم مر سکیں…
ختم ہوگئی. .نہیں مٹ کہ…
کہانی یہ کبھی جاناں. ….
کہیں ایسا نہ ہوجائے. …
بنا دیدار میں مر جاواں. ….
دوسری گولی سحر نے چلائے تھی ان پر جو مایا کو جکڑے کھڑے تھے. .. وہ بھی نیچے گر گئے. …. دو گولیاں ایک ساتھ ازمیر نے چلائی تھی. .. اسلم ملک کی طرف. .. جو عین اس کے سر پر لگی تھی …وہ نیچے گر گیا تھا. …. آخری گولی زائع گئی تھی. ……احمر نے مایا کو اپنی طرف کھینچا تھا. .. جو اس کے سینے لگی رونے لگی تھی. …اسے لگا تھا ایک دفعہ پھر وہ ہار گئے. ….
صدیق خان نیچے گرا تھا. …. بے یقینی سے اپنی بیٹی کی لاش کو دیکھ رہا تھا. … جو اس کے ہاتھوں ہی مر گئی تھی. …. سارا غرور پل میں غائب ہوا تھا اس کا خون میں لت پت وجود دیکھ کر. …. کبھی اپنے ہاتھ میں پسٹل ہو گا کبھی …اپنے جگر کے ٹکڑے کو دیکھ رہا تھا. …..
دیااااا. .. فارس گاڑی مست نکلتا اس کے پاس پہنچا تھا. …. دیا کو مزمل سے لیتا اس کے گال تهپا رہا تھا. .مگر وہ تو. … ختم ہوگی تھی. …….. آج وہ سچ میں اپنی بہن کهو چکا تھا. ….
فارس کو. آریان کے بندے ہاسپٹل لے گئے تھے. .. کچھ دیر میں اسے ہوش آگیا تھا. … ٹینشن ے ہیوش ہوگیا تھا. … پهر اسے اپنے بندے کا فون آیا تھا جس کو اس نے. ماہا کے بارے میں پتاکرنے کو کہا تھا. …
وہ بتاتا گیا. .. اسے سب. … مہوش کی کہانی. .. اسلم ملک کی. …یہ بهی کے. . ماہا کی جوڑواں بہن بهی ہے. … ایک ایک بات بتا دی تھی. .سحر میں سچائی بهی بتا دی تھی. ..جسے سن کر وہ شل ہوگیا. ….. اس کی وجہ جان نکل گئی تھی. … اسے ایک دم ہوش یا تا. .. اس نے انہیں بندوں سے ماہا کا پوچھا. . جنہوں نے اسے کہا کی وہ ٹھیک ہے. …. مگر اسے یہ نہیں پتا تھا کہ دیا زندہ ہے. … اسے اپنے باپ سے او نفرت ہوئی. … اسے تب ماہا کی غلطی نہیں لگی تھی. .. کال اسے فوزی بیگم اور دیا کے. .نمبر سے آرہی تھی مگر اسے لگ کہ وہ بهی صدیق خان ہی کررہا ہے اسے بلانے کے لیے. … مگر آخری میسج میں دیا نے اسے میسج میں کہا کہ وہ دیا ہے اور. .. کہا کہ مزمل لوگوں کی جان خطرے میں ہے. …. اس کی لوکیشن ٹریس کرنے کا کہا تھا. .. پہلے ہی وہ یہ بهی ڈرامہ سمجھتا رہا ..مگر. … بهی آئی گیا…. مگر آتے ساتھ اس نے جو دیکھا اس کی جان لبوں کو آئی تھی. … صدیق خان کی پسٹل سے نکلتی گولی اس کا دل چیڑتی گئی تھی. .. کچھ پل تو جیسے سب تهم کے گیا. … پهر وہ یک دم ہوش میں آیا تھا. … بهاگ کر پہنچا تھا مگر. .. موت بازی لے گئی تھی. …. وہ لیٹ ہوگیا تھا. .. اس کی روح پرواز کرگئی تھی….
…… اسی وقت کئی گاڑیاں آکر رکی تھی. .جن میں عینا اور سحر کے بندے تھے. … جنہوں نے صدیق خان کے سارے لوگ مار دیئے. .. کئی خود بهی مر گئے. .. … …
اب وہاں، …. مزمل. .. مایا. ..ماہا. … احمر. … سحر. .. فارس. . ازمیر. … عینا اور. … صدیق خان رہ گئے تھے. ……
ہر جگہ لاشیں اور خون تھا. ….. کوئی کڑہا رہا تھا. .کوئی مر گیا تھا. …..
دو وجود زندہ ہوتے ہوئے تھے. .ساکن تھے. … مزمل اور صدیق خان. .. اسلم ملک ت کب کا مر چکا تھا. …
مزمل اب بهی دیا کو دیکھ رہا تھا. … جسے فارس. .زمین پر چھوڑ کر کھڑا ہوگیا تھا. ……صدیق خان. … گولیوں کی آواز سے ہوش میں آیا تھا. …
دیااااا. …. وہ اس کی طرف بڑها تھا. ….
ڈونٹ یو ڈیئر. ….. مری ہوئی کہ شکل بهی دیکھنے نہیں دوں گا. .. فارس سے ہاتھ کے اشارے سے انہیں آگے آنے سے منع کیا تھا. …..
سحر چلتی ہوئی آگے آئی تھی. …. عین اس کے سامنے کھڑی تھی. ..پسٹل کا رخ. .. اس کی طرف تھا. … وہ زمین پر گھٹنوں کے بل بیٹها تھا. ..پسٹل اب بهی ہاتھ میں تھا. ….. فارس سائیڈ پر ہوگیا تھا. … جیسے کھلی اجازت دے رہا ہو. .. دل میں اسکا دهلا تھا. …. باپ تھا جیسا بهی. .. مگر دیا کی لاش دیکھتے پتھر کا ہوگیا تھا. .جیسے. …..
ختم ہوگئی تمہاری کہانی صدیق خان. …. ہار گئے تم. …کوئی نہیں بچا. …. بیٹی بهی ہار گئے. …خود ہی مار دیا. ….. اپنی جائز اولاد کو. ….. اس کی غلطی کوئی نہیں تھی سوائے اس کی کہ وہ تمہاری بیٹی تھی. .. اسے اسی کی سزا ملی. … کتنے مائوں کی کوکھ اجهاڑی. … کتنے ہی باپوں کا مان ان کی بیٹیوں کی عزت برباد کی…. دیکھو آج مکافات عمل. …. تمہاری معصوم بیٹی کو تمہارے کالے کرتوتوں کی سزا ملی. ….. بہت غرور تھا نا تمہیں خود پرور. … سحر نے سٹاپ لہجے میں کہا تھا. … وہاں سب کی آنکھیں نم تھی دیا کے لیے. .. اس کی وجہ کوئی غلطی تھی. ..پهر بهی سزا ملی. ….مگر یہ بات ہونا تھا. . ماں باپ کا کیا بچوں کے آگے تو آتا ہے. …..
مایاا. .. اسی کو دیکھتے اس نے مایا کو آواز لگائی جو اب ماہا کو ساتھ لگائے کھڑی تھی. .. احمر مزمل کو سنبھال رہا تھا. … ازمیر خاموش تھا. ..بلکل خاموش. .. اپنے باپ کو اپنے ہی ہاتھوں سے قتل کر دیا. .. شاید. .. یہ مہوش کو انصاف دلانے کے لیے کیا. .. یا اپنی ماں کو….یا مایا کے لیے. . ..وہ نہیں جانتا تھا. … .
مقابل جو تم ہو تو کیسا مقابلہ
جاو ہم ساری خوشیاں تم پر وار دیتے ہیں
عینا بهی خاموش کھڑی تھی. …
مایا سحر لے بلانے پر ماہا کو چھوڑتی اس کی طرف بڑهی تھی. …
مجھے بہت مزا آتا اگر تم جیسا گند. .. اپنے ہاتھوں سے اس زمین سے صاف کرتی. … مگر ..مایا کی خواہش تھی کہ وہ تمہیں مارے جس طرح تم نے ان کے ڈیڈ کو مارا تھا. … تو یہ نیک کام وہی کرے گی. … سحر نے پسٹل مایا کی طرف اچھالی تھی. .. جسے وہ مہارت سے پکڑ چکی تھی. …. آنکھوں میں نفرت. … تھی. …
فارس نے روکنے کی کوشش نہیں کی تھی. … وہ انہیں دیکھ بهی نہیں ہا تھا وہ دیا کی لاش کو دیکھ رہا تھا. ……
مایا پسٹل اس کی طرف کرچکی تھی. … صدیق خان نے اپنے ہاتھ میں پسٹل دیکھی ہے ایک نظر فارس. .کو پهر. .. اپنی جان سے عزیز بیٹی کی لاش کو. ….
ٹهاہ. ..ٹهاہ. …….ٹهاہہہ ٹهاہہہ. …. کئ گولیاں ایک ساتھ چلی تھی. … … اس نے پسٹل اپنے سر پر رکھ کر خود ہی چلا دی تھی. … پہلی گولی اسے اپنی پسٹل سے لگی. .. جو سے وہ گر گیا تھا پسٹل ہاتھ سے نکل گئی تھی. … مایا نے پهر کی کئی گولیاں اس کے بے جان وجود میں اتاری تھی. ..پورا میگزین ختم کیا تھا. …..غصہ پهر بهی اتنا ہی تھا کہ وہ خود کیوں مر گیا. .. اس کی گولی سے کیوں نا مرا. ….
ایک دفعہ پھر. .. چار سو موت کا سا سناٹا چھا گیا. …..یار ماہی. … سنو تووو. …. وہ اس کے پیچھے پیچھے چلتا ہوا بول رہا تھا. ..
اففف احمر صبح سے میرا دماغ کهائے جارہے ہو. … کیوں سکون نہیں ہے تمہیں. ..دیکھ نہیں رہے کتنا بزی ہوں. ….مایا نے اب کی بار چڑ کر کہا. ..
آج دیا والے حادثے کو دو مہینے گزر گئے تھے. ..ان دو مہینوں میں مہوش کے کہنے پر وہ لوگ اب پاکستان جانے کی تیاری میں مصروف رہے تھے. … اور اب جب تیاری ہوگئی تھی. … تو کل صبح ان کی فلائیٹ تھی. … بظاہر تو سب نارمل زندگی ہوگیا تا زندگی میں مایا تو پرسکون تھی. … ماہا نے خود کو آفس تک محدود کرلیا تھا. .. مزمل وہ دیا کی موت کے بعد چپ سا ہوگیا تھا. .. سب کے سامنے تو خوش مگر دل ہی دل میں ایک کسک سی رہ گئ تھی محبت کی. … وہ زندہ بھی ہوتی تو بھی اس سے دستبردار ہونا ہی تھا. .. وہ چاہ کر بھی اسے نا اپنا سکتا. .. جب جب اسے مہوش دیکھتی اس کے زخم تازہ ہوتے. .. ماہا مایا کی ماضی سے نا نکل سکتی. …. ثاقب صاحب بہت بگرے تھے ان کے واپس جانے کی بات سن کر ..مگر مہوش نے انہیں منا ہی لیا تھا. … اس ک کہنا تھا کہ جب ان کا گھر ہے تو انہیں وہیں رہنا چاہیے. .. اور وہ اپنے ملک میں ہی رہنا چاہتی تھی. .. مجبوراً انہیں ماننا ہی پڑا. …..پاکستان میں ان کا گھر سلطان ویلا بھی کھوا کر صاف کر وا دیا تھا آریان نے وہ دو مہینوں سے ہی انکے ساتھ ہی ہوتا تھا. …. مزمل لوگ اپنا بزنس بھی پاکستان میں شفٹ کررہے تھے تب ہی زیادہ وقت لگ گیا تھا. .. مزمل اور ماہا تو آفس کے ہوکر رہ گئے. .. مایا اور احمد گھر کو بھی دیکھ رہے تھے. .. اور آریان پاکستان. جانے کی تیاریوں میں مصروف تھا. …
سحر سے ان کی دوستی اور بھی گہری ہوگئی تھی ان دو مہینوں میں. . عینا سے بھی اچھی گپ تھی. ….وہ بھی عینا اور. حرا. .کے ساتھ پاکستان شفٹ ہونا چاہتی تھی. .. اتنا بڑا بزنس تھا … تھوڑا ٹائم تو لگنا ہی تھا. ….. اس لیے وہ ابھی تو مزمل لوگوں کی مدد کررہے تھے. ….
فارس سے وہ اس کے بعد دو دفعہ ہی ملے تھے ایک دفعہ تو وہ گھر آیا تھا ماہا سے معافی مانگنے. … دوسری دفعہ پارک میں وہ مہوش کے ساتھ گئے تھے تب اتفاق سے ادھر ملا تھا. …. ایک مختلف فارس کے ساتھ. …
ازمیر ہما کو لے کر ترکی چلا گیا تھا. … وہ جانتا تھا کہ مایا اس سے محبت کرتی ہی نہیں ہے. … وہ خود کو اور فریب میں نہیں رکھ سکتا تھا. .. تب ہی چلا گیا. .. جانے سے پہلے … وہ ایک بات اور جان گیا تھا کہ سحر اس سے محبت کرتی ہے. .. مگر کہہ نہیں سکتی. .. وہ شاید اس سے بچنا چاہتا تھا. .. وہ نہیں چاہتا تھا کہ سحر اس سے کچھ کہے. .. یا وہ مایا کی جگہ کسی اور کو دے. .. تب ہی دور ہوگیا. … کبھی ہیلو ہائے کے لیے فون کرلیا تھا. … مزمل ماہا مایا. .. فارس اور ازمیر سے نارمل سے ہی ملتے تھے وہ جان گئے تھے جو ہوا …ان کی سزا ..گناہ کرنے والوں کو مل گئی ہے. .. دیا اور صدیق خان کی اچانک موت کی وجہ سے فوزیہ بیگم ایک مہینے بعد میں فوت ہوگئی. …. فارس ایک ساتھ اپنوں کی جدائی سے ٹوٹ گیا تھا. … ماہا کے ساتھ ساتھ اس نے مزمل مایا اور مہوش سے بھی معافی مانگی تھی. .. وہ ازمیر اور فارس کو صرف نام تک ہی جانتی تھی. .. انہیں وہ دونوں بچے اچھے لگے تھے. ..
یار مایا تم تو مت جاؤ نا یار. … کتنے دونوں سے بول رہا ہوں. … یار میں کیسے رہوں گا تمہارے بغیر. .. مجھے تو سکون نہیں ملتا جب تک تمہیں دیکھ نا لوں. … اسے خیالوں میں جاتا دیکھ کر اس نے مایا کے سامنے آکر ہاتھ پکڑتے ہوئے افسردگی سے کہا تھا. .
احمر میں نے ابھی اپنی پیکنگ کرنی ہے کچھ. .. ٹائم نہیں ہے. .. صبح نکلنا ہے. .. اور تمہیں سکون نہیں ہے. .. اب میرے پیچھے آئے تو دیکھنا. .. گنجا کردوں گی. … مایا نے ایک دفعہ پھر سو دفعہ دی ہوئی دھمکی دی. ….
بس تم نا جاو. … مجھے نہیں پتا… اس نے مایا کو اپنے سینے سے لگائے کسی ضدی بچے کی طرح کہا تھا. … وہ تو پچھلے دو مہینوں سے یہ سوچ سوچ کر ہلکان ہو رہا تھا کہ وہ سب چلے جائیں گے تو وہ کیا کرے گا. … کیسے رہیے گا. … بچپن سے وہ ہمیشہ ساتھ رہیں تھے. ..کبھی یوں اکیلے نہیں ہوئے. … اور اب جب ہورہی تھے اور وہ کافی پریشان تھا. …. روز ہی مایا کے پیچھے پڑا رہتا کہ کم از کم وہ تو نہ جائے. . حالانکہ مہینے بعد انہوں نے بھی پاکستان جانا تھا. ….
احمر اب نا تم مجھے تنگ کر رہے ہو. .. مایا نے روہانسی شکل بنا کر کہا. ..
اچھا. ..امممم چلو پھر جلدی کرو جو رہ گیا ہے. … ہم چاروں آج ڈنر باہر کریں گے. .. اب کچھ نہیں سنا. .. میں مزمل اور ماہا کو بتا دوں وہ تیار رہیں. … اب کی بار وہ ہار مان گیا تھا. …..
اوکے چلیں گے. .. مایا دوبارہ سے سوٹ کیس کی طرف متوجہ ہوگئی تھی. … کچھ دیر تو وہ ادھر ہی کھڑا اسے دیکھتا رہا. … پھر باہر نکل گیا. …. اس کے جاتے ہی مایا نے دروازے کی طرف دیکھا تھا جہاں سے وہ گیا تھا. … ہاتھ سے چیزیں چھوڑ کر وہ بیڈ پر بیٹھ گئی تھی. .. دل تو اس کا بھی خفا تھا کیسے رہے گی ان سب کے بغیر. … مگر پھر یہ سوچ کر کہ وہ کچھ عرصے میں آجائیں گے. .. مطمئن ہوگئی. .. ویسے بھی ت انہیں کچھ عرصہ قبل سیٹل ہونے میں لگنا تھا. …….
کبھی ایسا پل بھی ہوا کرے
میں کہوں اور وہ سنا کرے
میری فرصتیں، میرے مشغلے
سبھی اپنے نام کیا کرے
کبھی بات ہو سکی شام کی
توئی زکر ہو کسی رات کا
جو بیٹوں میں اسے سنانے
وہ سنا کرے سن کر ہنسا کرے
جو میں کہوں چلو اس نگر
جہاں جگنوؤں کا ہجوم ہو
وہ پلٹ کر دیکھے میری طرف
اور پھر مجھے پاگل کہا کرے
♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥
ڈارک بلو ٹو پیس کے نیچے وائیٹ شرٹ پہنے. .. پاوں میں بلو ہی ہائی ہیل والے سوز پہنے. .. بالوں کی ٹیل پونی کیئے. …. وہ اپنی گاڑی سے اتری تھی. .. اسے یہاں سے کچھ چیزیں لینی تھی. … صبح فلائیٹ تھی تب ہی وہ آج آفس کے بعد مال آگئی تھی. …..
مال آکر اس نے ضرورت کی چیزیں لیں. … گھنٹہ ت اسے لگ گیا تھا. … ابھی وہ بل کر رہی تھی جب اسے اپنے پیچھے اپنے نام کی پکار سنائی دی. …کان بند کر کے بھی وہ آواز پہچان سکتی تھی. …. بل پے کرنے کے بعد وہ پیچھے مڑی. …..
گرے شرٹ بلیو پینٹ. .. بلو ہی جیکٹ پہنے. … بالوں کو جیل سے سیٹ کیے وہ اپنی تمام وجاہت کے ساتھ اس کے سامنے کھڑا تھا. …..
کیسی ہو. . ہاتھ بڑھاتے.. اسی نے پہل کی تھی. …
ہمم میں ٹھیک. …کیسے وہ تم. … کچھ لمحے اس کے بڑھائے ہاتھ کو دیکھنے کے بعد اس نے ہاتھ ملاتے نارمل انداز میں کہا. …
ٹھیک ہوں. … مزمل نے بتایا تھا کہ پاکستان شفٹ ہورہے ہو. .. صبح کی فلائٹ ہے. … اب وہ دونوں پارکنگ آریا کی طرف بڑھے تھے. …
ہاں … سامان گاڑی میں رکھتے مختصر جواب دیا …. گاڑی لاک کر کے وہ اب گاڑی کے ساتھ ہی اس کے سامنے کھڑی ہوگئی تھی. …
ہمم کافی پیئیں. …؟؟؟ فارس اسے دیکھنے سے گریز کررہا تھا. …
وائے ناٹ. … چلو. .. ماہا نے بھی خوشدلی سے قبول کیا. ….
سامنے بنے اوپن ریسٹورنٹ جاتے تک دونوں ہی خاموش تھے. ..
واپس کبھی نہیں آو گے. … دل کے ہاتھوں مجبور پوچھ لیا تھا. … ویٹر کافی سرو کرچکا تھا. ….
شاید کبھی نہیں. .. رہنے کے لیے وہ نہیں ویسے تو آتے رہیں گے. … کافی کا مگ لبوں سے لگاتے سرسری سا جواب دیا تھا. …
ہممممم. … تم. …تم نے مجھے معاف کر کردیا نا. …. کافی کو گھورتے ہوئے پوچھا. ….
تمہاری غلطی نہیں تھی فارس. … تمہاری جگہ کوئی بھی ہوتا تو یہی کرتا. … دیا تمہاری بہن تھی. .. اور فوزیہ آنٹی تمہاری مدد. .. تمہارا یہ ریکٹ تو بنتا تھا. .. میں بوتی کے شاید میں بھی یہی کرتی. … اب تم بار بار معافی مت مانگو. …. چہرے پر سنجیدہ تاثرات لیے وہ اسے دیکھتی بولی تھی. .. وہ جب بھی ملتا اس سے معافی ضرور مانگتا تھا. …..
ہممممم تھینکس. …. فارس نے چہرے پر مصنوعی مسکراہٹ سجاتے ہوئے فقط اتنا ہی کہا. .. یا اتنا ہی کہہ سکا. …. دل اس کا چینخ چینخ کر کہہ رہا تھا کہ ایک دفعہ روک لو. …. دل چلا رہا تھا کہ اسے ہیر چائیے. … اسے ہر حال میں چاہیے. … مگر وہ دل کی باتیں دل میں ہی دبا گیا جانتا تھا یہ ناممکن تھا. … پھر اسے کیوں مشکل میں ڈالتا. …خاموش ہو گیا. .. زبان سے. … دل ہنوز چیخ رہا تھا. …..وہ نظر انداز کرگیا. ..
تھینکس فار کافی. .. ماہا نے کافی کا خالی مگ واپس رکھتے ہوئے کہا. …
ہمم. .. چلیں. . فارس نے بل پے کرتے اٹھتے ہوئے کہا. …
وہ دونوں اب پارکنگ ایریا کی طرف آگئے تھے. ….
. بائے. . ٹیک کیئر. … ماہا نے گاڑی میں بیٹھتے ہوئے کہا. ….
وہ جا چکی تھی ایک دفعہ پھر. … وہ پھر اکیلا رہ گیا تھا. .. روک نہیں سکا. …. اب نجانے کب دیکھتا. … تب حالات کیا ہوتے. …. وہ کافی دیر ادھر ہی اسی پوزیشن میں کھڑا رہا تھا. … ہوش تو تب آیا جب اسے کسی نے آگے سے ہٹنے کا بولا تھا. … وہ سارے خیال … جڑتا. .. اپنی گاڑی کی طرف مڑ گیا. ……
جو تم ہی وہ مقابل ہمارے توقیر فتح کیسی. .
جو ہم ساری خوشیاں وار گئے. . جاو ہم ہار گئے. ..
♥♥♥♥♥♥