62.3K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 14

جس نے پیا اپنا نشان ڈھونڈتا رہا. ….!
جام عشق تیری تاصیر کے …..صدقے.!!
تم. … امیر تم بالکل پاگل ہوگئے ہو. …. کیوں سڑک پر لانا چاہتے ہو ہمیں. …جانتے ہو کہ کیا کیا باتیں ہورہی ہیں ہمارے باے میں. … اسلم ملک غصے میں پاگل ہوئے امیر پر چلا رہے تھے. … امیر بے فکر سا صوفے پر بیٹھا ریموٹ ہلاتا ٹی وی دیکھنے میں مصروف تھا. ….
ہیلوووو ….تم سن رہے ہو مجھے یا میں پاگلوں کی طرح بولے جا رہا ہوں. …. اس کے ہاتھ سے ریموٹ لے کر ٹی وی بند کرتے ریموٹ پوری قوت سے دور اچھالا تھا. ….
میں جو بھی کررہا ہوں یہ میرا مسئلہ ہے. ..آپ اس میں نہ پڑیں تو ہی اچھا ہے. ….. جو جو میں نے بے ایمانی سے لوگوں سے لیا تھا. …. وہ سب واپس کررہا ہوں. … میں اب اور حرام نہیں کها سکتا. …. اور لوگ جو باتیں کرتے ہیں انہیں کرنے دیں ..مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا. …. اور آپ اب جا سکتے ہیں. …مجھ سے بات کر کے وقت نہ برباد کریں اپنا. …. ازمیر نے کوشن اٹھا کر گود میں رکھتے ریلکس ہو کر بیٹھتے ہوئے کہا. …. جتنا ریلکس وہ نظر آرہا تھا. …. اندر سے اتنا ہی تکلیف میں تھا. .. آج اس کے باپ نے شاید 26 سال کی عمر میں پہلی مرتبہ اس سے بات کی …وہ بھی کس لہجے میں. ….
میں تمارا باپ ہوں. ..تم میرے نہیں. ….جو مجھے بتاؤ کہ میں کیا کروں. ….. تم مجھے بتاؤ جو لوگ مجھ سے سوال پر سوال کر رہے ہیں انہیں کیا جواب دوں. ..کیا کہوں کیا کرتا پهڑ رہا ہے بیٹا میرا. ….. وہ اب اس کے سامنے صوفے پر بیٹھ گئے تھے. ..
ہاہاہاہاہ …. باپ ہیں میرےےے. … ہاہاہاہا مجھے لگا کہ مجھے پیدا کر کے بھول گئے ہیں. ….. اور میں آپ کو کچھ نہیں سمجھا رہا. .میرے پاس اتنا بھی فضول وقت نہیں ہے جو آپ پر ضائع کروں. … اور جو لوگ بار بار پوچھ رہے ہیں کہ میں کیا کررہا ہوں. .. انہیں آپ میرا نمبر. …… اوووووہہ آپ کے پاس تو میرا نمبر ہوگا ہی نہیں. … ادھر کریں موبائل میں انٹر کردیتا ہوں. ….. میرا نمبر دے دینا اور کہنا مجھ سے پوچھ لیں جو پوچھنا ہو. .. آگے بڑھ کر کانچ کے ٹیبل پر سے موبائل اٹھا کر بولا تھا. ….
تم. …..وہ ابھی بات پوری کرتے ازمیر نے ٹوک دیا. …..
پاسوڈ. ….. موبائل پر نظریں جمائے کہا تھا. ….
مجھے دو. ..میں. . ..پھر ازمیر نے ٹوک دیا. ….
پاسوڈڈڈڈڈڈڈ. … کافی کھینچ کر بولا تھا. ……
م. مہوش. …. نجانے کیوں. .. انہیں لگا تھا وہ ازمیر سے زیادہ نہیں لڑ سکتے. …
ازمیر نے پیچھے مڑ کر دیکھا تھا.. جاننے کے لیے کہ کون ہے. .مگر وہاں کوئی بھی نہیں تھا. ….
ملک صاحب جلدی بولیں کیا پاسوڈ ہے. .. اب اتنا ٹائم نہیں ہے میرے پاس. …. اس بار قدرے ناگواری سے کہا تھا. …
بتا دیا. …مہوش ہے پاسوڈ. ……. انہوں نے. سامنے نظریں جمائے ہوئے کہا. ….
دو نفوس اپنی جگہ ساکت ہوگئے. … ہما جو کچن میں جا رہی تھی. … ادھر ہی رک گئی. ….
ازمیر کے ہلتے پاوں. ….رک گئے. …. وہ یک ٹک اسلم ملک کو دیکھ رہا تھا. … چہرے کے تاثرات دیکھنا چاہتا تھا مگر. … اس کا چہرہ سٹاپ تھا. …. ہما واپس مڑ گئی تھی. ….
مہوششش. … یہ کون ہے. … ازمیر نے نا سمجھی سے پوچھا. ….
تم نے موبائل کا پاسوڈ پوچھا میں نے بتا دیا. ….. اب میرے باپ نہ بنو. ….. جو کرنا ہے جلدی کروں. ….. وہ اب بھی سٹاپ چہرے کے ساتھ سامنے دیکھ رہے تھے. ….
ازمیر نے بنا پاسوڈ انٹر کیئے. …موبائل آن کی طرف صوفے پر غصے سے اچهالتا. …. لمبے لمبے ڈانگ بڑھتا اپنے کمرے میں چلا گیا. ….. وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا اس کے ماں باپ کے درمیان کچھ غلط ہے. .. اس نے ہمیشہ اپنے ماں باپ کو خوش دیکھا تھا. … یا شاید اس نے وہی دیکھا جو اسے دکھایا گیا. …. وہ جیسا بھی تھا. … اسے اپنی ماں سے محبت تھی. …. وہ نہیں چاہتا تھا اس کی ماں کی جگ کوئی اور لے. ….کمرے میں آکر اسے نے زور سے دروازہ بند کر دیا. …..
■■■■■
یار دیا چھوڑ دو. …. تم کیوں ڈرنک کررہی ہو. … پلیزززز ہوش میں آو
ہانیہ دیا اور جیسکا تینوں کلب میں آئی ہوئی تھی. ….. 12 بج رہے تھے. .. دن کے. … دیا کی ضد پر اس وقت وہ ادھر تھے. … دن کے ہوتے ہوئے بھی کلب میں رات کا سماں تھا. … بلیو پنک. .. لائیٹز ….. انہیں کلز سے بنا ڈانس فلور. … ہر کوئی نشے میں دھت تھا. …. کسی کو کسی کا خیال نہیں تھا. …… حرام حلال بهلائے سب مدہوش تھے. …
ایسے میں دیا سب سے بیگانی. …کینگ سائیز صوفے پر بیٹھی تھی. …. ہاتھ میں وائن کا گلاس تھامے کافی دیر سے اسے گھور رہی تھی. ….. اس کے دماغ میں صرف مزمل تھا. … جس سے وہ اب شاید بے پناہ محبت کرنے لگی تھی. ….. وہ اب اس کے بغیر جینا ہی نہیں چاہتی تھی. …. ہانیہ اور جیسکا اس کے سر پر کھڑی تھی. … وہ جتنی بولڈ تھی. … مگر وائن کو کبھی ہاتھ نہیں لگایا. ..جیسکا تو نن مسلم تھی مگر وہ بھی وائن سے دور ہی رہتی تھی. … دیا خود بھی کلب اور وائن وغیرہ پسند نہیں کرتی تھی مگر اس وقت اسے شدید چاہ ہو رہی تھی. …..
فیروزی شرٹ …ڈارک بلو جینز. …. اسے کلر کی جیکٹ پہنے. …. بالوں کو کھلا چھوڑے ……گرے آنکھیں لال ہو رہی تھی. …… کافی وائن پی چکی تھی. … سر اب بهافی ہونے لگا تھا. ..نشہ طاری ہو رہا تھا. ……
وہ …کیسےےے چھوڑ. .سکتا. ….مجھے. … وووہ وہاںں کسی اوررر کے ساتھ ہنس بول رہا تھا. … خوش تھا. ….مجھے چیٹ کیا اس. …نے. …. میں نہیں بولوں گی اب اس. ..سےےے ….. ویسکی سے بهڑا گلاس اس کے ہاتھ میں جھول رہا تھا. … وہ اب ہوش گهوتی جا رہی تھی. …. اسے کسی کا ہوش نہیں تھا. … یہ بھی نہیں کہ وہ کافی دیر سے حرام مشروب اپنے اندر انڈیل کر گناہ کررہی ہے. …. اس کے دماغ میں اب بھی ایک ہی تصویر گھوم رہی تھی. .. مزمل کسی اور لڑکی کے ساتھ بیٹھا ہنس رہا تھا. …. بس یہی یاد تھا اسے. …..
یاررر دیا ہوش کرو …کیا ہوگیا ہے یارر. …. کیوں اسے اپنے سر پر سوار کردیا ہے. …. یہ لڑکے ہوتے ہی ایسے ہیں. ….. یہ کبھی ایک لڑکی کے ساتھ رہ ہی نہیں سکتے. … جیسکا نے تنگ آکر کہا. ..کل دیا نے ان دونوں کو سب بتا دیا تھا. ..جس پر وہ بہت حیران اور پریشان ہوگئی تھی. …
ہان. ..ہانیہ. ..ت تم نے تووو اسےےے د دیکهاا ناا. …کیسےےے خوش تهااا. …ب بت بتاؤ نا اسے یار ….ویسکی کا پیگ منہ سے لگاتے ہوئے کہا. … لڑکھڑاتے ہاتھوں کی وجہ سے منہ میں جانے کے ساتھ ساتھ اس کا. …منہ. ..گردن. .. اور شرٹ بھی گیلی ہورہی تھی. …. مگر اسے تو کسی چیز کا ہوش نہیں تھا. …
عین اسی وقت مزمل کلب میں داخل ہوا تھا. …. ہر طرف نظر دوڑا رہا تھا. …. نیم تاریکئ میں ڈهوبا کلب. … لڑکیوں کے نیم برہنہ جسم ….. ہاتھوں میں مختلف شراب پکڑے. .. اپنا آپ بلائے تقریباً ہر کوئی مقابل میں مدہوش تھا. .. تب ہی دور سے اسے ہانیہ نظر آئی وہ اسے جانتا تھا. . وہ اس کے دوست حارث کی بہن تھی. … اور دیا کی دوست بھی … وہ ہجوم سے ہوتا اس کی طرف آیا. … اگلا منظر اسے طیش دلانے کے لیے کافی تھا. …. دیا دوسرا پیگ بنا رہی تھی. … جب وہ تیز قدم اٹھاتا اس تکپہنچا …
دماغ خراب ہوگیا ہے تمہارا. .. یہ کیا پی رہی ہو ہوش ہے تمہیں. … اور آپ دونوں تماشا دیکھ رہے ہیں اسکا. .. روکا کیوں نہیں. … مزمل اس کے ہاتھ سے گلاس کھنچتا ہانیہ اور جیسکا کی طرف مڑا. … وہ دونوں حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی جو نجانے کہاں سے ٹپک پڑا تھا. ..
وہ کچھ بولتی تب ہی دیا لڑکھڑاتی آواز میں بولی تھی. ..
ت تم آئے ..م مجهےےےے پ پتاا ت تھا آو گے. … دیکھو ادھر دیا نے اپنے ہاتھوں کے پیالے میں اس کا چہرہ بهڑتے ہوئے کہا. ..
دیا …پہلے آٹهو یہاں سے. …. پھر میں تمہاری ساری باتیں سنو کا. … اس نے آس پاس غصے اور نفرت سے نظریں گھماتے ہوئے کہا. … اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ دیا ڈرنک کر سکتی ہے. …
میر میری پ پہلےےے. بات سنو. …تم م مجھ سے. ..اور صرف مجھ سے پیار کرتے ہو. ….ہے نا. … ت تم مجھے چیٹ نہیں کرسکتے. ….. م میں تو تم سے بہت زیادہہہہہہ پیار کرتی ہوں مزمل. .. آئی ریلی لووو یوو. … جسٹ ڈونٹ ڈو دس ٹو می. ..مزمل. جسٹ ڈونٹٹٹ. … دیا نے ہنوز اس کا چہرہ پکڑا ہوا تھا. ….مزمل پهٹی پهٹی آنکھوں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا. … .. پھر جیسے اچانک ہوش میں آیا تھا. … آگے بڑھ کر اسے اپنی مضبوط باہوں میں بهڑ کر وہ آوٹ ڈور کی طرف آگیا. …
آنکھوں میں نمی بهڑ آئی تھی. … وہ نہیں جانتا تھا. … وہ خوش ہو یا روئے. … آج ہی اس کی محبت نے اسے محبت کا اظہار کیا …. اور وہ جانتا تھا کہ بچھڑے کا وقت بھی آگیا تھا ہمیشہ کے لیے. …. ایک آنسو اس کی آنکھوں میں نکل کر دیا کے کهلے بالوں میں جزب ہوگیا. …. دیا اب بھی اسے اپنی بے لوث محبت کا یقین دلانے کی کوشش میں تھی. … اسے گاڑی میں لا کر فرنٹ سیٹ پر بهٹیا تھا. … وہ پیچھے وہ ہی رہا تھا جب. . دیا کے گلے میں پہنا لاکٹ اس کی شرٹ میں بٹن میں پهس گیا. … وہ اپنا چہرہ اس کے چہرے کے قریب کرتا لاکٹ نکالنے کی کوشش کر رہا تھا. ..جب اسے اپنے گال پر دیا کے ہونٹوں کا لمس محسوس ہوا. … وہ ساکن ہوگیا تھا. …. بس دل دھڑک رہا تھا. ..زور و شور سے. .. جیسے ابھی باہر جائے گا. … دیا نے اپنے ہونٹ اٹھا دیئے تھے اس کے گال سے. .. مزمل کا ہاتھ بے ساختہ اپنے گالوں پر گیا. … اسے اب بھی اس کا مدہوش کردیئے والا لمس محسوس ہورہا تھا. ….
اس نے نظریں اس پر جما لیا. … جو اب کھلکھلا کر ہسن رہی تھی. …چہرے. … سے ہوتی. ..گلابی ہونٹوں پر گئی. … ہونٹوں سے. … شفاف گردن. … گردن سے نیچے. .. اور نیچے. .. اس کی نگاہیں بٹهک ری تھی. … دیا کی خیکٹ کے نیچے والی شرٹ کا گلہ گہرا تھا. … گیلی گردن. ..گیلی شرٹ. .. وہ بالکل بھول گیا تھا. .. کہ وہ آج اس سے دستبردار ہونے آیا تھا. … وہ بہک رہا تھا. .. اور بے ساختہ جهکا تھا اس پر. … لیکن پھر خود کے منہ زور جزباتوں پر قابو کردیا. ….. لاکٹ اتارے کے چکر میں …کهل کر اس کے ہاتھ میں آگیا. … اس نے ایک نظر اس لاکٹ کو دیکھا. …پھر دیا کو. ….. اور پھر وہ لاکٹ اپنی جینز کی پاکٹ میں ڈال لیا. … اسی وقت ہانیہ اور جیسکا اس تک پہنچی. …..
یہ تو نشے میں ہے. .. اس کو کدھر لے کر جانا ہے … مزمل ہانیہ کی طرف دیکھا بولا تھا….
سر …. اپ اسے میری گاڑی میں لے آئیں. ….ہم اسے اس کے گھر چھوڑ دیں گے. .. ہانیہ نے اپنی گاڑی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا. ….
آج دیا اپنی گاڑی نہیں لائی تھی. … نا ہی گارڈز کو. …… ہانیہ اور جیسکا اس کے گھر آئی تھی. … وہ انہی کے ساتھ باہر آگئی. …. گارڈز کو سختی سے منع کر دیا تھا کہ اس کے پیچھے نہ آئیں. …..
اوکے آپ اسے گھر ڈراپ کردیا. ….خیال کرنا یہ ہوش میں نہیں ہے. … بولنے ساتھ اس نے دیا کو سہارا دے کر گاڑی سے نکالا تھا. …. اور اپنے سہارے چلاتا ہانیہ کی گاڑی …. میں بیٹھا دیا. ….. وہ دونوں بھی شکریہ ادا کرتی. … گاری میں بیٹھ گئی تھی. …. اور گاڑی روڈ پر دهڑا دی. …..
مزمل نے جینز کے پاکٹ سے دیا کا لاکٹ نکالا تھا. …. جس پر D لکھا تھا. … وہ کافی دیر اس لاکٹ کو دیکھتا رہا. ….. ایک آنسو ٹوٹ کر اس لاکٹ پر گرا تھا. …. جسے بے دردی سے صاف کرتا. . اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گیا. ….
مزمل دیا سے بات کرنا چاہتا تھا. …. وہ یہی سوچ رہا تھا کہ کیسے کرے. … کیونکہ دیا دو دن سے آفس نہیں آرمی تھی. ….. وہ راستے میں تھا. ..جب اسے گاڑی میں بیٹھی دیا نظر آئی. …. اپنی دوستوں کے ساتھ. …. گاڑی چل گئی تی. …. مزمل کی گاڑی پیچھے تھی. …. تب ہی اسے اسے حارث مل گیا. ..جس نے اسے زبردستی کافی کے لیے روک دیا … اس کیے وہ لیٹ ہو گیا. ..پھر وہ ڈھونڈتے ڈھونڈتے ہانیہ کی گاڑی تک پہنچ ہی آیا
کون سے وہم کے پردے تھے دلوں میں حائل. ..؟
کیوں تیری زات. .. میری زات نہ ہو پائی. …؟؟
■■■<
وہاں تمہیں ایئرپورٹ سے میرا سیکرٹری پک کر لے گی …پریشانی والی کوئی بات نہیں ہے. ….. شام کے 5 بجے کی فلائٹ تھی ابھی 4 ہورہی تھے. …. سحر نے عینا سے کہا جو بالکل تیار تھی اس نے فیصلہ کردیا تھا کہ وہ سحر کے لیے کام کرے گی. ..تب ہی اب وہ جا رہی تھی. ..سحر کے گھر. …. سحر نے اگلی فلائٹ سے جانا تھا تب ہی اسے مطمئن کررہی تھی. …..
پھر وہ مل کر اس سے نکل گئی کمرے سے. ….. سحر اب خاموش کھڑی تھی. ….
پھر سوٹ کیس سے بلیک جینز. .. بلیک. .. گرم ہڈی نکال کر واش روم میں چلی گئی. … ٹھیک دس منٹ بعد وہ ڈریسنگ ڈبل کے سامنے کھڑی بال سنوار رہی تھی. …. چہرہ بلکل سٹاپ تهااا. ….. اسے ازمیر بهلا تو نہیں تھا. .مگر وہ اسے یاد بھی نہیں کرتی تھی. … اس کا خیال تھا اگر اسے دوبارہ ملنا ہوا تو ضرور ملے گا. …..
بالوں کو ہائی پونی میں بهندے. …. بلیک لانگ شوز پہنے …. سوٹ کیس میں سے بلیک ہی ماسک اور گلوز نکال کر پاکٹ میں ڈال دیئے تھے. …. اب الماری کی طرف بڑھی تھی. … اسے کھول کر اپنا مخصوص چاقو اور پسٹل نکال لی ….. پسٹل اسے نے بلیٹ کے ساتھ باندھ دی. ….. اب چاقو لے کر کھڑی تھی. ….. اپنا ہاتھ دھیرے دھیرے چاقو پر پهیر رہی تھی. …. چہرے پر مسکراہٹ تھی. …. پرسرار مسکراہٹ. … فاتحانہ مسکراہٹ. ……. دیکھ بلکل سامنے رہی تھی. …… چاقو کافی تیز تھا. .تب ہی اس کی انگلیوں پر. کٹ لگ گئے تھے. … چاقو خون آلود ہورہا تھا. …. مگر وہ کافی گہری سوچ میں گم تھی. …. وہ درد لفظ سے نا آشنا تھی. ..
بہت کھیل لیا چهپ چهپ کر. ….. اب وقت آگیا ہے. … ملاقات کا. …… بہت جلد. تم بھی موت سے ملنے والے ہو. ….. لیکن. ….موت تمہیں اتنی آسانی سے نہیں ملے گی …. تم بیگ مانگو گے تو بھی نہیں. ….. آج تک ایسی موت کوئی نہ مڑا ہوگا. …… جو موت تمہارا مقدر ہے. …. بلکہ تم نے خود ..خود کے لیے چنی ہے. …. بہت جی لی تم نے سکون سے زندگی. …… اب دیکھنا. ….. تمہاری ملاقات میں کیسی زندگی سے کرواوں گی. ……. سنجیدہ چہرہ لیے وہ خود سے ہی باتیں کررہی تھی. ……..
ہاہاہاہاہ ہاہاہاہاہ. …پھر اچانک وہ زور زور سے ہنسنے لگا گئی. ……. چاقو پر گرفت مضبوط ہوگئی. … خون روانی سے بہنے لگا تھا. ….. اس کا چہرہ پر سٹاپ ہوگیا. …. ٹشو پیپر اٹھا کر خون صاف کیا. ..پھر چاقو سے خون صاف کر کے. .. اسے اپنے لانگ شوز میں چھپا دیا. … ہاتھ سے خون پر نکلنے لگ گیا تھا. … ایک نظر اسے دیکھنے کے بعد. … وہ اپنا موبائل اور کیز وغیرہ اٹھا کر کمرے کو لاک کر کے باہر نکل گئی. …….
میری سمجھ سے بالا تر ہے. …
میرے اندر بیٹها یہ اداس شخص. ..!
■■■■■
کہیں جا رہی ہو. …. مایا ماہا کے کمرے میں آئی تھی. …. وہ ڈرنسگ کے سامنے کھڑی خود پر پرفیوم چھڑک ری تھی. … فل بلیک ڈرس پہنے. ..بلیک. … جاگرز. .. بالوں کو ہائی پانی کیئے. … وہ پرسرار لگ رہی تھی. …مایا نے بھی …بلیک جینز. …بلیک شرٹ پر بلیک ہی لیدر کی جیکٹ پہنی تھی. … بالوں کی ہائی پونی کیئے. … وہ دونوں آج بلکل ایک جیسی لگ رہی تھی. …..
ہاں کچھ چیزیں چاہیے تھی مال تک جا رہی ہوں. … پھر کل رات کی فلائیٹ بھی ہے. ……ماہا موبائل پر کسی کو ٹیکس کرتی بول رہی تھی. ..
اچھا. …..چلو ابھی جاو. … پھر رات کو بات کریں گے. …مجھے بھی کہیں جانا ہے. .. جواب دے کر وہ باہر نکل گئی. … پیچھے. ….. ماہا بھی خود پر ایک نظر ڈالتی باہر نکل گئی. …..
داد بنتی ہے. ..بڑا کام کیا ہے ہم نے. .
دستبردار ہوئے. ..پھر مڑ کر بھی نہ دیکھا اسے. .!
■■■■
ارے کدھر جارہی ہو جانم. ….. ابھی وہ گاڑی کے پاس پہنچی تھی. …… جب اسے احمر کی آواز آئی وہ اب اس کے سامنے آگیا تھا. ….
بلیک جینز پر بلیک شرٹ. …. بلیک جاگرز. … اوپر بلیک کوٹ پہنے. ..بالوں کو ماتھے پر گرائے کافی ہینڈسم لگ رہا تھا. ….
کام سے جا رہی تھی. …. بازو سینے پر باهندتے جواب دیا تھا. ……..
اچهااااااا کام سے جارہی ہوووو. …. احمر نے قدم قدم اس کی طرف بڑھتا بولا تھا. …
یہہہ کہاں آگے بڑھ رہے ہو ٹکو ادھر ہی ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا. …. وہ اسے اپنی طرف بڑھتا دیکھ کر وارننگ والے انداز میں بولی تھی. …
بس جانم اب دور نہیں رہنے ہوتا نا…… اس کے بلکل قریب آکر بولا تھا. ……
نہیں رہنے ہوتا تو بھی رہو. ….. اور یہ جانم شانم مت بلایا کرو. … اسے غصہ آگیا تھا. …..
جانممممممم. … اس کے کان کے پاس جھک کر بولا تھا. ….
اففففففف جانم کے کچھ لگتے. …. ہٹو. … پاگل ہو بلکل. …
ہاں پاگل تو ہوں. ..مگر تمہارے لیے. …… اور یقین کرو. …. نارمل انسان سے زیادہ مشکل ہوتا ہے پاگلوں کو جھیلنا. ….. نازک سی جان ہے تمہاری. ..جانم. ….تیار کرو خود کو. …. ایک پاگل کو جھیلنے کے لیے. …… کیونکہ اب وہ وقت دور نہیں ہے جب یہ پاگل تمہاری جان ہلکان کرے گا. …اپنی. …شدتوں سے. … اپنی جنونیت سے. … اپنی محبت سے. … اپنے عشق سے. ….. تمہیں یہ پاگل تمہارا. ….بلکل بے بس کر دے گا. …. اس کے کان پر جهکا جنونیت سے بول رہا تھا. …….
اس کے ہونٹ مایا کے کانوں سے مس ہورہے تھے. ……. اس کا چہرہ حیا سے لال ہوگیا تھا. ..غصہ بھی آرہا تھا. …..جو اس کا وقت برباد کر کے فضول باتیں کر رہا تھا. ……
ہٹووووو. …. اسے پیچھے دیکلتے وہ گاری کا دروازہ کھول کر اندر بیٹھ گئی. ……
اور ایک شکایتی نظر اس پر ڈال کر گاڑی آگے بڑها دی. …….
جانممممممم. ….. ہاتھ بالوں میں پهیرتا دلکشی سے مسکرایا تھا. ……
تیری قربت کے لمحے پھول جیسے
مگر پھولوں کی عمریں مختصر ہیں.