62.3K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 11

اکتوبر کا درمیان ہوگیا تھا. …. امریکہ کے مشہور شہر نیو یارک میں. ..سردی کافی بڑه گئی تھی. .. ہر کوئی گرم کپڑوں میں ملبوس تھا.
.. رات کو کافی بارش ہوئی. ..اسی کے باعث سڑکیں گیلی تھی ہاں البتہ ابھی دھوپ تھی. .. صبح کے دس بج رہے تھے. ….
. امیر رات کو ہی پہنچ آیا تھا اسلم ملک ہا ہمآ بیگم میں سے کسی کو اس کے آنے کا پتا نہیں تھا. .بلکہ انہیں تو یہ بھی نہیں پتا تھا کہ وہ پچهلا ایک مہینہ کدھر تھا
. … سوزن. ….سوزن. ….. لائونچ میں ہما بیگم کی آواز گونجی تھی.
.. ج. .جی سوزن. . (میڈ) نے آتے ہی مودبانہ انداز میں کہا.
. یہ سامان کس کا ہیں. .. انہوں نے صوفے کے پاس سوٹ کیس کی طرف اشارہ کیا. .
وہ. .میڈم رات میں ہی ازمیر سر آئے تھے انہیں کے ہوں گے. .. اس کے ڈرتے ڈرتے کہا.
. تو یہ ادھر رکھنے کی جگہ ہے. .. کمرے میں لے کر جاو. …. اور اسے جاو آکر ناشتہ کرے. .کرا ہے تو. … انہوں نے کرخت لہجے میں کہا. ..
جی میم. .. وہ کہتے ہی وہاں سے سوٹ کیس لیے غائب ہوگئی. .. ہما بیگم. .ادھر ہی گرنے کے اندر میں صوفے پر بیٹھ گئی.
.. ازمیر ان کا بیٹا تھا. .انہیں بہت پیارا تھا. …مگر اسے دیکھ کر انہیں ماضی کی تلخ یادیں یاد آجاتی تھی. .
.. ازمیر محبت کی نشانی نہیں ایک غلطی کی نشانی تھا. … اسلم ملک کو اس سے کوئی سروکار نہیں تھا. .. وہ کافی دیر ادھر ہی بیٹھی رہی. ….. شاید اس انتظار میں کہ آج اسے ایک مہینے بعد دیکھ لیں مگر وہ نہیں آیا. . تب ہی سوزن کی آواز سے وہ مڑی
وہ. ..میم سر کہہ رہے ہیں کہ وہ ابھی ناشتہ نہیں کریں گے. .. سو رہے ہیں. ..
ہمم جاو تم میرے لیے کافی بنا لائو. .. انہوں سرد آہ بڑھتے ہوئے اسے نیا حکم دیا جیسے سنتے ہی وہ ایک دفعہ پھر غائب ہوگئی. ….
ہما بیگم نے آنکھیں موند کر سر صوفے سے لگا لیا. ..اور ایک دفعہ پھر نہ چاہتے ہوئے بھی ماضی میں گهو گئی.
دیکھ میں گردشِ ایام اٹھا لایا ہوں
اب بتا کون سے لمحے کو واپس لاوں
■■■■
لیکن ایسے کیسے تم جا سکتی ہو. . مایا نے قدرے اونچی. ..حیرت سے ڈوبی آواز میں کہا.
.. وہ سب ناشتہ کر رہے تھے جب ماہا نے اپنا. ..اٹلی جانے کا فیصلہ سنایا. …
جسے سن کر تینوں نفوس ہی حیران ہوگئے. ..،
ہاں ماہا ایسے کیسے جا سکتی ہو سب کچھ یوں چھوڑ کر. … مزمل نے فاک واپس پلٹ میں رکھتے ہوئے کہا. …
ان کے برعکس احمر ناشتہ سے انصاف کررہا تھا. .. جانتا تھا. .. وہ ایک دفعہ کہہ دیا وہی کرے گی.
.. بس میں جانا چاہتی ہوں. … ادھر بزنس دیکھوں گی. … اور یہاں سب تم لوگ دیکھ لینا. … اس نے قدرے لاپرواہی سے. بریڈ پر بٹر لگاتے ہوئے کہا.
… وہ سب آفس جانے کے لیے تیار تھے سوائے ماہا کے. .. بلیک شرٹ پنٹ پر گرے لیدر کی لیڈیز جیکٹ پینے. .. گرہے کی ہائی ہیل. ..بالوں میں ہلکا سا کر کیلئے کھلا چھوڑا ہوا تھا. .. ہلکا سا میک اپ کیئے وہ کافی خوبصورت لگ رہی تھی. …. بلیک ڈنر سوٹ پہنے … بالوں کو جیل سے سیٹ کیئے. … مزمل بھی کافی ہینڈسم لگ رہا تھا. ..احمر نے بھی بلیک ڈنر سوٹ پہنا ہوا تھا. .. بهورے بالوں کو ماتھے پر گرئے پرکشش لگ رہا تھا. ..
.جبکہ ماہا نے ریڈ ٹی شرٹ. . اور وائیٹ ٹرائوزر پہنے. ..بالوں کو رف سے جوڑے میں باندھے. .. نیلی آنکھیں کو بے نیازی بڑهے. .. بے غم بیٹھی تھی. …یا شاید ایسا ظاہر کررہی تھی. .
. ہممممم….اچھا. ….. خیر میں چلتا ہوں اور احمر مایا آج میرے ساتھ جا رہی ہے ضروری میٹنگ ہے تو تم جاؤ. … مزمل نے بات ختم کرتے ہوئے کہا. .
… کیا یار خود دیکھ لو نا. .. یا اس مسئلے کی دکان کو لے جائو. احمر کا تو منہ ہی لٹک گیا تھا. ..ماہا کی طرف اشارہ کرتے ناراضگی سے. کہا. ..
ایک تو کل ہی ازمیر واپس گیا تھا اور احمر نے سوچا تھا اب مایا کے ساتھ ٹائم سپیڈ کرے گا لیکن نا جی.
… میرے سر میں درد ہے میں آرام کروں گی. .. کہیں نہیں جارہی میں. ..ماہا نے نیپکن سے ہاتھ منہ صاف کرتے ہوئے کہا
. .ساتھ ہی اٹھ کر اپنے کمرے کی طرف چلی گئی. ..
. چلو مایا. … مزمل نے اب مایا کو مخاطب کیا جو نجانے کن سوچوں میں گم ہو گئی تھی.
.. ہممممم چلو …مایا نے اٹھتے ہوئے کہا. .. وہ دونوں بھی چلے گئے. ..
اب میں آفس جا کر مکھیاں ماروں. …. نجانے کس مٹی سے بنیں ہیں یہ تینوں. …عجیب. …. سمجھ کسی کی نہیں آتی. … خیر میں جاو اب. … احمر سوچتے ہوئے آٹھ گیا.
…ایک نظر ماہا کے کمرے کے بند دروازے پر ڈالتے عجیب شکل بناتے باہر نکل گیا. ..
میں نے پکارا.. کوئی ہے جو میرا ہو.
. غم نے کہا. ….میں مستقل.
■■■■■
میں نے کہا نا. …میں تم سے محبت نہیں کرتی. ….میں صرف اور صرف احمر کی ہوں …… تمہارے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی. ….اور احمر کو چھوڑ نہیں سکتی. ….مایا نے قدرے اونچی آواز میں کہا تھا.
… ایسے مت کہو ہیر. ..میں بہت پیار کرتا ہوں تم سے. ..میں مر جاؤں گا. … میں تمہیں احمر یا کسی اور کا ہوتا نہیں دیکھ سکتا. .. پلیز مجھے سمجھو. .میں. …
شٹ اپ. ….. جسٹ شٹ اپ …… آپکی بکواس بند کرو. … جارہی ہوں میں. .. مجھ سے دوبارہ اس ٹاپک پر کوئی بات مت کرنا. .. مایا نے دوٹوک انداز میں کہا. ..
نہیں. ..ن. .نہیں. …ہیرو پلیز رکوو ..رکوو بات سنو. …ہیررررررر وہ ایک دم چیخ کر اٹھا تھا. …
سارا جسم پسنے میں شرابور تھا. .. اور مائے گاڈ. … ازمیر نے کمرے میں نظریں دہراتے بے ساختہ کہا. …
. ہیر یار. ..نہیں بهول سکتا نا تمہیں. … تمہیں ہر صورت میرا ہونا ہوگا. ..اس احمر کی نہیں ہو تم. … تم پہلے ہو گی جفا پر میں منا لوں گا تمہیں. … ازمیر نے کمرے میں بجهے فانوس پر نظریں جمائے ہوئے خود کلامی کی. ..
میں بہت جلد تمہیں اپنے پاس لے آئوں گا ہمیشہ کے لیے. .. نظریں اب بھی فانوس پر ہی تھی
بڑے بدنصیب ٹھہرے جو قرار تک نا پہنچے
در یار تک تو پہنچیں دل یار تک نا پہنچیں
■■■■■
مزمل یہ. ..یہاں. … مایا نے دیا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا. .
.. وہ دونوں ابھی ہی آفس پہنچے تھے جب مایا کو دیا نظر آئی ٹی پنک شرٹ پر پئک جیکٹ. .ساتھ بلیو جینز پہنے. .بالوں کو کھلا چھوڑے. .. ہاتھ میں فائل پکڑے کسی سے بات کررہی تھی.
. سیکرٹری ہے .. مزمل نے مختصر سا جواب دیا. . اچھا. ….. خیر میٹنگ کب ہے. .. مایا نے بغور دیا کو دہکهتے ہوئے پوچھا. . میٹنگ روم میں ہی جا رہے ہیں.
. مزمل نے سرسری سا جواب دیا. . ہمممم. وہ دونوں میٹنگ روم میں داخل ہو گئے تھے
. ہیلو ایوری بڈی. … مزمل نے داخل ہوتے ہی کہا. . تهوری دیر بعد مزمل نے بلیک ڈائمنڈ خرید لیتے تھے. .. ڈیل کامیاب ہوئی تھی. … ایک ایک کر کے میٹنگ روم سے سب نکل گئے.
.. سوائے سحر کے جو مایا سے باتوں میں مصروف تھی. .. وائٹ بزنس سوٹ پہنے. ..کالے لمبے بالوں کی ہائی پونی کیئے. . ہلکے میک اپ میں وہ خوبصورت لگ رہی تھی. .. تهوری دیر میں ہی مایا اور سحر کی اچھی دوستی ہوگئی تھی. ..
جس میں زیادہ ہاتھ سحر کا تھا. . اسے دیکھنے میں ہی مایا کافی اچھی لگی تهی.
.. نہیں چلو تم میرے گھر. . میں تمہیں ملواؤں گی اپنی بہن سے یقیناً تم کنفیوز ہوگی کہ مایا کون ہے. . مایا نے اسے دیکھتے ہوئے کہا. .
.. اچھا. …. لیکن جلدی واپس آنا ہوگا مجھے کام ہے پھر ہوٹل واپس جانا ہوگا. ..وہ تینوں میٹنگ روم سے باہر آگئے تھے
… مزمل اس سب میں خاموش تھا. .اس نے پھر دوبارہ دیا کو نہیں دیکھا تھا. .. اور پھر شاید دیکھنا بھی نہیں چاہتا تھا …… وہ جانتا تھا اس کو دیکھنے کے کافی دیر بعد تک وہ تکلیف میں رہتا تھا.
.. ازیت. …
….. کل تم پر ایک نظر پڑی.
.. پھر. نظر لاپتہ ہوگئی. .!!
میں تمہیں دیکھنا نہیں چاہتا تھا. ..!!
پر پھر بھی کئی لمحے تکتا رہا. ..
. جانے کیوں یہ دل میرے بس میں نہیں..
. میری نگاہ جب جب تم پر پڑہی. .
.. مجھے تب تب تکلیف ہوئی.
… اب میں نے سوچا ہے کہ.
… میں اپنے دل کو منا کے. .
… تمہیں ہمیشہ کے لیے بهلا دوں. .
. اور اب میں تم سے کبھی نہیں ملوں گا.
.. مجھے امید ہے.
… میں جب تم سے نہیں ملوں گا. …
تو تکلیف سے بھی نہیں گزروں گا. .
.. اے میرے بچهرے محبوب.
… تو فقط ازیت ہے. …
. ازیت کے سوا کچھ نہیں
. .. اور اب اس تکلیف سے بغاوت کر کے
. … میں خوشی سے دوستی بنا لوں گا. .
… ہاں میں تمہیں بهلا دوں گا. ….
■■■■
شام ہورہی تھی. …. … سردیوں کی وجہ سے جلدی ہی اندھیر ہو رہا تھا. … کافی دیر بیٹی رہی تی مگر ماہا سے نہیں مل پائی ….ماہا سلیپنگ پلیز لے کر سو گئی تھی. …. تو اس نے منع کر دیا تھا. …کہ پھر مل لے گی. …… وہ اب واپس ہوٹل کی طرف جا رہی تھی.
…. جدھر اس نے سٹے کیا تھا. …. مزمل لوگوں کی کمپنی. . باس سے ہی مل کر میٹنگ فائنل کرتے تھے. .. سیکرٹری وغیرہ نہیں. ..اسے لیے سحر کو خود آنا پڑا …اور اب اسے صبح واپس جانا تھا. .. رابیہ بیگم کی طبیعت خراب ہوگئی تھی. … ورنہ اسے دو تین دن رہنا تھا.
…… افففف اسے بھی ادھر ہی رکنا تها. … اس نے غصے سے سٹرنگ پر ہاتھ مارا.
.. گاڑی ایک قدرے ویران جگہ پر جھٹکے سے رک گئی تھی. … اس نے آنکھوں سے گاگلز اتار کر دوسری سیٹ پر پھینکے تھے اور خود باہر نکل گئی تھی. …
جب کچھ سمجھ نہیں آیا تو اس نے ہلپ کے لیے پلمبر کو کال کی….. اور خود گاڑی کے ٹائر پر پاوں رکھ کر کھڑی ہوگئی تھی. … ابهی وہ ریلکس ہوکر کھڑی ہوئی تھی کہ اسے لگا کہ کوئی دهمیی آواز میں سسک رہا تھا. .
. پہلے اس نے اپنا وہم سمجھا مگر آوازیں ہنوز آرہی تھی. …. اس نے چاروں طرف نظریں گمهائیں. .. دائیں طرف کافی جھاڑیاں تھیں. … وہ آواز ادھر ہی سے آرہی تھی.
…اور شاید آواز لڑکی کی تھی. ….. سحر نے آنکھیں زور سے میچی تھی. …. دوبارہ آنکھیں کھولی. …. کالی سیاہ آنکھیں لال ہورہی تھی. …. سفید شفاف پشانی بلوں سے سج گئی تھی. … ایک گہرا سانس ہوا کے سپرد کرتی وہ آواز کی سمت چل دی. .. قدم قدم چلتے آوازیں نزدیک ہورہی تھی. … وہ لڑکی کی ہی آواز تھی. …. اس نے مٹھیاں زور سے بیچی ہوئی تھی کے اس کے بازوؤں کی رگیں واضح ہورہی تھی. …
… کیا ہورہا ہے. ….. دور رہو لڑکی سے. ….. اس نے انگلش میں کہا. سامنے ہی دو لڑکے ایک لڑکی کے ساتھ زبردستی کرنے کی کوشش کر رہے تھے. ..وہ لڑکی کافی بچائو کررہی تھی مگر وہ دو مضبوط لڑکے تھے. .. لڑکی کی شرٹ کوفی پهٹ گئی تھی. .
. کیوں تیرا بھی من ہورہا ہے. …. ایک لڑکے نے پلٹتے ہوئے خباثت سے آئی ونک کرتے ہوئے اردو میں کہا
…ساتھ ہی دونوں لڑکوں کا قہقہہ گونجا. …. وہ خود کو نارمل کرنے کے لیے گہرے گہرے سانس لے رہی تھی. .. چہرہ غصے سے لال آنگارہ ہوگیا تھا. …..
ارےےےے بےبی کی حالت تو ابهی سے خراب ہوگئی. …….اس سے تو بہتر ہے یہ. … دوسرا لڑکا اب اس لڑکی کی طرف مڑ گیا تھا جو اب اٹھ کر کھڑی ہوگئی تھی. …
. تم کیوں آٹھ گئی ڈارلنگ ابهی … اس لڑکے نے دوبارہ اسے دھکا دیتے ہوئے کہا.
.. وہ لڑکی شاید تیار نہیں تھی تب ہی دوبارہ نیچے گر گئی تھی اور اب وہ حیوان اس پر جھک رہا تھا.
… تم پہلے کلاس لو گی ڈارلنگ چلو میں تمہیں سب بتاتا ہوں. . آو ہم تھوڑا سائیڈ پر چلے جاتے ہیں. .. کافی جگہ ہے …. ہم دونوں تقریباً روز آتے ہیں ادھر مزے کرنے. . پہلا لڑکا اب سحر کی طرف بڑھ رہا تھا.
…. سحر اب بھی اس لڑکی کو دیکھ رہی تھی. ..جو اس اپنے اوپر جهکے لڑکے کو پیچھے کرنے کی کوشش میں ہلکان ہو رہی تھی. .
…. آاآآآآآآآآآآہہہہہ …… اس سے پہلے کے اس لڑکے کا ہاتھ سحر کے چہرے کو چھوتا. ….
اس نے اپنے ہاتھ میں پکڑا چاقو پوری قوت سے اس کے بازو پر مارا تھا … سوسرا لڑکا نے بھی اس لڑکی کو چھوڑ دیا تھا جب ہی اس لڑکی نے ہاتھ میں پکڑا پتھر اس سے سر پر مارا.
… اب دونوں لڑکے زمین پر پہرے کرہا رہے تھے. ….
تم مرد خود کو سمجھتے کیا ہو. …. اور عورت زات کو کیا سمجھتے ہو. …. ایک عورت کی کوکھ سے جنم لے کر. .. پھر عورت پر ہی چراہی کرتے ہو. ….. تم مردوں نے عورتوں کو بہت کمزور سمجھ لیا ہے. …. اور بهول گئے ہو عورت تب تک ہی کمزور ہوتی ہے جب تک وہ کمزور رہنا چاہتی ہے. … ورنہ عورت اتنی کمزور ہوتی نہیں ہے جتنا تم جیسے حوس پرست. . حیوان اسے سمجھ لیتے ہیں. …. اور تم جیسوں نے ہی مردوں کو بدنام کیا ہوا ہے ورنہ ہر مرد جسم نہیں چاہتا. …. سحر ایک ٹانگ فولڈ کر کے. … دوسری پاؤں پر وزن ڈال کر اس لڑکے پر زا سی جهکی ہوئی تھی.
…. چاقو کی نوک اس لڑکے کی چھاتی پر تھی. … دوسرا لڑکا کامپ رہا تھا. ….. اور اس لڑکی کو اب لڑکوں کے بجائے اس سائیکو لڑکی سے ڈر لگ رہا تھا مگر وہ خود کو محفوظ بھی سمجھ رہی تھی. …
. آاآآآآآآآآآآہہہہہ … سحر نے وہی چاقو اب اس لڑکے کے پیٹ پر مارا تھا. … خون کا فوارہ پھوٹا تھا ساتھ ہی اس کی چیخیں. .
.. اب سحر دوسرے لڑکے کی طرف آگئی تھی لیکن بیٹی نہیں تھی … کبھی اسے اور کبھی خوفزدہ کھڑی لرکی کو دیکھ رہی تھی. ..
.. ادهر آئوو. … تب ہی اسے مخاطب کیا. … جو اب خوفزدہ سئ اسے دیکھ رہی تھی. ….
میں نے کہا ادهر آو. …. اب قدرے آونچی آواز میں کہا. .
. یہ لو اس نے تم سے بدتمیزی کرنے کی کوشش کی. … بلکل اسی طرح مارو اسے جس طرح میں نے اسے مارا. … وہ ڈرتی ڈرتی اس تک آئی تھی جب سحر نے اس کا ہاتھ آگے کر کے خون آلود چاقو اس کے ہاتھ میں رکھ کر کہا.
… ن. ..ن نہیں . آ آپ خود مار دیں. . پلیز اس لڑکی نے چاقو کو کانپتے ہاتھوں سے اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا. .
. چلو. ..جیسئ تمہاری مرضی. …… میں ہی مار دیتی ہوں. .مگر اسے نہیں تمہیں. ….. سحر نے سٹاپ لیجے میں کہا. .
ن ن نہیں. ..میں …خود. …..ہی. … وہ لڑکی اب چاقو لے کر لڑکے کے قریب ہوگئی تھی جو خوف سے بہوش ہونے کو تھا.
.جبکہ دوسرا درد سہتے سہتے بہوش ہوگیا تھا. .
… آاآآآآآآآآآآہہہہہ. ….. وہ لڑکا بھی اب درد سے چیخ رہا تھا جبکہ اسے کافی ہلکا مارا تھا. …
. ہممممم جاو اب تم …. سامنے میری گاڑی کھڑی ہے. …. میں آتی ہوں. .. سحر نے اس کے کانپتے ہاتھوں سے خون آلود چاقو لیتے ہوئے کہا.
…وہ لڑکی تیزی سے باگتی ہوئی جھاڑیوں میں گم ہو گئی .
… سحر اب اس چاقو کو دیکھ رہی تھی جس سے خون قطرہ قطرہ زمین پر گر رہا تھا. …. پھر وہ نیچے بیٹهی اور اس لڑکے کی شرٹ پہاڑ کر اس کے سینے پر مہارت سے چاقو پهیر رہی تھی. ..
. پھر وہ دوسرے لڑکے ساتھ بھی ویسا ہی کیا اور پھر چاقو سے خون اس کی شرٹ سے صاف کرتے. . کور کر کے جیکٹ کی جیب میں ڈال لیا. ….. اور ان لڑکوں کو باری باری گھسیٹ کر سڑک سے تھوڑا دور لو کر پھینک دیا. … پھر ہاتھ جہرتے #چہرے پر ماسک ٹھیک کرتی. (جو آنے سے پہلے پہن چکی تھی) وہ بھی گاڑی کی طرف آگئی.
… پیچھے دونوں لڑکے بہوش پردے تھے سینے …خون میں لت پت. …. سینے پر لکھا لفظ …. اس دفعہ واضع تھا. …..P§ýčõ
یہ گونگے بہرے ہیں بات مانو آٹهو یہاں سے.
یہ کیسے لوگوں میں بیٹھ کر دکھ سنا رہے ہو