Tu Bewafa Na Tha by Sandal readelle50033 Episode 02
Rate this Novel
Episode 02
ہیلو….. ماہی ..کیسی ہو. ..کیا ہو رہا ہے، احمر مایا کے کمرے میں داخل ہوتے اسکے ساتھ ہی بیڈ پر گرنے کے انداز میں بیٹھے ہوئے بولا تھا. ..
ہمم مجھے کیا ہونا ہے ٹھیک ہوں میں ..بس آفس کا کچھ کام کر رہی تھی، ،نیلی آنکھیں لیپ ٹاپ پر مرکوز کئے وہ معروف سے انداز میں بولی. .
، یار مایا کیا کررہی ہو ، چلو نا باہر چلتے ہیں کہیں ،اسکو ہنوز لیپ ٹاپ میں گھسا دیکھتے احمر نے اب تپ کر بولا تھا. .وہ کوئی بہت ہی آدم بے زار تھی. .
کل تو گئی تمہارے ساتھ. .اب کدھر جانا ہے. .مایا نے نظریں لیپ ٹاپ سے ہٹاتے حیرت سے پوچھا تھا. .ابھی کل ہی تو وہ کئی گھنٹے اسکے ساتھ مال میں خوار ہوئی تھی. .اور اب وہ ایسے بول رہا تھا جیسے صدیوں سے کہیں گیا نا ہو. .
،شاپنگ کریں گے ، سی سائڈ جائیں گے اور ڈنر کر کے گھر واپس ،
احمر نے چہکتے ہوئے اسے تفصیل سے جواب دیا . اور پلیززز صرف میں اور تم جائیں گے پلیززز ، آخر میں اس نے مسکین سی شکل بنا کر فرمائش بھی کردی تھی…
،اوکےے تم جائو میں تیار ہوکے آتی ہوں، گہرا سانس ہوا کے سپرد کرتی اسنے ہار ماننے کے انداز میں بولا. ..
،
یسسسس ، اور تهورا جلدی آنا پلیززز ، کہتا وہ خوش ہوتا باہر نکل گیا تھا ،
مایا اب بھی دروازے کی طرف ہی دیکھ رہی تھی، جہاں سے وہ ابهی ابهی گیا تها …وہ بچی نہیں تھی وہ جانتی تھی کہ احمر اسے پسند کرتا ہے ، کہیں دل میں وہ بھی تو احمر کو پسند کرتی تھی لیکن وہ فلحال دلگی افورڈ نہیں کر سکتی تھی،
، تهوری دیر بعد وہ تیار ہو کر نیچے آگئی تھی، وائٹ ٹی شرٹ، وائٹ ہی جینز پہنے، بالوں کو کھلا چهورے ، سن گلاسیز پہنے وہ احمر تک آئی تھی وہ گاڑی کے قریب کھڑا اسے ہی دیکھ رہا تھا ، وہ اسے بچپن سے دیکھ رہا تھا مگر وہ اسے ہر بار ہر بار سے زیادہ اچھی لگتی تھی،..دل دھڑکا تھا زوروں سے. ..
ہیلو کدھر گم ہو، اس نے احمر کے سامنے ہاتھ ہلایا تھا جس سے وہ ہوش میں آیا تھا ،
نہیں تو کہیں نہیں ، تم آئو بیٹھو، وہ اس کے لیے گاڑی کا دروازہ کھولتا ہوا بولا تھا ، مایا بیٹھ گئی تو اس نے بھی ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی
الجھنیں بھی اسے دیکھیں تو سُلجھ جاتی ہیں
یار وہ شخصنگاہوں سے گرہ کھولتا ہے!! ■■■ یہ ایک نائٹ کلب کا منظر تھا کہ بلیو ، پنک اور پرپل لائیٹز، کلب کے بیچ و بیچ ، پنک اور پرپل کلر کا شیشے کا ڈانس فلور، جس پر کتنے ہی امیرزادے اپنے جود سے بے خبر دوسروں میں مدہوش تھے، وہ بھی کلب میں بیٹھا ہاتھ میں وائن پکڑے کسی کے انتظار میں تھا، وہ یہاں اکثر اوقات آتا تھا، مگر آج اسے کسی کا بے صبری سے انتظار تھا جو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا، بلیک شرٹ پنٹ پہنے بلیک ہی شوز، بالوں کو جیل سے سیٹ کیے وہ کافی ہینڈسم لگ رہا تھا، وہ بے چینی سے ادھر ادھر دیکھ ہا تھا جب اچانک اس کی نظر داخلی دروازے پر پرہی، اور وہاں سے پلٹ نہ سکی وہ بلیو جینز اور ریڈ سٹائلش سی شرٹ پہنے، ریڈ ہی ہائی ہیل پہنے لمبے سلکی بالوں کو کهلا چهورے بہت خوبصورت لگ رہی تھی، اس کے ساتھ دو اور لڑکیاں بھی تھی انہوں نے بھی سیم ڈریسنگ کی ہوئی تھی لیکن مزمل کی نظر دیا پر جم سی گئی تھی ، س کی بے قرار آنکھوں کو قرار سا آیا تھا، گہرا سانس لیتے اسنے ویکسی کا گلاس ہاتھ میں لیتے صوفے سے ٹیک لگائی. .بےقرار نگاہیں اسپر جمی ہوئی تھیں. .. یار ہانیہ تم ادھر کیوں لائی ہو ، دیکھو کتنا شور ہے ہم کہیں اور تمہاری birthday celebrate کر لیتے ، وہ بے زاری سے اپنی ساته کهڑی ہانیہ سے بولتے اس کے سامنے والے صوفے پر بیٹھ گئی، وہ ان کی آواز سن سکتا تھا اور اب تو اس کے کان پوری طرح ادھر لگ گئے تھے،.. کیا یار دیا تم اتنی بورنگ ہو دیکھو سب کتنا enjoy کررہے ہیں ایک تم ہو کہ ادھر بیٹھ گئی ہو،..چلو ہم بھی چلتے ہیں. . اس کی دوست جیسکا نے اسے دیکھتے ہوئے کہا…اور ساتھ ہی پرشوق نگاہوں سے چاروں طرف دیکھتی اسکے ساتھ ہی صوفے پر بیٹھ گئی تھی. .ہانیہ بھی ان کے ساتھ ہی بیٹھ گئی. .. تم لوگ جائو میں ادھر ہی ہوں، دیا نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے بے زار سے لہجے میں کہا. .وہ کلبز میں کئی بار آتی رہتی تھی. .مگر یوں رات کے وقت اسے آنا نہیں اچھا لگا تھا. … اوکے پهر ہم آتے ہیں، جیسکا جانتی تی وہ ایک بار کہہ دے تو پهر نہیں مانتی ..تبهی کهڑے ہوتے…ہانیہ کو کهنچتے ہوئے وہاں سے ڈانس فلور پر لے گئی. دیا، ہانیہ اور جیسکا بچپن کی دوستیں تھی، اور آج 12 کے بعد ہانیہ کی birthday تھی تو وہ دونوں اسے زبردستی یہاں لے آئی ، امریکہ جیسے آزاد ملک میں یہ عام سی بات تھی…مگر اس کے باوجود انہوں نے کبھی اپنے لیمیٹس کراس نہیں کی. .. ، وہ صوفے پر بیٹھی موبائل یوز کر رہی تھی مگر اسے بار بار لگ رہا تھا کہ وہ مسلسل کسی کے گہری نظروں کے احصار میں ہے اس نے سر اٹھا کر ادھر ادھر دیکھا مگر سب اپنے میں مدہوش تھے…اپنا وہم سمجھتی وہ دوبارہ موبائل کی طرف متوجہ ہوئی. .. مگر اب وہ بیٹهی بیٹهی بور ہو رہی تھی تب ہی گھر جانے کے خیال سے آٹھ کر باہر نکل گئی، اسکا خیال تھا کہ وہ باہر نکل کر جیسکا کو میسج کر کے بلا لے گی. .ورنہ تو ان دونوں نے آنا نہیں تھا. .. وہ جو کب سے بیٹھا اسے دیکھ رہا تھا. .وہ اسے کنفیوز ہوتا بھی دیکھ چکا تھا. .مگر اسکے آٹھ کر جاتے ہی وہ بھی اس کے پیچھے ہی ب نکل گی دیا موبائل فون پر جیسکا کو میسج کرتی اپنی گاڑی کی طرف بڑھی. ..ابھی وہ دروازہ کھول کر بیٹھنے ہی لگی تھی جب اچانک مزمل نے اسے بازو سے کھینچ کر گاڑی سے ہی پن کیا تھا، ک کون… کون ہو تم. .پیچھے ہٹو. …وہ اچانک ہی حملے پر بوکھلا سی گئی تھی. .جبھی اسے دور کرنے کی کوشش کرتے قدرے اونچی آواز میں چیختے ہوئے بولی. . بتا دوں گا اتنی کیا جلدی ہے، خمار آلود آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی، م جهے چھوڑ. ..، آنکھیں بند کرو ، وہ ابھی بول ہی رہی تھی کہ مزمل نے س کو ٹوکا میں کیوں بند کروں ، اس نے خود کو ناریل ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا. .اور ساتھ ہی اسکے کندھے پر ہاتھ رکھے اسے دور کرنے کی ایک آر ناکام کوشش کی.. وہ مقابل کا چہرہ نہیں دیکھ سکتی تھی کیونکہ اس نے چہرے پر رومال باندھا ہوا تھا باقی کو ہڈی سے چھپا لیا… میں کہہ رہا ہوں آنکھیں بند کروووو ، اب کی بار اس کے لہجے میں غصہ در آیا تھا دیا نے جٹ سے آنکھیں بند کر دی، اس کی تیزی دیکھتا مزمل مسکرایا وہ ساتھ ہی چہرے سے رومال ہٹا کر اس کے چہرے پر جھک کر اپنے ہونٹ اسکے گال سے مس لئے ، آر پل میں دور ہوا تھا. رومال واپس اوپر کرتے اوپر اسنے ایک نظر سختی سے آنکھیں موند کھڑی دیا کو دیکھا جو اسکے دور ہوتے ہی اپنی بڑی بڑی بوری آنکھیں کھولے غصے سے اسے دیکھ رہی تھی. . عین اسی وقت وہاں سے ایک گاڑی گزری تھی ، جس کی لائٹز میں دیا نے اس کی نیلی آنکھیں کو دیکھا. ..اور بس وہ دوبارہ اپنا چہرہ چھپا کر دور ہوا. .اور پھر الٹے قدم لیتا وہاں سے غائب ہوا تھا. . با* اسنے گال پر ہاتھ رگڑتے اسکی دور ہوتی پیشت کو دیکھتے گالی سے نوازا تھا. ..سب اتنا جلدی اور اپنا غیر متوقع ہوا کہ وہ اس کہ علاوہ کچھ کر ہی نا سکی. .مزمل کا دهکتا لمس اب بھی اسے اپنی گال پر محسوس ہو رہا تھا.
یار دیا کدھر تھی ہم تمہیں دھونڈ کر تھک گئے ، اور تم یہاں باہر کیوں آئی ،
ہانیہ اسکے پاس پہنچتیے ساتھ ہی شروع ہو گئی…
ہاں یار میں بور ہورہی تھی تو سوچا کہ گھر چلی جائو، تمہیں میسج کرنے ہی والی تھی. .بمشکل مسکراتے ہوئے کہا اس نے مزمل والی بات چھپا لی..
اچھا تو تم بھول گئی کہ ہم دونوں تمہارے ساتھ آئی تم چلی جاتی تو ہم کیسے گهر جاتے ، اب کی بار جیسکا نے تیوری چڑھاتے ہوئے کہا. …اور ہم یہاں مکھیاں مارنے نہیں آئے تھے. .. سارا پلین خراب کر دیتی ہو ہمیشہ. .
لے کر ہی جانا تھا تم دونوں کو ..اور کس نے کہا اتنی رات کو آتے. .اب چلو بھی لیٹ ہو رہے ہیں. … منہ بناتے ہوئے بولتی وہ اب گاڑی میں بیٹھ گئی تھی. .
اسکے ساتھ ہی جیسکا اور ہانیہ بھی بیٹھ گئی. .گاڑی سٹارٹ کرتے اسنے روڈ پر ڈالی اور بھگا کر لے گئی. … ان دونوں کو چھوڑنے کے بعد اپنے گھر کی طرف گاڑی موڑ لی تھی. .
میں تجھے دیکھتا ہوں دیر تلک سوچتا ہوں
ملنے والوں میں کہاں ہے کوئی تیـرے جیس
■■■■
ٹهک ٹهک، وہ سٹڈی روم میں بیٹھی تھی کہہ دروازہ کھول کہ شمس اندر آیا وہ ان تینوں کا پرسنل سیکرٹری تھا
ہاں بولو کیا بات ہے، وہ اس کو دیکھتے ہوئے بولی جس کے ہاتھ میں کچھ فائلز تھی،
وہ میم ان کے بارے میں پتا چل گیا ہے ، شمس نے اسکے سامنے کرسی پر بیٹھتے ہوئے کہا…
ہمم ..گوڈ…. یہ تو اچهی بات ہوئی….بتائو کیا کیا پتا چلا ، ایک ہاتھ میں پنسل کو گھماتے ماہا نے سپاٹ لہجے میں کہا. .نیلی آنکھوں میں عجیب سا تاثر در آیا تھا. .
میم صدیق خان کا اپنا بزنس ہے ، فوزیہ نامی عورت سے شادی ہوئی، ایک بیٹا اور ایک ہی بیٹی ہے ، فارس اور دیا ، خود صدیق خان الگ رہتا ہے اور بچے ماں کے ساتھ الگ. ..شمس نے فائل پر نظریں جمائے ہوئے تفصیلی جواب دیا. .
ہمممم …اور کوئی کمزوری، کچھ سوچتے ہوئے اس نے پوچھا،
میم بچے ہی اس کی کمزوری ہیں خاص کر بیٹی دیا ، وہ ڑرتا ہے کہ کہیں اس کے ماضی کے گناہ اس کے بچوں کے سامنے نہ آجائیں..وہ ایک دفعہ پھر بولا تھا
ہمم اور دوسرا ؟؟؟ ماہا نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا ،
ازمیر ملک نام ہے ، اکلوتا ہے کافی بگڑا ہوا ہے، کئی غیر قانونی کام کر کے اس نے اپنے بزنس کو کئی ملکوں میں پهیلا لیا ہے، لڑکیاں اس کی کمزوری ہیں کئی لڑکیوں کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا ہے، ، کئی قتل کیئے ہیں لیکن ثبوت نہ ملنے کی وجہ سے کوئی کچھ نہیں کر سکتا، ، اور سب چھوٹی، بڑی معلومات فائل میں موجود ہیں،
شمس کہہ کر خاموش ہو گیا تھا،
ہمم چلو اپنے بندوں سے کہو کہ اس پر نظر رکھے ، ایک منٹ کی خبر چاہیے مجھے اور اب جاو ، مزمل اور مایا آجائیں تو پھر بتائیں گے کہ آگے کیا کرنا ہے مایا کے کہتے ہی وہ اٹه کر باہر نکل گیا…
اووو تو یہ ہے دیا صدیق خان ،، ماہا نے فائل میں موجود اس کی تصویر کو دیکھتے ہوئے کہا،
اور یہ ازمیر ، کافی ہینڈسم ہے تب ہی شکار میں مشکل پیش نہیں آتی ،
اور یہ فارس صدیق خان ، اس نے تصویر کو غور سے دیکھا ، اسے فارس کافی ڈیشنگ لگا ….
اپنی سوچوں کو جٹهکتے وہ دوبارہ فائل پرهنے لگ گئی،
ہممم کافی اچھی زندگی گزار لی تم تینوں نے مگر اب تم تینوں کی زندگی نرخ بننے والی ہے تم لوگوں کے باپ کا ماضی تم تینوں کے حال اور مستقبل کو کها جائے گا ، ماضی میں تو سلطانز کے نصیب میں ہار لکھی گئی تھی ، مگر اس بار ہار تم لوگوں کا مقدر ہے ، ان تینوں کو بھی اسی ازیت سے گزرنا پڑے گا جو ہم نے سہی ، بس بہت جی لی زندگی اب گزار کے بتانا زندگی کو ،،
وہ ان کی تصاویر کو دیکھتی بول رہی تھی ، آنکھیں لال آنگار ہوگئی تھی ، لہجے سے وحشت ٹپک رہی تھی وہ عنقریب کئی زندگیاں برباد کرنے والی تھی ، فائل بند کرتے ان نے صوفے پر سر ٹکا دیا یہ تو تہہ تھا کہ آج پھر نیند نہیں آنی تھی
کیا ضروری ہے کہ میں التجا ہی کروں؟
تو دیکھ تو سہی میری سوالی آنکھیں….
■■■
تم کھڑی کیوں ہو بیٹھو نہ ، ازمیر نے اپنے سامنے کھڑی لینا سے کہا جو اس کی آج کی رات کو خوبصورت بنانے والی تھی ،
ازمیر میں یہاں بیٹھنے نہیں آئی ، تمہارے پیرنٹس کدھر ہیں، لینا نے پریشانی سے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے کہا. ..
ان سے بھی مل لینا پہلے مجھ سے تو ملو ،..
ازمیر نے اس کا جائزہ لیتے ہوئے کہا ، ریڈ ٹاپ بلیک شاٹس پہنے. .گولڈن بالوں کو کھلا چھوڑے وہ کسی کا بھی ایمان ڈگمگا سکتی تھی. ..
ازمیر اگر تمہارے موم ڈیڈ ادھر نہیں ہیں تو پلیزز مجھے میرے کهر ڈراپ کر دو ، لینا کو کچھ مشکوک سا لگا جبھی وہ کهڑے ہوتے ہوئے بولی تھی. ..
کیا بے بی. .موم ڈیڈ سے ملوا دوں گا نا. … ابھی تو موڈ آف مت کرو. ..ازمیر نے اسکا مرمرئی ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے قریب کرتے ہوئے گھمبیر آواز میں کہا تھا. ..
مگر بے بی. ..
تمہیں مجھ پر یقین نہیں ہے کیا. … اسکے کان کی لو کو اپنے ہونٹوں سے چھوتا وہ بوجھل لہجے میں سرگوشی نما بولا. .دوسرا ہاتھ اسکی کمر کے گرد باندھ لیا تھا. .
خود سے بھی زیادہ ہے. .. لینا بھی مدہوش ہورہی تھی جبھی سب بهلائے اسکے قریب ہوگئی. ..
ہمم تو بس. .. بس صرف مجھے یاد کرو. .مجھ محسوس کرو بس. .بس بھول جاؤ. ..وہ اسکے اور قریب ہوگیا. .اتنا کہ کوئی فاصلہ نا بچا تھا. ..
یہ سلسلہءِ بدگمانی ختم ہو یا رب
بہت دور ہو گئے کچھ اپنے بھی یہاں
