Tu Bewafa Na Tha by Sandal readelle50033 Episode 10
Rate this Novel
Episode 10
کافی خوشبو پورے آفس میں پھیل ہوئی تھی. …. مگر کافی کا کپ اسکا منتظر تھا. ..جو جانے کن سوچوں میں گم تھی. ، وہ آفس میں بیٹهی کسی گہری سوچ میں گم تھی. .اسے آج ایک ہفتہ ہوگیا تھا مزمل کے ساتھ کام کرتے ہوئے. .. وہ کافی پریشان تھی مزمل کے رویے سے جو کافی گرم سرد تھا. … کبھی جان چهڑکنے والا تو کبھی جان لینے والا. ..وہ سمجھ نہیں سک رہی تھی اس کے رویے کی وجہ. …. انٹر کام دوسری دفعہ چیخا تھا ساتھ ہی وہ ہوش میں آئی تھی. .
ہیلو سر. .. اس نے انٹرکام کان سے لگاتے دهمیے لہجے میں کہا.
اوکے سر .میں لے آتی ہوں. .کہنے ہی اس نے اپنی کافی کی طرف نظر ڈالی جو اب ٹھنڈی ہوگئی تھی. .. کچھ دیر پہلے اس کا کافی دل کررہا تھا کافی پینے کا مگر ٹھوڑی سی پینے کے بعد وہ رکه کر بھول گئی تھی ابھی مزمل کے کافی مگوانے پر اسے اپنی بهولی ہوئی کافی یاد آئی. . وہ مزمل کی پرسنل سیکرٹری تھی (شمس اب فارس کی کمپنی میں ہوتا تھا) اور مزمل اسے ہر تھوڑی دیر بعد زرہ زرہ بات پو بلتا تھا. ..
اففف اب پھر اس مونسٹر کا سامنا کرنا پڑے گا. .. وہ منہ بناتی آٹھ گئی تھی. ..
میے آئے کم ان …. مزمل نے آفس میں داخل ہوئے سے پہلے پوچھا
ہممم آجائیں. .. اس کی معروف سی آواز اس کے کانوں میں پرہی تھی …دل کی دھڑکنیں تیز ہوگئی تھی. … جس کی وجہ سے وہ بے خبر تھی. .
سر کافی. .. اس کے سامنے کافی کا بابپ اڑاتا کپ رکھتے ہوئے کہا. .
بیٹھو ادھر .. مزمل نے اسے گہری نظروں سے ہوئے کہا. .
بلیو جینز پر وائٹ شرٹ کے اوپر جینز کی ہی جیکٹ پہنے. . بالوں کو ہائی پونی میں مقیم کیلئے .. ہلکا سا میک کیئے..کانوں میں نفیس سے آئیر رنگ پہنے. . پاوں میں بلیو ہی سنیکر شوز پہنے وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی. . اب اکتوبر شروع ہوگیا تھا تب ہی ہاف شرٹ چھوڑنی پڑی جس کا اسے دکھ بھی بہت تھا. ..
مزمل بلیک ڈنر سوٹ پہنے. . پاوں میں چمکتے بلیک ہی شوز پہنے. ..بالوں کو اپنے مخصوص انداز میں سیٹ کیئے وہ بھی بہت پرکشش لگ رہا تھا. .. نیلی آنکھوں میں جذبات کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر لیے اسے ہی دیکھ رہا تھا جو اب اس کے سامنے والی چیئر پر بیٹهی اس کے بولنے کا انتظار کررہی تھی. . مزمل جلد ہی ہوش میں آچکا تھا. .
تو کیسی ہیں مس دیا آپ. . مزمل نے بغور اسے دیکھتے ہوئے کہا. .
ٹھیک.. یک لفظی جواب دے کر وہ خاموش ہوگئی تھی. .وہ تو پہلے ہی کنفیوز تھی اس کے اس طرح دیکھنے سے. .اس کے اپنے ٹھنڈے جواب پر وہ دانت پیستا رہ گیا.
ہممم کافی کا کپ لبوں سے لگائے اس نے لیپ ٹاپ کهول کر کوئی فائل اوپن کرلی. . دیا ابھی سوچ رہی تھی کہ وہ جائے یا نہیں جب مزمل کی بهاری گمبھیر آواز آفس میں گونجی
یہاں آکر مجھے سمجھائیں کہ کیا سوچ کر آپ نے یہ ڈیل ڈن کی. ..اس نے کل کی ڈیل کے بارے میں کہا جو بیش قیمت ڈائمنڈ کی تھی. مزمل وہ ڈائمنڈ خریدنا چاہتا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ ابھی وہ کی جتنی قیمت ہے کچھ عرصہ بعد اس سے ڈبل ہوجائے گی. کل ڈیل جس کمپنی کے ساتھ تھی اس کی اونر ایک لڑکی تھی مزمل کو کہیں کوئی خمی نظر تو نہیں آئی مگر ابھی وہ دیا کو پاس بلانے کے لیے کہہ رہا تھا
دیا تو اس کے پاس جانے کا سوچ کر ہی کامپ رہی تھی. .. دل تها کہ مانو ابھی باہر نکل آئے گا. ..
سمجھ آرہی ہے آپ کو. ، مزمل نے اسے اپنی جگہ سے نہ ہلتے دیکھ کر کہا.
دیا چھوٹے چھوٹے قدم اٹھائے اس کی طرف بڑھ رہی تھی. . دونوں کی دھڑکنوں کا شاید مقابلہ تها کہ فیصلہ کرنا مشکل تھا کہ زیادہ تیزی سے کس کا دل دھڑک رہا ہے. .
مزمل نے اس کی مخصوص خوشبو اپنے آس پاس محسوس کرتے آنکھیں موند لیں تھی. .. دیا بھی اس کے وجود سے اٹھتی مہنگے پرفیوم کی خوشبو اپنے آس پاس محسوس کرتی کامپ رہی تھی. .
س سر کیا. .غلطی ہے. . اس نے مزمل کے قریب پہنچتے ہی پوچھا. . دیکھ لیپ ٹاپ کو رہی تھی. .
اس کی آواز پر مزمل نے پٹ سے آنکھیں کھولی وہ اس کے بہت قریب تھی. .
مزمل اسے اپنے قریب دیکھ کر ایک دم اٹھا تها اگر وہ بروقت پیچھے نہ ہوتی تو ضرور اس کے سینے سے ٹکراتی. …
س.. سر. دیا نے اس کی بولتی نیلی آنکھوں سے ڈرتے ہوئے کہا اور ساتھ ہی پیچھے قدم لینے شروع کیئے. .اس کا ارادہ بھانپتے ہی مزمل نے ایک دم اس کی نازک کمر میں ہاتھ ڈالتے اسے اپنی طرف کھینچا. . وہ اس کے لیے تیار نہیں تھی اسی لئے اس کے کشادہ سینے سے آلگی. ..
دل زور و شور سے دھڑک رہا تھا. .
سس. …
شییییییی. … خاموش بلکل خاموش. .. اس کے بولنے سے پہلے ہی مزمل نے اس کے نازک گلاب کی کلیوں جیسے ہونٹوں پر آپنا بهاری ہاتھ رکھ دیا تھا. … دھیرے دھیرے ہاتھ ہٹا لیا تھا اور انگوٹھا اس کے پنک لیپ سٹیک سے سجے ہونٹوں پر پھیر رہا تھا. .. دوسرا ہاتھ اب بھی کمر پر تها. .. نظریں بھی اس کے ہونٹوں پر مرکوز تھی. .. دیا تو اس کی اپنی قربت پر ہی مرنے والی ہوگئی تھی ..اس میں اتنی ہمت نہیں رہی تھی کہ اسے خود سے دور کرسکے. ..
تم دیا جب جب میرے قریب آتی ہو میں سب بھول جاتا ہوں. … میرا دل کرتا ہے بس تم میرے سامنے رہو. ..میرے پاس رہو. .. میرا دل تمہاری قربت مانگتا ہے. ، تمہیں اپنا بنانا چاہتا ہے. .. سب دکھ درد بھول جانا چاہتا ہوں تمہارے سنگ. ..تم تو پہلی نظر میں ہی پسند آگئی تھی. .. عشق ہوگیا ہے تم سے دیا. ….عشق ہوگیا ہے. .. اس کے ہونٹوں کو دیکھتے ہوئے ہی اپنے دل کی بات اسے بتا دی آخر میں اس کی آواز بهوجل ہوگئی تھی. … اس کے گلابی ہونٹوں کو دیکھتے ہوئے ایک خواہش کی تھی دل نے. ..، دل کی خواہش لیب بیک کہتا. .. اسے کچھ بھی سوچنے سمجھنے کا موقع دیئے بغیر اس کے ہونٹوں پر جھک گیا تھا. …دیا تو بهوکلا گئی تھی … اس کے تو فرشتوں کو بھی نہیں پتا تھا مزمل ایسا بھی کچھ کرسکتا ہے. ..اس نے خود کو چهروڑانے کی کوشش کی جو ناکام ہی ہوئی….. مزمل دیوانہ وار اپنی سانسیں اس میں انڈیل رہا تھا. ..کیا کچھ نہ تھا اس کے لمس میں. ..دیوانگی. ..جنون. ..غصہ. …عشق. ..کافی دیر بعد خود کو سیراب کرتے اس نے ایک جھٹکے سے دیا کو چھوڑا تھا. .جو اب سینے پر ہاتھ رکھے گہرے گہرے سانس لے رہی تھی. .. مزمل نے بھی خود کی اتنی بے خودی پر خود پر لعنت بھیجی. .. دیا اب وہاں سے بھاگ گئی تھی. ….
Damn it
،اس نے زور سے کانچ کے ڈیل پر ہاتھ مارا .. ساتھ ہی ٹیبل پر سے گاڑی کی چابیاں. . وابائل وغیرہ اٹھا کر غصہ سے باہر نکل گیا. .
دوسری طرف دیا اپنے آفس میں اکے اپنا اٹکا ہوا سانس بحال کررہی تھی. ..
محبت کے’م’ سے ‘ مہک دل’
محبت کے’ح’ سے حسرت دل’
محبت کے؛’ب’ سے ‘بہکے دل ‘
محبت کے ‘ت’ سے تڑپ دل’
♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥ ارے ازمیرر سر آپ کو کوئی کام ہے کوئی م. .ہیر سے. … احمر نے ازمیرر کو مایا کے آفس میں جاتے دیکھا تو جھٹ سے اس کے سامنے آکر دیوار بن گیا تھا. ..
جی بالکل کام ہے تب ہی جا رہا ہوں. . ہٹو سامنے سے. .. ازمیرر نے قدرے بیزاری سے کہا. .. وہ دونوں ہی خود ہی خود میں ایک دوسرے سے خدا واسطے کا بیر رکھتے ہتهے. .. ازمیرر کو لگتا تھا کہ احمر بھی ہیر کو پسند کرتا ہے. .. احمر کو لگتا تھا کہ امیر کہیں اس سے مایا کو چهین نہ لے …دونوں ہی ایک دوسرے سے ڈرتے کے ساتھ ساتھ ڈرتے تھے. …مایا کو کھونے کا ڈر …
زیادہ گھوما پھیرا کے میں بات نہیں کرتا…… میری بات یاد رکھنا. ..ہیر صرف میری. ..احمر سلطان کی ہے. …. اسے مجھ سے کوئی نہیں چھین سکتا. ..تم بھی نہیں ازمیر ملک. …تو کوشش بھی مت کرنا. … اس سے جتنا ہوسکے دور رہو یقین کرو. … اسکی نزدیکی تمہیں کہیں کا نہیں چھوڑے گی. ..وہ صرف مجھے چاہتی ہے. …. ابھی وقت ہے. …واپس پلٹ جاو. ..یہ نہ ہو جب تم واپس جانا چاہو تو کافی دیر ہو چکی ہو. .. احمر نے بغور اس کو دیکھتے ہوئے کہا جس کا ایک رنگ ارہا تھا ایک جا رہا تھا
چلتا ہوں سوچنا ضرور …. اور ایک بات. … اگر پھر بھی تم پیچھے نہ ہٹے یا کچھ بھی غلط کرنے کی کوشش کی تو اس سے پہلے بتا دوں ایک تو میں کامیاب نہیں ہونے دوں گا تمہیں دوسری بات تم ہیر کی دوستی بھی کهو دو گے. . اس لئے اچھا ہے لوٹ جاو. ..تم سوچ رہے ہونگے مجھے کیسے پتا چلا. … تو سنو. . میں ہیر سے بہت محبت کرتا ہوں مجھے پتا ہے کہ اس پر اٹھنے والی کون سی نگاہ میں کیا ہے. ..چلو اب چلتا ہوں. … کچھ بھی غلط کرنے سے پہلے اپنا نقصان یاد رکھنا …شاید. .تم بچ جاؤ اپنے نقصان سے. .. احمر جانتا تھا کہ خون کا کچھ تو اثر ہوگا باپ کے. .. شاید یہ بھی اپنی محبت کو پانے کے لئے غلط راستہ اختیار کرے تب ہی اسے سمجھا دیا وہ مایا کے معاملے میں کوئی رزک نہیں لے سکتا تھا. ..وہ بہت ڈرتا تھا مایا کو کھونے سے. …وہ ایک اور شہریار اور مہوش نہیں چاہتا تھا. .. وہ ڈرتا اپنے لیے نہیں مایا کے لیے تھا ..تب ہی ازمیر کو کافی تحمل سے لفظوں کا سہی چناو کر کے سمجھایا تھا. مبادہ وہ کہیں انا کا مسئلہ ہی نہ بنا لے. ….
ازمیر اپنی جگہ ساکن کھڑا تھا. …. اس کے کان سائیں سائیں کررہے تھے. … اسے کچھ ہوش نہیں تھا کہ وہ جدھر کھڑا ہے وہاں اور بہت سے ورکرز تھے جو اسے عجیب نظروں سے گهور رہے تھے. … احمر کب کا جا چکا تھا. …وہ مرے قدموں کے ساتھ اپنے آفس کی طرف جا رہا تھا. ..ہیر میری ہے صرف احمر کی. .. اسے بس ہر جگہ یہی سنائی دے رہا تھا. ……
نہیں. …. آفس میں آکر وہ اپنی رولنگ چیئر پر گرا تھا. …. آنکھیں لال ہوگئی تھی ضبط سے. …..اس نے کرب سے آنکھیں میچ لی تھی. …. ازمیر میری بددعا ہے تم بھی برباد ہو اپنی محبت کے ہاتھوں. .. تمہیں تمہاری محبت کبھی نہ ملے … تم بھی تڑپو میری طرح. … تمہیں بھی محبت میں مات ملے. … تم بھی منہ کے بل گرو. … میری بددعا ہے ازمیر. ..میری بددعا ہے ….یاد رکھنا. …. اچانک اس کے کانوں میں اس لڑکی کی آواز گونجی تھی جسے ازمیر نے چھوٹی محبت میں برباد کر دیا تھا. .. صرف اسے ہی نہیں. ..کئی لڑکیوں کو. …. اسے لگ رہا تھا کہ ..اسے لگ گئی ان میں سے کسی کی بددعا. ….
نہیں. ..م میں ہیر کو نہیں چھوڑ سکتا. .. ہیر میری ہے. .. صرف ازمیر ملک کی. ..ہاں اسے صرف میرا ہونا ہوگا. .. ہیر میں تمہیں لے جائوں گا…. ادھر سے دور. …بہت دور جہان صرف میں اور تم ہوں گے. …. میں تمہیں چھوڑ نہیں سکتا. .. ازمیر نے جنونی انداز میں خود ہی کہا ہاں. ..جیک. .میری آج ہی کی سیٹ بوک کرواو. .. ہاں. … میں واپس ارہا ہوں. … تم تب تک. ..کرپس کو ادھر بھیج دو … ہاں سہی ہے. …
ازمیر نے سوچ لیا تھا اسے اب کیا کرنا ہے. .. اس کے لیے اسے پہلے واپس جانا تھا کچھ کام نپٹانے تھے. ..
ہیلوووو. . وہ آنکھیں موندے چیئر کے بیک سے ٹیک لئے هیٹها تھا جب جانی پہچانی آواز پر اس نے جھٹ سے آنکھیں کھلی. .
ہیرررر آو بیٹھو. … اس نے مایا کو دیکھتے ہوئے کہا. . گرے کلر کے بزنس سوٹ پہنے. .. بالوں کی درمیان سے مانگ نکلاے کهلا چھوڑے. .. ہلے میک اپ. .. ڈائمنڈ کا نفیس کا نیکلیس اور ائیررنگ پہنے. .. پاوں میں گرے ہی ہائی ہیل والے شوز پہنے وہ معمول سے ہٹ کر لگ رہی تھی. .. صبح احمر کی ضد پر اسے گرے کلر پہننا پر. .
کافی پریشان لگ رہے ہو. . سب ٹھیک ہے نا. . مایا نے اسے آج پہلی دفعہ اتنا پریشان دیکھا تھا. ..
بلیک ڈنر سوٹ پہنے …ٹائی کھولی ہی گرن میں جھول رہی تھی. . بلیک ہی شوز پہنے. .. بهورے بالوں کو ماتھے پر پهلائے. .. لائیٹ برائون آنکھیں لال ہورہی تھی. ..
ہمم سب ٹھیک ہے. ازمیر نے اسے دیکھنے سے اجتناب ہی کیا تھا. .. وہ نہیں چاہتا تھا وہ جذبات میں آکر کچھ غلط کر بیٹھے. ..
ٹھیک لگ تو نہیں رہا. .. ازمیر میں تمہاری دوست ہوں نہ تو دوست سے چهپا رہے ہو. .. بتاو ..کیا پریشانی ہے. .. شاید ہم مل کر حل کرلیں. .. یا. …یا تمہیں احمر نے کچھ کہا ہے. .مایا نے کچھ سوچتے ہوئے کہا. .اس نے دیکھا تھا احمر کو ازمیر سے بات کرتا. …. تب تو وہ یہی سمجھی کہ پروجیکٹ کے حوالے سے بات کررہے ہوں گے. .مگر ازمیر کی یہ حالت دیکھنے کے بعد وہ ڈر گئی تھی کہ کہیں احمر نے ازمیر کو کچھ بتا تو نہیں دیا وہ اچھے سے جانتی تھی .. اس پاگل کو. … وہ کہیں بھی اپنا آپ کهو سکتا تھا. .
نہیں اس نے کچھ نہیں کہا بس وہ موم کی طبیعت خراب ہے تو تب تھوڑا پریشان ہوں. .. آج ..بلکہ کچھ دیر بعد میری فلائٹ ہے … یہاں کا کام میرا سیکرٹری دیکھ لے گا. ..ہفتے دس دن تک ہو سکا تو آجائوں گا … ازمیر نے بالکل نارمل انداز میں جواب دیا. ..
ہممم اچھا. چلو جیسا تمہیں ٹھیک لگے. ..میں چلتی ہوں. …. مایا نے اٹھتے ہوئے کہا اسے یقین تھا کہ احمر نے ہی اسے کچھ کہا ہے کیونکہ ازمیر اسے اپنے موم ڈیڈ کے ساتھ ٹرمز بتا چکا تھا .. مایا جا چکی میں. .. ازمیر نے دوبارہ چیئر سے ٹیک لگا کر آنکھیں موند لیں. …
میں ایسا نہیں چاہتا ہیر. …کہ تم مجھ سے بدگمان ہوجاو. .میں تو بس تمہیں اپنایا چاہتا ہوں. ..مجھے پتا ہے تم شروع میں مجھ سے نفرت کرو گی پھر …مجھ سے میری طرح محبت کرنے لگو گی. … اگر نہ بھی کی تو. . میری محبت کافی ہے. … لیکن تمہیں احمر کو بھولنا ہوگا میں تمہاری آنکھوں میں بھی اس کے لیے محبت دیکھی ہے. … لیکن بس میں اب تمہیں لے جائوں گا یہاں سے. ….. ازمیر نے ایک عزم سے سوچا. ..
اے حرف تسلی تیرے مشکور ہیں لیکن
یہ ‘ خیر ہے’ سے بہت آگے کا دکھ ہے
♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥
ماہا آج آخری دفعہ فارس کے آفس جارہی تھی اسے بتانے کے وہ اب نہیں آئے گی. .اس کا دل بہت بے چین تھا. … وہ جان گئی تھی کہ وہ اپنے ماں باپ کے قاتل سے محبت کر بیٹھی تھی …. شدید محبت. ….. وہ اس سے دور ہوجانا چاہتی تھی …….. وہ محبت میں اپنی ماں کا تڑپتا وجود نہیں بهول سکتی تھی. …اور وہ جانتی تھی کہ فارس بھی اسے چاہتا ہے. …. وہ اب چاہ کر بھی فارس کو نقصان نہیں پہنچا سکتی تھی. … وہ باگ جانا چاہتی تھی. ..دور. .بہت دور. …..جہاں فارس کی رسائی مشکل ہو. ….. اس نے سوچ لیا تھا کی وہ کچھ ہی دنوں میں اٹلی چلی جائے گی اور وہاں کا اپنا بزنس سنبھالے گی یہاں سب وہ مایا اور مزمل پر چھوڑ دینا چاہتی تھی. .. اس میں سکت نہیں تھی اپنی محبت کو اپنے ہاتھوں سے برباد کرنے کی. …. وہ بہادر نہیں تھی. .. وہ بھی کمزور لڑکی کی. ….. بہت کمزور. ….. جس سے قسمت نے اس سے اس کے پیارے لے کر بہارد بنا دیا تھا مگر صرف باہر سے اندر سے وہ بھی ایک کمزور. .. معصوم. . ڈرپوک. .لڑکی تھی ….
وہ تیار ہو کر آفس کے لیے نکل گئی. … وائیٹ شرٹ پر بلیک لیدر کی بلیک جیکٹ پہلے. . بلیک ہی جینز. . وائیٹ جاگر. .. بالوں کو سٹریٹ کیلئے ہائی پونی کیلئے. .ہلکا سا میک اپ. … کانوں میں ڈیمانڈ کے ایئررنگ. … نیلی آنکھیں پر گاگلز لگائے وہ آفس کے پورچ میں پہنچ کر اپنی بلیو ہائیبریڈ کو بریک لگائی تھی. . چڑچڑاہٹ کی آواز ماحول میں پھیلی تھی … وہ مغرور چال چلتی آفس میں داخل ہوئی تھی بنا کسی کو دیکھے وہ سیدھا فارس کے آفس میں داخل ہوئی. …
گرے تهری پیس پہنے. . بالوں کو جیل سے سیٹ کیے ناک پر گاگلز ٹکائے وہ اپنی رولنگ چیئر سے ٹیک لگائے کسی گہری سوچ میں گم تھا. …. جب دروازہ کھولنے کی آواز سے اس نے آنکھیں کھولی. … سامنے ہی اس کی ہیر کھڑی آج کتنے دنوں بعد دیکھ رہا تھا وہ اسے …. تقریباً ایک مہینہ کام کیا تھا اس نے ادھر اور اسے لگتا تھا کہ وہ اسے صدیوں سے جانتا ہے. .. جیسے وہی اس کے جینے کی وجہ ہو ….اس کے قدم خود ہی اس کی طرف اٹھ چکے تھے. ..
وہ سر یہ میرا ریزائن لیٹر ہے اور یہ آپکے تین کروڑ کا چیک جو مجھ پر فائن ہے ارلی جاب چھوڑنے پر. .. ماہا نے کچھ پیپرز سامنے کانچ کے خوبصورت نفیس سے ڈیبل پر رکھتے ہوئے کہا. ..
ہممممم جاب چھوڑ کر کیا جتانا چاہتی ہو. … فارس اب اس کے بالکل قریب پہنچ گیا تھا. .
میرے اپنے کچھ پرسنل میٹرز ہیں سر. .. مجھے اٹلی جانا پرررہا ہے ارجیٹلی. . ادھر ضرورت ہے میری. . بزنس میں کافی لاس ہورہا ہے. . ت مجھے جانا ہوگا. .ماہا نے کچھ سچ کچھ جھوٹ کو ملا کر وجہ دہ. .ہاں مگر اس کی طرف دیکھنے کی غلطی نہیں کی تھی. ..
تم باگ رہی ہو ہیر. …مجھ سے. ..خود سے. .. محبت سے. .. تمہیں ڈر ہے. ….تم مجھ سے دور جانا چاہتی ہو ….جو میں نہیں ہونے دوں گا. ..میری نس نس میں تم بس چکی ہو. …خون کی مانند ان رگوں میں دهورتی ہو. …… میں تمہیں اپنے ساتھ ایسا نہیں کرنے دوں گا. .ماہا شہریار سلطان. .. فارس نے اسے بازو سے پکڑ کر خود سے نہایت قریب کرتے ہوئے کہا. … پیچھے ہٹو پلیزز ….. درد ہورہا ہے مجھے. …پلیززز فارسس. … وہ بے بسی سے بولی تھی. … بازو پر گرفت مضبوط سے مضبوط تر ہوتی جارہی تھی. … ساتھ ہی درد بھی بڑھ رہا تھا. …
درد …..ہاہاہااہاہا. .. تمہیں درد ہورہا ہے. … یہ. ..یہ درد تمہیں درد لگ رہا ہے. .اور وہ درد جو ادھر ہورہا ہے. … اس نے دوسرا ہاتھ اپنے دل کے ، مقام پر رکھتے ہوئے جنونی انداز میں کہا. …
پلیززز ..پلیززز. . جانے دو مجھے پلیززز فارس. .. بازو اس کی گرفت سے نکالنے کی ایک دفعہ پھر کوشش کی تھی جو ہر دفعہ کی طرف ناکام ہی ہوئی. ..
نانانا. .. تم نے پہلے مجھے خود، خود سے محبت کرنے پر مجبور کیا. . اب جب مجھے تم سے محبت ہوگئی بلکہ عشق ہوگیا ہے تو تم مجھے یوں چھوڑنا چاہتی ہو. .. کہہ رہی ہو کہ تم جا رہی ہو. …. کیسےےےے. . آخر کیسےے سوچ لیا میں اتنے آرام سے چھوڑ دوں گا. … بهول ہے میڈمممم. .. تمہیں تو ہر حال….ہررر حال میں میرا ہی ہونا ہے. . اس کی نیلی آنکھوں میں اپنی بهوری آنکھیں گارتا بولا تھا.
مگر میں نے تمہیں کبھی نہیں کہا کہ مجھ سے پیار کرو …یا. . یہ کہ میں تم سے محبت کرتی ہوں. .. پھر یہ کیسی زبردستی ہے. .. میں نے تمہیں سارے پیسے دے دیئے ہیں بس اب چھوڑو مجھے جانے دو. .
وہ پگھل رہی تھی اس کی حالت دیکھ کر. .. اسے ڈر تھا کہ کہیں وہ بھی اقرار نہ کردے. .. جس محبت کو وہ ماننا نہیں چاہتی تھی. … وہ تو صرف اس سے بدلہ لینے آئی تھی ….وہ تو اسے برباد کر دینا چاہتی تھی. … لیکن یہاں تو وہ خود ہار رہی تھی. .. ایک دفعہ پھر. … بارہ سال پہلے کی طرح. … وہ آج بھی خود کو بالکل بے بس محسوس کررہی تھی. …. فرق صرف یہ تھا کہ. .. بارہ سال پہلے. ..وہ ڈر کی وجہ سے بے بس ہوگئی تھی. .اور آج. … ہاں وہ آج محبت کے سامنے بے بس ہورہی تھی. ..
ت تمہیں کیا مسئلہ ہے م مجھ سے ہیر. . مجھے بتاؤ. . م میں خود کو بدل دوں گا ہیرر. .. میں نے کبھی کسی سے اتنی شدت سے محبت نہیں کی. .. پلیززز یوں تو مت چھ. .چھوڑو. . میں وہ س سب ..سب کروں گا جو تم کہو گی. . جیسا بھی کہو گی کروں گا. .. لیکنن پ پلیززز. ..پلیززز .. یوں خود سے دور مت کرو. ..وہ اب بھی اس کے بالکل قریب کھڑا تھا. . بازو پر گرفت اب کافی کم کردی تھی. .. دوسرے ہاتھ سے اپنے چہرے سے آنسو صاف کرتے ہوئے بچوں کی طرح کہہ رہا تھا. .
….ہمممم اچهااا. …… تو چلو میں دو شرطیں بتاتی ہوں. . ان میں سے کوئی ایک بات ضرور ماننا پڑے گی. . ورنہ بهول جاو …ہیر کو. .. اس نے نیلی آنکھیں فارس کے چہرے پر ٹکا کر کہا
ک. .کہووو. .. بنا کسی دیری کے کہا
پہلی. …. اپنے موم. . ڈیڈ اور بہن کو چھوڑ دو. ….
یا. … وہ خاموش ہوئی تھی. .. فارس کی تو حیرت سے آواز ہی نہیں نکل رہی تھی ہمت کرکے اس نے دوسری شرط پوچھی. .
د د دوسری. . تھوک نگل کر کہا. … بازو پر گرفت ہلکی. . اور ہلکی. … بلکل ختم ہو گئی تھی. .. دو قدم پیچھے لیے تھے. … آنکھوں میں حیرت. .. درد. . غصہ لیے ماہا کو ہی دیکھ رہا تھا. .. جو اسے یوں پیچھے ہوتا دیکھ کر مسکرائی تھی. .. …… ڈبل ڈمپلزز پوری شان سے ابهرے تهے …..تنزانیہ مسکراہٹ. ….. درد بھری. …. مسکراہٹ. …. نیلی آنکھیں اب بھی اسی پر ٹکی ہوئی تھی. .. مسکراہٹ. …. خاموشی. .. ہنوز قائم تھی. .. شاید وہ جانتی تھی. ….. وہ ہار گئی تھی ایک دفعہ پھر. … ہاں وہ اپنی محبت بھی ہار گئی تھی. ….. ایک ہی شخص کی وجہ سے. …. قدم باہر کی طرف لینے شروع کر دیئے تھے. … نیلی آنکھیں میں نمی بهر آئی تھی. .. سب دهندلاتا ہوتا جارہا تھا. …..فارس کی کی مختلف نہ تھی. .. اس کو دود ہوتا دیکھ کر اچانک ہی ہوش میں آیا تھا. ..
د د دوسری ب بتاؤ. … ایک امید کے تحت پوچھ لیا تھا. .. شاید. …. شاید وہ دوسری شرط اتنی مشکل. ..بلکہ. .. ناممکن. . شرط نہ رکھے. .. کہ شاید قسمت تھوڑا. .. تھوڑا سا رحم کرے. …
چھوڑو مسٹر. .. تمہارے بس کی بات نہیں. … پہلی شرط احسان تھی…. تم تو وہی سن کر پیچھے ہٹ گئے. … دوسری سن کر تو یہ. . محبت کا بوت بھی اتر جائے گا. …. اور آج سے میں دنیا کی طرح تمہارے لیے بھی. .. ماہا سلطان ہوں. .سو پلیزز. ..ہیر نامی لڑکی کو اب بهول جاو. ……دوبارہ مجھے کنٹیکٹ مت کرنا. …ہاں اگررر. .. میری شرط منظور ہوئی تو ضرور بتانا. .. نمی کو بے دردی سے واپس دهکیلتی. . … اپنے مخصوص. … سٹاپ. … ہر جذبات لہجے میں بولی تھی. … کچھ لمحے یوں ہی گزر گئے. .. اپنے گاگلز سے اپنی نیلی آنکھیں چھپاتے. .وہ سکون سے باہر نکل گئی. … بال ہوا کی وجہ سے چہرے پر آرے تهے. ..جنہیں اس نے سنبھالنے کی کوشش نہیں کی تھی. … ہائی پنسل ہیل کی آواز کئی لوگوں کو متوجہ کر رہی تھی. …. فارس اسے دیکھ رہا تھا. .. خود سے دور جاتا. … اور دور. …. پھر وہ اوجھل ہو گئی تھی آنکھوں سے. … وہ ایک انچ بھی نہیں ہلا تھا اپنی جگہ سے. … نہ پلکوں نے جمبش کی. …. ہیرر. .. وہ بڑبڑایا تھا. . اس کا دیا چیک زمین پر گر چکا تھا. …. پورے آفس کو خاموشی نے لپیٹ میں لے لیا تھا. …وہ گلاس وال کا سہارا لیتا زمین پر بیٹھتا چلا گیا. … کئی آنسو بےمول ہوئے تھے. … مگر اسے پرواہ نہیں تھی. … فکر تھی تو یہ کہ اس کی ہیر اسے چھوڑ گئی تھی. … باپ کے ساتھ تو اسے کبھی قبول ہی نہیں تھا. . مگر وہ اپنی جان سے پیاری ماں اور بہن کو کسی صورت نہیں چھوڑ سکتا تھا. ..
وہ نہیں سمجھ سک رہا تھا. . ہیر نے یہ مطالبہ کیا کیوں تھا. .. اسے صرف اتنا یاد تھا ابھی کی ہیر اسے چھوڑ گئی تھی. . اس نے ابھی خود اس کی. نیلی آنکھوں میں اپنے لیے بے پناہ محبت دیکھی تھی اور ابھی ہی وہ چلی گئی تھی. ..
اس نے کرب سے آنکھیں میچ لی
جب کہا تھا محبت گناہ تو نہیں
پهر گناہ کے برابر سزا کیوں ملی
زخم دیتے ہو کہتو ہو سیتو رہو
جان لے کر کہتے ہو جیتے رہو
پیار جب جب زمین پر اتارا گیا
زندگی تجھ کو صدقے میں وارا گیا
پیار زندہ رہا مقتلوں میں مگر
پیار جس نے کیا وہ مارا گیا
♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥ گرے شرٹ پر بلیک لیدر کی جیکٹ. .بلیک ہی جینز پہنے. . بهورے بالوں کو ماتھے پر گرائے. .آنکھوں پر گاگلز لگائے. . ایک ہاتھ میں میں موبائل یوز کرتا دوسرے سے اپنا سوٹ کیس پکڑے وہ ایرپورٹ میں داخل ہو رہا تھا. .. وہ جتنا دیکھے میں پرسکون لگ رہا تھا … ادھر اتنی ہی توڑ پھوڑ ہوئی تھی. … وہ تڑپ رہا تھا. .. اسے کسی اپنے کے کندھے کی ضرورت تھی. ..جس پر وہ سر رکھتا. .. جو اسے سونتا. .. ..اسے سمجھتا. …. مگر اس کے پاس تو اس کی ماں بھی نہیں تھی. ..سگی ماں پر بھی وہ بوجھ تھا. ……
آئوچچچ. .. تب ہی کوئی اس سے ٹکرایا. ….
اووو میڈیم آئے ایم سو سوری. .. ازمیر نے سامنے کھڑی لڑکی وہ دیکھتے ہوئے کہا جو اپنا ماتھا مسل رہی تھی. وہ جاتنا تھا کہ اسی کی غلطی تھی تب ہی معذرت کیا. …. وائیٹ شرٹ پر یلو لیدر کی جیکٹ پہن. یلو ہی جینز. .. وئیٹ جاگر پینے … کالے کمر سے نیچے آتے بالوں کو کهلا چھوڑے. .. ایک ہاتھ میں موبائل، گاگلز اور اسے سے اتنا سوٹ کیس پکڑا تھا … وہ ایک تقریباً بائیس تیئیس سال کی خوبصورت. . نازک سی لڑکی تھی. …
نو نیڈ. .. آئے اوکے. . اس نے سامنے کھڑے خوبرو نوجوان کو دیکھتے ہوئے کہا. ..
آئے ایم ازمیز ملک… اینڈ یو. .. ازمیر نے ہاتھ اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا. .
مائے سلف. . سحر مرزا. . سحر نے اس کے مضبوط ہاتھوں میں اپنا نازک ملاتے ہوئے کہا
نائیس ٹو میٹ یو میم بٹ آئے ہیو ٹو گو نائو …چلیں بائے. .. میری فلائیٹ انائونس ہورہی ہے. .. ازمیر نے سامنے دیکھتے ہوئے کہا. .
ہمممم .. سحر نے اپنا ہاتھ واپس کرتے ہوئے کہا. ..
دونوں نے الگ الگ سمت قدم اٹھا لیئے تھے. ……
وہ تھوڑی پیچھے جا کر رکی تھی. … گاگلز نے اب آنکھیں چھپا لی تھی. … ہوا سے بال اڑ کر چہرہ بھی چھپانے کی کوشش
کررہے تھے. .. وہ مڑی تھی. … ازمیر اس سے بہت دور ہوگیا تھا. ….. اور آخر اوجھل بھی ہوگیا. …. اس نے ایک ہاتھ سے اپنے لمبے کالے بال چہرے سے پیچھے کیئے. … وہ بھی اب باہر کی طرف چل رہی تھی. .. بال ہوا سے چہرے سے خود ہی پیچھے ہوگئے تھے. …
میم … باہر کھڑے ڈرائیور نے اس سے اس کا سوٹ کیس لیا تھا اور دوسرے سے اس کے لیے بلیک پراڈو کا دروازہ کهولا تھا. .. وہ اندر بیٹھ گئی تو ڈرائیور نے دروازہ بند کر دیا تھا. .سوٹ کیس گاڑی میں رکھتا. .وہ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر گاڑی روڈ پر ڈال دی تھی. ..
سحر نے آنکھوں سے گاگلز ہٹا کر واپس پیچھے دیکھا تھا. …. لمحہ لمحہ وہ ایئرپورٹ سے دور ہوتی جا رہی تھی. ….
مثالِ بُت ! تُجھے تَکتے ہیں۔۔
ٹکٹکی باندھے !
تُو سامنے ہو تَو ! ہم آنکھ”
بھی کم جھپکتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔🔥
♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥
فارس اپنے کمرے میں بند بیڈ پر لیٹا چهت کو گھور رہا تھا. …آنکھیں بلکل ویران تھی. …. نجانے کیا کھوجنے کی کوشش میں تھا. … آنکھیں لال ہورہی تھی. .. دل ٹرپ رہا تھا. ….
ہیررر. ….وہ کرب سے بولا
وہ اپنے کمرے سے منسوب سٹڈی میں. اپنی رولنگ چیئر پر بیٹھی تھی. .. اپنی مخصوص لال نائیٹی پہنے. .. چیئر کے بیک سے ٹیک لگائے. نیلی آنکھیں میچی ہوئی تھی. .وہ نہ جانے کتنی دیر سے اسے ہی هیٹهی تھی. …..
فارسسسس. … اچانک آنکھیں کھولی تھی. . نیلی آنکھیں لال ہورہی تھی. ….
وہ جہاز میں بیٹھا کسی گہری سوچ میں گم تھا. … دل کا حال کوئی نہیں جتنا تھا. .اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا اسے محبت ہوگی. .. اب ہوگئی تھی. وہ بھی لاحاصل. … کتنی دور تھی اس سے. .. یا شاید اس کی تھی ہی نہیں. … وہ جا رہا تھا واپس آنے کے لیے. ….
مایا بیڈ پر لیٹی ازمیر اور احمر کے بارے
سوچ رہی تھی. . احمر اس کی محبت تھا. . اور ازمیر دوست. .بہت اچھا دوست. ..وہ کسی کو بھی کهونا نہیں چاہتی تھی. .
احمر اپنے کمرے میں موجود صوفے پر بیٹھا. . مایا کی تصویر سینے سے لگائے اسے ہی سوچ رہا تھا. … وہ بہت ڈرتا تھا. … اس کو کھونے سے. … آنکھوں میں نمی تھی. ….
سٹدی میں موجود وہ اپنی رولنگ چیئر پر بیٹھی تھی. ہاتھ میں پن گہما رہی تھی. .. سوچیں آج دن کی ازمیر سے ملاقات میں الجھی ہوئی تھی. .. وہ لڑکوں سے شدید نفرت کرتی تھی. .مگر وہ ازمیر کو چاہ کر بھی نہیں بول سک رہی تھی. .وہ اس کے حواسوں پر سوار ہو گیا تھا. .وہ جانتی بھی نہیں تی کہ وہ دوبارہ اس سے مل بھی سکے گی کہ نہیں. ..
ہمیں کهو کر بہت پشتائو گے جب ہم نہیں ہوگیں
دنیا بھر کو ویران پائو گے جب ہم نہیں ہونگیں
بہت آسان سہی راہ وفا کی منزلیں، لیکن
اکیلے تم کہاں تک جائو گے جب ہم نہیں ہونگیں
ہمیں اپنا نہیں جان تمنا، غم تمہارا ہے
تم کس پر ستم فرمائو گے جب ہم نہیں ہوگیں
