62.3K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 03

وہ تینوں اس وقت اپنے آفس میں بیٹھے ہوئے تھے ،
مزمل سے کچھ سوچا ہی نہیں جا رہا تھا وہ سن سا ہوگیا تھا اپنی جگہ،،،،،، ابھی ہی تو ماہا نے اسے فائل دکھائی تھی اس میں اپنے سب سے بڑے دشمن کی بیٹی کی تصویر کی جگہ دیا کی تصویر کو دیکھ کر اسے سانپ سونگھ گیا تھا،،،،،،، اس نے شدت سے دعا کی تھی کہ نام کی جگہ دیا کا نام نہ ہو ،،،،، لیکن ساری دعائیں قبول تو نہیں ہوتی،،،، فائل دیکھنے سے پہلے اس نے کیا کیا سوچا تھا کہ کتنی بڑی موت دے گا ،،،،،،ان سب کو لیکن مجرموں کی قطار میں تو اس کی جان کھڑی تھی،،،،،، وہ جاگ جانا چاہتا تھا اسے لگ رہا تھا یہ بھیانک خواب ہوگا، ،،،،، اسے جاگنا تھا ،،،،،،، لیکن کیسے وہ تو جاگا ہوا تھا، ایک دفعہ پھر اسے قسمت سے بہت بری ہار ملی تھی، اس نے تهک کر اپنا سر کرسی کے بیک پر ٹکا دیا ،
دوسری طرف مایا اس کی آنکھیں ہمیشہ کی طرح ہر جذبات سے عاری تھیں، اس کا تو بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ صدیق خان اور اسلم ملک کی زندگی بھی ویران کردے جیسے آج سے 12 سال پہلے ان کی ہوئی تھی، وہ جانتی تھی کہ دیا، فارس یا ازمیر کی کوئی غلطی نہیں تھی لیکن ..غلطی تو ان تینوں کی بھی نہیں تھی …اور وہ تینوں ان دونوں کے سگے تھے ، اور وہ چاہتی تھی کہ وہ بھی اپنوں کی دوری برداشت کرے ، وہ تکلیف ، وہ ازیت سہے جو ان تینوں نے سہی ، ان کا بچپن ظائع ہوگیا ، کتنی کتنی راتیں انہوں نے جاگ کر گزاری، اس کے زہن میں بدلہ تھا ،،، صرف بدلہ ،،،، اس کی نیلی خوبصورت. . آنکھیں لہو ٹپک رہی تھی جو عنقریب سب نگلنے والی تھی، ،،، ، ایک طوفان آنے والا تھا ،،،،،، کہیں دور قسمت کھڑی مسکرا رہی تھی، ،،،،،،، کہیں محبت اپنا رونا رو رہی تھی ،،،،،،، کہیں عشق نظروں کے سامنے خاک ہوتا دیکھا گیا تھا ،،،،،،
مایا کی آنکھیں مزمل پر ٹکی ہوئی تھی، ، اسے کچھ غلط ہونے کا احساس شدت سے ہورہا تھا ،،، وہ دعا کررہی تھی کہ جیسا وہ سوچ رہی ہے وہ صرف سوچ ہی ہو، ،،،،، اس نے آج سے پہلے مزمل کی یہ حالت کبھی نہیں دیکھی تھی، ،،، اس کی لال ہوتی آنکھیں اس کی اندر کی توڑ پھوڑ کی گواہی دے رہی تھی، ،،،، وہ اس وقت سکون چاہتی تھی….
وہ تینوں ہی اٹھ گئے تھے اس وقت کسی کا. دماغ کام نہیں کر رہا تھا اس وقت کا تو انہوں نے 12 سال سے انتظار کیا تھا اور اب جب وقت آگیا تھا تو وہ تینوں ہی عجیب کشمکش میں مبتلا ہو گئے تھے، ،،،، وہ تینوں خوش بھی تھے کہ وہ اب جلد ہی اپنے ماں باپ کا بدلہ لیں گے ،،، لیکن یہ تو وقت نے بتانا تھا کہ اس بار کس کی جیت لکھی گئی تھی، ،،،،
……….محبت،،،،نفرت، ،،، عشق، ،،، دوکها، ،،،، بدلہ ،،،، موت ………
نہ جانے کس کا نصیب کیا تھا، ،
وہ مجھ سے ملنے سے پہلے ہی بچهر گیا
کبھی بھی کوئی وقت کبھی وقت پر نہیں آیا
■■■■
اور بھئی برخوردار آگے کیا سوچا ہے، تم نے یا یہی آوارہ گردی کرنی ہے، صدیق صاحب نے فارس کو مخاطب کیا تھا، وہ چاروں اس وقت شام کی چائے پی رہے تهے ، آج مہینے بعد وہ آئے تھے کچھ دنوں کے لیے، ،
بابا میں import export کا کا بزنس نہیں کرنا چاہتا ، میں اپنا خود کا بزنس کرنا چاہتا ہوں، فارس نے چائے کی پیالی میز پر رکھتے سپاٹ لہجے میں بتایا تھا
ہممم اچهاا، ،،،، تو کیسا میرا مطلب کس چیز کا بزنس کرنا چاہتے ہو تمم،
خلاف توقع انہوں نے کافی نرمی سے جواب دیا ، وہ ہمیشہ سے چاہتے تھے کہ فارس یا دیا میں سے کوئی ان کے ساتھ کام کرے، مگر فارس ہمیشہ ٹال مٹول کرتا تھا اور دیا پہلے تو ابھی پڑه رہی تھی لاسٹ سمسٹر تھا اس کا لیکن اس کا کہنا تھا کہ وہ جاب کرنا چاہتی ہے ، تو انہیں بچوں کے سامنے ہار ماننی ہی پڑہی، ،
میں ایونٹ آرگنائزیشن کا کام کرنا چاہتا ہوں، وہ بغور انہیں دیکھتا ہوا بولا ، وہ کافی سنجیدہ طبیعت کا مالک تھا، اپنے کام سے کام رکھنے والا. .
چلو جیسی تمہاری مرضی، ،،،،، کام شروع کروایا ہے کہ ابھی تک سوچ ہی رہے ہو،
انہوں نے ایک دفعہ پھر اسے مخاطب کیا تھا، ،
بس بابا تقریباً کام ہوگیا ہے اب کچھ اور ورکرز چائیے وہ بھی جلدی ہو جائے گا انشاءاللہ ، اس نے تحمل سے جواب دیا تھا اور موبائل جیب سے نکال کر بیٹھ گیا مطلب صاف تھا کہ وہ اب بات نہیں کرنا چاہتا ..
,صدیق صاحب دانت پیس کر رہ گئے تھے ….اس کی اسی عادت کی وجہ سے تو دونوں میں بالکل نہیں بنتی تھی کہ وہ اپنے باپ کو کچھ سمجھتا ہی نہیں تھا اور تو اور دیا کو بھی زیادہ ان کے پاس نہیں بیٹھنے دیتا تھا، ،،،،،، اور صدیق صاحب ڑرتے تھے کہ کہیں ان کا ماضی نہ جانتا ہو، اپنی زندگی کا سیاہ باب. .جو تھا تو بہت بھیانک مگر ان کے لیے معنی نہیں رکھتا تھا. …مگر وہ اس بات سے زرا ڈرتے تھے کہ وہ سیاہ باب کبھی ان کے بچوں پر نا کھلے. …
،، پھر وہ فوزیہ بیگم اور دیا کے ساتھ باتوں میں مصروف ہوگئے تھے، ،،،، فارس دو منٹ بعد ان پر بھی نظر ڈال لیتا تھا،،،،، وہ تب تک ان کے ساتھ رہتا تھا جب تک اس کا باپ واپس نہ چلا جاتا، ،،، عجیب بات تھی دنیا باپ کے سائے تلے محفوظ رہی تھی اور وہ اپنے باپ کے سائے سے ڈرتا تھا، ،
عجب سا تناو تھا دونوں باپ بیٹے کے درمیان. …
وہ جو ہم نے کھایا تھا وہ تو دھوکا تھا
پر جو آپ کو ملا ہے اسے شہ مات کہتے ہیں
■■■
اسلام وعلیکم سر ،، وہ اپنے آفس میں بیٹھا ہوا کوئی فائل پڑھ رہا تھا تب ہی جیک اندر آیا ، اس کے ہاتھ میں بھی کوئی فائل تھی، ،
ہممم بولو ،،، اس نے مصروف سے انداز میں جواب دیا، ،
سر یہ یہ کچھ پیپرز ہیں ان پر سائن کودیں. ، اس نے فائل ازمیر کی طرف بڑھائی ،
اس نے پڑھ کر سائن کر دئے تھے،
وہ سر آپ کو یاد دلانا تھا کہ تین دن بعد سلطانز کے ساتھ میٹنگ ہے سر وہ ڈیل بہت امپورٹنڈ ہے ہمارے لئے اور سر آپ ایک دفعہ کرپس کو سب بتا دیں تاکہ کل مسئلہ نہ ہو آپ کو، جیک نے اسے بتاتے ہوئے فائل اٹھا لی تھی ،
ہممم تم جاو اور کرپس کو بھیجو اور میرے لیے کافی بهی ، بولتے ساتھ اس نے اپنا سر کرسی کے بیک پر ٹکا دیا تھا ،، سہی ہی تو کہہ رہا تھا یہ ڈیل بہت ضروری تھی اسے یہ کنٹریکٹ سائن کروانا تھا ہر قیمت پر ، لیکن اسے شاید پتا نہیں تھا کہ اس کی بدقسمتی اسی ڈیل سے شروع ہونی تھی اور پتا نہیں ختم ہونی تھی بهی کہ نہیں .،،،،، وہ سلطانز کے پاس جا کر غلطی کررہا تھا ،،،،،،اپنی زندگی کی سب سے بڑی غلطی،،،،، جس کی سزا بہت بھیانک تھی ،،،،،، اس کی سوچ سے بھی زیادہ…….
تھوڑی ہی دیر بعد کرپس آگیا تھا. .اور وہ دونوں اب مصروف ہوگئے تھے. .
اک ع تھا پھر ش تھا،،،
اک آگ تھی پھر راکھ تھی،،،
صحرا بھی تھا اور پیاس بھی تھی،،،
پھر اک خلاء ہے انت سا،اک بند گلی، سا راستہ،،،
ویرانیاں ، تنہائیاں ، پھر ق تھا،
پھر سارا منظر راکھ تھا،،،
سب خاک تھا، ،،
بس عشق تھا، ،،،،
صرف عشق تھا، ،،
■■■
اب بتائو کہ وہ تمہیں کہاں ملی تھی، ،؟؟ مزمل اپنے کمرے میں کھڑکی کے پاس کھڑا سگریٹ پی رہا تھا ، ساتھ دیا کے بارے میں سوچ رہا تھا کہ اسے معلوم ہی نہیں ہوا کہ ماہا کب آئی. .وہ چونک کر مڑا. .اور پھر اسکے سوال پر بوکهلایا تھا. .
ک کون کہاں ملی تھی، ،، اس کے تاثرات دیکھ کر ایک پل کو وہ چونکا ضرور تھا پھر خود کو نارمل کر کے الٹا سوال کیا ،
وہی جس کو سوچ سوچ کر ہلکان ہورہے ہو، ماہا نے ایک جانجتی نظر اس پر ڈال کر تنزیہ لہجے میں کہا. ..
میں کچھ نہیں سوچ رہا، مزمل نے رخ موڑنے سپاٹ لہجے میں کہا. .
ہممم اچھا یہ تو اچھی بات ہے ، دعا کرنا جیسا میں سوچ رہی ہوں وہ محض ایک وہم ہو لیکن ایک بات یاد رکھنا کہ میری آنکھیں کم از کم تم دونوں کہ معاملے میں دھوکا نہیں کھاتی ، اور اگر ایسا کچھ ہے بهی تو اسے ابھی ہی اپنے دماغ سے نکال دو ، مایا کہہ کر روکی نہیں تھی وہ جیسے آئی تھی ویسے ہی واپس لوٹ گئی، ،
پیچھے مزمل گرنے کے انداز میں صوفے پر بیٹھا تھا، اس کی نیلی آنکھیں لال ہوگئی تھی، صوفے کی پیشت سے ٹیک لگائے وہ آنکھیں موند گیا ، تب اس کے زہن میں وہ منظر گھوما جب اس نے پہلی بار دیا کو دیکھا تھا ،،، جب سے وہ اس کی سانسوں میں بسی تھی ،،، جب اسے اپنی بےرنگ زندگی میں رنگ نظر آئے تھے، ،،،،،،، پھر اس کے بعد کوئی دن ، کوئی رات ایسی نہیں گزری جس میں اس نے دیا کو نہ سوچا ہو ،،، اس سے غلطی ہوئی تھی کہ اس دن دیا کا ڈیٹا نہیں نکلوایا ،، اور اب ..اب جب حقیقت کھلی تو اس سے برداشت نہیں ہو پا رہی تھی. .ایک باغی آنسو آنکھ سے نکلتا چلا گیا تھا. ..
وہی ہوا نہ بچهرنے پہ بات آ پہنچی
تجھے کہا تھا، پرانے حساب رہنے دے