Tu Bewafa Na Tha by Sandal readelle50033 Episode 19
Rate this Novel
Episode 19
وہ دھیرے دھیرے ہوش میں آررہی تھی. …. اس کے لب مسلسل ہل رہے تھے. .. وہ کچھ بول رہی تھی. …. وہ نا سمجھی سے چھپ کوگهور رہی تھی. …. پھر اچانک اسے ہوش آیا تھا جیسے. … اس نے اٹھنا چاہا مگر. .. مگر پھر اسے محسوس ہوا کہ اس کے ہاتھ پاؤں. .. باندھے ہوئے ہیں. …
کون ہے. … وہ حلق کے بل چلائی تھی. …
اسے یاد تھا ..وہ احمر کے پیچھے ہی ماہا کو دیکھنے آئی تھی. …. . وہ راستے میں سحر کو کال ملاتی. … جارہی تھی. ..جب اچانک اس کی گاڑی ڈس بیلنس ہوئی تھی اس نے جلدی سے بریک لگائی تھی. .. پھر باہر نکل کر وہ گاڑی دیکھ رہی تھی کہ کیا ہوا. … اس کی گاڑی کے آگلے ٹائیر میں بلٹ تھا. … اسے گولی چلانے کی آواز تو آئی نہیں تھی. … آبهی وہ حیرت سے ادھر ادھر دیکھ رہی تھی. .جب کسی نے اس کےمنہ پر کلوروفارم لگا رومال رکھا تھا. …جس کے باعث وہ بہوش ہوگئی تھی. … اور اب ادھر. …..
کون ہے. …. کیوں لائے ہو. .. مجھے یہاں. .. سامنے او کهولو مجھے. .. وہ دوبارہ چلائی تھی. … اسے لگ رہا تھا کہ یہ صدیق خان کا کام ہوگا. .. اس نے ہاتھ پاؤں کھولنے کی کوشش کی ..مگر نتیجے میں. . اس کے ہاتھ پاؤں دکھنے لگے تھے. …
ت ہی چڑچڑاہٹ کی آواز کے ساتھ دروازہ کھلا تھا اور پھر بند ہوگیا تھا. ….
کمرے میں نائیٹ بلب ہی تھا. .وہ آنے والے کو سہی سے دیکھ تو نہیں سکی تھی. …مگر جان گئی تھی وہ کون ہے. ….. حیرت کی زیادتی سے اس کی آنکھیں پھیل گئی تھی. …. اس نے زبان سے ہونٹ تر کئے تھے. …. دور کہیں اسے احمر کا چہرہ نظر آیا تھا. … کچھ دیر پہلے ہی سے وہ کہہ رہا تھا. .. اس کا دل کہہ رہا ہے کچھ ہونے والا ہے. .. اور اب. … احمر کا ڈر سچ ہورہا تھا. ..
ازمیرررر. … اس کی آواز بہت ہلکی تھی. … اس نے وہ ازمیر کو اسلم ملک جیسا نہیں سمجھا تھا. .. اسے لگا تھا ازمیر ویسا نہیں ہے. .. اس نے تو اسے دل سے دوست مانا تھا. .اسے بتانا چاہتی تھی. .. مگر. .. وہ تو اسلم ملک جیسا ہی تھا. … ہوتا بھی کیوں نہ. .. بیٹا تھا. ..خون تھا اسکا. … باپ نے بھی محبت نہ ملنے پر صبر کے بجائے اس پر جبر کیا تھا. … اب بیٹا بھی وہی کررہا تھا. …
وہ اب اس کی طرف بڑھ رہا تھا. … شاید. ..نہیں یقیناً وہ نشے میں تھا. .. اب بھی اس کے ہاتھ میں … ویسکی کی بوتل تھی جو آدهی کردی تھی. ..لڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ وہ اس کے قریب بیڈ پر بیٹھ گیا تھا. ایک ہاتھ اس کے اوپر سے گزار کر دوسری طرف رکھا تھا. .. اور تھوڑا جهکا تھا. …..ہاتھ سے بوتل پوری شدت سے دور پھینکی تھی. .. آنکھیں لال ہورہی تھی. ..مایا کو شاید ان بارہ سالوں میں پہلی دفعہ ڈر لگا تھا. …وہ نشے میں تھا. ..کچھ بھی کر سکتا تھا. …. اور اوپر سے اس کے ہاتھ پاؤں بجی باندھے تھے. ….
کہا تھا نا بے بی. …مجھے دھوکا دینے والے بہت برے لگتے ہیں. .. انہیں میں معاف نہیں کرتا. … اور تم نے تو. ..مجھے بہت بڑا دھوکا دیا. ..تمہیں تو سزا ملے گی جانم. …
جانتی تھی نا. …محبت کرتا ہوں میں تم سے. … جانتی تھی نا. …. سکون ہو تم. ..پھر مجھ سے کیوں میرا سکون چهیننا چاہا. …. جانتی تھی نا. … صرف تمہارے ساتھ میں خوش رہتا ہوں. .پھر بھی میری خوشیاں چهینی. …. اور اس احمر* سے محبت کرتی ہو نا. … میں تمہیں اس کے لیے چھوڑوں گا ہی نہیں تو. …. تمہیں میں اپنا بنا لوں گا. … پھر وہ ہمارے بیچ نہیں آئے گا. … تمہیں میں چھپا لوں گا سب سے. …وہ جنونی انداز میں اس کے کان کے پاس غرایا تھا. … اور پھر شرٹ کے بٹن کهول کر اسپر جهکتا چلا گیا. .. ..
اس کی نیلی آنکھیں مسلسل بہہ رہی تھی. … مطلب. .. وہ ایک دفعہ پھر ہار گئی. … ایک اور مہوش بن گئی. …. قسمت نے اس بار بھی. .. بڑائی کا ساتھ دیا. … اس کا دل شدت سے احمر کو بهلا رہا تھا. …مگر وہاں کوئی نہیں تھی. .. ..
سپنوں کو ٹوٹتے دیکھا ہے میں نے. ..
بربادی کے منظر دیکھے ہیں میں نے. .
غیروں سے کیا گلہ اپنے قتل کا. .
اپنوں کے ہاتھ میں بھی خنجر دیکھے ہیں میں نے
♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥
ادھر احمر گھنٹے سےخوار ہورہا تھا. … اسے نا ماہا مل رہی تھی نہ ہی مایا فون اٹھا رہی تھی … اس نے مزمل کو بھی فون کر کے بلایا تھا. … اس نے ہی بتایا تھا کہ مایا بھی نہیں ہے گھر. .. احمر بچارہ کے سر پکڑ کر بیٹھ گیا تھا. .. مطلب نہیں سنا تھا اس نے. ….. اس کا دل بھی بہت گھبرا رہا تھا. …جیسے مایا تکلیف میں ہو. ..جیسے اسے پکار رہی ہو. …. اس کے پاس سحر کا نمبر تو نہیں تھا. ..مزمل نے ہی آ کال کی تھی اسکا کہنا تھا کہ دو گھنٹے تقریباً پہلے اسے کال آئی تھی. .مگر وہ بزی تھی دیکھ نہیں سکی. ….
اب وہ دونوں خجل ہورہے تھے. ..مایا اور ماہا کے لیے. …مگر ان کا نام و نشان تک نہیں تھا. ..نجانے کدھر غائب ہوگئی تھی. ….
… وفا کے قید خانے میں. ..
…سزائیں کہاں بدلتی ہیں. .
…. بدلتا دل کا موسم ہے…
…ہوائیں کہاں بدلتی ہیں. ..
…میری ساری دعائیں تم سے ہی…
……منسوب ہیں میرے ہمدم. …
….محبت ہو اگر سچی. ….
….. تو دعائیں کب بدلتی ہیں….
….کوئی پ کر نهباتا ہے. ..
..کوئی کهو کر نهباتا ہے. …
… انداز نئے ہوتے ہیں. ….
…. وفائیں کب بدلتی ہیں. …
♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥
وہ اپنے فام ہاؤس میں تھا. …ماہا کو ادھر ہی مرتا چھوڑنے کے بعد وہ ادھر ہی آگیا تھا. … رات اب کافی ہوگئی تھی. ..وہ تب سے سگریٹ پر سگریٹ پھونک رہا تامر سکون تھا کہ م ہی نہیں رہا تھا. .. اس نے موبائل آن کیا جب پر کوئی پچاس کے لگ بھگ کالز تھی صدیق خان کی. …. دیکھنے کے بعد اس نے دوبارہ فون آف کردیا. … وہ کسی صورت صدیق خان سے بات نہیں کرنا چاہتا تھا …اس کو لگتا تھا. .. دیا اور فوزیہ بیگم کی موت صدیق خان کی وجہ سے ہی ہوئی. …. اور مارا ہیر نے. …. اسی لئے ان کی کوئی کال نہیں اٹھائی. ..اور شاید یہیں اس سے غلطی ہوئی. … وہ جس فام ہاؤس میں تھا. .اس کا دیا علاوہ کسی کو نہیں پتا تھا. ….. اور اس نے فیصلہ کردیا تھا. .. اگر ماہا بچ بھی گئی تو ہو اسے خود مارے گا. ….. وہ جیسے ہی آیا تھا اس کے خاص بندے. …. راہل… جسے اس نے اس کیس کے بارے میں سب بتایا تھا. …. اور ساتھ یہ بھی پتا کرنے کو بولا تھا کہ پتا کرو یہ کس نے کیا. . نے اسے ایک ویڈیو دکھائی تھی. . وہ ویڈیو. … اس جگہ سے تھوڑی دور کی تھی. …. وہی گاڑی کو پہلی ویڈیو میں بھی دیکهئی گئی تھی. …. اسی گاڑی سے دو لڑکیاں نکلی تھی. .. ایک نے تو. … پورا کور کیا ہوا تھا خود کو البتہ دوسری کو وہی پہچان گیا تھا. … شک کی کوئی گنجائش ہی نہیں رہی تھی. ..کیونکہ مایا نے ماسک اتارا تھا. …. اس کا چہرہ واضح ہوگیا تھا. ….. پھر انہوں نے گاڑی سے کچھ نکالنے کے لیے ڈگی کھولی تھی. …. اور ساتھ ہی ویڈیو ختم ہوگئی. … یہ سین شاید غلطی سے رہ گیا تھا. …. جس کا سحر او مایا کو پتا بھی نہیں چلا. … یہ دیکھنے کے بعد. ..فارس کے اندر کچھ ٹوٹا تھا. …. پھر اسے شدت سے اپنی غلطی کا احساس ہوا تھا کہ وہ ہیر کوئی ادھر ہی کیوں نہیں مار آیا. ..مشکل تھا. …بہت مشکل. ….مگر. … اس نے فیصلہ کر لیا تھا چاہے کتنا بھی مشکل کیوں نہ ہو. ..اپنے عشق کی اپنے ہاتھوں سے جان لینا. … مگر وہ کرے گا. … وہ دیا اور اپنی ماں کے قاتل کو بھی اتنی ہی تکلیف دے گا جتنی انہیں سہنا پڑی. ….. یہ سوچ بھی جان نکال رہی تھی. ..مگر اس نے خود پر بے حسی کا خول چڑھا لیا تھا. ….. اس نے اس ویڈیو کے بارے میں یا کچھ بھی کسی کو بتایا نہیں تھا. ..نہ وہ بتانا چاہتا تھا. ….. وہ پیر کو خود سزا دینا چاہتا تھا. …اپنے ہاتھوں سے. …. اس کے لیے اس نے سوچ لیا تھا کہ اسے کیا کرنا ہے. …اس نے راہل کو سلطانز کے بارے سے سب پتا کرنے کوکہا تھا. …… جو مشکل توتها. …مگر اسے کسی حال میں بھی سب جاننا تھا. ..وہ کون تھے…؟ .کیا تھے. ….؟.ہیر نے جوکہا کیا وہ سچ تھا. .. …؟اس کے ماں باپ کون تھے. ؟؟…ان کے ساتھ کیا ہوا. .؟؟؟؟کس نے کیا. ..؟؟ … اور اس کام میں دو سے تین دن لگ سکتے تھے. ..اور اسے تب تک کا انتظار کرنا تھا. ..،.. یہ تو وقت ہی بتاتا کہ وہ انتظار کرسکتا تھا کہ. …. جلدبازی میں. ..ایک اور غلط فیصلہ کرتا. ……
کتنے عام سے ہیں نا ہم….
دیکھ تجھے یاد بھی نہیں آتے. ..
♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥
احمر اور مزمل اب بھی سڑکوں پر ڈھونڈ رہے تھے. … ماہا کی کار میں انہیں ایک مال کی پارکنگ میں نظر آگئی تھی مگر ماہا کہیں نظر نہیں آئی. … اور مایا تو سرے سے ہی غائب تھی. …. وہ دونوں اب روڈ پر اپنی گاڑی روکے ادھر رکے ہوئے تھے. … تب ہی سحر کی گاڑی ان کی گاڑی کے پاس آکر رکی. .. سحر بھی اب پریشان تھی. …آخر دونوں غائب کیسے ہوگئی. ….
کیا ہوا کچھ پتا چلا. … سحر گاڑی سے اتر کر ان کے پاس آتی بولی. .
خاک پتا چلا ہے. …. سمجھ تو آتی نہیں ہے کچھ ان پاگلوں کو بس اپنی کرنی ہوتی ہے چاہے دنیا الٹ ہوجائے. … احمر نے جل کر کہا تھا. … منع بھی کر کے آیا تھا مگر پھر بھی وہی کیا. ..وہ ت پچھتا رہا تھا کہ وہ اسے ساتھ ہی کیوں نہیں لایا. … ساتھ لے آتا تو اتنا ت خوار تو نہ ہونا پڑتا. ……
ہمم چار گھنٹے ہوگئے ہیں اب تو. … ایک بهی نہیں ملی. ….. اب تو بڑے پاپا بی پہنچے والے ہوں گے. ..شمس چلا گیا ہے انہیں لینے. … اگر تب تک وہ نہ ملی تو کیا کریں گے. …. وہ بھی پہلے ہی ماہا کے لیے ہے پریشان ہیں. …. مزمل نے پشانی مسلتے ہوئے کہا. …. …. اتنی دیر گزر گئی تھی. … مگر ان کی کوئی خبر نہیں تھی. ..وہ سچ میں پریشان ہوگیا تھا. ….
کیا پتا وہ دونوں ساتھ ہوں. .کیونکہ مایا کی گاڑی تو ملی ہی نہیں. .. اور کیا پتا وہ ماہا کو لے کر ہاسپٹل گئی ہو …. سحر ت کچھ سوچتے ہوئے کہا تھا. .. اور آسی وقت مزمل کا فون رنگ ہوا تھا. ..
اوکے. … آئے ایم کمنگ. … مزمل نے سرد سانس خارج کرتے کہا تھا. …..
کیا ہوا ہے. ..احمر نے اس کے کال کاٹتے ہی پوچھا تھا. …..
ماہا مل گئی ہے. ..میڈم …کہیں سر مار کر ایک دفعہ پھر ہاسپٹل میں پائی گئی ہے. …. کوئی لڑکا لے کر گیا ہے. …. چلو اب ادھر. .. سحر تم یہاں گاڑی تو نہیں چھوڑ سکتی تو اپنی گاڑی میں ہی آجاو. ….. مزمل کی کچھ پریشانی تو ختم ہوئی تھی. ..
ہاں مگر. ..مایا. … احمر کی سوئی مایا پر ہی اٹکی ہوئی تھی. ….
ماہا مل گئی ہے تو وہ بھی ادھر ہی ہو گی چل اب اس کی طرف. … مزمل گاڑی میں بیٹھتے بولا تھا. …. احمر بهی لٹکے منہ کے گاڑی میں بیٹھ گیا تھا. .. سات ہی گاڑی آہستہ آہستہ غائب ہوگئی. ….. سحر بهی اپنی گاڑی میں بیٹھتی. .. ہاسپٹل کی طرف موڑ گئی تھی
تقاضے ختم ہی نہیں ہوتے زندگانی کے
کبھی یہ ضروری ہے تو کبھی وہ ضروری ہےمایا نے آنکھیں سختی سے میچی ہوئی تھی. …… اس نے سانس تک روک لیا تھا. … یا شاید لینا ہے نہیں چاہتی تھی. …. جب اسے اپنی گردن پر کچھ گیلا گیلا محسوس ہوا تھا. ….. اور پھر اس نے محسوس کیا تھا کہ ازمیر رو رہا تھا…. پھر اچانک وہ اس کے اوپر سے اٹھا تھا. ….
. ریا. ..وہ پوری قوت سے دھاڑا تھا. ..جب دروازہ کھول کر ایک لڑکی اندر آئی تھی. .
اس نے اس لڑکی کی طرف اشارہ کیا تھا تب ہی آگے بڑھ کر اس لڑکی نے مایا کے کهول دیا تھا. … اور خود باہر چلی گئی. …. مایا بلکل خاموشی سے ازمیر کو دیکھ رہی تھی. … جو رو رہا تھا. .. شاید. … اسے محسوس ہوا تھا. .. اس نے اپنا چہرہ ہاتھوں میں چھپایا ہوا تھا. …
نہیں کرسکتا تمہارے ساتھ کچھ بهی غلط. …… چاہ کر بھی میں اسلم ملک نہیں بن سک رہا. …… میں نے تمہارے لیے سب ت چھوڑ دیا مگر تمہیں نہیں چھوڑ سکتا مایا. …. محبت کرتا ہوں میں سچ میں. ….تم نے تو مجھے برباد ہی کردیا نا. ..جانتی تھی نا میں چاہنے لگا ہوں تمہیں. …. میرے جذبات سے کھیلنے کی کیا ضرورت تھی. …. تڑپ رہا ہوں تمہارے لیے مگر. ..تمہیں اپنا بنا نہیں سکتا. …. کیا کروں ..میں. ….میری موم بتی مجھ سے زندگی میں پہلی دفعہ کچھ مانگا تھا اور وہ یہ کہ میں ایک اور اسلم ملک بن کر ایک مہوش کو برباد نا کروں. ……… نہ میں صدیق خان بن کر ایک اور. سحر کو اس دنیا میں لانا چاہتا ہوں. …..میں یہ نہیں چاہتا. … میں نے سوچا تھا. ..تمہیں میں اپنا بنا لوں گا. .. پھر کوئی بھی تمہیں مجھ سے جدا نہیں کر سکے گا. ….مگر. …..مگر اب جب کرنا چاہا تو نہیں کرسکا. ………. وہ. اب بھی چہرہ ہاتھوں میں چھپائے بول رہا تھا. ……
مایا تو ہونقوں کی طرح اسے دیکھ رہی تھی. …تو کیا وہ سب جانتا تھا. …. اور پھر خاموش بھی رہا. ….اور کیا کیا جانتا تھا. …….اس کی جان لبوں پر رکی ہوئی تھی. ……
تم اب سوچ ری ہو مایا کے مجھے بھی کیسے پتا. ….
مجھے پہلے ہی کچھ نہیں پتا تھا. …. مگر جب میں گھر گیا ادهر مجھے اپنے موم اور ڈیڈ کے رلینش کے بارے میں پتا چلا. …. اور پپو موم بے مجھ بس بتایا ڈیڈ کا پاسٹ. … جس میں انہوں نے سلطان کا نام بھی لیا. …. یہ بھی بتایا کہ صدیق کان نے تمہارے ڈیڈ کو مارا تھا اور میرے ڈیڈ نے ریپ کیا. ….تب میں نے دعا کی کہ وہ سلطانز تم لوگ نہ ہو. ..پھر موم نے بتایا کہ ان کے دو جڑواں بیٹیاں اور ایک بیٹا تھا. ..موم کو نام تو نہیں آتا تھا. ….مگر مہوش اور شہریار کا نام آتا تھا. … شہریار سلطان تو موقع پر مر چکا تھا مگر مہوش تب سے کومے میں ہے. …. پھر وہ. دیا والا کیس بنا. … تب میں نے تم پر نظر رکھنی شروع کی. .ت مجھے پتا چلا وہ بھی ڈرامہ تھا. …. سحر کے بارے میں بھی میں جان گیا تھا. ..یہ بھی کہ تم لوگ اپنے موم ڈیڈ کا بدلہ لینا چاہتے ہو. …..پھر ماہا گری. …. تب بھی مجھے پتا تھا وہ تم نہیں تھی کیونکہ میں نے تمہیں باہر جاتا دیکھا تھا. … اور پھر سحر بھی رات پوری غائب تھی. …. میں تب حیران ہوا تھا. .. وہ بالکل تم جیسی تھی. ..پہچاننا ..ہت مشکل تھا. …. مگر میں پھر بھی جانتا تھا وہ تم نہیں تھی. …. … پھر مجھے سب پتا چل گیا …مگر پھر بھی میرا ارادہ نہیں بدلہ. … میں کسی قیمت پر تمہیں گهونا نہیں چاہتا تھا. … تب ہی اتنا گر گیا. …. سوری مایا. …. وہ روتے روتے سب بتاتا گیا تھا. ……
مایا ت کومے والی بات پر ہی اٹک گئی تھی. … اسے اس کے آگے کچھ سمجھ نہیں آیا تھا کہ وہ کیا بول رہا ہے. …
سر سائیں سائیں کررہا تھا. …….یہ کیسے کیسے انکشاف ہوئے تھے آج اسپر. …. سر درد سے پھٹنے لگا تھا. … نیلی خوبصورت آنکھیں آنسوؤں سے بهڑ گئی تھی. ..
میری موم مر گئی ہیں. … اسے اپنی آواز دور. ..کہیں بہت دور سے آتی محسوس ہوئی تھی. …
ازمیر نے پہلی بار اپنا آنسوؤں سے ت چہرہ اٹھایا تها. ….
وہ زندہ ہیں مگر کومے میں. ..تمہارے تایا نے تم لوگوں کو اسی لیے نہیں بتایا کیونکہ تم لوگ. پہلے ہی بہت تکلیف میں تھے…اس ی لیے چهپایا تم لوگو سے … ازمیر نے اس دهواں دهواں چہری دیکهتے ہوئے کہ تها ..
ک کون سے ہاسپٹل …. اس کا دل زور زور سے دهڑک رہا تها…مانوں ابهی باہر آجائے گا
سمجھ نہ آیا زندگی تیرا یہ فلسفہ
ایک طرف کہتی ہے
صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے
اور دوسری طرف کہتی ہے
وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا
♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥
اس نے آنکهیں کهولی تهی ایک دفعہ ہاسپٹل کے سفید کمرے میں خود کو سفید کپڑوں میں پایا تها. ….. کوفت سے آنکهیں بند کرلی تهی. …. سارا منظر یاد آیا تها. … اسے تو پتا بهی نہیں تها مایا لوگوں نے کیا کیا. …کیا ہو وا تها. …..یا وہ زندہ بهی تهی کہ نہیں. … اسے یاد تها وہ تهپر. …. اکیس سال کی ہونے کو تهی اور ان اکیس سال میں اسے دوسرا تهپر لگا تها. .. وہ بھی ایک ایسے شخص سے جسے وہ چاہی تھی. … جو اس سے عشق کرتا تها. …. نیلی آنکھوں آنسوؤں سے بھر گئی تھی. … سر پر پٹی بند دی تھی. … اب اسے آرام تها. .. پھر ایک دم وہ اٹھ کر بیٹھی تھی. … ہاتھ میں لگی ڈرپ کا کنولا اتار کر دور پھینکا تھا. … درد کی ایک لہر پورے وجود میں دوڑی تهی. …. اس نے تکلیف سے ہونٹ بھینچ لیے تھے. …ہاتھ سے خون نکلنا شروع ہوگیا تھا. ..تب ہی دروازہ کھلا تھا. … اور وہ اندر آیا تها. … اندر کا حال دیکھ کر اس کے ماتھے پر بل پڑ گئے تھے. .. وہ بڑے بڑے قدم اٹھاتا اس تک پہنچا تها. .
دماغ خراب ہے. ….، کیا ہر وقت خود کی دشمن بنی رہتی ہو. .. آرام نہیں ہے تمہیں. …. اس کی سخت گھمبیر آواز کمرے میں گونجی تهی. .. ماہا نے حیرت سے اس اجنبی کو دیکھا تو جو بڑے آرام سے اسے ڈانٹ رہا تھا. ..پھر اسے یاد آیا یہی آواز تواسی نے بہوش ہونے سے پہلے سنی تھی. … یقیناً یہی اسے یہاں لایا تها. ..
ٹھیک ہوں میں. ….. کافی ٹائم ہوگیا ہے. ..مجھے گھر جان جانا ہے. …سب پریشان ہورہے ہوں گے. … کپڑے کدھر ہیں میرے. … ماہا کے کمال بے نیازی سے جواب دیا تھا. …. جیسے تکلیف میں وہ نہیں پڑوسی ہوں. ..
میڈم گھر والے آپ کے پاگل ہونے سے پہلے آرے ہیں. ..پچھلے 5 گھنٹوں سے وہ خوار ہورہے تھے. … بس پاگل ہونا باقی تها کہ انہیں ک کال کرلی گئی ہے. …. اب آرام سے بیٹھیں ادهر. … اس نے دانت پیس کر بولا تھا. ….
اچھا مگر میرا دم گھٹ رہا ہے مجھے باہر جانا ہے. ..ماہا نے بیڈ سے اٹھتے ہوئے کہا تھا. …سے اندازہ ہوگیا تھا یہ وہی ہاسپٹل تها جس میں وہ پہلے بھی آئی تھی. .. اب اسے اوپر والے فلور پر جانا تها. .تب ہی بہانہ بنا دیا. …
ہمممم …. کافی ضدی ہیں. ..خیر چلیں. .. اس نے باہر کا آشارہ کرتے ہوئے کہا تها. ..ماہا پہلے تو اسے غور سے دیکھتی رہی. … یہ وہی تها. ..جواس اس دن ملا تها. …. ایک بهر پور وجاہت کا شاہکار. …. مرد. ..
نام کیا ہے اپکا اور اتنی مہربانی کیوں کررہے ہیں مجھ پر. … وہ دونوں اب روم سے باہر نکل آئے تھے. … جب ماہا نے سرسری سا پوچھا تها. ….
آریان شاہ. ….. مختصر جواب دیا تھا. ..
ماہا نے ایک دم اس کی طرف د دیکھا تها. ……پھر اسے یاد آگیا کہ وہ کون آریان شاہ تها. …. وہی جو پاکستان میں مزمل کا بیسٹ فرنڈ تها. ..ساتھ میں ماہا اور مایا کا بهی اچھا دوست تها. ………
ہمم کیسے ہو. .. وہ اب سیکنڈ فلور پر دیکھ رہی تھی. …..جہاں معمول سے زیادہ گھما گهمی تهی. ….
شکر ہے یہ نہیں پوچھا کون آریان شاہ. … ارررےے ادهر کدھر باہر جارہے تھے ہم تو. .. آریان نے اسے سیڑھیاں چڑھتے دیکھا وہ اس تک پہنچا تها. …مگر وہ آگے بڑھ گئی تھی. ….مجبوراً اسے بهی اس کے ساتھ جانا پڑا. .
یہاں اتنا شور کیوں ہے. .. اس نے ایک نرس کو روک کر پوچھا تها. ..
ثاقب سلطان کی پیشنٹ کو ساڑھے بارہ سال بعد ہوش آیا تها. … انہی کو دیکھ رہے ت تپ ہیں. ….. نرس اور بهی کچھ بول رہی تھی. ..مگر ماہا سن ہوگئی تھی. … آریان نے اسے سنبھالا تها. …. نیلی جیل سی آنکهیں برس رہی تھی. …. وہ باگ کر اس دروازے تک گئی تھی. ….. اندر ڈاکٹرز مہوش سے بات کررہی تھی. … وہ گر جاتی اگر آریان اسے سمبهلاتا نا، …. اسے تو کچھ سمجھ نہیں آرا تها، …..، اسے دور سے ثاقب صاحب کی آواز آئی تھی. …. ساتھ ہی مزمل احمر اور سحر بهی پہنچ گئے تھے. …. مزمل اور احمر بهی پتھر کے ہوگئے تھے. …. البتہ ثاقب صاحب اور خدیجہ بیگم سب کو ہٹاتے اندر تک چلے گئے تھے. …………..
..
بهرے جہاں میں کوئی میرا تھا ہی نہیں
کسی نظر کو میرا انتظار تھا ہی نہیں
سنا رہا ہوں محبت کی داستان اس کو
میری وفا پر جس کو اعتبار تھا ہی نہیں
وہ اس انداز کی مجھ سے محبت چاہتا ہے
میرے ہر خواب پر اپنی حکومت چاہتا ہے
وہ کہتا ہے کہ میں اس کی ضرورت بن چکا ہو
تو گویا وہ مجھے حسب ضرورت چاہتا ہے
ماہا، مزمل اور احمر تو ادھر ہی ساکن کھڑے تھے. … البتہ سحر اور آریان حیران پریشان کھڑے. ..سمجھنے کی کوشش کررہے تھے کہ ہو کیا رہا ہے. …..
کیا کررہے ہو تم سب ادھر. ..تب ہی مایا اور ازمیر بھی پہنچ گئے تھے. … مایا ے دھڑکتے دل سے پوچا تھا. … اس کی آواز سے سکتا ٹوٹا تھا. …
تم کدھر تھی. … احمر نے خود کو نارمل ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا. …. اندر سے تو وہ بھی بہت شاک تھا. …..
ماہا منہ پر ہاتھ رکھتی اپنی سسکیوں کا گلا گھونٹی نیچے باگی تھی. …
ماہا ….. آریان چلایا تھا مگر وہ سب ان سنا کرتی باہر نکل گئی تھی. . آریان بھی اس کے پیچھے نکل گیا تھا. ….
اب وہاں مزمل مایا احمر اور ازمیر ہی تھے. .. ثاقب صاحب اور خدیجہ بیگم اب مہوش سے بات کررہی تھی. …..
بھائی. ..میرے بچے کدھر ہیں. …مہوش نے ثاقب صاحب سے پوچھا تھا. … لہجے میں بےچینی واضح تھی. …. چہرہ مرجھایا ہوا تھا. … کافی کمزور ہوگئی تھی. ….
مہوش تم آرام کرو ابھی بعد میں بات کرتے ہیں. …خدیجہ نے اپنے آنسوؤں سے تر چہرہ کو صاف کرتے ہوئے کہا تھا. ….. دل مان ہی نہیں رہا تھا کہ. ..ان کی بہن زندہ سہی سلامت ان سے سامنے تھی. …. پھر مزمل لوگوں کی بڑی فکر تھی کہ وہ کیسے ریئیکٹ کریں گے. …ابھی تو ان سے بھی بات کرنی تھی انہیں سمجھانا تھا. … تب ہی مہوش کو ٹالنا چاہا. ….. ڈاکٹرز انہیں مبارک دیتے جا چکے تھے. ….
بہت عرصہ آرام کر……….. ابھی کچھ بولتی کہ سامنے سے اندر آنے مزمل کو دیکھ کر زبان کو قفل لگا گیا تھا. …….. آنسوؤ لگاتار بہت رہے تھے. …. مزمل خواب کی سی کیفیت میں ان تک آیا تھا. …. پلک جھپکانے کی غلطی نہیں کی تھی کہ وہ کہیں غائب ہی نہ ہوجائے. ………. مایا ازمیر. اور. احمر بھی اس کے پیچھے ہی آئے تھے ان کی کیفیت بھی مختلف نا تھی. …. سانس روکی ہوئی تھی. …..
ثاقب صاحب اور خدیجہ بیگم بھی انہیں حیرت سے دیکھ رہے تھے. …. وہ کدھر سے آگے. … کیونکہ جب وہ آئے تھے. …پہلے تو. ..باہر رش تھا. .دوسرا. … وہ تھے ہی جلدی میں. ..اس لیے دھیان نا کرسکے کہ وہاں وہ بھی تھے. …. وہ تو انہیں سمجھانا چاہتے تھے. .مگر وقت نے غذ شاید وقت ہی نہیں دیا تھا. ……
ممی. … مزمل بہت ہلکے سے بڑبڑایا تھا. …
میرا بچہ. …. مہوش نے اپنی بانہیں وا کی تھی. … خوشی انگ انگ سے واضح تھی. ..
ڈ دس ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ وہ اپنی زیادہ یادداشت کهو چکی تھی. .. اور اسے نہیں یاد تھا کہ اس کے یا شہریار کے ساتھ کیا ہوا تھا. …. البتہ اپنے بچے ضرور یاد تھے. … خدیجہ نے یہی کہا تھا کہ ان دونوں کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا. … جس میں شہریار تو مر گیا اور وہ کومے میں چلی گئی. .. جبکہ بچے ان کے ساتھ نہیں تھے تب ہی بچ گئے. …. شہریار کا سن کر وہ ایک لمحے کے لیے اداس توہوگئی تھی. .مگر مزمل ماہا کا سوچتی خوش بھی تھی. …..
مزمل ان کے گلے لگ گیا تھا. … بولا کچھ نہیں تھا مگر نیلی آنکھیں برس رہی تھی. … یہ اگر خواب تھا جو وہ اٹھنا نہیں چاہتا تھا. ….
میری مایا. ..، انہیں نے مایا کو بھی اپنے پاس بلایا تھا. …. پھر وہ کئی دیر. … روتے رہے تھے. ……
♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥
ماہاااا. ….یار رکو تووو. ….. آریان اس تک پہنچتا بولا تھا. …. مگر وہ روئے جا رہی تھی. …..بے تحاشا. …..
ہوا کیا ہے وہ ت تمہاری موم ہیں. … تو تم ایسے کیوں ریئیکٹ کررہی ہو. …چلو ان سے ملو تو. ….. اسے اتنا تو پتا تھا کہ وہ کومے میں تھی مگر یہ نہیں پتا تھا کہ کیوں ..یا ماہا لوگوں کو پتا ہے کہ نہیں. … اسے بھی یہی لگا تھا کہ پتا ہو گا. ..تب ہی ان کا ٹریٹمنٹ ہورہا ہے. …..
میری موم زندہہہ. …. وہ روتے ہوئے اتنا ہی بول سکی تھی. …. اس کے آنسو آریان کو تکلیف دے رہے تھے. ..
ہاں تمہاری موم. .، مہوش آنٹی. …. کیا تمہیں نہیں پتا تھا کہ وہ زندہ ہیں. … آریان نے اسے دیکھتے ہوئے کہا تھا. ..
ماہا نے آستین سے چہرہ صاف کرتے ہوئے نفی میں سر ہلایا تھا. … اور آریان سمجھ گیا تھا کہ ان سب کے چہرے سے ہوائیں کیوں اڑی ہوئی تھی. .. اتنا شاک کیوں تھے. ….
اوکے ریلکس. … سب ٹھیک ہے. ..تمہاری طبیعت تو خراب ہے. …. اتنا رو گی تو اور خراب ہوگی. … اور میرا نہیں خیال کہ تم اس حالت میں ان کے سامنے جاو. ..دیکھو. … وہ ابھی بارہ سال بعد کومے سے اٹھیں ہیں. …دوبارہ ٹینشن لی تو طبیعت خراب ہوسکتی ہے. ….. اس لیے تم کچھ دن نہ جاو ان کے سامنے. … آریان نے اس کے بال پٹی میں سے ٹھیک کرتے سنجیدہ لہجے میں کہا تھا. ….
دور ہٹو. …خراب کررہے ہو بال میرے. .. …. اور …. مجھے ان سے ملنا بھی نہیں ہے. ..جو مجھے چھوڑ گئی تھی. … ماہا نے اپنے بالوں سے اس کا ہاتھ ہٹاتے. …. بچوں کی طرح کہا تھا. ……..
تووو اب. … آریان نے اس کی جهڑکا ہاتھ پہلے دیکھا تھا پھر جینز کے پاکٹ میں ڈال لیا. …. اسے شاید. ..اس کا یوں جھڑکنا پسند نہیں آیا تھا. …..
ابب. … مجھے یہاں سے لے جاؤ. …. بلکہ ہمارے فام ہاوس میں مجھے اتار دو…. میری گاڑی تو ہے نہیں ادھر تو یہ نیک کام تم کرو. …. ماہا نے اسے دیکھتے ہوئے حکم دیا تھا. …. آریان بے اختیار اس کی طرف مڑا تھا. … اس کا حکمیہ لہجہ اسے اچھا لگا تھا. … اسے کہتے ہوئے اسے وہ اس کی چھوٹی سی ضدی دوست لگی تھی. ..جسے اس نے بارہ سال پہلے کهو دیا تھا. ..جس کے بعد وہ ان تینوں کو بہت یاد کرتا تھا. …. وہ مزمل کا کلاس فیلو تھا. …. اور اس کے صرف پورے سکول اور گھر میں بی وہی تین دوست تھے. … اس کے علاوہ کبھی کوئی دوست بنایا ہی نہیں تھا. … وہ ایک شرارتی بچہ تھا. … مزمل ماہا. .مایا کی طرح. … وہ چاروں. . بہت شرارتی تھے… مگر وہ تب بھی زیادہ ماہا کے ساتھ چپکا رہتا تھا. … اسے یہ ضدی گڑیا بہت پسند تھی. …. … مزمل لوگوں نے تو اپنا بچپن کھویا تھا ہی مگر ادھر عش آریان بھی. … سنجیدہ ہوگیا تھا. …. کافی دن وہ روتا رہا تھا. … بخار میں رہا تھا. … اسے پتا چلا تھا کہ …ان کے پرنٹس کا قتل ہوگیا تھا. ..اسی لیے وہ چلے گئے کہیں. …….. پھر اس کے بعد وہ سنجیدہ …بہت سنجیدہ ہوگیا. … پھر کبھی اس نے کوئی دوست بھی نہیں بنایا. …. اس نے بڑے ہو کر بھی ان تینوں کو بهلایا نہیں تھا. ….. پھر امریکہ میں ایک میٹنگ اٹینڈ کرنے آیا تھا. … جب ماہا ملی تھی. …. اس کی نیلی آنکھیں. …. وہ ایک سیکنڈ میں پہچان گیا تھا کہ وہ کون ہے. …پھر اپنے ایک خاص بندے سے بول کر اس کی ساری معلومات نکلوائی تھی. ….. جس سے اس کو مکمل یقین ہوگیا تھا. ……پھر اس نے اپنے دو بندے ماہا پر نظر رکھنے کے لیے مقرر کئے تھے. ….. جب شام کو بھی انہوں نے ہی اسے بتایا تھا کہ وہ کسی لڑکے کے ساتھ ہے. ….پہلے تو وہ حیران ہوا تھا. ..کیونکہ وہ جانتا تھا کہ وہ … گری تھی. ..جس کی وجہ سے سر پر گہری چوٹ آئی تھی. …. … وہ پاس ی تھا تب ہی ادھر آگیا تھا. ..مگر تب تک فارس جا چکا تھا. …. وہ پہنچا تھا وہ اسے ماہا کی گاڑی ہی نظر آی تھی وہ اسے آوازیں دیتا آگے بڑھا تھا. … اس کی گاڑی کے پاس وہ رک گیا تھا. …. قدموں کے ساتھ ساتھ سانسیں بھی تهم گئی تھی …. اسے یوں خون میں لت پت دیکھ کر. …… جسم سے جان نکلتی محسوس ہوئی تھی. …. پھر وہ اسے سسکتا دیکھ کر ہوش میں آیا تھا. … اور آٹها کر گاڑی میں ڈالا تھا. …… اور پھر یہ سب ڈرامہ. ….
ہیلووو. …زندہ ہو یا. ….. ماہا نے اس کے سامنے ہاتھ لہراتے ہوئے پوچھا تھا. …. وہ جو یادوں کی سیر کررہا تھا. … اس کے بلانے نے حال میں لوٹا تھا. ……
اوکے چلو میں کردیتا ہوں تمہیں ڈراپ. … میرا ڈرائیور تمہاری گاڑی ادھر ہی لے آئے گا. …پہلے تو. …. تم کسی کو بتا دو گھر میں. … تاکہ وہ پریشان نہ ہوں. …. آریان نے گاڑی کی چابی نکالتے ہوئے کہا تھا. ..
مجھے نہیں بتانا کسی کو کچھ. … اور وہ پاگل ت نہیں ہیں جو. ….. مجھے ایسے ممی کے سامنے لائیں گے. ..کچھ بہانہ بنا لیں گے. …. بس مجھے فام ہاوس لے جائیں. ….مجھے آرام کرنا ہے فلحال وہ آریان کی گاڑی کی طرف بڑھتی بولی تھی. …. دل ت بہت کررہا تھا کہ ممی سے ملے. … مگر دل کو دل میں ہی خاموش کروا دیا تھا. … اب تھوڑے نخرے بھی نہیں کرنے تھے. …. آریان بھی تاسف سے سر ہلاتا اس سر پهڑی کے پیچھے ہی گاڑی کی طرف بڑھ گیا تھا. …….
☺ وہ اس انداز کی مجھ سے محبت چاہتا ہے
میرے ہر خواب پر اپنی حکومت چاہتا ہے
وہ کہتا ہے کہ میں اس کی ضرورت بن چکا ہو
تو گویا وہ مجھے حسب ضرورت چاہتا ہے
