Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

The Night Stalkers by Bisma khan Episode31

The Night Stalkers by Bisma khan Episode31

وہ لوگ صبح کے نکلے دوپہر کے ۲ بجے کراچی کی حدود میں داخل ہوئے
سب ہی پُر عزم دکھائی دے رہے تھے وہ اپنے ساتھ تین گاڑیاں لیے تھے جن میں سے ایک پولیس کیب تھی
جگہ کا وہ لوگ جانتے تھی مگر اُن لوگوں سے پہلے وہاں پہُںچ کے کوئی خطرہ مول نہی لینا چاہتے تھے اسی لیے کچھ کھانے پینے اور اپنا ٹائم گزارنے کے لیے وہ لوگ ایک ڈھابے پر رکے صبح سے ہی وہ سب بنا کچھ کھائے پیے سفر کر رہے تھے اب بھوک تو سب کو لگی تھی اسی لیے اس فیصلے پر سب نے اکتفا کیا
کھانے کے بعد وہ لوگ شام اُن لوگوں کے انے سے پہلے ہی شپمنٹ والی جگہ پر پہُںچ چُکے تھے اور اپنی اپنی جگہ سنبھال چکے تھے
پلان کے مطابق جنت,حماس اور حدید ابھی موقع پر موجود نہی تھے
کچھ دیر نے ہے وہاں ہل چل شروع ہو گئی تھی جس سے یہ ثابت ہوا تھا کے وہ سب ہی وہاں پہُںچ چکے ہیں
اچانک کنٹینر کے سامنے گاڑی آ کر رکی جیسے کنٹینر کے نیچے چھپے ہائم نے دیکھا جوتوں سے وہ یہ پہچان گیا تھا کے گاڑی میں سے دو مرد اور ایک عورت باہر نکلے تھی اس کے پیچھے رکنے والی گاڑی میں سے بھی سات سے اٹھ افراد باہر ائے
اُسنے فوراً سے پہلے وائر لیس سے یہ اطلاع دور کھڑے کنٹینرز کے پیچھے کھڑے افہام تک پہنچائی
مطلب ابھی وہ نواز نہی آیا ہمیں ابھی کوئی اکشن نہی لینا پہلے نواز کو یہاں پہنچنے دو پھر کچھ ہوگا
افہام میں اُنہیں اگلا اسٹیپ بتایا تو سب ہی اپنی اپنی حامی بھری
ابھی ۱۵ منٹ ہی گزرے تھے جب ایک اور گاڑی اُنہیں گاڑیوں کے پیچھے آ کے رکی
اس میں سے نکلنے والی دو عورتیں تھیں جبکہ ایک مرد
بوس نواز کے ساتھ دو عورتیں بھی ہیں اور وہ اپنے ساتھ کوئی گارڈ نہی لایا
یہ خبر افہام کے لیے کافی مثبت ثابت ہوئی
یعنی یہاں انہوں میں سیکورٹی زیادہ نہی رکھی اس یہ تو ہمارا کام اور بھی آسان ہے ہائم کیمرا ریڈی ہے۔۔۔۔افہام نے ہائم سے پوچھا جو کب کا کیمرا سیٹ کر چکا تھا
یس بوس۔۔اُسنے دو لفظوں میں ہی جواب دیا کیوں کے قدم نزدیک سے نزدیک اتے جا رہے تھے
کچھ دیر میں وہ سب ہی ایک جگہ کھڑے تھی جو کیمرے کی قید میں تھی اس طرح سے اُن سب کے چہرے صاف واضع ہو رہے تھے اُن دو عورتوں میں سے ایک تو سیاسی جماعت کی تھی جبکہ دوسری کو ہائم نہی جانتا تھا
اور یہی وہ وقت تھا جب ایک اور گاڑی آ کر رکی ہائم کو اسکی اُمید نہی تھی
اس میں سے تین آدمی باہر نکلے اور پھر کچھ دیر بعد گھسیٹ گھسیٹ کر ۱۲ سے ۱۳ لڑکیوں کو باہر نکالا گیا
وہ سب ہے کافی ابتر حالت میں تھیں صاف پتہ لگتا تھا کے اُن پر کافی تشدد کیا گیا ہے اور اب اُنہیں فروخت کیا جا رہا ہے یہ سب کچھ ہائم ساتھ ساتھ اپنے کیمرے میں ریکارڈ کر تھا تھا اُدھر لوگوں کی تعداد کم سے کم ۲۰ تھی ان لوگوں کے لیے یہ کچھ بھی معنی نہی رکھتی تھی
وہ تو خود چالیس سے پچاس بندوں کہ سوچ کر ائے تھے لیکن شاید اکرم۔پاشا کو انفو لیک ہو جانے کا ڈر تھا اسی لیے زیادہ لوگوں کو اس کام میں شامل نہیں کیا گیا تھا
اُسکے پانچ منٹ بعد افہام کے آرڈرز پر سعد اور جازم نے کنٹینرز کے پاس کھڑے پہرا دیتے ادمیوں کو کافی خاموشی کے قابو کیا تھا
ان ادمیوں کی تعداد چھ تھی باقی سب اپنی ہی ڈیل میں لگے تھے
اسی لیے اُنکی طرف کسی نے دھیان نہیں دیا تھا اسکے بعد افہام کے ہی آرڈرز پر اُن سب نے ہے اٹیک کر دیا ہائم کا کام بس اس سب کو کیپچر کرنا تھا
کچھ دیر میں ہی وہ سب ان پر قابض آ چکے تھے
فائرنگ سے نواز تو پہلے ہی زخمی ہو چکا تھا جبکہ اکرم پاشا،حیدر اور روبینہ بلکل سلامت تھے اور اب ان کے قبضہ میں تھے
جنت وغیرہ کو وہ انے کا کہہ چکے تھے
اُن میں سے کسی کو اُمید نہی تھی کے یہ کام اتنی آسانی سے ہو جائے گا
افہام اُن سب کو ایک جگہ اکٹھا کر لیا تھا اُسکا ارادہ اُن سب کو لاہور پولیس اسٹیشن لے کر جانے کا تھا مگر انفا اور سعد کی بات سن کر وہ حیران ہوا وہ دونوں ہی انہیں وہاں لے جانے پر رضامند نہی تھے
کیوں ہم انہیں قانون کے حوالے کر دیں گے۔۔۔افہام نے اُن دونوں کو سمجھانا چاہا جو اُسکی ایک بھی سننے پر راضی نہی تھے
میں اس عورت کو یہاں سے زندہ کہیں بھی نہی جانے دوں گی۔۔۔۔انفا نے حقارت سے روبینہ کی طرف دیکھا جو اب اپنے فیصلے کا انتظار کر رہی تھی
اور میں نے اپنے بابا سے وعدہ کیا تھا کے اسکے پیچھے جو بھی ہے اُسے اپنے انہی ہاتھوں سے ماروں گا اگر میں نے اُسکی نہ مارا تو میں اپنے بابا کی قبر پر کبھی نہی جا سکوں گا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا یہ بندہ یہاں سے زندہ لاہور تک جائے کبھی نہی۔۔۔۔سعد نے جیسے حتمی فیصلہ سنایا تھا
افہام ان دونوں کی زد پر حیران تھا جو اُسکی ایک سننے کو تیار نہیں تھے
انفا سعد سمجھنے کی کوشش کرو یار۔۔۔حدید نے اُن دونوں کو سمجھانے کی کوشش کی جس پر اُن دونوں نے اُسے سخت گھوری سے نوازا
بھائی میں آپکی ایک نہی سنوں گا بس۔۔۔۔سعد نے افہام کی ماننے سے صاف انکار کیا تو افہام سر پکڑ کر رہ گیا
دیکھو ہم لوگ انہیں سزا دلوائیں گے سمجھو نہ۔۔۔۔افہام نے ایک اور کوشش کی جو ناکام رہی
اس سے پہلے افہام کچھ بولتا سعد نے ہائم کی پاکٹ میں رکھی گن نکالی اور ایک کے بعد دو فائر اکرم پاشا کے چہرے پر کیے کے چھینٹے اس تک آئیں اور پھر تیسرا غیر اُسنے اکرم پاشا کے پیچھے لڑکھتے وجود پر کیا وہ گولی سیدھی اُسکے سینے میں جا کر لگی تھی
ابھی وہ ایک اور فیئر کرتا اس سے پہلے ہی حدید ہوش کی دنیا میں واپس آیا اور اُسکے ہاتھ سے گن چھینی مبادا وہ ایک دو اور فیئر نہ کر دے
سعد نے یہ سب کچھ اتنی تیزی سے کیا تھا کے وہ سب ہی اپنی جگہ ساکت ۃ گئے تھے سوائے انفا کے اُسنے بھی موقع غنیمت جانا اور اپنی گن نکال کر بس ایک فائر روبینہ کے سینے پر کیا وہ نہی جانتی تھی اس ایک گولی سے وہ مرے گی کے نہی مگر یہ ضرور جانتی تھی کے اس ایک گولی سے اُسکے اندر لگی آگ بجھ سکتی تھی
وہ سب جو سعد کو روکنے کی طرف متوجہ تھی ایک اور فائر کی آواز پر اُنہوں میں انفا کو دیکھا جو آپ زمین پر گٹھنوں کے بل بیٹھی تھی اُسکے چہرے پر ایک فاتحانہ مسکراہٹ نے احاطہ کیا ہوا تھا
حماس فوراً روبینہ کی طرف بڑھا جو اب پیٹھ کے بل گری درد سے تڑپ رہی تھی جبکہ ہائم نے انفا کو سنبھالا
اور پھر چند منٹ بعد روبینہ کی بھی سانسیں تھم گئیں وہ دونوں جس مقصد کے لیے اتنا چلے تھی اُنہوں نے جس منزل پر پہنچنے کے لیے اس تپتے صحرا میں اتنا سفر کیا تھا آج وہ منزل اُن دونوں کو مل چکی تھی اب سعد اپنے بابا کی قبر پر سینہ تان کر جا سکتا تھا اب انفا کو اپنے خیالوں میں ارہان کے سامنے شرمندہ نہی ہونا پڑتا تھا وہ ہر ہفتے اپنے بابا کی قبر پر جاتا تھا وہ جنت کے بھرپور اسرار پر یونہی کے ساتھ والے فلیٹ میں شفٹ ہو گیا تھا اب اُسکا اس گاؤں میں تھا بھی کون
جازم اور ابیہا کے تعلقات بھی اب کافی بہتر ہو گئے تھی یہ یہ کہنا زیادہ صحیح ہے کے اب ابیہا ایک میچور لڑکی بننے کی کوشش کر رہی تھی اُن سب کو بیگ بوس کی طرف سے اپنے I’d cards مل گئے تھے اب وہ اس ٹیم کا ایک مکمل حصہ تھے اُنکی ٹیم کو اکثر کیس سولو کرنے کے لیے دیے جاتے تھے مگر ایک چیز تھی جو ابھی بھی نہی بدلی تھی اور وہ تھا انفا کا فیصلہ اب تو اُن سب کو فکر ہونے لگی تھی اُسکی۔۔۔۔۔۔۔
تین مہینے بعد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔😍😍😍

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *