Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

The Night Stalkers by Bisma khan Episode06

The Night Stalkers by Bisma khan Episode06

صبح سعد فجر کے بعد اپنے کسی کام سے باہر چلا گیا جبکہ افہام ابھی تک سو رہا تھا جنت اسکے پاس ہی لیپ ٹاپ کھولے بیٹھی تھی۔۔۔۔وہ کچھ نمبرز چیک کر رہی تھی اور انفا کی لوکیشن ٹریس کرنے کی کوشش کر رہی تھی رات سے کوئی نہی جانتا تھا کے وہ کہاں ہے وہ اپنے ہوٹل بھی نہی پہنچی تھی جنت نے لیپ ٹاپ اٹھایا اور کچن میں چلی گئی۔۔ابھی اُسنے چائے کے لیے پانی رکھا ہی تھا کے اُسکی نظر لیپ ٹاپ پر پڑی۔۔۔انفا کی لوکیشن آن ہو گئی تھی وہ اپنے ہوٹل پہُںچ چکی تھی ۔
جنت نے پانی کو وہیں چھوڑا اور گاڑی کی چابی لے کر فوراً نیچے کی طرف بھاگی اُسے جلد سے جلد انفا کے پاس پہنچنا تھا۔۔حدید اُسے ارحان اور انفا کے بارے میں بتا چکا تھا اُسے ڈر تھا کے وہ اپنے ساتھ کچھ کر ہی نہ لے۔۔۔
وہاں پہنچتے ہی وہ فوراً اسکے کمرے کی طرف بھاگی اس وقت جنت کو ایک سیکنڈ بھی قیمتی لگ رہا تھا۔۔
اسکے روم کے باہر پہُںچ کر اُسنے دروازہ ناک کیا۔۔۔
جو ایک دو منٹ بعد انفا نے کھول دیا۔۔۔
اور جنت وہ تو اُسکی حالت دیکھ کر ششدہ رہ گئی تھی۔۔۔
آنکھوں کے گرد حلقے آنکھیں رونے کی وجہ سے آنکھیں سرخ اور سوجی ہوئی تھیں۔۔
نوز بھی سردی سے لال ہو رہا تھا وہ اس وقت ایک ہلکی سے ٹی شرٹ اور ٹراؤزر میں تھی۔۔
انفا میری جان یہ کیا حالت بنا لی ہے تم نے اپنی۔۔۔جنت نے اُسکا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں لیا
جنت ارحان۔۔۔انفا سے اس کے آگے کچھ نہ بولا گیا اور وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی
جنت تو اُسکو ایسے روتے دیکھ پریشان ہی ہو گئی تھی وہ فوراً انفا کو سہارا دے کر اندر لائی اور گلاس میں پانی ڈال کر اُسے دیا جسے ایک گھونٹ پینے کے بعد انفا نے چھوڑ دیا
جنت ارحان چلا گیا جنت مجھے چھوڑ کر چلا گیا ایسے کیسے کر سکتا ہے وہ اُسنے تو مما سے بات کرنی تھی نہ میرے لیے۔۔۔۔انفا شاید پوری رات روتی رہی تھی
انفا سنبھالو خود کو۔۔جنت نے اُسکی کندھے پر اپنے ہاتھ سے دباؤ ڈالا
جنت میں کہاں سے لاؤں ارحان کو مجھے بتاؤ میں کیا کروں ۔۔۔انفا کی آنکھوں سے اشک جاری تھے
اسکو دیکھ کر کوئی بھی بتا سکتا تھا کے وہ کتنی اذیت میں ہے ۔۔
انفا صبر کرو اللہ سے صبر کی دعا کرو میری جان وہ سب ٹھیک کرے گا۔۔جنت بھی اس وقت اُسے تسلی دینے کے علاوہ اور کچھ نہی کر سکتی تھی
اب کیا ٹھیک ہوگا ہاں اب کیا ٹھیک ہوگا سب کچھ خراب ہو گیا ہے جنت ارحان مر چکا ہے اب کیا ٹھیک ہونے کی دعا کریں۔۔۔انفا حزیانی کیفیت میں چینخی اور گلاس اٹھا کر سامنے دیوار میں دے مارا
انفا کیا کر رہی ہو خود کو سنبھالو۔۔جنگ کو اس سے ایسی اُمید بلکل بھی نہ تھی
اُسنے فوراً انفا کو پکڑ کر بیٹھایا ورنہ شاید وہ خود کو بھی نقصان پہنچانے کے کوشش کرتی۔۔
جنت اُسنے کہا تھا وہ میرے ساتھ مما بابا کے پاس جائے گا بات کرے گا اب میں اکیلی کیسے بات کروں گی انسے کس کے لیے بات کروں گی۔۔۔۔انفا نے خالی خالی نظروں سے جنت کی طرف دیکھا
اور حقیقتاً جنت کے پاس اسکے کسی سوال کا جواب نہی تھا وہ بس چاہتی تھی انفا اپنا دل ہلکا کر لے۔۔۔
انفا کچھ دیر کے لیے سو جاؤ تم اچھا محسوس کرو گی میری جان۔۔جنت نے ایک اور کوشش کی تھی
جنت مجھے نیند نہی اتی میں کال سے یہ سوچ سوچ کر پاگل ہو رہی ہوں کے یہ کام کس کا ہے رات بھر میں اس پر کام کرتی رہی ہوں مگر کچھ حاصل نہیں ہوا ۔۔انفا شاید اب تک چکی تھی
انفا ہم مل کر اُسے ڈھونڈ لیں گے تم فکر مت کرو اؤ لیٹو۔۔جنت نے اُسکی لیے تکیہ صحیح سے رکھا
جنت کے کہنے پر وہ لیٹ گئی اور آنکھیں بند کر لیں۔۔جنت اسکے بالوں میں آہستہ آہستہ انگلیاں چلانے لگی
انفا کبھی کبھی ہماری زندگی میں ایسے موڑ اتے ہیں جن کے بارے میں ہم نے کبھی خواب میں بھی نہی سوچا ہوتا مگر تمہیں پتہ ہے یہ دنیا آگے بڑھنے کا نام ہے میں یہ نہی کہتی کے وقت کے ساتھ گھاؤ بھر جاتے ہیں مگر ہاں ہم وقت کے ساتھ آگے ضرور نکل جاتے ہیں جب مما بابا مجھے 13سال کی عمر میں چھوڑ کر چلے گئے تھے تو میں نے سوچا تھا کے میری زندگی یہی تک تھی اب میں زندہ نہی رہ پاؤں گی مگر آج تمہارے سامنے ہوں زندہ ہوں افہام کے ساتھ خوش بھی ہوں مے تمہیں یہ نہی کہوں گی کے اسے بھول جاؤ کیوں کے میں جانتی ہوں جن سے اپ پیار کرتے ہیں اُنہیں بھولنا ممکن نہیں ہوتا مگر ہاں تم اپنی زندگی میں آگے بڑھو نئی زندگی شروع کرو موو آن کرو ہر کسی کو موو آن کرنا پڑتا ہے یہ دنیا یہ وقت ہمارے لیے نہی رکتے بلکہ ہمیں اپنے ساتھ لے کر چلتے ہیں وہ ہمارے ساتھ نہی چلتے ہمیں اُن کے ساتھ چلنا پڑتا ہے۔۔۔جنت جانتی تھی وہ سو نہی رہی اور وہ یہ بھی جانتی تھی کے انفا کس تکلیف سے گزر رہی ہے آخر وہ بھی یہ تکلیف سہہ چکی تھی
تم اگر ایسے ہی خود کو اذیت دو گی خود کو ایک کمرے تک محدود کر لو گی تو موو آن نہی کر سکو گی انفا اور یہ دنیا تمہیں پیچھے چھوڑ دے گی تمہیں تو چاہیے کے سب کے ساتھ مل کر اس بندے کو ڈھونڈو جس نے ہمارے ارہان کے ساتھ یہ کیا اور کا حال اس سے بھی بُرا کرو۔۔جنت کے لہجے میں اس انسان کے لیے نے پناہ نفرت تھی
جنت میں اسے اپنے ہاتھوں سے ماروں گی ارحان کا بدلہ میں خود لوں گی۔۔۔انفا کا لہجہ پر عزم تھا اور جنت جانتی تھی کے ان میں سے کوئی بھی جب کچھ ٹھان کے تو کر کے ہے دکھاتا ہے
وہ خود بھی یہی چاہتی تھی کے اس آدمی کا انجام عبرت ناک ہو جس نے ارحان کو اتنی تکلیف والی موت دی تھی۔۔۔۔۔۔۔
کچھ دیر بعد جنت نے محسوس کیا کے انفا سو چکی ہے تو وہ اٹھ کے کچن میں آ گئی انفا کے کھانے کے لیے کچھ بنانے لگی افہام کو وہ پہلے ہی میسج کر چکی تھی کے وہ شام تک ادھر ہی ہے۔۔۔لیپ ٹاپ وہ اپنے ساتھ ہی لائی تھی۔۔۔۔
انفا کی آنکھ شام میں کھلی تو جنت نے اُسے کھانا کھانے کہ لیے فورس کیا کیوں کے ویسے وہ نہی مان رہی تھی
آخر اُسنے جنت کے کہنے پر دو چار نوالے زہر مار کیے
جنت رات کو ۱۰ بجے وہاں سے واپس ائی تھی افہام تو ابھی آیا نہی تھا اور سعد ہائم کے ساتھ گیا ہوا تھا
اُسنے لیپ ٹاپ اسپیکر کے ساتھ کنیکٹ کیا اور اپنے سینڈلز اُتارنے لگی مگر اسکے سینڈلز اتارتے ہاتھ بیل کی آواز پر روکے یہ بیل نہال کے لینڈ لائن کی تھی۔۔۔
اُسنے فوراً نے ہیڈ فون لگائے اور غور سے سننے لگی۔۔
کال ختم ہونے کے بعد اُسنے اپنے پرائیویٹ نمبر سے افہام کو کال کی کے سب کو گھر انے کا کہہ دے۔۔
12 بجے وہ سب افہام کے بیڈ روم میں بیٹھے تھے۔۔۔۔۔
جنت کیا بات تھی جو اتنی جلدی میں بلایا۔۔۔حدید نے اس سے پوچھا
میں نے نہال کی کال سنی ہے یہ نہی پتہ کال کس کی تھی کرنے والے نے اپنا نام نہی لیا اور نہ ہی نہال نے مگر ہاں ایک انفو ملی ہے۔۔۔جنت نے اُنہیں بات بتانا شروع کی
کیا انفو۔۔۔افہام فوراً آگے ہو کر بیٹھا
اُسکا کوئی اسٹاک یعنی مال مکران سے اسمگل ہونا ہے پرسوں صبح فجر کے وقت اور وہ اسکے کچھ خاص بندے لینے جائیں گے وہ خود نہی جائے گا۔۔۔۔۔جنت نے اُنہیں وہ ساری بات بتائی جو اُسنے سنی تھی
مطلب یہ تو کنفرم ہے کے وہ ڈرگ اسمگل کرتا ہے۔۔۔۔اعضاء بیچ میں بولی
میرے پاس ایک آئیڈیا ہے۔۔۔جازم اب ساری بات سمجھ کر بولا
کیا۔۔۔سب نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا
ہم ایک کام کر سکتے ہیں ہم بولیں گے کے ہمیں انفو کہیں سے ملی ہے اور افہام تو نہ اپنی پولیس ٹیم کے ساتھ وہاں چھاپا مار دے اور سارا مال پکڑ لے۔۔۔اور تھا میڈیا والوں کو یہ کہہ دیں کے انفو تُجھے کسی
ان نون بندے سے فون پر وصول ہوئی ہے۔۔۔جازم نے سارا پلان بتایا جو سب کو ہی کافی پسند آیا
ہاں یہ صحیح ہے اس طرح اُسے یہ شک بھی نہی ہوگا کے ہم اسکے پیچھے لگے ہیں۔۔۔اُسکا شک اپنے بندوں پر جائے گا ایسے۔۔افہام کو بھی اُسکا آئیڈیا اچھا لگا تھا
سنو حدید تم جازم تم اور ہاں حماس تم تینوں میرے ساتھ پولیس سوٹس پہن کر جاؤ گے ہمیں وہاں سے ایک بندہ پکڑنا ہے اسکے بھروسے مند بندوں میں سے تاکہ نہال کے بارے میں جان سکیں تم تینوں اس بندے کو لے کر غائب ہو جانا وہاں سے اور میں مال لیے کر پولیس فورس کے ساتھ واپس آؤں گا۔۔۔۔۔افہام نے صفحہ پلان سیٹ کیا
جنت تم مسلسل ان تینوں کی لوکیشن ٹریس کرو گی اگر کوئی خطرے والی بات ہوئی تو مجھے وائر لیس پر انفورم کرو گی۔۔افہام نے جنت کو اُسکا کام بتایا
راجر بوس۔۔۔جنت نے فوراً جواب دیا
انفا تم تم یہ بات یقینی بناؤ گی کے ہسپتال میں سب کو یہی لگے کے حدید وہیں پر موجود ہے اس کی حاضری تم ظاہر کرو ہی سارے اسٹاف کے سامنے جو جو اسکو جانتا ہے اوکے!۔۔افہام نے آخر میں تصدیق چاہی
اوکے!انفا نے اپنی زمے داری لی
سعد تم جنت کے ساتھ رہو گے اور ہاں ان تینوں کے ساتھ کانٹیکٹ میں بھی رہو گے تاکہ اگر لوکیشن سے خطرے کا پتہ نہ لگے تو تمہیں پتہ لگ جائے۔۔۔افہام نے اگلا کام بتایا
اعضاء اور ہائم تم دونوں اس سارے وقت میں نہال کی خبر رکھو ہے کدھر جا رہا ہے کدھر نہی اور جنت تمہیں ساتھ ساتھ کالز کا بھی دیهان رکھنا ہے۔۔
افہام نے آخر میں جنت کو مخاطب کیا
جی۔۔اُسنے فرما برادری سے گردن ہلائی
انفا کی دوست حوریہ جو کے ایک فیشن ڈیزائنر تھی اُسے بھی ٹیم نے لے لیا گیا تاکہ ۱۱ لوگ پورے ہو جائیں۔۔۔۔
حوریہ اور ابیہا تم دونوں نے اس بات کا دھیان رکھنا ہے کے کوئی ہمیں فالو نہ کرے کوئی بھی نہی ہو سکتا ہے نہال کا کوئی بندہ ہمارے پیچھے ہو اس بات کو یقینی بناؤ کے ہمارے پیچھے کوئی نہ ہو اور ہاں ہائم رپورٹ مال پکڑے جانے کی تم بناؤ گے۔۔۔۔افہام نے آخر میں ہائم سے کہا اُنہیں یہ فائدہ تھے کے رپورٹر اپنا تھا جو سوال وہ چاہئیں گے وہی ہائم کرے گا۔۔۔
اب سب جانتے تھے کے اُنہیں کیا کرنا ہے چلو پھر ہم چلتے ہیں۔۔۔۔ابیہا کو جانے کی کچھ زیادہ ہی جلدی تھی
نہیں نہی میں نے سب کے لیے کھانا بنایا ہے سب کھا کر جانا۔۔۔جنت نے اُسے فوراً روکا
اسکے بعد جنت نے کھانا لگایا تو سب کھانے کے لیے بیٹھ گئے۔۔۔
حدید نے محسوس کیا کے سب کوئی نہ کوئی بات کر رہے تھے مگر انفا خاموش تھی نہ کسی بات پر ہنس رہی تھی نہ کچھ اور۔۔۔۔
انفا تمہیں ایک جوک سناؤں۔۔۔حدید نے انفا کو بلایا
ہمم سنا دو۔۔۔انفا جو اپنے ہی خیالوں کے کھوئ تھی خیالوں سے باہر ائی
اچھا سب سنو۔۔حدید نے سب کو اپنی طرف متوجہ کیا
ہاں سنا۔۔۔حماس نے اُسے پش اپ کیا
اچھا تو سنو ایک دفعہ نہ ہائم نے کیا کیا ۔۔۔سب تجسس سے اُسے سننے لگے یہاں تک کے ہائم بھی اس نے نوٹ کیا انفا بھی سن ہی رہی تھی
ہائم نے یہ کیا کے یہ کچرے کے ڈبے پر لیٹ کر کہتا یہ ساری جائیداد میری ہے۔۔۔۔حدید بول کر خود بے اختیار ہنس دیا
باقی سب اُسکی شکل دیکھ رہے تھے اور ہائم وہ تو اُسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہا تھا اور پھر انفا جو کب سے سیریس تھی اُسکی ہنسی کا فوارہ پھوٹا اور پھر اسکے پیچھے سب پاگلوں کی طرح ہنسنے لگے۔۔۔۔۔۔۔
خود ہائم بھی ہنس رہا تھا کیوں کہ وہ سب جنت تھے کے اُسنے یہ انفا کو ہنسانے کے لیے کیا ہے خود انفا بھی جانتی تھی مگر اسکے ایسے جوک پر کو نے ہنستا۔۔۔۔۔۔
حدید کو انفا کے چہرے پر مسکراہٹ دیکھ کر سکون ہوا وہ کتنے ٹائم سے بھجی بھجی سی تھی اور آج کھل کر ہنسی تھی۔۔۔۔۔۔۔
کھانے اور چائے کے بعد وہ سب اپنے گھر چلے گئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔😘😘😘😘

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *