The Night Stalkers by Bisma khan NovelR50797 The Night Stalkers by Bisma khan Episode02
No Download Link
595.5K
32
Rate this Novel
The Night Stalkers by Bisma khan Episode01 The Night Stalkers by Bisma khan Episode02 (Watching)The Night Stalkers by Bisma khan Episode03 The Night Stalkers by Bisma khan Episode04 The Night Stalkers by Bisma khan Episode05 The Night Stalkers by Bisma khan Episode06 The Night Stalkers by Bisma khan Episode07 The Night Stalkers by Bisma khan Episode08 The Night Stalkers by Bisma khan Episode09 The Night Stalkers by Bisma khan Episode10 The Night Stalkers by Bisma khan Episode11 The Night Stalkers by Bisma khan Episode12 The Night Stalkers by Bisma khan Episode13 The Night Stalkers by Bisma khan Episode14 The Night Stalkers by Bisma khan Episode15 The Night Stalkers by Bisma khan Episode16 The Night Stalkers by Bisma khan Episode17 The Night Stalkers by Bisma khan Episode18 The Night Stalkers by Bisma khan Episode19 The Night Stalkers by Bisma khan Episode20 The Night Stalkers by Bisma khan Episode21 The Night Stalkers by Bisma khan Episode22 The Night Stalkers by Bisma khan Episode23 The Night Stalkers by Bisma khan Episode24 The Night Stalkers by Bisma khan Episode25 The Night Stalkers by Bisma khan Episode26 The Night Stalkers by Bisma khan Episode27 The Night Stalkers by Bisma khan Episode28 The Night Stalkers by Bisma khan Episode29 The Night Stalkers by Bisma khan Episode30 The Night Stalkers by Bisma khan Episode31 The Night Stalkers by Bisma khan Last Episode
The Night Stalkers by Bisma khan Episode02
The Night Stalkers by Bisma khan Episode02
افہام کے گھر پہنچ کر بیل پہلے انفا نے بجائی حدید کار پارک کر رہا تھا افہام ایک فلیٹ میں رہتا تھا شادی کے بعد اُسنے یہ فلیٹ خاص طور پر جنت کے لیے لیا تھا۔۔۔۔
وہ شروع سے اپنی خالہ کے ساتھ رہی تھی ماں باپ بچپن میں ایک کار اکسیڈنٹ میں چل بسے اسکے بعد اسکی خالہ نے اُسکا خیال رکھا تھا مگر اب وہ خود احساسِ کمتری کا شکار ہونے لگی تھی۔۔۔
یونی میں اسکی ملاقات افہام سے ہوئی افہام نے یونی کے آخری سال میں اُسے پرپوز کر دیا اور اسکی خالہ کے گھر رشتا لے گیا اس کی خواہش پر بنا دھوم دھام کے نکاح ہوا اور وہ جنت کو اپنے ساتھ لے آیا۔۔۔جنت اس سے کافی چھوٹی تھی مگر پھر بھی اُسنے کوئی اعتراض نے کیا۔۔۔
اُسے اپنا خود کا گھر مل گیا تھا ایک سہارا مل گیا تھا اور اُسے کیا چاہیے تھا
وہ خود کمپیوٹر سپیشلسٹ تھی اور افہام ایک پولیس افسر۔۔۔۔۔۔
جنت نے پہلی بیل پر ہی دروازہ کھول دیا
ماشاءاللہ!پارٹنر لگتا ہے دروازے پر ہی کھڑی تھی ہمارے انتظار میں۔۔حدید نے اسکے فوراً دروازہ کھولنے پر اُسے چھیڑا
ہاں تو اور کیا میں کتنی پریشان ہوں یار تمہارے اس دوست نے میری جان حلق میں پھسائی ہوئی ہے۔۔جنت نے اُسکی بات پر حامی بھی بھر لی
اُو ہیلو میں بھی ہوں کوئی سلام کوئی دعا۔۔انفا سے جنت کا اُسے ایگنور کرنا برداشت نہ ہوا۔
ہاں یار سوری میں نہ ٹینشن میں ہوں اؤ بیٹھی تم لوگ۔۔جنت نے اس دونوں کو راستہ دیا جو اب تک دروازے میں کھڑے تھے۔۔۔
افہام کب آ رہا ہے؟حدید نے جنت سے افہام کی واپسی کا پوچھا
صبح 6بجے تک آ جائیں گے کہا تو یہی تھا اب دیکھو کیا کرتے ہیں تم دونوں آج یہیں رہنا مجھے اکیلے ڈر لگتا ہے۔۔۔جنت نے اپنا ڈر صاف بیان کیا
اچھا چلو ٹھیک ہے ویسے بھی میں نے تو ماما کو کہا
تھا کے میری آج نائٹ ڈیوٹی ہے۔۔۔حدید نے انفا کی طرف دیکھ کر دانت نکالے
جھوٹے میں آنٹی کو بتاتی ہوں آپ کا بیٹا آپکو چکمے دیتا ہے۔۔انفا نے پاس پڑا کشن حدید کی طرف پھینکا جیسے اُسنے آسانی سے کیچ کر لیا
حدید ایک درمیانے طبقے سے تعلق رکھتا تھا۔۔یہ لوگ لاہور میں ہی مقیم تھے
اسکے بابا کا اپنا ایک چھوٹا سا بسنس تھا انکی خواہش تھی کے حدید ڈاکٹر بنے اُسنے اپنے بابا کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے یہ پروفیشن چوز کیا۔۔۔
اور اب اس میں کافی حد تک کامیابی حاصل کر چکا تھا اب وہ ایک سینئر ڈاکٹر کے نام سے جانا جاتا تھا۔۔۔
انفا وقار ایک امیر کبیر خاندان سے تعلق رکھتی تھی اسکے ماں باپ کا کہنا تھا کہ اسے جوب نہی کرنی چاہیے آخر اتنا پیسا ہونے کے باوجود اُسے کیا ضرورت تھی جوب کرنے کی مگر اُسنے انکی ایک بھی نہ سنی اور اپنی یونی کے ایک فیلو حدید کے ذریعے جوب کے لیے اپلائی کر دیا اب اسکے مما بابا کے پاس اور کوئی راستہ نہی تھا اُسے اجازت دینے کے علاوہ۔۔۔۔کیوں کے وہ اُنہیں دھمکی دے چکی تھی کے اجازت نہ ملنے کی صورت میں وہ گھر چھوڑ کرجا سکتی ہے ۔۔۔۔۔۔ حدید اور اسکی دوستی تب سے چلتی اہ رہی تھی جوب بھی وہ دونوں ایک ہی ہسپتال میں کرتے تھے۔۔۔۔۔
یار تم دونوں چپ کرو ایک دوسرے کو دھمکیاں دینا مجھے ڈر لگ رہا ہے۔۔جنت نے انکو ایک دوسرے سے لڑتے دیکھ روکا
کیوں پارٹنر کیوں ڈر لگ رہا ہے۔۔حدید نے قدم کچن کی طرف بڑھائے
پتہ نہیں افہام کی جوب کا اب کیا بنے گا کیا مسئلہ ہے انکو جیسے وہ کہتے ہیں کرتے جائیں جوب ہی ہے نہ انا کا مسئلہ پتہ نہی کیوں بنا لیتے ہیں۔۔جنت ابھی ان سب باتوں کو سمجھنے کے لیے چھوٹی تھی
یار دیکھو وہ نہی چاہتا کے کسی کے ساتھ ان فیئر ہو وہ سب کا خیال کرتا ہے یار اسکے کچھ اصول ہیں وہ انسے پیچھے نہی ہٹ سکتا اُسکا مسئلہ یہ ہے اب وہ ایمانداری سے کام کرنا چاہتا ہے مگر ہمارے سسٹم میں ایمانداری کے علاوہ سب کچھ ہے۔۔۔حدید نے اُسے تفصیل سے سمجھایا
ہمم!لیکن مجھے ڈر لگتا ہے ایسا نہ ہو انکی یہ جوب بھی چلی جائے۔۔۔جنت نے پریشانی کا اظہار کیا
پارٹنر فکر نہ کرو وہ بیروزگار نہی ہوگا نو پروبلم تمہیں فاکوں پے نہی آنا پڑے گا۔۔حدید نے وہاں سے ایپل اٹھا کر اسکی بائٹ لی
حد ہے میں اس لیے تھوڑی نہ پریشان ہوں کے مجھے فاقے کرنے پڑے گے۔۔۔جنت اسکی بات کو سیریس لے گئی تھی
اوکے اوکے یار مذاق کر رہا تھا اب کھانا دے دو نہی تو بھوک سے یہ نہ ہو تمہارا پارٹنر اللہ کو پیارے ہو جائے۔۔حدید نے اُسکا موڈ سیٹ کرنا چاہا جس میں وہ پوری طرح کامیاب ہو گیا
اور جنت جلدی سے کھانا لگانے لگی
صبح دروازہ کھلنے کی آواز پر حدید جو ٹی وی دیکھ رہا تھا اچانک اٹھ بیٹھ یقیناً افہام ہی تھا۔۔
افہام نے آ کر سب سے پہلے اپنے پاؤں شوز سے آزاد کیے اور اندر آیا تو حدید کھڑا تھا اس کو دیکھنے کے بعد وہ صوفہ پر ڈھ گیا۔۔۔
کیا ہوا بڈی پریشان کیوں ہے کہیں بیروزگار ہو کر تو نہی آ گیا۔۔حدید نے اسکی بے ترتیبی سے پھینکی ہوئی چیزیں اٹھا کر جگہ پر رکھیں۔۔۔
بکواس نے کر میں بہت ٹینشن میں ہوں۔۔افہام نے اپنی کیپ اُتار کر اسکی طرف پھینکی جسے اُسنے پکڑ کر پاس پڑے ہینگر پر لٹکا دی۔۔
آوازیں سن کر جنت جو ابھی تک جاگ رہی تھی اٹھ کر فوراً باہر ائی
اور افہام کو دیکھ کر اسکی جان میں جان ائی
کیا بنا کیا کہا ڈی ائی جی نے۔۔جنت نے اسکے ساتھ بیٹھتے اس سے پوچھا
یار ابھی نہی پلز کچھ کھانے کو دے دو بہت بھوک لگی ہے۔۔افہام نے اُسکی بات ابھی ايگنور کی تھی
جی ٹھیک ہے میں کھانا لگاتی ہوں آپ فریش ہو جائیں۔۔جنت کہہ کر کچن کی طرف چلی گئی۔۔
حدید بھی اسکے پیچھے آیا
کیا لگتا ہے جوب گئی۔۔حدید نے جنت سے پوچھا
توبہ کرو کیوں گئی انشاء اللّہ کچھ نہی ہوا ہوگا۔۔جنت نے اُسے آنکھیں دکھائیں
اوکے دیکھتے ہیں میرے لیے بھی ناشتا ساری رات جاگتا رہا ہوں۔۔حدید نے اُسے بتانا لازمی سمجھا
میں نے تو کہا تھا کے سو جاؤ تم خود ہی نہی سوئے پارٹنر۔۔جنت نے الزام لینے اسے صاف انکار کیا
اتنے میں افہام فریش ہو کے آ چکا تھا جنت نے اُن دونوں کے لیے کھانا لگایا
اور خود بھی ساتھ ہی بیٹھ گئی۔۔
تھوڑی دیر بعد انفا بھی باہر آ گئی۔
انفا جازم اور ہائم کو فوراً کال کرو اُنہیں کہو یہاں پہنچیں میں نے ارحان اور حماس کو کے دیا ہے۔۔
وہ کون ہیں۔۔جنت نے اس سے ان دو ناموں کے بارے میں پوچھا جو اُسنے پہلے کبھی نہی سنے تھے
میرے فرنڈز ہیں جنت۔۔افہام نے اُسے حماس اور ارحان کے بارے میں بتایا
وجہ جان سکتی ہوں ایسے جلدی بلانے کی۔۔انفا نے افہام سے کہا
نہی بلاؤ پھر بتاؤں گا۔۔اور افہام نے منع کر دیا
اچھا کرتی ہوں۔۔انفا کہہ کر اپنا فون لیکے اندر چلی گئی
کچھ دیر بعد دروازے پر بیل ہوئی جنت نے دروازہ کھولا تو سامنے ہائم کھڑا تھا
اسلام علیکم بھابھی!سلام میں پہل اُسنے کی
ہائم میں نے کتنی دفع کہا ہے کے مجھے بھابھی نہ بلایا کرو۔۔جنت اسکے راستے میں کھڑی ہو کر بولی
بھابھی میں نے بھی آپکو کتنی دفع کہا ہے میں نے آپکو یہی کہنا ہے۔۔ہائم نے اُسے راستے سے ہٹایا اور اندر آ گیا
حماس اور ارحان بھی پہُںچ چکے تھے اب بس جازم کا انتظار تھا ایک گھنٹے میں وہ بھی پہُںچ چکا تھا
اب منظر یہ تھا کہ وہ سب کمرے میں بیٹھے تھا کوئی صوفہ پر کوئی بیڈ پر کوئی کہیں۔۔
دیکھو یار مجھے ڈی ائی جی نے بلایا تھا اور۔۔ابھی اسکی بات بیچ میں تھی کے حدید بولا
بھائی ہمیں پتہ ہے کے تمہیں ڈی ائی جی نے بلایا تھا کیوں بلایا تھا کیسے بلایا تھا اب تمہیں یہ بتانا ہے کے اُنہوں نے کیا کہا ہے۔۔اُسکی بات پر افہام نے خون خوار نظروں سے اُسے دیکھا جس کا اس پر کوئی اثر نہ ہوا
اُنہوں نے کہا ہے کہ یہاں پولیس میں رہ کر میں اپنی مرضی سے کچھ نہی کر سکتا۔۔۔تو اسی لیے اُنہوں نے کہا ہے کہ مجھے اسپیشل فورس میں چلے جانا چاہیے اور اُنہوں نے کہا ہے کہ اگر تم ٹیم بنا کے لا سکتے ہو تو زیادہ اچھا ہے ٹیم ۱۱لوگوں کی تو ہونی چاہیے۔۔۔افہام نے بنا روکے ساری بات بتائی
تیرا مطلب ہے ہم سب بھی فورس جوائن کر لیں اور سکیرٹلی قوم کے لیے کام کریں۔۔حدید نے اسکی بات کی وضاحت کی
ہاں ایسی ہی بات ہے اب تم میں سے کون کون جانا چاہتا ہے میں کسی کو فورس نہی کر رہا اپنی مرضی ہے۔۔۔افہام نے سب کو ایزی کیا
میں تیار ہوں۔۔حدید نے سب سے پہلے حامی بھری
جب حدید راضی ہے تو ٹھیک ہے میں بھی راضی ہوں۔۔۔انفا نے حدید کے بولنے پر کہا
ہمم!اسکے لیے کچھ کرنا نہی ہے کوئی پریکٹس وغیرہ۔۔۔جازم نے افہام سے پوچھا جس کا مطلب تھا کے وہ بھی شامل ہے۔۔۔
اچھا چلو پھر میں چلتا ہوں جب جانا ہو تو بتا دینا ہائم کہہ کر اٹھ گیا مطلب وہ بھی راضی تھا حماس اور ارحان تو پہلے ہی اس طرح کے کام خاص پسند کرتے تھے۔۔۔۔
میں بھی۔۔جنت سب سے آخر میں بولی
نہی تم نہی۔۔۔افہام نے صاف صاف انکار کر دیا
کیوں؟جنت نے احتجاج کیا
کیوں کے میں نے کہا ہے تم اس کام میں نہی اؤ گی بس۔۔افہام نے تو جیسے بات ختم کی تھی
یہ غلط ہے میں بھی انا چاہتی ہوں اپنے سب سے پوچھا ہے میری مرضی میں کروں یہ نہی آپ کو کیا ہے۔۔۔جنت کو غصّہ ہی آ گیا تھا
بس میں نے کہا ہے دوبارہ اس پر بات نہی ہوگی۔۔افہام نے سخت لہجے میں کہا
یہ غلط ہے۔۔جنت نے ایک اور بار ٹرائی کیا مگر افہام کی خطرناک نظریں دیکھ کر چپ ہو گئی
وہ اٹھ کر ہے تو سارے افہام کے پیچھے پڑ گئے
کیا مسئلہ ہے تُجھے اچھی خاصی وہ کمپیوٹر سپیشلسٹ ہے اتنا کام کروا سکتی ہے ساتھ اور ویسے بھی اُسے کونسا مشنز پر لے کر جانا ہے تو فضول میں اُسے منع کر رہا ہے۔۔حدید نے اغم کو اچھی خاصی سنا دی
بس میں نے کہا ہے نہ نہی۔۔افہام نے پھر انکار کیا
تُجھ سے پوچھا کس نے ہے بس میں نے کہا ہے نہ کے وہ ٹیم ممبر ہے تو ہے اب میں کچھ نہی سنوں گا۔۔حدید نے اٹل لہجے میں کہا اور اٹھ کر دوسرے کمرے میں چلا گیا
افہام اسکے اگے کچھ بول بھی نہ سکا۔۔۔۔
جنت یار میں نے منا لیا ہے افہام کو۔۔حدید نے اہ کر جنت کو خوشخبری سنائی
سچی۔۔وہ تو حیران ہو ہو گئی تھی
مچی۔۔۔حدید نے اتنا کہا اور نکل گیا اب اُسے گھر جانا تھا۔۔۔
کچھ دیر میں باقی سب بھی چلے گئے ابھی اُنہیں تین اور لوگوں کی ضرورت تھی ٹیم کے لیے۔۔۔
یہ کام اُن سب کا تھا
تین دن بعد انہیں ایک مل بھی گئی انفا کی فرینڈ تھی حوریہ وہ ایک فیشن ڈیزائنر تھی مگر اس طرح کے کام پہلے بھی کرتی رہتی تھی۔۔۔اُسنے جوائن کرنے کی حامی بھر لی
اب اُنہیں بس دو لوگوں کی تلاش تھی۔۔۔۔۔۔
اور اُن دو کا انتظام بھی جلد ہو گیا تھا ابیہا ہائم کی چوٹی بہن مسلسل تین دن سے اُسکی کال ریکارڈنگز چیک کر رہی تھی یہ اُسکی ادات تھی وہ اپنے بھائی کی ہر چیز چیک کرتی تھی۔
اُسکی ساری عادتیں لڑکوں والی تھیں کسی نے کچھ کہا تو اس سے لڑنے لگنا لڑکوں کو مارنا بھیا کو بلیک میل کرنا سکیٹ لے کر باہر نکل جانا۔۔۔۔وہ اکثر محلے کی خبریں اکھٹی کیا کرتی تھی اُسے انویسٹیگیشن کا بہت شوق تھا اُسکی ایک دوست اعضاء بلکل اس جیسی تھی ہائم کی فون ریکارڈنگز سننے سے اُسے سب پتہ لگ چکا تھا کے وہ لوگ کیا کام کرنے والے ہیں اسی لیے اُسنے ہائم سے اس بارے میں زد کی مگر اُسنے پہلے انکار کیا
دیکھیں بھئیا اگر اپنے مجھے اس ٹیم میں شامل نہ کیا تو میں مما کو سب بتا دوں گی پھر آپ سوچیں کیا ہوگا انہی دھمکیوں سے مجبور ہو کر اُسنے افہام سے بات کی اور وہ مان گیا اُسنے اعضاء کی بھی بات کی مگر افہام نے انکار کر دیا اور انکار کا مطلب تھا انکار۔۔۔
اُسنے اعضاء کو بھی اس بات کا بتا دیا۔۔۔مگر اُسنے اگے سے کوئی اعتراض نہ کیا
اب انکی ٹیم پوری تھی افہام اپنے سینئر سے بات کر چکا تھا کے وہ صرف ۱۰ لوگوں کی ٹیم بنا سکتا ہے جس پر وہ مان بھی گئے تھے
اگلے ایک مہینے میں اُن سب کی ٹریننگ مکمل ہو چکی تھی اور اُن کی ٹیم کو نام بھی دیا جا چکا تھا
دی نائٹ سٹالکرز(ThE nighT stalkers)
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


