Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

The Night Stalkers by Bisma khan Episode01

The Night Stalkers by Bisma khan Episode01

بابا!۔۔۔۔سعد ہمدانی کھمبے سے بندھا اپنے بابا کو آوازیں دے رہا تھا جنہیں سامنے کرسی پر بندھا گیا تھا۔۔۔۔
اُنکے سامنے دو آدمی گن لے کر کھڑے تھے ایک نے اُن پر گن تان رکھی تھی۔۔۔
دیکھو تمہیں جو چاہیے میں دینے کو تیار ہوں پر میرے بابا کو چھوڑ دو انکے پاس کچھ نہی ہے۔۔۔سعد مسلسل ہمدانی صاحب کو بچانے کے لیے چیخ رھا تھا اور ساتھ ساتھ اپنے بندھے ہاتھوں کو کھولنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔
چپ کر اب ایک آواز بھی ائی نہ تیری تو تیرے باپ کے ساتھ ساتھ تُجھے بھی مار دیں گے سمجھ ائی۔۔اُن میں سے ایک آدمی نے گن کا رخ سعد کی طرف کیا
نہی دیکھو میرے بیٹے کو کچھ مت کہنا وہ معصوم ہے جو کرنا ہے میرے ساتھ کرو اس کو جانے دو۔۔ہمدانی صاحب نے اس آدمی کو روکا
دیکھ بڈھے ہمارے پاس زیادہ وقت نہی ہے وہ چپ ہمارے حوالے کر اور اپنی جان بچا لے۔۔۔۔اُن میں سے ایک آدمی نے اس سے چپ مانگی
دیکھو میرے پاس کوئی چپ نہی ہے۔۔ہمدانی صاحب نے انکار کیا
ابے تُجھے اپنی جان پیاری نہی ہے کیا چپ دے نہی تو تیرے ساتھ تیرے بیٹے کو بھی مار دیں گے جلدی کر۔۔اُن میں سے ایک آدمی نے دھمکی دی
نہی نہی دیکھو اسے کچھ نہی پتہ اسے چھوڑ دو جانے دو یہ کسی بات سے واقف نہیں ہے یہ معصوم ہے۔۔۔اُنہوں نے سعد کو بچانے کی ایک اور کوشش کی
بابا جو انہی چاہیے وہ دے دیں پلز بابا دیکھو اُنہیں کچھ مت کرنا میں وعدہ کرتا ہوں یہ کسی کو کچھ نہیں بتائیں گے ہم یہ ملک چھوڑ کر چلے جائیں گے۔۔۔۔سعد نے پہلے ہمدانی صاحب پھر اُن دونوں کو مخاطب کیا
دیکھ بڈھے میرا وقت ضائع مت کر چپ دے جلدی۔۔اس میں سے ایک آدمی نے گن پر دباؤ ڈالا۔ ۔
نہی بابا نہی چھوڑ دو اُنہیں۔۔۔سعد مسلسل چیخ رہا تھا اتنے میں باہر سے پولیس سائرن کی آواز ائی یہ ایک خستہ حال فیکٹری تھی جہاں اکثر چھاپے پڑتے رہتے تھے۔۔۔۔۔
سائرن کی آواز سن کر وہ دونوں گھبرا گئے۔۔۔
اب کیا کریں۔۔اُن میں سے ایک نے دوسرے سے پوچھا
بھاگنا چاہیے مگر اگر اس کو زندہ چھوڑ دیا تو بوس ہمیں مار دے گا۔۔۔پہلے نے دوسرے سے کہا
اور اسی وقت فضا میں گولی کی آواز گونجی۔۔
اس کے بعد اُن دونوں نے پیچھے کی طرف سے دوڑ لگا دی
سعد ہمدانی کو جب ہوش آیا تو اپنے باپ کا خون میں لپٹا وجود نظر آیا۔۔۔۔
بابا ۔۔۔!اور پھر اس کے گلے سے ایک چیخ برآمد ہوئی اس نے جنونی کیفیت میں اپنی رسیاں کھولیں اور ہمدانی صاحب کی طرف بھاگا۔۔۔
ہمدانی صاحب کی سانسیں ابھی چل رہیں تھی گولی سینے میں لگی تھی۔۔۔
بابا۔۔بابا آپ ایسے نہی کر سکتے آپ مجھے چھوڑ کر نہی جا سکتے۔۔بابا!سعد نے ہمدانی صاحب کا سر اپنی گود میں رکھا۔۔
بے۔بیٹا م۔مجھے یہاں سے ل۔لے جاؤ۔۔۔ہمدانی صاحب سے درد کی شدت سے بولا نہی جا رہا تھا
سعد نے اپنے بابا کی بات مانی اور اپنے مضبوط بازوں میں اُنہیں اٹھا کر فیکٹری کی پچھلی سائڈ پر لایا۔۔
ابھی اُسکا ارادہ یہاں سے کوئی رکشا ڈھونڈنے کا تھا مگر ہمدانی صاحب نے اُسے اپنی طرف بلایا۔۔
بابا ہوش کریں ابھی آ جائے گا رکشا آپ کو کچھ نہیں ہوگا بابا فکر نہی کریں۔۔۔سعد نے اُنکا سر اپنی گود میں رکھا۔۔۔اسکی آنکھوں سے آنسو مسلسل بہہ رہے تھے
سعد میری ب۔بات غور سے سو۔سنو تمہارے بازو کے اندر ایک چپ ہے اُسے لے کر ح۔حماس شاہ کے پاس چلے جاؤ اور دھیان س۔سے یہ کسی پولیس والے کے ح۔ہاتھ نہ لگے بیٹا۔۔۔ہمدانی صاحب نے بڑی مشکل سے یہ الفاظ ادا کیے اور اس کے بعد سعد نے محسوس کیا کے انکی آنکھیں پتھرا گئی تھیں۔۔۔
بابا بابا آنکھیں کھولیں میں آپ کی بات مانوں گا اٹھیں نہ بابا کیا ہو گیا ہے بابا آپکو آپ مجھے چھوڑ کر نہی جا سکتے پہلے مما اور اب آپ بابا اٹھیں نہ بابا۔۔۔سعد مسلسل ہمدانی صاحب کو اٹھانے کی کوشش کر رہا تھا مگر وہ اب کہاں تھے جو اٹھتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔آنسو اسکی آنکھوں سے کسی آبشار کی طرح بہہ رہے تھے۔۔۔
تھوڑی دیر بعد وہ اٹھا اور ہمدانی صاحب کو اپنے بازؤں میں اٹھا کر گھر لایا وہاں پر کفن کے انتظامات اور کچھ قریبی رشتے داروں کو وفات کا بتانے کے بعد انہیں دفنا دیا گیا۔۔
اب منظر یہ تھا کہ وہ انکی قبر کے پاس بیٹھا تھا مگر اب آنکھوں میں آنسو نہی تھے بلکہ جنونیت تھی ۔۔۔۔
بابا میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں جب تک آپ کے قاتلوں کو موت کے گھاٹ نہی اُتار دیتا تب تک چین سے نہی بیٹھوں گا بابا یہ وعدہ ہے آپکے بیٹے کا آپسے۔۔۔۔۔اس کے پیچھے جو جو بھی تھا سب کے ساتھ اللہ انصاف کرے گا دیکھیے گا آپ۔۔۔۔۔۔سعد اتنا کہ کر وہاں سے اٹھ گیا اب اسکی زندگی کا بس ایک ہی مقصد تھا اپنے بابا کے قاتلوں کو مارنا۔۔۔
مگر اسکو یہ کام صحیح طریقے سے کرنا تھا جائز طریقے سے کیوں کے ساری زندگی اسکے بابا نے بھی صرف جائز کام کیے تھے۔۔۔۔
اب اُسکا رخ حماس شاہ کی حویلی کی طرف تھا۔۔۔
یہ ایک چھوٹا سا گاؤں تھا شہر سے تھوڑا دور سعد ہمدانی کی والدہ تین مہینے پہلے ہارٹ اٹیک کی وجہ سے وفات پا گئیں تھیں اور اب ہمدانی صاحب کو بھی ایک چپ کے پیچھے قتل کر دیا گیا تھا۔۔۔۔سعد اب اکیلا تھا وہ اپنے ماں باپ کا اکلوتا بیٹا تھا۔۔۔۔۔۔
حماس شاہ کی حویلی کے باہر جا کر اُسنے ملنے کی خواہش ظاہر کی اُسی وقت ارحان دانش وہاں آیا ارحان دانش اور حماس شاہ کافی وقت سے دوست تھے اکثر ارحان یہاں کا چکر لگاتا رہتا تھا۔۔۔
آپکو کس سے ملنا ہے۔۔ارحان نے سعد سے پوچھا اس نے پہلے اس لڑکے کو یہاں نہیں دیکھا تھا
حماس شاہ سے۔۔سعد نے اُسے بتایا
اچھا چلو پھر اندر اہ جاؤ۔۔اؤ چلتے ہیں۔۔ارحان نے اس لڑکے کو پہلے کبھی یہاں نہی دیکھا تھا۔۔۔۔۔
ارحان اُسے لیے اندر چلا گیا
حماس اپنے لون میں ہی بیٹھا تھا۔۔
اُو ہیلو بڈی۔۔ارحان نے دور سے اُسے آواز دی
حماس کوئی جواب دیتا مگر اسکے ساتھ ایک اجنبی کو دیکھ کر خاموش ہو گیا
یہ کون ہے۔۔حماس نے ارحان سے پوچھا
یہ تم سے ملنے آیا تھا۔ارحان نے اُسے سعد کے بارے میں بتایا
کون ہو آپ۔۔۔حماس نے سعد سے پوچھا
آپ حماس شاہ ہو۔۔۔سعد نے کنفرم کرنا چاہا
جی میں ہی ہوں۔۔۔حماس نے اُسے بتایا
مجھے ہمدانی صاحب نے بھیجا ہے اُنکا بیٹا ہوں میں۔۔سعد نے اپنا تعارف کروایا
اچھا اچھا آپ ہمدانی انکل کے بیٹے ہو اؤ بیٹھو۔۔۔حماس نے کرسی کی طرف اشارہ کیا
اور پھر وہ تینوں بیٹھ گئے
کیسے ہیں ہمدانی صاحب۔۔حماس نے سعد سے پوچھا
سکون میں ہیں اب تو۔۔۔سعد کے لہجے میں کچھ عجیب سا تھا
مطلب۔۔جسے حماس نے بھی محسوس کیا
اُنکا قتل ہو گیا ہے۔۔۔سعد نے صاف بات بتائی اگر اسکے بابا نے اسکو اس انسان کے پاس بھیجا تھا تو ضرور یہ بھروسے لائق تھا۔۔۔۔
کیا کیسے ابھی کل تو میں ملا تھا انسے۔۔۔۔حماس کو شدید دھچکا لگا
جی آج صبح ہوا ہے۔۔۔۔سعد نے اُسے بتایا
اچھا۔۔!کافی افسوس ہوا مجھے۔۔حماس نے افسوس کا اظہار کیا
میں آپکو اس لیے بتانے نہی آیا کے آپ افسوس کریں مجھے آپ کی مدد چاہیے بابا نے کہا تھا آپ کے پاس جاؤں۔۔۔سعد نے صاف بات کی لگی لپٹی باتیں کرنے کی اسکی ادات نہ تھی
ہاں بولو آپکو کیا مدد چاہیے۔۔حماس نے اس سے پوچھا
سعد نے ایک نظر حماس کو دیکھا اور ایک نظر ارحان کو جیسے کہ رہا ہو کے اس کے سامنے تو کبھی نہ بتاؤں۔۔۔
حماس نے اُسکا اشارہ سمجھ لیا تو بولا۔۔ایسی کوئی بات نہیں ہے آپ اس کے سامنے بات کر سکتے ہو۔۔
جی نہی مجھے انکے سامنے بات نہی کرنی ہے آپ ابھی سن سکتے ہیں تو ٹھیک ہے نہی تو میں دوبارہ اہ جاؤں گا۔۔۔سعد نے اسکی بات سے انکار کیا
اوہو یار کوئی نہی میں چلا جاتا ہوں آپ بات کر لو کوئی مسئلہ نہی۔۔۔ارحان نے اُسے ایزی کیا
شکریہ !سعد نے ایک دفعہ بھی اُسے نہ روکا
ہمم۔۔!اب بولو….حماس نے اس سے دریافت کیا
میرے بابا کو صبح دو نقاب پوش لوگوں نے قتل کر دیا ہے مجھے اُنہیں ڈھونڈنا ہے مجھے آپکی مدد چاہیے مجھے بابا کو انصاف دلاوانا ہے۔۔۔۔سعد نے اُسے چپ والی بات نہ بتائی ابھی اُسے اس پر بھروسہ نہی تھا
اچھا تو کچھ پتہ ہے وہ کون لوگ تھے ۔حماس نے اس سے پوچھا
نہی مگر کال رات بابا نے کسی اے۔ پی کا ذکر کیا تھا اب نجانے وہ کون ہے۔۔۔سعد نے اُسے کال رات کی بات بتائی
ہمم!یہ کسی نام کی شارٹ فورم لگ رہی ہے نام چھپانے کے لیے۔۔۔حماس نے اندازہ لگایا
آپ اسے جانتے ہیں۔۔سعد کو اُمید کی ایک کرن نظر ائی
نہی میں نہی مگر میرا ایک دوست ہے شاید وہ جانتا ہو تم کال صبح انا اس کے پاس چلیں گے ٹھیک ہے ۔۔حماس نے اُسے حل بتایا
جی ٹھیک!سعد نے اتنا ہی کہا اور پھر اٹھ گیا۔۔
کچھ کھاؤ گے پیو گے نہی۔۔۔حماس نے اس سے پوچھا
نہی میں کھانے پینے نہی آیا تھا۔۔۔سعد اس کے بعد چلا گیا
اس کے جاتے ہی ارحان آیا
کیا کہ رہا تھا۔۔۔ارحان نے حماس سے پوچھا
قتل کا معاملہ ہے کل افہام کے پاس جانا ہے اسے لے کے۔۔۔حماس نے اُسے بتایا اور کافی کا کہا۔۔
ہمم!ٹھیک ہے میں بات کر لوں گا افہام سے کوئی مسئلہ نہی ہے۔۔۔حماس نے افہام کا نام اسی لیے لیا تھا کیوں کہ وہ شروع سے اُسے ارحان کے ذریعے جانتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمم!حماس کسی سوچ میں گم تھا جب ارحان نے اُسے بلایا
یار یہ ویسے تھا کون۔۔ارحان نے سعد کے بارے میں پوچھا
ہمدانی صاحب کا بیٹا سعد۔۔حماس نے اُسے بتایا
ہمدانی صاحب کون۔۔۔ارحان کونسا ہمدانی صاحب کو جانتا تھا
یار وہ نہ ایک بندے کے پیچھے لگے ہوئے تھے انوسٹیگیٹ کر رہے تھے مگر مجھے لگتا ہے اُنہیں
اُنہیں لوگوں نے قتل کروایا ہے جن کے بارے میں وہ جاننے کی کوشش کر رہے تھے۔۔۔۔حماس نے اُسے ساری بات بتائی
اور تُجھے یہ کیسے پتہ۔۔۔ارحان نے حماس سے کہا
یار دو تین دن پہلے یہ میرے پاس ائے تھے کہہ رہے تھے کے ایک کیس ہے جب مکمل ہوگا تو مجھے دیں گے مجھے بس بندہ پکڑنا ہے میں نے حامی بھر لی تھی وہ بھی ہماری فیلڈ سے تعلق رکھتے تھے ۔۔حماس نے اُسے ہمدانی صاحب کے بارے میں سب بتایا
تو اب ۔۔ارحان نے آگے کا پوچھا
مجھے لگتا ہے کے اُنکا کیس پورا نہی ہوا ورنہ وہ کچھ تو دیتے اپنے اس بیٹے کو مگر نہی اُنہوں نے اسکو میرے پاس بھیجا مگر اسنے تو مجھے کچھ نہی دیا۔۔۔حماس کچھ الجھا الجھا سا تھا۔۔
ہمم! چل کوئی نہی دیکھتے ہیں کل اسے بھی فکر نہ کر۔۔۔ارحان نے اسکی ٹینشن دور کرنا چاہی۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک مہینہ پہلے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حدید یار میں نہ آج بہت تھک گی ہوں توبہ صبح سے گھن چکر بنی ہوئی ہیں یہ جو پشنٹ ہے نہ یار بہت تنگ کرتا ہے کوئی بات نہی سنتا۔۔۔۔۔۔انفہ وقار اس وقت اپنی مشکل حدید کے ساتھ بانٹ رہی تھی حدید جو ابھی کوئی آپریشن کرکے فارغ ہوا تھا اسکے اس طرح بولنے پر ہنس پڑا۔۔۔۔۔۔۔
انفا یار ہم ڈاکٹرز کی لائف ایسی ہی ہوتی ہے بزی۔۔حدید نے اُسے حقیقت بتائی
ہاں اور مشکل بھی۔۔انفا نے اسکی بات میں اضافہ کیا
اچھا آج شام چلنا ہے افہام کی طرف یا نہی۔۔۔۔۔۔۔حدید نے انفا سے پوچھا
نہی یار نہی چلنا۔۔۔اُسنے انکار کر دیا
کیوں؟حدید نے وجہ پوچھی
یار وہ افہام کو ڈی ائی جی نے بلایا ہے اُنہوں نے کسی کو چھوڑنے کے آرڈرز دیے تھے اسنے نہی چھوڑا تمہیں تو پتہ ہے اسکے اصولوں کا تو بس بلاوا آ گیا۔۔۔۔اب دیکھو ہمارے ائے اس پی کا کیا ہوتا ہے جنت بھی پریشان تھی۔۔۔۔۔انفا نے نہ جانے کی وجہ بتائی
کیوں پارٹنر کیوں پریشان ہے۔۔۔حدید نے جنت کا پوچھا وہ اُسے پارٹنر ہی کہتا تھا
اب یار میاں کی جوب خطرے میں ہو تو بیوی تو ڈرے گی نہ یار۔۔۔ایک تو چھوٹی سے بچی سے شادی کر لی ہے اوپر سے اُسے اپنے کاموں کی وجہ سے ڈراتا رہتا ہے۔۔۔انفا نے اُسے بتایا اور ساتھ ہی افہام کو کوسا
ہمم!ہے تو چھوٹی افہام صاحب ہے ۲۴ سال کے اور وہ بیچاری ۱۸سال کی فرق تو ہے مگر یار اُسکا پیچھے کوئی تھا ہی نہی اسی لیے افہام نے جلدی شادی کر لی آخر کب تک وہ اپنی خالہ کے گھر رہتی ۔۔حدید نے اُسے جلدی شادی کی وجہ بتائی
ہاں اور ہمیں بلایا بھی نہی شادی پر۔۔انفا کو ایک اور دکھ یاد آیا
اس بیچارے نے خود بس نکاح کیا ہے کوئی ہلا گلا نہی کیا تو تمہیں کیا بلاتا۔۔۔۔حدید نے افہام کی سائڈ لی
ہمم!انفا نے بس اتنا ہی کہا
چلو پھر چلتے ہیں پارٹنر کے پاس۔۔حدید نے کہہ کر گاڑی کی چابی اٹھائی
اچھا سنو حائم نے نہی انا کیا اُسنے بھی انا تھا آج تو۔۔۔حدید نے اس سے حائم کے بارے میں پوچھا
انے لگا تھا مگر ابھی اسکی کال ائی ہے ابیہا اسکے پیچھے پڑ گئی ہے اسکی جوب کو لیکے اب نہی اہ رہا اُسے رشوت دینی ہے اُسنے۔۔۔انفا نے اُسے ہائم کے پلان کے بارے میں بتایا
اچھا چلو ٹھیک ہے۔۔۔حدید کہہ کر آگے بڑھ گیا
اور ہمارے پروفیسر صاحب کا کیا ارادہ ہے کب اہ رہے ہیں وہ کراچی سے واپس۔۔۔۔حدید نے انفا سے پوچھا
ہاں جازم کہہ رہا تھا پرسوں ائے گا وہ۔۔۔انفا نے اُسے پروفیسر صاحب کی کی ہوئی بات بتائی
ہمم!حدید نے کہتے ساتھ گاڑی سٹارٹ کی اور افہام کے گھر کے راستے پر ڈال دی جنت اُنکا انتظار کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔😉😉😉😉

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *