The Night Stalkers by Bisma khan

سعد اور جازم وہاں سے سیدھا افہام کے فلیٹ ائے جازم کا ارادہ اوپر جانے کا نہی تھا مگر سعد کے اسرار پر وہ اُسکے ساتھ اوپر آ گیا۔۔۔
چابیاں سعد کے پاس تھیں جس کی وجہ سے اُنہیں بیل دینے کی ضرورت نہیں پڑی تھی جنت اس وقت کچن میں اس دو سالہ بچے کے لیے دودھ تیار کر رہی تھے جبکہ ابیہا وہاں نہی تھی۔۔
اسلام علیکم!سعد نے عادت کے مطابق اونچا سلام کیا فریش ہونے چلا گیا جبکہ جازم جنت کے پاس کچن میں۔۔
کیا کر رہی ہو؟جازم نے جنت کو کام کرتے دیکھ پوچھا
بھائی دودھ بنا رہی ہوں اس بچے کے لیے جسے آپ لوگ پکڑ کے لائے ہیں قسم سے بہت غلط بات ہے ایسے بچے کو اذیت دینا اُسکی کیا غلطی تھی۔۔۔جنت نے نروٹھے پن سے کہا
ابھی تھوڑی دیر پہلے وہ دونوں اسی ٹاپک پر بات کر رہی تھیں
بھابھی پتہ کیا اور کوئی طریقہ بھی نہی تھی وہ آدمی کسی بھی وقت مکر سکتا تھا اسی لیے یہ سب کرنا پڑا ویسے وہ ہے کدھر۔۔۔جازم نے اُسے بتا کے بچے کا پوچھا
ابیہا کے پاس ہے بیڈ روم میں وہی سنبھال رہی ہے۔۔۔۔جنت نے دودھ فیڈر میں ڈالتے ہوئے اُسے بتایا
اچھا میں دیکھتا ہوں۔۔۔جازم نے قدم بیڈ روم کی طرف بڑھائے
دروازہ کُھلا تھا جازم نے ایک دفعہ نوک کیا اور پھر اندر چلا آیا سامنے ہی ابیہا بیڈ پے بیٹھی اس بچے کے ساتھ کھیل رہی تھی جو اب اُسکے بال کھینچنے کی بھر پور کوشش کر رہا تھا اور ابیہا اس سے اپنے بال چھڑوا رہی تھی مگر وہ چھوٹا سا بچہ اپنی مُٹھی میں اُسکے بال لیے اپنی طرف سے پورا زور لگا رہا تھا۔۔۔۔۔
بےبی چھوڑ دو آپی کے بال اتنے تھوڑے سے بال آپ کیا کرو گے مگر اگر آپی کے اُتر گئے نہ تو دوبارہ پتہ نہی ائے گے یا نہی۔۔۔۔ابیہا اسکو پیار سے بہلا رہی تھی
مگر وہ مسلسل اُسکے بال کھینچ رہا تھا
جازم انکی طرف بڑھا اور ابیہا کے بال آزاد کروائے ابھی وہ بچے کو اٹھانے ہی لگا تھا کے ابیہا نے اُسے پکڑ کر پیچھے کی سائڈ پر لٹایا
جازم کو اُسکی اس حرکت پر حیرت ہوئی تھی
اب کیا کرنے ائے ہیں آپ یہاں خبردار جو اسکو ہاتھ بھی لگایا یا کی نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔۔۔۔ابیہا اچانک برہم ہوئی اور جازم جو اس سب کے لیے بلکل بھی تیار نہی تھا کافی حیران ہوا
کیا ہوا ہے؟جازم نے آرام سے اس سے پوچھا جو جازم کو ایسے دیکھ رہی تھی جیسے کھا جائے گی
کیا ہوا ہے کتنی شرافت سے مجھ سے پوچھ رہے ہیں کے کیا ہوا ہے شرم نہی اتی آپ دونوں کو ہاں اپنے کام کے لیے آپ ایک بچے کا استعمال کر رہے ہیں ایک اجنٹ ہو کر ایسے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں آپ لوگوں کو اپنے بل بوتے پر کوئی کام کرنا چاہیے نہ کے اس معصوم کے کندھے پر رکھ کر بندوقیں چلانی چاہئیں حد ہے کم سے کم یہ اُمید تو نہی تھی مجھے آپ دونوں سے۔۔۔۔۔ابیہا تو کسی بھوکی شیرنی کی طرح جازم اور جھپٹی تھی اور جازم وہ تو بیچارہ بلکل ہی خاموش تھا وہ ایسے رِیکشن کی اُمید نہی رکھتا تھا
ہم نے اسکو نقصان پہنچانے کے لیے نہی پکڑا ہے صرف اسکے باپ سے کام نکلوانے کے لیے لائے ہیں اسے اور اسکے علاوہ کوئی اور راستہ نہی تھا۔۔۔۔جازم نے وضاحت دی جو کسی کام نہ ائی بلکہ ابیہا کو اور سلگا گئی
اوہ جسٹ پلز میرے سامنے یہ باتیں نہ ہی کریں تو بہتر ہے۔۔۔ابیہا نے ہاتھ اٹھا کے اُسے روکا بچے کو اٹھایا اور دروازے کی طرف بڑھی جس کے آگے جازم دیوار بن کے کھڑا تھا
کیا اب آپ کو خاص طور پر خط لکھ کر درخواست کریں کے راستے سے ہٹ جائیں ۔۔ابیہا نے اُسے آنکھیں دکھائیں اُسکا غصّہ بڑھتا جا رہا تھا اُسے اُس معصوم جان پر ترس آ رہا تھا جیسے اُسکے ماں سے دور کیا ہوا تھا
جازم سائڈ پر ہوا تو وہ باہر نکلی جنت سے فیڈر لے کے بچے کے منہ میں ڈالا اور خود بھی ساتھ ہی بیٹھ گئی
سعد جو ابھی فریش ہو کر باہر آیا تھا ابیہا کی نظر اس پر پڑی
آئیے آئیے آپ بھی آئیے کافی اچھے کام کر لیتے ہیں آپ بھی آپکا مشترکہ پلان تھا یہ آپکو بھی شرم نہی ائی۔۔۔اب باری سعد کی تھے شاید اور وہ تو آنکھیں پھاڑ کر ابیہا کو دیکھ رہا تھا کے یہ لاوا کیس وجہ سے پھٹا ہے
جازم میں اُسکی طرف دیکھ کر ایک آنکھ دبائی تو اُسے شاید کچھ سمجھ آیا مگر جازم کی یہ حرکت ابیہا دیکھ چکی تھی جس کا مطلب تھا شامت
اللہ میری توبہ کوئی شرمندگی نہی ہے آپکو تو بڑے ہیں اؤں میرے سے پھر بھی اب میں کیا کہوں اور اپ آپ تو کافی نرم دل کے مالک تھے آپکو خیال نہی آیا کے یہ دو سالہ بچہ اپنی مما کے بغیر کیسے رہے گا۔۔۔۔ابیہا نے سعد کی طرف دیکھ کر پوچھا
آیا تھا۔۔۔سعد کو کچھ اور سمجھ نہ آیا تو یہ بول دیا
اگر غلطی سے آ ہی گیا تھا تو کوئی اور منصوبہ بندی کر لینی تھی اس معصوم کو اس سب میں گھسیٹنے کی کیا ضرورت تھی آپکو سعد بھائی۔۔۔ابیہا کا تو غصّہ ہی کم نہی ہو رہا تھا
اچھا نہ سوری یار مگر اس ادمی کو ایسے ہی قابو کیا جا سکتا تھا اور کوئی بھی راستہ نہیں تھا آئندہ کوئی اور آئیڈیا سوچیں گے پکا۔۔۔۔سعد نے اُسکی ساتھ بیٹھتے معافی مانگی اور بچے کو اپنی گود میں لیا
یہ کتنا کیوٹ ہے نہ دیکھیں اسکے چیک۔کتنے سوفٹ ہیں۔۔۔۔ابیہا نے سعد سے کہا جو اب بچے کے ساتھ کھیل رہا تھا
یہ یہاں کرنے دن رہے گا جازم بھائی۔۔۔جنت نے چائے جازم کو پکراتے ہوئے پوچھا
شاید دو سے تین دن۔۔۔۔جازم نے اندازہ لگایا کیوں کے اس کام نے دو تین دن لگ جانے تھے
سچی یہ دو تین دن ہمارے پاس رہے گا کیا۔۔۔۔ابیہا ایکدم ایکسیٹید ہوئی
ہاں ہاں یہی رہے گا۔۔۔جازم نے اُسے یقین دلایا
تو سعد بھائی ہم اب اسے بچہ بچہ تو نہی نہ کہیں
گے اسکا نام کیا ہے۔۔۔۔ابیہا نے سعد سے پوچھا
رکو ابھی پوچھا کے اتا ہوں اس کی ماں سے۔۔۔مگر جواب جازم کی طرف سے آیا
اُسکی بات سن کے جہاں ابیہا کو غصّہ آیا وہیں سعد اور جنت کے چہرے پر مسکراہٹ ائی تھی
اؤں مذاق اڑا رہے ہیں میرا۔۔۔ابیہا نے خون خوار نظروں سے جازم کو دیکھا
نہی تو یار کیا جب اسے اٹھا رہے تھے تب اسکی امی سے پوچھتے کے آپکے جس بچے کو ہم اٹھا رہے ہیں اسکا نام کیا ہے۔۔۔جازم کو ابیہا کو تنگ کرنے میں مزا آ رہا تھا
میں نے یہ تو نہیں کہا ۔۔۔۔ابھی ابیہا کچھ اور کہتی اس سے پہلے سعد بولا
یار تم دونوں مت لڑو جتنے دن یہ ہمارے پاس ہے ہم خود اسکا کوئی نام رکھ لیتے ہیں۔۔۔سعد نے حل پیش کیا نہی تو لڑائی کافی لمبی ہو جاتی
ہاں یہ صحیح ہے میں بتاتی ہوں ہم اسکا نام اتنے دن کے لیے ایان رکھ دیتے ہیں۔۔۔۔ابیہا نے نام بتایا
یہ کیا نام ہوا یہ نہی رکھنا کوئی اور سوچو۔۔۔جازم نے اُسکا نام ریجیکٹ کیا جس پر پہلے تو اُسے غصّہ آیا مگر پھر دوسرا نام بتایا
پھر نہ روحان ٹھیک ہے۔۔۔ابیہا نے جازم کی طرف دیکھ کر پوچھا
نہی یہ بھی نہی کوئی اور۔۔۔جازم نے ہاتھ کے اشارے سے منع کیا
تو پھر شاہ میر سہی ہے۔۔۔۔ابیہا نے دوبارہ جازم کی طرف دیکھا
نہ یہ بھی نہی۔۔۔اور بس اب ابیہا کی برداشت ختم ہو گئی تھی
جائیں آپ بھاڑ میں اسکا نام ایان ہی رکھیں گے ہم بس آپکو پسند اتا ہے نہی میری بلا سے۔۔۔ابیہا نے دانٹ پیس کر کہا جازم اُسے جان بوجھ کر تنگ کر رہا تھا اور وہ ہو بھی رہی تھی اس سے پہلے کے بحث اور بڑھتی دروازے کے بیل گئی تو جنت نے دروازہ کھولا جہاں ہائم اور حماس کھڑے تھے۔۔۔
وہ دونوں اندر ائے تو سامنے ہی اُنہیں باقی لوگ نظر ائے
بھئیا۔۔۔ابیہا فوراً ہائم کی طرف بھاگی اب اُسے جازم کو مزا چکھانا تھا
جی جی بولو۔۔۔ہائم نے بھی آگے سے لاڈ سے پوچھا
بھئیا یہ آپکے دوست مسلسل مجھے تنگ کر رہے ہیں انکو منع کر لیں۔۔۔۔ابیہا نے ترچھی نظر سے جازم کو دیکھا
کیوں بھئی کیوں تنگ کر تھا ہے تو میری معصوم بہن کو۔۔۔۔ہائم نے اُسکی قمر میں مکہ رسید کیا
معصوم کچھ تو خدا کا خوف کر یار یہ اور معصوم توبہ توبہ معصوم لوگوں کو نہ اٹیک آ جائے اگر وہ یہ سن لیں کے یہ معصوم ہے۔۔۔جازم نے دونوں کانوں کو ہاتھ لگائے
کیوں جی میں نے کیا کیا ہے ایان کو کیدنیپ اپنے کیا اُسکے باپ کو اپنے مارا اور الزام مجھ پے لگا رہے ہیں اللہ اللہ کوئی خدا کا ڈر نہی ہے آپکو آگے اپنے اللہ کو منہ دکھانا ہے کچھ تو خیال کریں۔۔۔۔ابیہا تو صوفہ پر کھڑی ہو کر بولی

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *