The Night Stalkers by Bisma khan NovelR50797 The Night Stalkers by Bisma khan Episode07
No Download Link
595.5K
32
Rate this Novel
The Night Stalkers by Bisma khan Episode01 The Night Stalkers by Bisma khan Episode02 The Night Stalkers by Bisma khan Episode03 The Night Stalkers by Bisma khan Episode04 The Night Stalkers by Bisma khan Episode05 The Night Stalkers by Bisma khan Episode06 The Night Stalkers by Bisma khan Episode07 (Watching)The Night Stalkers by Bisma khan Episode08 The Night Stalkers by Bisma khan Episode09 The Night Stalkers by Bisma khan Episode10 The Night Stalkers by Bisma khan Episode11 The Night Stalkers by Bisma khan Episode12 The Night Stalkers by Bisma khan Episode13 The Night Stalkers by Bisma khan Episode14 The Night Stalkers by Bisma khan Episode15 The Night Stalkers by Bisma khan Episode16 The Night Stalkers by Bisma khan Episode17 The Night Stalkers by Bisma khan Episode18 The Night Stalkers by Bisma khan Episode19 The Night Stalkers by Bisma khan Episode20 The Night Stalkers by Bisma khan Episode21 The Night Stalkers by Bisma khan Episode22 The Night Stalkers by Bisma khan Episode23 The Night Stalkers by Bisma khan Episode24 The Night Stalkers by Bisma khan Episode25 The Night Stalkers by Bisma khan Episode26 The Night Stalkers by Bisma khan Episode27 The Night Stalkers by Bisma khan Episode28 The Night Stalkers by Bisma khan Episode29 The Night Stalkers by Bisma khan Episode30 The Night Stalkers by Bisma khan Episode31 The Night Stalkers by Bisma khan Last Episode
The Night Stalkers by Bisma khan Episode07
The Night Stalkers by Bisma khan Episode07
ان دو دنوں میں وہ لوگ کافی بزی رہے سب اپنے اپنے کام کر رہے تھے جو اُنہیں سونپے گئے تھے انکی ساری پلاننگ مکمل تھی۔۔اب بس عمل کرنے کی دیر تھی جس میں زیادہ وقت نہی بچا تھا
وہ تینوں شام میں پولیس اسٹیشن گئے وہاں اُنہیں افہام نے پولیس ڈریس دے دیے تھے جو اُسنے اپنے کچھ پولیس اہلکاروں کو کہ کر لیے تھے۔۔۔۔
یار میں کافی ہینڈسم لگ رہا ہوں ہینا۔۔۔۔حدید نے اپنی تعریف خود ہی کی اور بعد میں حماس سے تصدیق حماس سے تصدیق چاہی۔۔۔
جی کچھ زیادہ ہی ہم یہ گیٹ اپ اچھے لگنے کے لیے نہی بلکہ اپنا کام سر انجام دینے کے لیے کر رہے ہیں۔۔۔حماس کو اس وقت ایسے سوال سے شدید کوفت ہوئی
اوئے یار یہ تو مجھے یہاں سے لوز ہے۔۔۔جازم جو ابھی ابھی باہر آیا تھا اپنا ڈریس دیکھ کر پریشان ہوا وردی کو دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا تھا کے وہ کسی ہٹے کٹے پولیس والے کی ہے
حدید تو اسکو دیکھ کر اپنا اچانک انے والا جاندار كہکہا نہ روک سکا اُسکی حالت ہی کچھ ایسی تھی
اسکے کندھے نیچے ڈھلک رہے تھے ایسا لگ رہا تھا جیسے کسی ہینگر پر وردی لٹکا دی ہو ۔
بیٹا یہ لوز نہی ہے بلکہ ایکسٹرا لوز ہے۔۔۔حدید مسلسل کہکہے لگا رہا تھا
چپ کر پتہ نہیں کس کی ہے یہ۔۔۔جازم کو تو تپ ہی چڑھ گئی تھی
نہی نہی یار یہ والی نہی تھی یہ تو کونسٹبل کی تھی تُجھے دوسری والی دی تھی۔۔۔۔
افہام نے اُسے صحیح والی وردی پکڑائی
شام میں وہ لوگ مکران کے لیے روانہ ہو چکے تھے ۔
اس وقت وہ کوئٹہ میں تھے اب اُنہیں مکران جانا تھا مگر اسکے لیے اُنہیں تھوڑا سا انتظار کرنا تھا جنت نے بتایا تھا کہ تجارت صحرا کے راستے سے ہو گی
اسی لیے اب وہ لوگ وہاں بیٹھے اپنے شکار کا انتظار کر رہے تھے وہ اونچائی پر تھے جس کی وجہ سے نیچے موجود لوگوں کو وہ نظر نہی آ رہے تھے فجر ہونے میں بس پندرہ منٹ باقی تھے وہ سب اپنی اپنی جگہ الرٹ تھے
کچھ دیر بعد انہیں دور سے کچھ اونٹ اتے ہوئے نظر ائے اور پھر وہ کچھ اونٹ ۳۵ ۵۰ اونٹوں میں بدل گئے جب اُنکا پورا قافلہ سامنے تھا تو افہام نے اُنہیں ایکشن لینے کو کہا وہ لوگ فوراً انکی طرف گئے وہاں کچھ لوگ پہلے سے کھڑے اُنکا انتظار کر رہے تھے۔۔۔۔۔
اُنہوں نے جیسے ہی چھاپا ڈالا وہ تین لوگ فوراً وہاں سے بھاگے حدید،حماس اور جازم اُنکے پیچھے چلے گئے اور باقی کے آفیسرز مال پکڑنے لگے اُن سب لوگوں کو پکڑ لیا گیا تھا اب سب کچھ انڈر کنٹرول تھا
جنت مسلسل انکی لوکیشن ٹریس کر رہی تھی مگر وہ تینوں الگ سمت بھاگ رہے تھے یہ دیکھ کر جنت کو حیرت ہوئی تھوڑی دیر بعد جازم کی لوکیشن ایک جگہ رک گئی تھی۔۔۔
دیکھتے دیکھتے تینوں کی لوکیشن سیم ہو گئی۔۔۔اُنکے ساتھ کوئی اور بھی تھا یہ بات اُسے سعد سے پتہ لگی تھی وہ مسلسل اُسنے کانٹیکٹ میں تھا۔۔۔
اُنہوں نے نہال کے ایک آدمی کو پکڑ لیا ہے باقی دونوں پتہ نہی کہاں بھاگ گئے ہیں۔۔۔سعد نے اُسے خوشخبری سنائی جو وائر لیس کے ذریعے سب تک بھی اسی وقت پہُںچ گئی۔۔۔
وہ سب خوش تھے انہوں نے اپنا پہلا قدم رکھ لیا تھا اب بس قدم بڑھاتے جانا تھا اور کامیابی کو گلے لگانا تھا۔۔۔
کافی انویسٹ کرنے کے بعد انہیں پتہ لگا کے کوئی اُنکے پیچھے نہی تھا۔۔۔
کوئی اُنکا پیچھا نہی کر رہا تھا اب بس انہیں اس آدمی سے انفو نکلوانی تھی
افہام نے ہائم کو شام میں ہی رپورٹ بنانے کا کہا۔
اب وہ دونوں آمنے سامنے کھڑے تھے ہائم کے ساتھ ایک لڑکا تھا جس نے کیمرا پکڑ رکھا تھا۔۔
جی تو سر یہ سارا اسٹاک آپ نے کہاں سے پکڑا ہے۔۔ہائم نے پروفیشنل انداز میں سوال کیا
مکران سے۔۔افہام نے بس مختصر سے جواب دینے تھے
کس وقت۔۔ہائم نے ایک اور سوال داغا
فجر کے وقت۔۔افہام نے اُسے بتایا وہ سارے وہی سوال کر رہا تھا جو افہام نے اُسے کرنے کو کہے تھے
سر آپکو کیسے پتہ کے اسٹاک مکران سے اسمگل ہونا ہے۔۔۔۔ہائم نے اس سے وہ بات پوچھی جو اُسے اصل میں میڈیا اور نہال کو بتانی اور دکھانی تھی
میں اُسکا نام نہی بتا سکتا مگر یقیناً یہ کوئی اندر کا ادمی تھا ورنہ ساری ٹائمنگ کا پتہ ہونا کسی باہر والے کو کیسے ممکن ہے۔۔۔افہام اُسکا شک اسکے اپنے بندوں پر ڈالنا چاہتا تھا
اچھا سر تو آپکو پتہ ہے کے اسکے پیچھے کون ہے یعنی کس نے اسمگل کروایا ہے۔۔ہائم نے پاس پڑے نوٹ سے اگلا سوال پڑھا اور پوچھا
جی نہی ایسا کچھ اُسنے مجھے نہی بتایا۔۔۔۔افہام نے صاف انکار کیا
اچھا سر میں نے سنا ہے وہاں اسٹاک کلیکٹ کرنے کے لیے تین بندے موجود تھے اب وہ کہاں ہیں ۔۔ہائم نے اگلا سوال پوچھا
ہم نے اُنہیں پکڑنے کی کوشش کی مگر وہ تینوں بھاگ گئے ہمیں جیسے ہی اُنکے بارے میں کچھ پتہ لگے گا ہم اُنہیں پکڑ لیں گے۔۔۔۔افہام نے یہ بات صرف نہال کو سنانے کے لیے کی تھے تاکہ شک اُن پر نے جائے
جی آپکا بہت شکریہ سر!۔۔ہائم نے اتنا کہا اور کیمرا بند کر دیا
کیا لگتا ھے یہ آئیڈیا کامیاب ہو جائے گا۔۔۔ہائم کو شاید ابھی تک اس منصوبے پر پورا یقین نہ تھا
ہاں اُمید تو ہے آگے دیکھو کیا ہوتا ہے۔۔۔۔افہام نے اُسے تسلی دی شیور تو وہ خود بھی نہی تھا یہ بس ایک کوشش تھی
اور نہال جو اس وقت اپنے گھر میں بیٹھا نیوز دیکھ رہا تھا غصے سے پاگل ہوئے جا رہا تھا۔۔۔
ایک تو اُسکا اتنا بڑا نقصان ہوا تھا اوپر سے اُسکا ایک بندہ بھی غائب تھا
کہاں ہے وہ جلدی بتاؤ اور یہ کام کس کا ہے۔۔۔نہال نے سامنے پڑا واز اٹھا کر دیوار میں دے مارا
سر ہم نے کچھ نہی کیا ضرور اُسی نے کیا ہوگا اسی لیے بھاگ گیا ہے وہ۔۔۔اُن میں سے ایک آدمی نے سارا الزام اس گُمشدہ بندے پر ڈالا۔۔
تو پھر یہاں کھڑے میرا منہ کیا دیکھ رہے ہو اسے ڈھونڈ کر لاؤ جہاں مرضی سے اُسے میں اپنے ان ہاتھوں سے ماروں گا۔۔۔۔۔نہال دھاڑا اور اثر یہ ہوا کہ وہ دونوں یس سر کہتے وہاں سے کھسک لیے
نہال نے غصے میں آ کر دوسرا واز ٹی وی سکرین پر دے مارا جہاں ابھی ہائم کی رپورٹ جاری تھی
ٹی وی کی سکرین کرچیوں میں تقسیم ہو گئی۔۔۔۔۔۔
رات میں وہ سب افہام کے گھر پر تھے اپنی پہلی کامیابی کا جشن منانے
جنت نے سب کے لیے اسپیشل کھانا بنایا تھا۔۔
اور اب تک وہ سب کھانے پینے سے فارغ ہو چکے تھے اور بیٹھے باتیں کر رہے تھے
اوئے اس بندے کا کیا بنا جسے پکڑا تھا۔۔حدید نے افہام سے پوچھا
جازم سے پوچھ۔۔۔افہام نے جازم کی طرف اشارہ کیا
ہاں وہ میرے گھر کے تہہ خانے میں ہے کل چلیں گے اُسکی خبر گیری کرنے ابھی ذرا تھوڑے دن بھوکا پیاسا تو رہ لے۔۔۔جازم نے کل جانے کا پروگرام بنایا
ام ہم۔۔نہی میں نہی جاؤں گا مجھے دوسرے کام ہیں تم لوگ چلے جانا اور ہاں یاد رہے ہمیں ایک دو دن میں ساری انفو چاہیے۔۔۔افہام نے انہیں خبردار کیا
یار تو فکر نہ کر کل رات تک جو کچھ اُسے پتہ ہوگا تُجھے بھی پتہ لگ جائے گا۔۔۔جازم نے اُسے یقین دلایا اور افہام جانتا تھا جازم اس سے ساری باتیں اگلوا لے گا اُسے جازم پر پورا بھروسہ تھا
اگلے صبح سعد نے جنت کو اپنے ساتھ والک پر جانے کی پیشکش کی جو جنت نے خوشی خوشی قبول بھی کر لی۔۔
وہ دونوں واک کے ساتھ ساتھ باتیں بھی کر رہے تھے
سعد اُسے اپنے بارے میں اپنے مما بابا کے بارے میں بتا رہا تھا
اور جنت اُسے اپنے مما بابا کے بارے میں جتنا اُسے یاد تھا۔۔۔
ماں باپ کے بغیر زندگی کتنی مشکل ہے نہ جنت آپی۔۔۔سعد نے بینچ پر بیٹھتے اس سے پوچھا جو اسکے ساتھ ہی کھڑی تھی
ہاں ہے تو سہی!جنت نے اُسکی ہاں میں ہاں ملائی اور یقیناً ماں باپ کے بغیر زندگی کافی مشکل ہے
آپی وہ لوگ جلدی کیوں چلے جاتے ہیں جن سے ہم بے حد پیار کرتے ہیں۔۔۔۔۔سعد نے خالی خالی نظروں سے جنت کو دیکھا
وہ خود ۲۱ سال کا تھا اور جنت ۱۸ مگر پھر بھی وہ اسے احتراماً آپی کہتا تھا اُسے اچھا لگتا تھا جنت کو آپی کہنا
ایسی بات نہیں ہے سعد کافی دفع ایسا ہوتا ہے کے اللہ اپنے فرمانبردار بندوں کو جلدی اپنے پاس بلا لیا ہے جیسے تمہارے اور میرے پرنٹس جیسے ارہان تمہارے بابا بھی ایجینٹ تھے مارے گئے میرے بابا فوجی تھے اللہ کی راہ میں لڑتے تھے اللہ نے اُنہیں بھی بلا لیا اور ارہان وہ بھی کچھ اچھا کر رہا تھا اللہ نے اُسے بھی بلا کیا شاید وہ اپنے نیک بندوں کو جلدی بلا لیتا ہے۔۔۔جنت کی اپنی آنکھیں نم ہو گئی تھیں
نمی تو کہیں نہ کہیں سعد کی آنکھوں میں بھی تھی مگر اُسنے محسوس نہ ہونے دی اُسے کمزور نہی پڑنا تھا
آپ کو پتہ ہے آپی میرا دل کرتا ہے اس بندے کو جس نے میرے بابا کو مارا ہے خود اپنے ہاتھوں سے ایسی عبرت ناک موت دوں کے اُسکی روح دہل اٹھے نفرت ہے مجھے اس سے اور اُسے مارتے ہوئے مجھے کوئی ترس کوئی رحم کچھ نہی ائے گا کتنا چیخا تھا میں کے میرے بابا کو چھوڑ دو مگر اُنہوں نے نہی چھوڑا میں بھی کسی کو نہی چھوڑوں گا دیکھیے گا آپ۔۔۔سعد کے انداز میں جنونیت تھی وہی جنونیت جو جنت نے انفا کے لہجے میں محسوس کی تھی
تم ضرور مارو گے دیکھنا خود مارو گے اور اپنے بابا کا حساب چکتا کرو گے سعد اللہ انصاف کرنے والا ہے تم نے بدلے کے لیے کوئی غلط طریقہ نہی اپنایا بلکہ صحیح راہ پر چلے ہو اللہ تمہاری مدد ضرور کرے گا وہ بہت رحیم و کریم ہے۔۔۔۔۔۔جنت نے اُسے یقین دلایا وہ ان سب کے ساتھ تھی
اسکے بعد وہ دونوں گھر کی طرف چل پڑے آج کے لیے اتنی باتیں بہت تھیں
شام میں وہ جازم کے ساتھ اپنے مہمان کی خبر گیری کے لیے گیا
اُسنے جازم کا گھر پہلی بار دیکھا تھا جازم اُسے لیے لون کی پچھلی سائڈ پر آیا اور وہاں دیوار پر لگا پتیوں میں چھپا لال بٹن دبایا
بٹن دباتے ہی جازم نے دیوار پر زور لگایا اور دروازہ کھلتا چلا گیا۔۔
دروازے کے بعد سیڑھیاں تھیں جو نیچے جاتی تھیں سعد جازم کے پیچھے نیچے آیا یہاں پر مکمل طور پر اندھیرا تھا
جازم۔نے دیوار پر ہاتھ مارا اور ساری بتیاں روشن ہو گئیں ۔۔۔۔۔
جی جناب تو کیسی لگی آپکو ہماری مہمان نوازی۔۔۔۔جازم نے اسکے سامنے والی کرسی کھینچتے ہوئے پوچھا
مجھے یہاں کیوں لائے ہو۔۔۔۔دو دن سے شاید کچھ نہ کھانے کی وجہ سے اُسکی آواز بھاری ہو گئی تھی اُسے ایک بوسیدہ کرسی کے ساتھ بندھا گیا تھا
وہ بعد میں بتاتا ہوں یار پہلے تمہاری مہمان نوازی کے لیے سامان تو منگوا لوں۔۔۔۔جازم نے اُسکا چہرہ تھوڑی سے پکڑ کر اوپر کیا جازم تو اس سے ایسے بات کر رہا تھا جیسے کوئی پرانا دوست مل گیا ہو
نواز بابا میں نے جو سامان کہا تھا تیار ہے۔۔۔جازم نے نیچے سے ہی آواز لگائی
جی صاحب سب تیار ہے۔۔۔نواز بابا نے جواب دیا اور چیزیں لا کر جازم کے سامنے رکھیں
سعد تو چیزیں دیکھ کر حیران تھا
ایک بالٹی میں پانی تھا جو برف سے بھرا ہوا تھا۔۔
اور پانی کی دوسری بالٹی سے دھوئیں نکل رہے تھے
اسکے ساتھ ایک بیگ تھا جس میں مختلف چیزیں تھیں جو جازم اب زمین پر اُلٹ رہا تھا
اُس میں ایک نیل کٹر،بلیڈ, چاقو،ڈنڈا تھا۔۔
سعد تو حیران تھا چلو چاقو ڈنڈا اور بلیڈ تو ٹھیک تھا مگر یہاں نیل کٹر کا کیا کام تھا۔۔۔۔۔
ہاں تو جناب اپنا نام بتائیں ۔جازم نے اس سے پہلے سوال کیا
میں نے پوچھا مجھے یہاں کیوں لایا گیا ہے۔۔۔وہ آدمی دھاڑا
آواز نیچے۔۔۔۔جازم نے اسکے بال اپنی مٹھی میں پکڑ کر کھینچے
سعد اسکے چہرے پر تکلیف کے آثار صاف دیکھ سکتا تھا ۔۔
چلو اب بتاؤ تمہاری مہمان نوازی کس چیز سے شروع کروں۔۔۔جازم نے اس سے بڑے پیار سے پوچھا
ابھی جازم نے اتنا ہی پوچھا تھا کے سعد کو کسی کے سیڑھیاں اترنے کی آواز ائی اُسنے مڑ کر پیچھے دیکھا تو ایک ہیولیٰ سا نیچے اہ رہا تھا وہ کسی لڑکی کا معلوم ہوتا تھا۔
سعد نے فوراً جازم کی طرف دیکھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔




