The Night Stalkers by Bisma khan NovelR50797 The Night Stalkers by Bisma khan Episode24
No Download Link
595.5K
32
Rate this Novel
The Night Stalkers by Bisma khan Episode01 The Night Stalkers by Bisma khan Episode02 The Night Stalkers by Bisma khan Episode03 The Night Stalkers by Bisma khan Episode04 The Night Stalkers by Bisma khan Episode05 The Night Stalkers by Bisma khan Episode06 The Night Stalkers by Bisma khan Episode07 The Night Stalkers by Bisma khan Episode08 The Night Stalkers by Bisma khan Episode09 The Night Stalkers by Bisma khan Episode10 The Night Stalkers by Bisma khan Episode11 The Night Stalkers by Bisma khan Episode12 The Night Stalkers by Bisma khan Episode13 The Night Stalkers by Bisma khan Episode14 The Night Stalkers by Bisma khan Episode15 The Night Stalkers by Bisma khan Episode16 The Night Stalkers by Bisma khan Episode17 The Night Stalkers by Bisma khan Episode18 The Night Stalkers by Bisma khan Episode19 The Night Stalkers by Bisma khan Episode20 The Night Stalkers by Bisma khan Episode21 The Night Stalkers by Bisma khan Episode22 The Night Stalkers by Bisma khan Episode23 The Night Stalkers by Bisma khan Episode24 (Watching)The Night Stalkers by Bisma khan Episode25 The Night Stalkers by Bisma khan Episode26 The Night Stalkers by Bisma khan Episode27 The Night Stalkers by Bisma khan Episode28 The Night Stalkers by Bisma khan Episode29 The Night Stalkers by Bisma khan Episode30 The Night Stalkers by Bisma khan Episode31 The Night Stalkers by Bisma khan Last Episode
The Night Stalkers by Bisma khan Episode24
The Night Stalkers by Bisma khan Episode24
ابیہا کو وہاں گئے ابھی ایک دن ہی ہوا تھا مگر ابھی تک اُسکا سامنا حیدر سے نہی ہوا تھا پرانی میڈ سے اُسے یہ پتہ چلا تھا کے وہ ایک ہفتے سے باہر کے ملک گیا ہوا تھا جس سے ابیہا نے اس بات کا تو اندازہ لگا لیا تھا کے وہ لازمی طور پر ائے_پی سی ملنے گیا تھا اب اُسے یہ خبر حماس تک پہنچانا تھی
ابھی وہ دروازے کی طرف جا ہی رہی تھی جب پیچھے سے اُسے میڈ نے آواز دی
جی!ابیہا تابعداری سے کہتی پیچھے مڑی
کدھر جا رہی ہو تم؟اس نے اپنے مخصوص روکھے انداز میں سوال کیا
وہ گارڈن کی صفائی کے لیے۔۔۔ابیہا نے باہر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
برتن دھو لیے ہیں۔۔۔اس عورت نے ابیہا پر روب جھاڑا
ہی وہ تو عمرین دھو رہی ہے۔۔۔ابیہا نے اپنے ساتھ انے والی لڑکیوں میں سے ایک کا نام لیا جو اس وقت کچن نے موجود تھی
اچھا چل جا…اس عورت نے نہایت بدتمیزی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا تو ابیہا کا دل کیا اُسکی گردن پکڑ کے مروڑ دے مگر پھر اپنی ڈیوٹی کی وجہ سے چپ کر گئی
اسکی تو۔۔۔۔۔ابیہا نے مڑ کر کہا پھر گارڈن کی طرف چل دی
وہاں پہنچ کر پودوں کو پانی دینے کے دوران اس نے ایک گملے میں ایک چیٹ ارا دی جو کوئی اور تو نہی مگر حماس بڑی آسانی سے ڈھونڈ سکتا تھا
اپنا کام ختم کر کے جب وہ اندر او تو وہ کھڑوس عورت وہی پر کھڑی تھی
ابیہا کے اندر اتے ہی اُسنے اسکو نیا کام سنا دیا
سنو سارے گھر کی جھار پونچھ کرو فوراً۔۔۔۔۔۔اس نے صوفہ پر بیٹھے بیٹھے حکم صادر کیا
میں۔۔۔۔۔ابیہا نے اپنی طرف انگلی کر کے جیسے اُسکی بات کی تصدیق کی ہو
ہاں تو۔۔۔اس عورت نے بدتمیزی کا ریکارڈ توڑتے میں کوئی کسر نہ چھوڑی تھی
ابیہا مرتی کیا کرتی ڈسٹر لیے ڈرائنگ روم میں کو سے اور فرنیچر کی ڈسٹنگ شروع کی
اللہ اتنے کام تو میں نے اپنی پوری زندگی میں نہی کیے ہوں گے جیتنے اس پاگل عورت نے مجھ سے ایک دن میں کروا لے ہیں۔۔۔۔ابیہا دسٹنگ کرتی خود سے ہی باتیں کر رہی تھی
یا اللہ میری مدد فرما میں نے ایسا کیا گناہ کیا ہے جو اتنی بڑی سزا۔۔۔۔۔ابیہا نے اوپر کی طرف منہ کر کی دہائی دی کو سننے والا کوئی نہیں تھا
ابھی وہ کام ہی کر رہی تھی جب اس عورت نے ان تینوں لڑکیوں کو آواز دی
ابیہا پیر پٹختی باہر گئی اور اُن دونوں کے ساتھ جا کھڑی ہوئی جو پہلے ہی کسی روبوٹ کی طرح اُسکے آگے سر جھکائے کھڑی تھیں
آج صاحب آ رہے ہیں سمجھ ائی ہے اور ہاں آج کھانے مے کوئی کمی بیشی نہیں ہونی چاہیے نہی تو صاحب بہت بُرا کریں گے۔۔۔۔۔۔اس عورت نے اُنہیں حیدر کے مزاج کے بارے میں بتایا جس پر باقی دونوں نے تو تابعداری سے گردن ہلائی جبکہ ابیہا نے سر جھٹکا
صاحب مائ فوٹ۔۔۔۔۔۔۔اس نے منہ میں ہی بولا تھا
لیکن حیدر کا انا ضروری تھا تب ہی تو اُسے کسی طرح کی انفو حاصل ہوتی جو اُنکے لیے کارآمد ثابت ہوتی۔۔۔۔۔
شام تک وہ تینوں ساری تیاری مکمل کر چکی تھیں ابیہا نے تو زندگی میں کبھی کھانا نہی بنایا تھا اسی لیے اُسنے صفائی والے کام پر زیادہ زور دیا
شام میں ہورن کی آواز سے یہ پتہ چل چکا تھا کے حیدر آ گیا ہے جس پر باقی دونوں لڑکیوں کی تو ٹانگیں کانپ گئیں شاید اُنہیں حیدر سے بہت ڈرایا گیا تھا جبکہ ابیہا کے چہرے پر کچھ کھوج لینے والے تاثرات تھی مگر پھر اس نے اپنا فیس نورمل کیا اُسے کسی بھی طرح حیدر کو کسی قسم کے شک میں مبتلا نہی کرنا تھا
وہ دونوں ائے ساتھ ہی ڈرائنگ روم میں کو دیے تو اس میڈ نے آ کر اُنہیں کھانا لگانے کو کہا جس پر وہ دو لڑکیاں کسی صورت راضی نہ تھیں تو ابیہا نے خوش دلی سے یہ ذمےداری اپنے اوپر لی
جانے کی ٹریٹ اُن دونوں نے تیار کی جبکہ لے کر
ابیہا گئی اس نے ڈرائنگ روم کے دروازے پر کھڑے ہو کر اپنا چہرہ نورمل کیا اور پھر ایک دفعہ نوک کرنے کے اد اندر داخل ہوئی
اُسکے اندر داخل ہوتے دونوں کی نظر اس پر پڑی
ابیہا نے اُنکی نظریں خود پر محسوس کی تھیں مگر وہ پر ایٹڈ سے چلتی ہوئی ٹیبل کے پاس ائی اور کھانے کے برتن سیٹ کرنا شروع کیے وہاں حیدر کے ساتھ ایک عورت بھی بیٹھی تھی کو دیکھنے میں کافی دُبلی پتلی تھی اور غالباً وہ لوگ ابیہا کے انے سے پہلے کوئی بات ہی کر رہے تھے مگر اسکے انے پر خاموش ہوئے
Who is she؟
اس عورت نے حیدر سے پوچھا تو حیدر نے غور سے ابیہا کو دیکھا جیسے پہچاننے کی کوشش کی جا رہی ہو ابیہا ابھی بھی اپنی ہی ٹوں میں برتن سیٹ کے رہی تھی
شمائلہ۔۔۔حیدر نے اونچی آواز لگائی تو وہی میڈ اندر داخل ہوئی تب ابیہا کو پتہ چلا کے اس عورت کا نام شمائلہ ہے
یہ کون ہے؟حیدر نے اُسکے اندر اتے ساتھ اس سے سوال کیا
صاحب یہ وہ نئی میڈز ائی تھیں نہ اُن میں سے ایک ہے۔۔۔۔شمائلہ بیبی نے تابعداری سے بتایا تو حیدر ع دوبارہ ابیہا کو دیکھا جو سارے برتن اب رکھ چکی تھی
یہ میڈ تو نی لگتی کہاں سے اٹھا کے لائے ہو اسے۔۔۔حیدر نے شمائلہ کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا ایک سیکنڈ۔ کیلئے ابیہا کا رنگ فق ہوا مگر پھر دوبارہ اس نے اپنے آپ کو نورمل ظاہر کیا اس کام میں تو وہ ماہر تھی اکثر اُسکے گھر والے یہ نہی جان پتہ تھے کے وہ خوش ہے یہ اُداس یہ ہنر صرف ہائم کے پاس تھا
پتہ نہیں صاحب یہ تو وہ گارڈ لایا تھا ابھی لگتا ہے کسی اچھے گھر کی لڑکی اٹھا لایا ہے۔۔۔۔شمائلہ نے اپنے صاحب کی بات کی پیروی کی تھی
اچھا چلو تم جاؤ۔۔۔۔حیدر نے اُسے ہاتھ کے اشارے سے جانے کو کہا تو وہ فوراً سے پہلے چلتی بنی
سنو تم اِدھر او۔۔۔۔حیدر نے ابیہا کو اپنے آپس بلایا تو ایک نظر اس نے حیدر کو دیکھا
اور پھر اُسکی طرف چل دی
کہاں سے ہو تم۔۔۔۔حیدر نے اس سے پہلے سوال لیا
پتہ نہیں۔۔۔۔ابیہا نے بھی بنا رکے جواب دیا
پتہ نہیں مطلب۔۔۔حیدر کو حیرت ہوئی تھی
مطلب میرا کوئی گھر نہی ہے میں ایسے ہی جہاں جگہ ملی ره لیتی ہوں ان لوگوں نے مجھے ایک گلی میں سے اٹھایا تھا۔۔۔۔ابیہا نے سری بات وہی بتائی جو افہام نے سے بتانے کو کہا تھا
اچھا تو تمہیں مجھ سے ڈر نہی لگ رہا۔۔۔۔۔اس نے ایک اور سوال داغا
آپکے سر پر کونسا سنگھ لگے ہیں جو میں آپ سے ڈروں۔۔۔ابیہا نے اُسے روانی سے جواب دیا
تو حیدر کی آنکھیں پوری کی پوری کھل گئیں آج تک اُسکی کسی میڈ کی اتنی ہمت نہ ہوئی تھی کے اُسکے سامنے سر بھی اٹھا لے اور یہ لڑکی تو کافی پر اعتمادی سے اُسکے سارے سوالوں کا جواب بنا رکے دے رہی تھی
Huh I like it!!!
اُسنے ایک سمائل کے ساتھ کہا مگر اگر اس اور کی طرف دیکھا جائے تو اُسکے چہرے پر ایک ناگوار سا تاثر تھا جو ابیہا محسوس کر چکی تھی مگر اُسنے کوئی ریکیشن نہ دیا تھا
میرے خیال سے یہ یہاں سے جا سکتی ہے حیدر۔۔۔۔اس عورت نے حیدر کو باتوں میں مگن دیکھ بولا
ہاں روبینہ تمہارا خیال سو فیصد صحیح ہے۔۔۔۔آپ جاؤ۔۔۔۔حیدر نے روبینہ کی بات کا جواب دینے کے بعد ابیہا سے کہا مگر ابیہا کے کان روبینہ نام پر کھڑے ہوئے تھے چہرے پر ایک خوشی کا تاثر تھا جو لیے وہ ایک نظر روبینہ کو دیکھتی باہر چلی گئی اُسکے بعد اُسنے دو تین چکر اندر کے لگائے مگر اُسکے اندر داخل ہونے پر وہ دونوں اچانک خاموش ہو جاتے اور باہر دروازے سے کان لگا کر وہ سن نہی سکتی تھی کیوں کے وہ میڈ دروازے پر ہی کھڑی تھی آبی کو اس پر رج کے غصہ آ رہا تھا مگر برداشت کرتی رہی
کوئی ادھے گھنٹے بعد وہ دونوں باہر نکلے تو روبینہ تو اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گی جبکہ حیدر نے سیڑھیوں کا رخ کیا یعنی اُسکا کمرہ اوپر والے فلور پر تھا اس سب کو چھوڑ کر اُسے یہ بات جلد سے جلد سب تک پہنچانا تھی کے روبینہ اس وقت پاکستان میں ہے اور اُنکی کچھ باتیں جو اندر داخل ہوتے ہوئے اسکا کام مے پڑی تھیں اس سے یہ ظاہر ہو تھا تھا کے اکرم پاشا بھی اس وقت پاکستان میں ہی ہے شاید وہ تینوں اکھٹے ہی پاکستان ائے تھے۔۔۔۔
لیکن اس کام کے لیے اُسے صبح کا انتظار کرنا تھا
صبح چھ بجے ہی وہ پودوں کو پانی دینے کا کے کر پچھلے گارڈن میں چلی گئی اور سب سے پہلے اس گملے کو چیک کیا جس میں اس نے پہلی دفعہ چٹ رکھی تھی
وہاں کوئی چٹ موجود نہی تھی جس کا مطلب تھا کے حماس وہ نکال چکا ہے
اس نے اُسے جگہ دوسری چت رکھی اور سارے پودوں کو پانی دے کے گھر کے اندر چلی گئی
دوسری طرف وہ لوگ ابھی تک یہی سمجھ رہے تھے کے حیدر ملک سے باہر ہے اُنہیں اب کسی اور انفو کا انتظار تھا جو اُسے رات ختم ہوا جب ہائم حماس سے وہ چٹ لیا جو ابیہا نے رکھی تھی
جب تک حماس اُن کے گروپ میں شامل تھا ٹیب تک وہ لوگ اُسے اکیلے کہیں نہ جانے دیتے اسی لیے ہائم کو خود جانا پڑتا تھا
آج بھی چٹ ہائم۔ہی لیا تھا وہ گھر میں داخل ہوا تو حدید اُسکی طرف لپکا
چٹ ملی۔۔۔۔حدید نے پہلا سوال ہی اس سے یہ کیا
ہاں یہ رہی ۔۔ہائم نے اپنی جیب میں سے چٹ نکال کے حدید کو تھمائی
حدید نے صوفہ پر بیٹھ کر چٹ کھولی
اُسکے چٹ پڑھنے پر افہام نے۔اُسکی طرف دیکھا
کیا لکھا ہے۔۔۔جب وہ کچھ دیر تک کچھ نہ بولا تو حدید سے پوچھا
اکرم پاشا ،حیدر اور روبینہ تینوں پاکستان میں ہیں کل روبینہ حیدر کے گھر ائی تھی ابیہا نے اُسے دیکھا ہے۔۔۔۔حدید نے جتنا کچھ پڑھا تھا سب افہام۔کو بتایا
يحتو بہت اچھی بات ہے اب ہمیں اُسکے شہرِ سے نکلنے سے پہلے ہی اُسے پکڑنا ہوگا۔۔۔۔افہام کو یہ سن کر کافی خوشی ہوئی تھی وہ لوگ کامیابی کے قریب ترین تھے
مگر ہمارے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے کے اکرم۔پاشا نے ایسا کچھ کیا ہے۔۔۔۔ہائم نے احتجاج کیا
ہاں لیکن ابیہا ہے نہ وہ ثبوت اکھٹے کر تو رہی ہی انشاء اللّہ کوئی ایسا ثبوت بھی میل جائے گا جس سے یہ مچھلی جال میں پھنس جائے۔۔۔۔افہام نے کافی اُمید سے کہا جس کی وجہ سے باقی بھی پرسکون ہو گئے مگر دو لوگ تھے جو پر سکون نہی تھے ایک ہائم اور ایک جازم اُن دونوں کو ہی ابیہا کی کافی فکر ہو رہی تھی ابیہا کی فائٹنگ اسکلز پر بھروسہ اپنی جگہ مگر اُن دونوں کو اُسکی فکر کھائے جا رہی تھی باقیوں کو چٹ کا انتظار انفارمیشن کے لیے ہوتا تھا مگر وہ دونوں ایسے تھے جنہیں چٹ دیکھ کر تسلی ہو جاتی تھی کے وہ صحیح سلامت ہے
ایک دو بات جازم ابیہا کو واپس بلانے کی بات بھی کے چکا تھا مگر اس اور کوئی رضا مند نہ ہوا تھا جس کی وجہ سے اب وہ چپ کر گیا تھا ہائم بھی سب کی بات سے متفق تھا اُسے اب واپس بلانا سراسر حماقت تھی
ابیہا کو حیدر کافی امپورٹينس دے رہا تھا جو ابیہا کو راس نہ آ رہی تھی
کیا مصیبت ہے یہ انسان میرے پیچھے ہی پر گیا ہے جنگلی۔۔۔۔ابیہا اُسکے لیے اسٹابری شیک تیار کرتی کڑھ رہی تھی
حیدر جب سے آیا تھا اپنے سارے کام ابیہا سے ہی کروا رہا تھا اور اُسے گھر کی صفائی کرنے کے لیے بھی منہ کیا تھا برتن بھی اب وہ نہی دھوتی تھی پہلے تو ابیہا کو یہ بات اچھی لگی مگر جب حیدر اپنے ساری کام اُسکے زمے لگانے لگا تو اُسے اور کوفت ہونے لگی تھی
اسٹابری شیک تیار ہوا تو اُسے گلاس میں ڈال کر وہ حیدر کے کمرے کی طرف چل دی
دروازے پر جا کے ایک بار نوک کیا اجازت ملنے پر اندر داخل ہوئی
سر آپکا شیک۔۔۔۔ابیہا نے شیخ سائڈ ٹیبل پر رکھتے ہوئے کہا
رکھو۔۔۔۔اور میری بات سنو ادھر بیٹھ کے۔۔۔۔حیدر نے سامنے صوفہ کی طرف اشارہ کر کے کہا
خود وہ بیڈ پر بیٹھا تھا
جی سر۔۔۔ابیہا اور کر بھی کیا سکتی تھی ایسی لیے سر اثبات میں ہلاتی سامنے صوفہ پے جا ٹکی
تم سے ایک ۔۔۔ابھی حیدر نے بات شروع ہی کی تھی جب اُسکا فون بجا
ایک منٹ رکو۔۔۔۔وہ ابیہا کو ایک انگلی سے اشارہ کرتا فون اٹھانے لگا
ہاں بولو روبی۔۔۔۔ابیہا کافی دفعہ اُسکے منہ سے یہ نام سن چکی تھی وہ روبینہ کو ہی روبی کہتا تھا
ہاں میں رومیسہ کے ساتھ ہوں۔۔۔۔اُسنے ابیہا کے روبینہ کو بتایا تھا ابیہا نے ادھے سب کو اپنا نام رومیسہ بتایا تھا وہ اپنا اصل نام بتا کر کسی قسم کی مشکل مے نہی پڑنا چاہتی تھی
اچھا کب تک۔۔۔روبینہ نے۔اگر سے پتہ نہیں کیا کہا جو حیدر نے پوچھا
اچھا بوس بھی ساتھ ہیں۔۔۔۔اوکے مطلب ۹ بجے تک آ جاؤ گے نہ۔۔۔۔۔حیدر نے اس سے سوال کیا
اور ابیہا سمجھ گی کے اکرم پاشا اور روبینہ اُسکی طرف آ رہے تھے اور وہ ۹ بجے تک پہنچنے والے تھے
حیدر نے فون رکھا تو ابیہا کو کہنا تیار کرنے کا کے کر بھیج دیا
ابیہا فوراً سے پہلے نیچے ائی باہر گارڈ موجود تھا مگر اُسکے ساتھ کھڑا لڑکا جو اکثر گھر کی چیزیں لینے باہر جاتا تھا موجود نہ تھا ابیہا کو یہ موقع غنیمت لگا
وہ فوراً اندر کی طرف بھاگی اور فریج میں رکھے دودھ کے دعوے کھولے قسمت سے ڈبے بھی بس دو ہی بچے تھے
فوراً سے پہلے اس نے اُنہیں سنک میں اُلٹایا سارا دودھ بہ گیا تو ابیہا نے۔وہ خالی ڈبے دسٹ بین میں ڈالے اور باہر گئی شمائلہ لون میں تھی ابیہا نے اُسکے پاس جا کر اُسے آواز دی
ہاں ۔۔۔۔اُسنے اُسے مخصوص بدتمیزی سے جواب دیا
مجھے فون چاہیے۔۔۔ابیہا نے اپنی ڈیمانڈ بتائی تو وہ فوراً سیدھی ہو کے بیٹھی
کیوں چاہیے۔۔۔۔شمائلہ نے روکھے انداز میں پوچھا
سر نے۔کہا ہے کھانا بنانا ہے اُنکے کچھ مہمان آ رہے ہیں اور ہاں چائے بھی کرنی ہے تو دودھ نہی ہے وہی
منگوانا ہے مجھے۔۔۔۔ابیہا نے سارا کچھ تفصیل سے بتایا
رکو ذرا میں صاحب سے پوچھتی ہوں۔۔۔اُسنے حیدر کو فون کیا
صاحب اپنے رومیسہ کو کال کرنے کا کہا ہے۔۔۔۔شمائلہ نے سیدھا ہی پوچھ لیا
رومیسہ کو فون دو۔۔۔۔حیدر نے اسکی بات کا جواب دیے بغیر اپنی بات کہی
آپکو میں نے کب کہا ہے کال کرنے کو۔۔۔حیدر نے ابیہا کے بولنے پر اس سے پوچھا
سر اپنے کہا ہے کہ سب کچھ تیار ہو چھوٹو باہر گیا ہے اس سے دودھ منگوانا ہے۔۔۔۔ابیہا نے اُسکی اپنے ساتھ ہمدردی کا فائدہ اٹھایا
اچھا کر لو اور شمائلہ کو اوپر بھیجو۔۔۔حیدر نے کہتے ساتھ کال کاٹ دی
تو ابیہا نے شمائلہ کو اوپر بھیجا اور خود لون کے کونے میں آگئی
اس نے احتیاط سے ادھر اُدھر دیکھتے ہائم کا نمبر ڈائل کیا بیلز ہو رہی تھیں مگر ہائم فون ہی نہی اٹھا رہا تھا ابیہا نے دوسری دفعہ ٹرائی کیا تو آخری بیل پر کال اٹھا لی گئی
جی کون۔۔۔ہائم نے اٹھاتے ساتھ پوچھا
بھئیا میں ہوں بات سنیں جلدی۔۔۔ابیہا نے ہائم کی آواز پہچان کے کہا
گڑیا آپ آپ کہاں سے کال کر رہی ہو۔۔۔۔ہائم تو ابیہا کی آواز سن کر بے قرار ہوا تھا اُسکے ساتھ ہی جازم بھی بیٹھا تھا جو اُسکے گڑیا بولنے پر یہ سمجھ گیا تھا کے دوسری طرف ابیہا ہے۔۔۔
بھائی یہ بعد میں بتاؤں گی ابھی یہ سنیں کے ۹ بجے یہاں پر اکرم پاشا، روبینہ آ رہے ہیں حیدر سے ملنے اور ہاں کل گھر میں ایک لڑکی کو زبردستی لایا گیا ہے اُسے اکرام پاشا کے حوالے کرنا ہے اسی لیے شاید وہ آ رہا ہے آپ لوگ جلدی آ جائیں اور ہاں نہی بھائی شمائلہ آ گئی ہے میں رکھ رہی ہوں۔۔۔اور اس کے بعد کال ڈسکونیکت ہو گئی
آبی آبی۔۔۔ہائم چیختا رہا مگر اب کال بند ہو چکی تھی
ابیہا نے فوراً سے پہلے کال ہسٹری رومیو کی اور چھوٹو کو کال ملائی اور اُسے دودھ کا کے کر فون شمائلہ کی طرف بڑھایا جو ابھی ابھی اُسکے سر پر آ کے کھڑی ہوئی تھی
۹ بج چکے تھے اکرم پاشا اور روبینہ بھی آ چکے تھے ابیہا تو اکرم پاشا کو دیکھ بھی نہ پائی تھی اندر جانے کی شمائلہ کے علاوہ کسی کو اجازت نہ تھی
ابیہا ابھی تک اُنکا انتظار کے رہی تھی جن کو ابھی تک پہنچ جانا چاہیے تھا ابھی وہ یہی سوچ رہی تھی کے اُسے باہر حل چل محسوس ہوئی جیسے کوئی گاڑی آ کر رکی ہو
ہائم اُسکے فون بند ہونے کے فوراً بعد افہام کو اطلاع دے چکا تھا اور اگلے پانچ منٹ میں ہائم،افہام،سعد،حدید،جازم اپنے ساتھ دو آفیسر لیے وہاں کے لیے نکل چکے تھے
وہاں۔پہُںچ کر اُنہوں نے گاڑی روکی تو جازم اور ہائم سب سے پہلے اُترے وہ دونوں گیٹ کی طرف بڑھے ہائم گارڈ کی طرف گیا اور اُسے مخاطب کیا ابھی وہ گارڈ سے بات ہی کر رہا تھا جب جازم نے پیچھے سے اُسکے سر میں روڈ مارا اور وہ پیٹھ کے بل گر گیا چھوٹو اُسکی دیکھتا باہر آیا تو جازم نے اُسے اٹھا کر گاڑی میں ڈالا
چھوٹو تھا تو چھوٹو مگر شاید طاقت اسمے زیادہ تھی ایک پولیس آفیسر اُسے سنبھال رہا تھا افہام اور باقی سب اندر جا چیک تھے ابھی وہ لوگ لون کے بعد انے والے دروازے پے ہی پہنچے تھے کے اندر سے کسی نے دروازہ کھولا ایک پل کے لیے تو وہ سارے پوزیشن میں ائے ٹھہر پھر سامنے ابیہا کو کھڑے دیکھ ہائم اُسکی طرف بڑھا اور اُسے اپنے سینے سے لایا وہ کام سے کم ہفتے بعد اپنی بہن کو دیکھ رہا تھا اُسے صحیح سلامت دیکھ کر جازم نے بھی اپنے اندر سکون اُترتا ہوا محسوس کیا تھا
ابھی وہ لوگ اندر ہی جا رہے تھے ابیہا انکو کمرے کا بتا چکی تھی اس وقت تو شمائلہ بھی کچن میں تھی کے اچانک پولیس موبائل کا سائرن بج اٹھا اُسکی وجہ سے ایک شور سا شروع ہو گیا ابیہا فوراً اندر کی طرف گئی سائرن کی آواز اندر بیٹھے لوگ بھی سن چکے تھے حیدر نے فوراً اکرم پاشا اور روبینہ کو پیچھے سے نکلنے کو کہا اور خود بھی اس طرف بڑھا مگر پھر کچھ سوچ کر باہر آیا باہر ہر طرف افرا تفری مچی ہوئی تھی اُسکے ملازم اِدھر ادھر گھوم رہے تھے وہ فوراً اندر کی طرف بھاگا گاڑی میں بیٹھے آفیسر سے چھوٹو قابو ہی نہی ہو رہا تھا اور اسی ہاتھا پائی میں سائرن بج گیا تھا جس کہ اندر والوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا تھا
اگلے پندرہ منٹ میں وہ لوگ حیدر اور اسکے تمام ملازمین کو پکڑ چکے تھے
اکرم پاشا اور روبینہ تو ویسے ہی بھاگ چکے تھے سب کو پکڑنے کے بعد افہام کو اپنے بندوں کا خیال آیا تو سعد،جازم،ہائم،حدید اور اُنکا ایک آفیسر اُنکے ساتھ تھا مگر ابیہا کہیں نہی تھی
ہائم اور جازم فوراً اُسکی ڈھونڈنے بھاگے تھے اور سعد باہر کی طرف گیا مگر باہر کا منظر دیکھ ایک سیکنڈ کے لیے اُسے شوک لگا تھا اُنکا آفیسر اور چھوٹو دونوں خون نے لت پٹ تھے چھوٹو گاڑی کے اندر جبکہ آفیسر زمین اور گرا ہوا تھا
دونوں کو سینے میں گولی ماری گئی تھی سعد اُنکی طرف بھاگا اور اُنکی نبض چیک کی مگر دونوں ہی اپنی جان کھو چکے تھے وہ مایوس اندر آیا تو اندر سے ملنے والی خبر اور بھی خطرناک تھی ابیہا کو وہ لوگ پورے گھر مے ڈھونڈ چکے تھے مگر وہ اُنہیں کہیں نہ ملی تھی۔۔۔۔جازم نے اس راستے پر روبینہ اور اکرم پاشا کا بہت دیر پیچھا کیا تھا مگر وہ دونوں ہی بھاگ نکلے تھے اور اب ابیہا کا نہ ملنا
وہ لوگ ابیہا کو اپنے ساتھ لے گئے ہیں شاید اُنہیں اس پر اب شک ہو گیا تھا۔۔۔۔۔۔افہام نے اپنے تجربے کے مطابق بتایا
کیا مطلب۔۔۔۔۔ہائم اچانک چیخا وہ تو ایسا سوچ بھی نہی سکتا تھا کے ابیہا کو کچھ ہو
ہاں ایسا ہی ہے۔۔۔۔۔افہام نے اپنی ہی بات کی تصدیق کی
تو اب۔۔۔حدید نے افہام سے پوچھا ہائم میں تو ہمت ہی نہی رہ گی تھی کچھ بھی پوچھنے کی
جازم اُسکی سمجھ میں تو کچھ نہ آ رہا تھا اُسکا دماغ ماؤف ہو گیا تھا اب اتنے لوگوں کے بعد ابیہا کو کھونا وہ برداشت نہی کر سکتا تھا۔۔۔۔۔
اب ہمیں اُسے ڈھونڈنا ہے کسی بھی طرح ہم اپنا ایک اور ٹیم ممبر لوز نہی کر سکتے نہی کر سکتے۔۔۔۔افہام کا لہجہ پُر عزم تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

