Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

The Night Stalkers by Bisma khan Episode21

The Night Stalkers by Bisma khan Episode21

اور پھر اگلے دو دن میں وہی ہوا جس کا ہائم کو ڈر تھا
صبح ہی اُسکی مما نے اُسے بتایا تھا کے احمر کے لیے اُسکی خالہ نے آبی کا ہاتھ مانگا ہے اور اب اُسے یہ ذمے داری دی گئی تھی کے وہ آبی سے پوچھے کے وہ اس رشتے پر راضی ہے یا نہی
ابیہا میڈم تو ایسے ہی ایک دن سے گھر پر نہی تھی وہ حدید کی بیماری کا بہانہ بنا کر گھر سے فرار ہوئے تھی اُسے اپنے ان بورنگ کزنز کے ساتھ ٹائم گزارنے میں کوئی دلچسپی نہیں تھی
اس وقت وہ سب ٹی وی لاؤنچ میں بیٹھے تھے جب ہائم نے اچانک ابیہا کو مخاطب کیا
سب ہی اُسکی طرف متوجہ ہوئے تھے
یار تم سے ایک بات کرنی ہے۔۔۔ہائم نے سنبھل کے بات شروع کی
کیا؟ابیہا کے تو اچھوں کو بھی علم نہیں تھا کے ہائم کیا کہنے والا ہے اسی لیے اس نے بڑے تحمل سے پوچھا تھا
وہ مما نے کہا تھا تم سے پوچھ لوں۔۔۔۔ہائم بات کرنے کے لیے الفاظ تلاش رہا تھا
ہاں تو کریں نہ!ابیہا کو سمجھ نہیں آئی کے وہ اتنا ہچکچا کیوں رہا ہے
وہ نہ خالہ نے نہ مما سے کہا ہے کے اُنہیں احمر کے لیے تمہارا ہاتھ چاہیے مطلب اپنے بیٹے کے لیے تمہارا رشتا مانگا ہے۔۔۔۔ہائم نے اب ارام سے ساری بات بتائی
اچھا!ابیہا کا ریکشن تو ایسا تھا جیسے اُسے پہلے سے اس بات کا علم ہو
باقی سب تو کافی حیران ہوئے تھے سب سے بڑھ کر جازم اُسکے تو یہ خبر سن کر چودا طبق روشن ہو گئے
تمہیں پتہ تھا۔۔۔ہائم نے حیرت سے پوچھا وہ تو کوئی خاصا نیگیٹیو ریکشن سوچ کر بیٹھا تھا مگر ادھر تو کوئی اثر ہی نہ ہوا تھا
نہی مجھے کیا وحی نازل ہونی تھی۔۔۔ابیہا بگڑی تھی
تو تمہیں سن کر حیرانی نہی ہوئی۔۔۔۔ہائم ابھی بھی شاک میں تھا
یار آپ مجھ سے پوچھ رہے ہیں نہ کے رشتا قبول ہے یا نہیں ہینا تو میں نے کیا کہنا ہے مرضی آپ لوگوں کی ہے مما جو مرضی کریں میری بلا سے اس میں اتنا پریشان ہونے والی کیا بات ہے گایز۔۔۔۔ابیہا نے ان سب کی ہونق شکلیں دیکھ کر کہا
اور اُسکی اس بات پر جھٹکا تو جازم کو لگا وہ جو تصوّر کر رہا تھا کے آبی انکار کرے گی اُسکے حامی بھرنے پر اُسکے ایک سو اسی واٹ کا جھٹکا لگا تھا
مطلب میں مما کو کہوں کے آبی مان گئی ہے۔۔۔ہائم نے ایک بار پھر تصدیق کی
ہاں کہہ دیجئے گا۔۔۔ابیہا نے خاصی لاپرواہی سے کہا جو دیکھ کر جازم کا خون خول اٹھا تھا
یار آبی حد ہے تم اس امریکن بندر سے شادی کرو گی ہاں۔۔۔۔ہائم نے اس کے اعتراف کی خلاف ورزی کی
بھائی خود کہتے ہیں مجھے کے تمیز کیا کرو اب آپکی تمیز اللہ کو پیاری ہو گئی ہے کیا۔۔۔۔ابیہا نے اُسے آنکھیں نکالی اس بات پر نہیں کے اُسنے احمر کو امریکن بندر کہا تھا بلکہ اس بات پر کے اُسے کیوں کہنے سے منع کیا تھا کیوں کہ یہ لقب ابیہا نے ہے اُسے دیا تھا جس پر ہائم نے اُسے ڈپٹا تھا اور اب خود وہ الفاظ استعمال کر رہا تھا
ہائم میرے ساتھ باہر آ یار ۔۔۔۔جازم نے ہائم سے کہا اور خود ٹیرس میں چلا گیا
ہائم بھی تشویش کے علم میں اُسکے پیچھے آیا تھا
کیا ہوا؟ہائم نے اُسکے سامنے والی کرسی پر بیٹھتے ہوئے پوچھا
یار مجھے ایک بات کرنی ہے تجھ سے۔۔۔۔جازم نے آرام سے بات شروع کی
ہاں ہاں بول سن رہا ہوں میں۔۔ہائم نے اُسے بولنے کا اشارہ کیا
تم ابیہا کا رشتا اُدھر نہ کرو۔۔۔جازم سیدھی اور صاف بات کرنے کا عادی تھا اسی لیے اُسنے یہ بات بھی صاف صاف کی تھی بغیر کچھ خاص الفاظ کے چناؤ کے
کیوں؟ہائم کو اُسکا اچانک منع کرنا سمجھ نہ آیا
کیوں کے احمر سے میں نے شادی کرنی ہے۔۔۔جازم نے بگڑتے ہوئے کہا ہائم زیادہ ہی بچہ بن رہا تھا
ہیں!ہائم نے حیرت سے اُسکی طرف دیکھا
یار ڈفر ظاہر سی بات ہے میں نے مما سے بات کر لی ہے وہ ابیہا اور میرے لیے تمہارے پیرنٹس سے بات کر لیں گی اسی لیے تم اپنے خالہ والے رشتے سے انکار کر دو۔۔۔جازم تو ایسے کہہ رہا تھا جیسے ہائم یہاں اُسکی ماننے بیٹھا ہو
اور اگر مجھے تیرے رشتے میں کوئی خامی نظر ائے تو۔۔۔۔ہائم نے اُسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھا
کیا کمی ذرا وضاحت کرنا پسند کریں گے آپ اپنی بات کی۔۔۔جازم اب سیدھا ہو کر بیٹھا تھا
اُو ہیلو اگر رشتا ہو جاتا ہے تو اس حساب سے میں تمہارا سالہ لگا کچھ عزت کرو میری۔۔۔ہائم نے تو جیسے رشتا پکا کر دیا تھا
اچھا یار سیریس بات کروں تو میں ابیہا سے پوچھے بغیر تمہیں کوئی جواب نہی دینا چاہتا۔۔۔۔ہائم اب سیریس ہوا تھا آخر بہن کا معاملہ تھا
ہاں پوچھ لو۔۔۔جازم کو تو جیسے یقین تھا کے وہ انکار نہی کرے گی
اور ہاں ویسے بھی جس پیشے میں وہ ہے بہتر ہے اُسی پیشے کے انسان سے شادی ہو جائے کم سے کم اسے کام تو نہی نہ چھپانے پڑے گے۔۔۔۔۔جازم نے ایک اور اہم پہلو اٹھایا ہائم بھی اُسکی بات سے متفق تھا اسکو بھروسہ بھی تھا جازم پر مگر پھر بھی وہ آبی کی مرضی کے بغیر کچھ نہی کرنا چاہتا تھا
آخر لائف اُسے گزارنی تھی ہائم کو نہی اگر اُسکی بہن اُسکے لیے اپنی دوست کو چیٹ کر سکتی تھی تو وہ بھی اپنی بہن کے لیے اپنے دوست کو انکار کر سکتا تھا
ان کچھ دنوں میں افہام اور سعد نے مل کر فہد کو بھی پکڑنے کا پلان بنا لیا تھا اُسکے مال کا پتہ لگا کر اُسے اُس جگہ پکڑا جانا تھا اور پھر بعد کی بعد میں دیکھی جانی تھی
اور ایسا ہی ہوا افہام نے اسے اپنی ٹیم کے ساتھ اُسکی شپمنٹ کے دوران پکڑا تھا اور اب وہ جیل میں تھا اُسے زندہ چھوڑنا خطرے سے خالی نہ تھا حیدر کبھی بھی اُسکی ضمانت کروا سکتا تھا اسی لیے اُسے جیل میں ہی زہر دے دیا گیا اور خبر یہ پھیلائی گئی کے اُسنے زہر کھا کر خود کش کر لی ہے۔۔۔
میڈیا کے ذریعے یہ بات بہت جلدی پھیلی اور اتنی ہی جلدی اس بات کا یقین بھی کر لیا گیا
ڈر اُن کو حیدر کا تھا کے اُسے شک نہیں ہو جائے مگر حیدر کا خیال تھا کہ فہد نے اس لیے زہر کھایا کیوں کے وہ انفارمیشن نہی دینا چاہتا تھا اور اُسکے مطابق وہ وفا داری کی موت مرا تھا۔۔۔۔حیدر کا یہ خیال جان کر وہ لوگ مطمئن ہو چکے تھے اب بچے تھی حیدر،روبینہ اور اے پی اکرم پاشا جن میں سے وہ صرف حیدر کو جانتے تھے اور اب اُسکو بھی ٹریس نہی کر پا رہے تھے کیوں کے وہ شاید جان گیا تھا اسی لیے ٹریکر ہٹا دیے گئے تھے
اب اُنہیں حیدر کا خود سے پیچھا کرنا تھا وہ بھی بہت احتیاط سے کیوں کہ اسے شک تو ہو ہی چکا تھا کے کوئی اُسکے پیچھے ہے
اسی لیے اب خاصی احتیاط برتنے کی ضرورت تھی اس کام کے لیے حماس اور سعد کو منتخب کیا گیا تھا کیوں کہ حدید اور ہائم دونوں کو شاید وہ لوگ پہچان جاتے مگر سعد اور حماس کو نہی پہچان سکتے تھے
ہائم جب گھر گیا تو اس نے سب سے پہلا کام جازم کا کیا احمر کے رشتے سے انکار وجہ اُسنے یہ بتائی کہ وہ نہی چاہتا اُسکی بہن شادی کے بعد دوسرے ملک جا کر رہے اُسکی شادی پاکستان میں ہی کرنی ہے۔۔اُسکی بات پر مما بھی چپ ہو گئی تھیں
ابیہا کے کانوں میں جب یہ بات پڑی تو وہ فوراً ہائم کے کمرے کی طرف ائی نوک کرنے کی زحمت تو وہ کبھی کرتی نہی تھی اسی لیے اج بھی دروازہ مار کر اندر گھسی
ہاں جی مل گئی خبر۔۔۔ہائم جانتا تھا وہ ضرور ائے گی
جی مل گی وجہ جان سکتی ہوں ویسے میں انکار کی میں نے تو نہی کیا تھا۔۔۔ابیہا نے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے پوچھا
ہاں جان سکتی ہو اگر آرام سے سن لو ۔۔۔۔ہائم نے بھی شرط رکھی جس پر وہ سیکنڈ سے پہلے مان گئی
اچھا تو جناب سیدھی سے بات ہے جازم نے کہا کہ اس رشتے سے انکار کر دو کیوں کے وہ تم سے شادی کرنا چاہتا ہے اور اپنی امی کو بھیجے گا اور ذاتی طور پر مجھے بھی یہ بات اچھی لگی کیوں کے وہ قابل بھروسہ شخص ہے اور پاکستان میں کیا لاہور میں رہتا ہے باقی فیملی بیک گراؤنڈ اچھا ہے باقی آپکی مرضی ڈول آپ جو کہیں گی وہی ہو گا۔۔۔ہائم نے آرام سے اُسے ساری بات بتائی اور وعدے کے مطابق اس نے خاموشی سے سنی بھی ہائم شروع سے ہی اس سے کافی باتیں کر لیتا تھا وہ دونوں شروع سے ہی دوستوں کی طرح رہے تھے
ہائم کی مما کا کہنا تھا کہ ابیہا کو بگاڑنے میں سب سے بڑا ہاتھ اُسکا ہے اور اس الزام کو وہ دل و جان سے قبول بھی کرتا تھا
کیا کہتی ہو پھر آپ۔۔۔ہائم نے اُسے خاموش دیکھ کر پوچھا
میں نے کیا کہنا ہے لیکن وہ بندہ ہٹلر ہے قسم سے اتنا روڈ اپنے آپ کو کسی ریاست کا بادشاہ سمجھتا ہے اور تو اور مجھے اس قدر تنگ کرتا ہے کے کیا بتاؤں مگر پھر بھی اگر آپکو میرے حوالے سے اس پر بھروسہ ہے تو مرضی ہے آپکی مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔۔۔۔ابیہا اس معاملے میں کافی لاپرواہ تھی
مطلب آپ کی طرف سے ہاں سمجھوں۔۔۔ہائم نے ایک آخری بار پوچھا
ہاں اب چلیں کچھ کھانے چلتے ہیں مما نے کڑی بنائی ہے مجھے نہی کھانی۔۔۔۔ابیہا اب اپنی مطلب کی بات پر ائی
تمہاری تان یہی پر آ کر ٹوٹتی ہے۔۔۔ہائم نے اُسے آنکھیں دکھائیں
اچھا نہ اٹھ بھی جائیں اب ویسے بھی وہ امریکن بندر کہہ رہا تھا کے ابیہا آپ نے ابھی تک مجھے اپنا لاہور نہی گھمایا نوٹ فیئر اُسکو بھی ساتھ لیے چلتے ہیں۔۔۔۔۔ابیہا نے احمر کی صبح کہی جانے والی بات کی نقل اتاری تو ہائم اسکے سر پر چت لگاتا اٹھ گیا
جاتے وقت وہ احمر اور حیا کو بھی ساتھ لے گئے حالانکہ ہائم حیا کو لیے جانے کے سخت خلاف تھا مگر پھر ابیہا کے اصرار پر مان گیا
وہ لوگ پہلے ایک ریسٹورانٹ میں گئے اور پھر ائس کریم پارلر واپسی پر اُنکا شوپنگ کا
پروگرام بنا تو ہائم کچھ دیر کی بحث کے بعد مان گیا
شوپنگ کے دوران ابیہا اور حیا کو پھر سے بھوک کا دورہ پڑا تو وہ لوگ فوڈ کواٹر کی طرف چل پڑے وہاں پہُںچ کر ایک ٹیبل منتخب کر کے وہ چاروں اُدھر بیٹھ گئے جب ہائم کو پیچھے سے کسی نے آواز دی
ہائم نے مڑ کر دیکھا تو جازم کھڑا مسکرا رہا تھا وہ یقیناً ان لوگوں کو دیکھ کر ہی اس طرف آیا تھا۔۔۔۔۔
اوہ تم یہاں کیسے؟ہائم نے کھڑے ہوتے اس سے پوچھا مگر اُسکو احمر کی طرف دیکھتے پا کر اُسے اندازہ ہوا کے تعارف کروا دینا چاہیے
احمر یہ میرا بہت اچھا دوست جازم،جازم یہ میری امریکہ والی خالہ کا بیٹا احمر۔۔۔۔ہائم نے دونوں کا طرف کروایا احمر نے تو خوش دلی سے ہاتھ ملایا مگر جازم کا اُسکو دیکھ پارا ہائی ہو گیا تھا وہ جان گیا تھا یہ وہی خالہ ہیں جنہوں نے ابیہا کا رشتا مانگا تھا اور غالباً ہائم نے بھی امریکہ والی خالہ لفظ اُسے یہی باور کروانے کے کیے ساتھ جوڑا تھا
آپ بیٹھیں ہمیں جوائن کریں ۔۔احمر ساتھ والی کرسی پر ہو کے بیٹھا اور جازم کو جگہ دی تو وہ بھی بیٹھ گیا
جازم نے باتوں ہی باتوں میں ہائم سے پوچھا کے اس نے ابیہا سے اس بات کا ذکر کیا یا نہی جس پر ہائم نے حامی بھری مگر یہ نہیں بتایا کے وہ مان گئی ہے
مگر ابیہا کے انداز سے کہیں بھی یہ نہی لگ رہا تھا کے وہ سب جانتی ہے وہ حیا سے باتیں کرنے اور کھانے میں مصروف تھی اور بیچ میں ایک دو بار جازم کو مخاطب بھی کر چکی تھی جیسے عموماً کرتی تھی یہ بات جازم کے لیے کافی حیران کن تھی وہ تو سمجھا تھا کے یہ چھوٹی سی لڑکی کافی شور مچائے گی مگر یہاں تو ایسے کوئی امکان نظر نہ آ رہے تھے جو بھی تھا ایک لحاظ سے اچھا ہی تھا اب اُسے جلد سے جلد اپنے امی ابو کو بلانا تھا تاکہ وہ ابیہا کے لیے بات کر سکیں مگر اسے کیا پتہ تھا کے یہ چھوٹا پیکٹ کتنا بڑا دھماکہ کرنے والا تھا
جاری ہے۔۔۔۔😍😍

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *