The Night Stalkers by Bisma khan NovelR50797 The Night Stalkers by Bisma khan Episode26
No Download Link
595.5K
32
Rate this Novel
The Night Stalkers by Bisma khan Episode01 The Night Stalkers by Bisma khan Episode02 The Night Stalkers by Bisma khan Episode03 The Night Stalkers by Bisma khan Episode04 The Night Stalkers by Bisma khan Episode05 The Night Stalkers by Bisma khan Episode06 The Night Stalkers by Bisma khan Episode07 The Night Stalkers by Bisma khan Episode08 The Night Stalkers by Bisma khan Episode09 The Night Stalkers by Bisma khan Episode10 The Night Stalkers by Bisma khan Episode11 The Night Stalkers by Bisma khan Episode12 The Night Stalkers by Bisma khan Episode13 The Night Stalkers by Bisma khan Episode14 The Night Stalkers by Bisma khan Episode15 The Night Stalkers by Bisma khan Episode16 The Night Stalkers by Bisma khan Episode17 The Night Stalkers by Bisma khan Episode18 The Night Stalkers by Bisma khan Episode19 The Night Stalkers by Bisma khan Episode20 The Night Stalkers by Bisma khan Episode21 The Night Stalkers by Bisma khan Episode22 The Night Stalkers by Bisma khan Episode23 The Night Stalkers by Bisma khan Episode24 The Night Stalkers by Bisma khan Episode25 The Night Stalkers by Bisma khan Episode26 (Watching)The Night Stalkers by Bisma khan Episode27 The Night Stalkers by Bisma khan Episode28 The Night Stalkers by Bisma khan Episode29 The Night Stalkers by Bisma khan Episode30 The Night Stalkers by Bisma khan Episode31 The Night Stalkers by Bisma khan Last Episode
The Night Stalkers by Bisma khan Episode26
The Night Stalkers by Bisma khan Episode26
ہاں ہیلو جازم کیا بنا۔۔۔۔ہائم جو ابھی ابھی ہاسپٹل کے کوریڈور میں ائی تھا اُسنے جازم کو کال ملائی
اُسکی چھوڑو آبی کیسی ہے۔۔۔جازم نے اُسکی بات کا جواب دینے کے باہر اپنا سوال کیا
ابھی ابھی ڈاکٹر سے بات ہوئی ہے وہ خطرے سے باہر ہے ایک دو گھنٹے میں ہوش آ جائے گا انفا اور جنت دونوں اُسکے پاس ہیں حدید نے خود چیک کیا ہے اسے تم فکر نہ کرو اب بتاؤ وہاں کیا حالات ہیں۔۔۔۔ہائم نے اُسے ساری بات تفصیل سے بتائی اور اپنا سوال دہرایا
ہاں سب پکڑے گئے ہیں بس روبینہ بھاگ گئی ہے کافی دیر اُسکا پیچھا کیا مگر ہاتھ سے نکل گئی میں بس آ رہا ہوں راستے میں ہی ہوں اُن لوگوں کو حماس اور افہام پولیس اسٹیشن لے گئے ہیں۔۔۔جازم نے اُسے وہاں کی صورت حال سے آگاہ کیا
ہاں چلو میں رکھتا ہوں سعد بھی اکیلا کھڑا ہے میں اُسکے پاس جاتا ہوں۔۔۔ہائم نے فون رکھا اور سعد کے ساتھ جا کر کھڑا ہو گیا جو کافی اُداس سا دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے کھڑا تھا
کیا ہوا یار آبی صحیح ہے بلکل۔۔۔۔ہائم نے اُسکے کندھے پر ہاتھ سے دباؤ ڈالا
ہمم آبی تو صحیح ہے مگر میں سوچ رہا تھا کے ارحان,حوریہ،اعضاء سب میری وجہ سے مارے گئے اگر میں آپ لوگوں کے پاس اپنے بابا کا کیس لے کر نہ اتا تو ان سب میں سے کچھ نہی ہوتا سب میری غلطی ہے۔۔۔نجانے کیوں وہ سارا الزام اپنے اوپر لے رہا تھا
سعد کیسی باتیں کر رہے ہو یار ایسا کچھ نہیں ہے جو لکھا ہوتا ہے وہ ہونا بھی ہوتا ہے تمہاری کوئی غلطی نہی ہے یار ایزی رہو۔۔۔۔۔ہائم نے اُسے سینے سے لگایا وہ اُسکے چھوٹے بھائیوں کی طرح تھا
بھائی مجھے ایسا ہی لگتا ہے۔۔۔۔۔یہ بولتے نجانے کتنے آنسو تھے جو سعد کی آنکھوں سے گرے
ہائم نے اپنی پکڑ مضبوط کی پہلی بار سعد اُسکے سامنے رویا تھا اور ہائم اپنے چھوٹے بھائی کی ایسے ٹوٹتے بکھرتے نہی دیکھنا چاہتا تھا
سعد بات سنو ہم اُنکا بدلہ لیں گے اُن لوگوں سے کسی کو نہی چھوڑیں گے یہ ہم نے وعدہ کیا ہے نہ ایک دوسرے سے پھر اب کیوں تو ہمت ہاے رہا ہے بتا ایسے نہی رونا چل ان آنسوؤں کو صاف کر یہ آنسو انکو بہانے ہیں جنہوں نے یہ سب کیا ہے۔۔۔۔۔ہائم نے اُسے سیدھا کھڑا کیا
اس سے پہلے سعد کچھ کہتا پیچھے سے اُسکے سر پر کسی نے چت لگائی
یہ کیا ہیر رانجھا کی طرح آنسو بہا رہے ہو دونوں۔۔۔انے والی شخصیت حدید تھا
چُپ کر تو۔۔۔ہائم نے بھی بدلے میں اُسکے پیٹ میں مکہ مارا
ابھی وہ لوگ تھوڑا اور لڑتے انفا بھاگتی ہوئی ائی اور اُنکے سامنے آ کر رکی
تمہارے پیچھے کونسے چور پر ہوئے ہیں جو اس طرح بھاگ رہی ہو۔۔۔حدید نے اُسکے تیز بھاگنے پر چوٹ کی جس کا انفا پر رتی برابر بھی اثر نہ ہوا
چُپ کرو آبی کو ہوش آ گیا ہے۔۔۔۔انفا نے خوش ہو کر بتایا تو وہ تینوں بھی اُسکے ساتھ ہی چل پڑے
کمرے میں انٹر ہوتے ہی ہائم کی نظر آبی پر پڑی جو بیڈ کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھی جنت کی کسی بات پر مسکرا رہی تھی اُسکی مسکراہٹ دیکھ کر ہائم کی جان میں جان ائی آبی کو ہاسپٹل لاتے وقت نجانے کتنے خیال تھے جنہوں نے اُسے خوف زدہ کیا تھا مگر اب اُسے ایسے مسکراتے دیکھ ہائم کو تسلی ہوئی تھی
ہائم اُسکے پاس گیا تو اُسنے مُسکرا کر ہائم کو دیکھا
ڈر گئے تھے۔۔۔پھر شرارت سے پوچھا گیا
ڈرا دیا تھا تم نے بیوقوف لڑکی۔۔۔۔۔ہائم نے اُسکے بازو پر چٹکی کاٹی
توبہ ہے بہن بستر پر پڑی ہے اور آپ مارنے سے بھی پرہیز نہی کر رہے۔۔۔۔۔ابیہا نے منہ بگاڑ کر بولا تو ساتھ کھڑے حدید اور سعد ہنس دیے
حقیقتاً وہ سب ہی اس واقعے سے کافی خوف زدہ ہوئے تھے
چلیں میرے صحیح ہونے کی خوشی میں پیزا کھلائیں حدید بھائی۔۔۔۔۔آبی نے حدید سے
فرمائش کی
جی نہی ابھی نہی کھا سکتی تم فاسٹ فوڈ ایک ہفتے تک تو بلکل بھی نہی۔۔۔۔حدید نے بھی اسی کے انداز میں جواب دیا
یہ کیا بات ہوئی۔۔۔۔۔ابیہ کو تو جیسے صدمہ لگا تھا یہ سن کے
یہ وہی بات ہوئی جو میرے ساتھ گئی تھی جبکہ مجھے تو صرف ٹانگ پر گولی لگی تھی آپکا تو پھر الیکٹرک شوک والا مسئلہ ہے۔۔۔۔حدید نے ایسے شو کروایا جیسے وہ آبی سے بدلہ لے رہا ہو
ابھی وہ لوگ باتیں ہی کر رہے تھے جب ایک جھٹکے سے دروازہ کُھلا اور جازم اندر داخل ہوا ابیہا کو ایسے ہنستے مسکراتے دیکھ اُسکے چہرے پر اطمینان آیا تھا جو ابیہا نے تو نہی البتہ ہائم نے صاف محسوس کیا تھا
وہ چلتا ہوا سعد کے ساتھ کھڑا ہو گیا
کیسی ہو ابیہا۔۔۔۔جازم نے پر تکلف انداز میں پوچھا
میں ٹھیک ہوں آپ سب ایسے کیوں بہیو کر رہے ہیں جیسے میں کسی محاذ پر گئی تھی اور آپ لوگوں کی اُمید کے بر عکس زندہ واپس آ گئی ہوں۔۔۔۔۔ابیہا اس بات کا جواب دے دے کر تھک گئی تھی اسی لیے بولی جو بھی آ رہا تھا اس سے یہی پوچھ رہا تھا کیسے ہو درد تو نہی ہو رہا
آبی فضول مت بولو۔۔۔ہائم نے اُسے ڈپٹآ
Sorry but seriously you all are acting strangely 

ابیہا میں منہ ٹیڑھا کر کہ کہا
اچھا اسکو چھوڑو یار یہ بتاؤ گھر کب لے کر جانا ہے اس پٹاخہ کو۔۔۔۔حدید نے اُن سب کا دھیان دوسری طرف لگایا
ڈاکٹر تو ہے یا ہم۔۔۔ہائم نے الٹا اُسے ہی بولا
اوہو میرا مطلب ہے کے ہم لے کر جا سکتے ہیں کب لے کر جانا ہے۔۔۔۔حدید میں اُسے آپی بات صحیح طرح سمجھائی
ابھی چلتے ہے ۔۔۔کسی سے بھی پہلے خود ابیہا ہی بولی
رات تک وہ سب افہام کے گھر پر تھے سب کا رات کا ٹھکانہ بھی وہی تھا یہ سب ابیہا کے اسرار پر ہوا تھا
جنت کچن میں کھڑی ابیہا کے لیے سوپ ریڈی کر رہی تھی انفا بھی اُسکے ساتھ ہی کھڑی باتیں کر رہی تھی جبکہ ابیہا باقی سب کے ساتھ لوڈو کھیلنے مے مصروف تھی جو اُسے کھیلنی نہی اتی تھی بہتر طریقے سے کہا جائے تو اُنکے کھیل کے درمیان خلل ڈال رہی تھی وہ بھی پورے ذوق و شوق سے
جا ہائم پانی لا۔۔۔۔حدید نے اپنی باری لینے کے بعد کہا
کیا بدتمیزی ہے یہ۔۔۔۔ہائم جو ارام سے بیٹھا تھا اسے حدید کے اُسے آرڈر دینے پر بولا
چل نہ لے آ جا کر۔۔۔۔حدید نے پھر کہا تو وہ اپنا فون سائڈ پر رکھتا کچن میں چلا گیا
سامنے ہی انفا اور جنت کسی بات پر بحث کر رہی تھیں
کیوں جنگلی بلیوں کی طرح لڑ رہی ہو دونوں۔۔۔اُسنے فریج سے پانی کی بوتل نکالتے ہوئے پوچھا
ہمم کچھ نہی میں اتی ہوں آبی کو سوپ دے کر
جنت نے سوپ کا باؤل اٹھایا اور واک آؤٹ کر گئی اب کچن میں بس ہائم اور انفا ہی بچے تھے ہائم نے بوتل کے ساتھ گلاس لیے اور باہر چل دیا ابھی وہ دروازے پر ہی تھا کے انفا نے اُسے پُکارا
ہممم۔۔۔ہائم نے مڑ کر اس سے پوچھا جو کھڑی اپنی اُنگلیاں چٹخا رہی تھی
بات کرنی ہے مجھے بیٹھ کر کر سکتے ہیں۔۔۔انفا نے سامنے پڑی ٹیبل چیئر کی طرف اشارہ کیا تو ہائم پانی کی بوتل اور گلاس سلیب پر رکھتا ایک کُرسی کھینچ کے بیٹھ گیا
اب بولو کیا بات کرنی ہے۔۔۔ہائم نے دوبارہ دریافت کیا
وہ میں نے کہنا تھا کے نہ۔۔۔۔انفا کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کے بات کیس طرح کرے
انفا ایزی ہو کر بول دو یار۔۔۔ہائم نے کافی نورمل لہجے میں کہا تو انفا کو بھی تھوڑا حوصلہ ملا
وہ مجھے یہ منگنی توڑنی ہے مجھے یہ رنگ واپس کرنی تھی مجھے۔۔۔۔انفا نے اپنی انگلی میں پہنی رنگ اُتار کے ہائم کے سامنے ٹیبل پر رکھی
یہ واپس لے لو انفا مجھے نہی چاہیے یہ ۔۔۔۔ہائم نے رنگ دوبارہ انفا کی طرف کھسکای
جب مجھے یہ منگنی ہی نہی رکھنی تو رنگ کا کیا کروں گی ۔۔۔انفا نے حیرانی سے کہا
تو اپنے گھر والوں کو کیا کہو گی تم۔۔ہائم نے انفا کو دیکھتے ہوئے سوال کیا
یہی کے مجھے اس سے شادی نہی کرنی مما کو کے دونگی تھوڑا سا شور مچائیں گی مگر پھر خاموش ہو جائیں گی۔۔۔۔انفا نے ابھی تک سر نہیں اٹھایا تھا
اور میں کیا کہوں گا۔۔۔۔ہائم نے دوسرا سوال کیا
یہ تمہارا مسئلہ ہے۔۔۔۔انفا نے اب ہائم کی طرف دیکھ کر کہا
میرا مسئلہ ہے تو میں یہ منگنی نہی توروں گا۔۔۔۔ہائم نے تو جیسے حتمی فیصلہ سنایا تھا
تم ایسا کیسے کر سکتے ہو تم شروع سے جانتے تھے کے یہ منگنی وقتی ہے تو پھر اب کیا مسئلہ ہے تم جانتے تھے کے میں نے اپنی مما سے بچنے کے لیے اور اُنکے فضول رشتوں سے بچنے کے لیے یہ کیا تھا۔۔۔۔انفا کو جیسے تپ چڑھی تھی
میں نے ایسا کچھ نہی کہا تھا انفا میری اور تمہاری اس سارے سلسلے میں کوئی بات نہیں ہوئی تھی۔۔۔۔ہائم نے مکمل اطمینان سے کہا
ہاں ہماری بات نہی ہوئی تھی مگر ابیہا نے تمہیں سب کچھ بتایا تھا اور تم اس سب پر راضی تھے تو اب تمہیں کیا ہوا ہے۔۔۔۔انفا کا تو بس نہی چل رہا تھا وہ چلانا شروع کر دی مگر باہر بیٹھی افراد کی وجہ سے اُسنے اپنی آواز دبائی
ہاں ابیہا نے مجھے سب بتایا تھا میں راضی بھی ہوا تھا مگر میں نے ہرگز اس بات کی حامی نہی بھری تھی کے نے بعد میں منگنی توڑ دوں گا۔۔۔۔۔ہائم تو جیسے آج انفا کے صبر کا امتحان لے رہا تھا
انفا کا دل کیا سامنے پڑے ریک میں سے ایک چھری نکال کر ہائم کو سے مارے
ہائم فضول مت بولو تم نے پہلے ایسا کچھ نہی کہا تھا تم کیسے اپنی بات سے مُکر سکتے ہو ۔۔۔انفا نے اُسے ارام سے ہینڈل کرنے کی کوشش کی
مگر دوسری طرف کوئی اثر نہ ہوا
انفا صاف بات ہے میں یہ منگنی کسی بھی حال میں ختم نہی کروں گا یہ میرے دوست کی آخری خواہش ہے اُسکی خواہش کو مدِ نطر رکھتے ہوئے میں ایسا کچھ نہی کروں گا اور نہ ہی تمہیں کرنے دوں گا میرے خیال سے ہماری بات ختم ہو گئی ہے مجھے چلنا چاہیے ۔۔۔اور پھر ہائم اٹھا سلیب سے پاٹل اور گلاس لیا اور باہر نکل گیا
کہاں مر گیا تھا۔۔۔۔حدید نے اُسے للکارا کب کا وہ بیٹھا اُسکا انتظار کر رہا تھا
کچھ نہی خود پی رہا تھا۔۔۔ہائم نے اُسکی بات کا صحیح جواب دینا ضروری نہیں سمجھا تھا
مگر اُسکی شکل دیکھ کر ابیہا جان گئی یہی کے کچھ ہوا ہے ہائم اُسکے ساتھ جا کر بیٹھا اور اپنا فون پکڑ لیا
بھابھی سے لڑ کر ائے ہیں۔۔۔۔ابیہا نے سرگوشی کی تو ہائم نے اُسے گھورا
ہمم۔۔۔۔مگر پھر مختصر جواب دیا
وہ غصے میں ہے۔۔۔۔ابیہا نے ایک اور سوال کیا
بہت زیادہ۔۔۔دوبارہ مختصر جواب ملا
منگنی بچ گئی۔۔۔۔اس سوال پر ہائم نے کڑی نظر ابیہا پر ڈالی مگر دوسری طرف پرواہ کس کو تھی ابیہا نے دانتوں کی نمائش کی تو ہائم نے ہاں میں جواب دیا جس سے اُسکی تسلی ہوئی
جنت سوپ کا خالی باؤل لے کر اندر ائی تو انفا بیٹھی ٹیبل پر چھری سے لکیریں لگا رہی تھی
ارے ارے ارے۔۔۔یہ کس کا غصّہ نکال رہی ہو۔۔۔جنت نے اُسکے ہاتھ سے نائف کی وہ کافی حد ٹیک ٹیبل خراب کر چکی تھی جس کو دیکھ کر جنت کو دکھ ہوا
اس بندے کا قتل میرے ہاتھوں ہی ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔انفا نے دانٹ پیسٹ ہوئے کہہ جیسے دانتوں کے بیچ ہائم ہو اور وہ اُسے چبا جائے
کس کا۔۔۔جنت کو تو سرے سے کچھ پتہ ہی نہی تھا
کسی کا نہی یار۔۔۔۔انفا نے بھی بات جانے دو اب سکون تو اُسے بھی بدلہ لیے بغیر نہی انا تھا

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

