The Night Stalkers by Bisma khan NovelR50797 The Night Stalkers by Bisma khan Episode08
No Download Link
595.5K
32
Rate this Novel
The Night Stalkers by Bisma khan Episode01 The Night Stalkers by Bisma khan Episode02 The Night Stalkers by Bisma khan Episode03 The Night Stalkers by Bisma khan Episode04 The Night Stalkers by Bisma khan Episode05 The Night Stalkers by Bisma khan Episode06 The Night Stalkers by Bisma khan Episode07 The Night Stalkers by Bisma khan Episode08 (Watching)The Night Stalkers by Bisma khan Episode09 The Night Stalkers by Bisma khan Episode10 The Night Stalkers by Bisma khan Episode11 The Night Stalkers by Bisma khan Episode12 The Night Stalkers by Bisma khan Episode13 The Night Stalkers by Bisma khan Episode14 The Night Stalkers by Bisma khan Episode15 The Night Stalkers by Bisma khan Episode16 The Night Stalkers by Bisma khan Episode17 The Night Stalkers by Bisma khan Episode18 The Night Stalkers by Bisma khan Episode19 The Night Stalkers by Bisma khan Episode20 The Night Stalkers by Bisma khan Episode21 The Night Stalkers by Bisma khan Episode22 The Night Stalkers by Bisma khan Episode23 The Night Stalkers by Bisma khan Episode24 The Night Stalkers by Bisma khan Episode25 The Night Stalkers by Bisma khan Episode26 The Night Stalkers by Bisma khan Episode27 The Night Stalkers by Bisma khan Episode28 The Night Stalkers by Bisma khan Episode29 The Night Stalkers by Bisma khan Episode30 The Night Stalkers by Bisma khan Episode31 The Night Stalkers by Bisma khan Last Episode
The Night Stalkers by Bisma khan Episode08
The Night Stalkers by Bisma khan Episode08
جازم نے اُسے ایزی رہنے کا اشارہ کیا کیوں کے وہ جانتا تھا کے اُن میں سے ہی کوئی ہے
انفا نیچے ائی تو سعد کو تھوڑا سکون ہوا۔۔
ہاں تو ہم اپنے مہمان کی طرف چلتے ہیں۔۔۔جازم دوبارہ اس آدمی کی طرف متوجہ ہوا
ایک سیکنڈ جازم مجھے کچھ کرنا ہے پھر تم جو مرضی کرنا۔۔۔انفا نے اس آدمی کے فنگر پرنٹس لیے اور جنت کو بھیجے مگر وہ اس ڈنڈے پر ملنے والے فینگر پرنٹس سے میچ نہ کیے تھے جو اُسے ارحان کے قتل والی جگہ پر ملا تھا۔۔۔۔
اب تم کر سکتے ہو جو کرنا چاہو۔۔۔انفا اب پیچھے ہو کر کھڑی ہو گئی
سعد بھی اسکے ساتھ ہی کھڑا تھا
ہاں تو بھئی نام بتاؤ اپنا۔۔۔جازم نے اسکے کندھے پر دباؤ ڈالا
نذیر نام ہے میرا اب مجھے کھولو فوراً۔۔۔۔اس آدمی نے رعب سے کہا اکڑ ابھی بھی نہی گئی تھی
اچھا چلو تُجھے یہاں تیرے مالک کی باتیں پوچھنے لائے ہیں اب بتا تُجھے اس کے بارے میں کیا کیا پتہ ہے اور وہ کون ہے۔۔۔جازم نے بالوں سے پکڑ کر اُسکا چہرہ اوپر کیا
ہاہاہا اور تم لوگوں کو لگتا ہے میں بتا دوں گا تو بھول ہے تم لوگوں کی۔۔۔اس آدمی نے تینوں کا مذاق اڑایا
سعد فرسٹ ون یا سیکنڈ۔۔جازم نے سعد کی طرف دیکھ کر پوچھا مگر اُسے کچھ سمجھ نہیں آئی بات کی تو انفا فوراً بولی۔۔۔ائی تھنک سیکنڈ ون۔۔۔اُسنے ابلتے پانی والی بالٹی کی طرف اشارہ کیا
اور پھر جازم نے وہ بالٹی اسکے آگے رکھی۔۔آخری بار پوچھا رہا ہوں کس کے لیے کام کرتے ہو۔۔جازم نے اُسکا منہ بالٹی کے قریب کیا پانی کا دھواں اسکے منہ کو بھگو رہا تھا جس سے اُسے اس بات کا اندازہ تو ہو ہی گیا تھا کے پانی کافی گرم تھا
اُسنے کوئی جواب نہ دیا تو جازم نے اُسکی گردن پر دباؤ ڈالا اور اگلے ہی لمحے اُسکا منھ کھولتے پانی میں تھا گرم پانی کی وجہ سے وہ تڑپ کر رہ گیا ہاتھ پاؤں بندھے ہونے کی وجہ سے وہ ہلا نہی سکتا تھا کچھ دیر بعد جب جزم نے اُسے پانی سے باہر نکلا تو وہ ہانپنے لگا۔۔
اُسکا منھ مکمل طور پر لال ہو چکا تھا اور سانس پھول چکا تھا
ہاں تو بتا کس کے لیے کام کرتا ہے نہی تو ایک اور غوطہ لگواوں۔۔۔جازم نے ایک اور مرتبہ پوچھا
نہی بتاتا ہوں بتاتا ہوں م_میں نہال کے لیے کام کرتا ہوں۔۔۔اس آدمی نے اٹکتے ہوئے بتاتا
ہمم نہال کیا کام کرتا ہے۔۔۔جازم نے دوسرا سوال کیا
ڈرگ اسمگل کرتا ہے وہ۔۔۔اس آدمی نے فوراً جواب دیا مبادا جازم کو غصّہ ہی نہ آ جائے
اچھا اُسکا مال کہاں سے اسمگل ہوتا ہے سارا جلدی بتا۔۔جازم نے اس سے ایک اور سوال کیا
یہ یہ نہی بتا سکتا وہ مجھے مار دے گا۔۔۔اس آدمی کے چہرے پر ڈر صاف واضع تھا
تو تمہیں لگتا ہے کے اگر تم ہمیں نہی بتاؤ گے تو ہم تمہیں زندہ چھوڑ دیں گے ۔۔انفا نے بھی گفتگو میں حصہ لیا اور سعد وہ تو بس تماشائی بنا ہوا تھا
نہیں نے نہیں بتا سکتا۔۔وہ آدمی اپنی بات پر قائم تھا
اچھا چلو پھر تمہیں تھوڑے اور مزے دلاتے ہیں۔۔جازم نے جھک کر نیل کٹر اٹھایا
بتاؤ جلدی نہی تو آگے کا میں ذمےدار نہی ہوں۔۔جازم نے اُسے وارن کیا
مگر اُسکی طرف سے جواب نہ ملنے کی صورت میں اُسنے اُسکا دایاں بازو پکڑا اور نیل کٹر میں اُسکی سکن پھسا کر دبا دی درد سے وہ آدمی بلبلا اٹھا اسکے بازو کے اس حصے سے ماس نیل کٹر کاٹ چکا تھا۔۔۔اُسکی چھینکیں اتنی بھیانک تھیں کے اوپر کھڑے مالی کا دل بھی دہل گیا۔۔۔
اور سعد اُسکی برداشت بس یہاں تک تھی اسکے بعد اُسنے رخ سیڑھیوں کی طرف کیا اور چڑھتا چلا گیا۔۔۔
بتاؤ اور ہاں مجھ سے کسی رحم کی اُمید نہ رکھنا۔۔جازم کافی ٹھنڈے مزاج کا آدمی تھا مگر دل کافی سخت تھا اسی لیے تو افہام نے یہ بندہ جازم کے حوالے کیا تھا۔۔
دوسری بار نیل کٹر کے استعمال پر جب اس آدمی کی برداشت ختم ہو گئی تو اُسنے سب کچھ جازم کو بتا دیا جتنا وہ جانتا تھا۔۔۔
اب مجھے چھوڑ دو۔۔۔۔۔اس آدمی نے سب بتانے کے بعد جازم سے کہا
ہمم!چھوڑ دوں۔۔اچھا چلو چھوڑ دیتا ہوں۔۔جازم نے کچھ سوچ کر کہا
اور پھر فضا میں فائر کی آواز گونجی گولی آدمی کا سینا چیرتی ہوئی نکل گئی
انفا آپکا نشانہ کافی اچھا ہے۔۔۔جازم نے انفا کی طرف دیکھ کر کہا جس کے ہاتھ میں گن تھی
پہلے نہی تھا مگر اب ہو جائے گا۔۔۔انفا نے کہہ کر گن پاس پڑی ٹیبل پر اچھالی اسکے لہجے میں نفرت ہی نفرت تھی اُسنے ایک نظر اس آدمی کے تڑپتے وجود پر ڈالی اور سیڑھیوں کی طرف چل دی ارحان بھی ایسے ہی تڑپا ہوگا اور میں تم لوگوں کو اس سے زیادہ تڑپاوں گی وہ خود سے بولتی سیڑھیاں چڑھ گئی
اس کے بعد جازم نواز بابا کو باڈی دفنانے کا کہہ کر چلا گیا۔۔
وہ دونوں مین گیٹ پر ائے جہاں سعد ٹیک لگائے کھڑا تھا۔
تمہارا دل کافی کمزور ہے لٹل بوائے۔۔۔جازم نے سعد کے کندھے پر ہاتھ سے دباؤ ڈالا
نو وری ہم تمہیں بھی بہت جلد اپنے جیسا بنا لیں گے۔۔۔۔سعد نے اُسکی بات پر جھرجھری لی
وہ کبھی ایسا نہی بننا چاہتا تھا مگر وہ شاید نہی جانتا تھا کے تقدیر اسکے لیے فیصلہ کر چکی تھی۔۔۔۔
جازم نے ساری انفو افہام کو دی اس آدمی سے جو انفو ملی تھی اُسمیں سب سے زیادہ ضروری بات اُنہیں یہ پتہ چلی تھی کے اسکے ساتھ کوئی حائمہ رائے نامی عورت بھی کام کرتی ہے۔۔۔۔۔۔۔جو شاید لڑکیاں دوسرے شہر اسمگل کرتی ہے
افہام کے لیے یہ انفارمیشن کافی کارآمد ثابت ہوئی تھی اب اُنہیں نہال کے ساتھ ساتھ حائمہ رائے کا بھی پیچھا کرنا تھا۔۔۔
مگر کون جانتا تھا کے اس کام میں کون کون شامل تھا ابھی تو اُنھیں سب پتہ لگنا شروع ہوا تھا ابھی بہت کچھ ایسا باقی تھا جو اُنہیں جاننا تھا
افہام نے نہال کا پیچھا کرنے کا کام ہائم کو سونپا تھا اور وہ اس ڈیوٹی کو بخوبی نبھا بھی رہا تھا
وہ مسلسل تین دن سے نہال کے پیچھے تھا مگر ابھی تک کوئی مثبت خبر ہاتھ نہ لگی تھی جس کی وجہ سے وہ سب پریشان تھے۔۔۔
ہائم کو کسی کام سے اسلام آباد جانا پرا تو یہ ذمےداری اعضاء کے سر آ گئی۔۔
اعضاء کو اب اُسکا پیچھا کرتے چوتھا دن تھا۔۔۔۔
جنت بیٹھی اُسکی لوکیشن ٹریس کر رہی تھی جب نہال کے لینڈ لائن کی رنگ ہوئی جنت فوراً اس طرف متوجہ ہوئی۔۔۔۔۔
جی تو جناب آپ کو بھی یاد آ ہی گیا ہمیں فون کرنا۔۔۔اسپیکر میں نہال کی آواز گونجی اُسی وقت سعد گھر کے اندر داخل ہوا جو کسی کام سے باہر گیا تھا
ہمم مجھے پتہ چلا ہے کہ تمہارا مال پکڑا گیا ہے دیر سے فون اس لیے کیا کے کہیں کسی کو شک نہ ہو جائے۔۔۔۔جنت کو کم از کم اس عورت کی آواز مردانا لگی تھی
ہاں تو تم نے مال کب بھیجنا ہے۔۔۔نہال نے اس سے پتے کی بات پوچھی
میں ایک ہفتے کے اندر اندر دیکھتی ہوں۔۔۔ہائمہ رائے نے اپنی مردانا آواز میں جواب دیا
جگہ بتاؤ جہاں سے بھیجو گی۔۔۔نہال نے اس سے اگلے بات پوچھی
کل شام ۵ بجے ملتے ہیں وہی راوی کے سامنے والے ریسٹورنٹ وہاں بتاؤں گی ابھی فون پر مناسب نہیں ہے ۔۔۔یہ آخری بات تھی اور اسکے بعد لائن کٹ گئی
سعد کے کہنے پر جنت نے فوراً اس بات کی خبر افہام اور اعضاء تک پہنچائی تاکہ اعضاء اُسکا پیچھا کر سکے اور اس ہائمہ رائے نامی مسٹری کو تو سولو کیا جا سکے۔۔۔۔۔۔
اعضاء کو اِنفورم کرنے کے بعد جنت نے افہام کو کال کی اور ساری صورتِ حال سے آگاہ کیا۔۔۔
افہام نے فوری طور پر اعضاء کو اپنا وائر لیس ایکٹیو رکھنے کا آرڈر دیا وہ پہلے ہی ایک بڑا نقصان اُٹھا چکے تھے ارحان کی صورت میں اب نہی اٹھانا چاہتے تھے۔۔۔۔
اعضاء نے فوری طور پر اسکے حکم کی تکمیل کی اور اپنا وائر لیس ایکٹیو کیا
ابھی وہ نہال کے گھر کے باہر ہی بار بار چکر لگا رہی تھی مگر ایسے کے کسی کو پتہ نہ لگے کے وہ اُسکا پیچھا کرنے کے لیے ائی ہے
شام تک اعضاء نے انتظار کیا اور کہتے ہیں نہ انتظار کا پھل میٹھا ہوتا ہے
شام کے ۴ بجے نہال اپنے گھر سے باہر نکل چکا تھا اور اعضاء فراز اسکے پیچھے تھی اعضاء نے فاصلہ زیادہ رکھا تا کے اس کو ذرا بھی شک نہ ہو وہاں پہنچ کر نہال اپنی گاڑی سے نکل کر ریسٹورانٹ کے اندر چلا گیا۔۔۔
ریسٹورانٹ کے باہر پہُںچ کر اعضاء کو وہاں حماس کھڑا نظر آیا جس نے اُسے سائڈ پر انے کا اشارہ کیا اعضاء بچتی بچاتی کارنر میں گئی
سر آپ یہاں!اعضاء نے حماس سے پوچھا اُنکا ایسا کوئی پلان نہی تھا کے حماس اُدھر ائے گا اسی لیے اعضاء حیران ہوئی
ہاں مجھے افہام نے بھیجا ہے اندر میں جاؤں گا انکی باتیں سننے هائمہ رائے جیسے ہی باہر ائے تمہیں اُسکا پیچھا کرنا ہے اب نہال کو میں فالو کروں گا اور تمہیں حائمہ رائے کی ہر حرکت پر نظر رکھنی ہے اور ہاں وائر لیس ایکٹیو رکھنا۔۔۔حماس نے اُسے ساری بات سمجھائی اور اندر کی طرف چل دیا۔۔
تقریباً پندرہ منٹ بعد وہ دونوں باہر ائے اور اپنی اپنی گاڑیوں کی طرف چل دیئے۔۔
حماس نے اعضاء کو اوکے کا سائن دیا اور نہال کی گاڑی کے پیچھے چلا گیا جبکہ اعضاء کو اب هائمہ رائے کا پیچھا کرنا تھا
اعضاء مسلسل دو گھنٹے سے اسکی گاڑی کے پیچھے تھی مگر هائمہ رائے کی گاڑی رکنے کا نام ہی نہی لے رہی تھی۔۔
اعضاء تم ابھی کہاں ہو۔۔۔وائر لیس میں افہام کی آواز گونجی
سر میں نہی جانتی یہ گاڑی تو رکنے کا نام ہی نہی لے رہی ہے۔۔۔اعضاء اب پیچھا کرتے کرتے اُکتانے لگی تھی
کیا مطلب پتہ نہی جنت اس کی لوکیشن ٹریس کرو۔۔۔۔افہام غصے میں بولا جو اعضاء،جنت،حماس اور تقریباً سب نے سنا
افہام اس کی لوکیشن کسی عجیب سے ایریا میں آ رہی ہے یہاں آبادی نہ ہونے کے برابر ہے اور یہاں کسی کا گھر ہونا میرے نہی خیال سے پوسبل ہے۔۔۔جنت نے اُسکی لوکیشن دیکھ کر افہام کو بتایا
کہیں ایسا تو نہیں کے یہ کوئی ٹریپ ہو ۔۔۔سعد نے اپنا خدشہ ظاہر کیا
لیکن انہیں میرے پر بلکل بھی شک نہی ہوا میں اُن سے کافی ڈسٹنس پر بیٹھا تھا۔۔۔۔حماس کو یہ بات ام پوسیبل لگی
تم پر نہی مگر شاید اعضاء پر ہو گیا ہے۔۔۔۔سعد نے اپنی ہی بات کی وضاحت کی
سر اب میں نے کیا کرنا ہے۔۔۔۔۔اعضاء نے افہام سے پوچھا کیوں کے وہ ابھی تک اُنکے پیچھے تھی
میرے خیال سے افہام بھائی اسے وہاں سے نکل انا چاہیے۔۔۔ابیہا نے مشورہ دیا
لیکن سر ایسے ہمیں هائمہ رائے کی اصل لوکیشن کا کیسے پتہ لگے گا۔۔۔اعضاء نے احتجاج کیا وہ کام بیچ میں چھوڑنے والوں میں سے نہی تھی
افہام آگے وائر لیس کام نہی کرے گا آگے کا علاقہ کافی سنسان ہے اور نہ ہی لوکیشن ٹریس ہوگی۔۔۔۔جنت نے افہام کو بتایا کیوں کے اب هائمہ رائے کی کار لوکیشن ٹریس نہی ہو رہی تھی اعضاء اُسکی کار میں ریسٹورانٹ کے باہر چپ لگا چکی تھی جس سے جنت اُسکی کار کی لوکیشن ٹریس کر رہی تھی
اعضاء ٹرن لے لو اس کا پیچھا بعد میں کر لیں گے یہ جگہ کافی مشکوک ہے۔۔۔۔افہام نے لوکیشن دیکھ کر اعضاء سے کہا
یس سر!اعضاء نے فوراً اُسکی بات مانی کیوں کے وہ ایک بار کوشش کر چکی تھی
اُسنے جیسے ہی ٹرن لیا پیچھے سے ایک گاڑی آ رہی تھی۔۔اعضاء کو اب پریشانی ہونے لگی تھی
سر اس علاقے میں ایک کار آ رہی تھی اور اب وہ میرے سامنے رک گئی ہے۔۔۔اعضاء نے وائر لیس میں بتایا وہ اس وقت ہیوی بائک پر تھی مکمل طور پر بلیک جیکٹ اور پینٹ میں کور منھ سارا بلیک ہیلمیٹ میں چھپا تھا کوئی پہچان نہی سکتا تھا کے یہ لڑکی ہے یا لڑکا۔۔۔۔۔۔
IzA it’s definitely a trap just run away…..
افہام وائر لیس میں چیخا تھا
Sir but there is no way to run now…
اعضاء کی آواز میں کسی قسم کا ڈر نہی تھا
IzA I said run away …..
افہام کو اس پر غصّہ آ رہا تھا کے وہ بات کیوں نہی سن رہی
سر میں اپنے آپ کو ان کے حوالے کر رہی ہوں تاکہ یہ سب لوگ یہ نہ سمجھیں کے میں کسی فورس سے ہوں میں انہیں پورا یقین دلانے کی کوشش کروں گی کے میں یہاں صرف گھومنے ائی تھی آپ لوگ فکر نہ کریں مر جاؤں گی مگر کوئی انفارمیشن لیک نہی کروں گی اگر میں شہید ہو گئی تو میرے مما بابا کو بتا دیجیے گا کہ آپکی بیٹی وطن کی خاطر شہید ہو گئی ہے وائر لیس پھینک رہی ہوں لوکیشن آپ لوگ دیکھ لیجئے گا وہ لوگ میری طرف ہی آ رہے ہیں۔۔۔۔
Over and out………
اعضاء نے کہہ کر وائر لیس جھاڑیوں میں اچھال دیا
Damit what the hell is this IzA listen to me IzA????
افہام مسلسل اُسے بلا رہا تھا مگر وہ اب کچھ نہی سن سکتی تھی۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

