The Night Stalkers by Bisma khan NovelR50797 The Night Stalkers by Bisma khan Episode04
No Download Link
595.5K
32
Rate this Novel
The Night Stalkers by Bisma khan Episode01 The Night Stalkers by Bisma khan Episode02 The Night Stalkers by Bisma khan Episode03 The Night Stalkers by Bisma khan Episode04 (Watching)The Night Stalkers by Bisma khan Episode05 The Night Stalkers by Bisma khan Episode06 The Night Stalkers by Bisma khan Episode07 The Night Stalkers by Bisma khan Episode08 The Night Stalkers by Bisma khan Episode09 The Night Stalkers by Bisma khan Episode10 The Night Stalkers by Bisma khan Episode11 The Night Stalkers by Bisma khan Episode12 The Night Stalkers by Bisma khan Episode13 The Night Stalkers by Bisma khan Episode14 The Night Stalkers by Bisma khan Episode15 The Night Stalkers by Bisma khan Episode16 The Night Stalkers by Bisma khan Episode17 The Night Stalkers by Bisma khan Episode18 The Night Stalkers by Bisma khan Episode19 The Night Stalkers by Bisma khan Episode20 The Night Stalkers by Bisma khan Episode21 The Night Stalkers by Bisma khan Episode22 The Night Stalkers by Bisma khan Episode23 The Night Stalkers by Bisma khan Episode24 The Night Stalkers by Bisma khan Episode25 The Night Stalkers by Bisma khan Episode26 The Night Stalkers by Bisma khan Episode27 The Night Stalkers by Bisma khan Episode28 The Night Stalkers by Bisma khan Episode29 The Night Stalkers by Bisma khan Episode30 The Night Stalkers by Bisma khan Episode31 The Night Stalkers by Bisma khan Last Episode
The Night Stalkers by Bisma khan Episode04
The Night Stalkers by Bisma khan Episode04
افہام جو اس وقت پولیس اسٹیشن میں تھا ابیہا اور اعضاء کو اپنے سامنے کھڑا دیکھ حیران ہوا
تم دونوں یہاں کیا کر رہی ہو؟افہام نے ابیہا سے پوچھا
بھی اعضاء کو آپکو کچھ بتانا تھا۔۔ابیہا نے اپنے یہاں ہونے کی وجہ بتائی
میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں میں تمہیں ٹیم میں نہی لوں گا پھر کیوں بار بار ٹرائی کر رہی ہو!!افہام اب تنگ آ چکا تھا
نہی میں اس لیے نہی ائی مجھے آپکو کچھ بتانا ہے سر پلز میری بات سن لیں۔۔اعضاء نے ریکویسٹ کی
بیٹھو!افہام نے دونوں کو بیٹھنے کا کہا
بولو کیا بتانا ہے؟افہام سیدھا پوائنٹ پر آیا
سر میں نے قتل ہوتے ہوئے دیکھا ہے خود کل رات کو۔۔۔اعضاء نے اُسے بتایا
کہاں؟افہام نے اگلا سوال کیا
اپنے فلیٹ کے پاس۔۔۔اعضاء نے جواب دیا
کس کا؟افہام اب انویسٹیگیٹ کر رہا تھا
اور پھر اعضاء نے شروع سے لے کر آخر تک ساری بات اسکو بتائی
افہام۔نے۔اُسکی ساری بات تحمل سے سنی اور دوسری طرف ابیہا اُسکی باتوں پر حیران تھی۔۔۔
یہ سب تو ٹھیک ہے مگر ایک بات بتاؤ تم پاگل ہو کیا تمہیں پتہ تھا کے وہ آدمی ڈرگ اسمگل کر رہا ہے اور اُسکا پیچھا کرنا خطرے سے خالی نہیں ہے پھر بھی تم اسکے پیچھے ہے اور اسکے پیچھے پیچھے اُسکی بلڈنگ میں چلی گئی تمہیں پتہ ہے اگر تم وہاں پکڑی جاتی تو مار دی جاتی۔۔۔افہام کو اس لڑکی کی عقل پر حیرت ہوئی
وہ سوری سر مگر میں کوئی کیس ڈھونڈ کر آپکو ایمپریس کرنا چاہتی تھی تاکہ آپ مجھے ٹیم میں شامل کر لیں اور شاید میں وہاں چیخی بھی یہ سوچ کر نہی تھی کے مجھے یہ ساری انفو آپ تک پہنچانی ہے مگر آپ مجھے ٹیم میں شامل نہیں کرنا چاہتے تو نہ کریں مگر یہ انفو آپ تک پہنچانا لازمی تھا بس یہی سوچ کر اُسکا پیچھا کیا تھا۔۔اعضاء نے ساری بات سچ سچ بتائی
ہمم!میں تمہیں ٹیم میں اب بھی شامل نہیں کر سکتا کیوں کے ٹیم کے ممبرز پورے ہیں ہاں اگر تمہارا شوک ہے اور شوک کے لیے تم اس حد تک جا سکتی ہو تو تم ہمارے لیے کام کر سکتی ہو۔۔۔۔ایس ا سائڈ انویسٹیگیٹر ۔۔۔افہام نے اُسے ایک آفر دی جیسے اُسنے ایک سیکنڈ کی دیر کیے بغیر قبول کر لیا اسکے لیے یہ بھی فخر کے بات تھی۔۔۔۔۔
اچھا تم انکی شکلیں تو پہچان لو گی نہ۔۔افہام نے اس سے پوچھا
جی بلکل میں سکیچ بھی بنوا سکتی ہوں مجھے انکی شکلیں یاد ہے دونوں کیں۔۔۔۔۔۔۔اعضاء میں فوراً حامی بھری اور ایک نیا آئیڈیا بھی دیا
ہاں یہ بھی صحیح ہے۔۔غلام دین بات سنو۔۔۔افہام نے کانسٹبل کو آواز دی
جی سر۔۔۔غلام دین نے اہ کر سلیوٹ مارا
یہ بیبی ہو لے جاؤ اور سکیچ بنواؤ جیسا یہ کہتی ہیں۔۔افہام نے اسے آرڈر دیا اور اپنے اور ابیہا کے لیے چائے منگوائی
بھائی اس طرح تو اعضاء نائٹ سٹالکرز میں شامل نہیں ہوگی نہ۔۔۔ابیہا نے افہام سے پوچھا
دیکھو بچے وہ شامل ہوگی مگر یہ بات سینئر کو نہی پتہ ہوگی۔۔افہام نے اُسے پوری بات سے آگاہ کیا
اچھا اچھا۔۔ابیہا نے اس سے آگے کچھ نہ پوچھا
سکیچ بنوانے کے بعد وہ دونوں واپس چلی گئیں۔۔
افہام نے شام میں سب کو بلا کر یہ بات ڈسکس کی اور اُن سب میں اعضاء بھی شامل تھی جس پر کسی نے کوئی اعتراض نہ کیا بلکہ اُسکا ٹیم میں پر زور استقبال کیا گیا۔۔۔۔۔
سب نے اس بہادری کے کارنامے پر اعضاء کی خوب تعریفیں کیں اور اُسنے بڑے فخر سے وصول بھی کیں
اچھا اب یہ سب بس کرو یہ سوچو کرنا کیا ہے۔۔۔افہام نے اس سب کو نون سٹاپ باتوں سے روکا ورنہ وہ لوگ چاہئیں تو ایک دو گھنٹے اور باتوں میں لگا دیں۔۔۔
کیوں بھائی تُجھے جیلسی ہو رہی ہے کے اعضاء نے اتنا بڑا کام کر دکھایا۔۔۔حدید نے جان بوجھ کر اُسے چھیڑا
کیا مجھے۔۔۔اس سے پہلے کے افہام اپنا جملہ مکمل کرتا اعضاء بول پڑی
ایسی بات نہیں ہے” حدید سر” میں تو خود سر کی فین ہوں۔۔اعضاء نے یہ کہ کر افہام کا مان رکھ لیا تھا
ایسی بات نہیں ہے ہم سب برابر ہیں اس ٹیم کا کوئی کیپٹن نہی ہے سب ایک برابر ہیں۔۔۔افہام بھی بولا اُن میں سے کب کوئی کسی کو اپنے سے کمتر سمجھتا تھا
اچھا یار لیو اِٹ میرے خیال سے ہمیں کیس کے بارے میں بات کرنی چاہیے۔۔
انفا خود بھی کام کے علاوہ کم ہی بات کیا کرتی تھی
ہمم!سکیچ دکھاؤ۔۔جنت نے اعضاء سے سکیچ مانگا
میں ان کو ایڈنٹیفئیی کرتی ھوں۔۔جنت نے فوراً لیپ ٹاپ کھولا
ہاں جلدی کرو اور ہاں اب ہمیں اس نہال کو فالو کرنا ہے کیا کرتا ہے کہاں جاتا ہے اسکے اس بندے کو فالو کرو نہال خود ہی مل جائے گا۔۔افہام نے ارحان کی طرف دیکھ کر کہا جس کا مطلب تھا کے یہ کام ارحان کو کرنا ہے۔۔
ان میں سے ایک کا نام ایک کہ نام امتیاز ہے عمر اسکی 24 سال ہے اور اسکا کوئی ٹھکانہ نہی ہے کبھی کہیں تو کبھی کہیں۔۔۔
اور دوسرا وہ شوٹر ہے۔۔اس کے بارے میں دو تین کسز بھی ہیں ایف ائی آر وہ ایک لڑکے نے کسی تھانے میں درج کروائی تھی مگر کوئی ایکشن نہی لیا گیا۔۔۔جنت نے دونوں کا بائیو ڈیٹا نکالا۔۔
اسکے پاس اس ملک کے تمام لوگوں کی انفو تھی کون کیا کرتا ہے کیا نہی یہ ساری انفو اُنہیں ڈی ائی جی کی طرف سے ملی تھی تاکہ وہ اپنے کام آسانی سے کر لیں۔۔۔
ہمم!سعد بات سنو ہے یو ایس بی پکڑنا۔۔جنت نے سعد سے کہا جو ڈرار کے پاس بیٹھا تھا
وہ یو ایس بی لے کر جنت کی طرف آیا مگر اُن میں سے ایک آدمی کی تصویر دیکھ کر حیران رہ گیا۔۔۔
سعد دے بھی دو ۔جنت جس نے اپنا دور لیپ ٹاپ میں دیا ہوا تھا سعد کی ایسے کھڑے رہنے پر بولی
یہ آدمی اس کی آنکھیں اس کی آنکھیں زوم کرو جنت۔۔سعد نے ہزیانی کیفیت میں جنت سے کہا
کیا ہوا ہے سعد؟حدید نے اس سے پوچھا
یہ آدمی اسکی آنکھیں بلکل ویسی ہیں جیسی اس لڑکے کی تھیں بلکل ویسی۔۔سعد نے 24سالہ لڑکے کی طرف اشارہ کیا
جنت دکھائی مجھے۔۔افہام۔نے جنت کے ہاتھ سے لیپ ٹاپ لیا
ہاں نہ دیکھیں اسکی ایک انک پتھرائی ہوئی لگتی ہے ہلتی نہی ہے اُف کی بھی نہی ہل رہی تھی۔۔سعد نے یاد کر کے بتایا
تو یہ بات تمنے مجھے پہلے کیوں نہی بتائی۔۔افہام کو اُسکی کم عقلی پر حیرت ہوئی
پتہ نہیں مجھے لگا یہ بات زیادہ اہم نہی ہے مگر یہ وہی لڑکا ہے۔۔۔سعد کو جیسے پکا ہو کر بیٹھ گیا تھا
مطلب کے سعد کا کیس اور اعضاء والا کیس دونوں کا آپس میں کنیکشن ہے ۔۔۔انفا نے سوچنے والے انداز میں بولا
مطلب اب ہمیں دو نہی بلکہ ایک ہی کیس سولو کرنا ہے۔۔۔اور جازم نے اُسکی بات مکمل کی
صحیح ہے ارحان تم ایک انٹیریئر ڈیزائنر بن کر نہال کے بحریہ ٹاؤن والے گھر جاؤ گے اور اسکے لینڈ لائن میں چپ انسرٹ کرو گے تمہارا کام ہے اس لڑکے کو فل ٹائم فالو کرنا وہی تمہیں نہال کے گھر لے کر جائے گا۔۔۔افہام نے ارحان کو اُسکا کام بتایا
جنت تمہارا کام ہے کے ارحان جو چپ اسکے لینڈ لائن میں فٹ کرے گا اسکے ذریعے ساری کالز تمہیں ٹریس کرنی ہیں۔۔افہام نے دوسرا کام جنت کو بتایا
راجر بوس۔۔جنت نے کہتے ساتھ اپنا لیپ ٹاپ افہام سے لیا
ابھی کے لیے بس اتنا ہی آگے کا کام ہم کالز ٹریس کرنے کے بعد کریں گے جازم تم ارحان کے ساتھ جانا اور جب تک یہ گھر میں گھس نہی جاتا واپس مت انا۔۔۔
ٹھیک ہے اور واپس یہ اکیلا ائے گا کیا ۔۔جازم نے ارحان کی طرف اشارہ کیا
ہاں واپس اکیلا ائے گا تاکہ انہیں شک نہ ہو جائے وہ لوگ لازمی اسکے پیچھے اپنا بندہ بھیجیں گے کنفرم کرنے کے لئے کے یہ وہی ہے جو اس نے بتایا ہی یہ کوئی اور ہے اسی لیے واپس اسی اکیلے انا ہوگا۔۔۔افہام نے اسکے اکیلے واپس آنے کی وجہ بتائی
اعضاء تم ارحان کے ساتھ آج رت اس جگہ پر جاؤ جی جہاں تمنے قتل ہوتے ہوئے دیکھا تھا اور اس بندے کا بتاؤ گی اسے جس نے مروایا تھا اس آدمی کو اسکے بعد تمہیں غائب ہو جانا ہے دوبارہ تم ارحان کے ساتھ نظر نہ اؤ۔۔۔افہام نے اعضاء کو اُسکی ڈیوٹی بتائی۔۔۔۔
اوکے ناؤ اوور اس کے بعد ہم اپنا دوسرا اسٹیپ لیں گے۔۔۔۔۔۔
اسکے بعد سب نے کھانا کھایا اور اپنے گھر کو چلے گئے
رات میں افہام سعد اور جنت بیٹھے ٹی وی دیکھ رہے تھے جب جنت نے سعد سے پوچھا
سعد تم نے کہا تھا تمہارے بابا میں کسی ائے پی کا ذکر کیا تھا اُسکا نام نہی بتایا تھا کے کیا ہے ۔۔سعد پہلے تو اُسکی سوال پر حیران ہوا مگر پھر نورمل لہجے میں بولا
نہی بس یہی بتایا تھا کے ائے پی نام ہے شاید پورا نام بابا کو بھی نہ پتہ ہو ۔۔سعد نے کہہ کر نظریں ٹی وی پر جما دیں
تو تمہارے بابا کے پاس کچھ تھا جو اُنہوں میں اُنہیں مار دیا۔۔۔جنت کے دماغ میں پتہ نہیں کیا چل رہا تھا
نہی میرے بابا کے پاس کچھ نہی تھا۔۔۔سعد نے صاف انکار کیا وہ ابھی تک اُن پر اتنا بھروسہ نہی کر پا رہا تھا کے چپ اُنکے حوالے کر دے
اچھا پھر تمہارے بابا کے پاس ضرور کوئی انفو تھی جو اُنہیں مار دیا گیا ۔۔۔جنت نے سوچ کر بولا اور سعد کو لگا وہ تھوڑی دیر اور یہاں بیٹھا تو افہام اسکے دماغ اور دل کی بات پڑھ لے گا۔۔
کیوں کے وہ سعد کو بہت گہری نظروں سے دیکھ رہا تھا جنت کے سوالوں کی اُسے خاص پرواہ نہی تھی مگر اُسنے سوالوں پر سعد کے بدلتے تصورات اُسے شک و شبہات کہ شکار کر رہے تھے۔۔۔۔
کچھ تو تھا جو وہ چھپا رہا تھا
مگر کیا؟؟؟؟
رات میں جب وہ تینوں ٹی وی دیکھ رہے تھے اُسے وقت اعضاء اور ارحان اُسکی بلڈنگ کے باہر چھپ کر بیٹھے تھے۔۔۔
وہ دونوں آدھے گھنٹے سے یہی بیٹھے تھے مگر اب تک کوئی نہی آیا تھا
اعضاء یار یہ مچھر تو نہ آج میرے ذریعے ڈنر پارٹی کر رہے ہیں مسلسل مجھے کاٹی کا رہے ہیں۔۔۔ارحان اب یہاں بیٹھ بیٹھ کر تھک چکا تھا
ارحان سر چپ کر کے بیٹھیں۔۔اعضاء نے اُسے چپ کروایا یہاں کیسی بھی وقت کوئی بھی آ سکتا تھا
یار ایک بات بتاؤ تم ہم سب کو سر کیوں کہتی ہو۔۔۔ارحان کو اُسکا سر کہنا کچھ عجیب لگا
عزت دیتی ہوں آپکو نہی چاہیے تو بتا دیں ۔۔اعضاء نے دانٹ پیس کر کہا وہ چپ ہی نہی کر رہا تھا
ہاں یار مجھے نہ دیا کرو اتنی عزت مجھے نہی پسند تم مجھے ارحان بھائی کہہ لو مگر سر نہی۔۔۔ارحان تو چپ ہونے کا نام۔ہی نہی لے رہا تھا
جی اچھا اب چپ ہی جائیں۔۔اعضاء نے ایک اور کوشش کی
اچھا ایک بات بتاؤ۔۔ارحان ابھی بول ہی رہا تھا کے اعضاء نے اسکے منھ پر ہاتھ رکھ دیا۔۔
شّشّش کوئی اہ رہا ہے قدموں کی آواز آ رہی ہے۔۔اعضاء نے اسکے کان میں سرگوشی کی اور ہاتھ اسکے منھ سے ہٹا دیا
ویسے اُسکا ہاتھ اتنا بھری تو نہی تھا کے ارحان کی آواز دب جاتی مگر ایسے اچانک رکھنے سے وہ چپ ہو گیا تھا
قدموں کی آواز اب قریب آ رہی تھی اور پھر وہی لڑکا بلڈنگ کے اندر جاتا ہوا نظر آیا
کچھ دیر بعد وہ واپس آیا اور جھانسے آیا تھا اُسے راستے چل پڑا
ارحان بھائی اب میں اپنے فلیٹ جا رہی ہوں آگے کا کام آپکا ہے یہ یہاں سے پیسے اور مال اکھٹا کر کے اب نہال کو دینے جائے گا آپ کو اسکا پیچھا کرنا ہے ۔۔
Best of luck۔۔۔۔۔
اعضاء اتنا کہ کر جھاڑیوں کی پچھلی سائڈ سے نکل کر اپنی گلی میں اہ ہے اور ارحان اسکے پیچھے چلا گیا
وہ آدمی پہلے ایک جگہ پر گیا یہ ایک سنسان سے جگہ تھی ارحان نے اپنی گاڑی اُسکی گاڑی سے کافی پیچھے روک لی اور اُتر کر اگے آیا۔۔۔
اندھیرا اتنا تھا کے چہرے نظر نہی اہ رہے تھے مگر اس لڑکے نے وہ باغ ایک آدمی کے حوالے کیا اور اپنی گاڑی کی طرف اہ گیا
ارحان فوراً اپنی گاڑی میں آ کر بیٹھا اب اُسے دوسری گاڑی کا پیچھا کرنا تھا اُسنے اپنی گاڑی اس دوسری گاڑی کے پیچھے لگا دی آخر وہ گاڑی بحریہ ٹاؤن میں ایک بڑے سے بنگلے کے سامنے جا کر رکی۔۔۔۔۔
اس آدمی نے وہ سوٹ کیس گاڑی میں سے ہی سیکیورٹی گارڈ کو دکھایا اور اُسنے دروازہ کھول دیا ۔۔
اب ارحان کو واپس جانا تھا اور صبح ایک انٹیریئر ڈیزائنر بن کر انا تھا۔۔۔۔۔۔تاکہ اپنا کام کر سکے
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔




