Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

The Night Stalkers by Bisma khan Episode30

The Night Stalkers by Bisma khan Episode30

ویڈیو میں وہ سب ہی کسی بڑے سے کمرے میں بیٹھے تھے جس میں صوفوں کے درمیان میں ایک چھوٹی سے ٹیبل رکھی گئی تھی۔۔۔۔
ویڈیو کا سٹارٹ عام باتوں سے ہوا اور وہ بندہ جو اُن میں بیٹھا تھا جن کے بارے میں یہ لوگ نہی جانتے تھے کوئی بات کر رہا تھا حیدر نے اُسے مخاطب کیا تو اُن سب کو اس کا نام معلوم ہوا اس آدمی کا نام نواز تھا وہ بھی شاید کوئی اسمگلر ہی تھا جو اُن سے کسی قسم کی ڈیل کر رہا تھا اس نے ایک پیسوں سے بھرا سوٹ کیس اکرم پاشا کے سامنے کیا تو اس نے ایک پرچی اُسے پکڑا دی
اس میں کیا ہے۔۔۔۔۔آبی نے اشتیاق سے پوچھا تو سب نے ہے اُسے گھورا تو وہ بھی چپ کر گئی یقیناً اُن سب کو بھی نہی پتہ تھا
اُسکے بعد اُن لوگوں کے درمیان کچھ باتیں ہوئیں جن باتوں میں سے اہم بات اُن سب کے لیے یہ تھی کے ۹ فروری کو اُنہیں ایک ڈیل کرنی تھی جس کے لیے اکرام پاشا،روبینہ،حیدر اور اس آدمی نے ایک جگہ پر ملنا تھا اُنہیں اپنے سامان کی شپمنٹ کروانی تھی اپنی نگرانی میں اسی لیے اُنہوں نے کراچی میں ایک جگہ پر اکھٹے ہونے کا پروگرام بنایا
جگہ اور وقت وہ سب ہی جان چکے تھے بس اب ۹ فروری کا انتظار تھا اس دن ان کا مشن اور ارہان،اعضاء،حوریہ اور ہمدانی صاحب کا بدلہ پورا ہونا تھا
سب کو ہی اس دن کا بہت انتظار تھا
خاص طور پر سعد کو وہ اکرم پاشا کو اپنے ہاتھوں سے مرنا چاہتا تھا اس آدمی نے سعد سے اُسکے جینے کا آخری سہارا چھین لیا تھا
لیپ ٹاپ بند کرنے کے بعد وہ ابھی بھی اپنی اپنی نشست پر بیٹھے تھے ہر ایک کے دماغ میں کچھ نہ کچھ چل رہا تھا
اور پھر کچھ دیر سب نورمل حالات میں واپس لوٹے
کتنے دن ہیں ہائم۔۔۔افہام نے سیدھا ہائم کو مخاطب کیا
آج ۵ فروری ہے اس حساب سے اگر آج کا دن
بھی لگایا جائے تو پورے چار دن بنتے ہیں۔۔۔ہائم نے اُسے حساب کر کے بتایا
اسکا مطلب ہمارے پاس سب کچھ کرنے کے لیے صرف اور صرف چار دن ہیں۔۔۔۔افہام نے خود سے کہا تھا
پلان کیا ہے۔۔۔۔اب انفا نے بھی گفتگو میں حصہ لیا
ہم اپنی فورس کے ساتھ جائیں گے۔۔۔۔افہام نے ابھی اتنا ہی بولا تھا کے جنت نے اُسکی بات کاٹی
اس فورس میں کون کون شامل ہے مسٹر افہام۔۔۔۔جنت نے کافی طنزیہ انداز میں پوچھا
ہم سب سب شامل ہیں اور سب جائیں گے اتنی محنت کی ہے ہم سب نے اس مقام تک پہنچنے کے لیے میں چاہتا ہوں سب اپنی آنکھوں سے اس کو اُسکے انجام تک پہنچتے دیکھیں۔۔۔۔افہام کا لہجہ پُر عزم تھا
کرنا کیا ہے افہام۔۔۔۔اس بار پوچھنے والا حدید تھا وہ سب ہی افہام کے دماغ میں چلنے والا پلان جاننا چاہ رہے تھے
ہم ریڈ کریں گے اس مقام پر جہاں انہوں نے ملنا ہی ٹھیک پانچ بجے۔۔۔۔۔۔۔۔افہام نے اُنہیں آگے کا پلان بتایا
اور کوئی پولیس فارس میں سے ساتھ جائے گا۔۔۔۔یہ سوال جازم کی طرف سے تھا
نہی کوئی نہی بس ایک آفیسر جو یہ بات پروف کرے گا کے اس نے دیکھا ہے کے انکاؤنٹر ہوا ہے بس۔۔۔۔۔افہام نے اُنہیں تفصیل سے بتایا
ہم نواز کو کیسے پکروایں گے وہ ایک اہم سیاسی شخصیت ہے۔۔۔۔۔انفا نے نواز کے بارے میں پوچھا وہ ایک سیاسی پارٹی کا اہم رکن تھا
ہم اُسکو اس ویڈیو کے ذریعے پھسایں گے ان سب کو پکڑنے کے ٹھیک ادھے گھنٹے بعد یہ ویڈیو شہر کے مشہور ٹی وی چینلز پر انی چاہیے ہائم گوٹ اٹ۔۔۔۔۔۔۔افہام نے ہائم کو اُسکا کام بتایا
جنت تم،حماس اور حدید وہاں بعد میں ایں گے یعنی ہمارے اندر جانے کے پندرہ منٹ بعد گنز تم سب کے پاس ہیں وہ ساتھ ہی رکھنا اور ہاں ایک بات سب کو زندہ واپس انا ہے اٹس این آرڈر گوٹ اٹ۔۔۔ افہام نے ایک بار پھر سب سے پوچھا تو مشترکہ یس سر کی آواز گونجی
کوئی بھی تم لوگوں پر اٹیک کرنے کی کوشش کرے اس سے پہلے اُسے مار دینا انتظار مت کرنا کسی بھی آرڈر کا۔۔۔۔۔افہام اُنہیں سب کچھ تفصیل سے سمجھا رہا تھا
راجر بوس۔۔۔۔یہ پر جوش آواز سعد اور ابیہا کی تھی
لیکن افہام ایک بات سمجھ نہیں آئی مجھے۔۔۔۔ہائم نے اس سے سوال کیا
وہ کیا۔۔۔۔افہام جو اگلی بات کرنے والا تھا ہائم کی بات پر یہ سے پوچھا
یہ تینوں بعد میں کیوں آئیں گے۔۔۔۔ہائم نے اُن تینوں کے لیٹ انے کی وجہ پوچھی
دیکھو وہاں ہم میں سے 6 تو وہاں پہلے ہی موجود ہوں گے انکو بعد میں انے کا اس لیے کہا کے خدا نہ خواستہ ہم میں سے کوئی زخمی ہو جاتا ہے تو ہمارے پاس بیک اپ ہو کیوں کے وہاں اُنہوں میں سیکیورٹی اچھی خاصی رکھی ہوگی ہمیں اب جان پر کھیل کر اُسے پکڑنا ہے اور اپنے عزیزوں کا بدلہ لینا ہے اور ہاں ایک دفع پھر بتا دوں سب کو زندہ رہنا ہے
It’s my order!
افہام نے سب کو کہا تو سب نے حامی بھری اب تو یہ معاملہ زندگی موت کا تھا یا تو یہ لوگ زندہ رہیں گے یہ تو وہ اکرم پاشا اور اُسکے چمچے
آج وہ سب ہی کافی پُر جوش تھے سب ہی وہاں سے سیدھے اپنے گھر گئے
انفا نے فلیٹ کا دروازہ ان لوک کیا اور اندر داخل ہوئی
جاتے ساتھ اُسنے بیگ صوفے پر اچھالا اور بیڈ پر ڈہ گئی
نجانے کتنی سوچیں تھیں جو وہ سوچتی ائی تھی ہائم نے اُسے ڈراپ کرنے کی آفر کی تھی مگر وہ انکار کر ائی
ارحان ۹ فروری کو میں اُن سے تمہارا بدلہ لوں گی میں جان چکی ہوں کس نے مارا تھا تمہیں وہ کوئی عورت تھی مرد کے لباس میں اور وہ عورت روبینہ تھی میں اُسے اپنے ان ہاتھوں سے ماروں گی اور تمہارا بدلہ لوں گی تم سے کیا ہوا وعدہ پورا کروں گئی چاہے مجھے جان کی بازی ہی کیوں نہ لگانی پڑے۔۔۔۔۔۔انفا اپنے خیالوں میں ارهان سے مخاطب تھی
لیکن ارحان تم نے یہ کیا کہے دیا تم کیوں
ہائم کو وہ سب کچھ کہہ کر چلے گئے اب وہ بھی اپنے وعدے پر اڑا ہوا ہے میں تمہارا بدلہ لیے بغیر اُسکے بارے میں نہی سوچ سکتی تھی مگر اب میں وعدہ کرتی ہوں اگر ہو سکا تو میں رشتا قائم رکھوں گی مگر وعدہ نہی کرتی کیوں میں تم سے کیا ہوا وعدہ توڑنا نہی چاہتی۔۔۔۔۔انفا ابھی خیالوں میں ہی تھی کے اچانک بیل کی آواز پر وہ خیالوں کی دنیا سے واپس ائی
جو بھی آیا تھا گھنٹی پر ہاتھ رکھ کر بھول ہی گیا تھا۔۔۔۔۔
آ رہی ہوں ۔۔۔۔انفا نے اونچی آواز لگائی جو بھی تھا کافی ڈھیٹ تھا کے آواز پر بھی بیل سے ہاتھ نہی ہٹایا تھا
کون ہے۔۔۔۔انفا دروازہ کھولتے ہی دھاڑی
سامنے حدید اور جنت تھے اور حدید اپنی بتیسی کی نمائش کر رہا تھا
بدتمیز۔۔۔۔انفا نے اُسکی لقب سے نوازتے اندر انے کا راستہ دیا
کیسے انا ہوا۔۔۔۔انفا نے سیدھا حدید سے سوال کیا
میں نے سوچا تمہارے اس غریب خانے کو بھی تھوڑی رونق بخشیں۔۔۔۔۔حدید نے ڈرامائی انداز میں کہا تو انفا میں ایک کشن اُسکی طرف اچھالا جو اس نے مہارت سے کیچ کیا
کوئی کام تھا جنت۔۔۔۔۔انفا نے بیٹھتے ہوئے جنت سے پوچھا
نہی کام تو کوئی نہی تھا بس تمہیں کچھ بتانے ائے تھے سوچا تمہیں تو بتا دیں ہائم نے تو بتایا نہی ہوگا کیوں کے تم لوگ نورمل کپلِ کی طرح تھوڑی نہ ہو ۔۔۔۔جنت نے تو جیسے طنز کیا تھا جو اس نے اپنی طرف سے تو جان بوجھ کر کیا تھا تاکہ انفا کو کچھ احساس ہو
کیا بتانا تھا۔۔۔۔انفا نے اپنا لہجہ نورمل کرتے ہوئے پوچھا ورنہ طنز تو وہ بھی جنت کا خوب سمجھ گئی تھی
ہائم ۱۵ فروری کو دبئی جا رہا ہے۔۔۔۔جنت نے تو جیسے دھمکا کیا تھا
کیا اور کیوں۔۔۔۔انفا اچانک سیدھی ہو کر بیٹھی تھی
اُسکو کوئی کام ہے اسی لیے بس وہ جا رہا ہے۔۔۔جنت نے نورمل انداز میں بتایا
واپس کب ائے گا۔۔۔انفا نے اگلا سوال کیا
شاید دو مہینے لگ جائیں۔۔۔۔جنت نے اُسے اُسکے سوال کا جواب دیا
اتنے ٹائم کے لیے کیوں اور وہ تو نائٹ سٹالکرز کا حصہ ہے اتنی دیر باہر کیسے رہ سکتا ہے۔۔انفا نے اب پوائنٹ کی بات کی تھی
وہ بگ بوس کے کہنے پر ہی جا رہا ہے ایک چھوٹا سا مشن ہے جو اُسے پورا کرنا ہے۔۔۔۔جنت نے اُسے تفصیل سے بتایا
اور بگ بوس نے اُسے اکیلے بھیج دیا۔۔۔۔۔انفا نے حیرت کا اظہار کیا
نہی اُنہوں نے کہا کسی فیمیل کو ساتھ لے کر جا سکتا ہے مگر یو نو ابیہا کا ابھی جانا ممکن نہی ہے کیوں کے اُسکے بابا نے نہی ماننا مجھے افہام نے ایک اور کیس میں پھسا دیا ہے اسکے بعد اور باقی بچی تم تو میں نے اُسے کہا تھا مگر اس نے کہا کہ جب وہ میرے ساتھ رہنا ہی نہی چاہتی ایک منٹ تو اُسکا سکون سے میرے ساتھ گزرتا نہی ہے تو دو مہینے کیسے گُزرے گا اسی لیے تم سے اس نے پوچھا بھی نہی اکیلا ہی جا رہا ہے ۔۔جنت نے اُسے ڈیٹیل سے بات بتائی جبکہ ہائم نے اس نے ایسی کوئی بات نہیں کی تھی انفكٹ اس نے تو اس سب میں انفا کا نام بھی نہی لیا تھا مگر جنت اور حدید یہاں ابیہا کے پلان کے کہنے کے مطابق ائے تھے
اچھا چلو صحیح ہے ہمارے کیس کا کچھ بنا۔۔۔۔انفا نے بات کا رخ موڑا
ہاں کچھ نہی بس یہی بتانے ائے تھے اب چلتے ہیں چلیں حدید۔۔۔۔۔جنت نے اٹھتے ہوئے حدید سے پوچھ تو وہ بھی اُسکی پیروی میں دروازے کی طرف ہو لیا
وہ دونوں نکلے تو انفا واپس روم میں ائی
دو مہینے۔۔۔۔۔ہمم۔۔۔انفا لیتی ہوئی بولی
بندہ بتا ہی دیتا ہے۔۔۔۔یہ شکوہ ابیہا سے تھا جس نے اُسے کوئی خبر نہ سے تھی اس بات کی
یہ تمام دن کیسے گُزرے اُن میں سے کسی کو پتہ نہ چلا تھا وہ سب ہی اپنی اپنی جگہ تیار تھے
آر یو ال ریڈی۔۔۔۔یہ ۹ فروری کا دن تھا وقت صبح فجر کا تھا جب افہام نے اُن سب سے پوچھا جو مکمل طور پر تیار کھڑے تھے
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💕💕

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *