The Night Stalkers by Bisma khan NovelR50797 The Night Stalkers by Bisma khan Episode29
No Download Link
595.5K
32
Rate this Novel
The Night Stalkers by Bisma khan Episode01 The Night Stalkers by Bisma khan Episode02 The Night Stalkers by Bisma khan Episode03 The Night Stalkers by Bisma khan Episode04 The Night Stalkers by Bisma khan Episode05 The Night Stalkers by Bisma khan Episode06 The Night Stalkers by Bisma khan Episode07 The Night Stalkers by Bisma khan Episode08 The Night Stalkers by Bisma khan Episode09 The Night Stalkers by Bisma khan Episode10 The Night Stalkers by Bisma khan Episode11 The Night Stalkers by Bisma khan Episode12 The Night Stalkers by Bisma khan Episode13 The Night Stalkers by Bisma khan Episode14 The Night Stalkers by Bisma khan Episode15 The Night Stalkers by Bisma khan Episode16 The Night Stalkers by Bisma khan Episode17 The Night Stalkers by Bisma khan Episode18 The Night Stalkers by Bisma khan Episode19 The Night Stalkers by Bisma khan Episode20 The Night Stalkers by Bisma khan Episode21 The Night Stalkers by Bisma khan Episode22 The Night Stalkers by Bisma khan Episode23 The Night Stalkers by Bisma khan Episode24 The Night Stalkers by Bisma khan Episode25 The Night Stalkers by Bisma khan Episode26 The Night Stalkers by Bisma khan Episode27 The Night Stalkers by Bisma khan Episode28 The Night Stalkers by Bisma khan Episode29 (Watching)The Night Stalkers by Bisma khan Episode30 The Night Stalkers by Bisma khan Episode31 The Night Stalkers by Bisma khan Last Episode
The Night Stalkers by Bisma khan Episode29
The Night Stalkers by Bisma khan Episode29
جازم اور باقی سب اسٹیج پر چڑھے فوٹو شوٹ میں بزی تھے جب ابیہا انفا اور جنت کے ہم قدم اتی ہوئی نظر ائی
وہ اس وقت آسمانی رنگ کے جوڑے میں ملبوس تھی جس کے بارڈر پر گرے کلر سے کام کیا گیا تھا ساتھ ہی سر کو ڈوبتے سے کور کیا گیا تھا
بال اُسکے کھلے چھوڑے گئے تھے جن میں سے کچھ شریر لٹیں اُسکے ڈوبتے میں سے باہر جھانک رہی تھیں ساتھ ہلکا سا پنک کلر میں میک اپ کیا گیا تھا جو اُسکے معصوم چہرے کو مزید پُر کشش بنا رہا تھا
ساتھ جنت میرون کلر کے سوٹ جبکہ انفا مہندی کلر کے سوٹ میں ملبوس تھی بال دونوں کے ہی کھولے گئے تھے جبکہ ڈوبتے ایک طرف کندھے پر ڈالے گئے تھے
دوسری طرف ہماری لڑکا پارٹی بھی فل تیار تھی
جازم اس وقت گرے شلوار قمیض کے ساتھ بلیک ویسٹ کوٹ پہنے ہوا تھا
جبکہ حدید،ہائم،سعد تینوں نے ہی بلیک شلوار قمیض کے ساتھ گلے میں میرون رنگ کے پٹکے ڈالے ہوئے تھے
حماس سمپل بلیک پینٹ اور وائٹ شرٹ میں ملبوس تھا جبکہ افہام نے بھی شلوار قمیض کیری کی تھے جو میرون کلر کی تھی وہ سب ہی لاجواب لگ رہے تھے جبکہ ابیہا تو کوئی آسمان سے اُتری ہوئی پری معلوم ہو رہی تھی وہ جنت اور انفا کے ساتھ آہستگی سے چلتی اسٹیج تک ائی اور انفا کی مدد سے اسٹیج پر چڑھی اُسے جازم کے ساتھ والے صوفہ پر بٹھایا گیا وہاں صرف سنگل صوفے رکھے گئے تھے
دو درمیان میں اور دو سائڈ پر
درمیان سے صوفوں پر جازم اور ابیہا بیٹھے تھے جبکہ باقی دونوں صوفے خالی تھے
کچھ دیر بعد منگنی کی رسم شروع ہوئی تو ابیہا کی مما انگوٹھیاں لے کر اسٹیج پر ائیں اُسکے مما بابا ساتھ والے صوفوں پر براجمان ہوئے تو منگنی کی رسم شروع کی گئی پہلے ابیہا کے بابا نے جازم کو انگوٹھی پہنائی پھر اُسکی مما نے ابیہا کو اس طرح یہ رسم سرانجام دی گئی
رسم کے ساتھ سب آبی اور جازم کے ساتھ فوٹو بنانے کے لیے اسٹیج پر آ رہے تھے اسی لیے وہ سب ہی نیچے اُتر ائے
انفا ایک ٹیبل کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑی تھی جب حدید اُسکے ساتھ آ کر کھڑا ہوا
یہ کیا فضول منگنی تھی اس سے تو تم لوگوں کی اچھی تھی۔۔۔حدید نے اپنی رائے پیش کی تو انفا نے رُخ اُسکی طرف کیا
کیوں اس میں کیا فضول تھا۔۔۔انفا نے اسٹیج کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
کیا یار انہوں نے ایک دوسرے کو انگوٹھیاں بھی نہی پہنائیں۔۔ حدید نے منہ بنا کے کہا تو انفا کی ہنسی چھوٹ گئی
تو کونسا تمہاری ہوئی ہے جو تمہیں افسوس لگا ہوا ہے۔۔۔۔انفا نے اُسکی بات کا مذاق اڑایا
انشاء اللّہ میری بھی ہوگی فکر کیوں کرتی ہو۔۔۔۔حدید نے اوپر کی طرف دیکھ کر کہا تو انفا کو اور ہنسی ائی
یار تمہیں پتہ ہے نہ آبی کے بابا کتنے سخت ہیں وہ تو اُنہوں نے مما کے اسرار پر ہائم کو رنگ پہنانے کی اجازت دے دی تھی ادر وائز اُسکی مام نے ہی پہناني تھی رنگ مجھے۔۔۔۔انفا نے اسے وجہ بتائی تو وہ بس سر ہلا کر رہ گیا وہ کہہ بھی صحیح رہی تھی وہ سب جانتے تھے یہ بس ہائم ہی تھا جس نے آبی کو کھلی چھوٹ دے رکھی تھی ورنہ اُسکے مما بابا کافی سخت تھے ان معاملوں میں
ہائم نے اُسکے بابا کے مطابق شروع سے ہی اسکو سر پر چڑھا کر رکھا ہوا تھا
حدید ابھی وہی کھڑا انفا سے باتوں میں مصروف تھا جب ہائم بھی اُنکے ساتھ آ کر کھڑا ہو گیا
انفا نے اُسکے انے پر منہ بگاڑا جو ہائم کے ساتھ ساتھ حدید نے بھی خوب محسوس کیا
کیا کر رہے ہو۔۔۔ہائم نے اُنکے ساتھ کھڑے ہوتے ہوئے پوچھا
انفا نے تو جواب دینا بھی ضروری نہیں سمجھا تو حدید نے اُسے وہی بات بتائی جو اُسنے ابھی انفا سے کی تھی
ہائم سے بات کرتے کرتے اچانک وہ باتوں باتوں میں اُسکا کندھا تھپک کر موقع سے غائب ہوا
تمہارا کیوں منہ پھولا ہوا ہے۔۔۔اُسکے جاتے ہی ہائم نے انفا سے سوال کیا
جس پر انفا نے ایک کٹیلی نگاہ اس پر ڈالی اور پھر سامنے دیکھنے لگی وہ اس وقت ہائم کو مکمل طور پر ایگنور کر رہی تھی
ایسی بھی کوئی بات نہیں کہی تھی میں نے جو تم نے ایسا باسی منہ بنایا ہوا ہے۔۔۔۔۔ہائم نے دوبارہ اپنا جملہ تھوڑا واضع کر کے دہرایا تو اس بار انفا کا چپ رہنا مشکل ہو گیا
یہ دونوں ساتھ کتنے اچھے لگ رہے ہیں نہ۔۔۔۔۔وہ کچھ بولتی اس سے پہلے ہائم اُسکی بات کاٹتے ہوئے بولا
ہاں بہت۔۔۔۔انفا نے بھی اُسکی ہاں میں ہاں ملائی وہ دونوں سچ میں ایک پرفیکٹ کوپل لگ رہے تھے
ہم بھی لگ سکتے ہیں اگر تم یہ فضول کی ضد چھوڑ دو ۔۔۔ہائم نے دوبارہ وہ ٹاپک چھیڑا جس سے ابھی ابھی وہ ہٹا تھا
جی نہی۔۔۔۔انفا نے مختصر جواب دیا تو اب ہائم نے رخ اسکی طرف موڑا
وہ کیوں۔۔۔۔اس نے کافی حیرت سے سوال کیا
بس میری مرضی۔۔۔۔یہ کافی بے تکا سا جواب تھا مگر ہائم نے کچھ نہ کہا
ویسے یہ ارحان کی بھی خواہش تھی ذرا غور کرنا اور ضرور کرنا۔۔۔۔یہ آخری لائن تھی جو ہائم نے اُسے کہی اُسکے بعد اُسکی ایک بھی سنے بغیر وہاں سے چلا گیا
انفا نے ایک منٹ کے لیے ابیہا اور جازم کی جگہ خود کو اور ہائم کو تصوّر کیا مگر پھر سر جھٹکا۔۔۔۔۔۔
مجھے ایسا نہی سوچنا۔۔۔۔اُسنے خود کو جھڑکا
مگر کیوں نہی۔۔۔۔اُسکے اندر سے آواز آئی
بس نہی۔۔۔وہ اونچی آواز میں بولی تو اُسکے پاس سے گزرتی ایک لڑکی نے مڑ کر اُسے دیکھا
سوری۔۔۔انفا نے غلطی نہ ہونے کے باوجود معزرت کی تو وہ لڑکی گردن جھٹک کر چلی گئی
بدتمیز۔۔۔۔انفا نے اُسکے بارے میں خود سے مختصر تبصرہ کیا
منگنی کا فنکشن ختم ہوا تو سب ہی اپنے گھروں کو نکل گئے بس انفا ایک ایسی تھی جو ابیہا کے ساتھ تھی وہ بھی اُسکی مما کے اسرار اور مگر پھر ۱۲ بجے تک وہ بھی گھر جانے کے لیے اٹھ کھڑی ہوئی
آنٹی اب میں چلتی ہوں ۔۔۔انفا نے آبی کی مما کے سامنے سر جھکاتے ہوئے کہا تو اُنہوں نے اُسکے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرا
بیٹا اس وقت کس کے ساتھ جا رہی ہو۔۔۔ہائم کے بابا جو ساتھ والے صوفے پر بیٹھے تھے اُنہوں نے انفا سے سوال کیا
انکل ٹیکسی کروا لوں گی کیوں کے گاڑی نہی لائی تھی میں اپنے ساتھ۔۔۔انفا نے اُنہیں تسلی سے بتایا
نہی بیٹا اتنی رات ہو گئی ہے اتنی رات کو ٹیکسی والے کے ساتھ جاؤ گی ہرگز نہی ہائم چھوڑ اتا ہے ۔۔۔۔۔اُنہوں نے صاف انکار کیا اور اُسے ایک نئی بات سنائی جس پر وہ رضا مند نہی تھی
نہی انکل میں چلی جاؤں گی کوئی بات نہی میں پہلے بھی اتی جاتی ہوں۔۔۔۔انفا نے انکار کرنا چاہا مگر وہ کسی صورت راضی نہ ہو رہے تھے
ہائم چلو اٹھو انفا کو گھر تک چھوڑ کر او اور جب تک یہ اپنے فلیٹ میں نہ چلی جائے واپس نہ انا دھیان سے بچی کو گھر چھوڑ کر او اور ہاں آرام سے چلانا گاڑی۔۔۔اُنہوں نے ہائم کو ایک ساتھ اتنی نصیحتیں کی کے وہ چکرا کر رہ گیا مگر پھر جی کہنے پر اکتفا کیا
چلیں۔۔۔۔وہ چابی اٹھاتا انفا کے پاس آ کر رکا اور اُسے چلنے کا اشارہ کیا تو وہ بھی مجبوراً انکل کو سلام کرتے اُسکے ساتھ ہو لی
وہ گیراج میں پہنچی تو ہائم گاڑی کا فرنٹ ڈور کھولے اُسی کے انتظار میں تھا
میں پیچھے بیٹھ جاؤں گی۔۔۔انفا نے اُسکو فرنٹ ڈور کھولے دیکھ کہا تو ہائم کے چہرے کے تاثرات بگڑے
مس میں تمھارا ڈرائیور نہی ہوں سمجھیں اسی لیے آگے بیٹھو۔۔۔۔ہائم نے تو اُسے جھاڑ ہی دیا تھا کے وہ چپ کر کے آگے والی سیٹ پر بیٹھ گئی ہائم اسکی طرف کا دروازہ بند کرتا ڈرائیوانگ سیٹ پر براجمان ہوا تو انفا نے اپنا رخ ونڈو کی جانب موڑ لیا
ابھی اُنہیں چلتے کچھ ہی منٹ ہوئے تھے جب گاڑی میں قائم خاموشی کو ہائم کی آواز نے توڑا
تم کتنے نخرے کرتی ہو انفا توبہ ہے ارحان پتہ نہیں کیسے برداشت کرتا ہوگا ۔۔۔ہائم اُسکے بلا وجہ کے اٹیوٹیوٹ سے تنگ آ گیا تھا اسی لیے اب بول ہی پڑا
میں ارحان کو نخرے نہی دکھاتی تھی۔۔۔۔انفا نے فوراً اپنا دفع کیا
تو مجھ پر کچھ خاص عنایت ہے کیا۔۔۔۔ہائم نے چڑ کر کہا تو انفا نے بھی اپنے لہجے پر غور کیا وہ فضول میں ہائم کے ساتھ بگڑ رہی تھی
نہی بس کچھ نہی۔۔۔۔انفا نے بات ختم کرنا چاہی مگر شاید ہائم کا ارادہ آج ساری بات ہی ختم کرنے کا تھا اُسنے ایک جھٹکے سے گاڑی روڈ کے سائڈ پر روکی
کچھ نہی کیا سیدھی طرح بات نہی ہوتی تم سے کیا مسئلہ ہے تمہیں مجھ سے میں کیا تمہیں کچھ کہتا ہوں ہاں۔۔۔۔ہائم اب پوری طرح اپنی سیٹ پر مڑ چکا تھا اُسکا رخ انفا کی طرف تھا
نہی ایسا کچھ نہیں ہے ۔۔انفا نے دوبارہ مختصر جواب دیا
اب ایک بار تم نے یہ جملہ اور بولا نہ تو قسم سے میں کچھ کر دوں گا۔۔۔۔ہائم اب غصے سے بولا
میرا مطلب ہے کچھ نہی ہے بس مجھے تم سے شادی نہی کرنی۔۔۔انفا نے بھی اب صاف الفاظ میں انکار کیا ایسے تو پھر ایسے ہی سہی
کیوں ایک بار تم مجھے کوئی سولڈ وجہ بتا دو میں خود یہ منگنی توڑ دوں گا۔۔۔۔ہائم نے اب تحمل سے پوچھا
نہی کوئی بھی وجہ نہی ہے بس ایسے ہی۔۔۔۔۔انفا نے دوبارہ وہی جملہ دوہرایا تو ہائم اپنا سر پکڑ کر رہ گیا
وجہ بتاؤ انفا وجہ۔۔۔۔ہائم نے اپنا جملہ دوبارہ ادا کیا
اُف نہی ہے کوئی وجہ۔۔۔۔انفا بھی اُسکے بار بار ایک ہی سوال سے چڑ گئی تھی اسی لیے بلند آواز میں بولی
تو میں بھی یہ منگنی نہی توڑوں گا سمجھ ائی۔۔۔۔ہائم کا بھی اب پارا ہائی ہوا تھا
کیوں۔۔۔۔انفا اچانک اُسکی طرف مڑی
میری مرضی ایسے ہی ۔۔۔ہائم نے اسی کے جملے اُسے کو لوٹائے اور گاڑی سٹارٹ کی وہ حد سے زیادہ سپیڈ پر ڈرائیو کر رہا تھا
انفا ایک سے دو بار اُسے ٹوک چکی تھی مگر اس اور کوئی اثر نہ ہوا تھا انفا کے فلیٹ کے سامنے اُسنے گاڑی ایک جھٹکے سے روکی تو وہ ڈیش بورڈ سے ٹکراتے ٹکراتے بچی
پاگل ہو میں انکل کو بتاؤں گی کے تم نے کیسے جنگلیوں کی طرح گاڑی چلائی ہے۔۔۔۔انفا سیدھی ہونے کے بعد اس پر چیخی اُسے ایسے لگ تھا تھا جیسے آج اُسکا اس دنیا میں آخری دن ہو
کیوں بتاو گی تمہارا اُن سے کیا رشتا۔۔۔۔ہائم نے منہ بگاڑ کر سوال کیا انداز اتنا نورمل تھا جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو
میرے بابا کی طرح ہیں وہ سمجھ ائی۔۔۔۔انفا دوبارہ بلند آواز میں چیخی
وہ میرے بابا ہیں ۔۔۔ہائم نے جیسے اُسے احساس دلایا
چپ کرو۔۔۔۔انفا کہتی گاڑی سے اُتری اور زور سے گاڑی کا دروازہ مارا
اور پھر جب تک وہ گھر میں انٹر نہی ہو گئی ہائم وہاں سے نہی ہلا
اس نے اپنا غصّہ دکھانے کے لیے فلیٹ کا دروازہ بھی پوری قوت سے مارا
پاگل۔۔۔۔ہائم نے منہ میں کہا اور پھر گاڑی سٹارٹ کی اُسے گھر بھی پہنچنا تھا
گھر پہنچتے ہی اُسے ابیہا کا سامنا ہوا جو شائد دروازے میں ہی کھڑی تھی اُسکے انتظار میں
یہاں کیوں کھڑی ہو؟ہائم نے اُسے مستقل وہی کھڑے دیکھ پوچھا
کیا بات ہوئی انفا سے مان گئی وہ۔۔۔۔ابیہا نے بےچینی سے پوچھا
تم تب سے یہاں ان کپڑوں میں یہ پوچھنے کے لیے کھڑی ہو۔۔۔ہائم نے اُسکے بھاری کام دار سوٹ کی طرف اشارہ کیا
ہاں تو اور کیا اب بتائیں نہ۔۔۔۔ابیہا نے ایک دفعہ پھر پوچھا تو ہائم نے سر نفی میں ہلایا
یار یہ کتنی ضدی لڑکی ہے ایسا شہزادے جیسا لڑکا اُسے اور کہاں ملے گا حد ہے۔۔۔۔ابیہا منہ بسورتی اندر چلی گئی تو ہائم بھی ایک مسکراہٹ کے ساتھ اندر داخل ہوا ایک منٹ میں ابیہا نے اُسکا موڈ ٹھیک کر دیا تھا جو انفا اچھا خاصا خراب کر چکی تھی
ایک بات بتاؤ وہ دونوں سیڑھیاں چڑھ رہے تھے جب ہائم نے اس سے کہا
ہمم۔۔پوچھیں۔۔۔۔ابیہا نے اجازت دی
تم آج خوش ہو یا نہی مطلب جازم ٹھیک ہے یا نہیں۔۔۔۔ہائم پتہ نہیں اس سے کیا پوچھنا چاه رہا تھا
ہمم ٹھیک ہیں وہ بھی مگر آپ جیسے نہی ہیں کافی سڑیل مزاج ہیں باقی سب صحیح ہے۔۔۔۔ابیہا نے کافی نورمل انداز میں اپنی رائے پیش کی
اور تمہیں لگتا ہے انفا میرے ساتھ خوش رھے گی میرا مطلب میں اُسے خوش رکھ پاؤں گا کیوں کہ مجھ سے زیادہ لڑکیوں کے نخرے برداشت نہی ہوتے اور وہ وہ تو بہت نخرے دکھاتی ہے۔۔۔ہائم نے روم کا ڈور کھولتے ہوئے کہا
نہی ایسا نہی ہے انفیکٹ آپ دونوں کافی خوش رہیں گے اور وہ زیادہ نخرے نہی کرتی بس آپ اپنے قول سے پھر رہے ہیں اسی لیے اُسے غصّہ آ رہا ہے میں تو کہتی ہوں ایگنور کریں۔۔۔ابیہا نے اُسے ایک مخلصانہ مشورہ دیا
ہمم لگتا ہے یہی کرنا پڑے گا۔۔۔۔ہائم نے بھی پر سوچ انداز میں کہا اس کے علاوہ کوئی اور راستہ بھی تو نہی تھا اُسے انفا کو وقت دینا چاہیے تھا سب کچھ سمجھنے کے لیے لیکن انفا کے ایک جملے سے یہ تو وہ جان گیا تھا کے وہ اس رشتے کو قبول تو کر چکی ہے مگر یہ ماننے کو تیار نہیں ہے اُسنے ہائم کو اُسکے بابا کی دھمکی دی تھی اور اُنہیں اپنے بابا کہا تھا یعنی وہ اس سے جڑے رشتوں کو اکسیپٹ کر رہی تھی مگر اُسکو نہی یعنی اب بس ایک ہی قدم باقی تھا جو انفا کو اٹھانا تھا اور اس میں ہائم کو اُسکی مدد کرنی تھی
یہی سوچتے ہائم کو پتہ ہی نہ لگا کے آبی کب اُسکے روم سے چلی گئی تھی وہ فوراً اٹھا اور اُسکے کمرے میں چیک کیا جہاں وہ کمبل میں دبکی سوئی ہوئی تھی
ہائم اپنے کمرے میں آیا اور چینج کرنے کے بعد خود بھی لیٹ گیا سوچتے سوچتے وہ کب نیند کی وادیوں میں گم ہوا اُسے کچھ اندازہ نہ ہوا
اگلے دن ابھی وہ دونوں ناشتے سے ہی فارغ ہوئے تھے جب ہائم کو افہام کی کال ائی وہ
ناشتے کی ٹیبل سے معزرت کرتا ہوا اٹھا اور سائڈ پر آ کے فون اٹھایا
ہاں افہام بولو۔۔۔۔ہائم نے فون اٹھاتے ساتھ فون کیے جانے کی وجہ دریافت کی
تم دونوں یہاں پہُںچو فوراً میرے فلیٹ میں۔۔۔۔افہام یہ کہہ کر فون رکھ چکا تھا
ہائم ایسے اُسکے فوراً بلانے پر تھوڑا پریشان ہوا مگر پھر اپنے آپ کو نورمل کرتا کھانے کی میز پر واپس آیا
ابیہا اٹھو ہمیں ابھی نکلنا ہے۔۔۔۔ہائم نے جیسے آرڈر دیا تھا
کیوں۔۔۔ابیہا نے بیٹھے بیٹھے سوال کیا تو ہائم نے اُسے آنکھوں ہی آنکھوں میں چُپ رہنے ایک اشارہ کیا وہ سمجھ گئی تھی کوئی مسئلہ ہے اسی لیے کوئی بھی بحث کیے بغیر جا کر اپنا بیگ لے ائی
بیٹا اس وقت اتنی جلدی میں کہاں جا رہے ہو ۔۔۔ہائم کے بابا نے اس سے پوچھا جو اب گاڑی کی چابی پکڑے آبی کا انتظار کر رہا تھا
بابا وہ جنت بھابھی کی طبیعت خراب ہے وہاں جانا ہے ۔۔ہائم نے اپنے سے بہانہ لگایا ابیہا ائی تو وہ دونوں فوراً نکلے
کیا ہوا ہے بھائی۔۔۔۔ہائم نے گاڑی روڈ پر ڈالی تو آبی نے اس سے پوچھا
مجھے نہی پتہ بس افہام نے جلدی بلایا ہے۔۔۔۔ہائم نے اتنا کہا اور اپنا فوکس ڈرائیونگ پر کیا خدا جانے اب کیا ہوا تھا
وہ لوگ اگلے پندرہ منٹ میں افہام کے گھر تھے اگے سب ہی موجود تھے اُنکے پہنچتے ہی سب ڈائننگ ٹیبل کی طرف بڑھے
کیا ہوا ہے ۔۔ہائم نے اپنی جگہ سنبھالتے ہوئے پوچھا
کیس ڈسکس کرنا ہے کوئی تو ثبوت ہونا چاہیے اسکو پکڑنے کا۔۔وہ اکرم پاشا اج اس کی وجہ سے ایک اور لڑکی ماری گی ہے۔۔۔افہام کافی ٹینشن میں لگ رہا تھا
تو کیسے پکڑنا ہے کوئی ثبوت ہے اُسکے خلاف۔۔۔۔۔ہائم نے اُسکی بات کی مخالفت کی
نہی نہی ہے ثبوت اور یہی مسئلہ ہے کچھ تو کرنا پڑے گا۔۔۔افہام نے اپنا سر ہاتھوں میں گرا لیا اس وقت وہ سب ہی مشکل میں تھے
کیا کریں گے۔۔۔ابیہا نے بھی حصہ لیا
آبی یہ بیگ تمہارے پاس تھا۔۔۔جنت کی نظر اچانک ابیہا کے بیگ پر پڑی
ہمم لاسٹ ٹائم آپ نے مجھے پکڑا دیا تھا تو میں نے رکھ کی لیا۔۔۔۔ابیہا نے بیگ ٹیبل پر رکھا
یہ تو حوریہ کا بیگ ہے نہ۔۔۔۔ہائم نے بیگ کو پہچانا
ہمم اُسی کا ہے ۔۔۔ابیہا نے بھی حامی بھری
آبی یہ کی چین تم نے لگائی ہے اس پر۔ ۔۔جنت نے اس سے ایک اور سوال کیا
نہی نہی میں نے نہی لگائی جب اس بیگ کی تلاشی لی تھی تو اسکے اندر سے نکلی تھی۔۔۔۔ابیہا نے اُسے کی چین کے بارے میں بتایا
جنت یہ وقت ان باتوں کا نہی ہے۔۔۔۔۔افہام نے اُسے جھڑکا
یہ مجھے دکھاؤ۔۔۔جنت نے اس سے بیگ پکڑا اور اُسے غور سے دیکھا
اس میں لگی کی چین جو کے ایک فلوفی ٹیڈی تھا اُسکی ایک آنکھ غائب تھی
جنت نے فوراً سے پہلے وہ کی چین بیگ سے الگ کی
وہ سب ہے کافی غور سے جنت کو دیکھ رہے تھے
کیا ہے۔۔۔ہائم نے اُسے ٹیڈی کو پھاڑتے دیکھ سوال کیا
رکو۔۔۔جنت نے مختصر جواب دیا اور اپنے کام میں مشغول ہو گئی
اور پھر ایک منٹ بعد جنت کی چیخ برآمد ہوئی
کیا ہوا ہے۔۔۔حدید اچانک اُسکے چیخنے سے ڈر گیا تھا
یہ یہ سعد یہ وہی چپ ہے جو تم نے حوریہ کو دی تھی۔۔۔۔جنت نے ایک چھوٹی سی چورس چپ سعد کے سامنے کی تو اسکی باچھیں کھل اٹھیں
یہ یہ تو وہی ہے افہام بھائی یہ وہی چپ ہے جو بابا نے دی تھی بھائی یہ وہی ہے۔۔۔۔۔سعد تو خوشی سے بے قابو ہو گیا تھا
Janat you are the best yaar!
حدید نے خوشی میں اُسکے سمیٹے ہوئے بال بکھیرے
اسکو فوراً چلاو جلدی کرو۔۔۔۔اچانک ہی ماحول میں ایک خوشی کی لہر ڈھوڑی
جنت فوراً سے پہلے اپنا لیپ ٹاپ اٹھا کر لائی اور چپ کو اس میں لگایا
یہ سب اُن کے لیے غیر متوقع تھا
اسی لیے سب ہی کچھ زیادہ ہی خوش تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ویڈیو سٹارٹ ہوئی تو پہلا منظر جو اُنکی آنکھوں کے سامنے آیا اس میں روبینہ ،اکرم پاشا،حیدر اور ایک انجان آدمی سب ہے کسی بڑے سے کمرے میں بیٹھے ہوئے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


