The Night Stalkers by Bisma khan NovelR50797 The Night Stalkers by Bisma khan Episode09
No Download Link
595.5K
32
Rate this Novel
The Night Stalkers by Bisma khan Episode01 The Night Stalkers by Bisma khan Episode02 The Night Stalkers by Bisma khan Episode03 The Night Stalkers by Bisma khan Episode04 The Night Stalkers by Bisma khan Episode05 The Night Stalkers by Bisma khan Episode06 The Night Stalkers by Bisma khan Episode07 The Night Stalkers by Bisma khan Episode08 The Night Stalkers by Bisma khan Episode09 (Watching)The Night Stalkers by Bisma khan Episode10 The Night Stalkers by Bisma khan Episode11 The Night Stalkers by Bisma khan Episode12 The Night Stalkers by Bisma khan Episode13 The Night Stalkers by Bisma khan Episode14 The Night Stalkers by Bisma khan Episode15 The Night Stalkers by Bisma khan Episode16 The Night Stalkers by Bisma khan Episode17 The Night Stalkers by Bisma khan Episode18 The Night Stalkers by Bisma khan Episode19 The Night Stalkers by Bisma khan Episode20 The Night Stalkers by Bisma khan Episode21 The Night Stalkers by Bisma khan Episode22 The Night Stalkers by Bisma khan Episode23 The Night Stalkers by Bisma khan Episode24 The Night Stalkers by Bisma khan Episode25 The Night Stalkers by Bisma khan Episode26 The Night Stalkers by Bisma khan Episode27 The Night Stalkers by Bisma khan Episode28 The Night Stalkers by Bisma khan Episode29 The Night Stalkers by Bisma khan Episode30 The Night Stalkers by Bisma khan Episode31 The Night Stalkers by Bisma khan Last Episode
The Night Stalkers by Bisma khan Episode09
The Night Stalkers by Bisma khan Episode09
گاڑی میں سے دو آدمی نکلے تھے ایک کافی ہٹا کٹا جبکہ دوسرا اسکے مقابلے میں دُبلا پتلا تھا۔۔۔
اعضاء نے اپنا ہیلمیٹ اُتار کر بائک کے ہنڈل کے ساتھ لٹکایا وہ ابھی بائک سے نیچے نہی اُتری تھی اس میں سے ایک آدمی نے جو کافی صحت مند تھا اعضاء کا بازو پکڑ کر اُسے کھینچا تو وہ فوراً بائک سے نیچے اُتری۔۔۔
Hey idiot!what are you doing??
اعضاء کا دل کیا ایسے ہاتھ لگانے پر وہ اُسکا ہاتھ توڑ دے مگر وہ برداشت کر گئی
یہ کیا بول رہی ہے انور؟؟اس آدمی نے کمزور والے آدمی سے پوچھا
صاحب جی انگریزی بول رہی ہے۔۔۔انور نے جواب دیا
وہ تو مجھے بھی پتہ ہے میں نے پوچھا ہے کیا بولا ہے اسنے۔۔۔اس آدمی نے انور کو گریبان سے پکڑ کر جھنجھوڑا
صاحب جی کہہ رہی ہے کے پاگل کیا کر رہا ہے۔۔انور نے ڈرتے ڈرتے اعضاء کی بات کا مطلب بتایا جسے سن کر اُسکی اُمید کے مطابق انور کو ایک مکہ رسید ہوا
Hey I’m talking to you!Who the hell are you؟
اعضاء میں اسکے سامنے چٹکی بجائی
کیا کہ رہی ہی یہ۔۔وہ آدمی پھر بولا
صاحب جی بیبی انے والی ہیں وہ خود بات کر لیں گی۔۔۔انور نے مطلب بتانے سے انکار کیا وہ مطلب بتا کر اپنی شامت نہی بولنا چاہتا تھا
ہاں لڑکی تم کس کے لیے کام کرتی ہو۔۔۔انور نے اعضاء سے پوچھا
میں اپنے لیے کام کرتی ہوں۔۔۔اعضاء نے پھرتی سے جواب دیا
کیا مطلب۔۔انور نے اس سے بات کا مطلب پوچھا
مطلب میں صرف گھومتی پھرتی ہوں۔۔اعضاء نے اپنے آگے ائے بال جھٹکے سے پیچھے پھینکے
جھوٹ مت بول بتا کس کے لیے میڈم کی جاسوسی کر رہی تھی ہاں۔۔۔۔اس دوسرے آدمی نے اعضاء کو چہرے سے پکڑا اور بس اعضاء کی برداشت یہیں تک تھی اُسنے اس آدمی کا ہاتھ پکڑا اور جھٹکے سے مروڑ دیا۔۔
اہ اہ اہ۔۔ابے پاگل یہ کیا کیا تو نے رک ابھی بتاتا ہوں۔۔۔وہ آدمی کہتا اعضاء کی طرف بڑھا
یہ کیا ہو رہا ہے میں نے تم لوگوں سے کہا تھا کہ اسے عزت کے ساتھ لانا اور تم لوگ یہاں اس معصوم کے ساتھ ہاتھا پائی کر رہے ہو نوٹ فیئر۔۔۔وہ آدمی ایک مردانا آواز پر پیچھے ہٹا اعضاء نے مڑ کر دیکھا تو اسکے پیچھے ایک عورت کھڑی تھی مگر آواز سے اُسے کوئی مرد لگا تھا
Who are you mam?And yah what’s his problem?
اعضاء نے ایک سرد نگاہ اس آدمی پر ڈالی اور حائمہ سے پوچھا
اس کی کوئی پروبلم نہی ہے بس مجھے تمہیں کہیں لے کر جانا ہے۔۔۔حائمه رائے نے اپنا لہجہ میٹھا کیا
مگر میں آپکے ساتھ کیوں جاؤں گی۔۔اعضاء نے اُسکی بات رد کی
کیوں کے ڈیئیر میں تمہیں لیے بنا یہاں سے نہی جاؤں گی میں جانتی ہوں تم میرے پیچھے ائی ہو مگر کس کے کہنے پر یہ تو تم مجھے بتاؤ گی نہ۔۔۔ہائمہ نے اعضاء کے چہرے پر ائی لٹ کھینچی
میرے منہ پر پاگل لکھا ہے کیا۔۔۔اعضاء نے اپنی درمیانی انگلی اپنے چہرے کے سامنے گھمائی
نہی دیئیر مگر اگر تم مجھے نہی بتاؤ گی تو اور بہت کچھ لکھا جائے گا۔۔۔ہائمہ نے سیدھی دھمکی دی
چلو پھر دیکھتے ہیں کون اپنے مقصد میں کامیاب ہوتا ہے۔۔۔۔اعضاء نے کہہ کر دونوں ہاتھ ہوا میں اٹھا دیے
یعنی وہ اسکے ساتھ چلنے کے لیے تیار تھی اعضاء کے پاس اور کوئی آپشن بھی نہی تھا یہاں سے کسی بھی صورت بھاگا نہی جا سکتا تھا
ہائمہ نے گاڑی کا پچھلا دروازہ کھولا تو اعضاء بیٹھ گئی
کوئی آدھے گھنٹے بعد وہ لوگ ایک گھر کے سامنے کھڑے تھے یہ گھر تھوڑے ویرانے میں تھا۔۔۔اس پاس کوئی اور گھر نہی تھا اور بس ایک دو خالی پلاٹس تھے
وہ لوگ اندر گئے تو سارا گھر گرد سے بھرا پڑا تھا ہائمہ نے ایک کمرے کا دروازہ کھولا اور اعضاء کو اندر دھکا دیا
اندر بھی ایک نائٹ بلب کے علاوہ اور کوئی روشنی نہی تھی فون وہ اعضاء کا راستے میں ہی پھینک چکے تھی مگر اُسکے ہاتھ میں انسرٹ کی گئی چپ سے وہ لوگ اُسکا پتہ لگا سکتے تھے
افہام اب کیا کرنا ہے اعضاء کی لوکیشن رک گئی ہے وہ کسی ویران سی جگہ پر ہے مگر مسئلہ یہ ہے کہ وہاں پہنچتے تک آپ لوگوں کو ایک گھنٹہ لگ جائے گا اس سے پہلے نہی پہُںچ سکتے۔۔۔۔جنت نے وائر لیس کے ذریعے افہام کو بتایا
جازم،حدید تم دونوں لوکیشن پر پہنچو میں بھی وہی کے لیے نکل رہا ہوں جنت اُسکی لوکیشن کا دھیان رکھنا۔۔
ابیہا اور انفا تم دونوں بھی ساتھ جاؤ اگر کوئی ایمرجینسی ہوئی تو دیکھ لینا انفا۔۔۔۔حوریہ تم ہائمہ رائے کے بندوں کا پتہ کرو کتنے اس وقت منظر سے غائب ہیں۔۔۔تاکہ وہاں لوگوں کا اندازہ ہو سکے
وائر لیس میں افہام کی آواز گونجی اُسنے سروں کو اُنکے کام سمجھائے
اور خود بھی اعضاء کے پیچھے نکل گیا
اُنہیں کسی بھی صورت اعضاء کی بچانا تھا وہ ایک اور دوست کو کھونا برداشت نہیں کر سکتے تھے۔۔۔۔
اعضاء پانچ منٹ سے اسی کمرے میں بند تھی کے اچانک کمرے کا دروازہ کھلا اور وہی آدمی اندر ائے اُنکے پیچھے ہائمہ رائے بھی تھی۔۔
باندھو اسکو فوراً۔۔۔اُسنے اپنے آدمیوں کو حکم دیا اُن میں سے ایک نے اعضاء کو کرسی پر بٹھایا اور رسی سے باندھنے لگا اعضاء نے کوئی حرکت نہی کی تھی
ہاں تو لڑکی اپنا نام بتاؤ؟ہائمہ رائے نے اس سے پہلے سوال کیا
اعضاء فراز!اعضاء نے مختصر جواب دیا کسی بھی بحث کے بغیر
کیا کرتی ہو؟دوسرا سوال پوچھا گیا
بتایا تھا تمہارے اس نکھٹو کو گھومنا پھرنا شوک ہے میرا۔۔۔اعضاء نے ایک نظر اُس موٹے کو دیکھا
تم میری جاسوسی کر رہی تھی۔۔؟ہائمہ رائے نے پوچھا یا بتایا اعضاء کو سمجھ نہیں آیا
پوچھ رہی ہو یہ بتا رہی ہو۔۔اعضاء نے دل میں انے والی بات کہہ بھی دی
بتا بھی رہی ہوں اور پوچھ بھی رہی ہوں۔۔۔ہائمہ نے
شاطر مسکراہٹ کے ساتھ کہا
ہاں کر رہی تھی پیچھا تو۔۔۔اعضاء کافی کھلے طریقے سے بات کر رہی تھی
کیوں کر رہی تھی؟ایک اور سوال پوچھا گیا
یہ میرا مسئلہ ہے تمہارا نہی۔۔۔اعضاء نے بتانے سے انکار کیا
مسلہ میرا بھی ہی کیوں کے تم میرا پیچھا کر رہی تھی اب بتاؤ کیوں کر رہی تھی۔۔۔۔۔ہائمہ نے دوبارہ وہی سوال دوہرایا
اونچا سنتی ہو کیا؟کہا نہ نہی بتاؤں گی تو نہی بتاؤں گی جو مرضی کر کو تم کوئی انفارمیشن نہی نکلوا سکتی مجھ سے سمجھی۔۔۔اعضاء نے اونچی آواز میں کہا
انور لے کے اؤ چیزیں میڈم کا دماغ درست کرنا ہے۔۔ہائمہ نے انور کو کہا جو اسکے ساتھ ہی کھڑا تھا اور وہ فوراً جا کر چیزیں لے آیا
ہاں تو بتاؤ نہی تو تم جانتی ہو گی تمہارے ساتھ کیا ہوگا۔۔۔ہائمہ میں اسے ڈرانے کے کوشش کی اُسے ۲۰ سال کی لڑکی کو ڈرانا مشکل نہ لگا تھا مگر یہ کافی مشکل تھا
میں تمہارے ان اوزاروں سے نہی ڈرتی سمجھی جو کرنا ہے کر لو مر جاؤں گی مگر کچھ نہی بتاؤں گی۔۔۔اعضاء کا لہجہ پر اعتماد تھا کہیں بھی ڈر واضع نہیں ہوا تھا
کافی بہادر ہو لگتا ہے چلو دیکھتے ھیں کتنا درد سہ سکتی ہو۔۔۔ہائمہ میں اس آدمی کو اشارہ کیا تو وہ اعضاء کی طرف بڑھا
وہاں پڑی چیزوں میں سے اُسنے پلاس اٹھایا
آخری موقع دے رہی ہوں بتا دو۔۔۔ہائمہ نے ایک اور کوشش کی مگر اعضاء کی خاموشی اور اُسکی نڈر نظریں ہائمہ رائے کی بات کا جواب تھیں
اس آدمی نے اعضاء کا بندھا ہوا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا اور اُسکا ایک ناخن پلاس میں پھسایا اور اپنی پوری قوت لگا کر پلاس کھینچا۔۔۔۔
اسکے اس طرح کرنے سے اعضاء کا ناخن کر سے باہر آ گیا آپ سکن کے اوپر جہاں ناخن تھا وہاں سے خون رس رہا تھا۔۔۔
اور ہائمہ رائے پر اعضاء کی فلگ شفاف چھینکیں بھی اثر نہی کر رہی تھیں۔۔۔
اب بتاؤ گی۔۔۔۔ہائمہ نے اعضاء کے پاس آ کر پوچھا جس پر اعضاء نے شدید درد کے باوجود اُسکی آفر کی نفی کی وہ کسی بھی صورت افہام اور اپنی ٹیم سے کیا وعدہ نہی توڑ سکتی تھی
بختاور! ہائمہ رائے نے اس موٹے بندے کا نام لیا تو اُسنے وہی سلوک اعضاء کے دوسرے ناخن کے ساتھ کیا۔۔
درد کی شدت اتنی تھی کے اب اعضاء کی آواز بھی بند ہو چکی تھی آنکھیں مسلسل بہ رہی تھیں اور شاید وہ اپنے آخری وقت کا انتظار کر رہی تھی۔۔۔۔۔اُسے اپنی انگلیاں کٹتی ہوئی محسوس ہو رہیں تھیں ناخن جٹر سے کھینچا گیا تھا جس وجہ سے سارے ہاتھ میں درد کی ٹسیں اٹھ رہی تھیں۔۔۔
یا اللہ!مجھے موت دے دے۔۔اعضاء نے درد سے مجبور ہو کر اپنے لیے دعا کی کیوں کے اب تک بختاور اُسکے چار ناخن نکال چکا تھا ہر ناخن نکلنے کے بعد ہائمہ رائے اس سے سوال کرتی جس کا جواب وہ نفی میں سر ہلا کر دیتی۔۔۔
لڑکی تم میں تو کافی برداشت ہے ورنہ تو کوئی اور ہوتی تو ابھی تک مر چکی ہوتی۔۔۔ہائمہ نے اعضاء کا ایک طرف گرا چہرہ اپنے ہاتھوں کے پیالے میں لیا
اب بتا دو نہی تو آگے کا درد تم برداشت نہی کر پاؤ گی لٹل گرل۔۔۔ہائمہ نے اُسکا چہرہ پکڑ کر کہا
ک کچھ نن نہی بتا بتاؤں گ گی سم سمجھ سمجھی۔۔۔۔۔اعضاء نے زخمی مسکراہٹ کے ساتھ کہا اب تو اس سے مسکرایا بھی نہی جا رہا تھا
Okay!As you wish little girl….
اسکے بعد ہائمہ نے بختاور کو اشارہ کیا جو کمرے سے باہر چلا گیا
اعضاء کا منظر اب دھندلانے لگا تھا
اُسنے دیکھا بختاور ایک لمبا سا راڈ ہاتھ میں پکڑے اندر آیا۔۔۔اُسنے اُسے پیچھے سے پکڑ رکھا تھا جہاں سے وہ لکڑی کا تھا
وہ چلتا ہوا اعضاء کے پاس آیا اور وہ سلاخ اعضاء کے بازو میں گاڑھ دی اور وہ آخری چیز تھی جو اُسنے محسوس کی کوئی جلتی ہوئی چیز اُسکا بازو چیر رہی تھی ۔۔۔۔۔اور ایک چیخ کے بعد اعضاء کی گردن ایک طرف لٹک گئی۔۔۔۔
ابھی ہائمہ اُسکی طرف بڑھی ہی تھی کے انور باہر سے بھاگتا ہوا آیا اور اُسنے خبر دی کے باہر ایک پولیس کی گاڑی ائی ہے۔۔اور اسکے پیچھے دو تین اور گاڑیاں بھی ہیں۔۔۔
نکلو فوراً پیچھے کے راستے سے جلدی کرو۔۔۔۔ہائمہ نے فوراً قدم باہر کی طرف بڑھائے
انور اور بختاور دونوں اسکے پیچھے بھاگے
اور پانچ منٹ میں وہ تینوں وہاں سے نکل چکے تھے۔۔۔
افہام،حدید اور افہام سب سے پہلے اندر گئے۔۔اُنکے پیچھے ہی انفا اور ابیہا بھی تھیں
وائر لیس سب کے ایکٹیو تھے۔۔۔۔
افہام اعضاء کو فوراً ڈھونڈیں اُسکی ہرٹ بیٹ بہت سلو چل رہی ہے جلدی کریں۔۔۔۔جب جنت اُسمیں چیخی
ابیہا انفا جلدی ڈھونڈو سب الگ الگ جگہوں پر ڈھونڈو۔۔۔۔افہام نے فوراً جنت کی بات مانی
ابھی وہ لوگ آگے ہی بڑھے تھے کے حدید کی آواز نے انکو اپنی طرف متوجہ کیا ۔۔
اعضاء اعضاء۔۔!حدید نے جیسے ہی اعضاء کو دیکھا وہ فوراً بھاگتا ہوا اسکے پاس گیا
کرسی سر کے بل پیچھے گری تھی اُسنے فوراً چیئر سیدھی کی
حدید نے اُسکا چہرہ ایک دو بار تھپکا مگر جواب ندار۔۔۔
انفا چیک کرو اسکو ہرٹ بیٹ چل رہی ہے ابیہا اپنا سکارف دو جلدی۔۔۔حدید نے ساتھ کھڑی انفا سے کہا
انفا نے فوراً اُسکی ہرٹ بیٹ چیک کی جو کافی سلو چل رہیں تھی
حدید نے وہ سکارف اعضاء کے ہاتھ پر بندھا جہاں سے بھل بھل خون نکل رہا تھا
حدید اس کو جلدی ہوسپتل لے کر جانا پڑے گا۔۔۔انفا فوراً چیخی
اور پھر حدید کی مدد سے اُنہوں نے اُسے گاڑی میں لٹایا
ابیہا اُسکے ساتھ پیچھے بیٹھی جبکہ حدید اور انفا آگے حدید تو فوراً گاڑی سٹارٹ کی ہاسپٹل یہاں سے کم از کم ۱۵ منٹ کی دوری پر تھا
اعضاء ہوش کرو اعضاء دیکھو ہم آ گئے ہیں اعضاء۔۔۔ابیہا نے اُسکا چہرہ تھپتھپایا
انفا یہ تو آنکھیں نہیں کھول رہی کیا کریں۔۔ابیہا نے پہلی بار اپنے سامنے کسی کو ایسی کنڈیشن میں دیکھا تھا اُسکے تو ہاتھ پاؤں پھول رہے تھے
ابیہا یہ بیہوش ہے آنکھیں کیسے کھولے گی یار بس ت کوشش کرتی رہو حدید تھوڑا جلدی چلاؤ۔۔۔انفا نے آخر میں حدید سے کا جو پہلے ہی ایکسٹرا سپیڈ پر چلا رہا تھا
ہاں بس پانچ منٹ اور اس کے بعد ہم پہُںچ جائیں گے۔۔۔اُسنے اُن دونوں کو حوسلہ دیا یہ پھر شاید خود کو
اگلے 7 منٹ میں وہ لوگ ہسپتال کے سامنے تھے اُنہوں نے فوراً اعضاء کو سٹریچر پر شفٹ کیا اور اندر بھاگے اس وقت اُنکے لیے ایک سیکنڈ بھی قیمتی تھا کسی بھی وقت انفا کی ہرٹ بیٹ بند ہو سکتی تھی۔۔
حدید اور انفا فوراً آئی سی یو میں گئے اور ابیہا کو باہر رہنے کے لیے کہا
مگر شاید اللّٰہ کو کچھ اور ہی منظور تھا کچھ دیر کی کوشش کے بعد بھی اعضاء کی ہرٹ بیٹ نورمل نہ ہوئی اسکو ہوش بھی نہی آ رہا تھا شاید ان لوگوں نے جاتے وقت اُسکی کرسی کو دھکا دیا تھا اسی لیے پیچھے گرنے کے باعث اُسکے سر پر گہری چوٹ لگی تھی۔۔۔۔
باقی چوٹیں تو ریکور کی کا سکتی تھیں مگر اس کی وجہ سے اُنہیں مشکل پیش آ رہی تھی اس دوران انفا نے دو بار ابیہا کو آ کے تسلّی دی تھی کے اعضاء کو کچھ نہی ہوگا۔۔۔
مگر جب آدھے گھنٹے بعد وہ دونوں کچھ نرس سمیت باہر نکلے تو ابیہا کا دل حلق م آ گیا کیوں کے اُن دونوں کے چہرے پر مایوسی تھی
ک کیا بنا؟ابیہا نے انفا سے پوچھا جو ابھی حدید سے کچھ بات کر کے اس کی طرف ائی تھی
ابیہا ہم اُسے نہی بچا سکے۔۔۔۔انفا نے کسی مجرم کی طرح سر جھکا کر بتایا جیسے ساری غلطی اُسکی ہو
انفا مذاق کر رہی ہو نہ اعضاء کو کیسے کچھ ہو سکتا ہے۔۔۔۔ابیہا کی آواز میں بيقینی صاف واضع تھی
ابیہا یار سنبھالو خود کو…انفا نے اُسے کندھوں سے تھاما
کیا مطلب ہے سنبھالو خود کو ہاں کس طرح کے ڈاکٹرز ہو تم لوگ ہاں وہ وہ مر گئی ہے تم نے اُسے نہی بچایا ت تم کیسی ڈاکٹر ہو انفا ہاں تم نے اُسے مرنے دیا تم ایسے کیسے کر سکتی ہو ہاں بولو نہ چپ کیوں کھڑی ہو تم نے ارحان بھی کو بھی نہی بچایا تھا تم اعضاء کو بھی نہی بچا سکی۔بولو نہ چپ کیوں ہو اب میری بات کا جواب۔۔۔ابیہا اس بات کی پرواہ کیے کے وہاں بہت سے لوگ ہیں انفا کا ڈاکٹر کوٹ پکڑ کر اس پر چیخی اُسکا بس نہی چل رہا تھا دنیا اِدھر کی اُدھر کر دے
حدید جو نیچے کچھ فورمز فل کرنے گیا تھا اوپر آیا تو آگے کا منظر کہہ کر دہل گیا اُسنے فوراً آ کر انفا کو ابیہا سے آزاد کروایا
ابیہا بچے یہ کیا کر رہی ہو۔۔۔حدید نے اسکو پیچھے کرتے ہوئے کہا
بھائی آپ لوگوں نے اسکو کیسے مرنے دیا آپ لوگوں نے ایسا کیوں کیا وہ وہ میری اکلوتی دوست تھی میری بہنوں جیسی آپ لوگوں نے اُسے کیوں نہی بچایا۔۔۔۔۔ابیہا بولتے ہوئے گھٹنوں کے بل نیچے بیٹھ گئی آنسو اُسکی آنکھوں سے مسلسل جاری تھے ایسے جیسے کوئی آبشار ہو جو رکنے کا نام نہی لے رہی تھی
حدید اُسکے سامنے نیچے ہی گھنٹوں کے بل بیٹھا
ابیہا بچے اللّٰہ تعالیٰ نے اُسکا وقت ایسے ہی لکھا تھا میں تو کیا کوئی بھی اُسے نہی بچا سکتا تھا۔۔۔حدید نے اُسے تحمل سے سمجھایا وہ جانتا تھا دوست کو کھونے کا دکھ کیا ہوتا ہے
بھئیا لیکن ایسے کیسے آپ لوگ تو ڈاکٹرز ہیں نہ آپ لوگ تو اُسے بچا سکتے تھے نہ۔۔۔۔ابیہا کوسمجھ نہی آ رہا تھا وہ کیا بول رہی ہے
جی بچے ہم ڈاکٹرز ہیں مگر بیٹا ڈاکٹرز خدا نہی ہوتے نہ جو اللہ نے لکھا ہوتا ہے وہ ہونا ہی ہوتا ہے اور آپ رونا بند کرو ایسے رو گی تو اعضاء کو کتنی تکلیف ہوگی اپنے سوچا ہے۔۔۔۔حدید نے اُسے دوسری طرح سمجھایا کیوں ایسے وہ سنبھل نہی رہی تھی اور ابھی ہائم بھی شہر میں نہی تھا کہ اُسے سنبھال سکتا اسی لیے وہ دونوں اسے اور اعضاء کی ڈیڈ باڈی کو لیے کر افہام کے گھر چلے گئے
۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ سب ابھی آ کر بیٹھے تھے جنت سب کے لیے پانی
لائی باہر گرمی تو نہی تھی مگر سب کافی دور سے آ رہے تھے وہ لوگ اعضاء کی ڈیڈ باڈی اُسکے گھر پہنچا کر ابھی واپس ائے تھے انہوں نے اعضاء کے ماں باپ کو یہی بتایا جو سچ تھا۔۔۔
ہائم بھی اُن کے ساتھ ہی واپس آیا تھا ابیہا اب تک کافی سنبھل چکی تھی۔۔۔
اور انفا سے اپنے بے خیالی میں بولے گئے الفاظ کی معافی بھی مانگ چکی تھی جس پر انفا نے اُسے پیار سے سمجھایا کے وہ اس سے ناراض نہی تھی۔۔۔
مگر اعضاء اور ارحان کی کمی اُن سب کو شدت سے محسوس ہو رہی تھی آخر اس جوب کے چکر میں وہ سب ایک دوسرے سے کافی کلوز ہو چکے تھے
کیس پر اُنہوں نے اس دن سے کوئی کام نہیں کیا تھا سب اعضاء کو اُسکے گھر پہنچانے اور ابیہا کو سنبھالنے میں لگے تھے۔۔۔۔۔
اب انہیں آگے کا کام کرنا تھا جنت ہائمہ رائے کی کار میں لگے ٹریکر سے اُسکی اصل لوکیشن ٹریس کر چکی تھی اور کافی حد تک اُسکے بارے میں معلومات بّھی حاصل کر چکی تھی اور اسکے کام کی نوعیت بھی جان چکی تھی اب بس یونہی صحیح موقع کی تلاش تھی۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



