Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

The Night Stalkers by Bisma khan Episode12

The Night Stalkers by Bisma khan Episode12

صبح واک کے بعد جنت اور سعد گھر واپس ائے تو افہام گھر پر نہی تھا شاید اُسے کوئی کام تھا اسی لیے وہ جلدی نکل گیا تھا ۔
جنت ناشتا تیار کرنے کچن میں گئی تو سعد بھی لیپ ٹاپ لے کے اُسکے پیچھے ہی آ گیا
آپی ہائم کو کچھ کام تھا اسی لیے وہ اب نہال پر نظر نہی رکھ رہا افہام نے منع کر دیا ہے کے کہیں نہال کو شک نہ ہو جائے۔۔سعد نے رات کو ہائم سے پتہ چلنے والی بات بتائی
اچھا!ابھی تک مجھے نہی پتہ تھا۔۔جنت نے لا علمی کا اظہار کیا
ہمم!اور آپی آپ کو ایک بات بتاؤں مجھے لگتا ہے یہ بات ہمیں افہام بھائی کو بھی بتانی چاہیے کے ابھی ابھی نہال کی گاڑی گھر سے نکلی ہے۔۔۔سعد نے ابھی ابھی لیپ ٹاپ پر دیکھا تھا
سچی تو جلدی کال کرو افہام کو۔۔جنت نے فوراً چائے چھوڑ دی اور اپنا موبائل لینے بھاگی مگر پھر سعد کی آواز پر رک گئی۔۔آپی افہام بھائی فون نہی اٹھا رہے بلکہ اُن میں سے کوئی بھی کال نہی اٹھا رہا انفا نے اٹھائی تھی مگر وہ ڈیوٹی پر ہے نہی نکل سکتی اب کیا کریں
سعد نے اُسے ساری بات بتائی
سعد ہم ایسے نہی چھوڑ سکتے یار کیا پتہ وہ فہد سے ملنے جا رہا ہو ایک کام کرتے ہیں ہم خود چلتے ہیں۔۔۔جنت نے حل پیش کیا
لیکن آپی افہام بھائی نے ہم دونوں کو اس طرح کے کسی بھی کام میں حصہ لینے سے منع کیا ہے۔۔۔سعد نے اپنا ڈر واضع کیا
تو کیا اسکو ملنے دیں اتنا ہی خیال ہے تو فون اٹھا لیں میں خود بات کر لوں گی تم جاؤ گاڑی سٹارٹ کرو میں آ رہی ہوں۔۔جنت نے اُسے بھیجا اور خود اپنا بیگ لینے چلی گی افہام کے ڈرار میں سے اُسنے پرائیویٹ گن نکالی اور اپنے بیگ میں رکھی اپنا موبائل رکھا اور ایک ٹریکر اپنے سامان میں سے اٹھایا پھر لیپ ٹاپ لے کر نیچے کو بھاگی
اُسکے گاڑی می بیٹھتے ساتھ ہی سعد نے گاڑی دھوڑا دی۔۔۔
نہال کی گاڑی کسی بلڈنگ کے سامنے جا کر رومکی تھی سعد کی گاڑی اس سے بس چار پانچ منٹ کی مسافت پر تھی اُسکے گاڑی سے اترتے ہی سعد اور جنت بھی اپنی گاڑی سے اُترے اور آگے کا راستہ پیدل تہہ کیا
وہ دونوں اس طرح کا کام اپنی زندگی میں پہلی دفعہ کر رہے تھے بلڈنگ کے سامنے جا کر وہ دونوں ہی رک گئے
سعد جلدی سے فون نکالو اپنا اور ہاں میں آگے جاتی ہوں تم میرے پیچھے انا۔۔جنت نے کہہ کر قدم بلڈنگ کی پچھلی سائڈ کی طرف بڑھا دیے
نہی آپی آپ نہی میں آگے جاؤں گا آپ باہر ہی رہیں اور میرے باہر انے تک فہد کی گاڑی میں ٹریکر فٹ کریں اندر میں سنبھال لوں گا۔۔۔سعد نے جنت کو باہر رہنے کو کہا وہ جانتا تھا اندر کافی خطرہ تھا اور اُسکے پاس اس وقت کوئی ہتھیار بھی نہی تھا
جنت نے فوراً اپنا بیگ کھولا اور اس میں سے گن نکال کر سعد کو دی جس پر اُسنے پہلے تو منع کیا مگر پھر جنت کے آنکھیں دکھانے پر پکڑ لی
سعد اندر کی طرف بڑھا ابھی وہ کچھ قدم ہی چلا تھا کے اُسے اپنے دائیں طرف سے کچھ اوازیں آئیں وہ احتیاط کے ساتھ اس طرف بڑھا اور وہاں ایک پلر کے پیچھے کھڑا ہو گیا وہ ان سے کافی دور تھا مگر یہاں تک اُن دونوں کی آوازیں آ رہی تھیں
فہد مجھے ایسا لگتا ہے هائمہ ماری جا چکی ہے۔۔نہال نے اپنا خیال ظاہر کیا
مگر مجھے ایسا نہی لگتا تم دیکھو تمہارا مال جب پکڑا گیا تب اس بات کا صرف تمہیں مجھے اور هائمہ کو پتہ تھا کے تمہارا مال کہاں سے جانا ہے۔۔۔۔فہد نے اپنے دماغ میں انے والا خدشہ ظاہر کیا
میرے دو آدمیوں کو بھی پتہ تھا اور اُن مے سے ایک غائب ہے مجھے لگتا ہے اس نے بتایا ہو گا پولیس کو۔۔۔نہال نے اپنے دماغ میں فٹ بات اُسے بتائی
نہی تمہارا وہ آدمی اتنا بڑا کام کسی کے کہنے پر ہی کر سکتا ہے اور مجھے لگتا ہے کے اُسے هائمہ نے کہا تھا ایسا کرنے کو کیوں کے وہ بوس کی نظروں میں اچھی بننا چاہتی تھی۔۔۔۔۔فہد نے سارا الزام هائمہ پر ڈالا
اور نہال اُسکی بات مان بھی گیا
لیکن اس ائے ایس پی نے تو کہا تھا کے کسی آدمی کا فون آیا تھا اسکے پاس ۔۔نہال نے افہام کی نیوز پر کہیں جانے والی بات دہرای
کیا پتہ هائمہ نے ہی اس آدمی سے فون کروایا ہو اور اب وہ خود پکڑی گئی ہے۔۔۔فہد نے حقارت سے کہا
اب اُسے چھڑانے نہی جانا۔۔۔نہال نے اس سے اگلی بات پوچھے
پاگل ہو مرنے دو اُسے بس اب میں جا رہا ہوں اور ہاں دوبارہ مجھے کال مت کرنا مجھے کوئی کام ہوگا تو خود تم سے ملنے اوں گا اب میں چلتا ہوں۔۔۔۔فہد کہہ کر کرسی سے اٹھا اور باہر کی طرح نکل گیا
جنت جو ٹریکر فٹ کرکے ہٹی تھی اچانک اُسکے منہ پر کسی نے ہاتھ رکھا اور اُسے گھسیٹنے لگا
جنت کے دماغ میں ایک جھمکا ہوا اور اس نے پیچھے کی طرف چھلانگ لگائی اور اس آدمی کی کمر میں کک رسید کی۔۔۔
اور سعد وہ تو کراہ کر زمین پر بیٹھ گیا جنت نے جب دیکھا کہ سعد ہے تو اُسکے سامنے گٹھنوں کے بل بیٹھ گی
اُو سوری یار مجھے لگا اُن نے سے کوئی ہے سوری لگی تو نہی۔۔۔جنت نے فوراً اس سے معافی مانگی
نہی بلکل بھی نہی لگی مجھے تو مزا آیا ہے۔۔۔۔سعد نے دانت پیس کر کہا
یار لیکن تم ایسے کیوں ائے تھے ڈرا دیا تھا مجھے۔۔۔۔جنت نے سارا الزام بڑے آرام سے سعد پر ڈالا
واہ جی واہ!اگر نہ پکڑتا تو اس نے پکڑ لینا تھا وہ باہر آ رہا تھا اور آپ بڑے مزے سے گاڑی کا جائزہ لے رہیں تھیں۔۔۔سعد اب کچھ سنبھل گیا تھا
چلو سوری اب اٹھو چلیں گھر۔۔۔۔۔جنت کے اُسے سہارا دے کر اٹھایا
وہ دونوں کوئی 8 بجے تک گھر پہُںچ چکے تھے اور اب بڑے مزے سے کافی پی رہے تھے
آج اُن دونوں کو پہلی بار ایجنٹ والی فیلنگ ائی تھی جو اُن دونوں کے لیے کافی اچھی ثابت ہوئی
تھی
وہ دونوں پورا دن کافی مزے میں رہے تھے ابھی تک کوئی بھی گھر نہی آیا تھا
اب تک اُنہیں فہد کے گھر کا بھی پتہ چل چکا تھا
شام میں ۶بجے وہ سارے اکھٹے گھر میں داخل ہوئے
چائے وغیرہ پینے کے بعد وہ لوگ کیس ڈسکس کرنے بیٹھے تو سعد نے بتایا کے اُنہیں فہد کے ٹھکانے کا پتہ چل چکا تھا
کیسے پتہ لگا۔۔۔پہلا سوال افہام کی طرف سے تھا
بس لگ گیا ہے پتہ جیسے بھی لگا ہو آپ لوگوں کو بس اسکا پتہ چاہیے تھا مل گیا نہ۔۔۔جنت نے بات چھپانا چاہی
سعد۔۔افہام نے بس سعد کو ایک ہی آواز دی جو اُسکے لیے کافی ثابت ہوئی اور پھر اُسے نے الف سے بِ ساری کہانی سنا ڈالی
What the hell is going on??
افہام غصے سے دھارا
What؟
جنت نے نورمل رہنا چاہا
ریلی جنت تم دونوں پاگل ہو ہاں ایسے ہی پوچھے بغیر کہیں بھی چلے جاؤ گے ہاں اگر کچھ ہو جاتا تو۔۔۔افہام کا پارہ ہائی ہو چکا تھا
کچھ ہوا تو نہی نہ۔۔جنت نے ابھی بھی آرام سے جواب دیا
کیا مطلب ہے اب تم دونوں میری اجازت کے بغیر اس گھر سے ایک قدم باہر نہی نکالو گے سمجھے تم دونوں۔۔۔افہام نے دونوں کی طرف باری باری دیکھ کر کہا
نہی سمجھی اور نہ ہی سمجھوں گی ہم بھی اس ٹیم کا حصہ ہیں ہم گھر بیٹھنے کے لیے نہیں ہیں اور ہاں اتنا ہی خیال تھا تو جب ہم نے کالز کی تھیں تو اٹھا لینی تھیں نہ ہم کوئی شوق سے تو نہی کے رہے تھے یہی بتانا تھا آپ لوگوں کو لیکن نہی کسی نے نہی اٹھائی تو کسی کو تو جانا تھا نہ اُسکے پیچھے کے اُسکو ایسے ہی چھوڑ دیتے یہ ساری ذمےداری بس اپنے نہی لی ہیں اور اگر دوبارہ ضرورت پڑی تو دوبارہ جائیں گے کیوں کے یہ ہی ہمارا کام ہے گھر میں بیٹھ کر روٹیاں نہی توڑنی ہم نے۔۔۔۔جنت کہہ کے کمرے میں چلی گئی اور دروازہ کھٹاک سے بند کیا
برآمدے میں بیٹھے سارے نفوس کو تو جیسے چپ لگ گئی جنت کو اِس طرح غصے میں اُن سب نے پہلی بار دیکھا تھا ورنہ وہ تو کافی ٹھنڈی رہتی تھی
افہام نے ایک نظر ساتھ بیٹھے حدید کو دیکھا
لگتا ہے پارٹنر کو زیادہ ہی غصّہ آ گیا ہے۔۔۔۔اُسنے ہنسی چھپا کے کہا نہی تو افہام کی شکل دیکھنے والی تھی
ابھی افہام کچھ کہتا اس سے پہلے کمرے کا دروازہ کُھلا اور جنت ہاتھ میں لیپ ٹاپ لیے افہام کی طرف ائی۔۔۔
یہ پکڑیں اور اب یہ کام بھی خود ہی کریں اسے اپنے ساتھ لے کر جائیں تھانے اور وہاں بیٹھ کر سارا دن اس ڈبے پر نظر رکھیں اگر ہم دونوں دوسرے کام نہی کر سکتے تو معزرت کے ساتھ یہ بھی نہی کریں گے چلو سعد۔۔۔جنت نے آخر میں سعد کو مخاطب کیا اور وہ بھی کسی روبوٹ کی طرح اُسکے پیچھے چل دیا ایک بار پھر فضا میں دروازہ کے بند ہونے کی زوردار آواز گونجی
سچ میں زیادہ ہی غصّہ آ گیا ہے ۔۔افہام نے حدید کی طرح دیکھ کر اُسکی بات کی تصدیق کی
تمہیں اُسے منانا چاہیے وہ صحیح کہہ رہی تھی وہ بھی اس ٹیم کا حصہ ہے۔۔۔انفا نے اُسے مشورہ دیا
ابھی۔۔۔افہام نے دروازے کی طرف اشارہ کیا جو ابھی وہ زور سے مار کے گئی تھی
فٹے منہ بیگم سے ڈر گیا ہے۔۔۔جازم نے افہام پر ہاتھ سے فتے منہ بھیجا
اور ابیہا کی اُسکی اس بات پر ہنسی چھوٹ گئی
مگر ہائم کی ایک سخت نظر پر وہ چپ کر گئی مبادا کہیں دانٹ ہی نہ پر جائے
چل اٹھ بھی جا اُسے صحیح کر جا کے نہی تو رات کا کھانا کسی کو نہی ملنا پکانے والے دونوں ناراض ہیں۔۔۔حماس نے بھی اسے اٹھانا چاہا
ابیہا کو پھر ہنسی ائی مگر وہ روک گئی
اچھا ابھی جاتا ہوں۔۔۔افہام نے اٹھتے ہوئے کہا اسے جنت کے رویے سے ڈر لگ رہا تھا
دروازے کے پاس پہنچ کے اُسنے پیچھے دیکھا تو سب نے گردن ہاں میں ہلائی جیسے وہ کسی محاذ پر جا رہا ہو اور اُسے حوصلہ دیا جا رہا ہو
اُسنے ہینڈل پر ہاتھ رکھ کر اُسے گھمایا تو کلک کی
آواز کے ساتھ دروازہ کھلا اور افہام سائڈ پر ہو کر کھڑا ہو گیا ایسے جیسے اندر سے گولہ باری ہونی ہے
مگر پھر حدید کے آنکھیں دیکھانے پر دروازے کے سامنے ہوا جنت سر گٹھنوں میں دیے بیڈ پر بیٹھی تھی اور سعد اُسکو شاید سمجھا رہا تھا دروازہ کھلنے پر اُسنے دروازے کی طرف دیکھا افہام نے اُسے باہر جانے کا اشارہ کیا تو وہ چُپ چاپ اٹھ کر باہر چلا گیا افہام دروازہ بند کر کے جنت کی طرف آیا جو اب سر اٹھا چکی تھی
توبہ ہے یار تم تو شروع ہے ہو گئی تھی ٹھیک ہے میں نے تھوڑا سا ڈانٹا تھا مگر تم حد ہے یار بھلا سب کے سامنے تم نے مجھ پر برسنا شروع کر دیا۔۔۔افہام جو معافی مانگنے کے غرض سے آیا تھا پتہ نہی کیا بولے چلے جا رہا تھا
جنت نے ایک خون خوار نظر افہام پر ڈالی جس سے اُسکی بات بیچ میں رک گئی
میں اب آپکی ٹیم جوائن نہی کروں گی خود خوار ہوں اس ڈبے پر پورا دیں نوکر سمجھا ہوا ہے مجھے اور سعد کو کھانے بنائیں آپ کو ہر خبر دیں اور اپنی مرضی سے قدم باہر بھی نہ رکھیں ہاں۔۔۔جنت نے دونوں ہاتھ کمر پر رکھ کر لڑاکا سٹائل میں پوچھا
اچھا سوری اب نہی کروں گا منع مگر آہستہ بولو یار باہر سب کو آواز جا رہی ہے۔۔۔افہام کو اپنے امیج کی پڑی تھی جو خراب ہو رہی تھی
اچھا مگر آئندہ میرا جہاں دل چاہے گا میں جاؤں گی۔۔۔جنت نے جیسے ڈیل کی تھی
ہاں چلی جانا مگر مجھے انفارم کر کے ۔۔۔افہام نے بھی شرط رکھی
ٹھیک ہے۔۔۔جنت نے منہ بنا کر جواب دیا
چلو اب باہر۔۔۔افہام نے دروازہ کھولا اور باہر نکل گیا
جنت بھی اُسکے پیچھے باہر ائی
پارٹنر آج کا کھانا ملے گا یا ہم غریب کہیں اور ٹرائی کریں جا کے۔۔۔۔۔حدید نے جنت کو باہر نکلتے دیکھ آواز لگائی
دیتی ہوں بُھکڑ۔۔۔جنت نے اتنا ہی کہا اور کچن میں چلی گئی
اور حدید وہ تو اپنے لیے بُھکڑ لفظ سن کر صدمے میں چلا گیا مطلب وہ کب تھا بھوکا حد ہے۔۔
رات میں ہائم کو حدید نے ڈراپ کرنے کی آفر دی جو اُسنے فراخ دلی سے قبول بھی کر لی۔۔گاڑی میں موزیک چل رہا تھا وہ دونوں ادھر ادھر کی باتیں کر رہے تھے جب اچانک ارحان کی کوئی بات ہوئی تو ہائم کو یاد آیا ارھان نے اُسے کہا تھا کے وہ اُسکی امانت کہ خیال رکھے اُسنے حدید سے اس بات کا ذکر کرنے کا سوچا
حدید یار ایک بات بتاؤں تُجھے۔۔۔ہائم نے پہلے اجازت لی
ہاں بتا۔۔حدید کو حیرت ہوئی تھی ورنہ ہائم اس طرح اجازت لے کے کہاں بات کرتا تھا
یار ارحان کی ڈیتھ کے ٹائم میں اسکے پاس تھا اُسنے مجھ سے ایک بات کی تھی مگر مجھے ابھی تک اس بات کی سمجھ نہیں آئی ۔۔ہائم نے بات شروع کرنے کے لیے الفاظ تلاش کیے
کیا بات۔۔۔حدید کا دھیان اب ہائم کی بات کی طرف تھا
اُسنے مجھ سے کہا تھا کہ میں اُسکی امانت کا خیال رکھوں۔۔۔۔ہائم نے اب اُسے وہ بات بتائی جو ارحان نے اُسے کہی تھی
امانت کا خیال۔۔۔حدید نے اسکے الفاظ دہرائے
ہاں۔۔۔ہائم نے بھی اُسکی تصدیق کی
اس وقت اُسکے ساتھ تو اور انفا تھے نہ۔۔۔حدید نے اس سے سوال پوچھا
ہاں ہم دونوں ہی تھے۔۔۔ہائم نے حامی بھری
چل کبھی بتاؤں گا تُجھے اُسنے کونسی امانت کی بات کی تھی۔۔۔۔حدید نے بس اتنا کہا اور دھیان ڈرائیونگ کی جانب مبذول کیا
یہ کیا بات ہوئی اس کا مطلب ہے تُجھے پتہ ہے اُسنے کونسی امانت کی بات کی تھی۔۔۔۔ہائم کو اُسکے اس طرح بولنے پر غصّہ آیا
ہاں پتہ ہے وقت انے پر بتاؤں گا تُجھے۔۔۔۔حدید نے بات ٹالی
نہی ابھی بتا جلدی کر۔۔۔ہائم نے ضد کی
چل اُتر گھر آ گیا ہے تیرا اُتر شاباش اور ہاں زیادہ سوال نہ کیا کر مجھ سے اُتر بھی اب کیا دھکے دوں تُجھے۔۔۔۔حدید نے اُسے نہ اترتے دیکھ بات کے آخر میں دھمکی دی
توبہ اُتر رہا ہوں کیا ہوگیا ہے ۔۔۔۔ہائم کہتے ساتھ گاڑی سے باہر نکلا۔۔۔۔
اُسکے نکلتے ہی حدید نے گاڑی سٹارٹ کی اور اپنے گھر کے راستے پر ڈال دی۔۔
حدید کے ماں باپ اُسکے ساتھ ہی رہتے تھے اُن سب میں اعضاء،انفا دونوں ہی دوسرے شہر سے تھیں اور لاہور میں اکیلی رہتی تھیں جبکہ لڑکوں میں سے ارحان،حماس اور سعد کا تعلق ایک ہی گاؤں سے تھا سعد افہام کے گھر جبکہ حماس اور ارحان نے مشترکہ فلیٹ لے رکھا تھا حماس ارحان کی وفات کے بعد بھی وہی تھا جازم کا اپنا گھر تھا جبکہ ماں باپ امریکہ میں رہتے تھے اور ہائم اور ابیہا بھی اپنے پرنٹس کے ساتھ لاہور میں ہی رہتے تھے۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔😋😋

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *