The Night Stalkers by Bisma khan NovelR50797 The Night Stalkers by Bisma khan Episode20
No Download Link
595.5K
32
Rate this Novel
The Night Stalkers by Bisma khan Episode01 The Night Stalkers by Bisma khan Episode02 The Night Stalkers by Bisma khan Episode03 The Night Stalkers by Bisma khan Episode04 The Night Stalkers by Bisma khan Episode05 The Night Stalkers by Bisma khan Episode06 The Night Stalkers by Bisma khan Episode07 The Night Stalkers by Bisma khan Episode08 The Night Stalkers by Bisma khan Episode09 The Night Stalkers by Bisma khan Episode10 The Night Stalkers by Bisma khan Episode11 The Night Stalkers by Bisma khan Episode12 The Night Stalkers by Bisma khan Episode13 The Night Stalkers by Bisma khan Episode14 The Night Stalkers by Bisma khan Episode15 The Night Stalkers by Bisma khan Episode16 The Night Stalkers by Bisma khan Episode17 The Night Stalkers by Bisma khan Episode18 The Night Stalkers by Bisma khan Episode19 The Night Stalkers by Bisma khan Episode20 (Watching)The Night Stalkers by Bisma khan Episode21 The Night Stalkers by Bisma khan Episode22 The Night Stalkers by Bisma khan Episode23 The Night Stalkers by Bisma khan Episode24 The Night Stalkers by Bisma khan Episode25 The Night Stalkers by Bisma khan Episode26 The Night Stalkers by Bisma khan Episode27 The Night Stalkers by Bisma khan Episode28 The Night Stalkers by Bisma khan Episode29 The Night Stalkers by Bisma khan Episode30 The Night Stalkers by Bisma khan Episode31 The Night Stalkers by Bisma khan Last Episode
The Night Stalkers by Bisma khan Episode20
The Night Stalkers by Bisma khan Episode20
ابیہا مجھے لگتا ہے کے نہ انفا کو تمہارے اور ہائم کے پلان کے بارے میں جان کر بہت غصّہ ائے گا اور وہ منگنی بھی توڑ دے گی۔۔۔۔جنت نے اسکا سارا پلان سننے کے بعد کہا
یار حد ہے انسان سوچتا تو اچھا ہے ایسے تو نہ کہو نہ۔۔۔ابیہا تو اچھل ہی گئی تھی جنت کی بات سن کے
نہی یار میرا مطلب ہے یہ تو اُسکے ساتھ دھوکہ ہے نہ۔۔۔۔۔۔۔جنت نے اپنی بات کی وضاحت دی
نہی دھوکہ نہیں ہے اگر ہم اُسکو بتا دیں گے ابھی تو شاید وہ کبھی نہ مانے ابھی اُسے ہائم بھائی کو اچھے سے سمجھنے دو اُنہیں ہینڈل کرنے دو یار۔۔۔۔ابیہا نے تو جیسے بات ختم کی تھی
مرضی ہے تمہاری ۔۔جنت نے بھی مزید بات کو نہ کریدا تھا
دوسری طرف حدید ابھی ابھی اٹھا تھا جازم تو جا چکا تھا جبکہ ہائم اور انفا اُسکے پاس تھے ابھی کچھ دیر پہلے ہی ہائم کو اُسکے بابا کی کال ائی تھی جس کی وجہ سے اُسے جانا پڑا حدید کو پرائیویٹ روم میں شفٹ کر دیا گیا تھا اور اب حدید اور انفا اکیلے تھے حدید بیڈ پر جبکہ انفا بیڈ سے تھوڑی دور پڑی چیئر پر بیٹھی ہوئی تھی
وہ دونوں ہی خاموش تھے اور اس خاموشی کو انفا کی موبائل کی آواز نے توڑا تھا۔۔۔۔
اُسنے موبائل دیکھا تو اُسکی امی کی کال تھی اُسنے وہیں بیٹھے بیٹھے فون اٹھایا سلام دعا کے بعد انفا کی مما نے اس سے ہائم کا نمبر مانگا
ہیں آپکو کیوں چاہیے اُسکا نمبر۔۔۔انفا اُنکی بات سن کے گڑبڑا گئی
حدید بھی اُسکے اونچا بولنے کی وجہ سے اُسکی طرف متوجہ ہوا
آگے سے انفا کی مما نے کچھ کہا تو وہ دانت پیس کر رہ گئی
مام یار میرے پاس نہی ہے ۔۔انفا نے چڑ کر کہا
انفا انسانوں کی طرح مجھے اُسکا نمبر دو مجھے نہی سمجھ آتا تمہارے ساتھ کیا مسئلہ ہے۔۔۔۔۔اُسکی مما بپھر گئی تھیں
ہاں مجھے نہ سمجھیں آپ پلز چھوڑیں مجھے میرے پاس نہی ہے نمبر اُسکا۔۔۔۔انفا نے صاف جھوٹ بولا
حدید نے حیرانی سے اُسے اتنی صفائی سے جھوٹ بولتے ہوئے دیکھا
امی یار وہ میرے پاس بھی نہی ہے میں اسے ساتھ لے کے نہی بیٹھی رہتی انسان ہے وہ بھی اُسکی سو کام ہوتے ہیں۔۔۔۔انفا کی مما نے کچھ پوچھا تو اُسنے شاکی کیفیت میں جواب دیا
حدید کا انفا کی بات پر کہکہا بلند ہوا
جس پر انفا نے اُسے گھورا
یہ کون ہے پھر تمہارے ساتھ۔۔۔انفا کی مما نے انکوائری کی
مما حدید ہے ہم ہاسپٹل میں ہیں مجھے کام ہیں آپ پلز فون رکھیں اللہ حافظ۔۔۔۔انفا نے کھٹاک سے فون بند کیا
یہ کیا چل رہا ہے بدتمیز لڑکی ماں سے جھوٹ بولتی ہو وہ بھی اتنی صفائی سے توبہ۔۔۔حدید نے دونوں کانوں کو ہاتھ لگائے
بدتمیز لڑکی کے بدتمیز دوست تم بھی اپنی ماں سے جھوٹ بول کے ہی افہام کے گھر ہفتہ رکے تھے۔۔۔۔انفا نے اُسکی بات کا رُخ اُسے کی طرف کر دیا تھا
ہاں وہ تو مجبوری تھی میری یار لیکن تم تو جان بوجھ کر بول رہی ہو۔۔۔۔۔حدید نے شک کی نگاہ سے اُسے دیکھا
یار مما اُسکا نمبر لیں گی بار بار اُسکو ڈسٹرب کریں گی تم نہی سمجھتے یار یہ منگنی وقتی طور پر کی ہے ہم دونوں نے سمجھو ہائم اور میرے بیچ میں ایک کنٹرکٹ ہوا ہے۔۔۔۔انفا نے اُسے ساری بات سمجھائی
مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہی انفا۔۔۔۔حدید کے پلے کچھ بھی نا پڑا تھا اُسکو تو کسی بھی بات کا علم نہ تھا
تمہیں کچھ نہی پتہ سچ میں۔۔۔انفا کو یقین نہ ہوا تھا
نہی بتاؤ اب جلدی۔۔۔حدید کو جاننے کا اشتیاق ہوا کیا بات تھی جو اس سے چھپی تھی
اور پھر انفا نے شروع سے لے کر آخر تک ساری بات بتا دی
اچھا اچھا۔۔۔اور یہ آئیڈیا ابیہا کا تھا؟حدید نے اس سے پوچھا
ہاں اسی کا تھا۔۔انفا نے حامی بھری
کتنی تیز لڑکی ہے۔۔۔حدید نے یہ بس سوچا ہی تھا
صحیح ہے یار ایک کام کرو تم شام کو نہ جنت کو اور ابیہا کو بلا لینا اور ہاں دھیان رہے کوئی لڑکا نہ ہو میرے علاوہ۔۔حدید نے اس سے رکویسٹ کی
کیوں؟انفا کو وجہ سمجھ نہ آئی
وہ شام کو بتاؤں گا اب اپنی شکل گم کرو مریض کو آرام کرنے دو۔۔۔حدید نے اُسے ہاتھ کے اشارے سے باہر جانے کو کہا
اور انفا اُسکا تو اس حرکت پر منہ کھل گیا
بدتمیز!وہ منہ میں کافی کچھ بڑبڑاتی باہر گئی تھی یہ بات حدید بہت اچھی طرح جانتا تھا مگر یہاں فرق کس کو پڑتا تھا
شام میں وہ تینوں اُسکے ہاسپٹل کے روم میں بیٹھیں تھیں
ہاں کیا بات کرنی تھی کرو اب۔۔۔انفا نے سائڈ چیئر پر بیٹھتے ہوئے کہا
سنو انفا بات تو تم سے ہی کرنی تھی مگر کچھ سہاروں کی ضرورت تھی مجھے اسی لیے تم دونوں کو بلایا ہے ۔۔حدید نے اُن دونوں کو دیکھ کر کہا جو تجسس سے اُسے دیکھ رہی تھیں
ہاں ہاں کرو۔۔۔انفا سیدھی ہو کے بیٹھی تھی
دیکھو تم جانتی ہو ارحان کی ڈیتھ کے ٹائم اُسکے پاس تم اور ہائم تھے۔۔حدید نے احتیاط سے بات شروع کی
ہاں ہم دونوں ہی تھے ۔۔انفا نے دھیمی آواز میں کہا
تو اس وقت ارحان نے اپنے آخری ٹائم میں ہائم سے کچھ کہا تھا جو وہ چاہ کے بھی نہی کر سکتا۔۔۔حدید نے بات گھما کر کی
کیوں نہی کر سکتا اور ایسا کیا کام تھا جو ارحان نے اُسے کہا تھا۔۔۔انفا کے ماتھے پر بل پڑے
وہ کام مشکل ہے اس لیے نہی کر سکتا کیوں کے اس کام کے لیے اُسے تمہاری ضرورت ہے۔۔۔۔۔حدید نے اُسے بتایا
ہاں تو میں کروں گی نہ مدد بتاؤ کیا کام تھا ۔۔۔انفا نے جاننا چاہا
وہ ارحان نے ہائم سے کہا تھا کہ وہ یعنی ہائم ارحان کی امانت کی حفاظت کرے۔۔۔حدید نے اُسے صاف بات بتائی
مطلب۔۔۔مگر انفا کو کچھ سمجھ نہ آیا تھا
دیکھو یار صاف لفظوں میں بتاتا ہوں کے یار ارہان نے ہائم سے کہا تھا کہ وہ تمہارا خیال رکھے یعنی تم سے شادی کر لے اور اب اس کام کے لیے تو تمہاری رضا مندی ضروری ہے نہ ۔۔۔حدید نے اب صاف صاف ساری بات بتائی
حدید ایسا نہی ہو سکتا ارحان ایسے نہی کہہ سکتا یار۔۔۔انفا کے لیے اس بات کا یقین کرنا مشکل تھا
انفا بھائی سچ کہ رہے ہیں اسی لیے میں نے یہ سب کچھ کیا تھا تمہاری منگنی وغیرہ تاکہ تم ہائم بھائی کے بارے میں سوچو سوری یار۔۔۔ابیہا نے کسی گناہ گار کی طرح سر جھکا کر بتایا
مطلب یہ سب چیٹ کیا تم نے مجھے ابیہا۔۔۔۔انفا نے بے یقین نظروں سے اسے دیکھا
یار اُسکو نیگیٹیو نہ لو بات پر دھیان دو اس نے یہ تم لوگوں کے لیے ہی کیا ہے نہ اب تم جانو کے تم نے ارحان کی آخری کہی ہوئی بات ماننی ہے یا نہیں۔۔۔حدید نے ابیہا کی سائڈ لی اور جنت وہ تو ہمیشہ کی طرح خاموش تھی
ارحان نے سچ میں کہا تھا۔۔۔انفا نے ایک بار دوبارا پوچھا
انفا میں نے تمہارا نہ اب سر پھاڑ دینا ہے ۔۔حدید نے غصے سے کہا
اچھا میں سوچوں گی بعد میں بتاؤں گی ۔۔۔انفا نے پر سوچ انداز میں کہا
اس سے پہلے کے کوئی اور کچھ بولتا اچانک دروازہ کُھلا اور ہائم اندر داخل ہوا تو سب چپ ہو کر اُسکی طرف دیکھنے لگی۔۔۔۔۔
What?
اُسنے سب کے ایسے دیکھنے پر کہا
نہی کچھ نہی۔۔۔سب سے پہلے حدید بولا
اچھا چھوڑو ابیہا چلو یار مام بلا رہی ہیں تمہیں۔۔۔۔ہائم نے ابیہا کو اٹھنے کا کہا
کیوں؟ابیہا نے وہی بیٹھے بیٹھے پوچھا
یار اٹھ جاؤ مجھے کیا پتہ کیوں میں بابا کے ساتھ تھا تو مما کی کال ائی ہے مما کہہ رہی ہیں تمہیں لے کے گھر پہنچوں اب اٹھ جاؤ۔۔۔ہائم نے غصے سے کہا تو وہ فوراً اٹھی اور اپنا بیگ لیے ہائم کے ساتھ چلی گئی
گھر پہنچی تو اما نے فوری طور پر اُسے تیار ہونے کا کہا کیوں کے اُسکی خالہ امریکہ سے آ رہی تھی اور اب بس پندرہ بیس منٹ میں پہنچنے والی تھیں یہ بات وہ ابیہا کو صبح بھی بتا چکی تھیں اور گھر پر ٹکنے کی تلقین کر چکی تھیں مگر اس پر کوئی اثر نہ ہوا اسی لیے اب اُنہوں نے ہائم کو کہہ کر اُسے بلایا تھا
وہ اب شیشے کے سامنے کھڑی اپنی تیاری کو آخری ٹچ دے رہی تھی جب اُسکی مما کمرے میں ائیں
تیار ہو گئی میری بیٹی ۔۔اُنہوں نے کافی پیار سے پوچھا
جی مما۔۔ابیہا نے رُخ اُنکی طرف کیا مگر اُسکی تیاری دیکھ کر انکو تو غصّہ ہی چڑھ گیا تھا
یہ کیا ہے آبی ایسے تیار ہوتے ہیں نہ کوئی لیپس ٹیک نہ کوئی بلش نے کوئی جویلری کیا ہے یہ ۔۔۔وہ تو اس پر برس پڑی تھی اور ابیہا وہ حیران رہ گئی اپنی طرف سے وہ کافی تیار ہوئی تھی
مشرقی لباس پہن کر بالوں کی ہائی پونی کر کے ہلکا سا لیپ گلوز لگایا گیا تھا
چلو اِدھر بیٹھو میں تمہیں تیار کروں۔۔اُنہوں نے کُرسی گھسیٹی اور اُسے اُس پر بٹھایا
مگر ابیہا ایک منٹ کی دیر کیے بغیر اٹھ گئی اس سے پہلے کے وہ کوئی اور زبردستی کرتی ہائم کمرے میں داخل ہوا
بھئیا یار مجھے بچائیں ان خاتون سے۔۔۔ابیہا نے اُسکے پیچھے چھپتے اپنی امی کی طرف اشارہ کیا
کیوں کیا رہی ہیں۔۔۔ہائم نے سیدھا انہی سے پوچھنا
اسکو ایک نظر دیکھو ذرا یہ لڑکی کہاں سے تیار لگ رہی ہے۔۔۔اُنہوں نے ابیہا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
ہائے باربی ڈول لگ رہی ہے امی آپ اوائیں اسکے پیچھے پڑی رہتی ہیں۔۔۔ہائم نے ایک مے اس پے ڈال کر کہااب اُنہوں نے ہائم کو کہہ کر اُسے بلایا تھا
وہ اب شیشے کے سامنے کھڑی اپنی تعیناتی کو آخری ٹچ دے تھی تھی جب اُسکی مما کمرے مے ائے
تیار ہو گئی میری بیٹی ۔۔اُنہوں نے کافی پیار سے پوچھا
جی مما۔۔ابیہا نے رُخ اُنکی طرف کیا مگر اُسکی تیاری دیکھ کر انکو تو غصّہ ہی چڑھ گیا تھا
یہ کیا ہے آبی ایسے تیار ہوتے ہیں نہ کوئی لیپس ٹیک نہ کوئی بلش نے کوئی جویلری کیا ہے یہ ۔۔۔وہ تو اس پر برس پڑی تھی اور ابیہا وہ حیران رہ گئی اپنی طرف سے وہ کافی تیار ہوئی تھی
مشرقی لباس پہن کر بالوں کی ہائی پونی کر کے ہلکا سا لیپ گلوز لگایا گیا تھا
چلو اِدھر بیٹھو میں تمہیں تیار کروں۔۔اُنہوں نے کُرسی گھسیٹی اور اُسے اُس پر بٹھایا
مگر ابیہا ایک منٹ کی دیر کیے بغیر اٹھ گئی اس سے پہلے کے وہ کوئی اور زبردستی کرتی ہائم کمرے میں داخل ہوا
بھئیا یار مجھے بچائیں ان خاتون سے۔۔۔ابیہا نے اُسکے پیچھے چھپتے اپنی امی کی طرف اشارہ کیا
کیوں کیا رہی ہیں۔۔۔ہائم نے سیدھا یونہی سے پوچھا
اسکو ایک مجھے دیکھو ذرا یہ لڑکی کہاں سے تیار لگ رہیں ہے۔۔۔اُنہیں نے ابیہا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
ہائے باربی ڈول لگ رہی ہے امی آپ اوائیں اسکے پیچھے پڑی رہتی ہیں۔۔۔ہائم نے ایک نظر اس پے ڈال کر کہا
بھاڑ میں جاؤ تم دونوں۔۔۔وہ کہتیں غصے سے باہر نکل گئیں جبکہ ابیہا اب خوش تھی
ہائے بھئیا میں سچ میں باربی ڈول لگ رہی ہوں ۔۔ابیہا نے شیشے کے سامنے کھڑے پوچھا
جی نہی وہ تو میں نے مما سے بچانے کے لیے کہا تھا۔۔۔ہائم لاپرواہی سے کہتا باہر نکل گیا اور ابیہا بس کڑ کے رہ گئی
اُسکی خالہ اگلے ۱۰ منٹ میں ہی پہُںچ چکی تھیں اُسکی مما نے اُسے آواز دی تو وہ اپنے مخصوص انداز میں بھاگتی ہوئی سیڑھیاں اُتری اور مما کے ساتھ آ کے کھڑی ہو گئی جس پر اُنہوں نے اسے غصے سے دیکھا مگر ابیہا نے ایگنور کیا
ماشاء اللہ کتنی بڑی ہو گئی ہو ابیہا بیٹا۔۔۔اُسکی خالہ نے محبت سے اُسکی پیشانی چومی
خالہ کیسی ہیں آپ۔۔ابیہا نے ان سے الگ ہوتے ہوئے پوچھا
میں بلکل ٹھیک ہوں پتہ ہے کتنا یاد کیا میں نے اپنی آبی کو چھوٹی سی تھی جب میں نے تمہیں دیکھا تھا اور اب دیکھ رہیں ہوں احمر بھی یہی کہتا تھا مما اب جب ہم جائیں گے تو ابی کتنی بڑی ہو گئی ہو گی نہ۔۔۔اُنہوں نے بات کے آخر میں اپنے بیٹے احمر کا ذکر کیا
آئیں اپا اندر بیٹھتے ہیں۔۔۔۔اُسکی مما اُنہیں اندر لے گئیں جبکہ ابیہا اُنکے بیٹی حیا کے ساتھ باتوں میں لگ گئی
وہ سب کھانے پر بیٹھے تھے جب ہائم گھر آیا وہ تب سے حدید کے پاس تھا
اُسنے مشترکہ سلام کے بعد خالہ سے پیار لیا اور اُنکے ساتھ ہی بیٹھ گیا
اور احمر کیا کرتے ہو؟اُسنے احمر سے پوچھا جو اپنے کھانے میں مگن تھا
بابا کا اپنا بزنس ہے امریکا میں وہی ہینڈل کرتا ہوں ۔۔۔احمر نے چہرہ اٹھ کر بتایا
اچھا اچھا۔۔۔۔ہائم نے بس اتنا ہی کہا
اور آپ کیا کرتے ہو۔۔اس میں بھی رسماً پوچھا
اُسکا یہ سوال تھا کے ابیہا کے گلے میں کچھ اٹکا اچانک اُسے کھانسی انے لگی تو حیا نے پانی کا گلاس اُسکے سامنے کیا
ہائم نے ایک کڑی نظر اس پر ڈالی پھر جواب دیا
میں رپورٹر ہوں!
اچھا نائس!احمر نے اتنا کہا اور اپنے کھانے میں مگن ہو گیا جبکہ ابیہا نے محسوس کیا کے حیا ہائم سے بات کرنے کا موقع تلاش کے رہی تھی
چائے کے بعد یونگ پارٹی لون میں آ گئی بڑے اندر بیٹھے باتیں کر رہے تھے
اسی لیے وہ چاروں ہی لون کی کرسیوں پر بیٹھے مختلف باتیں کر رہے تھے
آپ کیا کرتے ہیں ہائم۔۔۔حیا نے احتیاطً پہلا سوال کیا
غالباً میں بتا چکا ہوں۔۔۔۔ہائم نے روانی سے جواب دیا
اُو سوری میرا مطلب آپ کونسی کمپنی کے لیے کام کرتے ہیں ۔۔۔۔حیا نے اپنا سوال درست کیا
بتانا ضروری ہے؟ہائم نے اُسے روانی سے پوچھا اب کیا بتاتا کسی خاص کمپنی لے لیے نہی بلکہ نائٹ ستالکرز کے لیے کام کرتا ہے
نہی نہی ضروری تو نہیں ہے۔۔۔۔حیا نے جھجکتے ہوئے کہا
ہمم!ہائم تو بعد میں خاموش ہو گیا
آپ کونسی یونیوسٹی سے پڑھے ہیں۔۔۔حیا نے ایک اور سوال کیا
میں یو ای ٹی سے کیوں؟ہائم نے بتا کر سوال کیا
نہی ایسے ہی پوچھا تھا۔۔۔اُن سب میں بس حیا ہی بول رہی تھی احمر اپنے فون پر جبکہ ابیہا اپنے فون پر انفا سے بات کر رہی تھی
کیا کر رہی ہو ائی نہی بعد میں کوئی سیریس بات تو نہی
۔۔۔انفا نے میسج ٹائپ کیا
نہی یار خالہ ائی ہیں اُنکے دو عدد بورنگ بچوں کے ساتھ بیٹھی ہوں
۔۔۔ابیہا نے جواب میں لکھا ساتھ اوزار سی اموجی بھیجی
کوئی حال نہی ہے
۔۔۔۔انفا نے بھی ایموجی کے ساتھ لکھا
ایک بات بتاؤں
۔۔۔ابیہا نے سوچنے والے انداز کے ایموجي کے ساتھ پوچھا
ہاں ہاں بتاؤ
۔۔۔۔انفا کو بھی تجسس ہوا
اپنے ایک عدد منگیتر کو سنبھالو یار یہ لڑکی میری خالہ کی بیٹی اسکی نیت صحیح نہی ہے
ابیہا نے بڑے مزے سے بتایا تھا
کی مطلب
انفا کو حیرت ہوئی اور اُسکا اس بات پر یہ اموجي دیکھ کر ابیہا نے کہکہا لگایا لیکن پھر اچانک خاموش ہو گئی
مطلب وہ بھائی کو چھیڑ رہی ہے اور میرا معصوم بھائی کچھ نہی کر رہا
ابیہا تو اب بس انجواۓ کر رہی تھی
بڑا آیا تمہارا معصوم بھائی پانی کو مانی کہتا ہے نہ وہ جو کچھ سمجھ نہیں آ رہی
انفا کے اموجيز سے صاف اندازہ ہو رہا تھا کے اُسے غصّہ آ رہا تھا اور اس غصے پر ابیہا کو مزا
اُسے ایک شرارت سوجھی تو اُسنے ساری چیٹ کا سکرین شاٹ لے کر ہائم کو سینڈ کیا
موبائل کی بیپ پر ہائم نے فوراً موبائل اٹھایا اور میسج دیکھ کر اُسکا خراب موڈ خاصا خوش گوار ہو گیا تھا
کہاں ہو؟اسنے ایک میسج انفا کو کیا
جہنم میں
آگے سے تپا ہوا جواب آیا
غصے میں کیوں ہو
۔۔ہائم نے پر سوچ انداز میں میسج بھیجا
ایک بندہ مارنے کا دل کر رہا ہے اُسی کو سوچ کر غصّہ آ رہا ہے
انداز ابھی بھی تپا ہوا تھا
بندہ یا بندی
ہائم نے بڑے معصوم انداز میں پوچھا
چھوڑو اسکو کیوں کیا ہے میسج کام کی بات کرو۔۔۔۔اب وہ شاید سیریس ہوئی تھی
حدید کا حال پوچھنا تھا صحیح ہے وہ؟ہائم نے بھی ٹاپک چینج کیا
ہاں ٹھیک ہے اللہ حافظ۔۔۔اُسنے یہ ٹائپ کیا اور پھر شاید نٹ آف کر دیا کیوں کے ہائم کا میسج اُسکے پاس نہی پہنچا تھا
ہائم آپ سے ایک بات پوچھوں۔۔۔حیا نے کافی سوچنے کے بعد پوچھا
جی!ہائم نے نظریں موبائل سے اٹھا کر پوچھا
آپ کو ہم یاد تھے۔۔۔حیا نے اپنے اور احمر کے بارے میں پوچھا
ہاں نہ یاد رہے اسی لیے تو اپنی منگنی پر بھی یاد آ رہے تھے تم دونوں کے اگر ہوتے تو شاید زیادہ مزا اتا ہینا ابیہا۔۔۔۔۔ہائم نے آخر میں ابیہا سے پوچھا
اور وہ تو اپنے بھائی کی چالاکی دیکھ کر حیران رہ گئی کیسے پیچھا چھڑوایا تھا اُسنے اپنا حیا سے پھر اُسکے تھوڑی دیر بعد حیا تھکن کا کہہ کر چلی گئی تو ہائم نے سکھ کا سانس لیا
رات میں وہ لوگ کمرے میں بیٹھے تھے جب ابیہا نے ہائم کو بلایا
بھئیا آپ کتنے تیز ہیں توبہ۔۔۔آبی نے دونوں کانوں کو ہاتھ لگائے
یار پیچھے ہی پر گئی تھی اور کوئی راستہ نہیں تھا اور پتہ ہے مجھ شک ہے کے خالہ یہاں اپنے بچوں کا رشتا کرنے ائی ہیں۔۔۔ہائم نے اپنا خدشہ ظاہر کیا
لیکن اب تو کچھ نہی ہو سکتا نہ۔۔۔ابیہا نے اُسکے ہاتھ پر ہاتھ مارا
ہاں ہو بھی سکتا ہی اور نہی بھی۔۔۔ہائم نے کچھ سوچتے ہوئے کہا
کیا مطلب؟ ایک تو بھائی آپکو وہم بہت ہوتے ہیں۔۔۔ابیہا نے اُسکی بات سمجھنے کی کوشش ہی نہی کی تھے ورنہ شاید سمجھ بھی جاتی(آپ لوگ سمجھ گئے ہیں یا نہی
)
جاری ہے۔۔۔۔۔۔
