Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

The Night Stalkers by Bisma khan Episode14

The Night Stalkers by Bisma khan Episode14

کوئی آواز مت نکالنا خود تو ڈوبو گی مجھے بھی ساتھ لے کے ڈوبو گی بلکل چپ۔۔۔سعد نے اُسے آنکھیں دکھائیں اُسکی ذرا سی آواز سے وہ پکڑے جا سکتے تھے سعد کی آواز اتنی ہلکی تھی کے بمشکل حوریہ سن سکی تھی
اچھا اب چپ کر کے میری بات سنو تمہارے پیچھے تقریباً کتنے لوگ ائے تھے۔۔۔۔سعد نے سرگوشی کی
تقریباً ۱۰ یا ۱۲ تھے کیوں دعوت کرنی ہے۔۔حوریہ کو اتنی سیریس کنڈیشن میں بھی مذاق سوجھ رہا تھا
یار فضول نہ بولو میری بات کان منہ آنکھیں سب کھول کر سنو میں انکو اپنے پیچھے لگاتا ہوں تم یہاں گلی کی پچھلی سائڈ سے نکل جانا یہ گلی سیدھا باہر ہماری گاڑی تک جاتی ہے گاڑی لے کے نکل جانا میں آ جاؤں گا۔۔۔۔سعد نے اُسے سارا راستہ بتایا
نہی ساتھ ہی جائیں گے سعد ایسے نہی جانا مجھے اکھٹے بھاگتے ہیں نہ اگر گلی گاڑی تک جاتی ہے تو تم کیوں نہی آ رہے۔۔۔حوریہ اُسکی پلان پر راضی نہ ہوئی
کیوں کے جو لوگ تمہارے پیچھے ائے ہیں ان میں سے ایک فہد کا خاص بندہ ہے جو تقریباً اُسکے بارے میں سب جانتا ہے مجھے اُسے پکڑنا ہے تم نکلو جلدی۔۔۔سعد نے اُسے گلی کی پچھلی طرف دھکیلا
سنو!حوریہ ابھی اس طرف بڑھی تھی کے سعد کی آواز پر پیچھے مڑی
ہاں بولو۔۔اُسنے دریافت کیا
یہ پکڑو یہ چپ ہے یہ نہ افہام بھیا کو دے دینا یہ مجھے بابا نے دی تھی شاید اس سے کیس میں مدد ہو جائے اسے دھیان سے رکھنا۔۔۔۔سعد نے اُسے اپنی پاکٹ سے نکل کر ایک چپ پکڑائی
تم خود دینا نہ جب اؤ گے تو۔۔۔حوریہ کے دماغ میں خطرے کی گھنٹی بجی
یار میں نہی جانتا میں زندہ واپس اؤں گا بھی یا نہی اسی لیے یہ پکڑو اور اب جلدی کرو جاؤ یہاں سے۔۔۔۔سعد نے اُسے جانے کو کہا اور خود دوسری طرف سے نکلا
ابھی حوریہ تھوڑا ہی آگے گئی تھی کے اُسے پیچھے
سے کچھ ادمیوں کی آواز ائی یقیناً اُنہوں نے سعد کو دیکھ لیا تھا حوریہ فوراً بھاگی گاڑی کے پاس پہُںچ کے اندر بیٹھی اور گاڑی سٹارٹ کر دی شام تو ویسے ہی ہو چکی تھی تقریباً 7 بج رہے تھے اُسنے چھوٹے راستے سے جانا مناسب سمجھا
ابھی وہ تھوڑی ہی دور گئی تھی کے اچانک آپوزیٹ سائڈ سے ایک ٹرک فل سپیڈ سے آیا اور حوریہ کی گاڑی سے ٹکرا گیا ٹرک سے ٹکرانے کی وجہ سے ہوریہ کی گاڑی مکمل طور پر اُلٹ گئی۔۔۔
دوسری طرف سعد مسلسل اُن لوگوں کے آگے آگے بھاگ رہا تھا اور وہ لوگ اُسے پکڑ نہی پا رہے تھے سعد نے اُن میں سے دو آدمیوں کو اچھا خاصا دھویا تھا اور اب باقی بچے اٹھ جن میں سے دو تو اپنے موٹے جسم کی وجہ سے اس پھرتیلے نوجوان کے سامنے ویسے ہی ہار مان گئے تھے کوئی ادھے گھنٹے بعد اُسکے پیچھے بس فہد کا سیکٹری ہی بھاگ رہا تھا اور سعد چاہتا بھی یہی تھا اسی طرح وہ اسکو پکڑ سکتا تھا سعد بھاگتا بھاگتا وہاں ایک چھوٹی سی گلی مے گھس گیا فہد کا سیکٹری جس کا نام امجد تھا اُسکے وہاں پہنچنے پر سعد نے اُسے ٹانگ اڑا کر گرایا وہ گرا تو سعد نے اُسے کالر سے پکڑ کر اٹھایا اور پھر اُسکے منہ پر ایک مکہ رسید کیا جس کے بدلے میں اس نے سعد کی دائیں ٹانگ پر حملہ کیا جس سے وہ توازن برقرار نہ رکھا سکا اور نیچے گر گیا امجد کچھ کرتا اس سے پہلے ہی سعد نے اُسکی ٹانگ کھینچی جس سے وہ دوبارہ نیچے گرا اور اس پھر سعد نے اُسے قابو کیا اگلے پانچ منٹ میں سعد اُسکی حالت خراب کر چکا تھا
باہر آ کر سعد نے ٹیکسی کروائی اور اُسے بھی اپنے ساتھ بیٹھایا
اُسنے جازم کو بتا دیا تھا کے وہ فہد کا ایک آدمی لا رہے ہیں وہ لوگ اُسے جازم کے گھر رکھنے کا ہی ارادہ رکھتے تھے۔۔
دوسری طرف اب تک حوریہ اپنے سارے حواس کھو چکی تھی اُسکی گاڑی بری طرح چکنا چور ہو چکی تھی.
اُسکے بچنے کے امکان کافی کم تھے۔۔۔اس جگہ سے کسی کا گزر بھی نہ ہوتا تھا جس کی وجہ سے کافی دیر تک کسی کو اس حادثے کی خبر بھی نہ ہوئی
سعد رات کے ۹ بجے گھر پیہنچا تو سارے وہیں پر تھے جازم ابھی اُسکے ساتھ ہی آیا تھا سعد اور جازم اندر ائے تو جنت نے اُن دونوں کو پانی دیا سعد تو کافی تھکا ہوا لگ رہا تھا
سعد حوریہ گھر چلی گئی اُسنے کھانا نہی کھانا تھا۔۔۔جنت نے سعد سے حوریہ کا پوچھا
کیا مطلب وہ یہاں نہی ائی۔۔۔سعد جو اپنی پینے لگا تھا اس نے گلاس نیچے رکھ کر پوچھا
نہی یہاں تو نہی ائی کیوں وہ تمہارے ساتھ نہی تھی۔۔۔جنت کو بھی اب فکر لا حق ہوئی
نہی میں نے اُسے پہلے ہی بھیج دیا تھا وہاں خطرہ زیادہ تھا دو لوگ نہی رک سکتے تھے۔۔۔سعد نے وضاحت دی
افہام بھائی وہ آپکے پاس نہی ائی اُسنے آپ کو کوئی چپ نہی دی کیا۔۔۔سعد کو نئی ٹینشن ہوئی
نہی وہ میرے پاس نہی ائی کیا پتہ گھر چلی گئی ہو۔۔۔افہام نے خود سے اندازہ لگائیں چیک کرتی ہوں۔۔۔جنت نے فوراً لیپ ٹاپ اٹھایا
اُسکی لوکیشن تو یہ اس جگہ آ رہی ہے اور اُسکی ۔۔اُسکی ہرٹ ه ہرٹ ب بیٹ نہی چل رہی۔۔۔جنت لوکیشن دیکھ کر جیسے ہی لیپ ٹاپ افہام کو دینی لگی اُسکی نظر ہرٹ بیٹ پر پڑی
کیا مطلب ہے۔۔۔افہام نے اُسکے ہاتھ سے لیپ ٹاپ کھینچا
حوریہ کی لوکیشن دیکھ کر اُسنے فوراً جگہ کا اندازہ لگایا اور اُسکی ہرٹ بیٹ واقعی نہی چل رہی تھی
کیا پتہ بھائی چپ ٹوٹ گی ہو خراب ہو گئی ہو۔۔۔۔ابیہا نے ایک اُمید کی کرن دکھائی
چلو چل کے دیکھتے ہیں۔۔۔افہام فوراً اٹھ کھڑا ہوا
ہم بھی جائیں گے۔۔۔تینوں لڑکیوں نے مشترکہ کہا مگر صرف انفا کو لیے جانے کا فیصلہ ہوا
وہاں پہنچ کر گاڑی کی حالت دیکھ کر وہ جان گئے تھے کے وہ سچ میں میں چکی ہے پھر بھی انفا نے چیک کیا مگر نہ اُمیدی ہی تھی
وہ لوگ اُسکی ڈیڈ باڈی لے کے افہام کے گھر ائے اُسکی گاڑی کی تلاشی لینے کے بعد ایک بیگ ملا تھا جس میں فون تھا اور وہ مکمل طور پر ٹوٹ چکا تھا
باقی وہ بیگ خالی تھا انفا نے وہ بیگ بھی اٹھا لیا تھا کچھ نہی تو حوریہ کی آخری نشانی ہی سہی
اُنہوں نے بیل دی تو جنت نے دروازہ کھولا اور اپنے سامنے سٹریچر دیکھ کر اُسکی حالات خراب ہو گئی تھی وہ اتنے سے عرصے میں یہ تیسری ڈیڈ باڈی دیکھ رہی تھی۔۔۔حال باقیوں کا بھی یہی تھا انفا سے بھی اُسکی خاص دوست الگ ہو گئی تھی دوستوں کو کھونے کا دیکھ کیا ہوتا ہے وہ سب جانتے تھے مگر ایک دوسرے کو تسلیاں دینے کے علاوہ وہ اور کچھ کر بھی نہی سکتے تھے
وہ لوگ سب اُسکی ڈیڈ باڈی اسکے گھر لے کر گئے تھے
دو دن بعد
جنت اور سعد دونوں ناشتے کے بعد لیپ ٹاپ لے کے بیٹھے تھے جب سعد نے اچانک جنت کو بلایا
آپی مجھے ایسا لگتا ہی حوریہ کی ڈیتھ میری وجہ سے ہوئی ہے می نے تو اُسے وہاں سے بھیجا تھا تاکہ اُسکی جان کو کوئی خطرہ نہ ہو مگر میں بچ گیا اور اُسکے۔ساتھ یہ حادثہ ہو گیا۔۔۔صاف کافی افسردہ تھا
سعد کوئی کسی کی وجہ سے نہی میڈیا سب کا ٹائم ہوتا ہے ہم جو مرضی کے لیں اُسنے اسی وقت مرنا ہوتا ہے مگر مجھے لگتا ہے یہ حادثہ نہی تھا یہ سازش تھی اُسے مارنے کی۔۔۔جنت نے وہ بات کہی جو وہ ان دو دنوں سے سوچ رہی تھی
کیا مطلب؟؟سعد کو بات سمجھ نہیں آئی
مطلب انہوں نے حوریہ کو دیکھا تھا مجھے لگتا ہے اسکو مروانے کے پیچھے فہد کا ہی ہاتھ ہے۔۔۔۔جنت کو اس بات پر پورا یقین تھا
ہاں ہو سکتا ہے۔۔۔سعد نے بھی پر سوچ انداز میں کہا
لیکن وہ کیوں ماروائے گا اور سوال تو یہ اٹھتا ہے کے یار اُسے پتہ کیسے چلا کے حوریہ کیا کام کے لیے ائی ہے۔۔۔۔سعد ابھی بھی شش و پنج کا شکار تھا
دیکھو کیا پتہ اُسنے دیکھ لیا ہو یا کوئی کیمرا وغیرہ حوریہ نے نوٹس نہ کیا ہو۔۔۔جنت نے خود سے اندازہ لگایا
ہاں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔۔۔سعد بھی اُسکی بات سے متفق تھا
ورنہ وہ گارڈ فضول میں حوریہ کے پیچھے کیوں بھاگتا
افہام وغیرہ سارے گھر ائے تو وہ دونوں اٹھے جنت نے کھانا لگایا جبکہ سعد نے افہام کو اپنے اور جنت کے خیالات سے آگاہ کیا جس سے کافی حد تک وہ بھی سہمت تھا
کیونکہ حوریہ کی گاڑی کا جو حال تھا اس سے اندازہ لگایا جا سکتا تھا کے گاڑی کو ہٹ کرنے کے بعد جان بوجھ کے پچکا گیا ہے۔۔۔
کھانے کے بیڈ وہ لوگ کیس کے بارے میں بات کرنے لگے تو سعد نے افہام کو امجد کے بارے میں بتایا جیسے وہ پکڑ کے لیا تھا اس سارے معاملے میں وہ یہ بات بھول ہی چکا تھا۔۔۔۔اسی لیے اب افہام۔کو آگاہ کیا
ہاں تو تم دونوں چلے جانا نہ اس سے نکلوانا جتنی باتیں اسکو پتہ ہیں اور ہاں کسی قسم کی رعایت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔افہام کہہ کر بیڈ روم میں چلا گیا اُسے شاید کوئی کام کرنا تھا فہد کی ایک دو کالز ہوئی تھیں حیدر کے ساتھ مگر ابھی تک کوئی خاص بات پتہ نہی چل سکی تھی شاید وہ خاص بات اب فہد کے سیکٹری سے ہی پتہ چلنی تھی
سعد اور جازم نے کل دوپہر میں جازم کے گھر جانے کا پلان بنایا
اگلے دوپہر وہ دونوں جازم کے گھر کے تہہ خانے میں تھے۔۔
اور جازم اس ادمی کو ابھی تک کافی ڈرا دھمکا چکا تھا اور وہ ڈرپوک سا آدمی ڈر بھی گیا تھا اور اس نے جازم کا ساتھ دینی کی حامی بھر لی تھی۔۔۔جازم اور سعد اُسکی چھوڑ کے افہام کے تھامے ہی چل دیئے
وہاں جا کر اُنہوں نے افہام۔کا پوچھا تو کانسٹیبل نے یونہی اندر جانے کو کہا سعد آج بھی اس پے ایک کٹیلی نگاہ ڈالنا نہ بھولا
افہام۔۔۔جازم آواز دیتا اُسکے کیبن میں داخل ہوا
ہاں آ جاؤ۔۔۔افہام نے کرسی کی طرف اشارہ کیا اندر تو وہ آ چکے تھے
وہ دونوں کرسیوں پر براجمان ہوئے تو افہام نے کانسٹیبل کو چائے لانے کو کہا جس پر وہ اور ہلا کے چلا گیا
ہاں بھئی کچھ پتہ چلا ۔۔افہام نے اپنے سامنے رکھی فائل بند کرتے ہوئے پوچھا
ہاں پتہ چلا ہے اور بندہ بھی ہمارے ساتھ ہے۔۔۔جازم نے بات شروع کی
مطلب بندہ ساتھ ہے۔۔۔افہام نے ایک ائی برو اٹھا کر پوچھا
مطلب بندہ کافی ڈرپوک ہے ٹارچر کرنے کی ضرورت ہے نہی پڑی بھیگی بلی بن گیا تھا وہ تو۔۔۔سعد نے بھی گفتگو میں حصہ لیا
کر افہام وہ تو سعد کا کنفائڈنس لیول دیکھ کر حیران تھا وہ کافی پر اعتماد ہو گیا تھا جس مے سب سے بڑا ہاتھ جنت کا تھا
مطلب اُسنے سارا کچھ بتا دیا۔۔۔افہام۔نے سعد کی بات سے اندازہ لگایا
سارا کچھ بتانا تو الگ وہ ہمارے ساتھ ہے فہد اُسے اس اتوار ملنے کے لئے حیدر کے پاس بھیجنے والا ہے کیوں کے حیدر کو ایک بھروسے مند بندہ چاہیے تھا اسی لیے فہد نے اُسے بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے اس طرح ہم اُسکے ذریعے حیدر تک پہُںچ سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔سعد نے ساری بات تفصیل سے بتائی
کیا بھروسہ ہے کے وہ بندہ اپنے قول سے نہی پھرے گا۔۔۔۔افہام نے مسکرا کر پوچھا
اُسکا بیٹا ہمارے پاس ہے اس بار ہم نے پکا کام کیا ہے۔۔۔جازم نے پر اعتماد ہو کر بتایا
کیا مطلب تم لوگوں نے اُسکے بیٹے کو اٹھا لیا ہے؟؟افہام اچانک لاؤڈ ہوا
آرام سے چھوٹا ہے اُسکا بیٹا صرف 7 سال کا اس سے آسان طریقہ نہی تھا ہمارے پاس ویسے بھی ہم نے بچے جو جنت اور ابیہا کے پاس چھوڑا ہے وہ کھیل رہے ہیں اُنکے ساتھ مگر اسکو ہم نے کچھ اور ہی دکھایا ہے۔۔۔جازم نے سعد کی طرف دیکھ کر دائیں آنکھ دبائی
جو بھی کرو مگر ہاں یاد رکھنا اس بچے کو نقصان نہی پہنچنا چاہیے سمجھے۔۔۔۔افہام نے اُن دونوں کو تنبیہہ کیا اُسے یہ کام صحیح نہی لگا تھا مگر سچ تھا کے اس سے آسان راستہ بھی نہی تھا اور ایک اسی طریقے سے وہ بندہ اپنی بات پر قائم رہ سکتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے 😘😘😘😘

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *