The Night Stalkers by Bisma khan NovelR50797 The Night Stalkers by Bisma khan Episode05
No Download Link
595.5K
32
Rate this Novel
The Night Stalkers by Bisma khan Episode01 The Night Stalkers by Bisma khan Episode02 The Night Stalkers by Bisma khan Episode03 The Night Stalkers by Bisma khan Episode04 The Night Stalkers by Bisma khan Episode05 (Watching)The Night Stalkers by Bisma khan Episode06 The Night Stalkers by Bisma khan Episode07 The Night Stalkers by Bisma khan Episode08 The Night Stalkers by Bisma khan Episode09 The Night Stalkers by Bisma khan Episode10 The Night Stalkers by Bisma khan Episode11 The Night Stalkers by Bisma khan Episode12 The Night Stalkers by Bisma khan Episode13 The Night Stalkers by Bisma khan Episode14 The Night Stalkers by Bisma khan Episode15 The Night Stalkers by Bisma khan Episode16 The Night Stalkers by Bisma khan Episode17 The Night Stalkers by Bisma khan Episode18 The Night Stalkers by Bisma khan Episode19 The Night Stalkers by Bisma khan Episode20 The Night Stalkers by Bisma khan Episode21 The Night Stalkers by Bisma khan Episode22 The Night Stalkers by Bisma khan Episode23 The Night Stalkers by Bisma khan Episode24 The Night Stalkers by Bisma khan Episode25 The Night Stalkers by Bisma khan Episode26 The Night Stalkers by Bisma khan Episode27 The Night Stalkers by Bisma khan Episode28 The Night Stalkers by Bisma khan Episode29 The Night Stalkers by Bisma khan Episode30 The Night Stalkers by Bisma khan Episode31 The Night Stalkers by Bisma khan Last Episode
The Night Stalkers by Bisma khan Episode05
The Night Stalkers by Bisma khan Episode05
صبح وہ اپنی چیزیں لے کر نہال کے گھر کے سامنے کھڑا تھا اُسنے ہمت کر کے بیل بجائی۔۔
سیکیورٹی گارڈ باہر آیا
کس سے ملنا ہے۔۔۔۔۔سیکیورٹی گارڈ نے روکھے سے لہجے میں پوچھا
جی نہال صاحب کا گھر ہے یہ مجھے نہال صاحب سے ملنا ہے۔۔۔ارحان نے کسی پروفیشنل کی طرح بات کی
ارے بابا کیا کرنا ہے کس کام کے لیے ائے ہو۔۔۔سیکیورٹی گارڈ جو اپنے لہجے سے پٹھان معلوم ہوتا تھا اُسنے ارحان سے پوچھا
میں انٹیریئر ڈیزائنر ہوں میں نے سنا ہے نہال صاحب کا گھر بہت خوبصورت ہے مجھے دیکھنا ہے۔۔۔۔ارحان نے بات بنائی
اچھا رکو تم ہم پوچھتا ہے۔۔۔سیکیورٹی گارڈ دروازہ بند کر کے اندر چلا گیا
کچھ دیر بعد آیا تو اس نے ارحان کو اندر جانے کی اجازت دی
اس طرف چلے جانا آگے تمہیں راستہ بتا دے گا چھوٹا۔۔۔گارڈ نے اُسے لون کی طرف بھیجا
وہاں ایک چھوٹا سا لڑکا تھا جس نے ارحان کو اپنے پیچھے انے کا کہا
کافی چلنے کے بعد وہ لوگ ایک کمرے کے باہر پہنچے
صاحب اندر ہیں آپ چلے جاؤ۔۔۔چھوٹے لڑکے نے ارحان سے کہا اور آگے چلا گیا
ارحان نے دروازے کا نوب گھمایا تو وہ کھلتا چلا گیا
کمرہ کافی بڑا اور اليشان تھا مگر ارحان کو یہ دیکھ کر حیرانی ہوئی کے کمرے میں ایک ٹیبل اور دو چیئرز کی علاوہ اور کچھ بھی نہ تھا۔۔۔۔۔۔
ارحان اندر داخل ہوا تو ایک آدمی سامنے کرسی پر اُسکی طرف پشت کیے بیٹھا تھا۔۔۔۔۔
ارحان کے کچھ بولنے سے پہلے ہی اُسنے اپنی چیئر کا رخ ارحان کی طرف کیا وہ ایک ۳۵ سالہ آدمی معلوم ہوتا تھا شکل سے ہی غلاظت ٹپک رہی تھی۔
ہمم! ارحان دانش اؤ بیٹھو!نہال نے اپنے سامنے پڑی کرسی کی طرف اشارہ کیا
جی سر میں آپکا گھر دیکھنے آیا تھا میں نے سنا تھا آپکا گھر کافی خوبصورت ہے میں نے اپنا کام نیا نیا
شروع کیا ہے اسی لیے مجھے آئیڈیا چاہیے تھا تو میں نے سوچا آپکے پاس آ جاؤں۔۔۔ارحان نے ساری بات بیان کی
ہمم!اچھا ہے اؤ تمہیں اپنا گھر دکھاؤں۔۔نہال نے کہا اور اپنی کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا ارحان بھی اسکے پیچھے ہو لیا
انفا اس وقت اپنے آفیس میں بیٹھی اپنے موبائل پر کچھ کر رہی تھی جب حدید اندر داخل ہوا
کیا کر رہی ہو انفا۔۔حدید نے اس سے پوچھا جو موبائل میں گم تھی
ہاں نہی کچھ بھی نہی۔۔انفا نے فوراً فون بیگ میں ڈالا
اچھا ایک بات پوچھوں تم سے ۔حدید نے احتیاط برتی
ہاں ہاں پوچھ لو کیا بات ہے۔۔انفا نے آرام سے اجازت دے دی تھی
یہ ارحان والا کیا چکر ہے ہاں تم دونوں نہ مجھے مشکوک لگتے ہو یار۔۔حدید نے سیدھا ہی پوچھ لیا
کیا چکر ہے مطلب۔۔انفا انجان بنی
مطلب تم دونوں کے کیا ارادے ہیں میں کب سے نوٹ کر رہا ہوں تم دونوں کو۔۔۔حدید نے اُسے شک کی نگاہ سے دیکھا
ہاں تو یار ہمارا ارادہ منگنی کا ہے ہے بھی تو کیا کرو گے۔۔انفا تو ہائپر ہی ہو گئی تھی
نہی ایسی کوئی بات نہیں ہے اچھی بات ہے مگر تمہارے پرنٹس مان گئے۔ ۔حدید نے اس سے اہم سوال کیا
ہاں مما سے بات کی تھی ارحان نے مان گئی ہیں وہ۔۔۔انفا نے موبائل دوبارہ نکال لیا تھا
اچھا تو کب کر رہے ہو منگنی۔۔حدید نے اس سے اگلی بات پوچھی
دیکھو ایک دو ہفتوں تک شاید۔۔۔انفا شروع سے ہی کافی بولڈ تھی
ہمم!اچھا میں چلتا ہوں۔۔حدید جس مقصد کے لیے آیا تھا وہ پورا ہو چکا تھا
ارحان تو اب گھر دیکھ دیکھ کر تھک چکا تھا اتنا بڑا گھر
چلیں جناب اب ہمارا گھر ختم آپ کو پسند آیا۔۔۔نہال نے گھر کے دروازے پر پہنچ کر پوچھا
جی سر بہت کمال ہے آپ سوچ نہی سکتے مجھے کتنا پسند آیا۔۔۔ارحان نے اسکے گھر کی جھوٹی تعریف کی کیوں کے وہ تو بس ایک کام کرنے آیا تھا وہ ہو چکا تھا اسکے لینڈ لائن میں چپ لگانا اسکے بعد سے وہ بس گھر ختم ہونے کا انتظار کے رہا تھا۔۔۔۔
چلیں کچھ کھاتے پیتے ہیں۔۔۔نہال نے اسے اندر بلایا
نہی سر مجھے آگے بھی کہیں جانا ہے آپکو تو پتہ ہے نیا کام ہے کافی محنت کرنی پڑے گی۔۔۔۔ارحان نے معزرت کی
اچھا چلیں ٹھیک ہے۔۔نہال نے بھی اسے اجازت دی
ارحان وہاں سے نکلا اور گاڑی اپنے گھر کے راستے پر ڈال دی
راستے میں اُسکی گاڑی کے سامنے ایک بزرگ آ گئے اُسنے فوراً سے پہلے بریک لگائی اُنکے ساتھ ایک جوان لڑکا بھی تھا
ارحان فوراً گاڑی سے نکلا تاکہ انکو دیکھ سکے یہ جگہ کافی سنسان تھی۔۔۔
اس پاس کوئی دکان کوئی گاڑی کچھ نہی تھا ایسے میں ان بزرگ کا یہاں ہونا پہلے اُسے کچھ سمجھ نہ آیا مگر پھر بھی وہ اُتر کر اُن تک آیا ابھی اُسنے جھک کر بزرگ کو ہاتھ ہی دیا تھا کے ساتھ کھڑے نوجوان نے اُسکی پشت پر چاقو سے حملہ کیا
پہلے تو ارحان کو کچھ سمجھ نہ ائی مگر پھر درد کی شدت سے وہ زمین پر بیٹھتا چلا گیا
اسکے بیٹھتے ہی وہ بزرگ آدمی فوراً اٹھ کھڑا ہوا اور اپنے کندھے پر لٹکے تھیلے سے گن نکال کر ارحان پر فائر کیا گولی اسکے مڑنے کی وجہ سے اسکی ٹانگ پر لگی اُسنے نوجوان کو اُسکی ٹانگ سے پکڑ کر گھسیٹا تو اُسنے چاقو ارحان کے ہاتھ میں مار دیا
درد کی شدت سے اب ارحان کی آنکھوں میں پانی انے لگا تھا
دوسرے آدمی نے ایک اور فائر کیا جو اسکے پیٹ میں جاکے لگا۔۔۔اور وہ پیٹھ کے بل گرا اب تو اُسمیں بولنے کی ہمت بھی نہ رہی تھی اس نوجوان نے اُسے پاؤں سے ٹھوکر لگائی اور وہ دونوں وہاں سے نکل گئے کچھ دیر کی تکلیف کے بعد ارحان کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا انے لگا ۔۔۔۔۔۔اور پھر وہ ہوش و خرد سے بیگانہ ہو گیا۔۔۔۔
کچھ دیر بعد وہاں سے گزرتے ایک بچے نے ارحان کو خون میں لت پت وہاں دیکھا تو فوراً جا کر اپنے بابا کو بتایا ارحان کو فوری طور پر قریبی ہسپتال پہنچایا گیا
اُسکا فون اس وقت ان میں سے ایک آدمی کے پاس تھا جو اسے لے کر ہسپتال ائے تھے۔۔۔
ہائم نے ارحان کو کال کی وہ جانتا تھا اب تک وہ وہاں سے نکل چکا ہوگا مگر آگے کی خبر سن کر اسکے چودا طبق روشن ہو گئے تھے۔۔انفا جو اسکے ساتھ ہی بیٹھی تھی وہ بھی ہائم کے تاثرات دیکھ کر پریشان ہوئی اُسے پوری بات کا ابھی نہی پتہ تھا مگر اُسنے ہائم کے ساتھ جانے کی زد کی۔۔۔اُسنے راستے میں کئی بار ہائم سے پوچھا مگر اُسنے کچھ نہی بتایا ابھی گھر میں بس وہ جنت اور ہائم تھے وہ لوگ جنت کو بتائے بغیر نکل ائے تھے۔۔۔۔
ہوسپٹل کے سامنے گاڑی رکی تو انفا کو کیسی انہونی کا احساس ہوا
وہ دونوں فوراً گاڑی سے اُترے ہائم نے ریسیپشن سے ارحان کا پوچھا
اور اسکے کمرے کی طرف بھاگا انفا اسکے پیچھے پیچھے تھی۔۔۔۔
اندر پہنچتے ہی ڈاکٹر نے اُسے یہ بات بتا دی تھی کے یہ ارحان کے آخری چند منٹ ہیں اُسکا سانس مسلسل خراب ہو رہا تھا انفا وہ تو ارحان کو اس حالت میں دیکھ کر دروازے پے ہی اٹک گئی تھی اسکو ایک قدم اٹھانا بھی مشکل لگ رہا تھا جبکہ ہائم فوراً ارحان کی طرف بھاگا
ارحان نے اُسکی شرٹ پکڑ کر تھوڑا زور دیا جس کا مطلب تھا وہ کچھ کہنا چاہتا تھا۔۔۔۔
ہائم فوراً نیچے ہوا ۔۔۔تاکہ اُسکی بات سن سکے۔۔۔
ہا..ہائم م۔میری امانت ک ک کا خیال رکھنا۔۔۔۔۔ارحان نے یہ الفاظ نجانے کتنی تکلیف میں ادا کیے تھی
کونسی امانت ارحان تُجھے کچھ نہی ہوگا میں ابھی ڈاکٹرز کو بلاتا ہوں۔۔ہائم کو اُسکی بات کی کچھ سمجھ نہیں آئی تھی
اور پھر ارحان کی آہستہ چلتی سانسیں بھی رک گئیں۔۔۔
ارحان ارحان اٹھ یار کیا ہوا ہے تُجھے ارحان دیکھ نہ انفا بھی ائی ہے انفا اِدھر اؤ۔۔ہائم نے ارحان کو جھنجھوڑا اور انفا کو اپنی طرف بلایا
انفا جو کب کی ساکن کھڑی تھی ہائم کے بلانے پر قدم اُسکی طرف بڑھائے
اسکو اپنا ایک ایک قدم بھاری لگ رہا تھا۔۔۔
مگر جب وہ بیڈ کے پاس پہنچی تو اُسکی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔۔
ارحان کا وجود مکمل طور پر خون میں لت پت تھا۔۔۔
ہائم اسے کہو اٹھے۔۔۔انفا نے ہائم کا بازو پکڑ کر ہلایا
وہ بےيقینی سے ارحان کے وجود کو دیکھ رہی تھی جو اب دم توڑ چکا تھا
ہائم ڈاکٹر کو بلاؤ یار۔۔انفا نے ہائم کو جھنجھوڑا
انفا اب کوئی فائدہ نہیں ہے اس کی سانسیں نہی چل رہی ہیں۔۔ہائم نے اُسے حقیقت سے آگاہ کیا
پاگل ہو تم ہاں کیسی باتیں کر رہے ہو جاؤ ڈاکٹرز کو بلاؤ جاؤ میں نے کہا ہے یہاں کھڑے میرا منہ کیا دیکھ رہے ہو۔۔۔انفا اپنا آپ کهو رہی تھی
انفا سنبھالو خود کو اب ڈاکٹرز کچھ نہی کر سکتے۔۔ہائم نے اُسے کنٹرول کرنا چاہا مگر ناکامیاب رہا
انفا نے اُسکی دھکا دے کر سائڈ پر کیا اور ارحان کے بےجان وجود کو جھنجھوڑنے لگی
ارحان اٹھو یار یہ دیکھو ہائم کیا فضول بول رہا ہے دیکھو یہ مجھے تنگ کر رہا ہے۔۔۔۔۔۔ارحان اٹھو نہ مما کو تم سے ملنا ہے ارحان وہ تمہارا انتظار کر رہی ہیں۔۔۔انفا مسلسل اسکو ہلا رہی تھی۔۔۔
آخر نرس نے آ کر اُسے باڈی سے دور کیا۔۔۔
اسکے سارے ہاتھ خون میں رنگ چکے تھے ہائم تو اسکے ریکشن پر حیران تھا۔۔۔۔
دکھ اسکو بھی تھا آنسو اُسکی آنکھ سے بھی بہے تھے مگر انفا اتنا سب کچھ ہو جانے کے بعد بھی اُسکی آنکھ میں ایک آنسو نہ تھا وہ مسلسل جنونیت کا اظہار کر رہی تھی۔۔۔۔۔
آنسو اُسکی آنکھوں میں بس تب تھے جب وہ ارحان کی باڈی کے پاس تھی۔۔۔
انفا چلو ہمیں ارہان کو لے کر جانا ہے۔۔۔ہائم نے اُسے کہا جو سائڈ پر بینچ پر بیٹھی تھی۔۔۔
تم جاؤ میں خود آ جاؤں گی ۔انفا نے جانے سے صاف انکار کیا
ہائم نے ابھی اُسے فورس کرنا مناسب نہیں سمجھا اسی لیے چپ چپ چلا گیا
اسکے جاتے ہی انفا ریسیپشن پر ائی اور اس سے اس آدمی کا نمبر لیا جو ارحان کو یہاں لایا تھا۔۔۔
اُسکا نمبر ملتے ہی اُسنے اس آدمی سے قتل کی جگہ کا پوچھا وہاں پہنچ کر اُسے ارحان کی گاڑی کے علاوہ اور کچھ نہ ملا تھا سڑک پر خون لگا تھا۔۔۔۔
اور ایک ڈنڈا گرا تھا جو بزرگ لوگ چلنے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔۔۔
انفا نے وہ ڈنڈا اٹھایا گاڑی میں رکھا اور گاڑی گھر کے راستے پر ڈال دی۔۔۔
ارحان کے قتل کی خبر اُن سب کے لیے غیر متوقع تھی۔۔سب ہی پریشان تھے کسی نے بھی ایسا نہ سوچا تھا ۔۔
اس وقت وہ لوگ افہام کے گھر بیٹھے اسی پر بات کر رہے تھے۔۔
ارحان کی باڈی اُسکے گاؤں پہنچا دی گئی تھی اور اسکے ماں باپ کو اطلاع بھی کر دی گئی تھی کے وہ اسپیشل فورس میں تھا۔۔۔۔۔۔
افہام یہ کام کس کا ہے۔۔جنت نے ساتھ بیٹھے افہام سے پوچھا آج اُن میں سے کوئی نہی بول رہا تھا سب خاموش تھے اور انفا اُسکا تو کسی کو نہی پتہ تھا کے کہاں ہے۔۔۔
پتہ نہیں میرا نہی خیال کے یہ کام نہال کا ہے کیوں کہ اُسے کوئی شک نہی ہوا تھا اور نہ ہی ایسی کوئی بات ہوئی تھی کوئی اور بھی ہے اس سارے چکر میں۔۔افہام نے بتایا کیوں کے اُسنے نہال اور ارحان کے درمیان ہونے والی ساری باتیں سنی تھیں۔۔۔۔
اور ہاں اعضاء تم آج سے ٹیم کا مستقل حصہ ہو ۔۔میں نے سینئر کو انفارم کر دیا ہے۔۔۔افہام نے اعضاء کو بتایا
نہی سر مجھے ارحان سر کی جگہ نہی لینی۔۔اعضاء نے صاف انکار کر دیا
اعضاء آپ ارحان کی جگہ نہی لے رہی بلکہ ہماری ٹیم مکمل کر رہی ہو ارحان کی جگہ کوئی نہی لے سکتا۔۔۔افہام نے اُسے سمجھایا
راجر سر۔۔۔اعضاء نے آگے سے بس اتنا ہی کہا
جنت کالز ٹریس ہو رہی ہیں۔۔افہام نے جنت سے پوچھا
جی ہو رہی ہیں مگر ابھی تک نہ اُسنے کوئی کال کی ہے نہ اُسے ائی ہے۔۔۔جنت نے افہام کو بتایا جب سے
ارحان نے چپ انسرٹ کی تھی وہ تب سے اسی کام میں لگی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔
ہمم!ابھی اب سب چلتے ہیں کوئی کال ٹریس ہوگی تو کچھ پتہ لگے گا نہ۔۔۔۔حدید اٹھتے ہوئے بولا
اور اس کے بعد وہ سب اپنے گھروں کو چلے گئے۔۔۔۔۔۔۔۔
اب جو ہونا تھا شاید صبح ہونا تھا۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔




