Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

The Night Stalkers by Bisma khan Episode28

The Night Stalkers by Bisma khan Episode28

جازم نے سب سے پہلے گھر جا کر ہائم کو کال ملائی
اب کیا ہے یار؟ہائم جو میچ دیکھنے میں مصروف تھا جازم کی کال نے اُسکا میں ہ ڈسٹرب کر دیا تھا اُسکی اُکتای ہوئی آواز اسپیکر میں گونجی
مجھے تیری امی کا نمبر دے جلدی۔۔۔۔جازم نے اُسکی اکتاہٹ کو ویلیو کیے بغیر اپنے مطلب کی بات کی
اچھا دیتا ہوں رکھ فون میسج کرتا ہوں۔۔۔۔۔ہائم نے کہتے ہوئے فون کاٹا اور نمبر میسج کیا نہی تو دوبارہ اُسکی کال آ جاتی
جازم نے فوری طور پر اپنی امی کو وہ نمبر بھیج کر اُن سے بات کرنے کو کہا آبی کے بارے میں وہ اُنہیں بتا چکا تھا اُنہیں کوئی اعتراض بھی نہیں تھا
خود تو وہ لوگ باہر تھے اگے بھی اُنکا باہر رہنے کا ارادہ تھا مگر جازم کا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا وہ اپنے ملک میں ہی رہنا چاہتا تھا اسی لیے اُنہوں نے اس معاملے میں کوئی مسئلہ نہ کیا تھا
آخر رہنا اُسکے ساتھ جازم نے تھا تو اُنھیں کیا ایشو
رات کو ہائم،آبی اور اُنکے بابا سب بیٹھے کھانے کے بعد چائے سے لطف اندوز ہو رہے تھے جب اچانک ہائم کی مما کا فون بجا اُنہوں نے اُن نون نمبر دیکھ کر فون ہائم کے بابا کی طرف بڑھایا تو اُنہوں میں فون اٹھایا
اسلام علیکم!دوسری طرف سے کوئی نسوانی آواز ابھری تو اُنہوں نے بھی سلام کا جواب دیا پھر فون کرنے والی شخصیت کے بارے میں دریافت کیا تو پتہ چلا کہ وہ جازم کی مما تھی خان صاحب نے فون واپس ہائم کی مما کو پکڑایا
اور خود ٹی وی دیکھنے میں مشغول ہو گئے
ہائم کی مما فون لے کے اوپر کی طرف بڑھیں تو آبی اور ہائم بھی فوراً اُنکے پیچھے اوپر ائے
اور بیڈ روم کے باہر کان لگا کے کھڑے ہو گئے جہاں وہ ابھی ابھی گئیں تھی
جی میں آپ کی بات سمجھ رہیں ہوں میں جازم سے ملی بھی ہوں مگر ایسے آپ
لوگوں کی غیر موجودگی میں منگنی کرنا کچھ مناسب نہی ہے۔۔۔۔ہائم کی ماما نے اعتراض کیا تو آگے سے پتہ نہیں کیا جواب آیا جو وہ مان گئی
اچھا چلیں ٹھیک ہیں ہم کر لیتے ہیں منگنی مگر شادی پر آپ لوگوں کا ہونا لازمی ہے ورنہ ہم اپنے رشتے داروں کو کیا جواب دیں گے۔۔۔۔بس یہ آخری لائن تھی جو اُن دونوں نے سنی اسکے بعد دونوں ہے ہائم کے روم میں آ گئے
یہ بندہ کتنا فاسٹ ہے۔۔۔ہائم نے فون سائڈ ٹیبل پر رکھتے ہوئی تذکرہ کیا تو ابیہا نے بھی اثبات میں سیر ہلایا اُن دونوں کو اُمید نہی تھی کے جازم یہ سب کچھ اتنی جلدی کر لے گا
چلو جی اب تو تمہاری منگنی ہونے والی ہے۔۔۔۔ہائم نے ابیہا کو جان کر چھیڑا
مگر وہ ابیہا ہی کیا جو چھڑ جائے
اُسنے اگے سے نورملی اثبات میں سر ہلایا جیسے اُسے سب کچھ پہلے سے ہی پتہ تھا
کتنی ڈرامے باز ہو آبی تم مجھے تو نہ جازم پر ترس آ رہا ہے۔۔۔۔۔ہائم نے جازم کی پھوٹی قسمت پر تبصرہ کیا تو آبی نے اُسے ایک گھوری سے نوازا اب اُسکا پہلا کام یہ سب کچھ جنت اور انفا کو بتانا تھا اسی لیے وہ اپنے موبائل کی تلاش میں اپنے کمرے کی طرف بڑھی
جسے اس نے صبح سے ایک بار بھی اپنی شکل نہی دکھائی تھی
کمرے میں پہنچتے اس نے سب سے پہلے جنت کو کال کر کی تہہ بات بتائی تو اُسنے مبارک دے کر فون رکھ دیا آبی کو ایسا محسوس ہوا تھا جیسے وہ کسی کام میں مصروف ہو اسی لیے فون جلدی رکھ دیا۔۔۔۔۔
دوسری کال اُسنے انفا کو کے جس پر اُسنے تقریباً ایک گھنٹہ بات کی اس دوران انفا نے اسے یہ سب چھپانے کا شکوہ بھی کیا
ابھی کال جاری تھی جب ہائم آبی کو بلانے آیا تھا شاید اب اُسکے مما باب اس سے پوچھنے والے تھے کے اُسکا کیا فیصلہ ہے
کون تھا؟ابیہا نے فون بند کیا تو ہائم نے اس سے باہر نکلتے ہوئے پوچھا
بھابھی؟ابیہا نے جان کر ہائم کو تنگ کرنے کے لیے بھابھی لفظ استعمال کیا تھا وہ جانتی تھی ہائم اس لفظ سے خاصا چھڑتا وہ بھی جان بوجھ کر ہی جنت کو بھابھی بولتا تھا کیوں کہ وہ بھی اس نام سے بچتی ہے تھی اکثر
میں اندر آ جاؤں۔۔۔ابیہا اور ہائم دروازے پر پہُںچ تو ابیہا نے اجازت چاہی
او بیٹا۔۔۔۔اندر سے آواز ائی تو وہ دونوں دروازہ کھولتے اندر داخل ہوئے ہائم تو خان صاحب کے ساتھ پر صوفہ پر بیٹھ گیا جبکہ ابیہا اپنی مما کے ساتھ بیڈ پر بیٹھ گئی
بیٹا آپ سے ایک بات کرنی ہے ۔۔۔خان صاحب نے بات شروع کی تو ابیہا بھی سیدھی ھو کر بیٹھی
جی بابا آپ کریں۔۔۔۔خاصی تابعداری سے جواب دیا گیا
بیٹا آپ کے لیے ایک رشتا آیا ہے۔۔۔خان صاحب کافی سنبھال کر بات کر رہے تھے وہ تھوڑی نہ جانتے تھے کے انکی بیٹی پہلے سے سب جانتی ہے
ابیہا نے اس بات پر سر جھکایا تو ہائم کا بس نہیں چلا کے نیچے لیٹ کر ہنسنا شروع کر دی آبی اور شرما جائے توبہ
مگر اس نے اپنی ہنسی کافی مشکل سے ضبط کی
آپ جانتی ہی ہوگی آپکے بھائی کے دوست ہیں جازم اُنکا رشتا آیا ہے آپکے لیے۔۔۔۔۔۔خان صاحب نے آبی کو جازم کا طرف کروایا
ہی بابا ملی ہوں نے ایک دو بار۔۔۔۔ابیہا نے کافی کونفائڈنس سے جھوٹ بولا تھا اور ہائم تو اس بات کر گش کھا کر رہ گیا اب تو بس بلند آواز میں كہکہے لگانے کی کسر رہ گئی تھی
توبہ استغفار کتنی جھوٹی ہے یہ لڑکی۔۔۔یہ وہ الفاظ تھے جو ہائم نے دل ہی دل میں ادا کیے تھی
تو بیٹا آپ کیا کہتی ھو۔۔۔خان صاحب نے اب آبی کا فیصلہ جاننا چاہا
بابا جو آپ لوگوں کی مرضی ہے وہ میری مرضی ہے آپ دیکھ لیں ۔۔۔ابیہا نے شرافت کے سارے ریکارڈ توڑتے ہوئے کہا تو خان صاحب نے اُسے اپنے پاس بلایا اور اُسکے سر پر پیار کیا اس کے بعد وہ دونوں روم سے نکلنے تو ہائم اُسے بازو سے کھینچتا اپنے روم میں لے گیا
جھوٹی لڑکی کتنی تیز ہو تم جی بابا ملی ہوں ایک دو بار۔۔۔۔ہائم نے اُسکی نقل اُتاری تو آبی نے فرضی کالر کھڑا جیسے بڑا کوئی معرکہ مارا ہو اس نے
نہی تو اور کیا کہتی جی بابا جانتی ہوں اور میری اس معاملے میں بات ہو گئی ہے اُن سے آپ بے فکر رہیں۔۔۔۔ابیہا نے جذباتی ہو کر کہا تو ہائم کی ہنسی چھوٹ گئی
اچھا سنو ایک ہفتے میں منگنی ہے تمہاری۔۔۔۔ہائم نے اُسے اطلاع دی
آپکو کیسے پتہ۔۔۔آبی نے فوراً بعد پر بیٹھتے ہوئے پوچھا
ابھی جب ہم نکل تھے تھے تو بابا اما سے کے رہے تھے کے اب اگلے ہفتے انشاء اللّہ یہ نیک کام کر دیں گے۔۔۔۔ہائم نے اُسے ساری بات بتائی
کونسا نیک کام۔۔۔۔ابیہا نے حیرت انگیز ایکسپریشن دیتے ہوئے پوچھا
آپکو یہاں سے نکالنے کا نیک کام۔۔۔ہائم نے بھی برابر بدلہ لیا
بھئیا۔۔۔۔۔ابیہا نے کُشن ہائم کی طرف اچھالا
دوسری طرف اب جازم کو مبارک کے فون جا رہے تھے اور شام میں افہام نے سب کو کھانے پر انوائٹ کیا تھا وہ جازم کی منگنی کی سلبریشن کرنا چاہتے تھے
اور ساتھ ہی اُنہیں کیس بھی ڈسکس کرنا تھا وہ بھی رکے کافی دن ہو گئے تھے افہام کی لاکھ کوششوں کے باوجود ابھی تک کوئی خیر خواہ نتیجہ نہی نکلا تھا
اس کے لیے بھی انہی اب کچھ کرنا تھا وہ لوگ کامیابی کے قریب ترین تھے اب ڈھیلے اور کر سب کچھ گنوانا نہی چاہتے تھے
تقریباً شام ۵ بجے وہ سب لوگ ہی افہام کے فلیٹ پر جمع تھے اور وہ تینوں لڑکیاں شادی کی شوپنگ کی باتیں کر رہی تھیں
جازم جو سمجھا تھا کے اتنی جلدی منگنی پر ابیہا ہنگامہ کرے گی وہ تو جنت اور انفا کے ساتھ مل کر منگنی کی تیاریوں میں مصروف تھی
کھانے کے بعد وہ سب مرد حضرات تو ایک جگہ بیٹھ گئے مگر آبی،جنت اور انفا تینوں ہی بیڈ روم میں تھیں اور شوپنگ پر جانے کی پلاننگ کر رہے تھے
سعد یار انہی بلاؤ ایسے تو یہ لوگ ساری رات انہی باتوں میں لگا دیں گی اور ہمارا کیس اُدھر ہی اٹک جائے گا
افہام نے سعد کو اُن تینوں کو بلانے کا کہا جن کا اٹھنے کا کی موڈ نہی تھا
آپ لوگ بہت آ جائیں کیس ڈسکس کرنا ہے یار بس کریں یہ باتیں۔۔۔۔سعد نے بیڈ روم کا ادھ کھلا دروازہ اور کھول کر علان کیا
تو وہ تینوں فوراً سے پہلے باہر ائے
سب کچھ ڈسکس کرنے کے بعد بھی یہی نتیجہ نکلا کے ابھی وہ لوگ کچھ نہی کر سکتے سوائے دھیان سے اُسکا پیچھا کرنے کے جو کام حماس کو سونپا گیا
یہ سارا ہفتہ شوپنگ میں کیسے گزرا اُن میں سے کسی کو اندازہ نہ ہوا آج اُن دونوں کی منگنی تھی حماس ابھی بھی حیدر کو ڈھونڈنے کی کوشش کر رہا تھا دن رار اُسکے گھر کے چکر لگا رہا تھا مگر کوئی خیر خواہ نتیجہ نہی نکل رہا تھا اسی لیے آج افہام کے کہنے پر وہ بھی بس فنکشن کی ہی تیاری کر رہا تھا
صبح سے جنت اور انفا دونوں ہی ابیہا کے ساتھ اُسکے گھر پر تھیں اور اب وہ لوگ پارلر کے لیے نکل گئیں
پارلر کے بعد تیاری ہو کر ٹائم کے مطابق وہ تینوں ہی 7 بجے حال کے برائڈل روم میں ڈیرہ ڈالے ہوئے تھیں
جازم وغیرہ بھی سب پہُںچ چکے تھے۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💖💖💖

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *