Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

The Night Stalkers by Bisma khan Episode23

The Night Stalkers by Bisma khan Episode23

جازم نے ابیہا سے بات کرنے کا فیصلہ تو کیا تھا مگر ابھی تک اس پر عمل پیرا نہی ہوا تھا
کیس کو اگر بڑھانے کے لیے افہام اور حماس نے کو رات ایک فیصلہ کیا تھا جو اب اُنہیں سب کو سنانا تھا
شام میں افہام کے کہنے پر سب اُسکی طرف آ گئے تو اس نے سب کو بیٹھا کر بات شروع کی
میں نے اور حماس نے ایک فیصلہ کیا ہے۔۔۔افہام نے ہے بات کا آغاز کیا
کیا؟تقریباً سب نے ہے دریافت کیا
یہ کے حیدر کو ایسے پکڑنا یہ ٹریپ کرنا ہمارے لیے اب ناممکن ثابت ہو رہا ہے اسی لیے۔۔۔۔افہام نے بات بیچ میں چھوڑ کر حماس کی طرف دیکھا جس پر اس نے اثبات میں سر ہلایا
یعنی اُسے آگے بھی بات کر دینی چاہیے تھی
وہ فیصلہ یہ ہے کہ ہمیں انفارمیشن ملی ہے کے حیدر کے لیے ملازمہ کے طور پر تین لڑکیاں لے جی جائیں گی اور یہ کے وہ لوگ موٹر وے کے راستے سے جا رہے ہیں تو اسی لیے میں اُنہیں آسانی سے روک سکتا ہوں میرا ارادہ ہے کے اُدھر اس گاڑی کو روک کر اس میں سے ایک لڑکی کو غائب کر کے اپنی ٹیم کی کوئی لڑکی بٹھا دی جائے اور وہ اُدھر جا کر کام کرے اور ہمیں ساری انفرمیشن دے۔۔۔۔افہام نے بنا رکے ساری بات بتائی پھر سب کے تاثرات جانچے جن میں کوئی خاص کمی نہ ائی تھی
تو۔۔۔۔سب سے پہلے بولنے والی ابیہا تھی
تو یہ کے کون جائے گا۔۔۔اس بار حماس بولا تھا
کوئی بھی چلا جائے گا اس میں کیا ہے۔۔۔۔انفا نے بھی ارام سے کہہ دیا
کون؟حدید نے بھی پوچھا تھا
میں چلی جاتی ہوں۔۔۔۔انفا نے کھلے دل سے آفر کروائی
نہی تم نہی کیوں کے تم پھر ہاسپٹل سے چھٹی لو گی اور وہاں تمہاری غیر موجودگی ظاہر بھی ہوگی اور مجھے شک ہے کے اس نے ہم میں سے کچھ کے پیچھے اپنے بندے لگائے ہوئے ہیں۔۔۔۔۔۔افہام نے انفا کے جانے کی مخالفت کی تو باقی بس جنت اور ابیہا بچی تھیں۔۔۔۔
اور وہ کچھ کون کون ہیں ۔۔۔۔ہائم اس ساری بات میں پہلی بار بولا تھا
تم میں حدید،انفا۔۔۔۔۔افہام نے کافی روانی سے جواب دیا اُسکے چہرے پر کسی قسم کا خوف نہ تھا
کیسے۔۔۔۔اب سوال حدید کی طرف سے تھا
اُسکے دو بندے تمہیں اور ہائم کو دیکھ چکے ہیں حدید کے پیچھے وہ لوگ ائے تھے تو لازمی طور پر یہ بھی جانتے ہوں گے کے انفا بھی تمہارے ساتھ ہے اور میرے بارے میں تو شروع سے نہال کو بھی شک تھا میرا تو پیچھا پتہ نہیں وہ کب سے کروا رہا ہے۔۔۔۔۔افہام نے اُنہیں ساری تفصیل سے آگاہ کیا
ابھی تک اس نے یہ بات کسی کو نہی بتائی تھی تک یہ سب مشکوک حرکتیں کر کے اُنکے شک کو پختہ نہ کر دیں
لیکن اب بتانا ضروری تھا
تو پھر کون جائے گا۔۔۔۔انفا نے آیبرو اچکا کر پوچھا
میں۔۔۔۔۔جنت نے کافی بہادری کا مظاہرہ کیا تھا مگر اُسکے اس پلان پر حدید نے پانی پھیر دیا
جناب آپ بھی نہی جا سکتیں ہیں کیوں کہ ہمیں نہی پتہ اُدھر کتنے دین لگ جائیں گے تو ادھر سب کچھ کون سنبھالے گا۔۔۔۔۔حدید نے چھپے لفظوں مے صاف انکار کیا تھا
تو پھر ابیہا صحیح ہے ۔۔۔۔۔ہائم کو شاید اپنی بہن پر کافی بھروسہ تھا اسی لیے اُسکے بولنے سے پہلے ہی بول پڑا
کیا؟جازم نے اچانک احتجاج کیا
کیا کا کیا مطلب۔۔۔۔اور آبی تو اُسے کھانے کو پڑ گئی تھی
میرا مطلب یہ کیسے جائے گی یہ تو کافی چھوٹی ہے نہ۔۔۔۔۔جازم نے ایک معمولی سے وجہ بتائی جس کی کسی کو پرواہ نہی تھی
تو؟ابیہا نے اسے خون خوار نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا
یار اگر کچھ ہو گیا تو یونہی پتہ لگ گیا تو یونہی نے اس پر اٹیک کر دیا تو۔۔۔۔جازم نے ایک ساتھ کافی سری صورت حال کا نقشہ پیش کیا
تو اس نے کیا ہاتھ میں چوریاں پہنی ہوئی ہیں یہ جو بندی کراٹے جوڈو میں بلیک بیلٹ ہے اس کو کیا مسئلہ ہے کسی اٹیک سے کیوں ابیہا۔۔۔۔۔ہائم نے بات کے آخر میں ابیہا کو مخاطب کیا
جی بلکل۔۔۔۔ابیہا نے فخر سے کندھے اٹھا کر کہا
ہائم چاہتا تھا کے اگر وہ اس کام مے پڑ گئی ہے تو اس میں احساسِ ذمےداری بھی ائے اور وہ تمام حالات کے لیے پہلے سے ہی تیار ہو وہ اپنی بہن کو ایک انڈیپنڈنٹ لڑکی کی شکل مے دیکھنا چاہتا تھا اس لیے اُسکی حوسلہ افزائی میں کوئی کسر نہ چھوڑتا تھا
ہاں تو پھر فائنل ہو گیا میں جاؤنگی لیکن کب افہام بھائی۔۔۔۔ابیہا نے افہام سے پوچھا
کل شام میں جانا ہے اُنہوں نے تمہیں میں اُدھر سے ہی بٹھا دوں گا اُنکے ساتھ۔۔۔۔۔افہام نے اُسے تفصیل بتائی
اچھا اچھا صحیح ہے۔۔۔۔۔ابیہا نے بس اتنا ہی کہا کیوں کے بات ختم ہو چکی تھی
اگلے دن شام میں ابیہا سعد اور افہام نکلے تھے وہ تینوں ہی موٹر وے کے ناکے پر کھڑے تھا جب دور سے ایک ویگن اتی ہوئی نظر ائی
افہام نے کیبن میں بیٹھے ہی اُسے روکنے کا آرڈر دیا جس پر فوراً عمل کیا گیا
سر گاڑی روک لی ہے ہم نے سائڈ پر لگوا لی ہے ۔۔۔ایک آفیسر نے آ کر افہام کو خبر کی تو اس نے سعد کو اشارہ کیا جو ابیہا کو اپنے ساتھ لیے کیبن سے نکل گیا افہام بھی اٹھا اور باہر اس گاڑی کی طرف چل دیا
کیوں روکا ہے ہمیں؟ اُن مے سے ایک آدمی باہر نکل کر پوچھ رہا تھا
کیوں کے ہمیں شک ہے کے تم لوگ ڈرگز لے کر جا رہے ہو ہمیں تلاشی لینی ہے۔۔۔آفیسر کے بجائے افہام نے جواب دیا تو وہ آدمی اُسکی طرف متوجہ ہوا
صاحب آپ شوق سے لے لو تلاشی۔۔۔۔۔۔اس نے گاڑی کی طرف اشارہ کیا تو افہام گاڑی کے پاس جا کر رکھا اور ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے آدمی کو باہر انے کا کہا جو فوراً باہر آیا افہام نے اُن دونوں کو ڈکی کے پاس کھڑا کر کے ڈکی کھلوائ
اور یہی وقت تھا جب سعد نے ویگن کا دروازہ کھول کر اُن میں سے ایک لڑکی کو باہر نکالا ابیہا فوری طور پر اس کی جگہ سنبھالی
سعد اُسے لیے گاڑی کی اگلے سائڈ سے کیبن میں آیا اُسے وہاں چھوڑ کر اور آفیسر کو اُسے چپ کروانے کا کے کر باہر گیا اور افہام کے پاس جا کر کھڑا ہو گیا
جی صاحب ہو گئی تسلی ۔۔۔۔۔۔اُن مے سے ایک آدمی نے کہا تو افہام نے اُسے جانے کا کہا جو کام اُنہیں کرنا تھا وہ تو ہو ہی گیا تھا
انکے لیے یہ کام اور بھی آسان تھا کیوں کہ وہ تینوں لڑکیاں جو لے جائیں جا رہی تھیں مکمل پردے میں تھیں تینوں نے ہی نقاب کیا تھا اسی لیے انہیں پہچان کی بھی کوئی خاص فکر نہ تھی یہ سب کچھ افہام پہلے ہی پتہ کروا چکا تھا اسی لیے اتنا رسک والا پلان بنایا تھا
سعد تم گھر جاؤ۔۔۔۔افہام نے کیبن میں واپس آ کر کہا جہاں وہ لڑکی بیہوش پڑی تھی
اسکا کیا کروں؟سعد نے اُسکے بیہوش وجود کی طرف اشارہ کیا
میں نے ہائم کو کہا ہے وہ گاڑی لے کر آ رہا ہے جیتنے دیں ابیہا وہاں ہے اسے جازم کے گھر تہہ خانے میں رکھو تاکہ یہ کچھ کر نہ اسکے اسے ساتھ ہی لیے جانا
افہام بھائی مجھے ابھی تک ایک بات سمجھ نہیں آئی۔۔۔۔سعد نے پر سوچ انداز میں کہا
کی ائی وہ بات۔۔۔۔افہام نے اپنی گاڑی کی چابی اٹھاتے ہوئے پوچھا اُسے بھی اب پولیس اسٹیشن جانا تھا
ہم نے ابیہا کو کوئی ٹریکر نہی دیا نہ ہی کوئی چپ تو اُسکا پتہ کیسے لگے کہ کے کہاں ہے ۔۔۔سعد نے اپنے دماغ میں انے والی بات اُسے بتائی
سعد تمہیں کیا لگتا ہے حیدر نے جو لڑکیاں کام سے لیے بلائی ہیں وہ اُنہیں چیک کئے بغیر گھر میں گھسا لے گا کبھی نہی وہ مکمل طور پر اُنکی جانچ کروائے گا پھر اُنہیں اندر گھساے گا۔۔۔۔افہام نے اُسے وجہ بتائی جو حقیقی تھی
ہمم! سعد اسکے علاوہ اور کہتا بھی کیا
اب تو بس ابیہا کی طرف سے کسی خبر کا انتظار تھا
ابھی افہام دروازے تک پہنچا تھا جب سعد نے اُسے دوبارہ پُکارا
بولو..افہام کو جانے کے جلدی تھی اسی لیے بولا
بھائی وہ انفرمیشن هم تک پہنچائے گی کیسے وہاں کے اگر کسی فون سے کال کرے گی تو کال ریکارڈ ہو گی نہ اور ہم نے اُسے کوئی فون بھی نہی دیا۔۔۔۔سعد نے دماغ میں انے والا اگلا سوال کیا
رات کو بتاتا ہوں گھر آ کے ہائم آ گیا ہے آفیسر کی مدد سے اسے گاڑی میں ڈالو جازم کی طرف چھوڑو اور گھر جاؤ کچھ کھاؤ پیو۔۔۔۔۔افہام اُسے کہتا باہر چل دیا
ابھی اُسکے پاس سعد کے سوالوں کا جواب دینے کے لیے وقت نہی تھا اسی لیے رات کا کہہ دیا
اسکے بعد سعد نے اس لڑکی کو آفیسر کی مدد سے ہائم کی گاڑی میں ڈالا کر پھر جازم کے گھر جا کر اُسے تہ خانے میں لیے جا کر بندھا اور پھر گھر گیا
گھر جا کر جنت کے پوچھنے اور اس نے بتایا کے ابیہا کو اُنہوں نے گاڑی میں بٹھا دیا ہے اب بس اُسے افہام کے گھر انے کا انتظار تھا
اُسے اپنے سوال کا جواب چاہیے تھا
رات میں افہام۔گھر آیا تو کھانے کے بعد سب سے پہلا سوال اس نے سعد سے وہی کیا
سب کو انے دو پھر بتاتا ہوں۔۔۔جواب میں افہام نے کہہ کر اُسے خاموش کروا دیا
اچھا!وہ بے دلی سے کہتا اٹھ گیا تو افہام نے ہائم کو کال کر کی اُسکے انے کا پوچھا اگلے ادھے گھنٹے میں وہ سب اپنی کانفرنس ٹیبل پر براجمان تھے
جہاں افہام اُن سب سے مخاطب تھا
اسی لیے میں نے یہ طے کیا ہے کے حماس تم وہاں پر موجود ایک خواجہ سرا کے گروپ کو جوائن کرو گے اور ابیہا سے ساری انفارمیشن لے کر ہم تک پہنچاو گے ڈیٹس اٹ۔۔۔۔افہام نے بات کا اختتام کیا تو سب اُسکی طرف ہی دیکھ رہے تھے
لیکن میں کیسے لوں گا انفرمیشن ابیہا سے وہ تو گھر کے اندر ہو گی نہ۔۔۔۔حماس نے احتجاج کیا
ہاں وہ ہو گی گھر کے اندر مگر جیسا کے گم سب جنت ہیں وہ وہاں گھر کے کام یعنی کام والی کے طور پر گئی ہے اور میری انفارمیشن کے مطابق اس کے گھر کے باہر کی طرف ایک گارڈن نما جگہ ہے جہاں اکثر کچھ لوگ ائے ہیں اور اس جگہ کی صفائی بھی وہ کام والیوں سے ہی کرواتا ہے تو اس طرح ابیہا کو کو بھی بات تم تک پہنچانا ہوگی وہ اُدھر موجود پودوں میں سے تمہیں میل جائے گی کس صورت میں یہ تمہیں خود ڈھونڈنا ہے ۔۔۔۔۔افہام نے اُسے تفصیل سے ساری بات سمجھائی
مگر وہ ایک خواجہ سرا کو اپنے گارڈن میں کیوں گھسنے دیگا۔۔۔اس بار سوال حدید نے کیا
دیکھو وہ اُسکی کوئی پرسنل جگہ نہی ہے سمجھے وہاں اکثر لوگ آ کے بیٹھے جاتے ہیں کیوں کے وہ اُسکے گھر کے پیچھے ہے اگر کہا جائے تو اُسکے گھر کا اس گارڈن کے ساتھ کوئی لینک نہی ہے مگر پھر بھی اُسکی صفائی وہ خود کرواتا ہے اور وہ کوئی خاص کالونی نہی ہے جہاں پر کسی خواجہ سرا کو گھسنے نہ دیا جائے اسی لیے یہ سب سے آسان طریقہ ہے۔۔۔۔۔افہام نے حدید کی طرف دیکھ کر ساری بات حماس کو سمجھائی
یس بوس۔۔۔۔حماس نے کھڑے ہو کے سلیوٹ مارا تو افہام نے بیٹھنے کہا اشارہ کیا
مجھے فکر ہو رہی ہے ابیہا کی کیا وہ یہ کر لے گی ۔۔۔جنت نے فکر مندی کا اظہار کیا
وہ کوئی چھوٹی بچی نہی ہے ایک اسپیشل فورس کی ممبر ہے سب سنبھال کے گئی میں اُسے اچھی طرح جانتا ہوں ۔۔یہ پر اعتماد آواز ہائم کی تھی
تو حماس میرے خیال سے تمہیں نکل جانا چاہیے اور ہاں اُسے بھیس میں جانا جس مے تم اصل میں خواجہ سرا لگو تاکہ وہ لوگ جانچ پڑتال کی بغیر تمہیں اپنے گروپ میں شامل کر لیں گوٹ ات۔۔۔۔افہام نے آخر میں پوچھا تو سب کی مشترکہ یس کی آواز ائی
اب اُسے فوراً وہاں کے لیے نکلنا تھا حماس کے لیے یہ سب کرنا مشکل ثابت ہوا مگر کرنا تو تھا مگر آگے ہ کر جب اُسے کسی بھی پوچھ تاچھ کے بغیر گروپ کا حصہ بنا لیا گیا تو اُسے کافی حیرانگی ہوئی مگر یہی ٹھیک تھا کم سے کم اُسے اس کام کے لیے محنت
نہیں کرنی پڑی سوائے سجنے سنورنے کے😂😂😂
لیکن آپ سب جانتے ہیں ایسے بڑے بڑے شہروں میں ایسی چھوٹی چھوٹی باتیں ہوتی رہتی ہیں😝😝
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔😚😚😚

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *