The Night Stalkers by Bisma khan NovelR50797 The Night Stalkers by Bisma khan Episode10
No Download Link
595.5K
32
Rate this Novel
The Night Stalkers by Bisma khan Episode01 The Night Stalkers by Bisma khan Episode02 The Night Stalkers by Bisma khan Episode03 The Night Stalkers by Bisma khan Episode04 The Night Stalkers by Bisma khan Episode05 The Night Stalkers by Bisma khan Episode06 The Night Stalkers by Bisma khan Episode07 The Night Stalkers by Bisma khan Episode08 The Night Stalkers by Bisma khan Episode09 The Night Stalkers by Bisma khan Episode10 (Watching)The Night Stalkers by Bisma khan Episode11 The Night Stalkers by Bisma khan Episode12 The Night Stalkers by Bisma khan Episode13 The Night Stalkers by Bisma khan Episode14 The Night Stalkers by Bisma khan Episode15 The Night Stalkers by Bisma khan Episode16 The Night Stalkers by Bisma khan Episode17 The Night Stalkers by Bisma khan Episode18 The Night Stalkers by Bisma khan Episode19 The Night Stalkers by Bisma khan Episode20 The Night Stalkers by Bisma khan Episode21 The Night Stalkers by Bisma khan Episode22 The Night Stalkers by Bisma khan Episode23 The Night Stalkers by Bisma khan Episode24 The Night Stalkers by Bisma khan Episode25 The Night Stalkers by Bisma khan Episode26 The Night Stalkers by Bisma khan Episode27 The Night Stalkers by Bisma khan Episode28 The Night Stalkers by Bisma khan Episode29 The Night Stalkers by Bisma khan Episode30 The Night Stalkers by Bisma khan Episode31 The Night Stalkers by Bisma khan Last Episode
The Night Stalkers by Bisma khan Episode10
The Night Stalkers by Bisma khan Episode10
افہام ہائمہ رائے کی گاڑی کراچی کی طرف جا رہی ہے۔۔۔جنت نے افہام کو بتایا جو ابھی ابھی کمرے میں داخل ہوا تھا کب سے وہ باہر بیٹھا سعد سے بات کر رہا تھا اور اب اندر انے پر جنت نے اُسے مخاطب کیا
کب اور تمہیں کنفرم ہے کے وہ کراچی ہی جا رہی ہے۔۔افہام اسکے ساتھ صوفہ پر آ کر بیٹھا اور لوکیشن دیکھی
ہاں میں نے نہال اور کسی اور بندے کی بات سنی تھی ابھی تک یہ پتہ نہیں چل سکا کے وہ کون ہے مگر نہال اس سے کے رہا تھا کے ہائمہ کا کراچی میں کوئی کام ہے اسی لیے وہ اس سے نہی مل سکتی۔۔۔۔جنت نے ساری بات بتائی جو اُسنے سنی تھی
اچھا رکو پھر۔۔۔افہام نے کہتے ہوئے جیب سے اپنا موبائل نکلا اور ہائم کا نمبر ملایا
جو پہلی ہی بیل پر اٹھا لیا گیا
یار بات سن سب کو کہہ دے کے رات کو ساتھ بیٹھنا ہے کچھ ڈسکس کرنا ہے جلدی پہنچیں سارے۔۔افہام نے کہہ کر آگے سے جواب سنے بغیر فون رکھا اور دوبارہ جنت کی طرف متوجہ ہوا سعد بھی آوازیں سن کر اب اندر آ چکا تھا
کیا ہوا۔۔۔سعد نے جنت سے پوچھا کیوں کے افہام اب لیپ ٹاپ پر کچھ کر رہا تھا
ہاں ہائمہ کسی کام سے کراچی جا رہی ہے کام کی نوعیت نہی پتہ ابھی۔۔جنت نے بعد میں پوچھے جانے والے سوال کا جواب بھی پہلے ہی دے دیا تھا
کراچی جا رہی ہے۔۔۔سعد نے جنت کے الفاظ دہرائے
کہیں ایسا تو نہیں کے۔۔۔سعد نے ابھی اتنا ہی بولا تھا مگر پھر کسی خیال کے تحت چپ ہو گیا
کے کیا۔۔۔افہام جو لیپ ٹاپ یوز کر رہا تھا دھیان اُسکا اُن دونوں کی طرف ہی تھا اُسنے سعد سے پوچھا
دیکھو ہمیں پتہ ہے نے وہ لڑکیاں اسمگل کرتی ہے اور تم نے لاہور میں سختی کر دی ہے ہینا۔۔۔سعد نے آخر میں تصدیق چاہی
ہاں تو۔۔۔افہام نے آگے پوچھا
تو یہ کے ہائمہ رائے لاہور سے لڑکیاں اسمگل نہی کر سکتی اسی لیے کیا پتہ اُسنے لڑکیاں بائے شپ اسمگل کرنی ہوں کراچی سے۔۔۔۔۔سعد نے اپنا اندازہ لگایا
کراچی سے مگر اتنی لڑکیاں وہ اکٹھی کیسے لے کر جائے گی۔۔۔جنت نے سعد سے پوچھا
ہم دیکھ رہے تھے آپی کے دو چار دن سے وہ باہر نہی نکلی مگر اسکے گھر سے دوسری گاڑیاں نکلی ہیں اور ابیہا نے بتایا کے ایک گاڑی صبح جاتی تھی اور رات کو اتی تھی تو کیا پتہ اُسنے لڑکیاں اس طرح کراچی بھیجی ہوں۔۔۔۔سعد نے اُسے ساری بات سمجھائی جو وہ سوچ رہا تھا
مطلب تم یہ کہہ رہے ہو کے لڑکیوں کو وہ بائے شپ اسمگل کرنے والی ہے۔۔افہام نے اُسکی بات واضع کر کے کہی
جی یہی کہ رہا ہوں ۔۔سعد نے اُسکی حامی بھری
ہمم تو پھر تو ہمیں فوراً اسکے پیچھے نکلنا چاہیے۔۔۔افہام نے فوراً فون اٹھایا
رکیں بات سنیں ایسے نہی ایسے اگر ہم اُسے پکڑ بھی لیں تو بھی کوئی فائدہ نہیں آپکو اپنی ٹیم لے کر جانی چاہیے پولیس ٹیم تاکہ نیوز بن سکے اور اُسے گرفتار کیا جا سکے۔۔۔سعد نے اُسے فون کرنے سے روکا
افہام کو بھی اُسکا مشورہ صحیح لگا اسی لیے ہائم کے بجاے اُسنے پولیس اسٹیشن کال ملائی
وہاں سارا کچھ بتا کے اور ٹیم کو تیار رہنے کا کہ کر اُسنے جازم،حماس اور ہائم کو ساتھ چلنے کو کہا۔۔۔وہ لوگ ۲۰ منٹ بعد ہی نکل گئے تھے جو کرنا تھا جلدی کرنا تھا اُنکے پاس وقت بہت کم تھا اُنہیں اپنے مشن کے ساتھ ساتھ کافی لڑکیوں کی جان بھی بچانی تھی
هائمہ رائے اب کراچی کی حدود میں داخل ہو چکی تھی افہام اور باقی لوگ انسے ادھے گھنٹے کی دوری پر تھے انکی پوری ٹیم تیار تھی
کچھ اور دیر بعد ہائمہ رائے کی گاڑی ایک ہوٹل کے سامنے روکی اور بس منٹ وہاں کھڑے رہنے کے بعد وہ وہاں سے چل پڑی سعد کا خیال تھا کہ اُس نے وہاں سے اُن لڑکیوں کو رکھا تھا جنہیں کیڈنپ کیا گیا تھا
اُسکے اندازے پر افہام نے حماس کو ہوٹل سے معلومات حاصل کرنے کا کہ وہ جو اپنی گاڑی میں تھا اُسنے گاڑی ہوٹل کی طرف موڑ لی اب افہام وغیرہ کی گاڑی ہائمہ رائے کی کار سے بس تھوڑے سے فاصلے پر تھی آخر ساحل سمندر پر جا کر اُسکی گاڑی رکی جہاں کسی بارے جہاز کی جگہ چھوٹی چھوٹی شیپز تھیں۔۔۔۔۔جو اکثر سمندر میں گھومتی ہیں۔۔۔
افہام وغیرہ نے وہاں کھڑے اُسکی کسی بھی حرکت کا انتظار کیا۔۔
کچھ دیر بعد گاڑیوں میں سے اُنہوں ۲۰ لڑکیاں نکالیں جن کے ساتھ یقیناً زبردستی کی جا رہی تھی کیوں کے وہ اپنے اؤ کو چھڑانے کی مکمل کوشش کر رہی تھی اُن میں سے دو لڑکیاں تو بلکل نڈھال تھی ایسا لگتا تھا کے اُنہیں بہت مارا پیٹا گیا تھا۔۔
جب انہیں شپس کے پاس لے جایا جا رہا تھا تو افہام اور اُسکی ٹیم نے فوراً اٹیک کر دیا ہائم نے اپنا کیمرا آن رکھا تھا اور موقعے پر اُنہیں پکڑ لیا گیا سب کچھ ریکارڈ ہو جانے کی وجہ سے ہائمہ رائے کو اسی وقت گرفتار کر لیا گیا اور اُن لڑکیوں کو ریکور کر لیا گیا۔۔۔ہائم نے سارا کچھ ریکارڈ کر لیا تھا اب اُسے یہ خبر پھیلانی تھی جو اُسکے لیے نہایت ہی آسان کام تھا اُسنے فوراً ائے پہلے وہ ویڈیو جنت کو بھیجی جس نے اُسے مختلف سائٹس پر ڈال دیا
صبح تک یہ خبر سارے شہر میں پہُںچ چکی تھی ہر نیوز چینل اسی بارے میں خبر دے رہا تھا ہائمہ رائے کو گرفتار ہے کتنے گھنٹے گزار چکے تھے سارے کاموں سے فارغ ہو کر وہ سارے افہام ہی کے گھر ائے جہاں جنت اور سعد نے مل کر سب کے لیے ناشتا تیار رکھا تھا وہ دونوں سب واک سے انے کے بعد یہی کر رہے تھے کیوں کے وہ جانتے تھے کے سب تھکے ہوئے ہوں گے اسی لیے اُن دونوں میں عمدہ ناشتا بنانے کا پلان کیا اور وہ عمدہ ناشتا تھا جنت کے ہاتھ کے چنے اور سعد کے ہاتھ کی پوڑیاں جیسے اُن سب نے بارے مزے لے لے کر کھایا۔۔۔
وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوئے تھے اتنی سے سلیبریشن تو بنتی تھی سب ناشتا کر کے فارغ ہوئے تو شغل لگانے بیٹھ گئے اہ اُنہیں اور کوئی کام نہی تھا اب اگے کا کام انہیں ایک دیں کے گیپ سے شروع کرنا تھا
وہ سب اس وقت جنت کے بیڈ روم میں بیٹھے سعد کے ہاتھ کی چائے سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔۔اور ساتھ ساتھ باتیں بھی کے رہے تھے
وہ بھئی سعد صاحب کو تو کافی کام اتے ہیں کافی سگھڑ ہیں سعد صاحب آپ تو۔۔۔حدید نے ساتھ بیٹھے سعد کے کندھے سے کندھا ٹکرایا
جی ہاں اور آپ نا لائق۔۔۔۔سعد نے اس کے گٹھنے پر مکہ رسید کیا اُن دونوں کی کافی بن چکی تھی حدید،سعد اور ہائم تینوں ہی ۲۱ سال کے تھے جس کی وجہ سے آپس مے زیادہ بنتی تھی اسی وجہ سے حدید کی انفا سے بھی بنتی تھی کیوں کے وہ بھی بس ۲۰ سال کی تھی
جبکہ ابیہا،جنت،حوریہ تینوں ہی ۱۸ سال کی تھیں
حدید کی جنت کے ساتھ افہام کی شادی کے بعد سے بنتی تھی وہ ان سب لڑکیوں کو اپنی بہنوں کی طرح سمجھتا تھا سوائے حوریہ کے کیوں کے اُسکے مطابق اتنی شاطر لڑکی کم سے کم اُسکی بہن نہی ہو سکتی تھی جنت کے ساتھ اُسکا بڑے بھائیوں والا حساب تھا وہ شروع سے جانتا تھا کے جنت بھائی بہن نامی رشتوں کے انجان رہی ہے وہ جنت کو پارٹنر کہتا تھا جس پر ایک دو بر افہام نے اُسے ٹوکا مگر اثر نہ ہونے کی صورت میں چھوڑ دیا جنت بھی شروع سے ہی اُسکے اور انفا کے ساتھ کافی گھل مل گئی تھی جازم کی رعب دار پرسنالٹی کی وجہ سے جنت کو ہمیشہ اس سے ڈر لگتا تھا جبکہ وہ جنت کو کافی عزت دیتا تھا مگر پھر بھی جنت اُسکے ساتھ زیادہ مذاق نہی کرتی تھی مگر اسکی عزت ضرور کرتی تھی ہائم کے ساتھ بھی جنت کی جلدی بن گی تھی وہ خود ایک شوخ ٹائپ لڑکا تھا اسی لیے جلدی سیٹ ہو گیا باقی حماس اور ارہاں کو تو وہ بس ایک دو مہینے سے جانتی تھی۔۔لڑکیوں مے اُسکی ساروں کے ساتھ بنتی تھی۔۔
جازم سے جنت تو کیا ابیہا،حوریہ،انفا سب ہی بچ کے رہتے تھے۔۔۔باقی افہام کا بھی باقی لڑکیوں کے اوپر کافی رعب تھا مگر باقیوں کے ساتھ اُنکا سٹائل فری تھا۔۔
اب تو حماس بھی اُسکے ساتھ اچھی طرح گھل مل چکا تھا وہ سب ایک فیملی کی طرح تھے جن میں سے دو فرد کم ہو گئے تھے۔۔۔
مگر ابھی انکو ہمت نہی ہارنی تھی ابھی تو اُن سب کو سعد کے بابا،ارحان اور اعضاء کا بدلہ لینا تھا جس کا ایک انتظام افہام کر چکا تھا۔۔
وہ میڈیا کی نظر میں ہائمہ رائے کو جیل میں ڈال چکا تھا جبکہ اصل میں اُسے ابھی تھوڑی دیر پہلے اُنہوں نے جازم کے گھر کے تہہ خانے میں رکھا تھا۔۔
اُسے مکمل طور پر باندھ دیا گیا تھا جازم ابھی افہام کے ہی گھر تھا وہ ابھی ابھی کسی کام سے واپس آیا تھا مگر افہام اس وقت گھر پر نہ تھا تو اُسنے اپنے گھر جانے کا فیصلہ کیا ۔۔۔۔۔
سنیں!اُسنے ابھی قدم دروازے کی جانب بڑھائے ہی تھے کے ایک نسوانی آواز پر اُسکے قدم رکے وہ جانتا تھا یہ کو ہے مگر مڑا نہی تھا
آپ اپنے گھر جا رہے ہیں۔۔ابیہا نے کافی ہمت کر کے اس سے پوچھا
ہاں جا رہا ہوں کیوں؟ اس بار جازم نے اُسکی طرف پلٹ کر جواب دیا
مجھے بھی آپکے ساتھ جانا ہے ہائمہ رائے کے پاس۔۔ابیہا نے ڈرتے ڈرتے ریکویسٹ کی
ہائم سے پوچھا ہے؟جازم نے اگلا سوال کیا
جی پرمیشن لے لی ہے میں نے اُنہوں نے کہا تھا چلی جانا۔۔۔ابیہا اس بارے میں ہائم سے پہلے ہی بات کر چکی تھی
کیا کرو گی تم اُدھر جا کر ہمیں اُسکے ساتھ کھیلنا نہی ہے اس سے انفو نکلوانی ہے اور تم جیسی کمزور دل لڑکی یہ کام نہی کر سکتی جو اپنی دوست کے مرنے پر دو تین دن تک کچھ کھائے پیے نہ۔۔۔جازم نے۔جیسے اُسکی ذات کا مذاق بنایا کم از کم ابیہا کو تو یہی لگا تھا
سنے مجھے اُسکے ساتھ کھیلنا نہی ہے اور مجھے آپکے ساتھ جانا ہے بس آگے اس سے انفو بھی آپکو نکلوا کر دکھاؤں گی اور ہاں جہاں تک دوست کے مرنے پر کچھ نہ کھانے پینے کی بات ہے تو یہ میرا ذاتی معاملہ ہے آپکو کوئی حق نہیں ہے کے اس بات کو لے کر مجھے باتیں سنائیں۔۔۔۔ابیہا نے بھی اب بنا ڈرے بات کی وہ کب اپنی ذات پر اس طرح کی بات برداشت کر سکتی تھی
جازم اس معاملے میں کافی سخت تھا وہ کسی کی موت پر رونے کے بجاے اُسکے بدلے کے بارے میں سوچتا تھا
جازم نے اُسکی بات کا کوئی جواب نہ دیا اور چپ کر کے باہر نکل گیا ابیہا بھی اُسکے پیچھے ائی اور اُسکے کھے بغیر ہی گاڑی کا فرنٹ ڈور کھول کے بیٹھ گئی جازم نے ایک نظر اُسے دیکھا جو کافی کنفائڈنٹ لگ رہی تھی پھر گاڑی اسٹارٹ کر دی ۔۔۔
وہاں پہنچ کر جازم نے مالی کو اُسے تہ خانے میں لے جانے کو کہا اور خود اندر کی جانب چل دیا
ابیہا مالی کے بتانے پر نیچے ائی اُسنے یہ جگہ پہلی بار دیکھی تھی سیڑھیوں سے نیچے اترنے کے بعد اُسکی پہلی نظر ہائمہ رائے پر پڑی جسے کرسی کے ساتھ بندھا گیا تھا اُسکے چہرے پر جا بجا نشانات تھے ایسا لگتا تھا اُسے پہلے بھی مارا گیا ہے
پریشان نہ ہو یہ حالت اس کی افہام نے حوالات میں کروائی تھی ابھی تک میں نے کچھ نہی کیا۔۔۔وہ جو اپنے خیالوں میں تھی جازم کی آواز پر چونکی اور پھر اُسکا طنز سمجھ کر اُسکی طرف مڑی
آپکو ضرورت بھی نہی ہے اسکے ساتھ کچھ کرنے کی جو کرنا ہوگا میں کر لوں گی اور آپ سے کافی بہتر طریقے سے کے لوں گی۔۔۔ابیہا نے کہہ کر رخ ہائمہ کی جانب موڑا
چلو پھر میں بھی یہی بیٹھ کے دیکھتا ہوں کے تم جیسی چھوٹی سی لڑکی اس ڈھیٹ عورت سے کیا باتیں نکلوا سکتی ہے اور کتنا سخت جان ہے تمہارا دل جو تم اسکے ساتھ کچھ کر اسکو کیوں کے آرام سے تو یہ کچھ بولے گی نہی۔۔۔جازم نے ایک حقارت بھری نظر ہائمہ رائے پر ڈالی اور پاس پڑی کرسی کھینچ کے اس پر بیٹھ گیا
وہ دیکھنا چاہتا تھا یہ چھوٹی سی معصوم نظر انے والی لڑکی اس مکار عورت کے ساتھ کیا کرسکتی تھی کتنی حدیں پار کر سکتی تھی۔۔۔
ابیہا نے ایک نظر جازم کو دیکھا اور ہائمہ رائے کی طرف بڑھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



