Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

The Night Stalkers by Bisma khan Episode16

The Night Stalkers by Bisma khan Episode16

اُن سب کے حوصلہ بڑھانے کے بعد سعد نے افہام کے پاس جانے کی ہمت کی بیڈ روم کے دروازے کے لاک پر ہاتھ رکھا تو پتہ چلا کہ وہ کھلا ہوا تھا اُسنے زور لگایا تو دروازہ کھلتا چلا گیا۔۔۔
سعد اندر داخل ہوا دروازہ کھلا ہی رہنے دیا افہام صوفہ پر جنت کا لیپ ٹاپ کھولے بیٹھا تھا اور اس پر جھکا ہوا تھا سعد نے گلہ کھنکارا مگر افہام کی طرف سے کی ردِ عمل نہ آیا
افہام بھائی آخر سعد میں اُسے آواز دی جس پر اُسنے اوپر دیکھنے کی بھی زحمت نہ کی
بولو۔۔۔۔سر ابھی بھی لیپ ٹاپ میں دیا ہوا تھا
وہ سوری۔۔۔سعد کو بات کرنے کے لیے الفاظ نہی مل رہے تھے
سعد میں اس وقت کافی مصروف ہوں جیسا تم دیکھ سکتے ہو اسی لیے فلحال یہاں سے چلے جاؤ۔۔۔۔افہام نے ابھی بھی اُسکی طرف نہ دیکھا تھا
سعد نے ہمت کی اور افہام۔کے پاس جا کر اُسکی گود سے لیپ ٹاپ اٹھا کے ٹیبل پر رکھا اور خود اُسکے ساتھ بیٹھ گیا
اُسکی اس حرکت پر افہام نے اُسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھا جسے سعد میں مکمل طور پر نظر انداز کیا
بھائی ایسی بات نہی تھی بس میں ڈرتا تھا مجھے آپ سب پر بھروسہ تھا مگر مجھے نہی پتہ تھا اس چپ میں کیا ہے اور پتہ نہیں کیوں مجھے لگتا تھا کے اگر میں نے یہ چپ آپکو دے دی تو کہیں۔۔۔۔۔سعد بیچ میں اٹکا تھا مگر افہام کچھ نہ بولا وہ سامنے دیوار کو گھور رہا تھا جیسے اس وقت اس سے زیادہ ضروری کام کوئی ہے ہی نہی جبکہ دھیان سعد کی باتوں کی طرف تھا
آپکو پتہ ہے بابا نے کہا تھا کہ کسی کو بھی یہ چپ فضول میں مت دینا میں اپنے بابا کی محنت ضائع نہیں کرنا چاہتا تھا اور ابھی شاید ایک دو دن میں میں یہ چپ آپکو دے بھی دیتا مگر وہ جب حوریہ وہاں سے آ رہی تھی تو میں نے سوچا کہ پتہ نہی یہاں سے بچتا ہوں یا نہی اسی لیے اُسکی دے دی کے وہ آپکو دے سے مگر اُسکے ساتھ حادثہ ہو گیا۔۔۔۔۔سعد نے الفاظ جوڑ کر ساری بات افہام کے گوش گزار کی مگر افہام وہ ابھی بھی خاموش تھا
بھائی کچھ بولیں بھی نہ یار غصّہ ہی کر لیں۔۔۔۔سعد کو اب افہام کی خاموشی چبھ رہی تھی
سعد مجھے افسوس ہے کے اتنے ہفتوں میں یا کہیں ان دوں تین مہینوں میں ہم تمھارا اعتبار نہی جیت سکے میں نے تمہیں اپنے چھوٹے بھائیوں کی طرح ٹریٹ کیا تھا تم ایک بار بھروسہ کر کے تو دیکھتے یار۔۔۔۔افہام کو شاید واقعی بہت دکھ تھا
سوری بھائی آئندہ نہی ہوگا ایسا۔۔۔سعد نے کان پکڑ کر معافی مانگی اور افہام کے سامنے گٹھنوں کے بل بیٹھ گیا
اٹھو یار بہت ڈرامے باز ہو تم اٹھو اور دوبارہ اس طرح کی حرکت نہ کرنا ورنہ سزا ملے گی۔۔۔۔افہام نے اُسکے سر پے چت لگائی اور اُسے گلے لگایا وہ سچ میں اس سے بھائیوں جیسی محبت کرتا تھا
ہم اندر آ جائیں اگر آپکی یہ محبت کی داستانیں ختم ہو گئی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔حدید اور ہائم جو دروازے سے جھانک رہے تھے اُنکے الگ ہونے پر بولے
جی آ جائیں اور اب اپنی سنا لیں۔۔۔۔افہام نے ہنس کے اجازت دی وہ دونوں پہلے ہے اندر کھڑے تھے
یار ہم کیا سنائیں دونوں ہی بیچارے سنگل ہیں۔۔۔۔ہائم نے ٹھنڈی اہ بھری جیسے بڑی کوئی افسوس کی بات ہو
اُو چپ کر میں سنگل ہی اچھا ہوں ۔۔۔۔۔۔نہی تو تو نے دیکھا نہی کیسے پارٹنر افہام کو ڈراتی ہے اور سب کے سامنے ڈانٹتی بھی ہی۔۔۔۔حدید نے اُسکی قمر میں موقع رسید کیا اور افہام کو اس دن والی لڑائی پر ٹونٹ کیا
بکواس نے کرو حدید۔۔۔افہام اسکے علاوہ اور کہ بھی کیا سکتا تھا سب ہی جانتے تھے اس لڑائی کے بارے میں
اوکے نہی کرتا۔۔۔۔حدید نے ہائم کے ہاتھ پر ہاتھ مارا
اب کرنا کیا ہے؟۔۔۔جازم نے اندر داخل ہوتے ہوئے پوچھا
پتہ نہیں چپ تو گم گئی ہے یہ شاید ٹوٹ گی ہے اب کیا کرسکتے ہیں۔۔۔۔سعد نے افسوس سے بتایا
تو یار پہلے ہم کونسا چپ کی مدد سے کیس سولو کر رہے تھے سمجھو کوئی چپ تھی ہی نہیں۔۔افہام نے بات ہی ختم کر دی تھی
ہاں صحیح ہے۔۔جازم بھی اُسکی بات سے متفق تھا
سنو جنت کو بلاؤ۔۔۔۔افہام نے حدید کی طرف اشارہ کر کے کہا تو وہ باہر چلا گیا واپس ائی تو جنت بھی اُسکے ساتھ تھی
جی کوئی کام تھا جلدی بتائیں۔۔۔۔جنت نے دروازے میں کھڑے کھڑے پوچھا
اِدھر تو او یہ کیا ہے۔۔۔۔افہام نے اسے اندر انے کا اشارہ کیا
نہی نہ بتائیں کیا ہے مجھے اور بھی کام ہیں۔۔۔۔جنت نے اُسکی بات کی نفی کی
حد ہے اتنی کیا مصروفیات ہیں تمہاری یہ کس کا فون ٹریس ہو رہا ہے یہ بتاؤ۔۔۔۔افہام کو اُسکے اس طرح بولنے پر تپ چڑھی
یہ فہد کا ہے اور دوسری سائڈ پر نہال کا ہے اور میری مصروفیات وہ بچہ ہے جسے آپ لوگ اٹھا کے لائے ہیں اب ہم کیا کیا کریں بچہ سنبھالیں،لیپ ٹاپ سنبھالیں،کھانا پینا دیکھیں ،آپ لوگوں کو سنبھالیں کیا کیا کریں۔۔۔۔۔۔۔جنت کو بھی افہام کی مصروفیات والی بات سلگا گئی تھی اسی لیے کڑک سا جواب دیا صبح سے ابیہا اور وہ اس ایان کے پیچھے گھن چکر بنی ہوئی تھیں ۔۔۔گسا تو جائز تھا
میں نے تو پہلے ہی کہا ہے آج لڑکیوں کا دن ہے ساری ہی کافی خطرناک ہوئی ہوئی ہیں بچ کے رہو سارے۔۔۔۔۔ہائم نے سب کو وارن کیا
ہاں صحیح کہہ رہا ہے۔۔حدید نے بھی حامی بھری
شام میں چائے کے بعد وہ لڑکیاں سکون سے بیٹھیں تھیں اور اب منظر یہ تھا کے جنت،انفا اور ابیہا ایان اور سعد کے ساتھ لاؤنچ میں بیٹھی ٹی وی شو دیکھ رہیں تھیں جبکہ افہام لیپ ٹاپ پر چلنے والی فہد کی کال سن رہا تھا جازم بھی اُسے کے ساتھ مصروف تھا حماس ایان کا دودھ لینے باہر گیا تھا اور حدید اور ہائم دونوں کچن میں کھڑے برتن دھو رہے تھے ہائم برتنوں کو صابن جبکہ حدید پانی لگا رہا تھا
یہ کیا بدتمیزی ہے۔۔۔۔حدید کے منہ اور صابن کی چھینٹ پڑی تو اُسنے اپنا گلے ہاتھ سے ہائم کے منہ پر تھپڑ مارا
ہاُوو۔۔۔۔تم نے مجھے تھپڑ مارا۔۔ہائم برتن کرنے کر اُسکی طرف مڑا جس نے اپنے دفاع کے لیے فرائی پین اٹھا لیا تھا
تو تو نے بھی تو میرے اوپر صابن پھینکا تھا۔۔۔حدید نے وضاحت دی
یار کیا بکواس ہے ہم یہاں برتن کیوں دھو رہے ہیں۔۔۔۔ہائم نے صابن والے ہاتھ شیلف پر رکھ جس کی وجہ سے شیلف پر اُسکے ہاتھ کے بڑے بڑے نشان آ گئے
ہاں نہ یہ دیکھو باقی لوگ کتنے تیز ہیں لیپ ٹاپ میں گھس گئے ہیں اور ہمیں ماسی بنایا ہوا ہے۔۔۔حدید نے بھی احتجاج کیا
یار میں دیکھ کے ائی برائیاں دھل گئے یہ نہی۔۔۔۔جنت اُنکے پاس سے اٹھی اور کچن میں گئی مگر کچن میں داخل ہوتے ساتھ اُسے جو دیکھنے کو ملا اس سے اُسکا پارا ہائی ہو چکا تھا
یہ کیا ہے۔۔جنت اتنا اونچا چیخی کے کمرے میں بیٹھے نفوس کو بھی صاف آواز گئی تھی
کیا۔۔۔ہائم نے بڑے نارمل انداز میں پوچھا
میں تمہارے یہ ہاتھ توڑ دوں گی جس سے تک نے میری شیلف گندی کی ہے برتن دھو رہے ہو یا کچن۔۔۔۔جنت نے ہائم کے ہاتھ کے نشان شیلف پر دیکھ کے کہا
اوہو برتن ہی دھو رہے ہیں۔۔۔۔حدید نے بات کو بڑا نورمل لیا
نکلو نکلو دونوں یہاں سے نالائقوں یہ کیا حال بنا دیا ہی میرے کچن کا ۔۔۔۔جنت شروع سے کچن کو سب سے زیادہ صاف رکھتی تھی اور اب اپنے کچن کی یہ حالت دیکھ کے اُسکا دل کر رہا تھا دونوں کو کچا چبا جائے سارے شیلف پر صابن والے ہاتھوں کے نشان تھے فرش پر بھی جگہ جگہ پانی اور صابن گرا تھا دھلے ہوئے برتن اتنی بے ترتیبی سے رکھے گئے تھے جس کی کوئی حد نہیں
اچھا اچھا جا رہے ہیں۔۔۔حدید اُسکی گرم دیکھ کے فوراً بولا ابھی کھسک لینا ہی بہتر تھا
ویسے زیادہ گندا تو نہی ہے۔۔۔۔یہ جملہ ہائم کی طرف سے تھا جس پر ایک چمچ سیدھا اُسکے سر میں آ کے لگا کیوں کے جنت کی برداشت ختم ہو چکی تھی اور ہائم کو لگا اُسکی دنیا ہل گئی ہو ۔۔۔۔۔
حدید نے فوراً اُسے تھاما جو اپنا سر پکڑے کھڑا تھا اور باہر نکل گیا نہی تو اگلے باری اُسکی تھی
وہ دونوں باہر ائے تو ابیہا نے اُنہیں زبان چڑھائی وہ جانتی تھی دونوں اندر سے ذلیل ہو کے آ رہے ہیں۔۔۔😂😂
کیا ہے دانت کیوں نکل رہے ہیں تمہارے؟ہائم نے غصے سے پوچھا پہلے ہی اتنی عزت افزائی ہو گئی تھی اور اب چھوٹی بہن بھی ہنس رہی تھی
کیوں نہ نکلیں میرے دانت اور ویسے بھی آپکو بل آ رہا ہے انکے نکلنے کا۔۔۔ابیہا نے بتیسی کی اور نمائش کی
نہ کرو یار پہلے ہی آج ہمارا دن خراب ہے۔۔۔حدید نے اُسے منع کیا آج پتہ نہی اُنکے ساتھ کیا ہو رہا تھا
ہاں تو حرکتیں جو خراب ہیں تو دن بھی خراب ہی ہوگا نہ۔۔۔ابیہا نے ایان کو صوفہ پر لٹاتے ہوئے کہا اور اُن دونوں کے پاس ائی جو ٹیبل پر چڑھ کر بیٹھے تھے
ویسے کیا کیا تھا آپ دونوں نے؟اُسنے رازدارانہ انداز میں پوچھا
کچھ بھی نہی کیا تھا اوائن میں غصّہ کر رہی تھی۔۔۔حدید نے ہونٹ باہر نکل کر کہا
کچھ تو کیا ہوگا۔۔ابیہا کو بات کا یقین نہ ہوا تھا اس لیے پوچھا
بس تھوڑا سا گند مچا تھا کچن میں اور تو کچھ بھی نہی۔۔۔۔ہائم نے بڑے نارمل انداز میں بتایا
افہام جو کچن میں جا رہا تھا اُن کو دیکھ کر انکی طرف آیا
کیا تھوڑا اور ذلیل ہونے کا پروگرام ہے۔۔۔۔ اُسنے ہائم اور حدید کو دیکھ کر کہا
کیا مطلب۔۔دونوں نے مشترکہ سوال کیا
مطلب میری زوجہ محترمہ نے دیکھ لیا کے آپ انکی شیشے کی ٹیبل پر بیٹھے ہیں تو اور ہو جانی ہے آپ دونوں کی ۔۔افہام نے اُنہیں آگے کی صورت حال سے آگاہ کیا
دونوں منٹ سے پہلے چھلانگ لگا کر ٹیبل سے اُترے تھے
یار دیکھ اُسکو نہ بتائیں پہلے ہی اس میں آج ہٹلر کی روح ائی ہوئی ہے۔۔۔ہائم نے منہ بنا کے کہا
ہاں اُسے غصّہ آ رہا ہے ہماری وجہ سے۔۔۔افہام نے بھی حامی بھری
کیوں ہم نے کیا کیا ہے؟حدید نے اچانک پوچھا
یار اُسنے کبھی بچے نہی سنبھالے اور اب ہم نے یہ بچہ تین دن کے لیے اس کے پاس چھوڑ دیا ہے اسی لیے۔۔۔۔افہام نے وجہ بتائی
لو جی ایس نے کیا ساری زندگی اپنے ارد گرد بچے نہی دیکھے۔۔۔ہائم کو اس بات پر حیرت ہوئی
نہی نہ وہ اپنی خالہ کے گھر رہی ہے وہاں تو کوئی چھوٹا بچہ نہی تھا اسی لیے اُسے عادت بھی نہی ہے ۔۔افہام نے جنت کی طرف سے وضاحت دی
ہاں ہاں یہ تو ہے اسی لیے۔۔۔۔۔حدید بھی اُسکی بات سے متفق تھا
ویسے بھی اس پے آج کل کام کا پریشر زیادہ ہے یار اسی لیے بھی ڈسٹرب ہے ۔۔افہام نے اُسکے غصے کی وجہ بتائی
ہاں چلو پھر پارٹنر کو سرپرائز دیتے ہیں آج رات کا کھانا سب باہر سے کھاتے ہیں میرے اور ہائم کی طرف سے۔۔۔۔حدید نے جنت کا بوجھ کم کرنے کی کوشش کی
واہ جی واہ خود تو ڈوبے گے صنم تُجھ کو بھی کے ڈوبیں گے مطلب تو دے نہ مجھے کیوں پھسا رہا ہے۔۔۔۔ہائم نے دہائی دی
چپ کر نہی تو سارے پیسے تو دے گا۔۔۔حدید نے اُسے دھمکی دی اور ہائم نے چپ رہنے میں ہی عافیت جانی اتنے۔ساروں کا بل پے کرنا مطلب بینک اکاؤنٹ خالی کرنا اسی لیے چپ میں ہی بہتری تھی
چلو پھر اُسے تو بتا دو یہ نہ ہو کھانا بنانے لگ جائے۔۔۔۔۔ہائم نے حدید سے کہا کیوں کے خود تو وہ اندر جانے کی جرت نہی کر سکتا تھا ایک چمچ کھانے کے بعد
حدید نے کچن کے ڈور میں کھڑے ہو کر جنت کو آواز دی وہ جو کچن صاف کر کے اب کھانا بنانے کی تیاری کرنے لگی تھی
کیا ہے؟اس نے آرام سے پوچھا حدید تو خاصے غصے کی اُمید میں تھا
پارٹنر میں سوچ رہا تھا کے آج رات کا کھانا میری اور ہائم کی طرف سے۔۔۔۔حدید نے فرضی کالر جھاڑا تو جنت نے ائی برو اٹھا کے اُسے دیکھا جیسے بڑا کوئی احسان کیا تھا اُسکی ذات کے اوپر
ضرورت نہیں ہے میں بنا رہی ہوں۔۔۔جنت نہ ٹماٹر پکڑتے ہوئے کہا
نہی نہی نہی عن ہم باہر کھانا کھائیں گے بس۔۔۔۔حدید نے اُسے کچن سے باہر نکالا
اور پھر رات میں وہ سب کھانا کھا کے مووی دیکھ کے واپس ائے جو جازم کی طرف سے تھی اور وہ ننھا سے بچا بھی اُنکے ساتھ تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
اب اُنہیں کل اس آدمی کو فہد کے پاس واپس بھیجنا تھا تاکہ اُسے حیدر کے پاس بھیجا جائے اور اُسکے بارے مے پتہ لگایا جا سکے😊😊
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🤗🤗🤗

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *