The Night Stalkers by Bisma khan NovelR50797 The Night Stalkers by Bisma khan Episode03
No Download Link
595.5K
32
Rate this Novel
The Night Stalkers by Bisma khan Episode01 The Night Stalkers by Bisma khan Episode02 The Night Stalkers by Bisma khan Episode03 (Watching)The Night Stalkers by Bisma khan Episode04 The Night Stalkers by Bisma khan Episode05 The Night Stalkers by Bisma khan Episode06 The Night Stalkers by Bisma khan Episode07 The Night Stalkers by Bisma khan Episode08 The Night Stalkers by Bisma khan Episode09 The Night Stalkers by Bisma khan Episode10 The Night Stalkers by Bisma khan Episode11 The Night Stalkers by Bisma khan Episode12 The Night Stalkers by Bisma khan Episode13 The Night Stalkers by Bisma khan Episode14 The Night Stalkers by Bisma khan Episode15 The Night Stalkers by Bisma khan Episode16 The Night Stalkers by Bisma khan Episode17 The Night Stalkers by Bisma khan Episode18 The Night Stalkers by Bisma khan Episode19 The Night Stalkers by Bisma khan Episode20 The Night Stalkers by Bisma khan Episode21 The Night Stalkers by Bisma khan Episode22 The Night Stalkers by Bisma khan Episode23 The Night Stalkers by Bisma khan Episode24 The Night Stalkers by Bisma khan Episode25 The Night Stalkers by Bisma khan Episode26 The Night Stalkers by Bisma khan Episode27 The Night Stalkers by Bisma khan Episode28 The Night Stalkers by Bisma khan Episode29 The Night Stalkers by Bisma khan Episode30 The Night Stalkers by Bisma khan Episode31 The Night Stalkers by Bisma khan Last Episode
The Night Stalkers by Bisma khan Episode03
The Night Stalkers by Bisma khan Episode03
آج۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمم!ابھی تک آیا نہی وہ لڑکا تم نے کوئی ٹائم نہی دیا تھا اُسے۔۔ارحان نے حماس سے پوچھا وہ دونوں اس وقت حماس کے گھر پر تھے اور سعد کا انتظار کر رہے تھے
نہی بس یہی کہا تھا کہ صبح انا اب پتہ نہیں کیوں نہی آیا اب تک اور میرے پاس اُسکا نمبر بھی نہی ہے کے انسان کال ہی کر لے۔۔حماس بھی اب انتظار کر کر کے تھک چکا تھا
اُسی وقت اُنہیں دروازے سے سعد اندر اتا ہوا دکھائی دیا تو حماس اٹھ کر اُسکی طرف گیا
تم لیٹ نہی ہو گئے۔۔حماس نے اس سے ہاتھ ملانے کے بعد پوچھا
جی نہی آپ نے مجھے انے کا کوئی وقت نہی دیا تھا اپنے صبح کا کہا تھا اور میری صبح تو اسی وقت ہوتی ہے۔۔سعد کچھ زیادہ ہی سٹریٹ فارورڈ تھا یہ بات حماس نے اب محسوس کی تھی
چلیں جناب وہ انتظار کر رہا ہوگا اسکو اور بھی کام ہیں ہمارے کاموں کے علاوہ
ارحان نے مداخلت کی تو وہ دونوں بھی چل پڑے تقریباً آدھے گھنٹے میں وہ لوگ اقبال ٹاؤن پولیس اسٹیشن کے سامنے کھڑے تھے۔۔۔۔
وہاں کانسٹبل نے ارحان کر حماس کو دیکھ کر فوراً اندر جانے کا راستہ دیا
وہ تینوں سیدھا افہام کے کیبن میں گئے
تم لوگ پورا آدھا گھنٹہ لیٹ ہو۔۔۔افہام نے اُنکے انٹر ہوتے ساتھ کہا
ہاں یار وہ سوری ہم نے ٹائم ہی نہی دیا تھا سعد کو بس اسی لیے۔۔ارحان نیں معزرت کی
میں نے آپکو کہا تھا کے مجھے کسی پولیس والے کے پاس نہی جانا آپ مجھے پھر ایک پولیس والے کے پاس ہی لائے ہیں۔۔سعد نے سرگوشی کی
دیکھو اس کو بتاؤ اپنا مسئلہ یہ تمہاری مدد کرے گا میں وعدہ کرتا ہوں۔۔حماس نے اُسے یقین دلایا
ہمم!سعد نے پر سوچ انداز میں کہا اسکے دماغ میں کوئی اور ہی کھچڑی پک رہی تھی
یہاں نہی باہر چلتے ہیں۔۔افہام اپنی جگہ سے اٹھ
کھڑا ہوا اور قدم باہر کی طرف بڑھا دیے
وہ تینوں بھی اُسکی تلقین میں باہر چلے گئے باہر آ کر افہام سعد کو مخاطب کیا
اپنا نام بتاؤ؟سعد نے افہام کی طرف دیکھا اور پھر حماس کی طرف حماس نے گردن ہاں میں ہلائی جیسے کہ رہا ہوں بتاؤ اسے
سعد ہمدانی۔۔۔سعد نے رخ افہام کی طرف کیا
اچھا قتل کس وقت ہوا تھا؟افہام نے اگلا سوال کیا
مجھے رپورٹ نہی لکھوانّی۔۔سعد نے بات کا جواب نہ دیا
تو پھر کیا کرنا ہے ۔۔افہام نے سر اٹھا کر سعد کو دیکھا
افہام یار ذرا اندر آ مجھے کچھ بات کرنی ہے۔۔۔حماس نے سوچا کہ وہ افہام کو سارا کچھ ابھی بتا دے
وہ تینوں اندر چلے گئے سعد اب باہر اکیلا بیٹھا تھا اُسنے موقع دیکھا اور باہر کی طرف چل پڑا
او!پکڑو اس کو یہ کدھر بھگ رہا ہے۔۔۔۔
کانسٹیبل فوراً سعد کے پیچھے بھاگ جو اب پولیس اسٹیشن سے باہر دوڑ لگا رہا تھا۔۔
مگر یہ بھاگ کیوں رہا ہی یہ تو ارحان صاحب اور حماس صاحب کے ساتھ آیا تھا۔
پیچھے سے واچ مین نے آواز لگائی مگر کانسٹیبل اگے جا چکا تھا آخر کافی بھاگنے کے بعد سعد ہمدانی اسکے ہاتھ لگا۔۔۔۔
اُسنے جیسے ہی سعد کو پکڑا اُسنے اپنے آپ کو چھڑانے کی تگودو شروع کر دی۔۔
کانسٹیبل بیچارہ پٹتا پٹاتا پولیس اسٹیشن تک پہنچا اور اُسے گارڈ کے حوالے کر کی خود نڈھال سا بینچ پر بیٹھ گیا اس ۲۱سالہ لڑکے نے اسکی حالت خراب کر دی تھی ۔۔۔۔۔۔
فورڈ اسکی اندر لیے کے آیا تو حماس نے اس سے بھاگنے کی وجہ پوچھی۔۔
میں نے آپ کو پہلے بھی کہہ تھا مجھے کسی پولیس والے کو کچھ نہی بتانا مجھے آپکی مدد نہی چاہیے اب مہربانی ہو گی کے آپ مجھے جانے دیں۔۔۔وہ سخت لہجے میں کے کر اٹھا اور باہر نکل گیا جاتے جاتے ایک کٹیلی نظر اس کانسٹبل پر ڈالنا نہی بھولا۔۔۔۔۔۔
ابھی وہ پولیس اسٹیشن سے باہر ہی نکلا تھا کے حماس نے اُسے آواز دی
جی فرمائیں!سعد نے مڑے بغیر پوچھا
ایک بات کرنی ہے اندر اؤ اگر تمہیں صحیح لگی تو ٹھیک ہے ورنہ تمہاری مرضی۔۔۔حماس نے آہستہ آواز میں کہا کے آواز صرف سعد تک پہنچی
اب وہ چاروں افہام کے کیبن میں بیٹھے تھے
دیکھو سعد ہم جانتے ہیں تمہارے بابا کیا کام کرتے تھے اور ہم بھی اُسے کام سے منسلک ہیں اسی لیے تم ہم پر بھروسہ کر سکتے ہو تمہارے بابا اپنی وفات سے ایک ہفتہ قبل حماس کے پاس ائے تھے وہ کسی کے بارے میں انویسٹیگیشن کر رہے تھے جس کا آپ نے بھی بتایا اے پی ہم نہی جانتے یہ کون ہے مگر آپکے بابا شاید جان گئے تھی ایسی لیے مار دیے گئے اب یہ ہمارا کام ہے کے ہم اُنکے ادھورے کام کو مکمل کریں اسی لیے آپ مجھے سب کچھ بتاؤ کوئی رپورٹ نہی بنے گی آپ مجھے سب کچھ اپنے بابا کا ساتھی سمجھ کے بتاؤ اب اگے فیصلہ آپکا ہے میں نے آپکو سب کچھ بتا دیا ہے۔۔۔افہام نے بڑے ہی تحمل سے سعد کو ساری بات سمجھائی اب بس صاف لفظوں میں یہی کہنا باقی رہ گیا تھا کے ہم اسپیشل فورس ہیں۔۔۔
میں آپکو سوچ کر بتاؤں گا ابھی مجھے جانا ہے۔۔سعد کہہ کر کیبن سے باہر چلا گیا ابھی اسکے لیے کسی پر بھی یقین کرنا مشکل تھا اُسنے سوچا کے وہ ان لوگوں کا پیچھا کرے گا تاکہ ان کے بارے میں جان سکے پھر کوئی فیصلہ ہوگا۔۔۔۔۔
کانسٹبل اسکے باہر اتی ہی اپنی نشست سے کھڑا ہو گیا اُسے لگا تھا شاید یہ پھر بھاگ رہا ہے۔۔
سعد نے ایک نظر اُسے دیکھا۔۔۔
بھاگ نہی رہا میں چپ کر کے بیٹھ جاؤ۔۔سعد نے اسکو بیٹھنے کا اشارہ کیا اور چلا گیا
کانسٹبل تو اُسکی ہمت پر حیران رہ گیا۔۔۔اور چپ چپ واپس اپنی کرسی پر بیٹھ گیا
اگلے ایک ہفتے میں حماس،ارحان،افہام یہاں تک کہ اُن سب نے محسوس کیا کے کوئی اُنکا پوچھا کر رہا ہے مگر افہام نے انکو کوئی بھی ایکشن لینے سے منع کیا تھا وہ جانتا تھا یہ کون ہے اس دیں اُسے سعد کی بات سے اندازہ ہو گیا تھا کے وہ اب انکو فالو کرے گا ہے اس دیں اُسے سعد کی بات سے اندازہ ہو گیا تھا کے وہ اب انکو فالو کرے گا۔۔۔۔
ٹھیک ایک ہفتے بعد سعد ہمدانی افہام ملک کے سامنے والی کرسی پر بیٹھا اُسے سارا واقعہ بتا رہا تھا کیا ہوا کیسے ہوا سب کچھ اور اُسنے خواہ۔ظاہر کی کے وہ یہ سارا کچھ اُنکے ساتھ مل کر کرنا چاہتا ہے یعنی کے وہ دی نائٹ سٹالکرز جوائن کرنا چاہتا ہے وہ ایک قابل بھروسہ لڑکا تھا اسی لیے افہام مان بھی گیا سب کچھ تو وہ جان گیا تھا اب بچا کیا تھا جو اس سے چھپانا تھا اس سے کافی بہتر تھا کے وہ انکی ٹیم میں رہ کر کام کرے۔۔۔۔۔
افہام اگلے دن سعد کے ساتھ اس جگہ پر گیا جہاں پر قتل ہوا تھا وہاں انھیں کوئی بھی ثبوت نہ ملا وہاں جانے کا انہی کوئی فائدہ نہ ہوا تھا سعد ابھی تک افہام۔کے علاوہ کسی اور کے ساتھ سیٹ نہ ہوا تھا افہام نے اُسے اپنے گھر رہنے کی پیشکش کی جس پر اُسنے پہلے انکار کر دیا مگر اسکے بہت اسرار پر سعد مان گیا افہام کے گھر میں ویسے بھی تین کمرے تھے وہ آرام سے وہاں رہ سکتا تھا۔۔۔
اور ویسے بھی گاؤں سے بار بار اِدھر انا کوئی آسان کام نہ تھا۔۔جنت کو بھی اس بات پر کوئی اعتراض نہ تھا سعد اسکو بلکل اپنی بہنوں کی تہہ ٹریٹ کرتا تھا جیسے اُسے حدید کرتا تھا۔۔۔
افہام کے سارے دوست اُسکی بہت عزت کرتے تھے۔۔۔اور اُسکا کافی خیال بھی کرتے تھے
وہ سب اس وقت افہام کے گھر پر تھے سعد کے بابا کے کیس کو لیے کر پریشان کوئی سرا ہاتھ میں ہی نہی آ رہا تھا جس کی بیس پر انویستیگیشن شروع کی جائے ۔۔
ابیہا کسی کام سے کراچی گئی تھی وہاں اُسکی ملاقات اعضاء سے ہوئی وہ اسکے ساتھ ہی لاہور واپس آ گئی تھی لاہور انے کے بعد وہ ایک بار افہام سے بات کر چکی تھی مگر وہ نہ مانا
اب اُسے کسی طرح ان کی ٹیم میں شامل ہونا تھا۔۔۔۔
اب اعضاء کا مقصد افہام کو ایمپریس کرنا تھا وہ اسی کوشش میں تھی کے ساتھ والے فلیٹ میں سے اُسے کچھ آوازیں ائيں جیسے کوئی چینخ رہا ہو وہ فوراً باہر نکلی اور فلیٹ کے دروازے کے ساتھ کام لگا لیا مگر کچھ خاص سمجھ نہی آ رہا تھا۔۔
کچھ دیر بعد اُسے قدموں کی آوازیں آئیں تو وہ دروازے سے دور ہو کر کھڑی ہو گئی۔۔۔
اندر سے ایک آدمی باہر نکلا جوشکل سے ہی کافی پریشان دکھائی دے رہا تھا اُسنے ایک نظر اعضاء کو دیکھا اور پھر وہاں سے چلا گیا۔۔۔اعضاء نے پہلے سوچا کے اندر جایا جائے مگر وہ آدمی دروازہ لوک کر کے گیا تھا اسی لیے اعضاء نے اُسکا پیچھا کرنا مناسب سمجھا۔۔
وہ آدمی ایک اندھیری گلی میں جا کر رک گیا اعضاء اس سے کافی پیچھے رک گئی تھی تاکہ اُسے شک نہ ہو جائے۔۔
گھوری دیر بعد وہاں ایک ادھیڑ عمر آدمی آیا اور اس نے اپنی شال میں سے ایک پیکٹ نکال کر اس آدمی کو تھمایا اُسنے وہ لے کر بدلے میں اُسے کچھ دیا اعضاء کے حساب سے وہ نوٹ ہی تھے۔۔
اسکے بعد وہ آدمی واپس مڑ گیا اور دوسرا آدمی گھر کی طرف آ گیا اعضاء نے اب پہلے کے بجائے دوسرے آدمی کو فوکس کیا اور اس کے پیچھے چل پڑی۔۔
وہ ادھیڑ عمر آدمی ایک خستہ حال بلڈنگ کے سامنے جا کر رکا اور پھر اندر چلا گیا اعضاء نے یہاں بھی اُسکا پیچھا کیا اندر جاتے ساتھ ہی دروازہ تھا جو ادھ کھلا تھا اعضاء اس دروازے کے باہر ہی رک گئی اندر کی ساری آوازیں باہر صاف سنائی دے رہی تھیں
نہال صاحب کو کہنا کے اب میں یہ کام اور نہی کر سکتا میں شہر چھوڑ کر جا رہا ہوں۔۔ادھیڑ عمر آدمی نے وہاں کرسی پر بیٹھے لڑکے سے کہا
اور تمہیں لگتا ہے کے وہ تمہیں چھوڑ دیں گے۔۔اس لڑکے نے کہکھا لگا کر کہا
اگر اُنہوں میں مجھے روکا تو میں سب کو بتا دوں گا کے وہ اس وقت لاہور میں مقیم ہیں اور کہاں ہیں یہ بھی۔۔۔اس آدمی نے لڑکے کو دھمکی دی
اچھا تو ذرا بتاؤ کہاں مقیم ہے نہال صاحب۔۔اس لڑکے نے جیسے اُسکا مذاق اڑایا
وہ اس وقت اپنے بحریہ ٹاؤن والے گھر میں موجود ہیں۔۔۔آدمی نے اُسے بتا بھی دیا
اچھا تم یہ بات کس کو بتاؤ گے۔۔لڑکے نے اس سے سوال کیا
پولیس کو۔۔۔آدمی نے اُسے ڈرانا چاہا
اچھا اچھا۔۔۔ویسے میں سوچ رہا تھا کے پولیس کو تو تم تب بتاؤ گے نہ جب تم یہاں سے زندہ جاؤ گے۔۔۔لڑکے نے ہنس کر کہا
اس سے پہلے کے وہ شخص کچھ کہتا اس کے پیچھے کھڑے لڑکے نے فائر کیا جو اُسکا سر چیرتا چلا گیا۔۔۔۔۔
اور وہ اُسے وقت زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھا
اعضاء نے پتہ نہی کیسے اپنے حلق سے برآمد ہونے والی چینخ روکی اور اسکے فوراً بعد وہ وہاں سے بھاگ گئی اپنے فلیٹ میں اتی ساتھ اُسنے سر پر لیا سکارف اُتار کار پھینکا کچن سے جا کر پانی پیا مگر اُسکی ذہن سے وہ منظر نہی جا رہا تھا اُسے مسلسل ٹھنڈے پسینے آ رہے تھے۔۔۔کچھ دیر بعد وہ سونے کے لیے لیٹ گئی
رات اُسے نیند نہی ائی تھی صبح آٹھ کر اُسنے سب سے پہلے ابیہا کو کال کی اور اُسے ملنے کو کہا اسکے پاس جا کر اُسنے ابیہا کے ساتھ افہام کے پاس جانے کا ارادہ کیا۔۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
