Tasawur e Ishq by Jiya Abbasi NovelR50516 Tasawur e Ishq (Last Episode)
Rate this Novel
Tasawur e Ishq (Last Episode)
Tasawur e Ishq by Jiya Abbasi
صبح ہوتے ہی ملک ہاؤس میں ہلچل مچ چکی تھی۔ حورین سکینہ بی کے ساتھ مل کر سارے انتظامات کروا رہی تھی۔ جبکہ جسمین خاموشی سے اپنے کمرے میں خود کو بند کیے بیٹھی تھی۔ اسے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ یہ جاننے میں انتظام کیسے ہو رہا ہے۔ کون کون گھر آ رہا ہے یا اس کا ہونے والا شوہر کیسا ہے۔
وہ ایک بار پھر اُس مقام پر آ کھڑی ہوئی تھی جہاں سے بربادی کا سفر شروع ہوا تھا اور ایک بار پھر وہ خود کو بے بس محسوس کر رہی تھی۔ چاہتے ہوئے بھی وہ یہ سب روک نہیں سکتی تھی۔
” بہت غلط وقت پر ملے تم یوسف !! میں ایک بار پھر اُسی مقام پر جا کھڑی ہوئی۔ جہاں چاند کو پا لینے خواہش نے پہلی بار سر اُٹھایا تھا اور اب دل ایک بار پھر چاند کی خواہش کرنے لگا ہے۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ اب چاند بادلوں میں چھپ گیا ہے۔”
اپنے ہاتھ میں موجود بریسلٹ کو دیکھتے ہوئے وہ بڑبڑائی کہ تبھی کمرے کا دروازہ کھول کر حورین اندر داخل ہوئی۔
” تم کیا کر رہی ہو بند کمرے میں لیٹے لیٹے۔ جلدی تیار ہو جاؤ مہمان آنے والے ہوں گے۔” وہ اسے گھورنے لگی۔
” گھوریں نہیں جا رہی ہوں تیار ہونے، اُن کے آنے سے پہلے تیار ملوں گی۔” وہ بیڈ پر سے اُٹھتے ہوئے بولی۔
” جلدی کرو۔ وہ آگئے تو اچھی خاصی بے عزتی ہوجائے گی۔” وہ کہہ کر کمرے سے باہر نکل گئی جبکہ جسمین الماری سے کپڑے نکال کر باتھ روم میں گھس گئی تھی۔
۔*********۔
شام چار بجے کے قریب مہمانوں کی آمد ہوئی تھی۔ جب
ہاتھ میں چائے کی ٹرے تھامے وہ سکینہ بی کے ساتھ ڈرائنگ روم میں داخل ہوئی۔ سامنے ہی صوفے پر حورین کے ساتھ وہ تینوں عورتیں بیٹھی تھیں۔ جن میں سے ایک اس کی اور حورین کی ہم عمر تھی جبکہ دو ادھیڑ عمر خاتون تھیں۔
” السلام عليكم !! ” اس نے مشترکہ سلام کیا۔
” وعلیکم السلام !! آؤ بیٹا بیٹھو۔”
دونوں ادھیڑ عمر عورتیں مسکرا کر اسے دیکھنے لگیں۔ جو آسمانی رنگ کے ہلکے سے کام والے شلوار قمیض میں ملبوس، سر پر اچھے سے دوپٹہ لیے اب انہیں چائے کے کپ پکڑا رہی تھی۔ ہلکے سے میک اپ میں بھی وہ بہت پیاری لگ رہی تھی۔
” ماشاء اللّٰه !! جتنا سنا تھا یہ تو اُس سے زیادہ پیاری ہے۔” ان میں سے ایک بولی، جسمین مسکرا بھی نہ سکی اور ان کے سامنے والے صوفے پر جا کر بیٹھ گئی۔
” آپ یہ لیں نا یہ تو ٹیسٹ کریں۔” حورین نے پلیٹس ان کے آگے بڑھائی۔ جسے انہوں نے شکریہ کے ساتھ تھام لیا۔
وہ سب باتوں میں مصروف ہو چکے تھے جبکہ وہ غائب دماغی سے سب کو دیکھے جا رہی تھی۔ کیا ہو رہا تھا، وہ کیا کہہ رہی تھیں، اسے کچھ ہوش نہ تھا۔ ان سب کے مسکراتے چہرے دیکھ کر اس کا جی چاہ وہاں سے کہیں غائب ہو جائے۔ جہاں اس کے سوا کوئی نہ ہو۔ کوئی بھی نہیں۔۔۔
۔*********۔
” بہت بہت مبارک ہو بھئی حذیفہ امین !! “
یوسف حذیفہ کو دیکھتے ہوئے بولا۔ جس کے چہرے سے ہی خوشی جھلک رہی تھی۔ آفس سے آنے کے بعد وہ سب یوسف کے گھر چلے آئے تھے۔ لیکن یہاں پہنچ کر حذیفہ سے ملنے والی خبر نے سب کو ہی خوش کر دیا تھا۔
” ہاں بھئی بہت بہت مبارک ہو اب تو تو بھی پاپا بننے والا ہے۔” نوید نے بھی مسکراتے ہوئے مبارک باد دی۔
” چلو اس کے بھی ٹڈی، ٹڈے دنیا میں آجائیں گے پر اب تو بھی شادی کر کے ہمیں دس بارہ بچوں کا تایا، چاچا بنا دے یوسی۔” جنید شرارت سے یوسف کو دیکھتے ہوئے بولا۔ جس کے چہرے کے زاویے یکدم بگڑے تھے۔
” میری چھوڑ تو اپنے ٹڈوں کی فکر کر دوسری بار تیسرے بچے کا باپ بن رہا ہے مگر عقل اب بھی نہیں آئی۔”
یوسف کے کہنے پر نوید اور حذیفہ کا قہقہہ ابل پڑا تھا۔ جبکہ جنید نے تخت سے تکیہ اُٹھا کر اس کی طرف اُچھالا تھا۔
” چل جنید آج تو چائے وغیرہ بنا لے بہت تھکن ہو رہی ہے۔” یوسف کہتا ہوا وہی تکیہ سر کے نیچے رکھ کر لیٹ گیا۔
” یا اللّٰه !! جلدی ایک عدد بھابھی بھیج دے تاکہ اس بیچارے غریب کی بھی ماسیوں والی زندگی سے جان چھوٹے۔” جنید آسمان کی طرف ہاتھ اُٹھاتا دوھائی دینے لگا۔
” بیٹا بھابھی کے بعد نہ صرف یہ گھر کے کام کرے گا بلکہ زن مریدوں کی طرح انہیں اپنے ہاتھ سے نوالے بنا بنا کر کھلائے گا۔”
نوید مذاق اُڑاتا ہوا بولا ساتھ ہی یوسف کو چارپائی سے اُٹھتے دیکھ چھت کی طرف دوڑ لگا دی۔
” رک سالے ابھی بتاتا ہوں کون زن مرید۔ ” یوسف اس کے پیچھے بھاگتا چلایا۔
وہ دونوں چوہے بلی کی طرح پورے گھر میں بھاگتے پھر رہے تھے۔ جبکہ انہیں دیکھ کر جنید اور حذیفہ کے قہقہے اس گھر کے درودیوار میں گونجنے لگے تھے۔ بالآخر ایک بار پھر یہ گھر ان کی خوشیوں، قہقہوں سے آباد ہو گیا تھا۔ جس کے درودیوار ایک عرصے سے ویران رہے تھے۔
۔*********۔
” بلاج اتنی جلدی بھی کیا ہے جو انہوں نے اس جمعے کو نکاح رکھ دیا؟ “
حورین اس کے پاس بیڈ پر بیٹھتے ہوئے بولی جو حدید کو ہوم ورک کروا رہا تھا۔
” وہ لوگ سادگی سے نکاح اور رخصتی کرنا چاہتے ہیں اس لیے جمعے کو رکھا ہے۔ جہیز وغیرہ کا کوئی سین نہیں ہے، میرے دوست نے منع کر دیا۔ بس وہ نکاح کروا کر جسمین کو اپنے ساتھ لے جائے گا۔” وہ سنجیدگی سے بولا۔
” ایک تو آپ کے دوست کا کچھ اتا پتا نہیں ہے۔ کیا ہے، کیسا دکھتا ہے اور آپ ہیں کہ اتنی سادگی سے رخصت کر رہے ہیں۔” وہ منہ بناتے ہوئے بولی۔
” میں جسمین کا بھائی ہوں، اُسے ایسے ہی کسی کے ہاتھوں میں نہیں دوں گا اور جہاں تک دیکھنے کی بات ہے تو نکاح کے وقت دیکھ لینا۔” بلاج اسے دیکھتے ہوئے جتا کر بولا پھر واپس حدید کی طرف متوجہ ہوگیا۔
” وہ سب ٹھیک ہے۔ لیکن کچھ تو دھوم دھام ہونی چاہیئے۔”
” نکاح جتنی سادگی سے ہو اتنا ہی بابرکت ہوتا ہے۔ سمجھی !! ” اس نے دوٹوک انداز میں کہہ کر بات ہی ختم کردی۔
حورین اسے گھوری سے نوازتی اُٹھ کھڑی ہوئی۔ سارے ارمانوں پر بلاج اور اس کے دوست نے پانی پھیر دیا تھا۔ کیا کیا نہیں سوچا تھا۔ شاپنگ، پارلر، کپڑے، جوتے، میک اپ۔۔۔ مگر اب سب دھرا رہ گیا تھا۔
” دونوں بھائی بہن کیا کم تھے۔ جو یہ گھر کا ہونے والا داماد بھی دنیا کا خشک ترین انسان نکلا۔” وہ زیرِ لب بڑبڑاتی کمرے سے باہر نکل گئی۔
۔*********۔
نکاح جمعے کو طے پایا تھا اور ایک دن ہی باقی رہے گیا تھا۔ ویسے تو کوئی خاص تیاری کرنی نہیں تھی۔ پر پھر بھی حورین اور بلاج نے کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ بے شک لڑکے والوں نے سادگی سے نکاح کرنے کو کہا تھا مگر یہ اُس کی بہن کی زندگی کا سب سے اہم دن تھا۔ وہ کیسے کوئی کمی چھوڑ سکتا تھا۔
” مجھے اللّٰه نے ہر چیز سے نوازا ہے۔ اچھی بیوی، بچے، پیاری سی بہن، ماں اور خوشیوں سے بھرا گھر مگر۔۔۔ محبت کی کمی پھر بھی پوری نہیں ہو پائی۔ دنیا میں شاید ہر چیز کا نعم البدل ہو لیکن محبت کا نہیں ہوتا۔ محبت بچھڑ جائے تو دل کی دنیا ویران ہو جاتی ہے۔ جیسے ساڑھے آٹھ سال پہلے میری ہوگئی تھی۔”
لان میں بیٹھا وہ اپنے گھر پر نظریں جمائے سوچنے لگا۔ پورے ملک ہاؤس کو دلہن کی طرح سجا دیا گیا تھا۔ جگمگاتی روشنیاں پورے لان کو اپنی لپیٹ میں لیے ہر دیکھنے والی آنکھ کو خیرہ کرنے کو بیتاب تھیں۔
” اپنی زندگی کی اس کمی کو تو میں پورا نہیں کرسکتا سوائے اس سے سمجھوتا کرنے کے۔ پر میری دعا ہے جسمین کل جب تم دلہن بن کر اپنے شوہر کے گھر جاؤ تو تمہاری زندگی کبھی محبت سے خالی نہ رہے۔ تمہارا شوہر تمہیں اتنی محبت اور عزت دے کے زندگی کے سارے غم بس ایک خواب لگنے لگیں۔ ان کی پرچھائیاں بھی کبھی تمہارے آس پاس نہ بھٹکے۔”
اس نے گہرا سانس لے کر خود کو پُرسکون کیا اور آسمان کی طرف دیکھنے لگا۔ جہاں افق پر نظر آتے چاند میں کوئی سایا سا لہرایا تھا۔
” اس اُمید پر جی رہا ہوں یاسمین !! جس رب نے ہمیں دنیا میں جدا کر دیا، وہی ہمیں آخرت میں ملا بھی دے گا۔”
رات کی سیاہ چادر تلے، اس نے آنکھیں بند کر کے ہوا کی خنکی کو محسوس کیا کہ تبھی کسی نے دھیرے سے اس سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے، سر شانے سے لگا کر سرگوشی کی تھی۔
” آمین !! “
۔*********۔
جمعے کا دن سورج کی سنہری کرنوں کے سائے میں بڑے خوشگوار انداز میں طلوع ہوا تھا۔ نرم سی دھوپ پھیلی ہوئی تھی اور ہوا کے جھونکے وقفے وقفے سے پیڑوں کو جھومنے پہ مجبور کررہے تھے۔ جب نیلے آسمان میں ایک آواز بلند ہوئی تھی۔ مؤذن کی آواز۔۔۔
” ٱللَّٰهُ أَكْبَرُ… ٱللَّٰهُ أَكْبَرُ “
( اللّٰه بہت بڑا ہے، اللّٰه بہت بڑا ہے )
فضاؤں میں گونجتے اذان کے کلمات سے کائنات میں سکوت چھا گیا تھا۔
” ٱللَّٰهُ أَكْبَرُ… ٱللَّٰهُ أَكْبَرُ “
( اللّٰه بہت بڑا ہے، اللّٰه بہت بڑا ہے )
مؤذن نے کلمات کو دہرایا تھا۔ جس کے ساتھ ہی وہ لبیک کہتا مسجد کی طرف بڑھنے لگا تھا۔
” أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَٰهَ إِلَّا ٱللَّٰهُ… أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَٰهَ إِلَّا ٱللَّٰهُ “
( ميں گواہى ديتا ہوں كہ اللّٰه كے علاوہ كوئى معبود نہيں،
ميں گواہى ديتا ہوں كہ اللّٰه كے علاوہ كوئى معبود نہيں )
اذان کے کلمات کو یقین کے ساتھ دل میں دہراتا وہ آگے بڑھتے جا رہا تھا۔
” أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ ٱللَّٰهِ… أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ ٱللَّٰهِ “
( ميں گواہى ديتا ہوں كہ محمد صلی اللّٰه علیہ و آلہ وسلم اللّٰه تعالى كے رسول ہيں،
ميں گواہى ديتا ہوں كہ محمد صلی اللّٰه علیہ و آلہ وسلم اللّٰه تعالى كے رسول ہيں )
جمعے کی نماز کے باعث مسجد نمازیوں سے بھری ہوئی تھی۔ وہ مسجد میں داخل ہو کر نماز کی ادائیگی کیلئے وضو بنانے لگا۔
” حَيَّ عَلَىٰ ٱلصَّلَاةِ… حَيَّ عَلَىٰ ٱلصَّلَاةِ “
( نماز كى طرف آؤ، نماز كى طرف آؤ )
نلکے سے نکلتا ڈھنڈا پانی اس کے اعصاب کو سکون بخش رہا تھا۔ وضو کے ہر قطرے کے ساتھ اجر و ثواب بھی بڑھ رہا تھا۔
” حَيَّ عَلَىٰ ٱلْفَلَاحِ… حَيَّ عَلَىٰ ٱلْفَلَاحِ “
( فلاح كى طرف آؤ، فلاح كى طرف آؤ )
وہ وضو بنا کر آستینوں کو نیچے کرتا مسکرا کر نمازیوں کو دیکھنے لگا۔
” ٱللَّٰهُ أَكْبَرُ… ٱللَّٰهُ أَكْبَرُ “
( اللّٰه بہت بڑا ہے، اللّٰه بہت بڑا ہے )
بچے، بوڑھے، جوان ہر کوئی اپنے رب کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہونے کیلئے حاضر تھا۔
” لَا إِلَٰهَ إِلَّا ٱللَّٰهُ “
( اللّٰه تعالى كے علاوہ كوئى معبود نہيں )
نماز کی ادائیگی کیلئے صفیں بننے لگیں تھیں۔ وہ جا کر امام کے پیچھے والی صف میں کھڑا ہو گیا۔ امام کے پیچھے باجماعت نماز ادا کرنے کے بعد وہ دعا مانگ کر اُٹھا ہی تھا کہ تبھی کسی نے اس کے شانے پر ہاتھ رکھا۔
” دلہے میاں اب چلیں؟ آپ کی دلہن انتظار کر رہی ہیں۔” بلاج مسکرا کر بولا۔
سامنے کھڑے شخص کی آنکھوں میں اس بات پر چمک اُتر آئی تھی۔ کوئی اس کا انتظار کر رہا تھا۔ وہ بھی وہ شخص جو چند لمحوں بعد اپنے سارے جملہ حقوق اس کے نام کرنے والا تھا۔ کتنا خوبصورت احساس تھا، جو اسے اپنی لپیٹ میں لے رہا تھا۔
” نیکی اور پوچھ پوچھ !! چلیں سالے صاحب۔” وہ شرارت سے بولا۔
بلاج اس کی بات پر مسکرایا اور اپنے ہمراہ لیے گھر کے لیے روانہ ہوگیا۔ جہاں اس کی گڑیا اپنے گڈے کے انتظار میں دلہن بنی بیٹھی تھی۔
۔*********۔
ساری رات کی جاگی آنکھیں آتش بنی اس کے عروسی سراپے میں چار چاند لگا رہی تھیں۔ وہ اس وقت سلور اور لائٹ گرے امتزاج کا گھیرے دار فراک میں ملبوس تھی جس پہ ہم رنگ اسٹونز کے ساتھ ہلکا پھلکا کام تھا۔ اس نے خالی خالی نظروں سے آئینے میں خود کو دیکھا ماضی ایک بار پھر خود کو دہرانے لگا تھا۔
” پھر وہی سب شاید یہ ہی میرے گناہ کی سزا ہے کہ ساری زندگی میں محبت کو ترسوں۔”
سوچتے ہوئے اس نے اپنے ہاتھ میں موجود گولڈن بریسلٹ کو دیکھا۔ سلور جیولری کے ساتھ وہ ایک لوتا گولڈن بریسلٹ کچھ عجیب لگ رہا تھا۔
” کیا میرا گناہ اتنا بڑا تھا کہ مجھے معاف نہ کیا جائے؟ “
دل میں ایک ٹیس سی اُٹھی تھی۔ اس نے آنکھیں بند کر کے خود کو رونے سے باز رکھا پھر گہرا سانس لے کر پلکوں کو اُٹھایا ہی تھا کہ حورین کچھ لڑکیوں کو اپنے ہمراہ لیے اس کے کمرے میں چلی آئی۔
” جسمین تیار ہو؟ “
” جی۔”
” چلو پھر آجاؤ سب مہمان آچکے ہیں اور دلہے میاں بھی مولوی صاحب کے ساتھ نیچے موجود ہیں۔ اب بس تمہارا انتظار ہے۔” وہ مسکرا کر کہتے ہوئے آگے بڑھی اور جسمین کو کھڑا کر کے اس کے چہرے پر گھونگھٹ ڈال دیا۔
” چلو لڑکیوں اس کو لے کر چلو۔ سارے مہمان لان میں انتظار کر رہے ہیں۔” حورین کہہ کر ان سے پہلے ہی وہاں سے نکلتی چلی گئی۔ جبکہ باقی لڑکیاں جسمین کو تھامے دھیرے دھیرے سیڑھیاں اُترتی نیچے آئیں اور لاؤنج کو پار کر کے اسے لان میں لے آئیں۔ جہاں نکاح کا انتظام مکمل تھا۔
لان کو بڑی خوبصورتی سے سجایا گیا تھا۔ سفید اور لال گلاب کے پھولوں کی خوشبو چاروں سوں پھیلی ہوئی تھی۔ لان کے بیچوں بیچ سفید ریشمی پردہ لگا تھا، جس کے ایک طرف مرد اور دوسری طرف عورتیں موجود تھیں۔ ساتھ ہی دونوں طرف تخت لگے تھے جن پر سرخ مخمل کی چادر بچھا کر گاؤ تکیے رکھے گئے تھے۔
” جسمین بڑی قسمت والی ہو تم۔ ایسے دلہے کیلئے تو لڑکیاں ناجانے کیا کچھ کر جاتی ہیں اور تمہیں بیٹھے بٹھائے مل گیا۔” ان میں سے ایک لڑکی اسے چھیڑتے ہوئے بولی۔
” ویسے یہ بات تو ہے۔ دوسری شادی اور اتنا اچھا شوہر قسمت والوں کو ملتا ہے۔” دوسری لڑکی نے بھی اس کی تائید کی اور سامنے دیکھنے لگی۔ جہاں دلہا مولوی صاحب کے ساتھ تخت پر بیٹھا تھا۔
انہوں نے جسمین کو بھی عورتوں والی سائڈ پر لے جا کر تخت کے درمیان میں بٹھا دیا۔ دلہا دلہن کو دیکھ کر کسی کی آنکھوں میں رشک، حسد، تو کسی کی آنکھوں میں ستائش ابھری تھی۔ مگر اس سب سے بے نیاز وہ چہرہ جھکائے بیٹھی تھی کہ تبھی اس کے کانوں میں بلاج کی آواز پڑی، جو مولوی صاحب سے نکاح پڑھانے کو کہہ رہا تھا۔
جسمین کا ذہن ماؤف ہونے لگا گھونگھٹ میں چھپے اس کے سوگوار چہرے پر موت کا سا سناٹا پھیلا، زندگی لمحہ بہ لمحہ اس سے دور ہونے لگی۔ اسے لگا اب سانس لینے میں دشواری ہو رہی ہے، تو کیا وہ اب مر جائے گی؟ کیا اس کا دل و روح بھی اب اسے یوسف حیدر کے سوا کسی اور کا ہوتا دیکھ برداشت نہیں کر سکتے؟ ہاں شاید۔۔۔ اسے لگا دل اب روکا، روح اب فنا ہوئی مگر۔۔۔ اگلے ہی پل جیسے اسے زندگی کی نوید سنائی۔ جب دوسری آواز مولوی صاحب کی اس کی سماعتوں سے ٹکرائی۔
“جسمین ملک بنت جہانگیر ملک آپ کو سید یوسف حیدر بن سید حیدر علی کے نکاح میں حق مہر پچاس ہزار سکہ رائج الوقت دیا جاتا ہے۔ کیا آپ کو قبول ہے؟ ” نکاح کے کلمات ادا کئے تھے یا اس کی سماعتوں پہ دھماکہ۔۔۔
جسمین نے شاک اور بے یقینی کے عالم میں چہرہ اُٹھا کر گھونگھٹ کی آڑ سے سفید پردے کے اُس پار دیکھا۔ جہاں وہ بیٹھا خود کو اس کی نظروں کے حصار میں محسوس کرتے ہوئے مسکرایا تھا۔
بلاشبہ وہ وہی تھا۔ اس کی آنکھیں دھوکا نہیں کھا سکتی تھیں۔ وہ یوسف حیدر ہی تھا۔ اس کا یوسف حیدر۔۔۔
” بولو جسمین۔۔۔” حورین نے اسے شانے سے پکڑ کر ہلایا۔ وہ جیسے ہوش میں آئی۔ یہ کیسی آگاہی تھی؟ اسے اپنی آنکھوں پر یقین نہ آیا۔ مگر لب پھر ہلے تھے۔
” قبول ہے !! “
وہ ابھی بھی بے یقینی کی کیفیت میں یوسف کو دیکھ رہی تھی۔ دنیا جیسے تھم سی گئی تھی اور فضاء میں بس ایک ہی آواز گونجتی سنائی دے رہی تھی۔ مولوی صاحب کی آواز۔۔۔
” کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے؟ ” ایک بار پھر کلمات دہرائے گئے۔ مگر اب کی بار بے یقینی میں نہیں دل وجان سے کہا گیا تھا۔
” قبول ہے !! “
” کیا آپ کو قبول ہے؟ ” آخری بار اور اجازت چاہی تھی۔ جسمین کے ہاتھ پیر پھولنے لگے۔ بس ابھی کا ہی کوئی لمحہ اور اگلے پل سارے جملہ حقوق اس سامنے بیٹھے شخص کے نام ہوگئے۔
“قبول ہے !! “
آنکھیں یکدم نمکین پانیوں سے بھری۔ اس نے بلاج کی طرف دیکھا جو ہونٹوں پر تبسم اور آنکھوں میں نمی لیے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ بالآخر وہ آج اس فرض سے بھی سبکدوش ہوا تھا۔
جسمین ایک دم پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ حورین نے فوراً آگے بڑھ کر اسے گلے سے لگایا تھا۔ ابھی اگر مردوں میں نکاح نہ پڑھایا جا رہا ہوتا تو بلاج فوراً اس کے پاس چلا آتا۔
” بس کرو لڑکی وہ دیکھو سامنے مولوی صاحب دعا کروا رہے ہیں۔” حورین نے اس کی توجہ سامنے دلائی۔
جسمین نے جونہی نگاہ اُٹھا کر دیکھا، عین اس لمحے درمیان سے پردہ ہٹا دیا گیا اور دیدارِ یار کو ہونے دیا۔
” ریزہ ریزہ ہونا، بنتا ہے میرا…
اترا ہے میرے دل پہ تصورِعشق تیرا…”
وہ سب سے گلے مل رہا تھا پر دیکھ اسے رہا تھا۔ ارد گرد کی پرواہ کیے بغیر ایک استحقاق کے ساتھ، جیسے اب کوئی رکاوٹ نہ رہی ہو، کہ اب کوئی دوری نہ رہی ہو۔۔۔
سب سے مل کر وہ دھیرے دھیرے اس کی طرف بڑھنے لگا۔ ہر اُٹھتے قدم کے ساتھ سرشاری جھلک رہی تھی۔
سب کچھ پا لینے خوشی، سب فتح کر لینے کی چمک اپنی سیاہ خوبصورت آنکھوں میں لیے وہ “مسز جسمین یوسف” کی جانب بڑھ ہی رہا تھا جب کسی نے اس کے شانے پر ہاتھ رکھ کر روکا۔
” کہاں دلہے میاں؟ اب ملاقات اسٹیج پر ہی ہوگی چلو۔” نوید نے شرارت سے کہا۔ جس پر جنید اور حذیفہ اسے گھیرے میں لیے لان کے پچھلے حصّے کی طرف بڑھے۔
یہاں بھی گلاب کے پھولوں اور فینسی لائٹس کے زریعے اسٹیج کو خوبصورتی سے سجایا گیا تھا۔ کہیں کچھ ایسا نہیں تھا، جہاں کوئی کمی رہ گئی ہو۔ اُن دونوں نے اسے لے جا کر اسٹیج پر موجود سرخ مخمل کے خوبصورت سے صوفے پر بٹھا دیا۔ سارے مہمان بھی اس طرف آ چکے تھے۔ وہ بےچینی سے پہلو بدلتا ” اُس” کا انتظار کر رہا تھا۔ جب پھولوں سے بنی راہداری پر سرخ آنچل تلے اُسے لایا گیا۔
یوسف یک ٹک اسے دیکھتا رہا کہ تبھی ذرا کی ذرا نظر اُٹھا کر جسمین نے اسے دیکھا جو سفید شلوار قمیض پر بلیک واسکٹ پہنے وہ بہت سی نگاہوں کا مرکز بنا ہوا تھا۔
جسمین نے نظریں واپس جھکا دیں۔ حورین اور باقی لڑکیاں اسے تھامے اسٹیج پر لے آئیں، ساتھ ہی اسے یوسف کے پہلو میں بٹھا دیا۔
” اُٹھ اُٹھ کر دیکھیں گے لوگ…
ہم بیٹھ جائیں گے برابر میں تمہارے… “
۔*********۔
پلر سے ٹیک لگائے کھڑا وہ نم آنکھوں سے جسمین کو دیکھ رہا تھا۔ ان گزرے دنوں میں وہ کس کیفیت میں مبتلا رہی تھی۔ بلاج کو اچھے سے اندازہ تھا پر وہ اسے سرپرائز دینا چاہتا تھا۔ اس لیے خاموشی سے اسے تڑپتا دیکھ رہا تھا۔ کیونکہ وہ جانتا تھا۔ جسمین کی وہ تڑپ اس خوشی کے آگے کچھ بھی نہیں تھی جو آج اس کے چہرے سے جھلک رہی تھی۔
” شادی مبارک ہو گڑیا !! “
وہ زیرِ لب بڑبڑایا ساتھ ہی نظر پھیر کر یوسف کو دیکھنے لگا۔ عین اس لمحے یوسف کی نظر بھی اس کی طرف اُٹھی تھیں۔ دونوں کی نظریں ملیں، جو گزرے دنوں کی یاد کو تازہ کر گئیں۔
” بلاج بھائی !! “
یوسف بلاج کو دیکھتے ہوئے دھیرے سے بولا۔ جو ایک بار پھر درگاہ پہ اس کے سامنے آ کھڑا ہوا تھا۔
” آپ آج پھر یہاں۔۔۔” دانستہ طور پر بات ادھوری چھوڑی۔
” تم نے جو سوالات مجھ سے کیے تھے، انہیں کے جواب دینے آیا ہوں۔” وہ دھیرے دھیرے قدم بڑھاتے ہوئے اس کے پاس آیا۔
” بیٹھ کر بات کرتے ہیں؟ “
یوسف سنجیدگی سے اسے دیکھتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف بڑھا۔ آج اس کے انداز میں وہ بے قراری مفقود تھی جو پہلی ملاقات میں تھی۔
” بیٹھ جائیں۔” یوسف نے کرسی کی طرف اشارہ کیا اور خود سامنے چارپائی پر بیٹھ گیا۔
“تم نے مجھ سے پوچھا تھا یوسف۔۔۔ کیا جسمین نے اپنے کسی بیٹے کا نام تمہارے پر رکھا ہے۔”
چند لمحوں کی خاموشی کے بعد بلاج کی آواز کمرے میں گونجی۔ یوسف خاموش بیٹھا اسے دیکھتا رہا۔ جیسے کہنے کو کچھ تھا ہی نہیں۔
” نہیں !! اُس نے اپنے کسی بیٹے کا نام تمہارے نام پر نہیں رکھا۔ جانتے ہو کیوں؟ ” بلاج نے سر اُٹھا کر اس کی آنکھوں میں جھانکا۔
” کیونکہ اُس کی کوئی اولاد ہی نہیں اور نہ ہی شوہر ہے۔”
” کیا مطلب؟ “
یوسف کی خاموشی ٹوٹی ساتھ ہی آنکھوں میں حیرت اُتر آئی۔ جبکہ اس کے سوال پر بلاج افسرده سا مسکرایا اور پھر سمیر اور جسمین کی بابت بتاتا چلا گیا۔
وہ کہہ کر چپ ہوا تو کمرے میں خاموشی چھا گئی۔ یوسف لب بھینچے سر جھکائے بیٹھا تھا۔ جس جسمین کو وہ ہمیشہ خوش دیکھنا چاہتا تھا، اُس کے ساتھ اتنا سب ہوگیا تھا اور وہ خود یہاں بےخبر سکون سے زندگی گزار رہا تھا۔
” تمہیں یاد تو ہوگا یوسف آٹھ سال پہلے میں نے تم سے کہا تھا جسمین کی زندگی سے دور چلے جاؤ۔” بلاج رکا۔۔۔ جیسے مزید کہنے کیلئے ہمت جمع کر رہا ہو۔
” آج آٹھ سال بعد میں ہی تم سے کہہ رہا ہوں، میری بہن کو اپنا لو۔”
وہ کس کیفیت سے دوچار ہو کر یہ سب کہہ رہا تھا۔ یہ بس بلاج ہی جانتا تھا۔ وہ جو کسی کے آگے جھکتا نہیں تھا آج یوسف حیدر کے سامنے سر جھکائے بیٹھا تھا۔
” تمہیں میں یقیناً خودغرض لگ رہا ہوں گا۔ پر میں مجبور ہوں یوسف، کیونکہ میری بہن وہ خوش نہیں ہے۔ اگر میں اُس کی شادی کہیں اور کر بھی دوں تو وہ ہمیں دکھانے کیلئے خوش ہونے کی کوشش کرے گی مگر خوش رہ نہیں پائے گی۔” اس نے رک کر یوسف کو دیکھا جو خاموش بیٹھا فرش کو گھورتے ہوئے ناجانے کیا سوچ رہا تھا۔
” میں تم سے معافی مانگنے کو بھی تیار ہوں یوسف اور۔۔۔”
” نہیں بلاج بھائی نہیں۔” بلاج کی بات کاٹتے ہوئے یوسف نے نفی میں سر ہلایا۔
” آپ کو معافی مانگنے کی ضرورت نہیں۔ بس حکم کریں، میں تیار ہوں۔”
یوسف کی بات پر بلاج اسے دیکھتا رہ گیا۔ آخر کیا تھا یہ شخص بجائے ناراض ہونے کے، غصّہ دکھانے کے، طعنہ دینے کے وہ کتنی آرام سے اس کی طلاق یافتہ بہن کو اپنی عزت بنانے کیلئے تیار ہوگیا تھا۔
” تم۔۔۔ تم سچ کہہ رہے ہو؟ ” بلاج کو جیسے یقین نہ آیا۔
” بالکل !! جیسے آپ کو جسمین کی خوشی عزیز ہے۔ ویسے ہی مجھے بھی اُن کی خوشی عزیز ہے۔ میں نے جسمین سے وعدہ کیا تھا۔ کبھی کوئی دکھ اُنہیں چھو کر نہیں گزرے گا۔ مگر اب جو ہوگیا میں اُسے بدل تو نہیں سکتا۔ لیکن یہ وعدہ ضرور کرتا ہوں کہ جب تک میں زندہ ہوں، جسمین کو کوئی تکلیف، کوئی دکھ چھو کر بھی نہیں گزرے گا۔”
یوسف کے لفظوں میں ایسی سچائی تھی کہ بلاج کو ان پر ایمان لانا ہی پڑا۔ وہ بے اختیار ہو کر اس کے گلے سے لگ گیا۔
” تھنکیو۔۔۔ تھنکیو سو مچ یوسف !! “
” اس کی ضرورت نہیں بلاج بھائی یہ میرا فرض ہے۔” یوسف دھیرے سے بولا۔ جسمین کو خوش دیکھنا اس کے فرض میں ہی تو شامل ہو گیا تھا۔
” اچھا ایک بات بتاؤ تم یہاں آئے کیسے؟ مطلب تم نے اپنا گھر بار کیوں چھوڑ دیا؟ “
بلاج کے پوچھنے پر یوسف تلخی سے مسکرایا اور پھر خاور اور اپنے جھگڑے کی بابت بھی بیان کر دی۔ آج جیسے انکشافات کا دن تھا۔ ہر راز پر سے پردہ اُٹھنا تھا۔
” اففف میرے خدا !! “
بلاج نے اپنا سر تھام لیا۔ ان بہن بھائیوں کی وجہ سے اس شخص کو کیا کچھ برداشت کرنا پڑا تھا۔
” یوسف خاور بھائی نے تمہارے ساتھ بہت غلط کیا۔ اُن کی جگہ میں تم سے معافی مانگتا ہوں۔ پر اب وہ اس دنیا میں نہیں تم پلیز اُن کو معاف کر دو تاکہ ان کا عذاب کچھ کم ہو سکے۔” اس نے شرمندگی سے کہا۔
” آپ شرمندہ نہ ہوں۔ میں انہیں معاف کر چکا ہوں۔ میرے دل میں کسی کیلئے کوئی شکوہ نہیں۔” یوسف مسکرا کر بولا۔
” اور ہاں !! پلیز جسمین کو اس بارے ميں مت بتانا۔ میں نہیں چاہتا اُس کے دل میں خاور بھائی کو لے کر اب کوئی گلا رہے۔” ایک اور درخواست کی، جس پر بھی یوسف نے یقین دلاتے ہوئے کہا تھا۔
” آپ فکر نہیں کریں، میں کبھی جسمین کو نہیں بتاؤ گا۔”
” تم بہت اچھے ہو یوسف !! “
اس انسان کی اعلیٰ ظرفی کے آگے بلاج کو اپنا آپ چھوٹا لگنے لگا۔ شرمندگی میں مزید اضافہ ہوا تھا پر اب وہ کر بھی کیا سکتا تھا؟ ماسوائے معافی مانگنے کے۔
” اچھا مجھے اپنا فون نمبر دے دو تاکہ میں تم سے رابطے میں رہو۔”
” میرے پاس فون نہیں ہے۔”
” کیا پر۔۔۔” بلاج کہتے کہتے خود ہی رک گیا۔
یوسف خاموشی سے اُٹھا اور سامنے رکھی ٹیبل کی طرف بڑھ گیا۔ واپس آیا تو ہاتھ میں ایک کاغذ تھا۔
” یہ حکیم صاحب کا نمبر ہے۔ آپ اس نمبر پر کال کر کے مجھ سے رابطہ کر لے گا۔” وہ کاغذ بلاج کی طرف بڑھاتا ہوا بولا۔
” ٹھیک ہے اب میں چلتا ہوں۔ تم سے فون پر رابطہ رہے گا۔” بلاج کہتا ہوا اُٹھ کھڑا ہوا۔
” ایک۔۔۔ ایک احسان کریں گے مجھ پر۔” یوسف نے کچھ ہچکچاتے ہوئے کہا۔
” ہاں بولو۔”
” کیا آپ معلوم کر کے بتا سکتے ہیں میرے دوست کہاں رہتے ہیں؟ مطلب اپنے پرانے گھر میں ہی ہیں یا گھر بدل لیا۔” یوسف کے کہنے پر بلاج اسے دیکھتا رہا پھر اثبات میں سر ہلا دیا۔
” ٹھیک ہے ایک دو دن میں تمہیں کال کر کے بتاتا ہوں۔”
بلاج کہہ کر وہاں سے چلا گیا اور پھر اس کے بعد وہ یوسف سے رابطے میں رہا تھا۔ اس نے یوسف کے دوستوں کی خبر بھی اسے دے دی تھی اور جس دن جسمین درگاہ پر جا رہی تھی، یہ بات بھی بلاج نے اسے فون پر بتا دی تھی۔ جس کے بعد یوسف نے بےچینی سے جسمین کا انتظار کیا تھا پر چونکہ بلاج نے اسے منع کیا تھا کہ وہ اپنے اور بلاج کے رابطے کا ذکر جسمین سے نہ کرے اس لیے وہ بھی اُس دن انجان بن گیا تھا۔۔۔
” بلاج بیٹا !! “
عقب سے آتی آواز پر وہ سوچوں کے گرداب سے باہر آیا۔ مڑ کر دیکھا تو سامنے قمر بیگم اور لبابہ کھڑی تھیں۔
” بیٹا اب ہم چلتے ہیں، کافی دیر ہوگئی۔”
” پر ابھی تو کھانا بھی نہیں کھلا اتنی جلدی کیوں۔” اس نے سنجیدگی سے دونوں کو دیکھا۔
” بیٹا کھانے کا کیا ہے نکاح میں شریک ہونا تھا۔ وہ ہوگئے اب چلتے ہیں۔” وہ مسکرا کر دھیرے سے بولیں۔
” بالکل بھی نہیں میں کھانا کھائے بغیر نہیں جانے دوں گا آپ آئیں میرے ساتھ۔” بلاج کہتا ہوا انہیں اپنے ساتھ لیے ٹیبل کی جانب بڑھ گیا۔
وہیں دور کھڑی حورین نے بےتاثر چہرے سے یہ منظر دیکھا تھا۔ اسے دکھ نہیں ہوا تھا۔ کیونکہ لاحاصل کی “چاہ” دل سے نکال کر وہ اپنا دل اللّٰه کے ساتھ جوڑ چکی تھی۔ پھر بلاج نے محبت نہیں دی تو کیا۔۔۔؟
اُس نے حورین کو عزت دی تھی، جو عورت کو دیئے جانے والے تحائف میں سب سے انمول تحفہ ہے۔ عورت محبت کے بغیر تو رہ سکتی ہے مگر عزت کے بغیر نہیں اور وہ اس بات پر رب کی شکر گزار تھی کہ اُس پاک ذات نے اسے بلاج جیسا شوہر دیا۔ جو عورت کو عزت دینا جانتا تھا۔ اس کے بھائی سمیر کی طرح نہیں۔ جو جسمین کو محبت تو دور عزت تک نہیں دے سکا تھا۔۔۔
” جسمین تم نے ٹھیک کہا تھا۔ سب کو سب کچھ نہیں ملتا۔ کسی کو زمین نہیں ملتی، کسی کو آسمان نہیں ملتا۔”
وہ زیرِ لب کہتی، کرن عالمگیر کی طرف بڑھ گئی۔ جنہیں بیٹے کی دوسری بار طلاق نے بہت کمزور کر دیا تھا۔
۔*********۔
“جسمین بیٹا تم آرام سے بیٹھو اور لڑکیوں اب اس کا پیچھا چھوڑ دو اور کمرے سے باہر نکلو۔”
رخصتی کے بعد جسمین کو سیدھا یوسف کے گھر لے آئے تھے اور اب اسے عجلہ عروسی میں بٹھاتے ہوئے آرام کا کہہ کر نورین بیگم اُن تینوں سے مخاطب ہوئیں، جن کا آج باہر جانے کا ارادہ نہیں لگتا تھا۔
” پتا ہے جسمین میرا تو پکا ارادہ تھا تمہارے گھر آنے کا پر آخری وقت پر یہ خوش خبری مل گئی۔” مسکان بڑی بے تکلفی سے بتانے لگی۔
یوسف کا رشتہ لے کر جسمین کے گھر صوبیہ، نورین بیگم اور ریحانہ بیگم (جنید کی امی) گئیں تھیں۔ جبکہ فریال اور مسکان نئے مہمان کی عنقریب ہونے والی آمد کی وجہ سے نہیں جاسکی تھیں اور چونکہ جسمین یونیورسٹی کے زمانے میں مہوش سے دوستی کے باعث حذیفہ کے گھر جاچکی تھی، تو کہیں وہ نسرین بیگم کو پہچان نہ لے اس لیے حذیفہ نے انہیں بھی جانے نہیں دیا تھا۔ جس کے باعث جسمین کو زرا بھی شک نہیں ہو پایا تھا۔۔۔
” ویسے جسمین تم بڑی خوش قسمت ہو۔ مجھے تو لگا تھا یوسف بھائی یونیورسٹی کے بعد سب بھول جائیں گے مگر انہوں نے ثابت کر دیا کہ وہ ایک سچے عاشق ہیں۔” صوبیہ شرارت سے بولی۔
اس کی بات پر جہاں مسکان اور فریال ہنسی تھیں وہیں جسمین نے جھینپ کر سر نیچے جھکا لیا۔
” بس کرو لڑکیوں اُٹھو، تنگ نہیں کرو۔”
نسرین بیگم کمرے میں داخل ہوتے ہوئے گویا ہوئیں، ساتھ ہی تینوں کو اُٹھایا جو منہ بناتے ہوئے اُٹھ کھڑی ہوئی تھیں۔
” بیٹا کسی چیز کی ضرورت ہو تو بتا دو۔” وہ شفقت سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولیں۔
” نہیں آنٹی کسی چیز کی ضرورت نہیں۔”
” چلو ٹھیک ہے بس تم آرام سے بیٹھو یوسف آتا ہی ہوگا۔” وہ کہہ کر کمرے سے باہر نکل گئیں۔
ان سب کے جانے کے بعد کمرے میں سناٹا چھا گیا تھا۔ جسمین نے نظریں اُٹھا کر کمرے کا جائزہ لیا۔ سرخ، سفید گلاب کے پھول اور کینڈلز سے سجا چھوٹا سا کمرہ بےحد خوبصورت لگ رہا تھا۔ لیکن یہ گھر تو کیا کمرہ بھی اس کے کمرے جتنا بڑا نہیں تھا۔ پر سیج پر بیٹھی یہ لڑکی مادہ پرست نہیں تھی۔ یہ چیزوں کو نہیں دینے والے کی محبت کو دیکھتی تھی اور اس کا شوہر محبت کے معاملے میں مالدار انسان تھا اور یہی اس کے اطمینان کیلئے کافی تھا۔۔۔
” یہ کیا ہو رہا ہے مجھے۔”
اس نے اپنی ہتھیلیوں کو آپس میں رگڑا جو آنے والے لمحات کو سوچتے ہوئے بھیگنے لگی تھیں۔ دل عجیب ہی لے میں دھڑکنے لگا تھا کہ تبھی دروازے پر آہستہ سے دستک ہوئی اور اگلے ہی پل وہ دروازہ کھول کر اندر آیا تھا۔
” آگئے آج ہم بھی یہاں، بزم اپنی سجا لیجئے
ہے یہ ملن کی گھڑی، آپ بھی دل لگا لیجئے”
یوسف نے واسکٹ اُتار کر کرسی پر رکھی پھر جسمین کو دیکھا جو پلکیں جھکائے مہندی سے سجے اپنے ہاتھوں کو دیکھ رہی تھی۔
” یہ چوڑیاں، یہ کنگن، یہ جھمکا، یہ مہندی
سنگھار تو میرے ہیں، پر طلبگار تیرے ہیں “
وہ سر سے پاؤں تک اس کیلئے سجی تھی۔ یہ بناؤ، یہ سنگھار سب اس کیلئے کیا گیا تھا۔ یہ زینت، یہ زیبائش یوسف حیدر کیلئے تھی۔ ان ہاتھوں میں رچی مہندی یوسف حیدر کے نام کی تھی۔ جس کا کبھی اس نے خواب دیکھا تھا، وہ آج حقیقت کا روپ لیے اس کے سامنے تھا۔ یوسف کمرے کے وسط میں کھڑا یک ٹک جسمین کو دیکھے گیا۔
” فَبِأَيِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُكَذِّبَانِ “
دل نے ایک بار پھر صدا لگائی تھی۔ نکاح سے اب تک وہ اس آیت کو کتنی بار دل میں دہرا چکا تھا۔ اس کا اندازہ شاید اسے خود بھی نہیں تھا۔
” یا اللّٰه !! یہ میرے ساتھ کیا ہورہا ہے؟ یہ کیسا احساس ہے؟ “
جسمین نے اپنی ہتھیلیوں کو مکمل طور پر بھیگتا محسوس کیا۔ اس کیلئے یہ سب پہلی مرتبہ نہیں تھا۔ پر شاید محبوب کی نظر کا اثر تھا کہ سب نیا سا لگ رہا تھا۔ یوسف کی نظروں کا ارتکاز جسمین کو پلکیں جھکائے رہنے پہ مجبور کررہا تھا۔
” تو جھانسے کی رانی !! آج نہیں بولیں گی مسٹر یوسف آپ پر فرض ہے میرے پاس آ کر حاضری دینا۔”
یوسف کی شوخ آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی اور اگلے ہی لمحے وہ اس کے سامنے آ بیٹھا۔
” آج کیوں بولتی بند ہے؟ “
اس کے انداز سے ہی سرشاری جھلک رہی تھی۔ دل کی دنیا آباد ہوئی تھی تو سب کچھ اچھا لگنے لگا تھا۔ وہ واپس اپنی ترنگ میں لوٹ رہا تھا۔
” تم۔۔۔تم بدتمیزی نہیں کرو۔”
جسمین جو پہلے ہی نروس ہو رہی تھی۔ جھنجھلا کر بولی۔ اس کی بات پر یوسف کا قہقہہ کمرے میں گونج اُٹھا۔
” اچھا نہیں کرتا بدتمیزی پر تنگ تو کرسکتا ہوں نا۔”
یوسف کی معنی خیز بات پر جسمین رو دینے کو ہوئی۔ وہ پہلے ہی اس سے نکاح پر الجھی ہوئی تھی۔ اوپر سے یوسف کی باتیں۔
” اچھا جھوڑیں باتیں۔ یہ لیں آپ کی رونمائی کا گفٹ۔”
اس کے تاثرات کو دیکھتے ہوئے یوسف نے بات بدل دی اور ایک سرخ مخمل کی ڈبیا اس کی طرف بڑھائی۔ جسے جسمین نے تھاما نہیں تھا۔
” اس میں کیا ہے؟ “
” کھول کر دیکھ لیں۔” یوسف نے ایک بار پھر اس کی طرف بڑھائی۔
” تم کھولو۔”
فرمائش کی، جسے سنتے ہی یوسف نے مسکراتے ہوئے ڈبیا کھول کر اس کے سامنے کر دی۔ خوبصورت گولڈ کی چین میں موجود لاکٹ جس پر یوسف لکھا تھا۔ اپنی پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا۔
” پہنا دو۔”
ایک اور فرمائش، یوسف کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی تھی۔ اس نے چین گلے میں پہنا کر جسمین کی کلائی تھام لی۔ جس میں لٹکتا گولڈن بریسلٹ اس کی محبت کی نشانی اب بھی موجود تھا۔
” شادی مبارک ہو !! “
دھیرے سے کہتے ہوئے اس نظریں اُٹھا کر جسمین کو دیکھا۔ جس کی آنکھیں نمکین پانیوں سے بھرنے لگی تھیں۔
” تم کیسے؟ مطلب تم تو درگاہ۔۔۔”
ابھی جسمین کی بات پوری بھی نہیں ہوئی تھی کہ یوسف نے اس کے ہونٹوں پر انگلی رکھ دی۔
” آج نہیں !! آج میرا دن ہے۔ اس بارے میں پھر کبھی بات کرینگے۔”
اس کے لہجے میں ایسی آنچ تھی کہ جسمین نظریں جھکانے پر مجبور ہوگئی۔ تبھی ایک موتی آنکھ سے نکل کر اس کے رخسار پر بہہ گیا۔
” انہیں بھی آج روکے رکھیں۔” یوسف نے آنسوؤں کو اپنی پوروں پہ سمیٹا۔ جسمین نم آنکھوں سے مسکرا دی۔
” اچھا یہ بتائیں کیا آپ کو میری یاد آتی تھی؟ ” اس کے دوپٹے سے پنز نکالتے ہوئے یوسف نے ہلکے پھلکے انداز میں پوچھا۔ مقصد صرف دھیان بٹانا تھا۔
” بہت !! جن کے لیے میں نے تمہیں چلے جانے کو کہا تھا۔ وہ سب ہی مجھے چھوڑ کر چلے گئے۔ تمہارے جانے کے بعد میں محبت کو ترسی ہوں یوسف۔”
جسمین کی بات پر یوسف کے پنز نکالتے ہاتھ تھمے تھے۔ اس نے ہاتھ نیچے کرتے ہوئے جسمین کو اپنے سینے سے لگا لیا۔
” انسان جس سے محبت کرتا ہے، بدلے میں اُسی سے محبت چاہتا ہے۔ پھر چاہے دنیا کی ساری محبتیں اس کے قدموں میں ڈھیر کیوں نا ہو جائیں۔ اُس شخص کی محبت کا نعم البدل نہیں ہو سکتیں۔” یوسف کے سینے سے لگی، وہ بھرائی ہوئی آواز میں بولی۔
” روئیں نہیں۔۔۔ اب تو میں ہوں نا آپ کے پاس، اب کبھی آپ کسی چیز کیلئے نہیں ترسیں گی۔”
اپنے سینے سے لگائے وہ وعدہ کر رہا تھا، یقین دلا رہا تھا، باور کروا رہا تھا۔ جسمین نے پُرسکون ہو کر آنکھیں موند لیں۔ ایک وہی تو تھا، جو وعدے نبھانا جانتا تھا۔
” وعدہ وفا کیلئے ایک آس چاہیئے
ہمیں جینے کیلئے تیری سانس چاہیئے
پلکوں پہ سپنے اور سپنوں میں پیاس چاہیئے
ہمیں تجھ سے تجھ تک آنے کی اجازت چاہیئے “
۔*********۔
بے شک آزمائشوں کے بعد آسانی ہے !!
وقت پر لگائے اپنے ساتھ زندگی کے چھ سال لے گیا مگر ان چھ سالوں میں یوسف کی محبت میں زرہ برابر بھی کمی نہیں آئی۔
لوگ کہتے ہیں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ محبت ماند پڑ جاتی ہے۔ مگر ہماری محبت وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اور نکھرتی گئی ہے۔ یوسف کی بے لوث محبت نے میرے ہر غم کو بھر کر اپنا آپ منوایا ہے۔ جہاں یوسف نے مجھے پلکوں پہ بٹھایا۔ وہیں وہ میرا لاڈلا بن بیٹھا۔ میری ہر بات کو حکم کی طرح ماننا اور اپنی ہر بات ضد کرکے منوا لینا اُس کی عادت بن چکا ہے۔ یہی نہیں جیسے جیسے وقت گزرتا جا رہا ہے ہماری محبت بھی عادت میں بدلتی جا رہی ہے۔ روز آفس سے آنے کے بعد اُسے میں گھر پر نہ ملوں تو جناب کا موڈ بگڑ جاتا ہے۔ اسی طرح باہر جاتے وقت میرا اُس کی بائیک پر بیٹھنا، اُس کے سارے کاموں کو اپنے ہاتھ سے کرنا اب میری عادت میں شامل ہو گیا ہے۔
بھائی اکثر کہتے ہیں کہ ہم ان کے پاس آ کر رہ لیں۔ کیونکہ چار سال پہلے ہوئے امی کے انتقال کے بعد ان کے دل میں ڈر سا بیٹھ گیا ہے۔ کہیں مجھے بھی نہ کھو دیں۔ اس لیے اکثر یوسف کی اور بلاج بھائی کی اس بات کو لے کر نوک جھونک ہوجایا کرتی ہے۔ مگر مجال ہے جو یوسف صاحب بلاج بھائی کی بات مان جائیں، اُن کی خوداری پہ حرف نہ آجائے۔ لیکن سچ کہوں تو مجھے بھی میری اور یوسف کی چھوٹی سی جنت ہی بہت عزیز ہے۔ بڑے بڑے محلوں میں تنہا رہنے کے بعد اب میں نے جان لیا کہ سکون اونچے اونچے محلوں میں نہیں بلکہ اپنوں کے دل میں رہنے سے ملتا ہے اور اب یہ ہی میرا آشیانہ ہے۔
ہماری شادی کو چھ سال ہوگئے اور ان چھ سالوں میں اللّٰه نے ہمیں دو پیارے بیٹا بیٹی سے نوازا ہے۔ بڑی بیٹی سلوا !! جو ابھی پانچ سال کی ہے مگر خوبصورتی کے معاملے میں اپنے باپ پر گئی ہے۔ یوسف کی جان بستی ہے اس میں اور بلاج بھائی کی بھی۔ اس لیے سلوا کی پیدائش پر ہی بلاج بھائی نے اس کا ہاتھ میرے شہزادے حدید کیلئے مانگ لیا تھا۔ ہمیں بھی کیا اعتراض ہونا تھا۔ آخر کو اصل سے سود پیارا ہوتا ہے۔ ہم نے بھی با خوشی سلوا کا ہاتھ حدید کے ہاتھ میں دے دیا تھا۔ اور ہمارا چھوٹا بیٹا ابراز !! اُس کے بارے ميں کیا بتاؤ وہ ابھی صرف دو سال کا ہوا ہے۔ جو ہم دونوں میاں بیوی کے ساتھ ساتھ ماموں ممانی، بھائی بہن سب کا ہی لاڈلا ہے۔
خیر !! ان چھ سالوں میں جہاں ہم نے بہت سے رشتوں کو پایا ہے وہیں کچھ عزیز لوگوں کو کھو بھی دیا ہے۔ امی کے بعد حکیم صاحب بھی تین سال پہلے اس دنیا سے رخصت ہوگئے تھے۔ جس کے بعد یوسف نے درگاہ پر جانا چھوڑ دیا تھا۔ ایک بار پھر باپ جیسے انمول رشتے کو کھونا آسان نہیں تھا۔ پر انسان کر ہی کیا سکتا ہے ماسوائے اپنے حالات سے سمجھوتہ کرنے کے۔
اب باقی رہا سوال یوسف کے دوستوں کا تو دنیا ادھر کی اُدھر ہوسکتی ہے مگر ان چاروں کی دوستی ختم نہیں ہو سکتی۔ وہ آج بھی ویسے ہی ہیں۔ ایک دوسرے سے لڑ جھگڑ کر ایک دوسرے کے ہی کندھے پر آنسو بہانے والے اور اب یوسف کی بدولت مجھے بھی تین پیاری سی بہنیں مل گئی ہیں۔ جو کسی انمول تحفے سے کم نہیں ہیں۔۔۔
” کیا کر رہی ہو؟ “
جسمین جو ڈائری پہ سر جھکائے بیٹھی تھی یوسف کی آواز پر سیدھی ہوئی۔
” کچھ نہیں گزرے لمحوں کو ڈائری میں قید کر رہی ہوں۔”
کمرے کے دروازے پر کھڑے یوسف کو دیکھتے ہوئے وہ مسکرا کر بولی۔
” تم لمحوں کو چھوڑوں، مجھے قید کر لو اپنی بانہوں میں۔” اس کے پاس بیڈ پر بیٹھتا وہ شرارت سے بولا۔
شادی کے دوسرے دن سے ہی وہ آپ سے تم پر آگیا تھا۔
” مسٹر یوسف حیدر کتنی دفعہ کہا ” تم” نہیں ” آپ ” کہہ کر مخاطب کیا کریں۔ آپ سے بڑی ہوں میں۔” جسمین نے مصنوعی گھوری سے نوازا۔
” مس (وقفہ) جسمین کتنی بار بتایا ہے، اسٹوڈنٹ نہیں اب شوہر ہوں میں آپ کا۔” وہ بھی اسی کے انداز میں بولا۔
” زیادہ فری ہونے کی ضرورت نہیں۔”
جسمین نے انگلی اُٹھا کر اسے دھمکایا۔ لیکن یوسف صاحب نے دھمکی کا اثر لینے کے بجائے وہی انگلی تھام کر جسمین کو اپنے سینے پر گرا لیا۔
” گزرے لمحوں کو قید کر لیا، اب اسے بھی اس لمحے قید کر لو۔” اس کی پیشانی پر محبت کی مہر ثبت کرتے ہوئے وہ اس کے کان میں سرگوشی کرنے لگا۔
” سر پر نہ چڑھو۔” مسکراہٹ دبائے کہا۔
” نہ چڑھائیں بس اپنا لاڈلا بنا لیں۔” اپنا ماتھا اس کے ماتھے سے ٹکائے، خمار آلود لہجے میں بولا کہ تبھی بیڈ پر سوئے ابراز کے رونے کی آواز ان کے کانوں سے ٹکرائی۔
” ایک تو اسے ہمیشہ غلط وقت پر انٹری مارنی ہوتی ہے۔” یوسف جھنجھلا کے پیچھے ہٹا۔ جسمین اپنی مسکراہٹ دباتی ابراز کی طرف بڑھی جس کے رونے سے بیڈ پر سوئی سلوا بھی جاگنے کی تیاری کر رہی تھی۔
” اب تم جلدی تیار ہو جاؤ۔ حذیفہ کی بیٹی کی سالگرہ ہے، اگر دیر سے پہنچے تو تمہاری شامت آنی ہے۔”
” ہاں جا رہا ہوں۔”
الماری سے کپڑے نکال کر وہ باتھ روم جانے کیلئے دروازے کی طرف بڑھنے لگا تھا کہ رک کر واپس مڑا۔
” آئی لو یو، مائے ڈئیر سوئیٹ ہارٹ !! “
یوسف اس کی آنکھوں میں جھانک کر بولا، جسمین دھیرے سے مسکرائی۔
” لو یو ٹو ڈئیر ہسبنڈ !! “
اور اس اظہارِ محبت پر یوسف حیدر کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی تھی۔
” دیکھنا حشر میں تم پہ مچل جاؤں گا
تصورِ یار سے گزر کر، تصورِ عشق پاؤں گا “
